Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • این اے 249 ضمنی الیکشن ، ن لیگ نے الیکشن کمیشن سے کیا مطالبہ کر دیا؟

    این اے 249 ضمنی الیکشن ، ن لیگ نے الیکشن کمیشن سے کیا مطالبہ کر دیا؟

    این اے 249 ضمنی الیکشن ، ن لیگ نے الیکشن کمیشن سے کیا مطالبہ کر دیا؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ ن نے این اے 249 کے تمام پولنگ سٹیشنز پر دوبارہ گنتی کا مطالبہ کر دیا

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہبازشریف نے این اے249 میں دوبارہ گنتی کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ چیف الیکشن کمشنراین اے249 میں دوبارہ گنتی کرائیں،یہ ہمارا آئینی حق ہے سیکشن 95 (5)کا تقاضاہے کہ کل ڈالے جانے والے ووٹوں کا مارجن پانچ فیصد سے کم ہو، تو دوبار گنتی کرائی جائے سیکشن 95 (6 )کے تحت مجموعی رزلٹ سے قبول دوبارہ گنتی ہوسکتی ہے ہمیں امید ہے کہ چیف الیکشن کمشنر آئین اور شفافیت کے تقاضوں کو یقینی بنائیں گے

    مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ آر او نے ابھی تک مفتاح اسماعیل کومہر لگا فارم 45 نہیں دیا،سندھ حکومت نے الیکشن کمیشن کے عملے کو یر غمال بنایا ہوا ہے،ہمیں فارم 45 کی کاپی بھی نہیں دی جا رہی ،چیف الیکشن کمشنردوبارہ گنتی کرانے کا اختیاررکھتے ہیں،اب ہم چیف الیکشن کمیشن کے پاس گئے ہیں،امید رکھتے ہیں چیف الیکشن کمشنر ایکشن لیں گے،اس وقت صوبائی الیکشن کمیشن یرغمال بنا ہوا ہے،پریزائیڈنگ افسرنے آدھے سے زیادہ فارم 45 پر دستخط نہیں کیے،ہمارے پاس تمام شواہد موجود ہیں،

    مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ ہمیں آر او نے پولنگ اسٹیشن کے حساب سے رزلٹ سمری فراہم نہیں کی، ہمیں آر او کی جانب سے فارم 45 فراہم نہیں کیے گئے ،ہم نےآراوسے واٹس ایپ نتائج کی وصولی کے وقت کی رسید مانگی، نہیں دی گئی،آر او نے ہماری ساری درخواستیں مسترد کرکے واضح جانبداری کا مظاہرہ کیا ہے ، آدھے سے زیادہ فارم 45 پر آر او نے دستخط نہیں کیے، تمام پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ گنتی کرائی جائے، ہم مطالبہ کرتے ہیں نتائج کو حتمی شکل دینےسے روکا جائے،

    قبل ازیں مسلم لیگ ن کے امیدوار مفتاح اسماعیل نے چیف الیکشن کمیشن کو درخواست دی ہے جس میں کہا کہ آر او نے ہماری تمام دراخواستیں مسترد کردی ہیں جو کہ آر او کا متعصب ہونا واضع کرتا ہے۔ کچھ پریذائیڈنگ آفسران پر تحفظات ہیں جبکہ فارم 45 اور فارم 47 کے نتائج بھی فرق ہیں

    قبل ازیں مسلم لیگ(ن) کے مفتاح اسماعیل کی دوبارہ گنتی کی درخواست بھی مسترد کر دی گئی، ریٹرننگ افسر سجاد خٹک نے ناکافی شواہد کی بنا پر درخواست مسترد کی مفتاح اسماعیل نےاین اے 249میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی درخواست کی تھی مفتاح اسماعیل نے پولنگ اسٹیشنز کی نشاندہی اور خامیوں کا ذکر کیا تھا مفتاح اسماعیل نے پریذائڈنگ افسران کے نتائج جمع کرانے کے طریقہ کار بھی تحفظات کا اظہار کیا تھا

  • یوم مزدور،حکومت مزدوروں کیلیے کیا کر رہی ہے؟ وزیراعظم نے بتا دیا

    یوم مزدور،حکومت مزدوروں کیلیے کیا کر رہی ہے؟ وزیراعظم نے بتا دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اسلام نے سماجی انصاف کے اصولوں اور محنت کشوں کے حقوق کا احترام کرنے پر خصوصی زور دیا ہے،

    یوم مزدور پر اپنے پیغام میں وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت محنت کشوں اور ان کے اہلخانہ کو گھر ، تعلیم اور صحت کی سہولتیں فراہم کرنے اور ان کے حالات کو بہتر بنانے کیلئے پرعزم ہے، حکومت کورونا کی وبا کے باعث محنت کشوں بالخصوص روزانہ اجرت پر کام کرنے والوں کو درپیش چیلنج سے پوری طرح آگاہ ہے اور کم آمدن والے محنت کشوں کیلئے حکومت نے مزدور کا احساس پروگرام شروع کیا ہے۔ یکم مئی ہمیں ان کارکنوں کی قربانیوں ، بہادری اور عزم کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے اپنے بنیادی حقوق کو برقرار رکھنے اور کام کے منصفانہ ماحول کے لئے اپنی جانیں نچھاور کیں۔ یہ محنت کشوں کی عظمت کی علامت ہونے کے ساتھ ساتھ ہمیں یہ بھی موقع فراہم کرتا ہے کہ اپنے اندرون اور بیرون ملک محنت کشوں کے قومی تعمیر کیلئے انمول خدمات کا اعتراف کریں۔انہوں نے کہا کہ اسلام سماجی انصاف اور محنت کشوں کے حقوق کا احترام کرنے پر خاص طور پر زور دیتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کی کئی احادیث میں محنت کشوں کے حقوق ، ان کو مناسب معاوضہ کی ادائیگی اور محنت کش طبقہ کے ساتھ منصفانہ سلوک کو یقینی بنانے کی تعلیم دی گئی ہے۔

    وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت محنت کشوں کو کام کرنے کا بہتر ماحول، گھر، تعلیم اور ان ا ور ان کے اہلخانہ کو صحت کی سہولیات کی فراہمی کے ذریعے ان کے حالات کو بہتر بنانے کیلئے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد کارکنوں کے فلاحی اداروں کے لئے خودکار ، مربوط نظام وضع کرنا ہے تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جاسکے اور کارکنوں کو ریلیف کی فراہمی میں تاخیر کو کم کیا جاسکے۔موجودہ حکومت نے لیبر مارکیٹ کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے پیشہ وارانہ تربیت اور ہنر کی ترقی کے پروگرام شروع کئے ہیں تاکہ محنت کشوں کو اندرون و بیرون ملک ملازمتوں کے بہتر مواقع میسر آ سکیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہماری حکومت کووڈ۔19 سے بالخصوص محنت کشوں کیلئے پیدا ہونے والی صورتحال اور چیلنجز سے بھی پوری طرح آگاہ ہے۔ ہم اپنے محنت کشوں کو اپنا سمجھتے ہیں اور ان کے حوالہ سے اپنی ذمہ داریوں سے بخوبی آگاہ ہیں، ہم اس امر کو یقینی بنانے کیلئے پرعزم ہیں کہ اقتصادی ترقی کے ثمرات سے محنت کشوں سمیت آبادی کے تمام طبقات خوشحال ہوں۔

    کرونا سے نہیں،مزدور بھوک کی وجہ سے موت کے منہ میں جا رہے ہیں، سراج الحق

    مزدوروں کے لئے حکومت کیا کر رہی ہے؟ وزیراعظم نے مزدور ڈے پرپیغام جاری کر دیا

    مزدور ڈے پر حکومت مزدور کو کیا ریلیف دے سکتی تھی؟ شہباز شریف میدان میں آ گئے

    قبل ازیں وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کا یوم مزدور پر کہنا ہے کہ محنت کش ہمارے ہیرو ہیں جو رزق حلال کما کر معیشت کو مضبوط کرتے ہیں -1886 کو شکاگو میں محنت کشوں نے اپنے حقوق کیلئے لازوال قربانیاں دیں اور یہ دن ہمیں جبر و استبداد کے خلاف شکاگو کے شہداء کی جدوجہد کی یاد دلاتا ہے۔دین اسلام محنت کش کی عظمت اور فلاح و بہبود کا درس دیتا ہے۔دین اسلام میں محنت کش کو اللہ کا دوست قرار دے کر اس کی عظمت کو اجاگر کیا گیا ہے۔

    وزیر اعلی عثمان بزدار نے کہا کہ نئے پاکستان میں محنت کش کو اس کے حقوق دینے کے لئے پرعزم ہیں۔نیا پاکستان محنت کشوں اور مزدوروں کا پاکستان ہے۔حکومت محنت کشوں کی فلاح وبہبود کیلئے حقیقی معنوں میں اقدامات کر رہی ہے جبکہ ماضی میں محنت کشوں کو وعدوں پر ٹرخایا گیااورسابق ادوار میں مزدوروں کی فلاح و بہبود کیلئے عملی اقدامات نہیں کئے گئے۔

  • بریکنگ نیوز: اسرائیل نے پاکستان کو تسلیم کر لیا

    بریکنگ نیوز: اسرائیل نے پاکستان کو تسلیم کر لیا

    بریکنگ نیوز: اسرائیل نے آج پاکستان کو تسلیم کرلیا ہے اس کا اعلان اسرائیلی وزیر خارجہ نے اس سے قبل پارلیمنٹ میں کیا تھا-

    باغی ٹی وی : اسرائیل پاکستان تعلقات ان دو طرفہ تعلقات کو کہا جاتا ہے جو اسلامی جمہوریۂ پاکستان اور یہودی مملکت اسرائیل کے درمیان میں رہے ہیں۔ یہ تعلقات غیر تسلیم شدگی سے لے کر سوویت افغان جنگ کے دوران میں قریبی تال میل تک ہر دور میں بدلتے رہے۔ ان دونوں مملکتوں کا قیام نظریاتی قرار دادوں پر مبنی رہا ہے اور دونوں ہی ریاستیں برطانوی سلطنت سے آزاد ہو کر وجود میں آئی تھیں۔ درحقیقت پاکستان اور اسرائیل کے مابین حکومتی سطح پر باضابطہ تعلقات کبھی قائم نہیں ہوئے۔

    تاہم اب اسرائیل نے پاکستان کے وجود کو تسلیم کر لیا ہے جس کا اعلان اسرائیلی وزیر خارجہ نے اس سے قبل پارلیمنٹ میں کیا تھا-

