مذہب اور مدرسوں سے جڑے لوگ فرشتے نہیں ہوتے، مفتی راغب نعیمی
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاہور کے مدرسہ میں مفتی کی جانب سے طالب علم کی زیادتی کے بعد دینی قوتیں خاموش ہیں
کسی بھی مذہبی جماعت، رہنما کی جانب سے باقاعدہ کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا، باغی ٹی وی نے مختلف مذہبی شخصیات سے بات کرنے کی کوشش ہے،
لاہور کی معروف مذہبی درسگاہ جامعہ نعیمیہ کے مہمتم مفتی راغب نعیمی سے مفتی عزیز الرحمان سیکنڈل پر بات کرنے کے لئے رابطہ کیا تو مفتی راغب نعیمی کا کہنا تھا کہ مفتی عزیز الرحمن کے واقعہ پر بھرپور مذمت کرتے ہیں. اس کو فرد واحد کا عمل کہا جائے. مفتی راغب نعیمی کا مزید کہنا تھا کہ مذہب اور مدرسوں سے جڑے لوگ فرشتے نہیں ہوتے ہیں. اس قسم کے واقعات کو مذہب سے نا جوڑا جائے. ہر وہ جگہ جو ہاسٹل ہے وہاں اس قسم کے واقعات ہوتے ہیں.
دوسری جانب قرآن و سنت موومنٹ کے رہنما علامہ ہشام الہیٰ ظہیر نے باغی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ریپسٹ کو جب تک سرعام پھانسی کے پھندے پر نہیں لٹکائیں گے ایسے واقعات میں کمی نہیں آئے گی، مفتی عزیز الرحمان ہو یا کوئی اور جو بھی جس پر جرم ثابت ہو جائے، آئیں ملکر اس کو مینار پاکستان پر پھانسی دیں، جب تک ایسا نہیں کریں گے ہم اپنی اولاد کو محفوظ نہیں بنا سکتے
واضح رہے کہ جامعہ منظور الاسلامیہ لاہور کے استاد مفتی عزیز الرحمن کی اپنے شاگرد صابر شاہ سے بدفعلی کی وڈیو منظر عام پر آئی ہے. گزشتہ 3 سال سے مفتی عزیز اس گھناؤنے جرم کا ارتکاب کررہا ہے. ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد انتظامیہ نے مفتی عزیز سے لاتعلقی کرتے ہوئے مدرسہ سے فارغ کردیا ہے. پولیس نے متاثرہ طالب علم کی مدعیت میں مقدمہ درج کرلیا ہے. تاحال مفتی عزیز کو گرفتار نہیں کیا جا سکا ہے.
پاکستان کے مدارس میں زیادتی کے واقعات میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے. ان واقعات سے مدارس کی ساکھ بری طرح سے متاثر ہوگئی ہے. ہر آنے والے دن بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں مسلسل اضافے کی وجہ سے معاشرے کا ہر فرد پریشان ہے ،
ایک رپورٹ کے مطابق سال 2020 میں پاکستان میں 89 بدفعلی کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں. ان میں 66 واقعات بچوں کے ساتھ بدفعلی کے ہیں. جن ان کی عمریں 11 سے 15 سال تک کی ہیں.
