Baaghi TV

Category: تعلیم

  • گومل یونیورسٹی کے طلباء کامطالبات منظورہونے کے باوجود مین کیمپس گیٹ پر احتجاج،پولیس کی بھاری نفری پہنچ گئی ، ٹریفک بلاک

    گومل یونیورسٹی کے طلباء کامطالبات منظورہونے کے باوجود مین کیمپس گیٹ پر احتجاج،پولیس کی بھاری نفری پہنچ گئی ، ٹریفک بلاک

    ڈیرہ اسماعیل خان۔گومل یونیورسٹی کے طلباء کا مین کیمپس گیٹ پر احتجاج،پولیس کی بھاری نفری پہنچ گئی ، ٹریفک بلاک،اطلاعات کے مطابق گومل یونیورسٹی کے طلباء کا مین کیمپس گیٹ پر احتجاج جاری پئ اوردوسری طرف پولیس پہنچ چکی ہے اورمذاکرات کی اطلاعات ہیں

    باغی ٹی وی کےمطابق گومل یونیورسٹی کے طلباء نے مین انڈس ہائی وے شاہرہ بلاک کردی گاڑیوں کی لمبی قطاریں لک گیں۔طلباء کا مطالبہ ہے فیسوں میں اضافہ واپس لیا جائے اوریونیورسٹی کے گرفتار طلباء کو رہا کیا جائے۔ساتھ طلبا نے یہ بھی دھمکی دی ہے کہ مطالبات کی منظور تک انڈس ہائی وے بلاک رہے گا

     

    دوسری طرف گومل یونیورسٹی انتظا میہ کا موقف گومل یونیورسٹی کے طلباء جن مطالبات کا ذکر کر رہے ہیں وہ تمام منظور ہو چکے ہیں اور وائس چانسلر گومل یونیورسٹیi نے فیسوں میں کمی بھی کی ہے مگر اس تمام کے باوجود ان کا جی پی او چوک پر دھرنا دینے واضح کرتا ہے کہ یہ طلباء شاید کسی اور مقاصد کے حصول کے لئے نکلے ہیں ۔

    گومل یونیورسٹی میں انہی طلباء کی 13مختلف مطالبات دو ماہ پہلے حل کر دیئے گئے تھے اور فیس کا ایک مطالبہ وائس چانسلر گومل یونیورسٹی نے 900روپے کم کرکے ایک ماہ پہلے حل کر دیا تھا۔لیکن طلباء نے مزید3500کمی کا مطالبہ کر دیا جس پر وائس چانسلر نے پانچ دن پہلے ایک بار پھر منظور کر لیا ۔ جب یہ مطالبات بھی منظور کر لئے گئے تو یہ 20سے25طلباء اپنی بات سے ایک بار پھر مکر گئے ۔

    ان کے مکرنے کے باوجود بھی گومل یونیورسٹی نے گزشتہ روز ان طلباء کے پاس مذاکرات کیلئے گئے مگر ان طلباء نے مذاکرات سے انکار کر دیا اور وہ مین کیمپس سے جی پی او چوک تک ریلی نکالنے اور پھر دھرنا دینے کیلئے باضد تھے۔ جس سے واضح ہوا کہ ان طلباء کا ان مطالبات سے کوئی تعلق نہیں اور یہ کچھ اور مقاصد کیلئے کام کررہے ہیں ۔

     

    رات گئے احتجاج اور انڈس ہائی وے کو بلاک کرنا گومل یونیورسٹی انتظامیہ ڈائریکٹر سٹوڈنٹس آفیئر اور پرووسٹ کی قیادت میں الصبح بھی ان طلباء کو ریلی اور دھرنے سے روکا اور ان سے مذاکرات کی کوشش کی مگر طلباء نے کسی بھی قسم کی بات کرنے سے انکار کرد یا اور جی پی او چوک پر دھرنا دے کر بیٹھ گئے اور اب بھی اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہیں اور گومل یونیورسٹی انتظامیہ ،حکومت کے خلاف نعرے بازی میں ملوث ہیں۔

