Baaghi TV

Category: تعلیم

  • اردو کے ادیب اور مزاح نگار محمد خالد اختر کو دنیا سے بچھڑے 18 سال بیت گئے

    اردو کے ادیب اور مزاح نگار محمد خالد اختر کو دنیا سے بچھڑے 18 سال بیت گئے

    اردو کے نامور ادیب اور مزاح نگار مرحوم محمد خالد اختر کو جہان فانی سے رخصت ہوئے 18برس بیت گئے

    محمد خالد اختر 23 جنوری 1920 کو بہاولپور میں پیدا ہوئے خالد اختر نے ابتدائی تعلیم صادق پبلک اسکول بہاولپور سے حاصل کی جہاں شفیق الرحمان بھی ان کے ہم مکتب تھے ان کے والد مولوی اختر علی بہاولپور سے ممبر لیجسلیٹو اسمبلی رہ چکے تھے

    کراچی کے پسماندہ علاقے لیاری کی ایک پسماندہ بستی چاکیواڑہ قیام پاکستان کے فوری بعد کےچند برسوں میں یہ بستی اردو کے ایک نوجوان ادیب کا مسکن تھی جس نے ایک ایسا ناول لکھا جس سے غریب بلوچوں کی اس بستی کا نام تاریخ میں امر ہوگیا یہ نوجوان آگے چل کر اردو کا اعلی پائے کا صاحب طرز مزاح نگار، مترجم اور سفرنامہ نگار بنا جسے اردو ادب کی تاریخ محمد خالد اختر کے نام سے جانا جاتا ہے محمد خالد اختر کی تحریروں میں وہی فراخ دلی اور درویشی نظر آتی ہے جو خود ان کی طبیعت کا خاصہ تھی

    انہوں نے ساری زندگی نہایت سادگی سے گزاری ان کا رہن سہن انتہائی سادہ درویشانہ تھا گھر میں ان کا اپنا کمرہ ان کی ذاتی سادگی کا منہ بولتا ثبوت تھا ادیب تو وہ تھے ہی لیکن مطالعے کا جیسا عشق ان کو تھا وہ بڑے بڑے ادیبوں میں بھی نہیں ملتا محمد خالد اختر کوئی روایتی ادیب نہیں تھے انہوں نے لکھنے کے لیے کئی اصناف منتخب کیں مزاح ہو یا سفرنامہ، پیروڈی ہو یا ترجمہ، انہوں نے ہر صنف میں منفرد کام کیا

    محمد خالد اختر 2 فروری 2002 کو دنیا سے رخصت ہوگئے اور وقت ایک دن چاکیواڑہ کو بھی تبدیل کر دے گا لیکن محمد خالد اختر کی تحریریں انہیں اور ان کے چاکیواڑہ کو ہمیشہ زندہ رکھیں گی

    ان کی لکھی ہوئی تصانیف میں چاکی واڑہ میں وصال کھویا ہوا افق خطوط چچا عبدالباقی اور ایک جنرل کی پر اسرار سرگزشت وغیرہ شامل ہیں

  • 25 طالبات کی اچانک طبعیت کیوں خراب ہوگئی اوروہ اب کس حالت میں ہیں اہم خبرآگئی

    25 طالبات کی اچانک طبعیت کیوں خراب ہوگئی اوروہ اب کس حالت میں ہیں اہم خبرآگئی

    فیصل آباد:25 طالبات کی اچانک طبعیت کیوں خراب ہوگئی اوروہ اب کس حالت میں ہیں اہم خبرآگئی ،اطلاعات کےمطابق جی سی یونی ورسٹی میں مضر صحت کھانا کھانے سے 25 طالبات کی طبیعت خراب ہو گئی۔

    تفصیلات کے مطابق جی سی یونی ورسٹی فیصل آباد کے گرلز ہاسٹل میں مبینہ طور پر مضر صحت کھانا کھانے سے 25 طالبات بیمار ہو گئیں، یہ واقعہ گزشتہ روز پیش آیا، گرلز ہاسٹل کا کھانا کھانے کے بعد طالبات کی طبیعت بگڑ گئی، تاہم انھیں کئی گھنٹوں کے بعد سول اسپتال علاج کے لیے منتقل کیا گیا،