اسی طرح ایک ایک واقعہ رواں برس ماہ اپریل میں پیش آیا. ایک امام مسجد 3 سال سے اپنے شاگرد کو زیادتی کا نشانہ بنا رہا تھا اور اپنے ساتھی کی مدد سے اس کی ویڈیو بھی بناتا تھا. پولیس نے امام مسجد اور اس کے ساتھی کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا. بعد میں امام مسجد کے ساتھ مدعی پارٹی نے صلح کر لی اور تین سال تک بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنانے والے درندے کو ایک بار پھر آزاد کر دیا گیا
اسی طرح مانسہرہ میں مدرسے کے استاد نے 10 سالہ شاگرد سے 100 بار زیادتی کا واقعہ سامنے آیا. اسی طرح پاکپتن میں مدرسہ کے استاد نے 12 سال کے شاگرد سے زیادتی کی تھی. زیادہ تر ایسے واقعات بدنامی کے ڈر سے رپورٹ نہیں کرواتے ، زیادتی کیس میں عدالتیں ملزمان کو سزائیں بھی سنا چکی ہیں،2018 میں زینب کے ساتھ جنسی زیادتی کا واقعہ پیش آیا. ملزم کو سزائے موت کا فیصلہ سنایا گیا ہے. 2020 میں لاہور موٹروے پر زیادتی کا کیس سامنے آیا. ملزمان کو گرفتار کر کے سزا سنائی گئی. تا ہم ایسے واقعات کی روک تھام ابھی تک نہ ہو سکی
وزیراعظم عمران خان کی خیبر پختونخوا کے ضلع اپر کوہستان کے علاقے داسو آمد ہوئی ہے
وزیراعظم عمران خان نے داسو ہائیڈرو پراجیکٹ پر تعمیراتی کام کا جائزہ لیا، وزیراعظم نے ڈیم پر کام کرنے والے غیر ملکی انجینئرزاور مزدوروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ داسو اہم پراجیکٹ ہے ،اس سے بجلی فراہم ہوگی اس پراجیکٹ سے ہمیں سستی بجلی فراہم ہوگی تربیلا اور منگلا ڈیم کی وجہ سے ہمیں سستی بجلی فراہم ہوتی تھی،داسو پراجیکٹ سے عام آدمی کےساتھ صنعتوں کو بھی فائدہ ہو گا، ہمیں بہت پہلے داسوڈیم جیسامنصوبہ شروع کرنا چاہیے تھا،
4320 میگاواٹ پیداواری صلاحیت کا حامل داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ خیبرپختونخوا کے دورافتادہ علاقوں کی معاشی اور معاشرتی خوشحالی کا ضامن ہے۔ داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ دو مراحل میں مکمل ہوگا. ہر مرحلے کی پیداواری صلاحیت 2,160 میگاواٹ ہے۔ پہلے مرحلے کی تکمیل کیلئے 511 بلین روپے مختص کئے گئے ہیں۔
سب کچھ سفارتخانوں میں دیکھا گیا،حکومت نے اپوزیشن کرنی ہے تو حکومت کون چلائے گا ؟ بلاول
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت ہوا
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے بجٹ سیشن میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے سرحدوں کے تحفظ کرنےوالو ں کی تنخواہوں میں 175 فیصد اضافہ کیا،آپ نے سرکاری ملازمین سے احتجاج کے بعد معاہدہ کیا تھاآپ نے سرکاری ملازمین کو دھوکہ دیا،آپ نے لوگوں کو لاوارث چھوڑا وہ کبھی آپکو معاف نہیں کریں گے، اگر معاشی ترقی ہو رہی ہے تو بے روزگاری کیوں ہے؟ شہبازشریف کینسر کےمریض ہیں ،آپ کا ان کے ساتھ کیسا رویہ رہا،آپ نے بجٹ میں ان ڈائریکٹ ٹیکسز کا طوفان بپا کردیا ہے،آپ نے ایک کروڑ لوگوں کو روزگار دینا تھا، لوگوں کو بے روزگار کردیا،حکومت شرمندہ ہے کہ ڈیٹا سے غربت اور بے روزگاری کی تٖفصیل تک نہیں دی ،وزیرانسانی حقوق کی ویڈیوز ریکارڈ پر ہیں