    واضح رہے کہ گومل یونیورسٹی میں15ہزار طلباء ہیں جبکہ کیمپ میں موجود د س سے بارہ لڑکے نہیں ہیں۔ جس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ طلباء کچھ اور مقاصد کیلئے یہ دھرنا دیئے بیٹھے ہیں ۔ جو کہ اس بات کی دلیل ہے کہ گومل یونیورسٹی کے طلباء پر امن طلباء ہیں کیونکہ یہ طلباء دور دراز علاقوں سے پڑھائی کیلئے آئے ہوئے ہیں اور گومل یونیورسٹی میں امن چاہتے ہیں

    آخری اطلاعات کے آنے تک طلباء کو منشیر کرنے کے لیے پولیس کی ڈنڈہ بردار نفری پہنچ کئی ہے۔گومل یونیورسٹی طلباء کے پولیس سے مزکرات جاری ہیں اورپولیس نےگرفتار طلباء کی رہائی کی یقین دہانی کرادی ہے ادھر ذرائع کے مطابقطلباء نے جزوی طورپر مین انڈس ہائی وے ٹریفک کے لیے کھول دی۔

  • حکومت کے احسن اقدام کو سراہنا تو بنتا ہے.

    شیخوپورہ (نمائندہ باغی ٹی وی سے) حکومت پنجاب نے صوبائی محکموں کے 30 جون 2020 تک ریٹائرڈ ہونے والے تمام ملازمین کی فہرستیں طلب کر لی ہیں اس سلسلہ میں محکمہ ایس اینڈ جی اے کی وساطت سے صوبہ بھر کے ڈپٹی کمشنروں کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں ذرائع نے بتایا ہے کہ حکومت پنجاب نے چند برس قبل یہ ہدایت جاری کی تھی کہ ریٹائرڈ ہونے والے ملازم کو اس کی نوکری کے آخری دن ماہانہ پنشن اور تمام سرکاری واجبات کی ادائیگی کا اجازت نامہ دے کر دفتر سے الوداع کیا جائے مگر ان احکامات پر عملدرآمد نہیں ہوسکا اور اب بھی محکمہ اکاؤنٹس کے بعض افسر پنشن کیس پاس کرنے کی بھاری رشوت لیتے ہیں جس کے خلاف ایپکا کی طرف سے کئی بار احتجاج کیا جا چکا ہے اسی طرح بلدیاتی اداروں میں مالی بحران اور بھاری رشوت لینے کے لیے ریٹائرڈ ملازمین اور بلدیاتی اداروں کے ٹیچروں کو کئی کئی سال سے پنشن نہیں مل سکی جن میں سے بڑی تعداد میں بیمار اور معذور ریٹائرڈ ملازمین بھی شامل ہیں حکومت پنجاب نے اس بارے میں مسلسل ملنے والی شکایات کا نوٹس لیا ہے اور ہدایت جاری کی ہے کہ تاخیر کا شکار پنشن کیسوں کے علاوہ 30 جون تک ریٹائرڈ ہونے والے ملازمین جن میں چھوٹے ملازم اور آفیسرز بھی شامل ہیں کے پنشن کیس تیار کر کے اس کی رپورٹ بھیجی جائے اور ان کیسوں کے بارے میں ابتدائی رپورٹ ڈسٹرکٹ پنشن کیسیز ڈسپوزل کمیٹی کا اجلاس منعقد کر کے اس میں بھی زیر غور لائی جائے

  • اردو کے ادیب اور مزاح نگار محمد خالد اختر کو دنیا سے بچھڑے 18 سال بیت گئے

    اردو کے ادیب اور مزاح نگار محمد خالد اختر کو دنیا سے بچھڑے 18 سال بیت گئے

    اردو کے نامور ادیب اور مزاح نگار مرحوم محمد خالد اختر کو جہان فانی سے رخصت ہوئے 18برس بیت گئے