    خیال رہے کہ اس سے قبل پاکستان نے اسرائیل کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا جس کی وجہ اسرائیل کی عالمی قوانین یا عالمی معاہدوں کی پاسداری نہ کرنا ہے پاکستان کا موقف تھا کہ اسرائیل نے ماضی میں فلسطینیوں اور اس کے عرب پڑوسیوں کے ساتھ دستخط کیے ہوئے تمام معاہدوں کو توڑا ہے، اس لیے یہ توقع کرنا بیوقوفی ہوگی کہ اسرائیل پاکستان کے ساتھ کیے گئے کسی معاہدے کی پاسداری کرے گا۔ اسرائیل نے تاریخی طور پر کبھی بین الاقوامی قوانین یا بین الاقوامی معاہدوں کا احترام نہیں کیا۔

    کہا گیا تھا کہ فلسطین کی زمینوں پر غیرقانونی قبضے کی وجہ سے پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا، اسی طرح وہ کشمیری اراضی پر بھارتی تسلط کو بھی نہیں مانتا ہے۔ فلسطینی زمینوں پر اسرائیلی قبضے کو تسلیم کر لینا کشمیر پر بھارتی قبضے کو اخلاقی جواز دینے کے مترادف ہو گا اور یہ فلسطینیوں اور کشمیریوں کے پاکستان پر اعتماد سے غداری ہو گی۔

    پاکستان اور اسرائیل تعلقات:
    وکی پیڈیا کے مطابق اسرائیل پاکستان تعلقات ان دو طرفہ تعلقات کو کہا جاتا ہے جو اسلامی جمہوریۂ پاکستان اور یہودی مملکت اسرائیل کے درمیان میں رہے ہیں۔ یہ تعلقات غیر تسلیم شدگی سے لے کر سوویت افغان جنگ کے دوران میں قریبی تال میل تک ہر دور میں بدلتے رہے۔ ان دونوں مملکتوں کا قیام نظریاتی قرار دادوں پر مبنی رہا ہے اور دونوں ہی ریاستیں برطانوی سلطنت سے آزاد ہو کر وجود میں آئی تھیں۔ درحقیقت پاکستان اور اسرائیل کے مابین حکومتی سطح پر باضابطہ تعلقات کبھی قائم نہیں ہوئے۔

    پاکستانی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ اگر اسرائیل عرب ریاستوں سے کچھ معاہدے کر لے تو وہ اسرائیل سے علانیہ سفارتی تعلقات قائم کریں گے۔ اس کے برعکس پاکستان کے اسرائیل مخالف تنظیم آزادی فلسطین سے قریبی تعلقات ہیں، مثلاً پہلے انتفاضہ کے موقع پر پاکستان کی جانب سے فلسطینی مزاحمت کاروں کے لیے رسد رسانی اور طبی امداد کا بندوبست کیا گیا تھا۔ نیز متعدد موقعوں پر بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا اسرائیل کے خلاف جارحانہ رویہ اپنانے کی بنا پر ریاست ہائے متحدہ امریکا سے کشیدگی بھی پیدا ہوئی ہے۔ جب پاکستان کی جوہری صلاحیتوں کا افشا ہوا تو اسرائیل کو ہمیشہ ان جوہری صلاحیتوں سے خدشہ رہا۔ پاکستان میں بہت سے حلقوں کا خیال ہے کہ اسرائیل نے ان کی جوہری تنصیبات پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا تھا لیکن حکومت اسرائیل کی کچھ کلیدی شخصیتوں نے اس کی مخالفت کی جس کی بنا پر یہ حملہ نہیں ہو سکا۔

    سنہ 1990ء کی دہائی میں اوسلو معاہدہ کے بعد اسرائیل کے حق میں پاکستان کا رویہ کچھ نرم ہوا اور یہودی و پاکستانی نمائندوں کی ملاقاتیں شروع ہوئیں۔ ان ملاقاتوں میں اسرائیل کی اولین ترجیح سفارتی تعلقات کا قیام رہی، جبکہ پاکستان نے اسرائیل کے تئیں اپنی جارحانہ پالیسی کی وجہ بیان کرنے کی کوشش کی۔ پاکستانی اہلکاروں کے مطابق ان کی اس جارحانہ پالیسی کی اصل وجہ بالعموم عالم اسلام اور بالخصوص عالم عرب سے اتحاد کا مظاہرہ ہے۔ پاکستان اور اسرائیل ان کے استنبول میں قائم سفارت خانوں کے ذریعے باہمی مذاکرات میں حصہ لیتے ہیں یا ایک دوسرے کے ساتھ معلومات کا تبادلہ کرتے ہیں۔ 2010ء میں ویکی لیکس کے مطابق پاکستان نے اسی استنبول میں قائم اپنے سفارت خانے کے ذریعے اسرائیل کو ایک دہشت گرد گروہ کے بارے میں معلومات فراہم کی تھی۔تاہم سنہ 2018ء تک ان دونوں ریاستوں میں سرکاری طور پر سفارتی تعلقات قائم نہیں ہوئے اور اب تک دونوں ممالک ایک دوسرے کے دشمن تصور کیے جاتے ہیں۔

  • وزیراعظم اسمبلیاں توڑ سکتے ہیں:اسد عمر نے خطرے کی گھنٹی بجادی

    وزیراعظم اسمبلیاں توڑ سکتے ہیں:اسد عمر نے خطرے کی گھنٹی بجادی

    اسلام آباد:وزیراعظم اسمبلیاں توڑ سکتے ہیں:اسد عمر نے خطرے کی گھنٹی بجادی ،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم اسمبلیاں توڑ سکتے ہیں۔اسدعمرنے وجہ بھی بتادے

    تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے قریبی ساتھی وفاقی وزیر اسد عمر کی جانب سے ملکی سیاست میں ہلچل مچا دینے والا بیان جاری کیا گیا ہے۔

    نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر اسد عمر نے عندیہ دیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اسمبلیاں توڑ سکتے ہیں۔

    اسد عمر نے واضح کیا ہے کہ اگر اگر کام میں رکاوٹ ڈالی گئی تو پھر عمران خان اسمبلیاں توڑ دیں گے۔

    وفاقی وزیر کے اس بیان پر سینئر صحافی و تجزیہ کاری سلیم بخاری کی جانب سے ردعمل دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مختلف حلقوں میں یہ بات پہلی ہی کی جا رہی ہے کہ وزیراعظم اسمبلیاں توڑ سکتے ہیں،

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے وفاقی وزیر اسد عمر کا کہنا تھا کہ مجھ سے سوال پوچھا گیا تھا کے کیا عمران خان اسمبلی توڑ سکتے ہیں، اس کا جواب اس کلپ میں دیکھیے. @ImranKhanPTI سیاست دان نہیں لیڈر ہے. وہ اقتدار کے لئے سیاست میں آئے ہی نہیں. اقتدار صرف عوام کی خدمت کا ذریعہ ہے

  • سی پیک پاک چین دوستی کی گواہی ہے، منصوبے ہرقیمت پرمکمل ہوں گے:وزیراعظم ،آرمی چیف کا عزم

    سی پیک پاک چین دوستی کی گواہی ہے، منصوبے ہرقیمت پرمکمل ہوں گے:وزیراعظم ،آرمی چیف کا عزم

    اسلام آباد:سی پیک پاک چین دوستی کی گواہی ہے، منصوبے ہرقیمت پرمکمل ہوں گے:وزیراعظم ،آرمی چیف کا عزم ،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبوں کی تکمیل پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

    وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت سی پیک منصوبوں کےجائزہ پراعلی سطح کا اجلاس ہوا جس میں وزیرخارجہ، وزیر خزانہ، وزیر صنعت، وزیر منصوبہ بندی، چیئرمین سی پیک اتھارٹی عاصم سلیم باجوہ اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سمیت دیگر حکام شریک ہوئے۔

    اجلاس میں سی پیک منصوبوں پر بریفنگ دی گئی اور بتایا گیا کہ حکومت نے سی پیک کے بڑے منصوبوں کو ڈھائی سال کی مدت میں مکمل کیا۔

    بریفنگ میں بتایا گیا کہ انفراسٹرکچر سے متعلق موجودہ حکومت نے بہت سے منصوبے مکمل کیے، چین زراعت اور لائیو اسٹاک کے شعبے میں تعاون بڑھا رہا ہے۔

    اس موقع پر وزیراعظم کا کہنا تھاکہ صنعتوں کا فوکس برآمدات پر مبنی ہونا چاہیے، ہمارا فوکس درآمدات کا متبادل اور پالسیاں اسی کے مطابق ہوں۔

    انہوں نے ہدایت دی کہ نوجوان نسل کو ملازمتوں کیلئے تیار کیا جائے، آنے والی صنعتوں اور ہائی کوالٹی زرعی فارمز سےملازمتیں پیدا ہوں گی۔

    اعلامیے کے مطابق وزیر اعظم نے سی پیک منصوبوں کی تکمیل پر اطمینان کا اظہار کیا اور عزم کیا کہ سی پیک منصوبوں کو ہر قیمت پر مکمل کیا جائے گا۔

    انہوں نے کہا کہ سی پیک پاک چین دوستی کی گواہی ہے، پاکستان اور چین کے تعلقات گہرے اور یہ منصوبہ اہمیت کا حامل ہے

    انفرااسٹرکچر سے متعلق موجودہ حکومت نے بہت سے منصوبے مکمل کیے۔ چین زراعت اور لائیو اسٹاک کے شعبے میں تعاون بڑھا رہا ہے۔

    وزیر اعظم نے سی پیک منصوبوں کی تکمیل پر اظہار اطمینان کرتے ہوئے کہا کہ سی پیک منصوبوں کو ہرقیمت پر مکمل کیا جائے گا۔ سی پیک پاک چین دوستی کی گواہی ہے۔ پاکستان اور چین کے تعلقات گہرے اور یہ منصوبہ اہمیت کا حامل ہے

  • شدت پسندتباہی کےذمہ دار؟یورپی پارلیمنٹ میں پاکستان        کیخلاف قرارداد:کپتان کےخدشات درست ثابت ہوگئے

    شدت پسندتباہی کےذمہ دار؟یورپی پارلیمنٹ میں پاکستان کیخلاف قرارداد:کپتان کےخدشات درست ثابت ہوگئے

    اسلام آباد:شدت پسندی تباہی کی ذمہ دار؟یورپی پارلیمنٹ میں پاکستان کیخلاف قرارداد:کپتان کےخدشات درست ثابت ہوگئے،اطلاعات کے مطابق یورپی پارلیمنٹ میں 6 کے مقابلے میں 681 ارکان نے قرارداد کی حمایت کی۔ قرارداد میں پاکستان کیلئے جی ایس پی پلس پر نظر ثانی کرنے اور اقلیتوں سے متعلق امتیازی قوانین کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ارکان پارلیمنٹ نے فرانس اور پاکستان کے تنازع میں فرانس سے بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا۔

