Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • آر ایس ایس اور بے جی پی کا گھناؤنا منصوبہ بے نقاب،مودی کا بچھایا بارود پھٹ پڑا

    آر ایس ایس اور بے جی پی کا گھناؤنا منصوبہ بے نقاب،مودی کا بچھایا بارود پھٹ پڑا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ اس وقت آرایس ایس کی حمایت سے بی جے پی کی حکومت بھارت کے اندر انسانی تاریخ کا ایسا المناک کھیل کھیل رہی ہے جس کی بارے لکھتے ہوئے بھی مورخ یقینا شرمندگی محسوس کرے گا۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اگر دیکھا جائے تو آر ایس ایس کی صف اول کی قیادت میں محض نریندر مودی ، جنرل بپن راوت، اجیت ڈووال، موہن بھاگوت ، راج ناتھ سنگھ اور امت شاہ شامل ہے۔ یہ ٹولہ گذشتہ کافی عرصے سے سب کچھ منظم انداز میں کر رہا ہے ۔ کہانی کچھ یوں ہے کہ آر ایس ایس کے زیر اہتمام 2009 میں ایک تھنک ٹینک وجود میں آتا ہے جس کا بنیادی ہدف یہ قرار دیا جاتا ہے کہ 2025
    تک ہندو ازم کو سرکاری طور پر باقاعدہ بھارت کا ریاستی مذہب قرار دیا جا سکے۔ اس کے بانی سربراہ اجیت ڈووال مقرر کئے جاتے ہیں۔ اور اسی سال موہن بھاگوت آر ایس ایس کی باگ ڈور سنبھالتے ہیں اور اس کے پانچ سال کے بعد مودی کی قیادت میں بی جے پی بھارت میں بھاری اکثریت سے الیکشن جیت جاتی ہے اور اس کے بعد مودی وزیر اعظم بننے کے بعد جو سب سے پہلا کام کرتا ہے وہ اجیت ڈول کی تقرری کرتا ہے ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پھر بعد کی کہانی آپکو معلوم ہے کہ شہریت قانون ، بابری مسجد ، مقبوضہ کشمیر کو ضم کرنا ، سکھوں کو نکیل ڈالنا ۔ مسلمانوں کو دیوار کے ساتھ لگنا ، دلتوں کو سبق سکھنا ۔ سب کچھ ہنگامی بنیادوں پر کیا جاتا ہے ۔ اور ایسے نہ ختم ہونے والے کا سلسلہ اب بھی تسلسل کے ساتھ جاری ہے۔ حقیقت میں بھارت کی حکمراں جماعت بی جے پی کا جو لوگوں کے ساتھ سلوک ہے اس سے بھارت کا ایک بڑا طبقہ بہت مایوس ہے۔ میں آپکو بتاوں آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمون کے سربراہ اسد الدین اویسی تو بارہا کہہ چکے ہیں کہ
    گوڈسے نے تو صرف ایک گاندھی کو قتل کیا تھا لیکن موجودہ گوڈسے (نریندر مودی) نے پورے بھارت کو قتل کر دیا ہے۔ BJP کی زبان پر تو گاندھی کا نام ہوتا ہے مگر ذہن پر ان کا قاتل ناتھورام گوڈسے سوار ہے، BJP گاندھی کے نام کی دکان کھولے پورے بھارت کو بیوقوف بنا رہی ہے ۔ اس کے جو نتائج ہندوستان پر مرتب ہو رہے ہیں اور مزید ہونگے۔ ان کو آنے والا وقت مستقبل قریب میں واضح کر دے گا۔ یہ صرف اسد الدین اویسی ہی نہیں راہول گاندھی بھی شور مچا رہے ہیں کہ بی جے پی اداروں پر قابض امریکہ کیوں خاموش ہے۔ مگر یہاں اصل بات یہ ہے کہ بھارت میں یہ سب کچھ اچانک تو نہیں ہوا بلکہ اس کے آثار بہت حد تک نمایاں تھے ۔۔ 2005 میں انڈین انٹیلی بیورو کے چیف کی حیثیت سے ریٹائرمنٹ کے بعد ڈووال نے آر ایس ایس میں نہ صرف باقاعدہ شمولیت اختیار کر لی بلکہ عہد کیا کہ وہ اپنی تمام توانائیاں آر ایس ایس اور ہندو ازم کے فروغ میں صرف کر دے گا ۔ اسی سلسلے کی کڑی کے طور پر آر ایس ایس اور ’’را ‘‘کی مشترکہ تحریک Vivekananda International Foundation (وی آئی ایف) کے نام سے ایک ادارہ وجود میں آیا جو بادی النظر میں تو ایک تھنک ٹینک تھا لیکن در حقیقت اس میں ۔۔۔ را ۔۔۔ کا سابق چیف اروند گپتا، سابق ڈپٹی چیف آف آرمی سٹاف لیفٹینٹ جنرل (ر) آر کے ساہنی، ڈاکٹر شری رادھا دت، لیفٹیننٹ جنرل (ر) گوتم بینر جی، بریگیڈیئر (ر) ونود آنند، آر این پی سنگھ، ڈاکٹر وجے شکوجا، میجر جنرل (ر) پی کے ملک، تلک دویشر، سابق سفارتکار پربھات شکلا، سابق سیکرٹری خارجہ کنول سبل،سمیت بھارت کے صف اول کے دفاعی، ثقافتی، خارجی ، داخلی اور سفارتی امور کے ماہر اور ماہرین لسانیات شامل ہیں۔ یوں در حقیقت اس انتہا پسند مگر پر اسرار ادارے کو سپر راء کا نام دیا جائے تو غلط نہ ہو گا ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ یہ بات خاصی اہم اور توجہ طلب ہے کہ آر ایس ایس کی اس تنظیم نو کے دوسرے مرحلے میں آر ایس ایس سے وابستہ زیادہ شدت پسند عناصر نے دانستہ طور پر واجپائی ، جسونت سنگھ، یشونت سنہا، مرلی منوہر جوشی اور ایل کے ایڈوانی کو موثر ڈھنگ سے عملاً بے اثر کر دیا۔ بعض غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق واجپائی اور جسونت سنگھ کو تو باقاعدہ ذہنی اور جسمانی طور پر مفلوج کر دیا گیا تا کہ یہ نسبتاً اعتدال پسند سمجھی جانے والی شخصیات وی آئی ایف Vivekananda International Foundation پر انگلی نہ اٹھا سکیں۔ بہت سے لوگ تو یہ بھی مانتے ہیں کہ سشما سوراج اور ارون جیٹلی کے ساتھ بھی درحقیقت یہی کیا گیا کیونکہ دونوں افراد ایک سے زائد جگہ پر اس super raw کے بڑھتے اثر و رسوخ پر انگلی اٹھا چکے تھے۔ ۔ آپ بھارت کی سرکاری ٹی وی دور درشن نے آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھگوت کے سالانہ خطاب کو براہِ راست نشر کیا۔۔ آپکو بتاوں آر ایس ایس 1925 میں قائم کی گئی تھی جس پر آزادی کے بعد تین دفعہ پابندی عائد کی گئی ۔ پر اس وقت اس کا جادو پورے بھارت پر سرچڑھ کر بول رہا ہے ۔۔ آر ایس ایس کے نظریات سے متاثر مودی انڈیا کو ایک ہندو راشٹریا میں تبدیل کرکے مذہبی اقلیتوں کو دیوار سے لگانا چاہتے ہیں۔ یہ دراصل غیر ہندوؤں کو ہندوتوا کے لیے خطرہ مانتے ہیں۔آر ایس ایس بی جے پی کی ’ماں‘ ہے ۔ آر ایس ایس کئی تھنک ٹینک بھی چلاتی ہے۔ ان میں سے چند نامی گرامی صنعت کاروں اور کاروباری افراد کے فراہم کردہ سرمائے سے چلائے جاتے ہیں۔ آر ایس ایس نے کبھی انڈیا کے آئین کو دل سے قبول نہیں کیا اور بار بار مختلف حلقے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ ان کی ہمنوا پارٹی جب دو تہائی اکثریت سے حکومت میں آئے گی تو وہ اسے بدل دیں گے۔ ۔ اس کی ہمنوا تنظیموں کی ایک لمبی فہرست ہے جسے ۔۔۔ سنگھ پریوار۔۔۔ یعنی آر ایس ایس کا خاندان کہا جاتا ہے اور یہ دو درجن سے زیادہ پارٹیوں پر مشتمل ہے۔ ان میں بی جے پی یعنی بھارتیہ جنتا پارٹی ان کا سیاسی چہرہ ہے جبکہ اسی طرز پر بھارتیہ کسان سنگھ، بھارتیہ مزدور سنگھ وغیرہ ہیں۔ وہ پورے ملک میں شاکھا لگاتے ہیں جہاں لوگوں کو لاٹھی، تلوار، بھالے وغیرہ سے تربیت دی جاتی ہے۔ فی الحال ان کی تازہ رپورٹ کے مطابق پورے ملک میں 84 ہزار شاکھائیں لگتی ہیں جن میں سے تقریبا 60 ہزار روزانہ لگتی ہیں۔ ان میں انھیں جہاں عسکری تربیت دی جاتی ہے وہیں انھیں حالات حاضرہ سے باخبر رکھا جاتا ہے۔ ۔ یہ دنیا کی سب سے بڑی تنظیم کہلاتی ہے اس کے کارکنوں کی تعداد کروڑوں میں ہے۔ یہ بھارت میں ابتدائی تعلیم کے لیے سرسوتی ششو مندر کے طور پر تقریبا
    12000 سکول چلاتے ہیں جبکہ اتنے ہی سکول ودیا بھارتی کے نام سے ثانوی سطح کے چلاتے ہیں جہاں تقریبا 40 لاکھ بچے زیر تعلیم ہیں۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس لیے میں آپکو بغیر کسی شک و شبہے کے بتارہا ہوں کہ آر ایس ایس کو بھارتیہ جنتا پارٹی اپنی نظریاتی اساس یا بنیاد مانتی ہے۔ بی جے پی کے تمام پالیسیاں آر ایس ایس کی کوکھ سے جنم لیتی ہیں۔ اور ان دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے ۔ دوسری جانب یہ بھی ایک کھلا راز ہے کہ بھارت میں علیحدگی کی تحریکیں ہر آنے والے دن کے ساتھ زور پکڑتی جا رہی ہیں اور خصوصاً شمال مشرقی بھارت کے صوبوں یعنی ناگا لینڈ، میزورام، میگھالیہ، منی پور، تری پورہ ، ارونا چل پردیش ،سکم اور آسام میں تویہ باقاعدہ آزادی کی تحریکیں بن چکی ہیں۔ ۔ ماہرین کے مطابق ہندوستان کے چھ سو اضلاع میں سے 240 سے زائد ضلعوں میں نکسلائٹ تحریک زوروں پر ہے اور ہزاروں افراد اس کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ ایسے میں ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی سطح پر اس جانب توجہ دی جائے کیونکہ انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیاں جلد یا بدیر خطے میں کسی بڑے حادثے یا سانحے کا باعث بن سکتی ہیں۔ ابھی حال ہی میں چھتیس گڑھ میں ماؤ نواز باغیوں کے خلاف ہونے والے آپریشن میں 22 انڈین فوجیوں کی ہلاکت ایک طوفان کھڑا کر دیا ہے ۔ اتنی زیادہ تعداد میں فوجیوں کی ہلاکت کے باعث یہ پوچھا جا رہا ہے کیا یہ سٹریٹیجک غلطی تھی یا اسے انٹلیجنس سسٹم کی ناکامی سمجھا جانا چاہیے۔ کیا فوجیوں کے مابین باہمی رابطے کا فقدان تھا جس کی وجہ سے جدید ترین اسلحوں سے لیس دو ہزار سے زیادہ جوان چند سو ماؤ نوازوں کا مقابلہ نہیں کر سکے؟ ۔ تو نہ سٹریٹجک غلطی تھی نہ ہی انٹیلی جنس کی ناکام ۔ بھارتی فوج کی اہلیت ہی یہ ہے وہ صرف نہتے لوگوں پر ظلم وستم ہی کر سکتی ہے ۔ ویسے ہمیشہ بھارتی فوج ایسے ہی مار کھاتی ہے ۔ یہ کوئی نیا واقعہ نہیں اس علاقے میں ہمیشہ بھارتی فوج کو مار ہی پڑی ہے اور بہت سے فوجی تو یہاں ڈیوٹی لگ جانے سے فوج ہی چھوڑ کر بھاگ جاتے ہیں ۔