    محمد خالد اختر 23 جنوری 1920 کو بہاولپور میں پیدا ہوئے خالد اختر نے ابتدائی تعلیم صادق پبلک اسکول بہاولپور سے حاصل کی جہاں شفیق الرحمان بھی ان کے ہم مکتب تھے ان کے والد مولوی اختر علی بہاولپور سے ممبر لیجسلیٹو اسمبلی رہ چکے تھے

    کراچی کے پسماندہ علاقے لیاری کی ایک پسماندہ بستی چاکیواڑہ قیام پاکستان کے فوری بعد کےچند برسوں میں یہ بستی اردو کے ایک نوجوان ادیب کا مسکن تھی جس نے ایک ایسا ناول لکھا جس سے غریب بلوچوں کی اس بستی کا نام تاریخ میں امر ہوگیا یہ نوجوان آگے چل کر اردو کا اعلی پائے کا صاحب طرز مزاح نگار، مترجم اور سفرنامہ نگار بنا جسے اردو ادب کی تاریخ محمد خالد اختر کے نام سے جانا جاتا ہے محمد خالد اختر کی تحریروں میں وہی فراخ دلی اور درویشی نظر آتی ہے جو خود ان کی طبیعت کا خاصہ تھی

    انہوں نے ساری زندگی نہایت سادگی سے گزاری ان کا رہن سہن انتہائی سادہ درویشانہ تھا گھر میں ان کا اپنا کمرہ ان کی ذاتی سادگی کا منہ بولتا ثبوت تھا ادیب تو وہ تھے ہی لیکن مطالعے کا جیسا عشق ان کو تھا وہ بڑے بڑے ادیبوں میں بھی نہیں ملتا محمد خالد اختر کوئی روایتی ادیب نہیں تھے انہوں نے لکھنے کے لیے کئی اصناف منتخب کیں مزاح ہو یا سفرنامہ، پیروڈی ہو یا ترجمہ، انہوں نے ہر صنف میں منفرد کام کیا

    محمد خالد اختر 2 فروری 2002 کو دنیا سے رخصت ہوگئے اور وقت ایک دن چاکیواڑہ کو بھی تبدیل کر دے گا لیکن محمد خالد اختر کی تحریریں انہیں اور ان کے چاکیواڑہ کو ہمیشہ زندہ رکھیں گی

    ان کی لکھی ہوئی تصانیف میں چاکی واڑہ میں وصال کھویا ہوا افق خطوط چچا عبدالباقی اور ایک جنرل کی پر اسرار سرگزشت وغیرہ شامل ہیں

  • 25 طالبات کی اچانک طبعیت کیوں خراب ہوگئی اوروہ اب کس حالت میں ہیں اہم خبرآگئی

    25 طالبات کی اچانک طبعیت کیوں خراب ہوگئی اوروہ اب کس حالت میں ہیں اہم خبرآگئی

    فیصل آباد:25 طالبات کی اچانک طبعیت کیوں خراب ہوگئی اوروہ اب کس حالت میں ہیں اہم خبرآگئی ،اطلاعات کےمطابق جی سی یونی ورسٹی میں مضر صحت کھانا کھانے سے 25 طالبات کی طبیعت خراب ہو گئی۔

    تفصیلات کے مطابق جی سی یونی ورسٹی فیصل آباد کے گرلز ہاسٹل میں مبینہ طور پر مضر صحت کھانا کھانے سے 25 طالبات بیمار ہو گئیں، یہ واقعہ گزشتہ روز پیش آیا، گرلز ہاسٹل کا کھانا کھانے کے بعد طالبات کی طبیعت بگڑ گئی، تاہم انھیں کئی گھنٹوں کے بعد سول اسپتال علاج کے لیے منتقل کیا گیا،

    ذرائع کا کہنا ہے کہ جی سی یونیورسٹی میں خبر پھیل گئی تھی لیکن انتظامیہ کی طرف سے معاملہ دبانے کی کوشش کی گئی۔ انتظامیہ نے متاثرہ طالبات کو خاموش رکھنے کے لیے نکالنے کی دھمکی بھی دی ہے، طالبات کئی بار ناقص کھانے اور خراب پانی کی شکایات کر چکی ہیں۔ اسپتال منتقل کیے جانے والی طالبات میں سے کئی کی حالت خراب بتائی جا رہی ہے۔

