قاہرہ :چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضا کی مصری صدر وعسکری قیادت سے اہم ملاقاتیں ،راز کی باتیں،اطلاعات چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضا نے قاہرہ میں مصرکے صدر،وزیر دفاع اورتینوں مسلح افواج کے سربراہان سے ملاقات کی ، اس دوران دفاعی اور سلامتی تعاون، انسداد دہشت گردی اور علاقائی صورت حال پرتبادلہ خیال کیا گیا۔
انٹرسروسز پبلک ریلیشنز(آئی ایس پی آر) کے مطابق ملاقات کے دوران مصر کے صدر نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی قربانیوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ مصر پاکستان کے ساتھ خصوصی تعلقات کو اہمیت دیتا ہے،جنرل ندیم رضا کا کہنا تھا کہ پاکستان مصر سے فوجی تعاون کا خواہاں ہے۔
جنرل ندیم رضا نے مصری وزیر دفاع، تینوں مسلح افواج کے سربراہان سے بھی ملاقاتیں کیں، انہوں دفاع، سیکیورٹی امور کے دوسرے مرحلے میں بات چیت کرتے ہوئے انتہا پسندی، علاقائی استحکام، رابطہ کاری کے حوالے سے پاکستان کے مثبت کردار کو اجاگر کیا اور افغان امن و استحکام کے لیے پاکستان کی کوششوں سے بھی آگاہ کیا۔
وزارت دفاع آمد پر مصری افواج کے چاک وچوبند دستے نے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کو گارڈ آف آنر بھی پیش کیا۔
شہباز شریف مشکل میں، پیش ہوں ورنہ گرفتار کریں گے، نیب کے بعد ایک اور ادارے نے طلب کر لیا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کی مشکلات میں کمی نہ ہو سکی
نیب کے بعد اب وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے شہباز شریف کو طلب کر لیا ہے، ایف آئی اے نے شوگر سیکنڈل انکوائری میں شہباز شریف کو 22 جون کو طلب کیا ہے، ایف آئی اے لاہور آفس نے شہباز شریف کی طلبی کا سمن جاری کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ اگر ایف آئی اے آفس پیش نہ ہوئے تو قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے ،
ایف آئی اے کی جانب سے جاری سمن میں کہا گیا کہ نوٹس کی تعمیل نہ کرنے پر گرفتار بھی کیا جا سکتا ہے ، شہبازشریف کو متعلقہ تمام دستاویز ہمراہ لانے کی ہدایت کی گئی ہے ۔ اس کے علاوہ شہبازشریف کو چار سوالات کے جوابا ت بھی لانے کی ہدایت کر دی گئی ہے
ایف آئی اے نے نوٹس میں کہا ہے کہ آپ کو دو دفعہ سوالنامہ بھجوایا گیا مگر آپ نے جواب نہیں دیا دسمبر 2020 میں ایف آئی اے کی ٹیم نے 5 سوالوں پر مشتمل سوالنامہ دیا تھا جنوری 2021 میں آپ کو دوبارہ یاد دہانی کرائی گئی آپ نے کہا کہ عطا تارڑ آپ کے جوابات جمع کروائیں گے مگر جواب جمع نہیں ہوا۔
علامہ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا ہے کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کو سات سال ہو گئے ہیں
علامہ ڈاکٹر طاہرالقادری کا کہنا تھا کہ میڈیا کے تمام احباب کا شکر گزار ہوں جو سانحہ ماڈل ٹاؤن کی آواز بننے کیلئے پہنچے.سات سال سے انصاف مانگ رہے ہیں، تحریک انصاف کی حکومت ہے لیکن اب تحریک انصاف نے بھی انصاف کا دروزاہ بند کر دیا ہے، 14 لوگوں کو شہید کر کے غلط مقدمے درج کئے گئے،سالہا سال سے ہم عدالتوں میں جا رہے ہیں، انصاف کے طلبگار ہیں، سانحہ ماڈل ٹاؤن کی صحیح تفتیش نہیں کی گئی، مورخہ 15جون 2014 سے پہلے آئئی جی پنجاب خان بیگ تھے جنہوں نے ادارہ منہاج القرآن اور ڈاکٹرمحمد طاہرالقادری کی رہائش گاہ پر آپریشن کرنے سے انکار کردیا تھا۔ بعد میں کیا کچھ ہوا سب نے دیکھا، ہم دھرنے سے مطالبہ کر رہے تھے کہ غیر جانبدار لوگ اس واقعہ کی تحقیقات کریں، سوا دو سو افراد نے بیان قلمبند کروائے، جے آئی ٹی میں پیش ہوئے، سانحہ ماڈل ٹاؤن کے انصاف کے لیے لارجر بینچ جس کی سربراہی چیف جسٹس آف پاکستان نے خود کی اس میں میں نے خود دلائل پیش کیے۔