    ذرائع کا کہنا ہے کہ جی سی یونیورسٹی میں خبر پھیل گئی تھی لیکن انتظامیہ کی طرف سے معاملہ دبانے کی کوشش کی گئی۔ انتظامیہ نے متاثرہ طالبات کو خاموش رکھنے کے لیے نکالنے کی دھمکی بھی دی ہے، طالبات کئی بار ناقص کھانے اور خراب پانی کی شکایات کر چکی ہیں۔ اسپتال منتقل کیے جانے والی طالبات میں سے کئی کی حالت خراب بتائی جا رہی ہے۔

    یونی ورسٹی انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ فوڈ اتھارٹی کی ٹیم کو کھانے کے نمونے فراہم کر دیے گئے ہیں، نیز یہ کہنا مشکل ہے کہ طالبات کی صحت کھانا کھانے ہی سے ہوئی، رپورٹ سامنے آنے کے بعد کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔

  • "ہو گا صاف پاکستان” ڈیٹول کی ملک کو صاف ستھرا بنانے اور صحت مند ماحول پیدا کرنے کی مہم،آئی بی اے کا بھرپورتعاون

    "ہو گا صاف پاکستان” ڈیٹول کی ملک کو صاف ستھرا بنانے اور صحت مند ماحول پیدا کرنے کی مہم،آئی بی اے کا بھرپورتعاون

    کراچی :”ہو گا صاف پاکستان” ڈیٹول کی ملک کو صاف ستھرا بنانے اور صحت مند ماحول پیدا کرنے کی مہم،آئی بی اے کا بھرپورتعاون،اطلاعات کےمطابق قابل اعتماد اینٹی بیکٹیریل برانڈ ڈیٹول نے پاکستان کو ایک صاف ستھرا ملک بنانے کیلئے کمر کس لی ہے۔ اس سلسلے میں ڈیٹول کی جانب سے "ہو گا صاف پاکستان” نامی مہم کا آغاز کیا گیا ہے، جس کے تحت شہریوں کو صاف ستھرا پاکستان کے مقصد کے حصول کیلئے بااختیار بنایا جائے گا۔ ڈیٹول نے اپنی اس خاص مہم کے سلسلے میں "صفائی ترانہ” بھی جاری کیا ہے جسے عوام میں خاصی پذیرائی حاصل ہوئی۔

    باغی ٹی وی کےمطابق پاکستان کے سب سے بڑے شہرکراچی میں ویسے توبڑے ادارے اس مہم جوئی میں مل کرکام کررہے ہیں ، تاہم کسی بڑے تعلیمی ادارے کی طرف سے اس سے پہلے کوئی خاص دلچسپی نہیں دکھائی جارہی تھی، لیکن اب انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن کراچی نے باقاعدہ اسے ایک ہم نصابی سرگرمی سمجھتے ہوئے کراچی کے کونے کونے میں پہنچانے کا تہیہ کررکھا ہے

    اب ڈیٹول "ہوگا صاف پاکستان” مہم کے ذریعے صفائی کی اہمیت کے معاملے کو اجاگر کر رہا ہے تاکہ پاکستان کو ایک بہتر اور صحت مند ملک بنایا جا سکے۔ موسیقی عوام کو متحرک کرنے کا ایک مؤثر طریقہ ہے، "ہوگا صاف پاکستان” صرف ایک معاشرتی مقصد ہی نہیں بلکہ معاشرتی تحریک بھی ہے جسے ڈیٹول لیڈ کر رہا ہے، تاکہ صفائی کی اہمیت سے متعلق گفتگو ہر جانب ہوتی دکھائی دے۔

    ملک میں گندگی کی وجہ سے ہونے والے نقصانات کے بارے میں اینوائرمینٹل پروٹیکشن پروگرام کی طرف سے جاری تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ ہرسال 20 ملین ٹن فضلہ اورگند ادھر ادھرپھینکا جاتا ہے جس کی وجہ سے اس ملک کے تقریبا 39000 ہزاربچے اس موسمی انحطاط کی وجہ سے جاں بحق ہوجاتے ہیں

