Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • مولانانوازپیپلزپارٹی کوپھنسانےکےلیےبےتاب:بلاول نےکیا کہاکہ مولانا کےپسینےچھوٹ گئے

    مولانانوازپیپلزپارٹی کوپھنسانےکےلیےبےتاب:بلاول نےکیا کہاکہ مولانا کےپسینےچھوٹ گئے

    اسلام آباد:مولانانوازپیپلزپارٹی کوپھنسانےکےلیےبےتاب:بلاول نےکیا کہاکہ مولانا کےپسینےچھوٹ گئے ،اطلاعات کے مطابق پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اس وقت سخت صدمے میں ہیں اوردوسری طرف بلاول بھٹو نے بھی مولانا کوکھری کھری سنادیں ہیں

    ذرائع کے مطابق مولانا نے بلاول بھٹوسے کہا کہ پہلے استعفے دیں پھرلانگ مارچ کریں گے

    مولانا نے کہا کہ ضرورسنیئے !

    بلاول صاحب جب تک آپ استعفے نہیں دیں‌گے یہ ضدی شخص دباو میں نہیں آئے گا

    بلاول مولانا صاحب کیا آپ چاہتےہیں کہ ہم استعفے دیکرپارلیمان کے پلیٹ فارم سے بھی محروم ہوجائیں

    مولانا:نوازشریف بھی یہی چاہتے ہیں کہ پہلے استعفے دیں‌ گے تو پھر فائدہ ہوگا پھرلانگ مارچ کی صورت میں تبدیلی آسکتی ہے

    بلاول :مولانا صاحب جویہ مشورہ دیتے ہیں وہ پہلے پاکستان آئیں اورقیادت سنبھالیں کسی کے کندھے پررکھ بندوق چلانا آسان ہے

    مولانا :چلو پھر16 مارچ کوہونے والے اجلاس میں یہ ایجنڈا رکھیں گے

    بلاول:مولانا صاحب ہم استعفے تو نہیں دیں گے اس کے علاوہ کوئی اورآپشن ہے تو بتادیں

    یاد رہےکہ اس گفتگو کے بعد پیپلزپارٹی کی طرف سے بلاول کے بیانیے کو باقاعدہ طورپرمیڈیا کے سامنے پیش کرتےہوئے مولانا کی خواہش پرپانی پھیردیا گیا ہے اوراعلان کردیا گیا ہے کہ پی پی کبھی بھی استعفے نہیں دے گی

    بلاو

  • زرداری صاحب آپ بھی بھاری آپکےکُتّےبھی بھاری:ہلکے    اورنکمےہیں توہم اورہمارےبچے:اللہ ہمیں نجات دے:شہری

    زرداری صاحب آپ بھی بھاری آپکےکُتّےبھی بھاری:ہلکے اورنکمےہیں توہم اورہمارےبچے:اللہ ہمیں نجات دے:شہری

    کراچی :زرداری صاحب آپ بھی بھاری آپ کےکُتّےبھی بھاری:ہلکےاورنکمےہیں توہم اورہمارےبچے:اللہ ہمیں نجات دے:شہری نے دہائیاں دینا شروع کردیں‌ ،اطلاعات کے مطابق رات کراچی میں ایک اورکتے نے ایک 5 سالہ بچی کوکاٹ ڈالا ، بچی کے والد نے اپنی بے بسی پرکچھ اس اظہار کیا کہ!

    "زرداری صاحب آپ بھی بھاری آپ کےکُتّےبھی بھاری:ہلکےاورنکمےہیں توہم اورہمارےبچے:اللہ ہمیں نجات دے”

    اس حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ کراچی کے علاقے پی ای سی ایچ ایس میں گذشتہ روز سگ گزیدگی کا شکار 5 سال کی عائشہ سرکاری اسپتال میں زیر علاج ہے پیر کو میڈیکل بورڈ دوبارہ معائنہ کرنے کے بعد سرجری کا فیصلہ کرےگا۔