    یونی ورسٹی انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ فوڈ اتھارٹی کی ٹیم کو کھانے کے نمونے فراہم کر دیے گئے ہیں، نیز یہ کہنا مشکل ہے کہ طالبات کی صحت کھانا کھانے ہی سے ہوئی، رپورٹ سامنے آنے کے بعد کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔

  • "ہو گا صاف پاکستان” ڈیٹول کی ملک کو صاف ستھرا بنانے اور صحت مند ماحول پیدا کرنے کی مہم،آئی بی اے کا بھرپورتعاون

    "ہو گا صاف پاکستان” ڈیٹول کی ملک کو صاف ستھرا بنانے اور صحت مند ماحول پیدا کرنے کی مہم،آئی بی اے کا بھرپورتعاون

    کراچی :”ہو گا صاف پاکستان” ڈیٹول کی ملک کو صاف ستھرا بنانے اور صحت مند ماحول پیدا کرنے کی مہم،آئی بی اے کا بھرپورتعاون،اطلاعات کےمطابق قابل اعتماد اینٹی بیکٹیریل برانڈ ڈیٹول نے پاکستان کو ایک صاف ستھرا ملک بنانے کیلئے کمر کس لی ہے۔ اس سلسلے میں ڈیٹول کی جانب سے "ہو گا صاف پاکستان” نامی مہم کا آغاز کیا گیا ہے، جس کے تحت شہریوں کو صاف ستھرا پاکستان کے مقصد کے حصول کیلئے بااختیار بنایا جائے گا۔ ڈیٹول نے اپنی اس خاص مہم کے سلسلے میں "صفائی ترانہ” بھی جاری کیا ہے جسے عوام میں خاصی پذیرائی حاصل ہوئی۔

    باغی ٹی وی کےمطابق پاکستان کے سب سے بڑے شہرکراچی میں ویسے توبڑے ادارے اس مہم جوئی میں مل کرکام کررہے ہیں ، تاہم کسی بڑے تعلیمی ادارے کی طرف سے اس سے پہلے کوئی خاص دلچسپی نہیں دکھائی جارہی تھی، لیکن اب انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن کراچی نے باقاعدہ اسے ایک ہم نصابی سرگرمی سمجھتے ہوئے کراچی کے کونے کونے میں پہنچانے کا تہیہ کررکھا ہے

    اب ڈیٹول "ہوگا صاف پاکستان” مہم کے ذریعے صفائی کی اہمیت کے معاملے کو اجاگر کر رہا ہے تاکہ پاکستان کو ایک بہتر اور صحت مند ملک بنایا جا سکے۔ موسیقی عوام کو متحرک کرنے کا ایک مؤثر طریقہ ہے، "ہوگا صاف پاکستان” صرف ایک معاشرتی مقصد ہی نہیں بلکہ معاشرتی تحریک بھی ہے جسے ڈیٹول لیڈ کر رہا ہے، تاکہ صفائی کی اہمیت سے متعلق گفتگو ہر جانب ہوتی دکھائی دے۔

    ملک میں گندگی کی وجہ سے ہونے والے نقصانات کے بارے میں اینوائرمینٹل پروٹیکشن پروگرام کی طرف سے جاری تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ ہرسال 20 ملین ٹن فضلہ اورگند ادھر ادھرپھینکا جاتا ہے جس کی وجہ سے اس ملک کے تقریبا 39000 ہزاربچے اس موسمی انحطاط کی وجہ سے جاں بحق ہوجاتے ہیں