اسپیکر اسدقیصر نے بلاول بھٹو کوگزشتہ دنوں کا تذکرہ نہ کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ گزشتہ دنوں جو ہوا مذمت ہوچکی ہے ،بجٹ پر تقریر کریں ،بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ مسلسل 4روزجو ایوان میں ہوا سب کچھ سفارتخانوں میں دیکھا گیا اوروہ ریکارڈ کررہے ہیں،اسپیکرصاحب ! آپ اس صوبے سے تعلق رکھتے ہیں جہاں عزت کا بہت خیال رکھا جاتا ہے اسپیکرصاحب! جو کچھ اسمبلی میں ہوا کیا آپ کے اہل وعیال نے نہیں پوچھا؟ وزیرا مواصلات کو سی پیک معاملے پرچینی حکا م کے ساتھ ملاقاتیں کرنی چاہییں اگرآپ چاہیں گے کہ میری تقریرکوایڈٹ کریں تویہ ممکن نہیں، میری تقریر جیسی بھی ہے ،آپ کوسننی پڑے گی،حکومت نے خود کو بے نقاب کر دیا ،حکومت نے اپوزیشن کرنی ہے تو حکومت کون چلائے گا ؟ آپ نے اپوزیشن کرنی ہے تو حکومت کون چلائے گا ؟ آپ کو ہرصوبے کوگیس فراہم کرناہوگا،گیس انفراسٹرکچر پر ٹیکسز توگادیئے لیکن فراہم بھی کریں ،اسٹیل مل پر ہرجماعت کااپنا موقف ہے،کیاان مشکل صورتحال میں لوگوں کو بےروزگار کرناضروری تھا؟اگر این ایف سی ایوارڈ نہیں ہو گا تو ہر صوبے کا نقصان ہو گا،سندھ کے پانی کے معاملے پر وزیراعلیٰ نہیں توڈونلڈٹرمپ احتجاج کریں گے گیس کہیں اور دینے سے پہلے آپ کو گھوٹکی کے ہر شہری کو گیس دینی پڑے گی ایف آئی اے کے کچھ وفاقی ملازمین کو بیروزگار کر دیا گیا
قبل ازیں اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے ایوان میں ہلڑ بازی پر کیا گیا اپنا حکمنامہ واپس لے لیا، سات ارکان پر لگائی گئی پابندی واپس لے لی اپوزیشن نے اسپیکر کے اقدام کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا
راولپنڈی :تربت میں فورسز پر حملے میں جوان شہید:دہشت گردوں کی تلاشی کے لیے آپریشن جاری ،اطلاعات کے مطابق بلوچستان کے ضلع تربت میں سیکورٹی فورسز پر دہشتگردوں کے حملے میں ایک جوان شہید ہوگیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں نے تربت میں سیکیورٹی فورسز کے دستے پر حملہ کیا اور اس بزدلانہ حملےمیں نائیک عقیل عباس شہید ہوگئے۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ دہشتگردوں نےچھوٹےہتھیاروں سےپاک فوج کےجوانوں پر حملہ کیا جس کے بعد ایف سی بلوچستان نےدہشتگروں کی تلاش میں آپریشن شروع کر دیا ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق بزدلانہ حملوں سےسیکیورٹی فورسز کا عزم متزلزل نہیں ہو گا اور بلوچستان میں قربانیوں سےحاصل امن خراب نہیں کرنےدیں گے۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسزدشمنوں کےناپاک عزائم ہرقیمت پرناکام بنائیں گے۔
پاکستان سے کیا امید ہے طالبان نے بتادیا، چین اور روس سے رابطے بھارت کا مستقبل کیا ، ترجمان طالبان سہیل شاہین کا خصوصی انٹرویو
باغی ٹی وی : افغان طالبان کے ترجمان نے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کو خصوصی انٹرویو دے دیا جس میں انہوں نے خطے کے اہم امور پربات کرتے ہوئے کئی انکشاف کیے ہیں .
مبشر لقمان کو افغان طالبان کے ترجمان سہیل شاہین کی جانب سے دیئے گئے انٹرویو میں ترجمان نے امریکہ کے نو منتخب صدر جو بائیڈن کو اہم پیغام دیا ہے ، جس میں افغان طالبان کے ترجمان نے اہم انکشافات کئے ہیں. اس وقت افغانستان میں بری تیزی سے ڈویلپمنٹ ہو رہی ہیں، اور طالبان نے افغانستان کے بیشتر حصہ کا کنٹرو سنبھال لیا.