    یورپی یونین کی پارلیمنٹ نے کمیشن اور یورپی بیرونی ایکشن سروس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ موجودہ واقعات کی روشنی میں پاکستان کے جی ایس پی اسٹیٹس کی اہلیت کا فوری طور پر جائزہ لے اور اس پر بات پر بھی غور کرے کہ آیا اتنی معقول وجوہات ہیں کہ اس جی ایس پی پلس اسٹیشن اور اس سے حاصل ہونے والے فوائد سے عارضی طور پر دستبرداری کے لیے کارروائی شروع کی جا سکے اور جلد از جلد اس حوالے سے یورپی پارلیمنٹ کو رپورٹ کیا جائے۔

    اس قرارداد کو مشترکہ طور پر پیش کرنے والے سوئیڈن سے تعلق رکھنے والے یورپی پارلیمنٹ کے رکن چارلی ویمرز نے پارلیمنٹ کے تازہ اجلاس کے دوران اپنے خطاب میں توہین مذہب کے الزامات کے نتیجے میں پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کے ہلاک یا قید ہونے کے مختلف واقعات کا حوالہ دیا۔

    انہوں نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے جھوٹے الزام لگانے والوں سے اپنے شہریوں کے انسانی حقوق کا دفاع کرنے کے بجائے ہولوکاسٹ اور نسل کشی کے انکار کو اسلام کے نبی اکرم ﷺ پر پر تنقید کے مترادف قرار دیا۔

    قانون ساز نے مزید ٹوئٹ کی کہ کیا یورپ کو عیسائیوں کو نشانہ بنانے والے ہجوم اور ہولوکاسٹ سے موازنہ کرنے والے وزیراعظم کو انصاف دینا چاہیے؟ میرا جواب نہ ہے

    دوسری جانب پاکستان نے یورپی پارلیمنٹ میں توہین رسالت قوانین سے متعلق قرارداد پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔

    ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ یورپی پارلیمنٹ میں گفتگو سے پاکستان میں توہین رسالت قوانین اور مذہبی حساسیت سے لاعلمی کا اظہار ہوتا ہے

  • سری لنکا:برقعہ پرپابندی،مسلمانوں میں شدیدغم وغصہ   :سری لنکن مسلمانوں نےعمران خان پرامیدیں لگالیں

    سری لنکا:برقعہ پرپابندی،مسلمانوں میں شدیدغم وغصہ :سری لنکن مسلمانوں نےعمران خان پرامیدیں لگالیں

    کولمبو:سری لنکا میں برقعہ پر پابندی، مسلمانوں میں شدید غم و غصہ:سری لنکن مسلمانوں نے عمران خان پرامیدیں لگالیں ،اطلاعات کے مطابق سری لنکا کابینہ میں برقعہ پر پابندی کی تجویز منظور ہونے کے بعد سری لنکا کے مسلمانوں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔

    سری لنکا کی کابینہ نے منگل کے روز قومی سلامتی کے لیے لاحق خطرات کا بہانہ بنا کر عوامی مقامات پر ہر طرح کے چہروں کے پردے بشمول برقعے پر پابندی عائد کرنے کی تجویز کی منظوری دی تھی۔

    سری لنکا کے وزیر برائے عوامی تحفظ سارت ویرسکارا (Sarath Weeraskara) نے مارچ میں پہلی بار اس پابندی کا اعلان کیا تھا اور دعوی کیا تھا کہ برقعہ جیسا لباس مذہبی انتہا پسندی کی علامت ہے۔

    ادھر کولمبوسے ذرائع کے مطابق سری لنکن مسلمانوں نے وزیراعظم عمران خان سے امیدلگاتے ہوئے اس مسئلے کوسری لنکن حکومت سے اٹھانے کا مطالبہ کردیا ہے

    یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ سری لنکن مسلمانوں کا خیال ہےکہ دنیا میں اگرکوئی ان کے پیچھے والی وارث ہے تووہ عمران خان ہی جس نے سری لنکا حکومت کے سامنے ہمارے حقوق کی جنگ لڑی اوربہت سے معاملات پرریلیف لے کردیا ہے

    یہ بھی سننے میں آرہا ہے کہ ان مسلمانوں نے دیگرمسلم دنیا کے حکمرانوں کے رویے اوربے حسی پرسخت پریشان ہیں اوراب ان کے سامنے صرف ایک ہی امید ہے اوروہ پاکستانی وزیراعظم عمران خان ہی ہیں‌

    یاد رہے کہ سری لنکا میں ماضی میں بھی کئی پالیسیوں کے ذریعہ مسلمان آبادی کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ مارچ 2020 میں حکومت نے یہ حکم دیا تھا کہ کووڈ۔19 سے متاثر ہو کر مرنے والے مسلمانوں کی لاشوں کو دفنانے کے بجائے جلایا جائے۔

    جس کے بعد وزیراعظم عمران خان نے اپنے دورہ سری لنکا کے دوران سری لنکن حکومت سے مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے امتیازی سلوک کوختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا ،اس کے بعد حکومت نے رواں برس فروری میں ہی لاشوں کی تدفین پر پابندی ختم کردی کیونکہ لاشوں کو جلانا اسلامی عقائد کے منافی ہے