    راکٹ بینسرکے چیف ایگزیکٹوکاشن حسن کہتے ہیں کہ اس سے پہلے صفائ ستھرائی کے حوالے سے کوئی خاص اقدامات نہیں کیئے جاتے تھے تاہم اس پروگرام سے بہت زیادہ آگاہی پیدا ہوتی ہے،ڈیٹول اس حوالے سے اہم مشن سرانجام دے رہا ہے اورپاکستان میں صفائی ستھرائی لانے کےلیئے اس مہم میں ہرپاکستانی کوشامل ہونا چاہیے تاکہ ہمیں ایک صحت مںد معاشرہ مل سکے

    چونکہ یہ مخصوص پروگرامز بھرپور انداز میں حفظان صحت کے اصولوں اور صفائی کے بارے میں شعور اجاگر کرتے ہیں، اس لیے ان کی بدولت ملک گیر اسکولوں کے 20 لاکھ بچے، 500 دیہات اور 1 لاکھ 40 ہزار مائیں مستفید ہوئی ہیں۔ ڈیٹول کوشش جاری رکھے ہوئے ہے کہ پاکستانیوں میں ایک مشترکہ نظریہ پیدا کیا جائے جس کے تحت مشترکہ ذمے داری کا احساس پیدا ہو اور اس بے حد ضروری مقصد کے حصول کیلئے کوشش کی جائے۔

  • عمران خان کی تعلیمی اداروں میں اصطلاحات کے اثرات آزادکشمیرمیں پہنچنے لگے، طالبات کے لپ اسٹک لگانے پرپابندی

    عمران خان کی تعلیمی اداروں میں اصطلاحات کے اثرات آزادکشمیرمیں پہنچنے لگے، طالبات کے لپ اسٹک لگانے پرپابندی

    مظفرآباد:عمران خان کی تعلیمی اداروں میں اصطلاحات کے اثرات آزادکشمیرمیں پہنچنے لگے، طالبات کے لپ اسٹک لگانے پرپابندی،اطلاعات کےمطابق آزادکشمیر کی یونیورسٹی آف کوٹلی میں طالبات کے لپ اسٹک لگانے پر پابندی عائد کردی گئی۔

    ذرائع کے مطابق آزاد کشمیر کی یونیورسٹی آف کوٹلی کےایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے ایک سرکلر جاری کیا ہےجس میں طالبات کے لپ اسٹک لگانے پر پابندی عائد کردی گئی۔ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے سرکلر میں کہا گیا ہے کہ جامعات کی طالبات لپ اسٹک نہ لگائیں اور لپ اسٹک لگانے پر طالبات پر 100 روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

    یاد رہےکہ پنجاب اورکے پی میں تعلیمی اداروں میں عریانی اورفحاشی کےخلاف آپریشن کے نتائج آنا شروع ہوگئے ہیں، چند دن قبل پنجاب میں میڈیکل شعبہ سے وابستہ سٹوڈنٹس اوردیگرعملے پرجینز کی تنگ پینٹ پہننے پرپابندی عائد کردی ہے جسے بہت زیادہ سراہا جارہا ہے،

  • بااثرافراد کاسکول پرقبضہ ، طلباء دردرکی ٹھوکریں کھانے لگے

    بااثرافراد کاسکول پرقبضہ ، طلباء دردرکی ٹھوکریں کھانے لگے

    جلالپور:بااثرافراد کاسکول پرقبضہ ، طلباء دردرکی ٹھوکریں کھانے لگے،اطلاعات کےمطابق جلالپورکے علاقہ پیروالا میں بااثرافراد نے ایک سکول پرقبضہ کرکے وہاں سے طالب علموں کوبھگا دیا ہے، الھدیٰ نامی پبلک سکول کی زمین کا تنازعہ چل رہا رتھا

    باغی ٹی وی کے مطابق جلالپورکے علاقہ پیروالا کے نواحی علاقہ کھاکھی پنجانی میں مسلح با اثر افراد نے سکول کی عمارت پر مبینہ طور پر قبضہ کر لیا،با اثر افراد نے اسلحہ کے زور پر سکول کے ننھے بچوں اور اساتذہ کو سکول سے باہر نکال