  • مریم کی سیاست کا سوئچ آف،پیپلز پارٹی کا آخری دھکا،نواز شریف کا یوٹرن، سنئے مبشرلقمان کی زبانی

    مریم کی سیاست کا سوئچ آف،پیپلز پارٹی کا آخری دھکا،نواز شریف کا یوٹرن، سنئے مبشرلقمان کی زبانی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ آج کی اس ویڈٰو میں ہم آپ کو بتائیں گے کے مسلم لیگ ن نے بڑے فیصلے کیئے ہیں اور ڈرائیونگ سیٹ بدلنے کا فیصلہ کیا ہے اس پر اب کون بیٹھے گا اور اس کے پیچھے نواز شریف کی کیا سوچ ہے؟

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ دوسرا جہانگیر ترین نے حکومت پر الزام لگایا ہے کہ اسے جان بوجھ کر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس میں کیا حقیقت ہے اور اس پر بھی بات کریں گے کہ عمران خان نے اپنے سب سے با اعتماد ساتھی جس نے وفاق سمیت پنجاب میں بھی تحریک انصاف کی حکومت بنانے میں اہم کردار ادا کیا اسے احتساب کی سولی پر کیوں چڑھایا اور اس کا انجام کیا ہو گا۔ اس کا نقصان عمران خان کو ہو گا یا جہانگیر خان ترین کو۔۔جھانسے کی رانی مریم نواز کے باہر جانے کی خبریں اب گردش کرنا شروع ہو گئی ہیں۔ کتنا بڑا اتفاق ہے کہ پی ڈی ایم بننے سے پہلے مریم کے جانے کی باتیں تھی یا اب پی ڈی ایم کے بعد۔ اس کی کیا حقیقت ہے۔ کیا مریم کی سیاست کا سوئچ آف کر دیا گیا ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ایک طرف لوگ مہنگائی ، بے روزگاری اور غربت سے سخت پریشان ہیں ، اور ہر روز کسی نہ کسی شہر سے خود کشی کی خبریں آ رہی ہیں تو دوسری طرف حکومت اور اپوزیشن اپنے کھیل میں مصروف ہیں۔ ہر روز ایک سے ایک ایسی خبر ملتی ہے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ پہلے ہم ماضی دفن کر کے بھارت کے ساتھ اگے چلنے کی بات کرتے ہیں اور پھراس معاملے کو ایسا مزاق بناتے ہیں کہ ذاتی اختلافات میں دفن پی ڈی ایم کو بھی بات کرنے کے لیئے کچھ نہ کچھ مل جاتا ہے۔بھارت سے تجارت کے معاملے پر جو ہوا ٹھیک ہوا ایسا ہی ہونا چاہیئے لیکن اس سے پہلے جو سب کچھ ہوا وہ کیا تھا کیا عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ دنیا کو یہ تاثر کیوں دیا جا رہا ہے کہ حکومت پاکستان اپنی پالیسیوں پر تذبزب کا شکار ہے۔ کبھی ہاں کبھی ناں۔۔ حکومت کے امیج کو بری طرح متاثر کر رہی ہے۔ لیکن اس سب کے باوجود پی ڈی ایم ایک طرف حکومت پر تیر برسا رہی ہے تو دوسری طرف اپنی صفیں بھی تتر بتر کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ایک طرف رانا ثنا اللہ کہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کا اقدام نا قابل معافی ہے تو دوسری طرف بلاول کہتے ہیں کہ اپوزیشن ، اپوزیشن کے خلاف ہی مورچہ سنبھالے بیٹھی ہے۔مریم کی خاموشی یہ بتا رہی ہے کہ مسلم لیگ کی ڈرائیونگ سیٹ بدل چکی ہے اور مفاہمتی سیاست کے لیئے ڈرائیونگ سیٹ پر شہباز شریف آ چکے ہیں، جب تک ان کی ضمانت نہیں ہوتی چیزیں حمزہ شہباز دیکھیں گے اور مریم نواز بیمار ہی رہیں گی۔ یہ میاں نواز شریف اور مریم کی اہم خاصیت ہے کہ ایسے معاملات جس سے عوام پر منفی اثر پڑ سکتا ہے اس معاملے میں جھوٹ اور ڈرامہ کرنے کے ماہر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب ان کے خاندان میں کوئی واقعی بیمار ہو جاتا ہے تو بھی لوگ یقین کرنے سے قاصر ہوتے ہیں۔ڈاکٹر عدنان کو لندن سے بلانے اور مریم نواز کی بچپن کی بیماریان گنوانے کا مقصد ہی یہ ہے کہ لوگوں کو یقین آ جائے کہ مریم واقعی بیمار ہے۔ اس وقت ن لیگ نے تمام اختلافات کے باوجود پی ڈی ایم کو قائم رکھنے میں اپنی عافیت سمجھی ہے اسی لیئے جوشیلے لیڈر بیک سیٹ پر اور نرم مزاج فرنٹ سیٹ پر آ رہے ہیں۔ حمزہ شہباز کو ان کے والد نے پنجاب میں کسی بھی قسم کی چھیڑ چھاڑ اور عدم اعتماد سے روک دیا ہے اور انتظار کرنے کا کہا ہے۔ ویسے بھی یہ بات کس کو نہیں پتا کہ بزدار کی کارکردگی جس طرح پنجاب میں تحریک انصاف کی مقبولیت میں کیل ٹھوک رہی ہے اور جس طرح اس کا فائدہ ن لیگ کو ہو رہا ہے، اگلی حکومت حاصل کرنے کے لیئے ن لیگ کے مفاد میں یہی ہے کہ اسے نہ چھیڑا جائے۔ اس سے پنجاب کے ساتھ ساتھ وفاق بھی ن لیگ کے ہاتھ میں آنے کے چانسز ہیں۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ کیا اب میاں نواز شریف سے کوئی پوچھے گا کہ اب کیوں خاموشی اختیار کی ہوئی ہے کیا انہوں نے تمام مقاصد حاصل کر لیئے ہیں یا کسی مصلحت کے تحت خاموش ہیں۔ کیا کسی جدوجہد میں مقاصد حاصل کرنے کے لیئے صحیح موقع کی تلاش کرنی پڑتی ہے۔اس وقت میاں صاحب کی اخلاقی پوزیشن کیا ہے۔ جب دل کرے مذاحمتی سیاست اور جب دل کرے مفاہمتی سیاست۔ کیا آپ نے اس ملک، عوام اور جمہوریت کو سرکس سمجھا ہوا ہے۔ اپنی ترقی اوربرے حالات کی خودساختہ جھوٹی کہانیاں سنا سنا کر پورے معاشرے کو مایوسی اور عد برداشت کے اندھیروں میں جھونک دیا گیا ہے۔ سیاسی مداری رنگ رنگ کی بولیاں بولتے ہیں اپنے لیڈروں کی بڑی سے بڑی غلطیوں کا دفاع کرتے ہوئے بڑی ڈھٹائی اور بے شرمی کے ساتھ ان کی تعریفوں کے پل باندھتے ہیں تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔ اور ایسا لگتا ہے کہ پاکستان مین جمہوریت کو دفن کرنے والے شاید یہی لوگ ہیں ۔ چیخیں مار مار کر عوام کو یقین دلواتے ہیں کہ ان کے لیڈروں نے جو کچھ بھی کیا وہ عوامی فلاح وبہبود اور ملکی بہتری کے لئے ہی کیا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ترقی کے نام پر ریاستی وسائل کا استعمال کبھی بھی ان کی بہتری کے لئے نہیں کیا گیا۔ غریب عوام کی بہتری کے لئے خرچ کی گئی رقم کے پیچھے بھی ان سیاسی رہنمائوں کی ناجائز کمائی میں اضافہ کرنا مقصود ہوتا تھا جنہوں نے ہمیشہ اقتدار کے مزے لئے اور لوٹ کھسوٹ کے بعد چلتے بنے۔
    تین دفعہ وزیر اعظم اور دو دفعہ وزیر اعلی بننے کے باوجود بھی اس ملک کی محرومیوں کا ذمہ دار کسی اور کو ٹھراتے ہیں۔بحرحال یہ ایک لمبی کہانی ہے جو میں آپ کو آہستہ آہستہ، قسطوں میں سناتا رہوں گا تاکہ ان کا جھوٹ اپ کے ذہنوں میں گھر نہ کر پائے۔اس وقت گرما گرم خبر ہے کہ جہانگیر خان ترین نے الزام لگایا ہے کہ منصوبے کے تحت چیزیں لیک کی جاتی ہیں۔ 2 دن بعد کچھ ہونا ہوتا ہے، اسے لیک کر کے میڈیا کو دے دیا جاتا ہے۔ تینوں مقدمات میں چینی کی قیمت بڑھنے کا کوئی تعلق نہیں، 6 سے 10 سال پہلے کی کمپنی کے فیصلوں کو چیلنج کیا جا رہا ہے۔ ان فیصلوں کو چیلنج کرنا ایف آئی اے کا کام نہیں ہے، جان بوجھ کر ایف آئی اے کو کیس دیا گیا ہے۔
    منی لانڈرنگ کا ایک لفظ ڈال کر اس کو کریمنل کیس بنا دیا گیا ہے، ہم عدالت میں اپنی صفائی پیش کریں گے۔ہم یہاں عدالت میں پیش ہوگئے ہیں، پوری طرح مقابلہ کریں گے۔جہانگیر ترین کی اس ساری گفتگو کا مقصد یہ ہے کہ حکومتی ادارے ایف ائی اے کو کیس دینے کا مقصد انہیں سیاسی طور پر نقصان پہنچانا ہے اور یہ سب کچھ حکومت کر رہی ہے۔ یہ بات سوچنے کی ہے کہ حکومت ایسا کیوں کر رہی ہے۔
    اور وہ بھی اس شخص کے خلاف جس نے عمران خان کی حکومت بنانے کے لیئے خوب جوڑ توڑ کی، اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ معاملات کو آگے بڑھایا، پنجاب کی حکومت بنوانے اور آزاد امیدوار گھیرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ جبکہ عمران خان کی قابینہ میں ابھی بھی ایسے وزیر ہیں جن کا نام چینی اسکینڈل میں آرہا ہے لیکن ان کو اس سے بری الزمہ قرار دے دیا گیا ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس حوالے سے بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ مالدار لوگوں پر کرپشن کا الزام لگانا آسان ہوتا ہے اور عمران خان نے اپنی پارٹی کے دو مالداروں علیم خان اور جہانگیر ترین کی اسی لیئے قربانی دے دی کہ یہ Narrative built کیا جا سکے کہ احتساب سب کا ہو گا۔ اور اس حوالے سے عمران خان کو یقین دلوایا گیا ہے کہ ان کے حوالے سے دال میں کچھ نہ کچھ کالا ہے، علیم خان یہ امتحان پاس کر چکے ہیں جبکہ جہانگیر ترین کا جاری ہے۔ جہانگیر ترین کے بیان کے بعد مشیر احتساب اور داخلہ شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ شوگر انکوائری کمیشن کی رپورٹ مئی 2020 میں آئی تھی، رپورٹ میں منی لانڈرنگ اور دیگر معاملات سامنے آئے، جہانگیر ترین کو کچھ خدشات ہیں کہ شاید ان کو ٹارگٹ کیا جارہا ہے۔ وفاقی حکومت نے شوگر کمیشن کی رپورٹ پر کارروائی کی منظوری دی تھی ، منسٹری آف انڈسٹریز کو کارروائی تفویض کی گئی۔ احتساب کا کام آسان نہیں اس میں آپ دوست نہیں بناسکتے۔کمیشن کی رپورٹ پر کارروائی کو اسلام آباد، لاہور اور سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج کیا گیا، تینوں جگہوں سے قرار پایا کہ یہ کارروائی قانون کے مطابق ہے
    بحرحال اس بات کا فیصلہ تو آنے والا وقت کرے گا کہ عمران خان کو اپنے سب سے با اعتماد ساتھی کو احتساب کی دلدل میں دھکیلنے کا فائدہ ہوتا ہے یا نقصان۔۔ لیکن میرا یہ خیال ہے کہ شوگر اسکینڈل میں جہانگیر ترین باعزت بری ہو جائیں گے لیکن اس وقت تک میڈیا پر ان کی عزت تاتار ہو چکی ہو گی اور وہ پوری دنیا کے سامنے ایک کرپٹ کے طور پر ذہن نشین ہو چکے ہوں گے۔

