Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • اب بس ہوگئی :صبرکا پیمانہ لبریزہوگیا:کالیں کرتا کون ہے اورالزام کس پر؟بڑا فیصلہ کرلیا گیا

    اب بس ہوگئی :صبرکا پیمانہ لبریزہوگیا:کالیں کرتا کون ہے اورالزام کس پر؟بڑا فیصلہ کرلیا گیا

    اب بس ہوگئی :صبرکا پیمانہ لبریزہوگیا:کالیں کرتا کون ہے اورالزام کس پر؟،ذرائع کے مطابق پچھلے کئی ماہ سے جس طرح‌اداروں کا نام لیکربدنام کرنے کی سازشیں کی جارہی ہیں ،اب ان سازشوں کے قلع قمع کرنے کے لیے فیصلہ کرلیا گیا ہے

    اہم ذرائع کے مطابق کئی ماہ سے پاکستان کی سلامتی کے اداروں کے بارے میں جوپراپگنڈہ کیا جارہا ہے اورجس طرح نام لے لے کربدنام کرنے کا کھیل جاری تھا اب اس کھیل کے ماسٹرمائنڈکھلاڑیوں کا گھیرا تنگ کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے

    معتبر ذرائع کے حوالے سے یہ معلوم ہوا ہے کہ ن لیگ کی طرف سے اہم اداروں پریہ الزام بار باردھرا جارہا تھاکہ ان کے ممبران کو فون آتے ہیں

    ان بڑے بڑے الزامات پرخاموش رہنے والوں کی طرف سے بہت زیادہ صبر کا مظاہرہ کیا گیا لیکن پچھلے چند دنوں سے جومنافقانہ کھیل کھیلا جارہا ہے اس کھیل کے تانے بانے کہاں جا ملتے ہیں اس کا پتہ لگا لیا گیا ہے ،

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ نوازشریف اورمریم نوازاس سیل کومانیٹراورآپریٹ کرتی ہیں ، اس سیل سے مختلف لوگوں‌کو فون کالز کروا کرپھرمیڈیا کے ذریعے یہ تاثردینے کی کوشش کی جاتی ہےکہ اداروں کیطرف سے فون آتے ہین جس طرح سینیٹرحافظ عبدالکریم نے الزام لگا کراپنوں‌کے بنے ہوئے کھیل میں پھنس گئے

    یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ اس سیل کا کنٹرول روم لندن میں میاں نوازشریف کا محل ہے جہاں گراونڈ فلورمیں داخل ہوتے ہوئے فرسٹ فلور پر بائیں جانب پانچواں کمرہ ہے جہاں آئی ٹی اورسائبر ایکسپرٹس کی ٹیم بیٹھی ہے

    یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ یہ پراکسی سیل جس کو آپریٹ کرنے کے لیے 9 سے 10 لوگ ہیں ، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ان میں کچھ انڈین بھی ہیں لیکن اس کی تصدیق نہیں ہوسکی

    ذرائع کے مطابق یہ مرکزی کنٹرول روم اورپاکستان میں قائم میڈیا سیل مختلف لوگوں کو انٹرنیٹ سسٹم کے ذریعے گلوبل فون ایپ اورایسے ہی دو سے تین اورایپس بھی استعمال کرتے ہیں اوران ایپس کے ذریعے ایسے نمبرز فیڈکرتے ہیں کہ فون کال سننے والے کے موبائل سکرین پروہی نمبرظاہر ہوں گے جواین ایپس میں درج کیے جاتے ہیں

    یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ یہ میڈیا سیل کو پاکستان بھرکے تمام سیاسی ، عدالتی ، فوجی اوردیگراہم شخصیات کے نمبرز کی تفصیل فراہم کردی گئی ہے

    یہاں بیٹھے ہوئے لوگ جس شخص کے حوالے سے کال کرنا چاہتے ہیں اس کا نمبراس میں فیڈکردیتے ہیں اورکال سننے والا یہ سمجھ رہا ہوتا ہے کہ واقعی مجھے کال کرنے والا حقیقی آدمی ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے

    ذرائع کے مطابق اب تو پاکستان میں دھوکہ اورفریب کرنے والے ایسے ہی کالیں کرتے ہیں اورموبی لنک ، وارد اوردیگراداروں کے نمبرزاس میں فیڈ کرتے ہیں اورپھرکال سننے والا سمجھتا ہے کہ یہ حقیقی نمبراورکالر ہے ، حالانکہ ایسا نہیں ہے

    دوسری اہم پیش رفت یہ ہورہی ہےکہ ن لیگی اوردیگرپارٹیوں کی اہم شخصیات کو فون کرنے والے بیگانے نہیں بلکہ یہ معلوم ہوا ہےکہ ایک ایسا سیل ڈیزائن کیا گیا ہے کہ جس کے ذریعے یہ گھنونا کھیل کھیلا جاتا ہے اورپھربدنام اداروں کو کیا جاتا ہے

    یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ ن لیگ نے یہ فون کال کرنےوالا نامعلوم گروپ اس لیے ڈیزائن کیا کہ اپنے ممبران کو اداروں کی طرف سے فون کال کا پیغام دے کرچیک کیا جائے کہ کیا یہ پارٹی سے وفادار ہیں یا نہیں اگرنہیں توان کو خبردارکیا جائے اورپھران کے سامنے اس فون کال کا ذکرکیا جائے اورحوالہ پیش کرکے اپنے ارکان پرخوف قائم کیا جائے کہ پارٹی قیادت کوساری حقیقتوں کا علم ہے حالانکہ ایسا نہٰیں‌ہے

    دوسری اہم پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ مبینہ طورپر جن نمبروں سے مختلف لوگوں کو فون کیے گئے ہیں ان کی جیولوکیشن بھی اہم ن لیگی شخصیات کے سیاسی دفتر سے ملتی ہے

    یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ الیکشن کے بعد ان شخصیات کے موبائل فون کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا جائے گا اورمذکورہ فون نمبرجس کا تذکرہ کیا گا ان کی حقیقت بھی سامنے رکھی جائے گی

    ذرائع کے مطابق نوازشریف کی سوشل اورسائبرٹیم یہ کھیل کھیل رہی ہے اوراس ٹیم کودنیا کے جدید ترین آلات اورکمپیوٹرزکی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے

    ان حقائق کے منظرعام پرآنے کے بعد اب اداروں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ ان قوتوں کے خلاف قانونی کارروائی کریں گے جویہ دھندہ کررہےہیں

  • حافظ عبدالکریم پھنس گئے:فون کس نےکیا؟الزام کس پر؟سعودی عرب سے ملنے والے اربوں روپے کہاں گئے

    حافظ عبدالکریم پھنس گئے:فون کس نےکیا؟الزام کس پر؟سعودی عرب سے ملنے والے اربوں روپے کہاں گئے

    ڈیرہ غازی خان:حافظ عبدالکریم پھنس گئے:فون کس نےکیا؟سعودی عرب سے ملنے والے اربوں روپے کہاں گئے:معاملات بگڑگئے، اطلاعات کے مطابق سینیٹرحافظ عبدالکریم اپنے یا اپنی پارٹی کے جال میں خود ہی پھنس گئے ، فون کا الزام تو لگادیا مگریہ پتہ نہ کیا کہ یہ اداروں کا نام لےکرفون کرنے کا ڈرامہ کون کھیل رہا ہے

    ذرائع کے مطابق حافظ عبدالکریم جو کہ سینیٹر ہیں اوران کا تعلق مسلک اہلحدیث سے ہے اوریہ عرضہ درازسے سعودی اداروں اوراہم شخصیات سے پاکستان میں مساجد ،مدارس اوردینی اداروں کے نام پراربوں روپے حاصل کرچکے ہیں

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ حافظ عبدالکریم سعودی شخصیات اوراداروں سے مضبوط روابط کی وجہ سے پاکستان میں بھی جماعت کے بڑے عہدے پرفائض ہیں‌،

    ڈیرہ غازی خان سے ذرائع کے مطابق حافظ عبدالکریم نے سیکڑوں ایکڑقیمتی زمینیں خرید رکھی ہیں‌، اس کے علاوہ اوربھی اپنے کاروبار کو وسعت دے رکھی ہے

    یہ بھی مبینہ طورپرمعلوم ہوا ہےکہ حافظ‌ عبدالکریم نے ڈیرہ غازی خان میں زبردستی بھی زمینوں پرقبضہ کررکھا ہے

    ان حالات میں جبکہ ان کے خلاف ان کو سعودی عرب سے ملنے والی اربوں روپے کی رقم کے حوالے سے انکوائری کرنے کی درخواستیں متعلقہ حکام کوبھیجی جارہی ہیں‌، حافظ عبدالکریم کے لیے بہت پریشانی کا مسئلہ بن گیا ہے

    دوسری طرف حافظ عبدالکریم اس حوالے سے بھی پھنس گئے ہیں کہ انہوں‌نے الزام تو لگا دیا کہ مجھے فون کرکے حکومت کی حمایت کرنے کا کہا گیا ہے