    ذرائع کےمطابق کھاکھی کے اس سکول پرصغیر احمد اور جلیل احمد سمیت دیگر مسلح افراد نے سکول کی زمین کا قبضہ کر لیا ہے،دوسری طرف بچوں کےوالدین ، اساتذہ اوراہل علاقہ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہےکہ وہ اس سکول کو قبضہ گروپ سے واگزارکروائے

  • تعلیم کا عالمی دن :شرح خواندگی کے حوالے سے پنجاب سب سے آگے

    تعلیم کا عالمی دن :شرح خواندگی کے حوالے سے پنجاب سب سے آگے

    اسلام آباد: تعلیم کا عالمی دن :شرح خواندگی کے حوالے سے پنجاب سب سے آگے ،اطلاعات کے مطابق دنیا بھر کیطرح پاکستان میں بھی آج تعلیم کا عالمی دن منایا جارہا ہے، دوسری طرف اس دن کی مناسبت کے ساتھ ساتھ ملک میں شرح خواندگی پربھی رپورٹس سامنے آرہی ہیں‌،شرح خواندگی کے حوالے سے صوبہ پنجاب سب سے آگے جبکہ صوبہ خیبر پختونخواہ سب سے کم شرح خواندگی کے ساتھ آخری نمبر پر ہے۔

    تفصیلات کے مطابق تعلیم کے عالمی دن پر محکمہ شماریات نے 18-2017 کی مردم شماری رپورٹ جاری کردی جس کے مطابق تعلیمی ایمرجنسی کے باوجود صوبہ خیبر پختونخواہ شرح خواندگی میں چاروں صوبوں سے پیچھے ہے۔
    رپورٹ کے مطابق خواتین کی شرح خواندگی میں پنجاب پہلے، سندھ دوسرے اور بلوچستان تیسرے نمبر پر ہے۔ مردوں کی شرح خواندگی میں پختونخواہ پہلے، بلوچستان دوسرے، سندھ تیسرے اور پنجاب چوتھے نمبر پر ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ مجموعی شرح خواندگی میں پنجاب 64.7 فیصد شرح خواندگی کے ساتھ سرفہرست ہے، سندھ 62.2 فیصد شرح خواندگی کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔اسی طرح بلوچستان 55.5 فیصد شرح خواندگی کے ساتھ تیسرے اور خیرب پختونخواہ 55.3 فیصد شرح خواندگی کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہے۔

  • 24-جنوری آج پاکستان سمیت دنیا بھر میں تعلیم کا عالمی دن منایا جارہا ہے

    24-جنوری آج پاکستان سمیت دنیا بھر میں تعلیم کا عالمی دن منایا جارہا ہے

    اسلام آباد :تعلیم کے میدان سے اہم خبریں‌ :تعلیم کا عالمی دن آج 24 جنوری 2019 کو پہلی بار پاکستان سمیت دنیا بھر میں منایا جارہا ہے، سال تین دسمبر 2018کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے تعلیم کا دن منانے کی قرارداد منظوری دی تھی، جس کا مقصد امن اور ترقی کے لیے تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کرنا تھا۔

    پاکستان میں تعلیم کا شعبہ سنگین مسائل سے دوچار ہے اور یہاں ہنگامی سطح پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، بدقسمتی سے قیامِ پاکستان سے آج تک کسی بھی حکومت نے ملک میں تعلیمی اصلاحات کو مکمل طور پر نافذ کرنے کے لیے بجٹ نافذ نہیں کیا۔جس کے سبب اساتذہ قلیل تنخواہ میں بنا کسی مناسب تربیت کے پڑھانے پر اور طالب علم بغیر سہولیات اور جدید ٹیکنالوجی کے پڑھنے پر مجبور ہیں۔