  • سرکاری کرپشن کا بے تاج بادشاہ،سسلین مافیا کتنا طاقتور تھا ؟ تہلکہ خیز انکشاف مبشر لقمان کی زبانی

    سرکاری کرپشن کا بے تاج بادشاہ،سسلین مافیا کتنا طاقتور تھا ؟ تہلکہ خیز انکشاف مبشر لقمان کی زبانی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ سسلی اپنے جرائم پیشہ گروہوں کی وجہ سے دنیا بھر میں بدنام ہے۔ سسلی کے سب سے بڑا جرائم پیشہ گروہ کو cosa nostra کہا جاتا مگر دنیا اسے سسلین مافیا کے نام سے جانتی ہے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ یہ مافیا منشیات، قتل و غارت گری، سمگلنگ، ڈکیتیاں، قمار بازی، اغوا، جسم فروشی اور منی لانڈرنگ سمیت ہر قسم کی غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث رہا۔ اپنی بے تحاشہ دولت کے ذریعے یہ مافیا اٹلی، برطانیہ اور امریکہ سمیت یورپ کے متعدد ممالک کی نہ صرف حکومتوں میں شامل ہے بلکہ معیشت میں بھی اس کا اثر پایا جاتا ہے۔ دراصل سسلی بحیرہ روم کا ایک جزیرہ ہے جو اٹلی کے وجود میں آنے سے پہلے آزاد اور خود مختار تھا۔ اس جزیرے پر عربوں، ہسپانویوں اور فرانسیسیوں سمیت دوسری قوموں کا قبضہ رہا۔ جزیرہ سسلی کے رہنے والوں نے اپنے آپ کو غیر ملکی حملہ آوروں سے بچانے کے لیے گروپس بنائے۔ اپنے مذہب، تہذیب اور ثقافت کو محفوظ رکھنے اور جزیرے پر اپنی اجارہ داری قائم رکھنے کی دوڑ میں یہ حملہ آور مختلف قبیلوں میں تقسیم ہوگئے۔ اقتدار کی جنگ میں سینکڑوں لاشیں گریں، اسلحے کے زور پر قبیلوں نے ایک دوسرے کو لُوٹنا شروع کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ سِسلی خوف اور حیوانیت کی علامت بن گیا۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ان قبیلوں نے اپنا سزا اور جزا کا نظام بنایا، یہ اپنے کاموں کو خفیہ رکھتے تھے اور آج بھی اپنے اصولوں کی پاسداری کرتے ہیں۔ سسیلیئن مافیا کے قبیلوں کا اپنا سربراہ ہوتا اور کسی سربراہ کے مرنے کے بعد اس کا بیٹا سربراہ بنتا ۔ وقت گزرتا گیا اور اِٹلی نے سِسلی پر قبضے کی کوشش شروع کردی۔ جیسے ہی اٹلی نے قبضے کا منصوبہ بنایا تو سِسلی کے تمام قبیلے اٹلی کے خلاف اکٹھے ہوگئے۔ چنانچہ اِٹلی نے حملے کا منصوبہ ختم کردیا اور سِسلی کے قبیلوں کے ساتھ مذاکرات شروع کردیے۔ مذاکرات کامیاب ہوئے اور 1861ء میں سِسلی متحدہ اٹلی کا صوبہ بن گیا۔ بعد ازاں اِن قبیلوں کو سسلین مافیا کہا جانے لگا۔ ۔ انیسویں صدی تک ’مافیوز‘ کا لفظ کسی مجرم کے لیے استعمال نہیں ہوتا تھا بلکہ وہ شخص جو مشکوک ہو اس کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ لیکن مافیا اس وقت مقبول ہوا جب قیدیوں پر ظلم کے بارے میں ایک ڈرامہ سامنے آیا جس میں مافیا کا لفظ استعمال ہوا ۔ یہ ڈرامہ اٹلی میں اِس قدر مشہور ہوا کہ ہر خاص و عام کے منہ پر مجرموں کے منظم گروہوں کے لیے مافیا کا نام آنے لگا، مگر سرکاری سطح پر مافیا لفظ پہلی مرتبہ 1865ء میں
    Filippo Antonio Gwalior کی سرکاری رپورٹ میں لکھا گیا۔ اِس رپورٹ کے بعد سِسلی کے منظم جرائم پیشہ گروہوں کو سِسلین مافیا لکھا پڑھا اور کہا جانے لگا۔ یہ مافیا اتنا مضبوط تھا کہ اس وقت کی حکومت نے بھی ان سے مدد لی تھی۔ حکومت نے سِسلی کو مافیا کے بغیر چلانے کی کوشش کی لیکن ہر طرف بے چینی، لوٹ مار اور سِسیلین عوام کے مافیا پر اعتماد نے حکومت کو ناکام کردیا۔ لہٰذا رومن عہدیداروں نے سِسلی کو چلانے کے لیے سِسیلین مافیا سے باضابطہ مدد مانگ لی۔ سِسلی مافیا اور حکومت کے مابین معاہدہ ہوا جس کے مطابق حکومت اور سِسلین مافیا ایک دوسرے کو سپورٹ کریں گے۔ حکومت کا خیال تھا کہ یہ معاہدہ عارضی ہوگا اور حکومت کے پاؤں مضبوط ہوتے ہی مافیا سے جان چھڑا لی جائے گی مگر حکومت کے سارے اندازے غلط ثابت ہوئے۔ مافیا کمزور ہونے کے بجائے مزید مستحکم ہوگئی اور انہوں نے طاقت کے ایوانوں، بیوروکریسی، آرمی، پولیس اور یہاں تک کہ خفیہ ایجنسیوں میں بھی اپنے لوگ بھرتی کرنے شروع کردیے۔ مافیا سرکاری کرپشن میں ماہر ہوگیا، وہ عوام کو مخصوص لوگوں کو ووٹ دینے کا حکم دیتا اور پھر وہ مخصوص لوگ بدلے میں مافیا کو سرکاری سپورٹ دیتے تھے۔ یہاں تک کہ کیتھولک چرچ بھی مافیا کی سپورٹ کرتے تھے اور اپنی زمینوں اور عمارتوں کی حفاظت کے لیے بھی سِسلین مافیا کے مرہون منت تھے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ مافیا کو مزید مضبوط کرنے کے لیے مافیا چیف نے حلف لینے کی تقاریب منعقد کروانا شروع کردیں۔ اس تقریب میں ہر نئے آنے والے مافیا ممبر سے حلف لیا جاتا تھا۔ اس حلف نامے کو (Omerta) کہا جاتا تھا۔ اومرٹا خاموشی اور راز کی ایک کتاب تھی جو مافیا ارکان کو اپنے چیف کا حکم نہ ماننے سے روکتی تھی اور (Omerta) کے خلاف جانے والوں کی سزا موت تھی۔ یہی نہیں بلکہ انحراف کرنے والوں کے ساتھ ساتھ ان کے رشتہ داروں کو بھی موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا تھا۔ حلف لینے والا پابند تھا کہ وہ اگر کسی جرم کا شکار ہوتا ہے تو وہ کسی کو اپنی تکلیف کے بارے میں نہیں بتائے گا بلکہ خود اس جرم کا بدلہ لے گا اور اگر وہ کسی سے شکایت کرے گا تو اُسے بزدل سمجھا جائے گا اور اس سے تمام مراعات واپس لے لی جائیں گی۔ حلف لینے والوں پر منشیات کے استعمال کی پابندی تھی کیونکہ منشیات استعمال کرنے کے بعد خُفیہ معلومات کے لیک ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، لہٰذا مافیا ارکان منشیات کا کاروبار تو کر سکتے تھے لیکن اس کا خود استعمال نہیں کر سکتے تھے۔ مافیا کے لوگوں پر کسی بھی طرح کی تحریر لکھنے کی پابندی تھی تاکہ دورانِ تفتیش پولیس کے ہاتھ کوئی ثبوت نہ لگ سکے۔ سِسلین مافیا کے ممبران کے علاوہ (Omerta) کا اطلاق اُن عام لوگوں پر بھی ہوتا تھا جو مافیا سے کسی بھی طرح کی مدد حاصل کرتے تھے یا مسائل کے حل کے لیے مافیا کے پاس مدد کے لیے آتے تھے۔ (Omerta)