علامہ ڈاکٹر طاہر القادری کا مزید کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی حکومت ہونے کے باوجود بھی ماڈل ٹاؤن کے متاثرين انصاف سے محروم ہیں۔ جب سانحہ کی تمام لوگوں کی تفتیش مکمل ہوئی اور جب رپورٹ سبمٹ ہونے والی تھی تو ایک سنگل کونسٹبل نے درخواست دی اور اس سے جے آئی ٹی کو سسپنڈ کر دیا گیا۔ آرمی چیف راحیل شریف نے کہا تھا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے حوالہ سے انصاف مل کر رہے گا، پاکستان کی سپریم کورٹ کے سربراہ جسٹس ثاقب نثار نے بھی کہا تھا کہ انصاف ہو گا ،میاں ثاقب نثار نے بسمہ بیٹی کے سر پر ہاتھ رکھ کر وعدہ کیا کہ آپ کو انصاف ملے گا لیکن ابھی تک انصاف کے منتظر ہیں، اس وقت کے وزیراعظم عمران خان نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے حوالہ سے ہونے والے احتجاجوں میں کہا تھا کہ انصاف کے لئے ہم آپکے ساتھ ہیں، لیکن جب عمران خان وزیراعظم بنے تو پھر وہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے متاثرین کو انصاف دلوانا بھول گئے
کچھ لوگ 35 سال سے اقتدار میں اور کچھ کو 35 ماہ بھی نہیں ہوئے، چیئرمین نیب
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چیئرمین نیب جسٹس ر جاوید اقبال نے کہا ہے کہ نیب احتسا ب سب کے لیے پالیسی پر یقین رکھتا ہے
چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ نیب انسان دوست ادارہ ہے نیب نے جو بھی اقدامات کیے وہ ملکی مفاد میں کیے،کسی نے خطاب کیاکہ سرمایہ کاری نیب کی وجہ سے رکی ہوئی ہے،کاش خطاب کرنے والا نیب قانو ن پڑھ لیتا،نیب پر تنقید سے ہمیں سیکھنے کا موقع ملے گا،صبح نیب کی پیشی بھگتنے والا شام کو خطاب میں نیب پرتنقید شروع کردیتا ہے،نیب لوگوں کوتحفظ فراہمی کا ادارہ ہے،نیب کو آپ سے شاباش نہیں چاہیے ، عوام کی طرف سے تعریف چاہیے،کوئی ایک سرمایہ کار دکھا دیں جس نے نیب کی وجہ سے سرمایہ کاری نہیں کی،نیب اور کرپشن ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے،نیب سرمایہ کاروں کے مسائل حل کرے گا نیب نے ساڑھے 3سال میں 533ارب روپے ریکور کیےتنقید کرنے والوں کو حقائق کا ادراک نہیں ہے،نیب جس طریقے سے کام کرتا ہے وہی جاری رکھے گا ہم نے مگر مچھوں کو پکڑا ہوا ہے،آپ کو حقیقی سرمایہ کار اور ڈکیت میں فرق رکھنا چاہیے،
چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ راولپنڈی میں ایک سوسائٹی نے لوگوں سے ڈھائی ارب روپے لیے،ڈھائی ارب رو پے لینے کے بعد 7سال بعد بھی لوگوں کو حق نہیں ملا،3ماہ میں کسی بھی کاروباری شخصیت کی شکایت نہیں آئی کچھ لوگ 35سال سے اقتدار میں رہے ہیں کچھ کو 35ماہ بھی نہیں ہوئے،منی لانڈرنگ کیس میں جاوید اقبال کی کیا ذاتی دلچسپی ہوسکتی ہے،عام آدمی کی بربادی کی وجہ ہی کرپشن ہے
کراچی میں سپریم کورٹ کے حکم پرآپریشن کا آغازتاجروں کا احتجاج
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق شہر قائد کراچی میں سپریم کورٹ کے حکم پر تجاوزات کے خلاف آپریشن کا آغاز کر دیا گیا ہے
سپریم کورٹ کے آرڈر پر پولیس کی بھاری نفری راشد منہاس روڈ پر موجود ہے کمشنر کراچی سمیت انکی پوری ٹیم انکے ہمراہ ہے،الا دین پارک سے متصل مارکیٹ کو مسمار کرنے کا کام شروع کردیا گیا۔الادین پارک کی انتظامیہ کی جانب سے سپریم کورٹ کے آرڈر مانگے گئے ہیں، عوام و ملازمین کی جانب سے شدید احتجاج کیا جا رہا ہے،احتجاج کرنے والوں میں الادین پارک کی انتظامیہ سمیت کلب ممبرز اپنے اہل خانہ کے ہمراہ موجود ہیں ایک کثیر تعداد میں الادین سے متصل شاپنگ پلازہ میں ملازمین و تاجر شامل ہیں جو احتجاج کر رہے ہیں
سپریم کورٹ نے الہ دین پارک سے متصل پویلین اینڈ کلب کو غیر قانونی قرار دے دیا تھا .سپریم کورٹ کراچی رجسٹری نے پویلین اینڈ کلب اور الٰہ دین پارک شاپنگ سینٹر کو غیر قانونی قرار دے کر 2 روز کے اندر اندر مسمار کرنے کا حکم جاری کردیا ہے
الہٰ دین پارک میں تجاوزات کے خلاف آپریشن مظاہرین نے الہٰ دین پارک کا گیٹ بند کردیا،مظاہرین کا کہنا ہے کہ ہماری دکانیں لیز ہیں بلدیہ عظمیٰ کراچی نے لیز دیں تھیں،سپریم کورٹ نے ہماری دکانیں توڑنے کا نہیں کہا،
کلبھوشن یادیو کیس،اٹارنی جنرل کی استدعا عدالت نے مان لی
اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کیس کی سماعت 5 اکتوبر تک ملتوی کر دی گئی
اٹارنی جنرل پاکستان خالد جاوید کی جانب سے سماعت ملتوی کرنے کی درخواست دائر کی گئی اسلام آباد ہائی کورٹ نے اٹارنی جنرل کی استدعا منظور کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی
گزشتہ سماعت پر بھارتی ہائی کمیشن کے وکیل شاہ نواز کو پیش ہونے کے لیے نوٹس جاری کیا گیا تھا
کلبھوشن کیس میں بھارت کی جانب سے وکیل پیش نہیں ہو رہا، بھارت کو اسلام آباد ہائیکورٹ مسلسل موقع دے رہی ہے ، آج اٹارنی جنرل کی استدعا پر عدالت نے سماعت ملتوی کی
وزارت قانون و انصاف نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا،حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے صدارتی آرڈیننس کے تحت عدالت میں درخواست دائر کی گئی، اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ قومی مفاد میں عدالت بھارتی ایجنٹ کلبھوشن یادیو کی جانب سے قانونی نمائندہ مقرر کرے،دائر درخواست میں مزید کہا گیا کہ کلبھوشن یادیونےسزاکیخلاف اپیل سےانکارکیا، کلبھوشن بھارتی معاونت کے بغیر پاکستان میں وکیل مقررنہیں کرسکتا،بھارت بھی آرڈیننس کے تحت سہولت حاصل کرنے سے گریزاں ہے،
گزشتہ برس مئی میں بھارت نے اپنے جاسوس کلبھوشن یادیو کی پھانسی رکوانے کے لیے عالمی عدالت انصاف میں درخواست دائر کی تھی۔ 15 مئی کو بھارتی درخواست پر سماعت کا آغاز ہوا،نیدرلینڈز کے شہر دی ہیگ میں قائم عالمی عدالت اںصاف نے بھارت کی درخواست پر اٹھارہ سے اکیس فروری تک اس مقدمے کی سماعت کی تھی
بجٹ اور عوام ، سات بڑی خوشخبریاں ، کیا کھویا کیا پایا ، سنئیے مبشر لقمان کی زبانی
باغی ٹی وی : ۔ سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ بجٹ غلط دعووں پر اور غلط اعدادوشمار پر مبنی ہے۔ البتہ اس میں عوام کے لیے کچھ ریلیف ہے۔ خامیوں کی تو ایک لمبی فہرست ہے اسکی مکمل تفصیل بھی بتاوں مگر کچھ اچھی چیزیں بھی ہیں وہ بتانا بھی ضروری ہے ۔
۔ سب سے پہلے آبی تحفظ کو بجٹ میں اہمیت دیتے ہوئے حکومت نے 91 ارب روپے مختص کیے ہیں۔ جو گزشتہ سال کی نسبت 20
ارب زیادہ ہیں۔ اس سلسلے میں تین بڑے ڈیم داسو، دیامیر بھاشا اور مہمند ڈیم کی تعمیر کو ترجیح دی گئی ہے۔ یہ ایسے پروجیکٹس ہیں جو جب مکمل ہوگے تو یقیقناً اس کے ثمرات ملیں گے۔ متوقع امپورٹس
55ارب ڈالرہیں جو پچھلی سال سے6 سے7ارب ڈالرزیادہ ہیں۔ بینکوں پر کیش ود ہولڈنگ ختم کرنا بھی صحیح قدم ہے۔
مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ موجودہ بجٹ میں چار سے چھ ملین گھرانوں کو نچلے طبقے سے اٹھایا جائے گا۔ اس سلسلے میں ہر شہری گھرانے کو پانچ لاکھ تک بغیر سود کے قرض دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اسی طرح ہر کاشت کار گھرانے کو ہر فصل پر ڈیڑھ لاکھ روپے کا بغیر سود قرض فراہم کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ ٹریکٹر اور مشینری کے لیے بھی دو لاکھ کا بلا سود قرض دیا جائے گا۔ حکومت کی جانب سے ان سب گھرانوں کو اپنا گھر بنانے کیلئے بیس لاکھ روپے تک کے سستے قرضے فراہم کیے جائیں گے۔
ہاؤسنگ شعبے کیلئے حکومت کم آمدنی والے گھروں کو اپنا گھر خریدنے یا بنانے کیلئے3 لاکھ سبسڈی ادا کرنا جاری رکھے گی۔ اس مد میں حکومت نے 33 ارب روپے سبسڈی کی مد میں رکھے ہیں۔
مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ اسی طرح سبسڈیز کا تخمینہ430 ارب روپے سے بڑھا کر 682
ارب روپے کر دیا گیا ہے۔ یہ بھی اچھی چیز ہے کہ کل سے کافی تنقید کے بعد حکومت نے فون کالز، ایس ایم ایس اور انٹرنیٹ پر ٹیکس نہ لگانے کا اعلان کر دیا ہے ۔ کم از کم اجرت بیس ہزار تک بڑھانے کا اقدام خوش آئند ہے حالانکہ مہنگائی کے حساب سے اس کو تقریباً ڈبل ہونا چاہیے تھا ۔ تاہم اس بیس ہزار اجرت پرعمل درآمد کس حد تک ہوتا ہے اسے دیکھنا پڑے گا۔
مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ ابھی بھی بہت سارے غیر رسمی شعبے ہیں جو ٹیکس نیٹ میں نہیں ہیں اور شاید حکومت انہیں ٹیکس نیٹ میں لا کر اپنا ٹیکس زیادہ کرنا چاہتی ہے مگر ایسے اقدامات اس بجٹ میں دیکھائی نہیں دیے جس کے ذریعے زیادہ ٹیکس اکٹھا کیا جا سکے۔
۔ مگر دوسری جانب دیکھا جائے تو جس قدر ریلیف دینے کی بات کی گئی ہے اس سے زیادہ عوام کی جیب سے نکالنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔
۔ پیٹرولیم منصوعات کی قیمتیں ہر پندرہ دن بعد ریویو ہوا کریں گی اور اس میں بڑی تیزی سے اضافہ ہوگا جس کا اثر براہ راست عوام پر پڑے گا۔
۔ سب سے پریشان کن بات یہ ہے کہ پیٹرولیم لیوی ہے جسے ہم بھتہ کہتے ہیں کیونکہ اس کا کوئی جواز موجود نہیں ہے۔ سپریم کورٹ نے اسے غلط قرار دیا تھا تو اس کا نام تبدیل کردیا گیا ہے ۔
مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ بنیادی طور پر یہ ٹیکس چوری کے حوالے سے لگایا جاتا ہے اور صوبوں کو اس میں حصہ نہیں ملتا۔ 2018
میں یہ 150ارب روپے تھا جبکہ اس بجٹ میں آئندہ سال کے لیے 610
ارب روپے کا پیٹرولیم لیوی کا ہدف رکھا گیا ہے جو عوام کے ساتھ کھلم کھلا زیادتی ہے اور جس سے واضح ہے کہ پیٹرول کے نرخ بڑھائے جائیں گے اور اس کے بعد اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔
۔ یہ بجٹ بنیادی طور پر عمران خان صاحب کے دس نکاتی ایجنڈے کے بھی یکسر متضاد ہے۔ انھوں نے دعوی کیا تھا کہ سو دنوں میں عدل و انصاف پر مبنی ٹیکسوں کی پالیسی نافذ کردیں گے۔ پیٹرولیم لیویز صفر اور جی ایس ٹی 17سے 7فیصد پر لے آئیں گے۔ آج کے بجٹ میں ان نکات کو سامنے رکھتے ہوئے حکومتی پالیسی کو دیکھا جائے تو صورتحال واضح ہوجاتی ہے۔
مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ اس بجٹ میں 383 ارب روپے کے اضافی ٹیکسز عائد کیے گئے ہیں جن میں سے 70
فیصد ایسے ٹیکسز شامل ہیں جن کے نتیجے میں مہنگائی کے بڑھنے کے خدشات بھی ہیں۔ حالانکہ وزیر خزانہ شوکت ترین نے فنانس بل پیش کرنے سے ایک روز قبل ہی کہہ دیا تھا کہ ٹیکس لگیں گے نہ بجلی مہنگی ہو گی ۔ قوم کو بتانے کے لئے اتنا ہی کافی ہے۔ کہ آئی ایم ایف کی بات نہیں مانی۔
پر آپ دیکھیں ادارہ شماریات کے مطابق ہمارے ملک میں
”گدھوں“
کی تعداد میں ایک لاکھ کا اضافہ ہو گیا ہے۔ اس کے باوجود
”گدھے“ اور بھی ہیں۔ لیکن ابھی بہت لوگ بچ گئے اور وہ اب مزید گدھا بننے کو تیار نہیں ہیں ۔
۔ اس لیے جو شروع میں کہا تھا کہ یہ سب اعدادوشمار کا گورکھ دھندہ ہے ۔ شوکت ترین صاحب بھی یہی کام کررہے ہیں ۔
مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ اس وقت تقریبا تمام اشیائے پر نئے ٹیکسز عائد کیے گئے ہیں یعنی چینی پر اب ریٹیل سطح پر نیا ٹیکس عائد کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں چینی کی قیمت میں فی کلو7 روپے اضافہ ہوگا جبکہ صنعت کاروں اور اسٹاک مارکیٹ سے وابستہ افراد پر کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا ہے۔
۔ ساتھ ہی اب جب سرکاری ملازمین کے تنخواہوں میں اضافہ کیا گیا ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ ممبر اسمبلی اور سینیٹرز اپنے لیے کچھ نہ کرتے تو بڑی کفایت شعاری سے اس حکومت نے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے بجٹ میں
100 کروڑ سے زائد اضافہ کردیا گیا ہے ۔ اب پارلیمنٹ ہاؤس کے لئے مجموعی طور پر9
ارب سے زائد کا بجٹ رکھا گیا ہے۔ کاش جیسے ان کو اپنے مسائل کا ادراک ہے ایسے ہی عوام کے مسائل کا ادراک ہوتا تو چیزیں مختلف ہوتیں ۔
مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ ہرحکومت یہی کہتی ہے کہ ہمیں تباہ شدہ معیشت ملی ۔ پھر آئی ایم ایف سے قرض لیتی ہے اور گروتھ ظاہر کرنا شروع کرتی ہے۔ مگر جب اگلی حکومت آتی ہے تو وہ پھر یہی راگ الاپتی ہے۔ یہ ساتویں حکومت ہے جو ایسا کررہی ہے۔
۔ پاکستان کا المیہ ہے کہ حکمرانوں کے دعوؤں کے برعکس مہنگائی میں اضافہ اور افراط زر بھی بڑھا ہے ۔ ماضی کی حکومتوں میں بھی تر قی کے اعداد وشمار اور جی ڈی پی کی گروتھ بڑھا چڑھا کر پیش کی جاتی تھی ۔