    راکٹ بینسرکے چیف ایگزیکٹوکاشن حسن کہتے ہیں کہ اس سے پہلے صفائ ستھرائی کے حوالے سے کوئی خاص اقدامات نہیں کیئے جاتے تھے تاہم اس پروگرام سے بہت زیادہ آگاہی پیدا ہوتی ہے،ڈیٹول اس حوالے سے اہم مشن سرانجام دے رہا ہے اورپاکستان میں صفائی ستھرائی لانے کےلیئے اس مہم میں ہرپاکستانی کوشامل ہونا چاہیے تاکہ ہمیں ایک صحت مںد معاشرہ مل سکے

    چونکہ یہ مخصوص پروگرامز بھرپور انداز میں حفظان صحت کے اصولوں اور صفائی کے بارے میں شعور اجاگر کرتے ہیں، اس لیے ان کی بدولت ملک گیر اسکولوں کے 20 لاکھ بچے، 500 دیہات اور 1 لاکھ 40 ہزار مائیں مستفید ہوئی ہیں۔ ڈیٹول کوشش جاری رکھے ہوئے ہے کہ پاکستانیوں میں ایک مشترکہ نظریہ پیدا کیا جائے جس کے تحت مشترکہ ذمے داری کا احساس پیدا ہو اور اس بے حد ضروری مقصد کے حصول کیلئے کوشش کی جائے۔

  • عمران خان کی تعلیمی اداروں میں اصطلاحات کے اثرات آزادکشمیرمیں پہنچنے لگے، طالبات کے لپ اسٹک لگانے پرپابندی

    عمران خان کی تعلیمی اداروں میں اصطلاحات کے اثرات آزادکشمیرمیں پہنچنے لگے، طالبات کے لپ اسٹک لگانے پرپابندی

    مظفرآباد:عمران خان کی تعلیمی اداروں میں اصطلاحات کے اثرات آزادکشمیرمیں پہنچنے لگے، طالبات کے لپ اسٹک لگانے پرپابندی،اطلاعات کےمطابق آزادکشمیر کی یونیورسٹی آف کوٹلی میں طالبات کے لپ اسٹک لگانے پر پابندی عائد کردی گئی۔

    ذرائع کے مطابق آزاد کشمیر کی یونیورسٹی آف کوٹلی کےایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے ایک سرکلر جاری کیا ہےجس میں طالبات کے لپ اسٹک لگانے پر پابندی عائد کردی گئی۔ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے سرکلر میں کہا گیا ہے کہ جامعات کی طالبات لپ اسٹک نہ لگائیں اور لپ اسٹک لگانے پر طالبات پر 100 روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

    یاد رہےکہ پنجاب اورکے پی میں تعلیمی اداروں میں عریانی اورفحاشی کےخلاف آپریشن کے نتائج آنا شروع ہوگئے ہیں، چند دن قبل پنجاب میں میڈیکل شعبہ سے وابستہ سٹوڈنٹس اوردیگرعملے پرجینز کی تنگ پینٹ پہننے پرپابندی عائد کردی ہے جسے بہت زیادہ سراہا جارہا ہے،

  • بااثرافراد کاسکول پرقبضہ ، طلباء دردرکی ٹھوکریں کھانے لگے

    بااثرافراد کاسکول پرقبضہ ، طلباء دردرکی ٹھوکریں کھانے لگے

    جلالپور:بااثرافراد کاسکول پرقبضہ ، طلباء دردرکی ٹھوکریں کھانے لگے،اطلاعات کےمطابق جلالپورکے علاقہ پیروالا میں بااثرافراد نے ایک سکول پرقبضہ کرکے وہاں سے طالب علموں کوبھگا دیا ہے، الھدیٰ نامی پبلک سکول کی زمین کا تنازعہ چل رہا رتھا

    باغی ٹی وی کے مطابق جلالپورکے علاقہ پیروالا کے نواحی علاقہ کھاکھی پنجانی میں مسلح با اثر افراد نے سکول کی عمارت پر مبینہ طور پر قبضہ کر لیا،با اثر افراد نے اسلحہ کے زور پر سکول کے ننھے بچوں اور اساتذہ کو سکول سے باہر نکال