    کے مطابق جرم کے عینی شاہد کو موقعے پر ہی گولی مار دینے کا حکم تھا۔ سِسلین مافیا کے ممبران پر دوستوں کی بیویوں کو دیکھنے پر پابندی تھی، کلب اور پب جانے پر پابندی تھی، جب مافیا ارکان کو بلایا جائے تو وہ سارے کام چھوڑ کر cosa nostra آجائیں چاہے ان کی بیوی بچے کو جنم ہی کیوں نہ دے رہی ہو۔ بیویوں کو ہر قیمت پر عزت دی جائے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ شخص سِسلین مافیا کا حصہ نہیں بن سکتا جو لوگوں سے بدتمیزی سے پیش آتا ہو اور اخلاقاً بُرا ہو۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ سِسلین مافیا کا عروج 1920 تک قائم رہا، جس کے بعد سسلین مافیا کے بُرے دنوں کا آغاز ہوگیا۔ لیکن جب مسولینی کی حکومت آئی تو اس کے خلاف کریک ڈاؤن کیا۔ اس کریک ڈاؤن نے سِسلین مافیا کو جڑ سے اکھاڑ دیا اور دیکھتے ہی دیکھتے سِسلین مافیا ماضی کا قصہ بن گیا۔ مگر 1950 میں دوسری جنگ عظیم کے بعد سِسلین مافیا نے پھر سے سر اُٹھانا شروع کردیا۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد سِسلی میں بڑے پیمانے پر تعمیرات اور رئیل اسٹیٹ کا کام شروع ہوا تو سِسلین مافیا نے ہر ٹھیکے میں سے بھتہ وصول کرنا شروع کردیا۔ 1970 تک سسلین مافیا نے پوری دنیا میں اپنے قدم جمائے اور دیکھتے ہے دیکھتے وہ اپنا اثرو رسوخ قائم کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ سِسلین مافیا کے ساتھ دیگر مافیا گروہوں نے بھی سر اٹھانا شروع کیا اور 1980 تک چھوٹے مافیا گروہ سسلین مافیا کے لیے دردِ سر بننے لگے۔ سسلین مافیا کے خلاف ایک طویل عرصے تک کارروائی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ ان کے خلاف کارروائی کرنے والے افسران اور کیسز کی سماعت کرنے والے ججز تک کو قتل کر دیا جاتا تھا۔ سالہا سال سے خوف کی علامت بنے رہنے والے اس مافیا کے متعلق متعدد کتابیں لکھی گئیں۔ سسلین ڈان Bernardo Provenzano پر اطالوی مصنف Mario Pozzo کا ناول اور اس پر بنائی گئی
    Marilyn Brando کی مشہور زمانہ فلم گاڈ فادر نے اس مافیا کو دنیا بھر میں شہرت بخشی۔ 1980 کی دہائی میں سسلین مافیا کی کمان
    Toto Riina کو دے دی گئی۔ توتو اپنے حریفوں کے لیے موت کا فرشتہ ثابت ہوا اور اپنے خوف کی دھاک بٹھانے کے لیے اس نے دیگر مافیا گروہوں کو سرِعام قتل کروانا شروع کردیا۔ سسیلیئن مافیا اپنے سربراہ کے دور میں اٹلی کی ریاست کے ساتھ جنگ میں تھا۔ 1990
    کی دہائی میں توتو کے خلاف کیس کرنے والوں، سننے والوں اور گواہی دینے والوں کو سرِ عام قتل کرنا شروع کردیا گیا۔ مثال کے طور پر اٹلی حکومت نے آرمی جزل Carlo Alberto Della کو سسلین مافیا کو ختم کرنے کے لیے سِسلی بھجوایا۔ مافیا نے اسے کچھ ہی عرصے میں بیوی اور ڈرائیور سمیت قتل کردیا۔ 23 دسمبر 1984 کو توتو نے ٹرین میں بم دھماکہ کروایا جس کی نتیجے میں 17 معصوم لوگوں کی جان گئی اور 270 سے زائد لوگ زخمی ہوئے۔ پھر Toto Riina کے اہلکاروں نے سرکاری وکیل، ان کی اہلیہ اور دو محافظوں کو ایک بم دھماکے میں ہلاک کر دیا تھا۔۔ اس کے بعد میکسی ٹرائل کے مشہور زمانہ جج جووانی فالکن کو بیوی اور تین پولیس افسروں سمیت 23
    مئی 1992 کو سِسلین مافیا نے توتو کے خلاف کیس سننے پر اسے بم حملہ کر کے قتل کردیا۔ اس قتل کے ٹھیک 57 دنوں بعد فالکن کے ساتھی جج Paulo Borcelino کو بھی سِسلین مافیا نے بم دھماکے میں قتل کردیا۔ مافیا کو قابو کرنے لے لیے سسلی میں اٹلی کی کمیونسٹ پارٹی کے سیکریٹری Pio la Toure نے مافیا کے خلاف نیا قانون متعارف کروایا۔ سِسلین مافیا نے 30 اپریل 1982 کو اسے قتل کردیا۔ ۔ اسی وجہ سے Toto Riina کو Beast اور Boss of the Bosses بھی کہا جاتا تھا۔لیکن maxi trial قانون منظور ہوا اور حکومت نے مافیا کا اثر ختم کرنے کے لیے Maxi trial کے نام سے دنیا کا سب سے بڑا ٹرائل شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔ Maxi trial کو آج تک دنیا میں مافیا کے خلاف سب سے بڑا ٹرائل مانا جاتا ہے۔ یہ ٹرائل 1986 کو شروع ہوا اور 1992 کو ختم ہوا۔ اس ٹرائل نے سسلین مافیا کو جڑ سے اکھاڑ دیا اور اس کے بعد سسلین مافیا دوبارہ سر نہیں اٹھا سکا۔ 2014 میں اس وقت کے اطالوی صدر نے ایک مقدمے کے دوران الزام لگایا تھا کہ ریاستی افسران نے مافیا کے ساتھ ایک خفیہ معاہدہ کیا تھا اور حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے اسی معاہدے کے تحت 1990
    کی دہائی میں دھماکے کیے تھے۔۔ سینکڑوں قتل اور دیگر سنگین جرائم میں ملوث اس ڈان کو 1993 میں گرفتار کیا گیا اور اسے 26
    بار عمر قید کی سزا سنائی گئی تاہم وہ 17 نومبر2017 کو جیل میں کینسر کے ہاتھوں زندگی ہار گیا۔ سسیلیئن مافیا کے سربراہوں کو اٹلی کی حکومت نے وقتاً فوقتاً گرفتار کیا ہے اور ان پر مقدمے بھی چلائے گئے لیکن اس کا وجود آج بھی موجود ہے۔توتو کے بعد Lioloka Pegirila کو مافیا کا سربراہ بنایا گیا۔ 1995 میں Lioloka Pegirila کی گرفتاری کے بعد Brandando Provenzano کو سِسلین مافیا کا سربراہ بنا دیا گیا۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس دور میں سِسلین مافیا چھوٹے پیمانے پر خاموشی سے کام کرتا رہا اور عوام اور ججوں کو سرِعام قتل کرنے کی پالیسی ختم کردی گئی۔ 2006 میں Brandando Provenzano کو گرفتار کرلیا گیا اور سِسلین مافیا کی سربراہیMatthew Messina Dinaro کو سونپ دی گئی۔ اس کا نام دنیا کے دس سب سے خطرناک مجرموں کی فہرست میں شامل ہے اور آج کی تاریخ تک
    Matthew Messina Dinaro ہی سسلین مافیا کا سربراہ ہے۔ Toto Riina کی موت کے بعد کہا جاتا ہے کہ اس جیسا طاقتور ڈان اب کوئی دوسرا نہیں ہوسکتا۔ ڈیڑھ سو سال سے دہشت کی علامت بنا ہوا سسلین مافیا گو کہ اب پہلے کی طرح طاقتور نہیں رہا مگر اب بھی دنیا کے بہت سے حصوں میں ہونے والے سنگین جرائم کی کڑیاں کسی نہ کسی صورت اس مافیا سے جا ملتی ہیں