اور امریکی فورسز کو کہیں جانے کی کوئی جگہ نہیں مل رہی. وہ مختلف ممالک کو کہہ رہے ہیں کہ ان کی مدد کی جائے۔
اس میں ترکی آگے آ گیا ہے کچھ عرب ممالک ہیں جو انہیں بیسسز فراہم کر رہے ہیں. تاکہ حملہ آ وروں پر حملہ کیا جا سکے۔
مبشر لقمان نے سوال کرتے ہوئے ہوچھا کہ : حضرت آپ مجھے یہ بتائیں گے کہ اس وقت کتنے فیصد افغانستان پر طالبان کا کنٹرول ہے۔ امریکہ کا یہ اراداہ ہے کہ وہ افغانستان کے ہمسایہ ممالک سے دہشت گردوں کو نشانہ بنائے۔ اس کے جواب میں سہیل شاہین نے کہا کہ
یہ ایک بہانہ ہے ہم دوحہ ایگریمنٹ پر قائم ہیں ہم کسی کو اجازت نہیں دیں گے کہ وہ افغانستان کی سر زمین کو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف استعمال کرے، چاہے وہ اکیلا ہو یا گروپ ہو۔یہ ہماری کمٹمنٹ ہے۔ ابھی تک انہوں نے کوئی ثبوت نہیں دیئے ہیں کہ یہاں کوئی ٹریننگ سینٹر یا فنڈ رائزنگ سینٹر ہو، کئی دفعہ ہم نے امریکہ کو کہا ہے کہ اگر کوئی ایسی جگہ ہے تو ہمیں ثبوت دے لیکن انہوں نے ہمیں ایسے کوئی ثبوت نہیں دیئے ہیں۔پھر بھی ایسا کرنا سوائے یہ کہ افغانستان کے پر امن ماحول کو خراب کر دے اور تعلقات کو خراب کر دے۔ اس کا اور کوئی دوسرا مطلب نہیں ہو گا جیسے ہی افغانستان کی آزادی کا مرحلہ آ ئے گا اور وہ آنے والا ہے۔ اور ہم نئے دور میں شامل ہوں گے۔افغانستان کے ہمسایہ ممالک سے اچھے تعلقات اور تعاون کا دور شروع ہو گایہ نہ امریکہ کے مفاد میں ہے اور نہ ہی طالبان کے۔
مبشر لقمان نے سوال پوچھا کہ : اچھا ہمیں پتا چلا ہے کتنا صحیح ہے کتنا غلط ہے میں تو ذرائع سے بتا رہا ہوں کہ امریکہ پاکستان پر پریشر ڈال رہا ہے کہ اسے پاکستان میں اڈے دیئے جائیں۔ آپ کا اس پر کیا رد عمل ہو گا۔
سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ ہم نے بیان دیا ہے اور کسی ملک کا نام نہیں لیا ہے۔ لیکن پاکستان نے اسے مسترد کر دیا ہے اور ہمیں یقین ہے کہ وہ ایسا نہیں کرے گا کیونکہ یہ پاکستان کے قومی مفاد میں نہیں ہےاور طالبان کے بھی مفاد میں نہیں ہے۔اور جو ہمارے مذہبی، معاشرتی اور تاریخی تعلقات ہیں یہ اس کے خلاف ہے اور اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا سوائے پاکستان اور طالبان کے تعلقات میں بد اعتمادی آئے۔ اس لیئے ہمیں امید ہے ایسا نہیں ہو گا۔
مبشر لقمان : ترکی نے کھل کر کہہ دیا ہے کہ وہ کابل ائیر پورٹ کی حفاظت کرے گا اور اس نے پاکستان کی بھی مدد مانگی ہے۔ یہ کیا موو ہے ؟ ایک وہ اسلامی ملک ہے اور نیٹو کاممبر بھی ہے اور کابل ائیر پورٹ پر آنا چاہتا ہے اسے آپ کیسے دیکھتے ہیں۔
اس کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ایک ایسا ٹاپک ہے جس پر ہم امریکہ سے اٹھارہ ماہ سے بات چیت کر رہے تھے۔ اور وہ