    ذرائع کےمطابق کھاکھی کے اس سکول پرصغیر احمد اور جلیل احمد سمیت دیگر مسلح افراد نے سکول کی زمین کا قبضہ کر لیا ہے،دوسری طرف بچوں کےوالدین ، اساتذہ اوراہل علاقہ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہےکہ وہ اس سکول کو قبضہ گروپ سے واگزارکروائے

  • تعلیم کا عالمی دن :شرح خواندگی کے حوالے سے پنجاب سب سے آگے

    تعلیم کا عالمی دن :شرح خواندگی کے حوالے سے پنجاب سب سے آگے

    اسلام آباد: تعلیم کا عالمی دن :شرح خواندگی کے حوالے سے پنجاب سب سے آگے ،اطلاعات کے مطابق دنیا بھر کیطرح پاکستان میں بھی آج تعلیم کا عالمی دن منایا جارہا ہے، دوسری طرف اس دن کی مناسبت کے ساتھ ساتھ ملک میں شرح خواندگی پربھی رپورٹس سامنے آرہی ہیں‌،شرح خواندگی کے حوالے سے صوبہ پنجاب سب سے آگے جبکہ صوبہ خیبر پختونخواہ سب سے کم شرح خواندگی کے ساتھ آخری نمبر پر ہے۔

    تفصیلات کے مطابق تعلیم کے عالمی دن پر محکمہ شماریات نے 18-2017 کی مردم شماری رپورٹ جاری کردی جس کے مطابق تعلیمی ایمرجنسی کے باوجود صوبہ خیبر پختونخواہ شرح خواندگی میں چاروں صوبوں سے پیچھے ہے۔
    رپورٹ کے مطابق خواتین کی شرح خواندگی میں پنجاب پہلے، سندھ دوسرے اور بلوچستان تیسرے نمبر پر ہے۔ مردوں کی شرح خواندگی میں پختونخواہ پہلے، بلوچستان دوسرے، سندھ تیسرے اور پنجاب چوتھے نمبر پر ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ مجموعی شرح خواندگی میں پنجاب 64.7 فیصد شرح خواندگی کے ساتھ سرفہرست ہے، سندھ 62.2 فیصد شرح خواندگی کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔اسی طرح بلوچستان 55.5 فیصد شرح خواندگی کے ساتھ تیسرے اور خیرب پختونخواہ 55.3 فیصد شرح خواندگی کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہے۔

  • 24-جنوری آج پاکستان سمیت دنیا بھر میں تعلیم کا عالمی دن منایا جارہا ہے

    24-جنوری آج پاکستان سمیت دنیا بھر میں تعلیم کا عالمی دن منایا جارہا ہے

    اسلام آباد :تعلیم کے میدان سے اہم خبریں‌ :تعلیم کا عالمی دن آج 24 جنوری 2019 کو پہلی بار پاکستان سمیت دنیا بھر میں منایا جارہا ہے، سال تین دسمبر 2018کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے تعلیم کا دن منانے کی قرارداد منظوری دی تھی، جس کا مقصد امن اور ترقی کے لیے تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کرنا تھا۔

    پاکستان میں تعلیم کا شعبہ سنگین مسائل سے دوچار ہے اور یہاں ہنگامی سطح پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، بدقسمتی سے قیامِ پاکستان سے آج تک کسی بھی حکومت نے ملک میں تعلیمی اصلاحات کو مکمل طور پر نافذ کرنے کے لیے بجٹ نافذ نہیں کیا۔جس کے سبب اساتذہ قلیل تنخواہ میں بنا کسی مناسب تربیت کے پڑھانے پر اور طالب علم بغیر سہولیات اور جدید ٹیکنالوجی کے پڑھنے پر مجبور ہیں۔

    اقوامِ متحدہ کے بین الاقوامی چارٹر برائے انسانی حقوق کے سیکشن 26 کے تحت تعلیم انسان کا بنیادی حق ہے۔ بین الاقوامی چارٹر کے مطابق عوام کو مفت اور لازمی بنیادی تعلیم فراہم کرنا ریاست کا فرض قرار دیا گیا ہے۔اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے یومِ تعلیم کو عالمی دن کے طور پر منانے کی قرارداد 3 دسمبر 2018ء کو منظور کی۔ یہ دن منانے کا مقصد امن و ترقی کے لیے تعلیمی اہمیت کو فروغ دینا تھا۔