    اقوامِ متحدہ کے بین الاقوامی چارٹر برائے انسانی حقوق کے سیکشن 26 کے تحت تعلیم انسان کا بنیادی حق ہے۔ بین الاقوامی چارٹر کے مطابق عوام کو مفت اور لازمی بنیادی تعلیم فراہم کرنا ریاست کا فرض قرار دیا گیا ہے۔اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے یومِ تعلیم کو عالمی دن کے طور پر منانے کی قرارداد 3 دسمبر 2018ء کو منظور کی۔ یہ دن منانے کا مقصد امن و ترقی کے لیے تعلیمی اہمیت کو فروغ دینا تھا۔

  • وزیر ہائر ایجوکیشن راجہ یاسر ہمایوں سرفراز کی زیر صدارت کانفرنس، تعلیمی ڈھانچے بارے اہم فیصلے

    وزیر ہائر ایجوکیشن راجہ یاسر ہمایوں سرفراز کی زیر صدارت کانفرنس، تعلیمی ڈھانچے بارے اہم فیصلے

    وزیر ہائر ایجوکیشن راجہ یاسر ہمایوں سرفراز کی زیر صدارت کانفرنس، تعلیمی ڈھانچے بارے اہم فیصلے

    باغی ٹی وی وزیر ہائر ایجوکیشن راجہ یاسر ہمایوں سرفراز کی زیر صدارت یو ای ٹی میں وی سی کانفرنس کا انعقاد ہوا. کانفرنس میں پنجاب کی تمام سرکاری جامعات کے وائس چانسلرز نے شرکت کی .کانفرنس کا مقصد ہائر ایجوکیشن میں اصلاحات کے حوالے سے تبادلہ خیال کرنا ہے۔

    کانفرنس میں کمیونیٹی کالجز کے قیام اور ایسوسی ایٹ ڈگری کے نفاذ بارے تبادلہ خیال کیا گیا .دو سالہ ایسوسی ایٹ ڈگری کروانے والے کالجز کو کمیونیٹی کالجز میں تبدیل کیا گیا ہے، دو سالہ ڈگری کروانے والے کالجز کا صرف نام بدلہ گیا ہے سٹرکچر میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، کمیونیٹی کالجز کو نجی شعبہ کے حوالے کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں،کمیونیٹی کالجز میں پہلے سے موجود اساتذہ ہی پڑھائیں گے، کالج میں اساتذہ ہائر ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ تعینات کرے گا جبکہ فیس بھی ڈپارٹمنٹ ہی طے کرے گا،

    صوبائی وزیر نے کہا کہ چار سالہ بی ایس پروگرام پڑھانے والے کالجز گریجوایٹ کالجز ہیں، کالج کا صرف یونیورسٹی سے الحاق ہو گا انتظامی امور ڈپارٹمنٹ دیکھے گا، یونیورسٹی کی ذمہ داری ہو گی کہ الحاق شدہ کالج میں معیار تعلیم بہتر کرے، اساتذہ ہائر ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کے ملازم ہی رہیں گے،
    انہوں نے کہا کہ کمیونیٹی کالجز میں 150 ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرامز متعارف کر وائے جا رہے ہیں، ایسی ایٹ ڈگری میں جاب مارکیٹ کی ضرورت کے مطابق مضامین پڑھائے جا رہے ہیں.ایسو سی ایٹ ڈگری حاصل کرنے کے بعد طلباء چار سالہ بی ایس پروگرام میں داخلہ لے سکیں گے، راجہ یاسرکریڈ آور ٹرانسفر کرنے کا میکنزم یونیورسٹیز اپنے مطابق متعین کریں گی،

    کالجز میں مکمل طور پر سمسٹر سسٹم کے نفاذ کے بعد یونیورسٹی کی جانب سے مانیٹرنگ بہتر کرنا ہو گی،
    کالجز ڈویزن اور ڈسٹرکٹ میں موجود سرکاری یونیورسٹی سے ہی الحاق کر سکیں گے تاکہ مناسب مانیٹرنگ کی جاسکے، کمیونیٹی کالج کو گریجو ایٹ کالج میں بھی اپ گریڈ کیا جا سکے گا، ہر ضلع میں کم از کم دو گریجوایٹ کالجز کے قیام کا منصوبہ ہے،