    گزشتہ رات پی ای سی ایچ ایس میں گلی میں کھیلنے والی 5 سال کی عائشہ کو آوارہ کتوں نے بھنبھوڑ ڈالا تھا، آوارہ کتوں کے حملے کے باعث عائشہ کے سر اور چہرے پر شدید زخم آئے تھے، عائشہ کو فوری طور پر جناح اسپتال میں طبی امداد دی گئی اور بعد میں این آئی سی ایچ میں منتقل کیا گیا۔

    ڈائریکٹر این آئی سی ایچ جمال رضا کا کہنا ہے کہ بچی آئی سی یو میں زیر علاج ہے، انفیکشن کے باعث بچی کو بخار کی شکایت ہے تاہم اس کی حالت میں بتدریج بہتری آرہی ہے۔

    ڈاکٹر جمال رضا کا کہنا ہے کہ پیر کو میڈیکل بورڈ بچی کا دوبارہ معائنہ کرے گا جس کے بعد بچی کی سرجری کا فیصلہ کیا جائےگا

    یاد رہے کہ سندھ میں رواں سال کتوں کے کاٹنے کے 1200 سے زائد کیسز سامنے آچکے ہیں، جامشورو میں ڈھائی سال کی بچی کی کتوں کے کاٹنے کی وجہ سے جاں بحق ہوچکی ہے

  • عراقی مسلمان سخت پریشان ہیں جلد امداد بھیجی جائے:وزیراعظم عمران خان جذباتی ہوگئے

    عراقی مسلمان سخت پریشان ہیں جلد امداد بھیجی جائے:وزیراعظم عمران خان جذباتی ہوگئے

    اسلام آباد:عراقی مسلمان سخت پریشان ہیں جلد امداد بھیجی جائے:وزیراعظم عمران خان نے برادراسلامی ملک عراق کے لیے جلد امداد بھیجنے کا حکم دے دیا

    ذرائع کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پربرادراسلامی ملک عراق کے لئے کوویڈ سے متعلق امدادی سامان کے تین طیاروں سے بھری امداد بھجوا رہا ہے۔

    پہلا طیارہ آج نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے چیئرمین ، وزارت خارجہ کے سینئر عہدیداروں اور پاکستان میں عراق کے سفیر کی موجودگی میں روانہ کیا گیا۔ اگلی دو کھیپ آئندہ ہفتے میں بھیج دی جائے گی۔

    اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور عراق کے درمیان برادرانہ تعلقات مشترکہ اعتقاد اور اقدار ہیں۔

    وزیراعظم عمران خا ن نے اس موقع پر کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان کثیر الجہتی تعلقات ہیں ، جس میں باقاعدگی سے مختلف شعبوں میں بڑھتے ہوئے تعاون کی نشاندہی کی گئی ہے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ CoVID-19 وبائی مرض ایک عالمی چیلنج ہے ، جس میں صرف بین الاقوامی یکجہتی اور تعاون ہوسکتا ہے۔ پاکستان کی حکومت اور عوام اس مشکل وقت میں اپنے عراقی بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں

  • "کرونا سےڈرنا نہیں” تاجروں کو اب یاد آیا: شام 6 بجے بازاراورمارکیٹیں بند کرنے کا فیصلہ مسترد کردیا

    "کرونا سےڈرنا نہیں” تاجروں کو اب یاد آیا: شام 6 بجے بازاراورمارکیٹیں بند کرنے کا فیصلہ مسترد کردیا

    لاہور:”کرونا سےڈرنا نہیں” تاجروں کو اب یاد آیا: شام 6 بجے بازاراورمارکیٹیں بند کرنے کا فیصلہ مسترد کردیا ،اطلاعات کے مطابق تاجروں کو بڑے عرصے بعد یہ نعرہ یاد آگیا کہ "کرونا سے ڈرنا نہیں "اورساتھ ہی بڑا سخت ردعمل بھی دے دیا ،

    ادھر کرونا کے حوالے سے حکومت کی طرف سے جاری ایس پی اوز کوقبول کرنے سے انکارکرتے ہوئے تاجروں نے شام 6 بجے بازار اور مارکیٹیں بند کرنے کا فیصلہ مسترد کر دیا۔