۔ ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری value added اور high tech انڈسٹری میں نہ ہونے کے برابر ہے۔ لے دے کر real state اور construction انڈسٹری پر زور ہے جس کی مدد سے چالیس انڈسٹریز میں انقلاب کا گمان ہے۔
۔ دنیا بہت تیزی سے بدل گئی ہے اور بدل رہی ہے۔ ہم اپنی معیشت کو اگر دنیا کے value added
اور high techتقاضوں سے ہم آہنگ نہیں کریں گے۔ خود پسندی کے خول سے نہیں نکلیں گے تو ہمیں ہر سال آئی ایم ایف کی ضرورت پڑتی رہے گی اور ہم ہر بجٹ پر یہی سنتے رہیں گے کہ غریب اور تنخواہ دار طبقے پر مزید بوجھ نہیں ڈالا جائے گا اور یہ کہ متبادل پلان دے دیا ہے۔
مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ میرے حساب سے مسلم لیگ (ن) کے دور میں پیش ہونے والے بجٹ اور اس میں کوئی فرق نہیں ہے ۔ یہ بجٹ بھی سیٹھوں کے لیے ہے اور غر یب آدمی مسلسل پٹے گا ۔اس بجٹ میں بھی وہی مجبوریاں اور وعدے شامل ہیں جو سالہا سال سے پیش ہونے والے budgets
کا حصہ رہے ہیں۔
۔ عجیب قحط کا دور ہے، قحط محض یہ نہیں ہوتا کہ اناج نہ ہو،فصل نہ ہو ۔ دراصل قحط وہ ہے کہ اللہ کی تمام نعمتوں کی فراوانی ہو مگر انسانوں کی پہنچ میں نہ ہوں۔ آج ہرکھانے، پینے ، اوڑھنے والی چیزوں کے انبار لگے ہیں مگر لوگوں کی پہنچ سے دور ہی نہیں ناممکن ہیں۔ بجٹ دنیا بھر کے ملکوں میں سال میں ایک بار آتا ہے۔ ہمارے ہاں سالانہ بجٹ کے بعد ماہانہ اور پھر روزانہ بجٹ آتا ہے۔ جتنے معاشی تجزیہ کار ہیں سب کے سب حقیقت کے برعکس تجزیے کرتے ہیں۔ کیونکہ وہ تندرست ہی کیا جو اپنے پاؤں پر کھڑا نہ ہو سکے۔ وہ معاشی تیزی ہی کیا جس میں زندگی تو زندگی موت بھی مہنگی ہو جائے۔
مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ دراصل پاکستان کے عوام ، وسائل اور اکثریت کو انتہائی اقلیت نے یرغمال بنا رکھا ہے۔ بس آزادی ہے تو قانون شکنوں اور بدعنوانوں کو ورنہ ہر طرف قحط کا راج ہے۔ قانون کی حکمرانی کا، اخلاقیات کا قحط ، انسانی اقدار کا قحط ، مثبت سوچ کا قحط حتیٰ کہ انسانیت کا قحط اور آزادی کا قحط ہے۔ جب پولیس کسی شخص سے پرسنل ہو، حکمران پرسنل ہوں جہاں انصاف کرتے ہوئے عدالت اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھے وہاں معاشرت کی حالت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔
پاکستان کی شاندار چال امریکا کومنہ توڑ جواب ، سکندر اعظم کی نصیحت اور سپر پاورز کا قبرستان
باغی ٹی وی سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ آج کی یہ ویڈیو انتہائی دلچسپ ہے اس ویڈیو کو دیکھ کر آپ کو امریکہ اور بھارت کے افغانستان میں کھیل کی سمجھ آ جائے گی۔ اور آج کی اس ویڈیو میں میں آپ کو یہ بھی بتاوں گا کہ بے شک پاکستان ماضی میں انکار کرنے کے باوجود خفیہ طور پر امریکہ کو اڈے دے چکا ہے لیکن اس دفعہ امریکہ کو منہ توڑ جواب دیا جا چکا ہے کیونکہ اس کی چار اہم وجوہات ہیں۔ وہ کیا ہیں میں آ پ کو بتاوں گا لیکن اگر آپ نے ابھی تک اس چینل کو سبسکرائب نہیں کیا ہے تو کر لیں اور بیل آئی کون کو پریس کر دیں۔
سکندر اعظم نے ایک دفعہ کہا تھا کہ خدا ٓپ کو کوبرا سانپ کے زہر، چیتے کے دانت اور افغان کے انتقام سے دور رکھے۔
اور تاریخ گواہ ہے کہ افغانستان ہمشہ سے ہی سپر پاورز کا قبرستان بنتا آ رہا ہے، پہلے برطانیہ، پھر روس اور اب امریکہ۔۔
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ امریکہ بہادر اپنی ناکامی کی ذمہ داری پاکستان پر ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن امریکہ کو کوئی سمجھائے گا کہ اسے آنے سے پہلے بتا دیا گیا تھا کہ وہ اپنی مرضی سے جنگ شروع تو کر سکتا ہے لیکن اس جنگ کو بند کرنا اس کے بس میں نہ ہو گا۔
اب امریکہ بہادر اپنی اس تاریخی شکست اور رسوائی کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ کیا امریکہ نے تاریخ سے کچھ نہیں سیکھا۔ تو گلہ پھاڑ پھاڑ کر اسے کہہ رہی تھی کہ افغانستان میں شکست اس کا مقدر بن جائے گی۔