    حافظ عبدالکریم کے اس دعوے کو مانا جاسکتا ہے لیکن کہ ان کو فون آیا لیکن اس دعوے کو قبول کرنا بہت ہی مشکل ہے کہ جب پتہ ہے کہ حافظ عبدالکریم کا ایک خاص تعلق ہے ن لیگ سے توپھرفون کرنے والوں نے کیوں‌فون کیا

    دوسری اہم پیش رفت یہ ہورہی ہےکہ ن لیگی اوردیگرپارٹیوں کی اہم شخصیات کو فون کرنے والے بیگانے نہیں بلکہ یہ معلوم ہوا ہےکہ ایک ایسا سیل ڈیزائن کیا گیا ہے کہ جس کے ذریعے یہ گھنونا کھیل کھیلا جاتا ہے اورپھربدنام اداروں کو کیا جاتا ہے

    یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ ن لیگ نے یہ فون کال کرنےوالا نامعلوم گروپ اس لیے ڈیزائن کیا کہ اپنے ممبران کو اداروں کی طرف سے فون کال کا پیغام دے کرچیک کیا جائے کہ کیا یہ پارٹی سے وفادار ہیں یا نہیں اگرنہیں توان کو خبردارکیا جائے اورپھران کے سامنے اس فون کال کا ذکرکیا جائے اورحوالہ پیش کرکے اپنے ارکان پرخوف قائم کیا جائے کہ پارٹی قیادت کوساری حقیقتوں کا علم ہے حالانکہ ایسا نہٰیں‌ہے

    دوسری اہم پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ مبینہ طورپر جن نمبروں سے مختلف لوگوں کو فون کیے گئے ہیں ان کی جیولوکیشن بھی اہم ن لیگی شخصیات کے سیاسی دفتر سے ملتی ہے

    یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ الیکشن کے بعد ان شخصیات کے موبائل فون کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا جائے گا اورمذکورہ فون نمبرجس کا تذکرہ کیا گا ان کی حقیقت بھی سامنے رکھی جائے گی

    جن لوگوں‌ نے اداروں کا نام لے کرالزام لگایا ہے اگروہ ثابت نہ کرسکے توان کو اس کا خمیازہ بگھتنے کے لیے بھی تیاررہنا چاہیے کیونکہ اب مہلت اوررعایت کی تمام گجائشں ختم ہوچکی ہیں

    دوسری طرف یہ بھی خبریں سننے کو مل رہی ہیں کہ حافظ عبدالکریم کی ڈیرہ غازی خان میں مقامی زمینداروں سے دشمنی بھی چل رہی ہے اس دشمنی کی حقیقت کیا ہے اوراس کے بارے میں دعوے اب کیوں سامنے آرہے ہیں آنے والے دنو‌ں میں اہمیت اختیارکرجائے گی

    حافظ عبدالکریم کے حوالے سے ان کی جماعت کے کلیدی عہدوں پرفائض اہم شخصیات نے بھی سعودی گرانٹس کے حوالے سے اہم حقائق پیش کرنے کا عندیہ دیا ہے

    آنے والے دنوں میں یہ معاملات کیا رخ اختیارکرتے ہیں اس کے بارے میں فی الحال کچھ کہانہیں جاسکتا لیکن یہ طئے ہے کہ حافظ عبدالکریم کویہ ثآبت کرنا پڑے گا کہ ایک مدرسے کےاستاد نے کس طرح سعودی عرب میں اپنا نیٹ ورک قائم کیا اورپھراربوں روپے پاکستان منتقل کیے

  • حکومت ہمارےسینیٹرزکواپنےساتھ ملاچکی:ڈپٹی چئیرمین سینیٹ کاامیدوارہماراہی تھا،مگراب ہمارا نہیں رہا:مریم نواز

    حکومت ہمارےسینیٹرزکواپنےساتھ ملاچکی:ڈپٹی چئیرمین سینیٹ کاامیدوارہماراہی تھا،مگراب ہمارا نہیں رہا:مریم نواز

    لاہور: حکومت ہمارےسینیٹرزکواپنےساتھ ملاچکی:ڈپٹی چئیرمین سینیٹ کاامیدوارہماراہی تھا،مگراب ہمارا نہیں رہا:اطلاعات کے مطابق مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز شریف نے دعویٰ کیا ہے کہ کہ پی ٹی آئی نے ڈپٹی چئیرمین کے لیے مسلم لیگ (ن) ہی کے سینیٹر کو نامزد کر دیا ہے۔

    مریم نواز شریف نے تحریک انصاف کی قیادت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سیاسی پارٹی کی کیا سیاسی حیثیت ہوگی جو اپنی جماعت کے رکن کو چیئرمین سینیٹ نامزد نہ کر سکے۔

    مریم نواز نے ٹویٹ سے پہلے پارٹی رہنماوں کےساتھ بات کرتے ہوئے کہاکہ ہمارے ممبران کوتوڑکرحکومت سینیٹ کا الیکشن اگرجیت جاتی ہے توپھریہ جیت تو نہ ہوئی

     

    دوسری طرف مریم نواز نے اپنے ابوکے بیانیے کو آگے بڑھاتے ہوئے پھراداروں‌ پرالزام تراشی کی

    سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری بیان میں مریم نواز نے کہا ہے کہ چیئرمین سینیٹ کی نامزدگی کیلئے اس کو سٹیبلشمنٹ کے آگے ناک رگڑنی پڑے۔

    انہوں نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ مسلم لیگ (ن) ان کے ہوش وحواس پر اتنی سوار ہے کہ امیدوار بھی ہمارا کھڑا کر دیا۔

    مریم نواز کہتی ہیں کہ حکومت ہمارے بندوں کو توڑکراپنی تعداد پوری کرچکی ہے یہ ایک غیرجمہوری طریقہ ہے

  • تیسری عالمی جنگ خلا میں ہو گی، خلا میں بیسز بننا شروع، تہلکہ خیز انکشافات

    تیسری عالمی جنگ خلا میں ہو گی، خلا میں بیسز بننا شروع، تہلکہ خیز انکشافات

    تیسری عالمی جنگ خلا میں ہو گی، خلا میں بیسز بننا شروع، تہلکہ خیز انکشافات

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ کہاجاتا ہے کہ اب جنگ کبھی زمین پر نہیں لڑجائے گی اور بڑی طاقتیں پنجہ آزمائی خلاء میں کریں گی ۔ اگر دیکھا جائے تو ایک جانب امریکہ اور اسکے اتحادی ہیں تو دوسری جانب چین اور روس ہیں جو خلاء کو تسخیر کرنے میں لگے ہوئے ۔ کروڑوں ، اربوں کی نئی سرمایہ کاری ہو رہی ہے کہ نئے سے نئے آلات ، سسٹمز تیار کیے جائیں ۔ یہاں تک کہ یہ ممالک خلاء میں باقاعدہ فوج رکھنے کی کوششوں میں مصروف ہوچکے ہیں ۔ بے تحاشا روپیہ پیسہ لگا کر یہ تمام ممالک نئی سے نئی ریسرچ کرو ارہے ہیں اور خلاء میں ایک دوسرے سے بازی لینے کے درپے ہیں ۔ ۔ جیسے جیسے سیٹلائٹس کی عام شہریوں کی زندگیوں اور جنگی عملیات میں اہمیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اس بات کا بھی امکان بڑھ رہا ہے کہ کسی کو ان سیٹلائٹس پر حملہ کرنے کا فائدہ نظر آئے اور اس طرح دنیا کی سب سے پہلے خلائی جنگ چھڑ جائے۔

    اس وقت فرانس دنیا کی تیسری بڑی خلائی طاقت بننے کی کوشش میں ہے۔ فرانس نے اس ہفتے سے خلاء میں اپنی پہلی فوجی مشقوں کا آغاز کیا ہے۔ اس کا مقصد اس بات کا اندازہ لگانا ہے کہ حملے کی صورت میں اس کی خلائی کمانڈ اپنے خلائی مصنوعی سیاروں اور دیگر دفاعی آلات کے دفاع کی کتنی صلاحیت رکھتی ہے۔ فرانس کی فوج کی جانب سے یہ اپنی نوعیت کی پہلی مشقیں ہیں جبکہ یورپ میں بھی پہلی بار ایسا ہو رہا ہے۔ اس بارے آگے چل کر بتاتا ہوں ۔ پر پہلے یاد کروادوں کہ ۔ سیٹلائٹس کو مار گرانے کی باتیں اس وقت سے کی جارہی ہیں جب سے سیٹلائٹس ایجاد ہوئے تھے۔ 1958ءمیں sputnik کے لانچ کے ایک سال کے اندر ہی امریکہ نے پہلا (anti-satellite weapon – ASAT) ٹیسٹ کیا تھا۔ جو ناکام ثابت ہوا۔ سرد جنگ کے دوران امریکہ اور سویت یونین دونوں نے سیٹلائٹس پر حملہ کرنے کے لئے پیچیدہ آلات تیار کیے۔ امریکہ کے پاس فائٹر جیٹس سے لانچ کیے جانے والے میزائلز (جن کی 1985ء میں کامیاب طور پر ٹیسٹنگ کی گئی) کے علاوہ دشمن سیٹلائٹس تباہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والے جوہری سیٹلائٹس بھی موجود تھے۔