  • روسی وزیر خارجہ سے ملاقات میں وزیراعظم نے دیا روسی صدر کیلیے اہم پیغام

    روسی وزیر خارجہ سے ملاقات میں وزیراعظم نے دیا روسی صدر کیلیے اہم پیغام

    روسی وزیر خارجہ سے ملاقات میں وزیراعظم نے دیا روسی صدر کیلیے اہم پیغام

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان سے روسی وزیرخارجہ سرگئی لوروف کی ملاقات ہوئی ہے

    ملاقات میں دوطرفہ تعلقات اور خطے اوربین الاقوامی معاملات پرتبادلہ خیال کیا گیا،وزیراعظم عمرا ن خان نے افغانستان تنازع کے سیاسی حل پرزور دیا وزیراعظم نے افغان امن عمل کے فروغ میں رو س کی کوششوں کی تعریف بھی کی،وزیراعظم نے شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس میں روسی صدر سے ملاقات کا ذکربھی کیا

    وزیراعظم عمران خان کا کہناتھا کہ پاکستان روس سے تعلقات کو اہمیت دیتا ہے، پاک روس تعلقات پاکستانی خارجہ پالیسی کی ترجیحات میں شامل ہیں،وزیراعظم عمران خا ن نے روسی صدر پیوٹن کو دورہ پاکستان کی دعوت کا پیغام بھی بھیجا،ملاقات میں وزیراعظم عمران خا ن نے مسئلہ کشمیر کے پر امن حل پر پاکستان کا موقف پیش کیا

    وزیراعظم نے تجارت، توانائی، سلامتی اور دفاع کے شعبوں میں پاک روس تعلقات پراظہار اطمینان کیا،وزیراعظم نے نارتھ ساوَتھ گیس پائپ لائن پراجیکٹ پر جلد کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا،ملاقات میں مشرق وسطیٰ ، خلیجی ممالک سمیت خطے کی مجموعی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا

  • فرانسیسی سفیر کی ملک بدری:قرارداد منظوری کی تجویز پرغورکےلیے وزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس

    فرانسیسی سفیر کی ملک بدری:قرارداد منظوری کی تجویز پرغورکےلیے وزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس

    اسلام آباد: فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کیلئے قرارداد منظوری کی تجویز پر غورکےلیے وزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس ،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت ایک اہم اجلاس جاری ہے ہے جس میں‌ آج اہم فیصلے ہونے کی امید کی جارہی ہے ،

    معتبر ذرائع کے مطابق وزیراعظم کے زیرصدارت اس اجلاس میں تحریک لبیک کے ساتھ معاہدے پر عملدرآمد کی حکمت عملی پر غور کیا گیا ہے جس کے تحت تحریک لبیک کے ساتھ کئے گئے معاہدے کے مطابق فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کیلئے قرارداد منظوری کی تجویز پر غور کیا گیا،

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس اہم اجلاس میں تحریک لبیک پاکستان کےمطالبات پر مشتمل قرارداد عیدسے پہلے پارلیمنٹ میں پیش کرنےکا فیصلہ کا فیصلہ کیا گیا ہے

    یہ بھی معلوم ہو اہےکہ اس مشکل صورت حال کوبہتر انداز سے حل کرنےکے لیے تحریک لبیک کے ساتھ معاہدے پرعملدرآمد کے لیے کمیٹی دیگر جماعتوں سے بھی بات کرے گی

  • جہانگیر ترین کے ساتھ اراکین اسمبلی عدالت جانے پر حکومت کا ردعمل بھی آ‌گیا

    جہانگیر ترین کے ساتھ اراکین اسمبلی عدالت جانے پر حکومت کا ردعمل بھی آ‌گیا

    جہانگیر ترین کے ساتھ اراکین اسمبلی عدالت جانے پر حکومت کا ردعمل بھی آ‌گیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق عدالت پیشی کے موقع پر تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی کے جہانگیر ترین کے ساتھ جانے پر حکومت کا رد عمل آ گیا ہے،وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ اراکین قومی وصوبائی اسمبلی کے جہانگیر ترین کے ہمراہ عدالت جانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا،

    شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ جے ڈبلیو بی کی ملکی چینی کی پیدوار میں 20 فیصد حصہ ہے،چینی مافیا کے خلاف 10 ایف آئی آر درج ہوچکی ہیں،اگرآپ کانعرہ احتساب کاہے تویہ نہیں ہوسکتا ہے دوسروں کا کریں اپنا نہ کریں، کسی گروہ یا کسی ایک شخص کو نشانہ نہیں بنایا جا رہا ،جے ڈی ڈبلیو کا منی لانڈرنگ کا معاملہ 8ارب رو پے کا بنتا ہے ،شریف فیملی کا منی لانڈرنگ کا معاملہ25 ارب روپے کا بنتا ہے ،میں نہیں بتاسکتا کہ جہانگیر ترین کا اشارہ کس کی جانب تھا،جہانگیر ترین ہمارے اپنے ہیں ان کے تحفظات ہیں ،وزیراعظم عمرا ن خان کا موقف ہے جب سوال کیاجائے تو جواب دیا جائے گا،پی ٹی آئی میں جتنی جمہوریت ہے کسی اور جماعت میں نہیں ،قانون عمل کو پارٹی نہیں چلاتی، ہم نے من پسند افراد کو اداروں میں تعینات نہیں کیا،ہم قانونی معاملات میں مداخلت نہیں کرتے

    پی ڈی ایم فیل، بی آر ٹی پر چیلنج، وفاقی وزیر دفاع نے جہانگیر ترین بارے اہم دعویٰ کر دیا

    جہانگیر ترین چینی بحران کے ذمہ دار، شہری عدالت پہنچا، عدالت نے کیا حکم دے دیا

    جہانگیر ترین 100 فیصد ڈیل کر کے آئے، اب جوڑ توڑ ہو گی، اہم شخصیت کا بڑا دعویٰ

    چینی کی قیمتوں میں اضافے پر سینیٹ میں بھی تحقیقات کا مطالبہ

    جہانگیر ترین کے حق میں تحریک انصاف کی کونسی شخصیت کھل کر سامنے آ گئی، بڑا مطالبہ کر دیا

    چینی بحران رپورٹ، وزیراعظم کیخلاف تحریک عدم اعتماد آ سکتی ہے یا نہیں؟ شیخ رشید نے بتا دیا

    چینی بحران رپورٹ ، جہانگیر ترین پھر میدان میں آ گئے ،بڑا دعویٰ کر دیا

    چینی بحران رپورٹ، جہانگیر ترین کے خلاف بڑا ایکشن،سب حیران، ترین نے کی تصدیق

    جہانگیر ترین کو عدالت سے بڑی خوشخبری مل گئی

    لاہور ہائیکورٹ نے جہانگیر ترین اور شریف فیملی کو دیا ایک ساتھ بڑا جھٹکا

    دوسری جانب جہانگیر ترین سے رابطے رکھنے والے پی ٹی آئی ارکان کی فہرست تیار کر لی گئی ہے،نجی ٹی وی کے مطابق پی ٹی آئی کے کئی ارکان اسمبلی کے جہانگیر ترین سے رابطے ہیں اور اس سلسلے میں وزیراعلی پنجاب آج اسلام آباد میں وزیراعظم سے ملاقات کریں گے جس میں وہ پنجاب حکومت کی فہرست وزیراعظم کو پیش کریں گے۔ ذرائع کا بتانا ہےکہ جہانگیر ترین سے رابطے رکھنے والے ارکان اسمبلی سے متعلق فیصلہ وزیراعظم کریں گے۔