Conclude بھی ہو گیا۔ امریکہ نے یہ شرط رکھی جسے طالبان نے مسترد کر دیا اور امریکہ یہ بات مان بھی گیا۔ کہ اس کے ایڈوائزر، فوجی، کنٹریکٹر، اور ٹرینرز سب نکل جائیں گے افغانستان سے۔ اور جب یہ سارے نکل جائیں گے اس وقت قبضہ ختم ہو گا۔ تو یہ معاہدے کی خلاف ورزی ہے اور ایک اسلامی ملک کو یہاں قبضہ ختم کرنے میں مدد کرنی چاہیے نہ کےقبضہ جاری رکھنے کے لیئے۔
کیونکہ ہم چاہتے ہیں کہ جب ایک مشترکہ افغان اور اسلامی حکومت آئے جو موجودہ کابل حکومت کو Replace
کرے تو اس کے ترکی اور دیگر ہمسایہ اسلامی ممالک سے اچھے تعلقات ہوں۔اس وقت وہ کر سکتے ہیں کہ ہمارے ساتھ کئی فیلڈ میں مد کرے وہ بہتر ہو ا نہ کہ وہ قبضے کی لڑائی کو جاری رکھے جو اس کے مفاد میں نہیں ہو گا بلکہ دیگر ممالک کے حق میں ہو گا۔
مبشر لقمان : ان شاءاللہ جب آپ کی حکومت آئے گی اور ا س کو اقوام متحدہ اور دیگر برادری قبول کرے گی تو اس وقت حکومت چلانا ایک اہم مسئلہ ہوگا. آپ اس کے بعد حکومت کیسے چلائیں گے کیا آپ اس سلسلے میں چائنہ اور روس سے معاملات طے کرہے ہیں . ؟
سھیل شاہین : جی ہاں ہمارے چین اور روس دونوں ممالک سے روابط ہیں اور ہم نے امریکہ کے انخلا کے بعد کی صورت حال پر ان دونوں ممالک سے بات چیت کی ہے ، چین اور روس کی کمپنیاں بھی اس وقت رابطے میں ہیں وہ ملک میں تعمیرو ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں . ہم امریکہ کو بھی دعوت دیتے ہیں کہ وہ ملک میں تباہی و بربادی کی بجائے تعمیراتی کام کرے اور ٹینک کی بجائے بلڈوزر لے کر آئے تاکہ افغانستان کی تعمیر و ترقی میں اس کا بھی حصہ ہو.
مبشر لقمان : موجود حکومت اور اس سے پہلے حامد کرزئی کی حکومت میں افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہوئی اور را نے یہاں سے پاکستان کے خلاف کاروائیاںکی ہیں اور اب تک کر رہی ہے کیا آپ ہمیں حکومت کو نہیں پاکستان کی عوام کو یقین دھانی کرائیں گے کہ یہ سرزمین اب پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہوگی .؟
سھیل شاہین: جی ہاں ہم نے یہ کمٹمنٹ کی ہے کہ ہماری سرزمین کسی پراکسی کے لیے اور حریف کے خلاف استعمال نہ ہو. اس میں چاہے کوئی انفرادی حثیت سے ہو یا کوئی گروہ یا ملک سب کو کسی کے خلاف اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دینی ہے ، ہم نے دوحہ ایگریمنٹ میں بھی اس پر اتفاق کیا ہے .اور یہ بات کلیئر ہے .اور یہ ہماری پالیسی ہے سب کو معلوم ہونا چاہیے .
مبشر لقمان :یہ میرا سوال کم اور یاداشت زیادہ ہے کہ جب افغانستان پر ملا عمر امیر المومنین کی حکومت تھی تب اتحادیوں کا حملہ ہوچکا تھا اس وقت ہم قندھار آئے تھے وہاں ہم نے دیکھا جہاں طالبان موجود تھے وہاں امن تھا ، کرپشن نہیں تھی ، چوری نام کی کوئی شے نہیں تھی چیز جہاں رکھ دی جاتی تھی وہاں ہی پڑی رہتی تھی . عورت بلا خوف و خطر سفر طے کر سکتی تھی ، اب آپ کے زیر کنٹول علاقوں میں اب کیا صورت حال ہے .