    2007ء میں چین میں پہلا کامیاب (anti-satellite weapon – ASAT) ٹیسٹ کیا گيا۔ ۔ گزشتہ سال روس، امریکہ اور چین کے بعد بھارت کا نام بھی زمین کے اطراف گردش کرنے والی سیٹلائٹ کو کامیاب طور پر تباہ کرنے والے ممالک میں شامل ہوگیا تھا ۔ مشن شکتی نامی اس مہم کا مقصد براہ راست اوپر جانے والے اینٹی سیٹلائٹ ویپن (anti-satellite weapon – ASAT) یعنی زمین سے لانچ ہونے والی میزائل، کا مظاہرہ کرنا تھا۔۔ اب جی پی ایس اور سیٹلائٹ مواصلت ہمارے انفراسٹرکچر میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہيں۔ لہٰذا ان پر حملوں سے تباہی مچ سکتی ہے۔ اس کے علاوہ افواج بھی سیٹلائٹس کا پہلے سے زیادہ استعمال کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر افغانستان اور عراق میں استعمال ہونے والے (Reaper) ڈرونز جیسے مسلح UAVs کے ڈیٹا اور ویڈیو فیڈز انسانی آپریٹرز کو بذریعہ سیٹلائٹ بھیجے جاتے ہیں۔ اسی طرح سیٹلائٹس دنیا بھر کے آپریشنز سینٹرز کو انٹیلی جینس اور تصاویر بھی بھیجتی ہیں۔ ۔ چینی تجزیہ کاروں کے تخمینے کے مطابق 90 فیصد امریکی فوجی انٹیلی جنس میں خلائی ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جاتا ہے۔۔ یہاں میں آپکو بتاؤں کہ 2017 میں روس کی ایک جاسوس سیٹلائٹ اٹلی کی ایک سیٹلائٹ کی طرف بڑھی تھی جسے فرانس نے خلاء میں جاسوسی کی کوشش سے تعبیر کیا تھا۔ روس کی سیٹ لائٹ نے ۔۔۔ ایتھنا فیڈوس ۔۔۔athan fedos سیٹلائٹ کے سگنلز کو روکنے کی کوشش کی تھی جسے اٹلی اور فرانس جیسے ملک اپنے مواصلاتی نظام کے تحفظ کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

    ۔ گزشتہ برس امریکا نے بھی روس پر ایک خفیہ اینٹی سیٹلائٹ ہتھیار کا خلاء میں تجربہ کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔۔ اسی لیے جو فرانس مشقیں کر رہا ہے اس میں بھی فرانسیسی فوج ممکنہ طور پر ایک خطرناک خلائی آبجیکٹ کا مشاہدہ کرنے کے ساتھ ہی اپنی سیٹلائٹ کے لیے ایک ایسی بیرونی طاقت سے خطرہ محسوس کریگی جو خلائی فوجی طاقت سے لیس ہو۔۔ خلاء میں فوجی مشق کا منظر ایک ایسے ملک کے ساتھ بحران پر مبنی ہے جس کے پاس خلائی طاقت ہے اور دوسرا ملک وہ ہے جس کا فرانس کے ساتھ عسکری تعاون کا معاہدہ ہے۔ فرانس کی جانب سے ہونے والی ان خلائی مشقوں میں امریکا کی خلائی فورس اور اور جرمن خلائی ایجنسی بھی شریک ہیں۔۔ فرانس نے 2019 میں خلاء سے متعلق اپنی اسپیس فورس کمانڈ’ کی بنیاد ڈالی تھی اور امکان ہے کہ 2025 تک خلاء میں اس کے تقریبا ً500 فوجی تعینات ہوں گے۔ کہا جا رہا ہے کہ آئندہ چھ برسوں کے دوران خلائی فوجی پروگرام میں سرمایہ کاری بھی تقریباً پانچ ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی۔ فی الوقت اس پر امریکا اور چین سب سے زیادہ خرچ کر رہے ہیں۔

    فرانس کی وزیر دفاع Florence Parly کا کہنا ہے کہ ۔۔۔ ہمارے اتحادی اور حریف خلا کو فوج سے لیس کر رہے ہیں۔ ہمیں بھی اس پر اقدام کرنے کی ضرورت ہے۔۔ فرانس اینٹی سیٹلائٹ لیزر ہتھیار بنانے کا منصوبہ رکھنے کے ساتھ ہی خلاء میں نگرانی کرنے کی اپنی صلاحیت کو بھی بہتر کرنا چاہتا ہے۔ اس کا خیال ہے کہ مستقبل میں خلاء بھی زمین پر بسنے والی طاقتوں کے مابین تصادم کا ایک تھیٹر بن سکتا ہے۔ ۔ یہاں میں آپ کو یاد کروادوں کہ فرانس کچھ نیا نہیں کر رہا ہے۔ بلکہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ امریکہ کی پیروی میں ہی سب کچھ کر رہا ہے ۔ اس سے بھی پہلے امریکا نے خلا میں جنگ لڑنے کی تیاریاں شروع کر رکھی ہیں ۔ اس سلسلے میں امریکہ نے دوسال قبل ہی اسپیس فورس کے لئے ابتدائی تیاریاں شروع کردی تھیں ۔ اس وقت امریکی نائب صدرمائیک پنس نے کہا تھا کہ نئے میدان جنگ کے لئےتیاری کا وقت آگیا ہے۔

    یاد رہے اسپیس فورس کےقیام کا حکم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دیا تھا اور کہا تھا کہ ہم یہ برداشت نہیں کریں گے کہ چین اور روس ہم سے پہلے خلا میں ہوں۔ اس بار خلا پر صرف جھنڈا یا قدموں کے نشان نہیں چھوڑیں گے بلکہ خلا پر قبضہ کریں گے۔ روس اور چین کو وہاں اپنے قدم جمانے نہیں دیں گے۔ ہم پر لازم ہے کہ خلا میں امریکی غلبہ ہو۔۔ خلائی جنگ کے بارے میں بات کرنے والے لوگ اکثر یہی سمجھتے ہيں کہ اس میں ابھی بہت وقت ہے اور اگر ایسا ہوجائے تو اس سے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلے گی۔ لیکن یہ آنے والے کل کی نہيں۔ آج کی بات ہے۔ واشنگٹن ڈی سی میں واقع CSIS نامی تھنک ٹینک کے (Aerospace Security Project) کے سربراہ (Todd Harrison)
    کا ماننا ہے کہ آج کشیدگی کی روک تھام میں بے یقینی کا عنصر زيادہ ہے۔ غیر ریاستی عناصر کے علاوہ شمالی کوریا اور ایران سمیت کئی ممالک کو ایسی خلائی ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوچکی ہے جس کی مدد سے خلاء میں طاقتور ممالک کو بہت نقصان پہنچایا جاسکتا ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے سیٹلائٹس کو تباہ کرنا ضروری نہيں ہے۔ سیٹلائٹس اور زمینی سٹیشنز کے درمیان ڈیٹا کی منتقلی میں مداخلت کے ذریعے بھی حملہ کیا جاسکتا ہے۔ بلکہ کہا جاتا ہے کہ چند ہیکرز ایسا کرنے میں کامیاب ہوچکے ہیں۔2008 میں ناروے کے زمینی سٹیشن پر حملے کی مثال لے لیں جس میں ایک ہیکر NASA کی (Landsat) سیٹلائٹس میں 12 منٹ تک مداخلت متعارف کرنے میں کامیاب رہا۔ اسی سال ہیکرز نے NASA کے (Terra Earth) کی observation satellite تک رسائی حاصل کرنے کے لیے کمانڈز جاری کرنے کے علاوہ ہر طرح کے کام کرڈالے تھے ۔