روس افغانستان سے اس لیئے نہیں بھاگا تھا کہ اس کے پاس بندوق، گولی، ٹینک ، فوجی سازوسامان یا جنگی جہازوں کی کمی تھی بلکہ روس اس لیئے بھاگا تھا کہ اس کی کمر ٹوت چکی تھی۔ اگر جدید اسلحہ کے زور پر افٖغانستان کو فتح کرنا آسان ہوتا تو روسی فوج ابھی تک افغانستان میں ہوتی۔
افغانستان کی مشہور کہاوت ہے کہ
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ہو سکتا ہے کہ تمھارے پاس گھڑیان ہوں لیکن ہمارے پاس وقت ہے۔
حال ہی میں طالبان کو جب امریکہ کو رعائت دینے کے حوالے سے قائل کرنے کی کوشش کی گئی تو انہوں نے کہا کہ ہم نے بیس سال روزہ رکھ لیا ہے اب جب افطاری کا وقت قریب آیا ہے تو ہمیں بے صبری دیکھانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ یعنی جہاں بیس سال لڑائی کی وہاں کچھ عرصہ اور لڑائی کرنے کے لیے تیار ہیں۔
امریکہ بہادر خود ایک ملک میں لڑنے کے لیئے آیا اس پر قبضہ کیا ، پاکستان کو دگمکی دے کر اپنے ساتھ ملایا، پاکستان پر ڈبل گیم کا لازام لگایا۔۔ کیا
وہاں کے باشندوں کو اپنے تحفظ کا بھی حق نہیں اور اگر وہ اپنا تحفظ کر رہے ہیں تو امریکہ پاکستان پر الزام لگا رہا ہے کہ اس نے طالبان کو ہر طرح کی مدد کر کے امریکہ کو یہ دن دیکھنے پر مجبور کیا۔
اور امریکہ بہادر نے پاکستان کو
Non natto ally کاStatus دیا اور بیچ میدان میں پاکستان کی لاکھوں قربانیوں کے باوجود اسے میدان میں چھوڑ کر بھاگ گیا۔
کوئی امریکہ بہادر سے پوچھنے والا ہے کہ تم نے خود افغانستان میں گند کیا اور اب ہمیں کس بات کا مورد الزام ٹھہراتے ہو۔؟
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اگر تم نے خود تاریخ سے سبق سیکھنے سے انکار کیا اور افغانستان کی طرف مارچ کیا ، اور بھول گئے کے سکند اعظم نے افغانستان کے بارے میں کیا کہا تھا تو ہم پر کس منہ سے الزام لگا سکتے ہو۔
قبضہ کی جنگ کے اپنے نقصانات ہوتے ہیں جو تمھیں فیس کرنے پڑیں گے۔ تمھاری معیشت ڈوب رہی ہے اور اگر تم سمجھتے ہو کہ قرضے کے پیسے سے جنگیں لڑ کر ، ممالک پر قبضے جما کر، ان کی دولت پر گندی نظریں جما کر ۔۔ تم کوئی بڑی کامیابی حاصل کر لو گے تو یہ تمھاری خام خیالی تھی۔ ہم نے تمھیں یہاں آکر قبضہ کرنے کی دعوت نہیں دی تھی۔
چین اور جاپان کے trillions of dollarsکے ادھار کون واپس کرے گا۔ کب تک ڈالر چھاپ چھاپ کر دنیا پر معاشی تسلط قائم رکھو گے۔
مشہور کہاوت ہے
دشمن بدل سکتے ہیں لیکن ہمسائے نہیں بدل سکتے۔
ہم کیسے اپنے ہمسائے کے خ لاف جا سکتے ہیں۔ تم تو اتنا نہیں کر سکتے کہ بھارت کو ہی روک لو کہ وہ افغانستان میں پاکستان کے خلاف سازشیں روکے۔۔
لیکن نہ۔۔۔
وہ تو چین کے خلاف امریکہ کا شرارتی بچہ ہے اسے تو فل اجازت ہے جو مرضی کرتا پھرے۔ اور ہم سے اڈے چایئے ہیں۔ تاکہ ہم اپنے ہی گھر کو جہنم بنا لین اور دہشتگردی کی آگ پاکستان کے چپے چپے میں پھیل جائے۔
امریکہ کی معیشت ڈوب رہی ہے، وہاں
Domestic productsبننا بند ہو گئی ہیں۔ کب تک ڈیفنس انڈسٹری امریکہ کے شہریوں کو نوکریاں فراہم کرتا رہے گا۔ اس وقت ہر چھٹا امریکی بے روز گار ہے۔اس بات میں کوئی شک نہیں کہ امریکہ کے پاسaircraftاورwarshipsکی بہتات رہے گی، لیکن نوکریوں کے مواقع، سوشل سیکیورٹی، انشورنس اور صحت کی سہولیات کا کرونا نے پول کھول دیا ہے۔
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ جب روس ۔۔ افغانستان میں اپنے قبضے کے آخری دنوں میں تھا تو اس کی معیشت کو بیڑا غرق ہو چکا تھا اور وہی اس کے ٹوٹنے کا سبب بنی۔
جبکہ امریکہ کا مقدر بھی افغانستان پر بیس سال کے قبضے کے بعد کچھ اسی طرح کا نظر آ رہا ہے۔
روس اپنی حماقتوں کا ذمہ دار کسی کو نہیں ٹھہرا سکتا، اس طرح امریکہ بھی اپنی حماقتوں کا ذمہ دار پاکستان کو نہیں ٹھہرا سکتا۔
کیا کوئی تصور بھی کر سکتا تھا کہ دنیا کی جدید ترین فوج۔۔ بندوقوں والے طالبان سے ہار جائے گی۔
لیکن یہ ہو چکا ہے۔ اور اس غصے میں امریکہ ہر ایک کو اس کا ذمہ دار ٹھہرا رہا ہے اور اس وقت اس غصہ کا مرکز پاکستان ہے۔