سھیل شاہین :جی ہاں اب بھی ایسا ہی ہے اور ایسا ہی رہے گا، ہماری کوشش ہے کہ افغانستان کے عوام امن ، سلامتی اور بہتر طور پر زندگی گزاریں . تاکہ ان کی زندگی میں ہر طرح کی بہتری ہو. ہم نے اس کے لیے دیگر ممالک کو بھی دعوت دے رکھی ہے .
مبشر لقمان جاتے جاتے آپ امریکا کے نئے صدر جو بائیڈن کے لیے کوئی پیغام دے دینا چاہیں .
سھیل شاہین: میرا پیغام امریکا اور تمام عالمی اقوام کے لیے ہے کہ آپ کسی پر بھی طاقت کے ذریعے سے قبضہ نہیں کرسکتے ہیں ، اگر آپ وہاں قابض ہوبھی جائیں تو وہاں مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کرسکتے اور کامیاب بھی نہیں ہوسکتے ، اس کے بجائے آپ بات چیت اور ڈائلاگ کے ذریعے رابط رکھیں تو یہ دونوں کے مفاد میں ہوگا ، اگر حملہ ہو ، قبضہ ہو تو پھر سب کے لیے خطرے کا باعث ہے ، یہ کام امن اور سلامتی کے لیے ہوگا. .
لکن اگر قبضے کیے جائیں تو اس سے لوگ آزادی ، خودمختاری اور خوشحالی سے محروم ہوجاتے ہیں. امریکا کو چاہیے کو وہ قبضے اور حملے کی بجائے تعاون اور تعمیر سے کام لے .
مبشر لقمان نے آخر میں کہا کہ ہم نے دیکھا کہ افغانستان میں چار نسلیں اس وقت اس جنگ اور تباہی میں گزار رہی ہیں ہم دعا گو ہیںکہ اللہ آپ کو توفیق دے کہ آپ یہاں امن ، سکون اور خوشحالی لانے کا سبب بنیں . اللہ تعالیٰ اور اس کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کا سایہ آپ پر رہے . آمین
اسلام آباد: پاکستان ہل کررہ گیا:زمین پھٹ گئی: ملک کے کئی علاقوں میں زلزلے کے شدید جھٹکے ،اطلاعات کے مطابق زمین بری طرح لرز گئی، ملک کے کئی علاقوں میں زلزلے کے شدید جھٹکوں نے پاکستانیوں کواللہ اللہ کرنے پرمجبورکردیا،
ذرائع کے مطابق جمعرات کی شام کو ملک کے شمالی علاقے شدید زلزلے سے بری طرح لرز گئے۔ بتایا گیا ہے کہ ملک کے شمالی ریجن کے تقریباً تمام ہی علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، پنجاب، خیبرپختوںخواہ اور آزاد کشمیر میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے، جس کے بعد لوگ خوف و ہراس کا شکار ہو کر گھروں اور عمارتوں سے باہر نکل آئے۔
اس دوران لوگ مسلسل باآواز بلند کلمہ طیبہ اور اللہ اکبر اللہ اکبر کا ورد کرتے رہے۔بتایا گیا ہے کہ زلزلے کے جھٹکوں کی شدت اسلام آباد، سوات، بٹگرام، پشاور، مظفرآباد، منگلا، مری، نیلم ویلی اور دیگر میں زیادہ محسوس کی گئی۔
زلزلہ پیما مرکزکےمطابق زلزلےکی شدت 4 عشاریہ 4 تھی، گہرائی 20 کلومیٹر جبکہ مرکزمینگورہ سے 25 کلومیٹر دور شمال مشرق کا علاقہ تھا۔ گہرائی کم ہونے کی وجہ سے زلزلے کے جھٹکوں کی شدت زیادہ محسوس کی گئی۔ جبکہ تاحال زلزلے کے باعث کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
واضح رہے کہ گزشتہ کچھ عرصے کے دوران پاکستان مسلسل زلزلوں کی زد میں ہیں۔ خاص کر خیبرپختوںخوا کا سوات ریجن آئے روز زلزلوں کی زد میں رہتا ہے۔ تاہم اب ایک ساتھ ملک کے کئی شہروں میں زلزلے کے جھٹکوں نے لوگوں کو خوف میں مبتلا کر دیا