    یہ بات واضح نہيں ہوسکی ہے کہ انہوں نے ایسا کیوں نہیں کیا۔ نہ ہی یہ معلوم ہوسکا ہے کہ اس حملے کے پيچھے کس کا ہاتھ ہے۔ تاہم کچھ نے چین کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔۔ امریکی ڈیفینس انٹیلی جینس ایجنسی (Defense Intelligence Agency – DIA) کی ایک حالیہ رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا گيا ہے کہ چین اب ایسے جیمرز تیار کررہا ہے جو فوجی مواصلت کے بینڈز سمیت کئی frequencies کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ شمالی کوریا نے روس سے جیمرز خرید لیے ہيں اور عراق اور افغانستان میں باغی گروپس نے بھی ان کا استعمال کیا ہے۔ امریکہ کئی دہائیوں سے خلاء میں سب سے نمایاں ملک رہا ہے۔ اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس وجہ سے سب سے زیادہ نقصان بھی اسے ہی ہوگا۔ DIA کی رپورٹ کے مطابق چین اور روس نے اپنی افواج کو نئے سرے سے اس طرح منظم کیا ہے کہ اب وہ بھی خلائی جنگوں میں اہم کردار ادا کرسکیں گی۔ اس کے علاوہ امریکی افواج کو اس بات کا بھی خدشہ ہے کہ امریکہ اپنا نمایاں مقام کھوچکا ہے۔ روس اور چین کے counter space کے نظاموں میں جس رفتار سے ترقی ہورہی ہے، اس رفتار سے امریکہ اور اتحادی سیٹلائٹس کی حفاظت نہيں کرپارہے ہیں۔۔ دوسری جانب اقوام متحدہ کئی دہائیوں سے رکن ممالک کو خلاء کو اسلحے سے پاک رکھنے پر آمادہ کرنے کی کوششیں کررہا ہے۔ 25 سے زیادہ ممالک نے جینیوا میں ایک خفیہ میٹنگ میں نئے معاہدے پر طویل بحث کی تھی ۔ پر نتیجہ کچھ نہ نکل سکا۔ پر جو واضح دیکھائی دے رہا ہے کہ اب یہ بڑے ممالک خلاء میں جا کر بھی جنگ وجدل کریں گے ۔

  • ان شاء اللہ کل سینیٹ میں کامیاب ہوجائیں‌ گے:ان کوڈرہے کہ سینیٹ سے گئے توجیلوں میں گئے:وزیراعظم

    ان شاء اللہ کل سینیٹ میں کامیاب ہوجائیں‌ گے:ان کوڈرہے کہ سینیٹ سے گئے توجیلوں میں گئے:وزیراعظم

    اسلام آباد:ان شاء اللہ کل سینیٹ میں کامیاب ہوجائیں‌ گے:ان کوڈرہے کہ سینیٹ سے گئے توجیلوں میں گئے،وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بدقسمتی سے پہلے ڈھائی سال پارلیمنٹ میں اکثریت نہ ہونے کی وجہ سے قانون سازی میں مشکلات پیش آئیں، امید ہے سینیٹ میں اکثریت کے بعد ہمارے لیے قانون سازی آسان ہوگی۔

    وزیراعظم عمران خان نے یہ بات سینیٹرز کے اعزاز میں ظہرانہ کے موقع پر اپنے خطاب میں کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ پرانے نظام کی تبدیلی بغیر قانون سازی کے ممکن نہیں، وزیراعظم عمران خان اگلے دو سالوں میں ہماری پوری کوشش عوامی مفاد کی قانون سازی پر ہوگی۔

    عمران خان نے کہا کہ ہماری ترجیحات عوام کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔ مہنگائی سمیت مسائل سے آگاہ ہوں۔ ہم نے معیشیت کو ٹریک پر کھڑا کر دیا ہے۔ معیشت کا ڈھانچہ ٹھیک نہ ہو تو وقتی ریلیف کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہم ملک کو ایسا نظام دینا چاہتے ہیں جو دیرپا اور نتیجہ خیز ہو۔ پرانے نظام کو ختم کرکے نیا سسٹم لانے میں وقت لگتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں اتحادیوں کے تحفظات سے آگاہ ہوں، انھیں مایوس نہیں کریں گے۔

    وزیراعظم عمران خان نے انکشاف کیا کہ سینیٹ الیکشن کیلئے ابھی تک ہمارے سینیٹرز کے ساتھ رابطے کیے جا رہے ہیں۔ ہم نے نظام کو شفاف بنانا ہے تاکہ کرپشن کی گنجائش نہ ہو۔ انشاء اللہ ایوان بالا میں ہم کامیاب ہوں گے۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے سینیٹرز سے گفتگو میں سینیٹ الیکشن میں ووٹ ڈالنے کے طریقہ پر زور دیا۔

    اس سے قبل وزیراعظم نے اپنی ٹویٹس میں کہا تھا کہ ریاستیں اخلاقی اقدار کھو دیں تو این آر او جیسے معاہدوں کا سہارا لیا جاتا ہے، سینیٹ انتخابات سے ظاہر ہوا ہم اخلاقی تنزلی کا شکار ہو رہے ہیں۔

     

    وزیراعظم عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ گواہ ہے اخلاقی گراوٹ، بد عنوانی نے ریاستوں کو تباہ کر دیا، اخلاقی برتری کے بغیر ریاستیں انصاف فراہم نہیں کرسکتیں، انصاف، قانون کی حکمرانی کے بغیر ریاستیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتی ہیں۔

     

    عمران خان کا کہنا تھا کہ ریاست حکمرانی کا اخلاقی جواز کھو دے تو نا جائز سہارے ڈھونڈے جاتے ہیں، ہمارے نبی کریمؐ نے فرمایا ہم سے پہلے بہت سی قومیں تباہ ہوئیں، قوموں کی تباہی کا سبب طاقتور اور کمزور کیلئے مختلف قوانین ہونا تھا۔

     

    وزیراعظم نے کہاکہ ان دوپارٹیوں نے سینیٹ میں‌اپنے بچاو کے قوانین بنا رکھے ہیں جن کی وجہ سے یہ کرپشن اورچوری کرکے بھی بچ جاتے ہیں ، ان کوڈرہے کہ اگرسینیٹ میں اکثریت کھودی توپھرقانون بدلے جائیں گے ، اوریہ سب چورجیلوں میں ڈالے جائیں‌ گے

     

  • پیسوں سےضمیرخریدنےوالوکان کھول کرسن لیں‌ نئےانتخابات        سمیت سارے آپشنز مد نظرہیں: وزیراعظم عمران خان

    پیسوں سےضمیرخریدنےوالوکان کھول کرسن لیں‌ نئےانتخابات سمیت سارے آپشنز مد نظرہیں: وزیراعظم عمران خان

    اسلام آباد: پیسوں سےضمیرخریدنےوالوکان کھول کرسن لیں‌:نئےانتخابات سمیت سارے آپشنز مد نظرہیں:اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پہلے دباؤ قبول کیا اور نہ آئندہ کسی دباو میں آؤں گا، نئے انتخابات سمیت سارے آپشنز مدنظر رکھنا پڑیں گے۔

    تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی کور کمیٹی کا اجلاس ہوا،ا جلاس کے دوران ملکی سیاسی و معاشی صورتحال کا جائزہ لیا گیا، چئیر مین سینٹ انتخاب سے متعلق حکمت عملی پر غور کیا گیا۔

    ذرائع کے مطابق وزریر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار اور خیبر پختونخوا، وفاقی وزرا اور پارٹی رہنما بھی شریک ہوئے۔

    اجلاس کے دوران وزیراعظم عمران خان نے ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال کے پیش نظر حکومتی رہنماؤں کو متحرک رہنے کی ہدایت کر دی۔

    ذرائع کے مطابق کور کمیٹی کے اجلاس کے دوران اپوزیشن کے لانگ مارچ کے پیش نظر حکومتی حکمت عملی پر بھی مشاورت کی گئی۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس کے دوران وفاقی اور صوبائی حکومت کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا، کور کمیٹی نے وفاق اور صوبوں میں گورنننس پر تحفظات کا اظہار کیا، کور کمیٹی کا کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے مختلف تجاویز پر غور کیا گیا۔

    ذرائع کے مطابق عامر کیانی اور سیف اللہ نیازی نے ملک بھر میں پارٹی تنظیمی امور پر بریفنگ دی۔ اس دوران وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے کو مضبوط کریں۔

    اجلاس کے دوران وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ پی ڈی ایم لانگ مارچ کا مقصد عوامی مفاد نہیں، این آر او کا حصول ہے، پہلے دباؤ قبول کیا اور نہ آئندہ کسی دباو میں آؤں گا۔ اپوزیشن احتجاج کی سیاست کے زریعے ملک میں افراتفری پیدا کرنا چاہتی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اڑھائی سال میں بہت محنت اور مشکل سے معیشت کوسنبھالا ہے۔ میں میدان چھوڑ کر بھاگنے والوں میں سے نہیں ہوں۔ یاد رکھیں ہم اقتدار کے لیے نہیں، نظام کی تبدیلی کے لیے آئے ہیں، ہم ملک کو لوٹنے والوں کے ساتھ سمجھوتہ کرکے نہیں چل سکتے۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ ہمیں نئے انتخابات سمیت سارے آپشنز مدنظر رکھنا پڑیں گے، ہمیں عوامی حمایت حاصل ہے کسی بھی میدان میں پیچھے نہیں ہٹیں گے،

  • اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہوکا دورہ عرب دنیا:کیا پاکستان پربھی اس کے اثرات مرتب ہوں گے؟خصوصی رپورٹ

    اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہوکا دورہ عرب دنیا:کیا پاکستان پربھی اس کے اثرات مرتب ہوں گے؟خصوصی رپورٹ

    اسلام آباد/تل ابیب /دبئی:اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہوکا دورہ عرب امارات کے حوالے سے رات سے خبریں بڑی تیزی سے پھیل رہی تھیں‌مگرعین وقت پر آکرنیتن یاہونے اپنا دورہ عرب امارات منسوخ کرکے اسرائیل کودرپیش خطرات کی طرف اشارہ کردیا ہے ، :