    جہانگیر ترین کردار ادا نہ کرتے تو خان صاحب …..اب زیادتی بند کروائیں،مطالبہ آ گیا

  • این اے 249 ضمنی الیکشن، بڑی جماعت کا پی پی کو دھوکا،ن لیگ کی حمایت کا اعلان

    این اے 249 ضمنی الیکشن، بڑی جماعت کا پی پی کو دھوکا،ن لیگ کی حمایت کا اعلان

    این اے 249 ضمنی الیکشن، بڑی جماعت کا پی پی کو دھوکا،ن لیگ کی حمایت کا اعلان
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق عوامی نیشنل پارٹی سندھ نے این اے 249 میں ن لیگ کے امیدوار مفتاح اسماعیل کی حمایت کا اعلان کر دیا

    عوامی نیشنل پارٹی کے یونس بونیری کا کہنا تھا کہ مفتاح اسماعیل آج سےن لیگ اور عوامی نیشنل پارٹی کے مشترکہ امیدوار ہیں، مفتاح اسماعیل کی حمایت کا پی ڈی ایم سے اے این پی کی علیحدگی کے فیصلے سے کوئی تعلق نہیں، ہم بحیثیت اے این پی مسلم لیگ ن کے امیدوار کی حمایت کررہے ہیں،ہم سمجھتے ہیں آج کا نواز شریف جمہوریت کے لیے لڑ رہا ہے،ووٹ کو عزت دو اور جمہوریت کےلیے لڑائی اے این پی کی تاریخ کا حصہ ہے، اےاین پی کےامیدوارحاجی اورنگزیب خان پارٹی فیصلے کے تحت مفتاح اسماعیل کے حق میں دستبردار ہو گئے ہیں

    اس موقع پر مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ ن لیگ کا امیدوار ہوں لیکن اے این پی کے ساتھ مل کر حلقے میں کام کرائیں گے، اے این پی کی حمایت سے ہماری امیدوں میں جان پڑ جائے گی،بلاول بھٹونےحمایت سےمتعلق کہاتھاپارٹی سےمشورہ کرکے بتائیں گے،جواب نہیں آیا،

    واضح رہے کہ گزشتہ روز اے این پی نے پی ڈی ایم سے علیحدگی اختیار کی تھی اور اے این اپی کے صوبائی رہنما نے رات گئے بلاول زرداری سے رابطہ کیا تھا تا ہم اگلے روز ہی اے این پی نے کراچی کے ضمن الیکشن میں ن لیگ کے امیدوار کی حمایت کر دی

  • حکومتی اہم شخصیت کا جیل میں شہباز شریف سے رابطہ

    حکومتی اہم شخصیت کا جیل میں شہباز شریف سے رابطہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حکومتی اہم شخصیت کا قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف سے رابطہ ہوا ہے

    انتخابی اصلاحات کے لیے پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل میں معاونت کے لئے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے شہباز شریف کو خط لکھا ہے، خط میں اسپیکراسدقیصر نے ن لیگ کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف سے پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل میں تعاون مانگا ہے،اسپیکر قومی اسمبلی نے اپوزیشن لیڈرشہبازشریف سے ن لیگ کے نام بھی مانگ لیے،اسد قیصر کا خط میں کہنا تھا کہ آئندہ انتخابات کی شفافیت کےلیے سیاسی جماعتوں کی تجاویز پارلیمانی کمیٹی میں رکھیں گے،

    اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کاخط اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو جیل میں موصول ہو گیا،اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کو اپوزیشن لیڈر کے جواب کا انتظار ہے،نجی ٹی وی کے مطابق سپیکر آفس کا کہنا ہے کہ پارلیمانی کمیٹی کے لیے حکومتی اور اتحادیوں کے نام موصول ہوچکے ہیں اپوزیشن اراکین کے نام ابھی تک نہیں ملے،

    واضح رہے کہ شہباز شریف کو نیب نے گرفتار کر رکھا ہے اور وہ لاہور کی جیل میں جوڈیشل ریمانڈ پر ہیں

    انتخابی اصلاحات کے حوالہ سے چند روز قبل وزیراعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان اور سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی ملاقات ہوئی تھی جس میں دونوں رہنماؤں کے مابین انتخابی اور آئینی اصلاحات کے لیے پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل پر اتفاق کیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ انتخابی اور آئینی اصلاحات کمیٹی میں حزب اختلاف اور حکومتی اراکین کو یکساں نمائندگی دی جائے گی۔ پارلیمانی امور سے متعلق وزیر اعظم کے مشیر ڈاکٹر بابر اعوان نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کے وژن کے مطابق انتخابی اور آئینی اصلاحات کے ذریعے جی بی کو عبوری صوبہ بنانے سے جمہوری اصولوں کو فروغ حاصل ہو گا۔ انہوں نے یہ بھی تجویز پیش کی کہ پارلیمانی کمیٹی کی سربراہی اسپیکر اسد قیصر کریں گے اور یہ کمیٹی انتخابی اصلاحات کا زیر التواء بل اور گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنانے پر خصوصی غور کرے گی۔

    عمران خان کا ایک دوست نااہل ہونے والا ہے،احسن اقبال کا دعویٰ

    ٹانگیں ان کی کانپتی ہیں جو….وفاقی وزیر ہوا بازی نے اپوزیشن کو کھری کھری سنا دیں

    کرونا سے ڈرایا نہ جائے،ہم جلسے کریں گے، پیپلز پارٹی ڈٹ گئی،نفیسہ شاہ نے سنگین الزام بھی لگا دیئے

    گلگت بلتستان الیکشن،مولانا فضل الرحمان بھی میدان میں آ گئے،بڑا اعلان کر دیا

    گلگت بلتستان، غیر حتمی نتائج،بلے پر ٹھپہ چل گیا، باقی جماعتوں‌ کو کتنی سیٹیں ملیں؟

    گلگت الیکشن میں تحریک انصاف کی کامیابی، وفاقی وزراء نے اپوزیشن کو کھری کھری سنا دیں

    گلگت الیکشن،سادہ اکثریت بھی حاصل نہ کرنا شرمناک شکست ہے،مریم برس پڑیں

    واضح رہے کہ گلگت میں تحریک انصاف کی کامیابی کے بعد وزیراعظم عمران خان نے پاکستا ن میں الیکٹرونک ووٹنگ لانے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ سینیٹ کے الیکشن کو شفاف بنانے کے لئے سسٹم  لے کر آ رہے ہیں اوورسیز پاکستانیوں کے ووٹ پر بھی کام کر رہے ہیں اور ہمارے نوے لاکھ بیرون ملک پاکستانی بھی ووٹ ڈال سکیں گے۔پاکستان میں الیکٹرانک ووٹنگ اور اوور سیز پاکستانیوں کیلئے ووٹنگ میں حصہ ڈالنے کا طریقہ کار پہلی فرصت میں اسمبلیوں سے منظور کرایا جایئگا

    وزیراعظم عمران‌ خان کا مزید کہنا تھا کہ سب کہتے ہیں سینیٹ الیکشن میں پیسہ خرچ ہوتا ہے ،وزرا اور کمیٹی نے انتخابی اصلاحات پرکام کیاہے،الیکشن میں ماڈرن ٹیکنالوجی کااستعمال ہوگا کوئی بھی برسر اقتدارحکومت ایسی اصلاحات نہیں لاسکتی

  • الیکشن کمیشن کا این اے 75ڈسکہ معاملے کی فیکٹ فائنڈنگ انکوائری کا اعلان

    الیکشن کمیشن کا این اے 75ڈسکہ معاملے کی فیکٹ فائنڈنگ انکوائری کا اعلان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق این اے 75 ڈسکہ ضمنی الیکشن میں لاپتہ پریذائیڈنگ افسران کا معاملہ،الیکشن کمیشن نے این اے 75 معاملے کی فیکٹ فائنڈنگ انکوائری کا اعلان کر دیا

    الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن نے فیکٹ فائنڈنگ کے لیے انکوائری افسر کا تقرر کردیا، صوبائی جوائنٹ الیکشن کمشنر پنجاب سعید گل انکوائری افسر ہوں گے،انکوائری افسرپریذائیڈنگ افسران،سیکیورٹی عملےکی ڈیوٹی کی خلاف ورزیوں کی جانچ کریگاانکوئری افسر ماہرین اور اداروں سے مدد لے سکے گا،لاپتہ پریذ ائیڈنگ افسران صبح تک کہاں رہے پتہ چلایا جائے گا،انکوائری افسر تمام وفاقی و صوبائی اداروں سے مدد لے سکتا، انکوائری افسر لاپتہ پریذائیڈنگ افسران کے بیانات ریکارڈ کرے گا،

    مہربانی کریں ہمیں حقائق بتائیں،سپریم کورٹ کا ن لیگی امیدوار کے وکیل سے مکالمہ، سماعت ملتوی

    مسلم لیگ ن کا اثرو رسوخ تھا تو تشدد اور بد امنی پھیلانے کی ضرورت کیوں پڑی؟ ڈسکہ انتخابات کیس میں عدالت کا استفسار

    الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق انکوائری میں ٹرانسپورٹیشن اور سیکیورٹی پلان کا بھی جائزہ لیا جائے گا،مبینہ کرپٹ پریکٹس میں ملوث افسران کا تعین کیا جائے گا،رزلٹ ٹمپرنگ اور پولنگ عملے کو لاپتہ کرنے میں مدد دینے والوں کا تعین بھی کیا جائے گا،انکوائری افسر 15 مئی تک اپنی رپورٹ الیکشن کمیشن کو پیش کرے گا

    ڈسکہ ضمنی الیکشن، سپریم کورٹ نے دیا ن لیگ کو بڑا جھٹکا

    ڈسکہ ضمنی الیکشن کیس،جسٹس عمر عطا بندیال نے کی ن لیگی وکیل سلمان اکرم راجہ کی سرزنش

    پریذائیڈنگ افسران پولیس اسکواڈ کے ساتھ لا پتہ ہوگئے؟ ڈسکہ ضمنی الیکشن کیس میں عدالت کا استفسار

    ڈسکہ ضمنی انتخابات میں الیکشن کمیشن نے کون سی بڑی غلطی کی؟ جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس میں بتا دیا

    ڈسکہ ضمنی الیکشن، سپریم کورٹ میں ہو گی سماعت، کس کا وکیل ہوا کرونا کا شکار؟

    قبل ازیں این اے 75 ڈسکہ میں دوبارہ انتخابات سے متعلق سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا سپریم کورٹ نے حلقہ این اے75 سے متعلق الیکشن کمشن کا فیصلہ برقرار رکھا ،عدالت نے حکم دیا کہ حلقہ این اے75 ڈسکہ پورے حلقے میں الیکشن ہوں گے.عدالت نے الیکشن کمشن کے فیصلے کے خلاف تحریک انصاف کی درخواست خارج کر دی ،سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو 10 اپریل کودوبارہ ڈسکہ میں الیکشن کروانے کا حکم دے دیا

  • جہانگیر ترین کردار ادا نہ کرتے تو خان صاحب …..اب زیادتی بند کروائیں،مطالبہ آ گیا

    جہانگیر ترین کردار ادا نہ کرتے تو خان صاحب …..اب زیادتی بند کروائیں،مطالبہ آ گیا

    جہانگیر ترین کردار ادا نہ کرتے تو خان صاحب …..اب زیادتی بند کروائیں،مطالبہ آ گیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے  رہنما راجہ ریاض نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کو نقصان پہنچ رہا ہے ، وزیراعظم عمران خان کو ایکشن لینا چاہیے،

    جہانگیر ترین کے ساتھ عدالت پیشی کے موقع پر راجہ ریاض کا کہنا تھا کہ سینیٹ الیکشن کے بعد عمران خان کے اعتماد کا ووٹ لینے میں اہم کردار جہانگیر ترین کا ہے،جہانگیر ترین مثبت کردار ادا نہ کرتے تو عمران خان قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ نہ لے سکتے،

    راجہ ریاض کا مزید کہنا تھا کہ خان صاحب اپنے بہترین دوست کیخلاف زیادتی بندکرائیں،اسمبلی میں اعتماد کا ووٹ خان صاحب کو جہانگیر ترین نے دلوایا پنجاب حکومت بھی جہانگیر ترین نے بنوائی ،جہانگیرترین کا دامن صاف ہے ،ایک پیسے کی کرپشن نہیں کی،عمران خان کے خلاف اردگرد کے لوگ جہانگیر ترین کے خلاف سازش کررہے ہیں،

    عدالت پیشی کے موقع پر جہانگیر ترین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں تو دوست تھا، دشمنی کی طرف کیوں دھکیل رہے ہو، اکاؤنٹ کیوں منجمد کیے، اس سے کیا فائدہ، کون کر رہا ہے؟ وقت آگیا ہے کہ انتقامی کارروائی کو بےنقاب کیا جائے، تحریک انصاف میں شامل ہوں اور رہوں گا، میری راہیں تحریک انصاف سے جدا نہیں ہوئی ہیں، کون لوگ ہیں جنہوں نے مجھے خان صاحب سے دور کردیا،

    یوسف رضا گیلانی سے جہانگیر ترین کے رابطے کی خبریں، جہانگیر ترین نے سب کو سرپرائیز دے دیا

    سینیٹ انتخابات،ہو گیا وہی جس کا سب کو تھا انتظار، جہانگیر ترین کی دبنگ انٹری ،مگر کس کے لئے؟

    علی سدپارہ کی موت، جہانگیر ترین نے کیا کن جذبات کا اظہار؟

    پی ڈی ایم فیل، بی آر ٹی پر چیلنج، وفاقی وزیر دفاع نے جہانگیر ترین بارے اہم دعویٰ کر دیا

    جہانگیر ترین چینی بحران کے ذمہ دار، شہری عدالت پہنچا، عدالت نے کیا حکم دے دیا

    جہانگیر ترین 100 فیصد ڈیل کر کے آئے، اب جوڑ توڑ ہو گی، اہم شخصیت کا بڑا دعویٰ

    چینی کی قیمتوں میں اضافے پر سینیٹ میں بھی تحقیقات کا مطالبہ

    جہانگیر ترین کے حق میں تحریک انصاف کی کونسی شخصیت کھل کر سامنے آ گئی، بڑا مطالبہ کر دیا

    چینی بحران رپورٹ، وزیراعظم کیخلاف تحریک عدم اعتماد آ سکتی ہے یا نہیں؟ شیخ رشید نے بتا دیا

    چینی بحران رپورٹ ، جہانگیر ترین پھر میدان میں آ گئے ،بڑا دعویٰ کر دیا

    چینی بحران رپورٹ، جہانگیر ترین کے خلاف بڑا ایکشن،سب حیران، ترین نے کی تصدیق

    جہانگیر ترین کو عدالت سے بڑی خوشخبری مل گئی

    لاہور ہائیکورٹ نے جہانگیر ترین اور شریف فیملی کو دیا ایک ساتھ بڑا جھٹکا

    جہانگیر ترین کا کہنا تھا کہ میں پوچھتا ہوں آخر یہ انتقامی کارروائی کیوں ہورہی ہے، وجہ کیا ہے؟ ظلم بڑھتا جارہا ہے، میری وفاداری کا امتحان لیا جارہا ہے، ہم تحریک انصاف سے انصاف مانگ رہے ہیں ،پی ٹی آئی سے راہیں جدا نہیں ہوئیں،10سال سے پارٹی کا حصہ ہوں ،اکاؤنٹ کیوں منجمد کیے، اس سے کیا فائدہ ، کون کررہا ہے؟ آپ اتنے کمزورہیں کہ عدالت میں نہیں میڈیا پربات کرتے ہیں،