  • بلاول زرداری نے اہم شخصیت سے استعفیٰ مانگ لیا

    بلاول زرداری نے اہم شخصیت سے استعفیٰ مانگ لیا

    بلاول زرداری نے اہم شخصیت سے استعفیٰ مانگ لیا
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے کہا ہے کہ سلیکٹڈ حکومت کو کراچی کے عوام نے مسترد کردیا ہے،

    بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ کراچی کے عوام نے پیپلزپارٹی کو تاریخی کامیابی دلائی، کراچی کے شہریوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں، پیپلزپارٹی کی تاریخی جیت نے ثابت کردیا کہ عوام حکومت کے ساتھ نہیں ہے، حکومت کا اب امتحان شروع ہوگیا ہے،پاکستان کی سیاست جمہوری قوتوں کی طرف بڑھ رہی ہے، عوام نے پھر سے پی ٹی آئی کو عبرتناک شکست دی ہے، مشکل وقت میں عوام کے ساتھ رہنے والوں کی جیت ہوتی ہے،ملیر اور بلدیہ کےالیکشن میں ثابت ہواعوام پیپلز پارٹی کیساتھ ہے،کارکنوں کی محنت سے پیپلزپارٹی نے تاریخی کامیابی حاصل کی، ہم محدود وسائل کے باوجود کراچی کے عوام کے مسائل حل کریں گے،پاکستان کی سیاست جمہوری قوتوں کی جانب بڑھ رہی ہے،صاف اور شفاف الیکشن ہوں گے تو پیپلزپارٹی کامیاب ہوگی،

    میں نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف کارروائی کی مذمت کی تھی، ماضی میں ہم سیاسی انتقام کا بھی شکار ہوئے ہیں،جعلی ریفرنس بھیجنے پر صدرمملکت عارف علوی مستعفی ہوجائیں،پی ڈی ایم کی بنیاد اس لیے رکھی تھی کہ جمہوریت بحال ہوں، معززجج کی کردارکشی کرنیوالوں کےخلاف کارروائی ہونی چاہیے،جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہیں،صدرمملکت اور وزیر قانون کومستعفی ہوجانا چاہیے، عمران خان اوروفاقی کابینہ اس جرم میں شریک ہیں،

    کوئی یہ ثابت نہیں کرسکتا کہ پیپلزپارٹی نے دھاندلی کی،اگر کوئی الزامات لگا رہا ہے تو ثابت کرے، شاہد خاقان عباسی آر او آفس میں موجود تھے اور اپنی ہار دیکھ رہے تھے،پیپلز پارٹی نے ضمنی اور سینیٹ انتخابات میں حکومت کو شکست دے کر عمران خان حکومت کو گھر بھیجنے کا راستہ دکھایا، مگر ہمارے کچھ اتحادی عمران خان کو اور بزدار کو گھر بھیجنا نہیں چاہتے تو ہم کیا کریں ؟

  • ایسے ثبوت ملے ہیں‌ کہ مودی جان بوجھ کربھارتیوں کوکورونا کے ذریعے مروا رہا ہے، واشنگٹن پوسٹ

    ایسے ثبوت ملے ہیں‌ کہ مودی جان بوجھ کربھارتیوں کوکورونا کے ذریعے مروا رہا ہے، واشنگٹن پوسٹ

    واشنگٹن:ایسے ثبوت ملے ہیں‌ کہ مودی جان بوجھ کربھارتیوں کوکورونا کے ذریعے مروا رہا ہے، واشنگٹن پوسٹ نے بڑا دعوی کردیا ،اطلاعات کے مطابق امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے اپنی تجزیاتی رپورٹ میں کہا ہے کہ بھارت میں کورونا کے بڑھتے ہوئے کیسز کے ذمہ دار وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔

    معروف امریکی اخبارواشنگٹن پوسٹ یہ بھی لکھتا ہے کہ کورونا سے متاثرہونے والوں اورپھرمرنے والوں کی تعداد بھی بہت گھٹا کرپیش کی جارہی ہے، جبکہ حقائق یہ ہیں کہ اب تو روزانہ متاثرہ افراد کی تعداد 6 لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے اورمرنے والوں کی تعداد بھی روزانہ دس ہزارسے تجاوزکرگئی ہے

    بھارت میں کورونا کی اس تباہی کا تجزیہ کرتے ہوئے معروف امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے لکھا کہ وزیراعظم مودی نے کورونا کے یومیہ 2 لاکھ کیسز سامنے آنے کے باوجود مغربی بنگال اور دیگر چند ریاستوں میں ہونے والے انتخابات ملتوی کرنے کے بجائے کھچا کھچ بھرے ایک جلسہ عام سے خود بھی خطاب کیا اور دیگر سیاسی جماعتوں کو بھی اجتماعات کی اجازت دی۔

    اخبار کی رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ رہی سہی کسر کمبھ میلے نے پوری کردی جس میں صرف تین دن میں ملک بھر سے آنے والے 25 لاکھ سے زائد یاتریوں نے گنگا جمنا میں ڈبکی لگائی اور اس دوران ایس او پیز کو کسی خاطر میں نہیں لایا گیا۔ مودی نے پہلے الیکشن اور پھر کمبھ میلے کی اجازت دیکر عوام کی صحت کو سیاسی مقاصد کی بھینٹ چڑھا دیا۔