     

    قائد اعظم محمد علی جناح سے عمران خان تک:اسرائیل اورپاکستان کی خفیہ محبت کا دلچسپ…

     

    اسرائیلی وزیراعظم کب دورہ عرب امارات کریں گے اورکیا پاکستان پربھی اس کے اثرات مرتب ہوں گے؟اہم گفتگو اس وقت چل پڑی ہے

    ویسے تو بڑے عرصے سے یہ خبریں گردش کررہی تھیں کہ اسرائیل اورعرب ملکوں کے درمیان خفیہ سفارتکاری چل رہی ہے،اس سارے منظرنامے میں پاکستان کا کرداربھی بڑا اہم رہا ہے

     

    اسرائیل کو تسلیم کرنے کے سوال پر وزیراعظم نے کیا دیا جواب؟

    پاکستان کے حوالے سے پچھلے چند ہفتوں سے بہت زیادہ تبصرے تجزیے پیش کئے گئے ،حکومت مخالفین نے حکومت کوعوام کی نظروں سے گرانے کےلیے بڑے بڑے الزامات بھی عائد کیے ، لیکن دوسری طرف جب حقائق سے پردہ اٹھا تو پتہ چلا کہ موجودہ حکومت نہیں بلکہ سابق وزیراعظم نوازشریف اسرائیل سے خفیہ رابطہ کاری اورسفارتکاری کرتے رہے

     

     

    اسرائیل کوتسلیم نہ کرنے کی پاکستان اورکشمیریوں کوسزا دے دی گئی :اسرائیل نوازعرب…

    ادھر اس حوالے سے مختلف قسم کے تحفظات اورخدشات بھی سامنے آئے لیکن یہ خدشات اورتحفظات اس وقت اپنی موت آپ مرگئے جب وزیراعظم عمران خان نے واضح کردیا کہ پاکستان نہ تو اسرائیل سےڈیل کرے گا اورنہ ہی ڈھیل دے گا

     

    انڈواسرائیل چیمبرآف کامرس نے عرب امارات میں پنجے گاڑدیئے،دبئی میں مرکزی دفترکا…

    وزیراعظم عمران خان کا یہ موقف کہ پاکستان آج بھی بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے موقف پرقائم ہے کہ جب تک فلسطینیوں‌ کو ان سے چھینی ہوئی زمینیں‌ واپس نہیں‌ کی جاتیں اوراسرائیل مقبوضہ علاقے خالی نہ کرتا اس وقت اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے کا سوچا بھی نہیں جاسکتا

    پاکستان کے لیے اسرائیل کو تسلیم کرنا ایک بہت بڑا فیصلہ ہے اور اس کے کئی پہلو اہم ہیں۔ یہ فیصلہ پاکستان کے شہریوں کی رائے سے براہ راست جڑا ہے۔

     

    جب کہہ دیا کہ اسرائیل کوتسلیم نہیں کریں گےتوپھرپراپیگنڈہ کیوں:پاکستان سب سازشی…

    یہ بھی یاد رہے کہ پاکستان کی کوئی بھی حکومت اتنا اہم فیصلہ عوام کو اعتماد میں لیے بغیر نہیں کر سکتی جس کی بڑی وجہ اسرائیل کے بارے میں عام لوگوں کے جذبات ہیں جو کئی دہائیوں سے اسے ایک ’غاصب‘ قوت سمجھتے ہیں۔

    پاکستان نے عرب ممالک کوبار بار سمجھایا کہ آپ کو پتہ تو ہے کہ ‎اسرائیل نے ماضی میں فلسطینیوں اور اس کے عرب پڑوسیوں کے ساتھ دستخط کیے ہوئے تمام معاہدوں کو توڑا ہے، اس لیے یہ توقع کرنا بیوقوفی ہوگی کہ اسرائیل پاکستان کے ساتھ کیے گئے کسی معاہدے کی پاسداری کرے گا۔

     

    مریم کو جواب دینا ہوگا کہ ان کے والد نے کس کس کو اسرائیل بھیجا؟ بڑا مطالبہ سامنے…

    پاکستان نے اس دوران اپنے عرب مسلم ممالک کو یہ بات بھی سمجھائی کہ ‎اسرائیل فلسطین کے لیے دو یا ایک ریاستی حل میں سے کسی کے لیے بھی سنجیدہ نہیں ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو اسرائیل اقوام متحدہ کی قراردادوں کو تسلیم کرتا

    شاہ جی غلطی ہوگئی:معاف کردیں‌:اسرائیل کے حوالے سے خبرکسی کے کہنے پرلگائی

    پاکستانی وفود نے عرب دنیا کو یہ بات سمجھائی کہ پاکستان کے لیے اس وقت اسرائیل کو تسلیم کرنا نیتن یاھو کی صیہونی اور دائیں بازو کی حکومت کے سامنے ہتھیار ڈال دینے کے مترادف ہے۔ یہ غزہ، مغربی کنارے اور شام میں نیتن یاہو کی قیادت میں صیہونی قوم پرستوں کے ہاتھوں مسلمان عربوں پر تشدد اور بے گناہ قتل کو نہ صرف جواز مہیا کرے گا بلکہ ان کی حوصلہ بھی افزائی کرے گا۔

     

    وازشریف کےاسرائیل سے خصوصی تعلقات ہیں: انہوں نے مجھے اسرائیل بھیجا : مولانا اجمل…

     

     

    فلسطین کی زمینوں پر غیرقانونی قبضے کی وجہ سے پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا، اسی طرح وہ کشمیری اراضی پر بھارتی تسلط کو بھی نہیں مانتا ہے۔ فلسطینی زمینوں پر اسرائیلی قبضے کو تسلیم کر لینا کشمیر پر بھارتی قبضے کو اخلاقی جواز دینے کے مترادف ہو گا اور یہ فلسطینیوں اور کشمیریوں کے پاکستان پر اعتماد سے غداری ہو گی۔

    ابھی اسرائیل کو تسلیم کرنا نہ صرف پاکستان کو مسئلہ کشمیر پر مسلم اقوام کی حمایت سے محروم کر دے گا، بلکہ اس سے ایران کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے جو ہمارا اہم ہمسایہ ملک ہے۔ یہ قدم پاکستان کے لیے سفارتی اور معاشی تنہائی کا باعث بھی بن سکتا ہے جس سے سی پیک منصوبے کو بھی نقصان پہنچے گا۔

     

    افسوس صد افسوس :نوازشریف کو اسرائیلی و بھارتی لابی نے قابو کرلیا

     

     

    پاکستان ایک کمزور ریاست کے طور پر دیکھا جائے گا جس کی اپنی کوئی خود مختار پالیسی نہیں۔ ایک ایسا ملک جس نے غیرملکی دباؤ میں آ کر اسرائیل کو قانونی حیثیت دی جس کا وہ حق دار نہیں۔ اس کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ اس وقت پاکستان یو این ایچ آر سی کا رکن ہے اور اس تناظر میں ایک غاصب طاقت کو جائز قرار دینا ایک تاریخی غلطی ہو گی اور یہ امر پاکستان کی ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچائے گا۔

     

    اسرائیل نوازکون ؟عمران خان یا فضل الرحمن:اب فیصلہ کرے عوام

    اسرائیل کے حامی بیانیہ رکھنے والے تجزیہ کاروں کے عقائد کے برعکس اسرائیل کو تسلیم کرنا پاکستان کے لیے عسکری طور پر بھی زیادہ سود مند ثابت نہ ہو گا۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ پاکستان اسرائیلی دفاعی منڈی میں بھارتی فوج کی قوت خرید سے مقابلہ نہیں کر سکے گا، جو پہلے ہی وہاں اپنے قدم بڑی مضبوطی سے جما چکی ہے۔

    ان تمام عوامل کے تناظر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اسرائیل کے بارے میں پاکستان کا مؤقف اخلاقی، سیاسی اور معاشی حقائق پر مبنی ہے۔ اسے اس وقت تک نہیں بدلا جانا چاہیے جب تک کہ اسرائیل میں ایک اعتدال پسند حکومت قائم نہ ہو جو فلسطینیوں پر ہونے والے ظلم کو ختم کر کے اپنے پڑوسی ممالک اور فلسطینیوں کے ساتھ دو ریاستی حل یا ایک مشترکہ جمہوری ریاست کے حل کے تحت مسئلہ فلسطین کا تصفیہ کر کے خطہ میں پائیدار امن قائم کرنے کی خواہش مند ہو۔

     

    مولانا اجمل قادری اگر نواز شریف ، شہباز شریف کو بتا کر اسرائیل گئے تو ان کیخلاف…

    اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ وہ اللہ کو کیا جواب دیں گے اگراسرائیل کو تسلیم کرلیا