مبشر لقمان کو افغان طالبان کے ترجمان سہیل شاہین کی جانب سے دیئے گئے انٹرویو میں ترجمان نے امریکہ کے نو منتخب صدر جو بائیڈن کو اہم پیغام دیا ہے ، ترجمان کا انٹرویو آج شام نشر کیا جائے گا جس میں افغان طالبان کے ترجمان نے اہم انکشافات کئے ہیں
دو روز کی ہنگامہ آرائی کے بعد حکومت اور اپوزیشن میں اہم معاملات طے پا گئے
اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر سے اپوزیشن اراکین کی ملاقات ختم ہو گئی
رانا تنویر، ایاز صادق، رانا ثنا اللہ اور راجہ پرویز اشرف اپوزیشن چیمبر میں واپس آ گئے ملاقات میں حکومتی وزراء پرویز خٹک اور فواد چودھری بھی شریک تھے ملاقات میں قومی اسمبلی اجلاس 2بجکر 30منٹ پر شروع کرنے پر اتفاق کیا گیا حکومت اپوزیشن کی ایک دوسرے کو ایوان میں ماحول خوشگوار رکھنے کی یقین دہانی کروائی گئی
وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ گزشتہ دنوں ایوان میں ہنگامہ آرائی ہوئی،دونوں طرف سے اچھا مظاہرہ نہیں ہوا حکومت اور اپوزیشن کی طرف سے جو کچھ ہوا دونوں نے برداشت کیا،ایوان میں بجٹ بحث کے دوران ہنگامہ آرائی کی مذمت کرتے ہیں آج کوشش کریں گے کہ اپوزیشن لیڈر کو تقریر کا موقع دیاجائے ،ہم نے اپوزیشن اراکین سے ملاقات کی اور ایوان میں ماحول اچھا رکھنے پر اتفاق کیا، کوشش ہے کہ اسمبلی کا ایوان بغیر کسی تعطل کے چلتا رہے، میں ایوان سے نکلنے لگا توسینی ٹائرز کا بوتل ہاتھ لگا جوخالی تھا میں نے وہ پھینک دیا،
وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوھدری کا کہنا تھا کہ سب کا اتفاق تھا کہ پارلیمان میں جو ہنگامہ ہوا اس سے سب کی سُبکی ہوئی،ہم نے درخواست کی ہے کہ ڈپٹی اسپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد واپس لیں،ڈپٹی اسپیکر کے خلاف تحریک پر مثبت جواب ملنے کی توقع ہے،186اراکین نے قاسم سوری اوراسپیکر اسد قیصر پر اعتماد کا اظہا رکیا ہے،خوش آئند بات یہ ہے کہ حکومت اور اپوزیشن میں معاہدہ طے پاگیا،آج سے پارلیمان کا اجلاس بغیر کسی گڑ بڑ اور تعطل کے ہوگا، رانا ثنااللہ ، ایاز صادق ، شازیہ مری اور پرویز اشرف سے گفتگو ہوئی بجٹ منظوری کے لیے ہمیں نمبرز کی ضرورت نہیں بغیر کسی رکاوٹ منظور کرائیں گے حکومت اور اپوزیشن اراکین پر مشتمل کمیٹی بنائی جارہی ہے
قبل ازیں اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے ایوان میں ہلڑ بازی پر کیا گیا اپنا حکمنامہ واپس لے لیا، سات ارکان پر لگائی گئی پابندی واپس لے لی اپوزیشن نے اسپیکر کے اقدام کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا
انتخابی عمل میں دھاندلی روکنے کا کیا حل؟ وزیراعظم کو اجلاس میں بریفنگ
وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت اجلاس میں ملک میں انتخابی عمل میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال پر بریفنگ دی گئی