  • 2021 کی سب سے بڑی خبر، محمد بن سلمان اور ایران، خیالات بدل گئے، اہم انکشافات، مبشر لقمان کی زبانی

    2021 کی سب سے بڑی خبر، محمد بن سلمان اور ایران، خیالات بدل گئے، اہم انکشافات، مبشر لقمان کی زبانی

    2021 کی سب سے بڑی خبر، محمد بن سلمان اور ایران، خیالات بدل گئے، اہم انکشافات، مبشر لقمان کی زبانی
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ محمد بن سلمان نے ایک دھماکہ خیز انٹرویو دیا ہے جس میں انہوں نے ایران سے صلح کا اشارہ دے دیا ہے۔ یہ خواب ہے یا حقیقت اور یہ سب کچھ کیوں ہو رہا ہے اس پر ہم تفصیل سے بات کریں گے لیکن آپ کو چند اہم خبروں سے آگاہ کر دوں کہامریکہ نے افغانستان میں اپنے غیر ضروری اسٹاف کو فوری طور پر کابل ایمبیسی چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے۔ یہ حکم نامہ بائیڈن کے ستمبر میں افغانستان چھوڑنے کے اعلان کے بعد سامنے آ یا ہے۔ ابھی تک افغانستان میں ڈھائی ہزار امریکی فوجی ہیں جبکہ نیٹو نے بھی امریکہ کے ساتھ افغانستان چھوڑنے کا اعلان کر دیا ہے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ جبکہ اس صورتحال میں افغانستان میں بڑے پیمانے پر خانہ جنگی کی توقع کی جا رہی ہے۔امریکہ، برطانیہ اور نیٹو کی افواج رواں سال گرمیوں میں افغانستان سے نکل رہی ہیں۔برطانوی چیف آف ڈیفینس سٹاف نے حال ہی میں کہا تھا کہ یہ وہ نتیجہ تو نہیں جس کی ہمیں امید تھی۔فغانستان میں صورتحال کے غیر یقینی کروٹ لینے سے یہ حقیقی خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ 20 برس میں دہشت گردی کے خلاف بھاری قیمت ادا کر کے جو کچھ حاصل کیا گیا ہے وہ بالکل بے کار چلا جائے گا۔ طالبان ہر گزرتے دن کے ساتھ مضبوط سے مضبوط تر ہوتے چلے جا رہے ہیں اور القاعدہ اور نام نہاد دولت اسلامیہ نامی تنظیم کے حملے بڑھتے جا رہے ہیں۔ اب جب کہ مغرب کے فوجی وسائل افغانستان میں دستیاب نہیں ہوں گے تو دہشت گرد عناصر کا افغانستان میں سدباب کیسے ممکن بنایا جائے گا؟یہ وہ سوچ ہے جو پاکستان کے فیصلہ سازوں کی نیندیں حرام کیئے ہوئے ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں اب اس بات کا چرچہ شروع ہو گیا ہے کہ پاکستان اب اپنا مشرقی بارڈر بھارت کے ساتھ محفوظ بنا کر مغربی سرحدوں پر زیادہ توجہ دے گا، اور ان دہشت گرد تنظیموں کے جھتے کو پاکستان سے دور رکھنے کی کوشش کر ے گا۔

    دوسری طرف سری لنکا کی کابینہ نے سرے عام برقعہ پہننےپر پابندی لگا دی ہے، کوئی بھی پبلک مقامات پر اپنے منعہ کو کپڑے سے نہیں ڈھانپ سکتا چاہے وہ مسلمانوں کا برقعہ ہی کیوں نہ ہو۔ سر لنکا کی کا بینہ نے اسے نیشنل سیکیورٹی کنسرن قرار دیتے ہوئے پابندی لگائی ہے جبکہ یہ انٹرنیشنل قوانین کی خلاف ورزی ہے اس سے پہلے ہم نے دیکھا تھا کہ سر ی لنکا مسلمانوں کو دفنانے کی بجائے انہیں زبردستی جلانے پر بضد ہے اور یہ سلسلہ کافی عرصہ سے جاری ہے۔ ہم سری لنکا کو بھارت سے دور کرنے اور چین کے قریب کرنے کے چکر میں بہت سے ہیومن رائٹس پر آنکھیں بند کیئے ہوئے ہیں لیکن کسی بھی مسلمان کو اس کی مذہبی آزادی سے محروم کرنا کسی صورت قابل قبول نہیں۔ اس حوالے سے ہمیں آواز اٹھانی چاہیے۔جبکہ سب سے بڑی خبر یہ ہے کہسعودی عرب کے ولی محمد بن سلمان نے اپنے دیرینہ دشمن ایران کے لیئے ایک صلح پسند رویہ اختیار کرنے کا اشارہ دیا ہے۔ جس میں ان
    کا کہنا ہے کہ ایران ہمارا ہمسائیہ ملک ہے اور ہم تہران کے ساتھ اچھے اور خاص تعلقات چاہتے ہیں۔ اور یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب ایران اور سعودی عرب کے درمیان عراق میں خفیہ بات چیت کی خبریں سامنے آ ئی ہیں
    دونوں ممالک مشرق وسطہ میں بڑے جارحانہ طریقے سے ایک دوسرے کے خلاف کام کر رہے ہیں اور ایران کے حوالے سے سعودی ولی عہد کا لہجہ پہلی مرتبہ نرم ہوا ہے۔ماضی میں محمد بن سلمان ایران اور ایرانی لیڈرز کے لیئے بڑی سخت زبان استعمال کر چکے ہیں۔ اور دونوں ممالک ایک دوسرے سے خطے میں بالا دستی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ دوہزار سولہ میں شیعہ رہنما شیخ نمر کی پانسی کے بعد ایران میں سعودی ایمبیسی پر حملے کے بعد دونوں ممالک میں تعلقات بہت زیادہ کشیدہ ہو گئے تھے۔