    اس کے ساتھ ساتھ پاکستان نے اپنے برادراسلامی ملکوں کی طرف سے اسرائیل کوتسلیم کرنے پرتشویش کا اظہارکیا ، عرب امارات ، بحرین ، سوڈان ،مراکش اوربھوٹان نے دیکھتے ہی دیکھتے اسرائیل کوتسلیم کرلیا توپھریہ پراپیگنڈہ شروع ہوگیا کہ پاکستان پربھی اسرائیل کوتسلیم کرنے کے حوالے سے سعودی عرب کا دباو ہے

    ان خبروں کو پاکستان نے سختی سے مستردکردیا ، بہر کیف پاکستان کے متاثرہونے کے حوالے سے کچھ واقعات میں سچائی ضرور ہے، یہی وجہ ہے کہ ان دنوں‌جب اسرائیل کو تسلیم کیا جارہا تھا تو پاکستانی سرکاری شخصیات عرب ممالک کوسمجھا نے کبھی عرب امارات تو کبھی سعودی عرب کا دورہ کررہی تھیں ، گورنرپنجاب سے لیکرآرمی چیف تک عرب ممالک کو سمجھانے میں مصروف تھے

     

    قائد اعظم محمد علی جناح سے عمران خان تک:اسرائیل اورپاکستان کی خفیہ محبت کا دلچسپ…

    پاکستان نے سعودی عرب کی طرف سے ڈالے گئے دباو کو مسترد کیا تو پاکستان کو سعودی عرب نے دیئے گئے قرض کے پیسے فوری واپس کرنے کا پیغام دے کربلیک میل کرنے کی کوشش کی

    پاکستان نے اس موقع پرثابت قدمی کا مظاہرہ کیا اوراپنے قدرتی حلیف اورواحد دوست چین کے ساتھ یہ سارے معاملات زیربحث کیئے

    چین نے بھی عالمی اسٹیبلشمنٹ کی بڑھتی ہوئی کارستانیوں کو بھانپتے ہوئے پاکستان کو ڈٹ جانے کا مشورہ دیا اورسعودی عرب کو واجب الادا قرض کی رقم اپنی طرف سےادا کرنے کی حامی بھر لی

    اسی دوران ایران نے یہ بھانپتے ہوئے کہ سعودی عرب اورپاکستان کے درمیان خلیج بڑھ رہی ہے ، پاکستان کے ساتھ اپنے روابط مضبوط کرنے کی کوششیں تیز کردیں اورجواد ظریف پاکستان میں‌ دو دن مصروف رہے اورپاکستانی اداروں کو ٹریک سے ہٹانے کے لیے غیر محسوس انداز میں موبلائز کرتے رہے جسے پاکستانی اداروں نے بھانپتے ہوئے ٹال دیا

    ادھر پاکستان نے جب سعودی عرب کو دو ہفتوں کے اندر دو ارب ڈالرز کی دوقسطیں اورعرب امارات کے ایک ارب ڈالرز واپس کیے تو یہ دونوں عرب ملک ہل کررہ گئے اورانکو یہ یقین ہوگیا کہ پاکستان کوبلیک میل کرنے میں ناکامی کا بہت زیادہ نقصان ہوسکتا ہیے اورپاکستان ہمارے ہاتھ سے نکل جائے گا

    اسی دوران شاہ سلمان نے اپنے دوسرے بیٹے سلطان بن سلمان کو نصیحت کی کہ وہ وزیراعظم عمران خان کو فون کریں اورمیری طرف سے سلام پیش کریں اوردورہ سعودی عرب کی دعوت دیں

    سعودی شہزادے سلطان بن سلمان نے ایسے ہی کیا اورساتھ ہی وزیراعظم عمران خان سے یہ بھی اظہارمحبت کیا کہ خان صاحب آپ کچھ ناراض لگتے ہیں‌

    جس پروزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ایسا نہیں ہے

    اس دوران پاکستان کے معروف اینکرمبشرلقمان نے بھی ان بیک ڈورمعاملات پرسیرحاصل گفتگو کی اورپھرعالمی معاملات میں‌ہونے والے حالات وواقعات کی بنیاد پریہ ثابت کیا کہ واقعی سعودی عرب پاکستان پردباو ڈال رہا ہےکہ وہ اسرائیل کو تسلیم کرے یا پھراسرائیل کو تسلیم کرنے والے ممالک کے حوالے سے خاموش رہے ، ان کی مخالفت نہ کرے

    ان حقائق کی روشنی میں کچھ چیزیں‌جوسامنے آتی ہیں‌ جن کی بنیاد پرکہا جاسکتا ہے کہ پاکستان پران عرب ملکوں کی طرف سے اسرائیل کوتسلیم کرنے کےبعد بہت زیادہ اثرات مرتب ہوئے ہیں

    اسرائیل کوتسلیم کرنے والے ممالک نے پاکستان کی طرف سے مزاحمت کواپنے معاملات میں مداخلت سمجھا اوریوں ان ممالک نے پاکستان کے حوالے سے اپنی پالیسیوں میں نمایاں تبدیلیاں کرلیں

    ان ممالک نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کے بعد بھارت کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کرنا شروع کردیا ، کیوں کہ اسرائیل اوربھارت کے مفادات ایک ہیں اوراس کا نقصان یہ ہوا کہ بھارت بھی پاکستان کے خلاف اس حوالے سےپراکسی پراتر آیا

    ان عرب ممالک میں مقیم پاکستانیوں کے حوالے سے ان حکومتوں کے رویے میں‌سختی آگئی

    ان عرب ممالک نے پاکستان کی عالمی فورموں پرحمایت سے مکمل طورپرہاتھ کھینچ لیاسعودی عرب نے ایف اے ٹی ایف میں ووٹ نہ دے کربھارت اورامریکہ کوخوش کرلیا

    پاکستان کی طرف سے اسرائیل کوتسلیم کرنے سے انکارکے بعد اسرائیل نے پاکستان کے لیے عالمی سطح پرمعاملات کھڑے کردیئے ہیں‌

    امریکہ نے عرب ملکوں‌پردباو ڈال کرپاکستان سے تھوڑا سا دوررہنے کا مشورہ دیا جس سے پاکستان کو اپنی ابھرتی ہوئی معیشت کو پھرسے مسائل کا سامنا کرنے کا ڈرپیدا ہوگیا

    ان عرب ممالک نے کشمیر کے مسئلے پرپاکستان کے موقف کی حمایت کرنے میں سردمہری دکھانا شروع کردی ہے

    پاکستان کے ساتھ سرمایہ کاری کو کم کرنے پرکام ہورہا ہے ، سعودی عرب بھارت میں بہت بڑی سرمایہ کاری کررہا ہے لیکن پاکستان میں‌ اعلان کردہ معاہدوں پرعمل کرنے سے گریزاں ہے

    اس سے پاکستانی اسلحے کی ان عرب ممالک میں دلچسپی میں کمی لانے کے حوالے سے امریکہ ، اسرائیل اوربھارت مل کرکام کررہے ہیں‌

    حالانکہ پاکستان نے اوآئی سی میں ان عرب ملکوں کے تمام مطالبات اورمعاملات کی کھل کرحمایت کی ہے اوریہ حمایت جاری رہے گی لیکن اسی فورم سے کشمیر کے لیے سوائے الفاظ کے ہیر پھیرسے کوئی کام نہیں ہوا

     

     

    قائد اعظم محمد علی جناح سے عمران خان تک:اسرائیل اورپاکستان کی خفیہ محبت کا دلچسپ…

    اب یہ بھی خبریں‌آرہی ہیں کہ سعودی عرب محمد بن سلمان کےجمال خشوگی کے قتل میں امریکہ کی طرف سے ملوث کردہ الزامات کے بعد کچھ توقعات رکھتا ہے پاکستان نے بھی اس معاملے پرسعودی عرب کے موقف کی حمایت کی ہے

    پاکستان کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے اورعرب ممالک کی طرف سے تسلیم کرنے کے اس عمل کے پاکستان اورچین کے درمیان تجارتی اورمعاشی لین دین پربھی بہت بڑا اثرا پڑا ہے ، یہ ممالک سی پیک کے معاملے میں بھارت نوازی کررہے ہیں عرب امارات کو تو گوادرکی بندگاہ بھاتی ہی نہیں

    خطے میں ایران بھی ان معاملات پرنظررکھے ہوئے ہے ایران عرب ممالک کی طرف سے اسر ائیل کوتسلیم کرنے کے معاملے پرپاکستان کے دیرینہ موقف کی حمایت کررہا ہے ساتھ ہی عرب ممالک کے ساتھ ایران کے اپنے تعلقات میں سردمہری دکھائی جارہی ہے

    بہرکیف اوربھی بہت سے ایشوز مگراس کے ساتھ ساتھ کچھ عرب ممالک کے داخلی معاملات سے پاکستان پراثرات مرتب ہورہے ہیں

    اگردیکھا جائے تو ان ممالک کی طرف سے اسرائیل کوتسلیم کرنے کے حوالے سے بہت سے اشکال سامنے آرہے ہیں‌