وہ حقانی نیت ورک جسے امریکہ نے روس کے خلاف جنگ میں پالا پوسا۔ جب وہ امریکہ کے ہائی ویلو تارگٹس پر حملہ کرتا ہے تو امریکہ پاکستان کی ایجنسی پر چڑھ دوڑتا ہے، یہاں تک کہ پیپلز پارٹی کے دور میں ایک امریکی سینٹر Lindsay Grahamنے پاکستان پر حملے کی دھمکی دے دی۔
وہ امریکہ جو افغانستان میں اپنی جنگ جاری رکھنے کے لیئے پاکستان کو Payکرتا رہا۔
جس کی افغانستان میں تمام سپلائیاں پاکستان کے ذریعے جاتی ہیں۔ اگر پاکستان بگڑ جائے تو امریکہ کے لیئے افغانستان سے نکلنا مشکل ہو جاے۔ یہ الگ بات ہے کہ پاکستان کو اس کی الگ سے قیمت چکانا پڑے گی۔
اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ آج بھی پاکستان میں امریکہ کے لیئے بھارت سے زیادہ نفرت پائی جاتی ہے۔
کون نہیں جانتا کہ صدر بش اور بارک اوبامہ نے پورا زور لگایا کہ بھارت کی فوج کو افغانستان میں
Involveکیا جائے۔ لیکن بھارت کو پتا تھا کہ پاکستان اسے افغانستان میں بھون دے گا اس لیئے وہ بلکل اس طرف نہیں آیا۔
پھر امریکہ نے بھارت کو گرین سگنل دیا کہ وہ افغانستان میں طالبان کے خلاف اپنی انٹیلیجنس اتارے اور وہاں اینٹی طالبان۔۔ تاجک، ازبک اور ہزارہ Minority کو ہر لحاظ سے سپورٹ کرے۔ امریکہ نے بھارت کے
Nuclear arsnal buildupمیں بھی بہت مدد کی جو صرف اور صرف چین اور پاکستان کے خلاف ہے۔
ظاہری سی بات ہے پاکستان اس طرح چپ کر کے بیٹھ نہیں سکتا تھا، افغانستان سے اس کی سالمیت کا معاملہ جڑا ہوا ہے۔
پاکستان اور امریکہ کے سٹریٹیجک مفادات بلکل مختلف ہیں۔ اور اکثر یہ ایک دوسرے کے متضاد ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود امریکہ نے پاکستان کے سر پر بندوق رکھ کر اسے اپنےStrategic ally طالبان کے خلاف جنگ لڑنے پر مجبور کیا۔ پاکستان امریکہ کے لیئے کیوں اپنے مفادات کی قربانی دے۔ جس کیا خارجہ پالیسی عام طور پر اس کے اپنے
special interest groupsچلاتے ہیں۔اب ہمیں کہا جا رہا ہے کہ ہم انہیں طالبان کے خلاف پاکستان میں اڈے دیں۔
بھائی کیوں دیں۔
پاکستان نے انتہائی عزت کے ساتھ اس کا منہ توڑ جواب دئ دیا ہے۔پاکستان کسی بھی صورت یہ حرکت نہیں کر سکتا۔
یہ الگ بات ہے کہ ماضی میں پاکستان نے یہ کام کیا لیکن اس وقت ھالات بلکل مختلف ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ تو یہ ہے کہ عمران خان نے اقتدار میں آنے سے پہلے اور بعد میں طالبان سے لڑائی کے طریقہ کات پر اتنی تنقید کی کہ اب وہ خود اپنی باتوں کے خلاف جا کر اپنی سیاسی قبر کھود لیں گے۔
دوسرا دنیا بھر کے ممالک اس وقت طالبان سے تعلقات بنا رہے ہیں پاکستان کسی صورت بھی اپنے اتحادی کو امریکہ کے خلاف اپنا دشمن نہیں بنا سکتا۔ جبکہ وہ پاکستانی طالبان کی صورت میں پاکستان کے لیے اچھی بھلی مشکلات کھڑی کر سکتا ہے۔
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ تیسرا امریکہ پاکستان کے دو اور ہمسایہ ملک چین اور ایران کا بھی جانی دشمن ہے اور پاکستان یہ حرکت کر کے کسی صورت بھی اپنے تمام ہمسایوں کو اپنا دشمن نہیں بنا سکتا۔
اس بات کا کسے نہیں پتا کہ امریکہ چین کے سی پیک کا جانی دشمن ہے۔ امریکہ کو افغانستان میں اڈے دے کر جو گوادر سے چار سو کلو میٹر کے فاصلے پر ہے سی پیک کو خطرات لاحق نہیں کر سکتا ہے نہیں ہو سکتا کہ پاکستان امریکہ کو اپنے گھر میں بیٹھا کر اسے اپنی من مرضی کرنے سے روک لے۔ جبکہ ایران کا بارڈر بھی اس کے ساتھ ہو۔
چین کے پاس اس وقت اس لحاط سے بہتر منصوبے ہیں۔ ایک طرف وہ سینٹرل ایشیا میں اہنے اتحادی ممالک اور روس کے ساتھ مل کر افغانستان میں اپنے مفادات کا تحفظ کرے گا اور دوسری طرف وہ پاکستان، طالبان اور ایران کے ساتھ مل کر افگانستان مین برابری کے لیول پر کام کرے گا۔
وہ امریکہ کی طرح چوہدری بن کر دھونس دھاندلی نہیں کرے گا۔ جو یقینا پاکستان کے بہترین مفاد میں ہو گا۔ تو ایس صورٹھال میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ امریکہ کے کسی بھی پریشر میں آکر غلط فیصلہ کرنا پاکستان کے لیئے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔
دہشتگردوں کا مارگیٹ کوئٹہ روڈ پر فرنٹیئر کور کی ٹیم پر حملہ، 4 بہادر جوان شہید
باغی ٹی وی : دہشتگردوں کے حملے میں مارگیٹ مائنز کی سیکورٹی پر مامور فرنٹیئر کور کے 4 جوان شہادت کے رتبے پر فائز ہو گئے ہیں۔
ایف سی بلوچستان کی جانب سے دہشت گردوں کی تلاش کیلئے بڑے پیمانے پر ایریا سینیٹائزیشن آپریشن جاری ہے۔
اس موقع پر آئی ایس پی آر کی جانب سے عزم کا اظہار کیا گیا کہ شر پسند عناصر کی طرف سے اس طرح کی بزدلانہ کاروائیاں امن اور خوشحالی کو سبوتاژ نہیں کرسکتی ہیں۔سیکیورٹی فورسز خون اور جان کی بازی لگا کر ان کے عزائم کو غیر موثر بنائیںگی . شہید ہونے والے جوانوں کے نام یہ ہیں
صوبیدار سردار آل خان۔ ساکن گاؤں وانڈا لنگر کیل ، ضلع لکی مروت۔
سپاہی مصدف حسین۔ چک 272 ای بی ، ضلع وہاڑی۔
سپاہی محمد انور۔ رہائشی وانڈا تالگی ، ضلع ڈی آئی خان۔
سپاہی اویس خان – گاؤں بنڈل ، ضلع نیلم ۔
بجٹ میں بنی گالہ کے خوشامدیوں کو نوازا گیا، شہباز شریف کی تقریر،حکومتی اراکین کا شورشرابہ
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہو گیا
اپوزیشن لیڈرشہبازشریف کی تقریرکے دوران حکومتی ارکان نے شورشرابہ کیا ، شہباز شریف کا کہنا تھا کہ بجٹ میں غریبوں کوریلیف نہیں دیاگیا،حکومت کی طرف سے پیش کیے گئےتمام اعدادو شمار جعلی ہیں،اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصرنے حکومتی اراکین کوخاموش رہنے کی ہدایت کی ،شور شرابے کے باعث شہبازشریف تقریر چھوڑکر اپنی نشست بیٹھ گئے ،شہباز شریف کا کہنا تھا کہ بجٹ میں بنی گالہ کے خوشامدیوں اورحواریوں کونوازا گیا،
اسپیکر قومی اسمبلی ایوان میں شورشرابے پربرہم ہوئے اور حکومتی اراکین کوایک بارپھرخاموش رہنے کی ہدایت کی،ایوان میں اراکین کے شورشرابے کے باعث اجلاس کو20 منٹ کیلئے ملتوی کردیا گیا
قومی اسمبلی اجلاس سے قبل سپیکر قومی اسمبلی کی وزیراعظم عمران خان سے ملاقات ہوئی ہے، وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ پارلیمان کو اسکے اصولوں کے مطابق چلایا جائے
قبل ازیں 14 جون 2021 کوقومی اسمبلی کی ہاؤس بزنس ایڈوائزی کمیٹی کا اجلاس اسپیکر اسد قیصر کی صدارت میں منعقد ہوا۔اجلاس میں قومی اسمبلی میں پیش کیے جانے والے مالی سال 22-2021 کے بجٹ اجلاس کے ایجنڈے اور اوقات کار طے کرنے کے لیے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
کمیٹی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ قومی اسمبلی کے موجودہ اجلاس کو 30جون تک جاری رکھا جائے گا۔کمیٹی میں فیصلہ کیا گیا کہ آج مورخہ 14جون سے وفاقی بجٹ 22-2021پر بحث کا آغاز کیا جائے گا اور 24جون کو وزیر خزانہ وفاقی بجٹ پر ہونے والی بحث کو سمیٹیں گے۔ کمیٹی اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ بجٹ پر عام بحث 40 گھنٹے جاری رکھی جائے گی، حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے اراکین کو ان کی پارٹی کی نشستوں کے تناسب سے وقت دیا جائے گا۔ یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ 25 جون سے سال 22-2021 کے مطالبات زر کٹوٹی کی تحریکوں پر بحث کی جائے گی۔ 29 جون کو فنانس بل پر غور کرنے کے بعد اس بل کی منظوری دی جائے گی۔ 30 جون کو سال 21-2020کے ضمنی مطالبات زر پر بحث ہو گی اور اُن کی منظور ی دی جائے گی۔کمیٹی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ بجٹ اجلاس کے دوران وقفہ سوالات اور توجہ دلاؤ نوٹس نہیں ہونگے۔
اجلاس میں وفاقی وزراء غلام سرور خان، ڈاکٹر شیرین مہر النساء مزاری، مشیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر ظہیر الدین بابر اعوان، ممبران قومی اسمبلی رانا تنویر حسین، چوہدری محمد برجیس طاہر، مرتضی جاوید عباسی، سید نوید قمر، سید غلام مصطفیٰ شاہ، شازیہ مری، شاہدہ اختر علی، اقبال محمد علی خان، خالد حسین مگسی، روبینہ عرفان، محمد اسلم بھوتانی اور محسن داوڑ نے شرکت کی۔