  • وزیر ہائر ایجوکیشن راجہ یاسر ہمایوں سرفراز کی زیر صدارت کانفرنس، تعلیمی ڈھانچے بارے اہم فیصلے

    وزیر ہائر ایجوکیشن راجہ یاسر ہمایوں سرفراز کی زیر صدارت کانفرنس، تعلیمی ڈھانچے بارے اہم فیصلے

    وزیر ہائر ایجوکیشن راجہ یاسر ہمایوں سرفراز کی زیر صدارت کانفرنس، تعلیمی ڈھانچے بارے اہم فیصلے

    باغی ٹی وی وزیر ہائر ایجوکیشن راجہ یاسر ہمایوں سرفراز کی زیر صدارت یو ای ٹی میں وی سی کانفرنس کا انعقاد ہوا. کانفرنس میں پنجاب کی تمام سرکاری جامعات کے وائس چانسلرز نے شرکت کی .کانفرنس کا مقصد ہائر ایجوکیشن میں اصلاحات کے حوالے سے تبادلہ خیال کرنا ہے۔

    کانفرنس میں کمیونیٹی کالجز کے قیام اور ایسوسی ایٹ ڈگری کے نفاذ بارے تبادلہ خیال کیا گیا .دو سالہ ایسوسی ایٹ ڈگری کروانے والے کالجز کو کمیونیٹی کالجز میں تبدیل کیا گیا ہے، دو سالہ ڈگری کروانے والے کالجز کا صرف نام بدلہ گیا ہے سٹرکچر میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، کمیونیٹی کالجز کو نجی شعبہ کے حوالے کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں،کمیونیٹی کالجز میں پہلے سے موجود اساتذہ ہی پڑھائیں گے، کالج میں اساتذہ ہائر ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ تعینات کرے گا جبکہ فیس بھی ڈپارٹمنٹ ہی طے کرے گا،

    صوبائی وزیر نے کہا کہ چار سالہ بی ایس پروگرام پڑھانے والے کالجز گریجوایٹ کالجز ہیں، کالج کا صرف یونیورسٹی سے الحاق ہو گا انتظامی امور ڈپارٹمنٹ دیکھے گا، یونیورسٹی کی ذمہ داری ہو گی کہ الحاق شدہ کالج میں معیار تعلیم بہتر کرے، اساتذہ ہائر ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کے ملازم ہی رہیں گے،
    انہوں نے کہا کہ کمیونیٹی کالجز میں 150 ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرامز متعارف کر وائے جا رہے ہیں، ایسی ایٹ ڈگری میں جاب مارکیٹ کی ضرورت کے مطابق مضامین پڑھائے جا رہے ہیں.ایسو سی ایٹ ڈگری حاصل کرنے کے بعد طلباء چار سالہ بی ایس پروگرام میں داخلہ لے سکیں گے، راجہ یاسرکریڈ آور ٹرانسفر کرنے کا میکنزم یونیورسٹیز اپنے مطابق متعین کریں گی،

    کالجز میں مکمل طور پر سمسٹر سسٹم کے نفاذ کے بعد یونیورسٹی کی جانب سے مانیٹرنگ بہتر کرنا ہو گی،
    کالجز ڈویزن اور ڈسٹرکٹ میں موجود سرکاری یونیورسٹی سے ہی الحاق کر سکیں گے تاکہ مناسب مانیٹرنگ کی جاسکے، کمیونیٹی کالج کو گریجو ایٹ کالج میں بھی اپ گریڈ کیا جا سکے گا، ہر ضلع میں کم از کم دو گریجوایٹ کالجز کے قیام کا منصوبہ ہے،