    تھوڑی سی نظردیگرممالک پربھی ڈالنا ضرور ہے جن کی وجہ سے خطے پراس کے بہت گہرے اثرات مرتب ہورہے ہیں‌

    عرب ملکوں کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حوالے سے فلسطینی سخت ناراض ہیں اورفلسطینی حکام اور حماس کی جانب سے اس معاہدے کو مسترد کیا گیا ہے۔ فلسطینی صدر محمود عباس اور حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ نے آپسی اختلافات پس پشت ڈال کر ٹیلی فون پر گفتگو کی۔ فلسطین نے متحدہ عرب امارات سے اپنا سفیر بھی فوری طور پر واپس بلانے کا اعلان کیا ہے۔ صدر ٹرمپ کے مطابق جب خطے کے اہم ممالک اسرائیل کے ساتھ معاہدے کر لیں گے تو فلسطینیوں کو بھی آخرکار مذاکرات کرنا پڑیں گے۔

    اسرائیل کوتسلیم کرنے کے حوالےسے ترکی نے اماراتی فیصلے پر شدید تنقید کی ہے۔ ترک صدر ایردوآن نے یہ تک کہہ دیا کہ انقرہ اور ابوظہبی کے مابین سفارتی تعلقات ختم کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ ترک وزارت خارجہ نے کہا کہ ایسی ڈیل کرنے پر تاریخ یو اے ای کے ’منافقانہ رویے‘ کو معاف نہیں کرے گی۔ ترکی کے پہلے سے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات ہیں تاہم حالیہ برسوں کے دوران دونوں ممالک کے مابین کشیدگی بڑھی ہے۔

    ایران عرب ملکوں کی طرف سے اسرائیل کوتسلیم کیے جانے پربہت زیادہ برہم ہے اورسخت ردعمل بھی دیا ہے ، اس حوالے سے ایران نے متحدہ عرب امارات کے فیصلے کو ’شرمناک اور خطرناک‘ قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کی ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے اس معاہدے کو متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کی احمقانہ حکمت عملی قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس سے خطے میں مزاحمت کا محور کمزور نہیں ہو گا بلکہ اسے تقویت ملے گی۔ خطے میں ایرانی اثر و رسوخ سے لاحق ممکنہ خطرات بھی خلیجی ممالک اور اسرائیل کی قربت کا ایک اہم سبب ہیں۔

    اردن نے نہ تو مخالفت کی اورنہ ہی حمایت یہی وجہ ہے کہ اسرائیل کے پڑوسی ملک اردن کی جانب سے نہ اس معاہدے پر تنقید کی گئی اور نہ ہی بہت زیادہ جوش و خروش دکھایا گیا۔ ملکی وزیر خارجہ ایمن الصفدی کا کہنا ہے کہ امن معاہدے کی افادیت کا انحصار اسرائیلی اقدامات پر ہے۔ اردن نے سن 1994 میں اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ کیا تھا

    دوسری اہم اورقابل غوربات یہ ہے کہ اس سارے عرصے کے دوران پاکستان اپنے عرب بھائیوں کے لیے کھڑا رہا ، پاکستان کواس نظریے پرقائم رہنے کی سخت سزا دی گئی ،جن کی خاطرپاکستان کھڑا رہا وہ بیٹھ گئے ، جن کی خاطرپاکستان نے اسرائیل سے نہ ڈیل کی نہ ڈھیل دی ، انہوں نے ڈیل بھی کرلی اورڈھیل بھی دے دی

    مسئلہ یہ نہیں کہ یہ تعلقات کیوں بنانے کی کوشش کی گئی ، جس طرح معاشروں ،قوموں اوربرادریوں میں ایک فطری تعلق بہتر کرنے کی کوشش ہوتی رہتی ہے ، ایسے ہی ملکوں کے درمیان یہ خواہش پیدا ہوتی رہتی ہے ، خاص کراس دورمیں جب دنیا گلوبل یعنی ایک پیج پرہے توکسی بھی صورت میں کوئی ملک ایک دوسرے کے بغیرنہیں چل سکتا

    لیکن پاکستان کا مسئلہ دنیا کی روایات اوراقدار سے مختلف ہے پاکستان لاالہ الآ اللہ کے نظریے پرقائم ہے اسی وجہ سے پاکستان لا الہ الآ اللہ کے ماننے والوں کی دلی آواز پرلبیک کہتے ہوئے ان تعلقات کوقائم کرنے سے دور ہے

    دوسری طرف عرب امارات اپنے فیصلے پرڈٹ گیا ہے جس کے مطابق اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کا ان کا فیصلہ مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے امکانات بڑھائے گا اور یہ فیصلہ مشرق وسطیٰ کے تنازعے میں ’درکار ضروری حقیقت پسندی‘ لاتا ہے۔ اماراتی وزیر خارجہ انور قرقاش کے مطابق شیخ محمد بن زیاد کے جرات مندانہ فیصلے سے فلسطینی زمین کا اسرائیل میں انضمام موخر ہوا جس سے اسرائیل اور فلسطین کو دو ریاستی حل کے لیے مذاکرات کرنے کے لیے مزید وقت مل جائے گا۔

    یاد رہے کہ اسرائیل بھی پاکستان کی طرح مذہبی بنیادوں پر وجود میں آیا اور دنیا کی پہلی یہودی ریاست کے نام سے جانا جاتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ اسرائیل پاکستان کو واحد اسلامی جوہریریاست کے بطور اسرائیل کے لیے بڑا خطرہ تصور کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے نیوکلیئر بم کو "اسلامی بم” کے نام سے اسرائیل ہی نے موسوم کیا۔اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ فلسطین پر قبضے اور فلسطینیوں کے حوالے سے پاکستان کے خصوصی جذبات ہیں جن کا خیال پاکستان کی ہر حکومت نے ہمیشہ رکھا ہے

  • ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا امیدوار کون؟ وزیراعظم کا بڑا فیصلہ سامنے آ گیا

    ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا امیدوار کون؟ وزیراعظم کا بڑا فیصلہ سامنے آ گیا

    ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا امیدوار کون؟ وزیراعظم کا بڑا فیصلہ سامنے آ گیا
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان بے سینیٹرز کے اعزاز میں ظہرانہ دیا

    اطلاعات کے مطابق حکمران اتحاد نے مرزا آفریدی کو ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نامزد کردیا ہے ،ڈپٹی چیئرمین سینٹ کے عہدے پر حکمران جماعت کے امیدوار کیلئے 4 ناموں پر غور کیا جارہا تھا ۔جن میں سیف اللہ نیازی، اعجاز چودھری ، مرزا آفریدی اور عون عباس شامل تھے ،ڈپٹی چییرمین سینیٹ کی نامزدگی کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا ،مرزا آفریدی کا تعلق سابقہ فاٹا سے ہے

    شبلی فراز کا کہنا تھا کہ مرزا محمد آفریدی سابق فاٹا سے تحریک انصاف کے رکن ہیں،مرزا آفریدی کی نامزدگی کا فیصلہ وزیراعظم کے ظہرانے میں فائنل کیا گیا، تحریک انصاف کی اتحادی جماعتوں نے بھی مرزا آفریدی کے نام پر اتفاق کیا،

    وزیراعظم کی جانب سے دیئے گئے ظہرانے میں ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے امیدوار کے نام پر بھی مشاورت ہوئی ،اتحادیوں نے فیصلے کا اختیار وزیراعظم عمران خان کو دے دیا،وزیراعظم عمران خان کو یقین دہانی کروائی گئی کہ پہلے اور آئندہ بھی عمران خان کے ساتھ کھڑے رہیں گے ،وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ اتحادی اراکین حکومت کا اہم حصہ ہیں، آپ کا مشکور ہوں کہ آپ نے ہر موقع پر ہمارا ساتھ دیا اتحادیوں کے تحفظات سے بخوبی آگاہ ہوں اتحادیوں کے تحفظات بہت جلد دور کیے جائیں گے ،کل کا انتخاب انتہائی اہم مرحلہ ہے ،کل تمام اراکین اپنی حاضری یقینی بنائیں،حکومتی امیدواروں کو ووٹ دے کر کامیاب کریں،

    وزیراعظم عمران خان نے نومنتخب سینیٹرز کو مبارکبا د دی اور کہا کہ ایک ایک ووٹ قیمتی ہے، احتیاط سے ووٹ ڈالیں،کسی کا ووٹ ضائع نہیں ہونا چاہیے،سینیٹرز کو پنجاب ہاوَس میں ڈنر دیا جائے گا،سینیٹرز کو ووٹ کاسٹ کرنے کا طریقہ بتایا جائے گا،

    قبل ازیں وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے صادق سنجرانی کو دوبارہ چیئرمین سینیٹ بنانے کا اعلان کیا ہے،چیئرمین سینیٹ کی نشست پر صادق سنجرانی یوسف رضاگیلانی کا مقابلہ کریں گے ، یوسف رضا گیلانی کے الیکشن جیتنے کے بعد بلاول زرداری نے اعلان کیا تھا کہ یوسف رضا گیلانی ہی چیئرمین سینیٹ کے امیدوار ہوں گے،آصف زرداری بھی کہہ چکے ہیں کہ حکومت کو اب چیئرمین سینیٹ کے انتخابات میں سرپرائیز دیں گے