بریفنگ میں وزیرِ برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی شبلی فراز، سینیٹ میں قائد ایوان سینیٹر ڈاکٹر شہزاد وسیم، وزیر برائے ریلویز اعظم خان سواتی، وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات فرخ حبیب اور مشیر وزیر اعظم بابر اعوان شریک تھے۔وزیرِ اعظم کو انتخابی اصلاحات کے ضمن میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال اور قانون سازی کے حوالے سے اب تک ہونے والی پیش رفت پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت ملک میں انتخابی عمل میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال پر بریفنگ pic.twitter.com/gnk5tO4T0B
وزیر اعظم عمران خان نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے انتخابی عمل میں استعمال میں شفافیت اور تمام آئینی تقاضوں کو پورا کرنےکی ہدایت دیتے ہوئے اپنے عزم کا اعادہ کیا کہ موجودہ حکومت ملک کے انتخابی عمل میں شفافیت یقینی بنانے کے حوالے سے پر عزم ہے۔
وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ انتخابی عمل میں دھاندلی روکنے اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لئے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا استعمال واحد آپشن ہے اوورسیز پاکستانیز ملک کا اثاثہ ہیں ان کو انتخابی عمل میں لازماً شریک بنائیں گے انتخابی اصلاحات، الیکٹرانک ووٹنگ اور اوورسیز پاکستانیوں کو حق رائے دہی کا عمل جلد مکمل کیا جائے
حکومت کیسے قانون کو بائی پاس کرکے یہ اقدام کر سکتی ہے؟ سپریم کورٹ
گریڈ 16 سے اوپر کے کنٹریکٹ افسران کی بغیر پبلک سروس کمیشن مستقلی کیس کی سماعت ہوئی
سپریم کورٹ کراچی رجسٹری نے سندھ ہائی کورٹ فیصلے کے خلاف درخواستیں منظور کرلیں سپریم کورٹ کراچی رجسٹری نے فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے دلائل طلب کرلیے ، چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا حکومت افسران کی تقرری مستقلی کے لیے دو الگ طریقے اپنا رہی ہے؟ کل کسی کو بھی افسر بنا دیا جائے گا، بغیر کمیشن پاس افسران کو کیسے مستقل کیا جا سکتا ہے؟
جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ حکومت کیسے قانون کو بائی پاس کرکے یہ اقدام کر سکتی ہے؟ یہ پبلک سروس کمیشن پاس افسران کے ساتھ امتیازی سلوک ہوگا،اس طرح تو امتحان پاس کرنے کے اہل اور نااہل دونوں یکساں ہو جائیں گے، ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت میں کہا کہ خدشہ ہے کہ پورے ملک سے سرکاری افسران کا خلا پیدا ہو جائے گا، تمام صوبے کنٹریکٹ افسران کو پبلک سروس کمیشن کے بغیر مستقل کر رہے ہیں،یہ پریکٹس سندھ نہیں تمام صوبوں میں ہے،کیس کو اسلام آباد میں سنا جائے اور تمام صوبوں سے رائے لی جائے،ایک کمیٹی تشکیل دے دی جائے جو میرٹ پر افسران کا تعین کرے،
جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ کمیٹی کے بجائے کنٹریکٹ افسران کو پبلک سروس کمیشن کیوں نہیں بھیجتے؟ چیف جسٹس گلزار احمد نے استفسار کیا کہ بغیر پبلک سروس کمیشن کے ترقی پانے والے کتنے افسران ہیں؟ ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے عدالت میں جواب دیا کہ سندھ میں کم و بیش 2 ہزار افسران متاثر ہوں گے،