  • قصور:میاں رفیع ہاوسنگ سکیم میں علم کی روشنی کا ایک نیا مرکز ،مقامی آبادی خوش

    قصور:میاں رفیع ہاوسنگ سکیم میں علم کی روشنی کا ایک نیا مرکز ،مقامی آبادی خوش

    قصور:میاں رفیع ہاوسنگ سکیم میں علم کی روشنی کا ایک نیا مرکز کھل گیا ہے، اطلاعات کے مطابق قصورشہرمیں قادرآبادروڈ پرواقع نئی ہاوسنگ سکیم میں آبادعوام الناس کے بچوں کی کوچنگ اور بنیادی تعلیم کےلیے ایک سینٹرکھول دیا گیا ہے

    یہ سینٹرکالونی کے نئے باسیوں کی ذاتی کوشش سے شروع کیا گیا ہے، جس میں مقامی بچوں کو بہترین بنیادی تعلیم دی جاتی ہے ، ذرائع کےمطابق میاں رفیع ہاوسنگ سکیم قصور میں یہ سینٹرفی الحال کالونی کےمرکزی دروازے کے ساتھ کالونی کے اندر کھولا گیا ہے

    دوسری طرف مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ وہ اس کوشش سے بہت متاثر ہیں ، مقامی لوگوں کا کہنا ہےکہ وہ بچوں کی تعلیم کے حوالے سے بہت پریشان تھے تاہم اس ابتدائی کوشش سے ان کو بہت زیادہ تسلی ہوئی ہے

    ذرائع کے مطابق یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ اس تعلیمی سینٹرکو وقت کے ساتھ ساتھ وسعت دینے کا بھی پروگرام ہے ، یہ سینٹرایک پرفضامقام پرواقع ہے جہاں بچوں کوتعلیم کے ساتھ ساتھ تفریح بھی میسر ہے

  • طلبا کو اسکالر شپ،7 ویں سے 12 ویں جماعت تک سہولیات ہی سہولیات،خیبرپختونخواہ چھا گیا

    طلبا کو اسکالر شپ،7 ویں سے 12 ویں جماعت تک سہولیات ہی سہولیات،خیبرپختونخواہ چھا گیا

    پشاور:طلبا کو اسکالر شپ،7 ویں سے 12 ویں جماعت تک کیا سہولیات دی جائیں گے؟یہ بھی بتادیا گیا،کے پی چھا گیا خیبرپختونخواہ کے محکمۂ تعلیم نے ذہین اورنادارطالب علموں کواسکالر شپ دینے کا اعلان کردیا۔خیبرپختونخواہ کے محکمہ تعلیم نے 200 طلبا کو اسکالر شپ دینے کا فیصلہ کیا جو میرٹ‌ اصول کے تحت دی جائیں گی۔

     

    بچےفروخت کرنےوالےمنظم نیٹ ورک کاانکشاف،اعلیٰ سرکاری اہلکارملوث ،وزیراعظم بھی میدان

    رپورٹ کے مطابق اسکالر شپ حاصل کرنے کے خواہش مندوں کا داخلہ ٹیسٹ 26 جنوری 2020 کو لیا جائے گا، جس کے لیے امیدواروں کی عمرکی حد 11 سے 13 سال مقررکی گئی ہے۔داخلہ ٹیسٹ میں کامیابی حاصل کرنے والے طالب علموں کو 7 ویں سے 12 ویں جماعت تک مفت تعلیم دی جائے گی۔محکمہ تعلیم نے فیصلہ کیا کہ اسکالر شپ حاصل کرنے والے طلبا کو صوبے کے 10 معیاری تعلیمی اداروں میں تعلیم دی جائے گی۔

     

    پنجاب میں ٹیچرز کے لیے لائسنس ہونا ضروری قرار، ٹیچرزکاردعمل، پروفیشنل ڈگری کس لئے؟

    یاد رہے کہ گزشتہ برس خیبرپختونخواہ حکومت نے سرکاری اسکولوں میں زیر تعلیم نویں اور دسویں جماعت کی طالبات کے ماہانہ وظیفے میں اضافے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد انہیں ہر مہینے حکومت کی جانب سے 500 روپے ماہانہ بطور وظیفہ دیے جارہے ہیں۔حکومت نے یہ قدم لڑکیوں میں خواندگی کی شرح کو بڑھانے کے لیے اٹھایا تھا۔

    بھارت:ریاست تامل ناڈوکے ہندووں نے مسلمان ہونے کا اعلان کردیا