    نو منتخب اراکین سینیٹ 12 مارچ کو حلف اٹھائیں گے سینیٹ سیکرٹریٹ کے مطابق ریٹائر ہونے والے سینیٹرز کی مدت 11 مارچ کو ختم ہو جائے گی 12 مارچ کو صبح کے اوقات میں حلف اٹھائیں گے 12مارچ کو ہی دوپہر میں چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا انتخاب ہو گا،

    یوسف رضا گیلانی کے مقابلے میں چیئرمین سینیٹ کے لئے وزیراعظم نے امیدوار کا کیا اعلان

    چیئرمین سینیٹ کا الیکشن، اگلا بڑا معرکہ کب ہو گا؟ تاریخ کا اعلان کر دیا گیا

    وزیراعظم سے آرمی چیف کے بعد ایک اور اہم شخصیت کی ملاقات، لاہور سے کس کو ہنگامی طور پر طلب کر لیا گیا؟

    ڈر اور کسی خوف میں حکومت نہیں کر سکتا،وزیراعظم کا دبنگ اعلان

    سینیٹ انتخابات اور اعتماد کے ووٹ کے بعد کابینہ میں رد و بدل کا امکان،ایم کیو ایم کی بھی "ڈومور”

    مریم نواز نے یوسف رضا گیلانی کو مشکل میں پھنسا دیا

    اب نہیں تو کبھی نہیں، گیلانی کے خلاف پی ٹی آئی نے بڑا قدم اٹھا لیا

    گیلانی نااہلی کیس،الیکشن کمیشن میں کون ابھی تک پیش نہ ہوا؟

    گیلانی کی نااہلی کی درخواست، الیکشن کمیشن نے کس کو دے دیا بڑا جھٹکا؟

    چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی ویڈیو "لیک” تہلکہ مچ گیا

    ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا الیکشن جیتنے کے لئے مولانا عبدالغفور حیدری نے کس سے مانگی مدد؟

    ہمارے اراکین پر سنجرانی کو ووٹ دینے کیلئے دباؤ ڈالا جا رہا ہے،مولانا نے کس سے رابطہ کر لیا؟

    انشااللہ ہم جیت جائینگے،یوسف رضا گیلانی ایک بار پھر پر امید

    ہمارے سینیٹرز پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے، مریم نواز کا بڑا انکشاف

  • حفیظ شیخ کی ناکامی کے بعد حکومت کو کوئی اورمعیشت دان نہیں ملا ؟عدالت

    حفیظ شیخ کی ناکامی کے بعد حکومت کو کوئی اورمعیشت دان نہیں ملا ؟عدالت

    اچھے معاشرے میں ناکامی پر خود استعفے دے دیئے جاتے ہیں ،عدالت

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاہور ہائی کورٹ میں مشیروں اور معاون خصوصی کی تقرریوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    لاہور ہائی کورٹ نے درخواست پر سماعت 25 مارچ تک ملتوی کر دی مشیروں کے کابینہ اجلاس کے بارے میں وفاقی سیکریٹری کابینہ ڈویژن سے بیان حلفی طلب کر لئے گئے،عدالت نے وزیراعظم کے پرنسپل سیکریٹری سے بھی بیان حلفی طلب کر لیے، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ محمد قاسم خان نے کہا کہ کیا یہ مشیر صرف کابینہ میں کسی ایشوز پر آتے ہیں ؟یہ مشیر حضرات سرکاری مراعات نہیں لیتے یہ بھی بیان حلفی دیا جائے ،

    چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ محمد قاسم خان نے استفسار کیا کہ حفیظ شیخ نے کتنا ٹیکس دیا؟ صرف کتابوں میں لکھنے سے جمہوریت نہیں آئے گی،اچھے معاشرے میں ناکامی پر خود استعفے دے دیئے جاتے ہیں ،کیا حفیظ شیخ کی ناکامی کے بعد حکومت کو کوئی اور اچھا معیشت دان نہیں ملا ؟کیا جمہوریت میں ناکامی کے بعد بھی ایسے لوگوں کو رکھناضروری ہے ؟یہ لوگ صرف وزیراعظم کو رائے دے سکتے ہیں،یہ لوگ کابینہ میں شرکت نہیں کر سکتے ،

    عدالت نے وفاقی سیکریٹری کابینہ سے بیان حلفی طلب کر لیا

    وزیراعظم غیرملکی شہریت رکھنے والے مشیروں، وزیروں سے استعفیٰ لیں،مریم اورنگزیب

  • ہمارے سینیٹرز پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے، مریم نواز کا بڑا انکشاف

    ہمارے سینیٹرز پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے، مریم نواز کا بڑا انکشاف

    ہمارے سینیٹرز پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے، مریم نواز کا بڑا انکشاف

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چیئرمین سینیٹ کے الیکشن کل جمعہ کو ہونے ہیں

    پی ڈی ایم اتحاد کے یوسف رضا گیلانی اور حکومت اتحاد کے صادق سنجرانی کے مابین چیئرمین کی سیٹ پر مقابلہ ہے، امیدواروں کی جانب سے کاغذات نامزدگی حاصل کئے جا رہے ہیں،چیئرمین سینیٹ کے الیکشن کے لئے جوڑ توڑ جاری ہے، امیدوار رابطے کر رہے ہیں، مولانا عبدالغفور حیدری نے جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم سے رابطہ کیاہے، الیکشن سے قبل آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمان کا بھی رابطہ ہو اہے

    تا ہم اب انکشاف ہوا ہے،کہ سینیٹرز کو کالز کی جا رہی ہیں کہ وہ پی ڈی ایم امیدوار کو ووٹ نہ دیں، ن لیگ کی رہنما مریم نواز نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے سینیٹرز کوکالز کی جارہی ہیں کہ پی ڈی ایم امیدوار کوووٹ نہ دیں ہمارے کچھ سینیٹرز  نے ثبوت کےطورپر کالز ر یکارڈ کرلی ہیں،

    قبل ازیں وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے صادق سنجرانی کو دوبارہ چیئرمین سینیٹ بنانے کا اعلان کیا ہے،چیئرمین سینیٹ کی نشست پر صادق سنجرانی یوسف رضاگیلانی کا مقابلہ کریں گے ، یوسف رضا گیلانی کے الیکشن جیتنے کے بعد بلاول زرداری نے اعلان کیا تھا کہ یوسف رضا گیلانی ہی چیئرمین سینیٹ کے امیدوار ہوں گے،آصف زرداری بھی کہہ چکے ہیں کہ حکومت کو اب چیئرمین سینیٹ کے انتخابات میں سرپرائیز دیں گے

    نو منتخب اراکین سینیٹ 12 مارچ کو حلف اٹھائیں گے سینیٹ سیکرٹریٹ کے مطابق ریٹائر ہونے والے سینیٹرز کی مدت 11 مارچ کو ختم ہو جائے گی 12 مارچ کو صبح کے اوقات میں حلف اٹھائیں گے 12مارچ کو ہی دوپہر میں چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا انتخاب ہو گا،

    یوسف رضا گیلانی کے مقابلے میں چیئرمین سینیٹ کے لئے وزیراعظم نے امیدوار کا کیا اعلان

    چیئرمین سینیٹ کا الیکشن، اگلا بڑا معرکہ کب ہو گا؟ تاریخ کا اعلان کر دیا گیا

    وزیراعظم سے آرمی چیف کے بعد ایک اور اہم شخصیت کی ملاقات، لاہور سے کس کو ہنگامی طور پر طلب کر لیا گیا؟

    ڈر اور کسی خوف میں حکومت نہیں کر سکتا،وزیراعظم کا دبنگ اعلان

    سینیٹ انتخابات اور اعتماد کے ووٹ کے بعد کابینہ میں رد و بدل کا امکان،ایم کیو ایم کی بھی "ڈومور”

    مریم نواز نے یوسف رضا گیلانی کو مشکل میں پھنسا دیا

    اب نہیں تو کبھی نہیں، گیلانی کے خلاف پی ٹی آئی نے بڑا قدم اٹھا لیا

    گیلانی نااہلی کیس،الیکشن کمیشن میں کون ابھی تک پیش نہ ہوا؟

    گیلانی کی نااہلی کی درخواست، الیکشن کمیشن نے کس کو دے دیا بڑا جھٹکا؟

    چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی ویڈیو "لیک” تہلکہ مچ گیا

    ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا الیکشن جیتنے کے لئے مولانا عبدالغفور حیدری نے کس سے مانگی مدد؟

    ہمارے اراکین پر سنجرانی کو ووٹ دینے کیلئے دباؤ ڈالا جا رہا ہے،مولانا نے کس سے رابطہ کر لیا؟

    انشااللہ ہم جیت جائینگے،یوسف رضا گیلانی ایک بار پھر پر امید