    محمد بن سلمان نے یہ انٹرویو ایک ٹی وی کو دیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ہم نہیں چاہتے کہ ایران کے حالات خراب ہوں ، بلکہ اس کے برعکس ہم چاہتے ہیں کہ ایران میں ترقی ہو اور پورا خطہ اور دنیا ترقی اور Prosperity
    کی جانب گامزن ہو۔تہران کے جوہری، میزائل پروگرام اور خطے میں مختلف پراکسیوں کی حمایت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے سعودی ولی عہد کا کہنا تھا کہ ’ہمارا مسئلہ ایران کا منفی رویہ ہے سعودی عرب علاقائی اور عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر تہران کےمنفی رویے کا حل تلاش کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔ہمیں امید ہے کہ ہم ان مسائل کا حل نکال لیں گے اور ایران کے ساتھ اچھے اور مثبت تعلقات استوار کریں گے جس سے تمام فریقین کو فائدہ ہو گاجیسا میں نے بتایا کہ اس سے پہلے محمد بن سلمان سے جب بھی ایران کا ذکر کیا جاتا تھا تو جواب میں محمد بن سلمان کا لہجہ بہت سخت رہا اور وہ تہران پر خطے میں عدم تحفظ بڑھانے کا الزام عائد کرتے آئے ہیں۔لیکن آپ دیکھیں کہ ایک طرف امریکہ مشرق وسطہ سے نکل رہا ہے دوسری طرف پاکستان بھارت سے صلح کر رہا ہے اور اب تو انتہا ہی ہو گئی ہے کہ سعودی عرب ایران سے صلح کی باتیں کر رہا ہے۔ بات دراصل یہ ہے کہ امریکہ کی ترجیحات کے ساتھ ساتھ پوری دنیا کی ترجیحات تبدیل ہو رہی ہیں۔ سعودی عرب کو اپنی حفاظت خود کرنے اور اپنے معاملات ٹھیک کرنے کا پیغام دے دیا گیا ہے۔ جبکہ پاکستان بھی امریکہ کے افغانستان سے نکلنے پر پریشان ہے اور اپنے دشمنوں میں کمی کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایسا لگتا ہے کسی نئے میدان جنگ کی دنیا تیاری کر رہئ ہے اور پرانی روشوں کو مٹا رہی ہے۔سعودی اور ایرانی عہدیداروں نے کشیدگی کو کم کرنے کے لیےعراقی وزیراعظم کی مدد سے اسی ماہ عراق میں براہ راست مزاکرات کیئے ہیں۔ جس میں یمن میں جاری جنگ، امریکہ سے جوہری معاہدے پر مزاکرات سمیت دیگر چیزیں زیر غور آئی۔ محمد بن سلمان نے امریکہ سے تعلقات کے حوالے سے واضح کیا ہے کہ سعودی عرب اپنے اندرونی معاملات میں کسی دباؤ یا مداخلت کو قبول نہیں کرے گا۔ جبکہ بائیڈن انتظامیہ سے جن معاملات پر اختلاف ہے اس کو حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    یمن کے تنازع کو سعودی عرب اور ایران کے مابین ایک ’پراکسی وار‘ کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو اس خطے میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی جنگ ہےیمن کے حوالے سے شہزادہ محمد بن سلمان کا کہنا ہے کہ کوئی ریاست اپنی سرحدوں پر مسلح ملیشیا کا وجود برداشت نہیں کر سکتی اس کے ساتھ ساتھ وہ حوثی باغیوں سے نہ صرف مزاکرات پر زور دے رہے ہیں جبکہ انہیں مزاکرات کی آفر بھی کی گئی ہے جس کا ابھی تک حوثی باغیوں نے جواب نہیں دیا ہے۔ اس حوالے سے جب سوال کیا گیا کہ مزاکرات کا فیصلہ بھی تہران نے کرنا ہے یا حوثی باغیون نے تو محمد بن سلمان کا کہنا تھا کہ حوثی یمن سے تعل رکھتے ہیں اور عرب نسل سے ہیں انہیں اپنے ملک کے مفادات کو مقدم رکھنا چاہیے اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ ان کے تہران کے ساتھ بہت گہرے تعلقات ہیں۔اس وقت دنیا کی سیاست اور ورلڈ آرڈر بڑی تیزی سے بدل رہا ہے اور ان حالات میں ہم توقع کر سکتے ہیں کہ جب امریکہ چین سے اپنی جنگ لڑنے میں مصروف ہے تو اس کے اتحادیوں کے اپنے اپنے خطے میں اپنی سیکیورٹی اور اپنے مسائل کے حل کے لیئے خود نہ صرف سوچنا ہو گا بلکہ اقدامات بھی کرنے پڑیں گے۔ ایران اور سعودی عرب کی اس ڈویلپمنٹ کو اپ اسی کھیل کی ایک کڑی سمجھ سکتے ہیں۔