    جنرل سیکریٹری آل پاکستان انجمن تاجران نعیم میر نے کہا ہے کہ اوقات کار کے حوالے سے تاجروں کو اعتماد میں نہیں لیا گیا ، حکومت کا جب دل کرتا ہے کورونا کے کیسز بڑھادیتی ہے ، حکمران دماغی توازن کھوچکے ہیں ، حکومت خود نا اہل اور حکومتی وزراء چور ہیں ، اسی بناء پر ابھی تک حکومت کورونا کے حوالے سے کسی بھی قسم کی قانون سازی نہیں کرسکی۔

    اس حوالے سے صدر آل پاکستان انجمن تاجران اشرف بھٹی نے کہا ہے کہ تاجر عجلت میں کیے گئے فیصلے کو نہیں مانتے ، انار کلی بازار، اردو بازار، منٹگمری مارکیٹ، شاہ عالم مارکیٹ ، اعظم کلاتھ مارکیٹ سمیت درجنوں مارکیٹوں کے تاجروں نے بھی حکومتی فیصلے پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔

    خیال رہے کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے باعث پنجاب حکومت نے اہم فیصلے کیے ہیں۔پنجاب کے کئی شہروں میں سخت ایس او پیز نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے

    ، وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کا کہنا ہے کہ لاہور، راولپنڈی، ملتان ، فیصل آباد،گجرانوالہ سرگودھا میں سخت ایس او پیز لاگو کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    ان شہروں میں تعلیمی ادارے ، پارکس ، ان ڈور شادی ہالز بند رہیں گے ، ان شہروں میں مارکیٹس شام 6 بجے بند کر دی جائیں گی ، مزار ، میلے، کھیلوں کی سرگرمیوں پر 15 دن تک پابندی ہو گی ، ضابطہ کار ہفتہ ، اتوار کی درمیانی رات سے 15 دن تک لاگو کیے جائیں گے

  • چیئرمین سینیٹ انتخابات نتائج، اپوزیشن کے الزامات پر  پریزائیڈنگ افسرکا اہم اعلان

    چیئرمین سینیٹ انتخابات نتائج، اپوزیشن کے الزامات پر پریزائیڈنگ افسرکا اہم اعلان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں پریزائیڈنگ افسرمظفرحسین شاہ نے اپوزیشن کے الزامات کو مسترد کردیا

    مظفر حسین شاہ کا کہنا تھا کہ پارلیمان کی کارروائی عدالت میں چیلنج نہیں ہوسکتی،پی ڈی ایم کے 7ارکان نے جان بوجھ کر7 ووٹ ضائع کیے ہیں،7 کے 7بیلٹ پیپر پر ایک ہی طرز پر اسٹیمپ لگے ہوئے تھے، عبدالحفیظ شیخ اور سندھ میں صدرالدین شاہ راشدی کے ووٹ اسی بنیاد پر مسترد کیے گئے تھے، 7ووٹ کی چوری اپوزیشن کے اپنے گھر سے ہوئی ہے،اب اپوزیشن خود تحقیقات کرے کہ وہ چوری کن ارکان نے کی ہے،میرے اوپر تنقید بلاوجہ ہے، ماضی میں صدر نے اسحاق ڈاراور سردار یعقوب ناصرکو بھی پریزائیڈنگ افسر مقرر کیا تھا، اپوزیشن کو تفصیلی سن کر اپنا فیصلہ دیا،

    قبل ازیں وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ ہم نے پہلے ہی کہا تھا کہ اوپن بیلٹ پرالیکشن کیا جائے تا کہ کوئی اعتراض نہ ہو،عمران خان نےاعتماد ووٹ سےپہلےکہاتھاکہ اگرکوئی ساتھ نہیں دیتا تو میں چلا جاؤں گا،

    دوسری جانب سینیٹ انتخابات میں چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین کو شکست ہونے پر پی ڈی ایم نے ہنگامی اجلاس طلب کر لیا، مولانا فضل الرحمان کی زیرصدارت پی ڈی ایم کا سربراہی اجلاس پیر کو ہوگا،اجلاس میں نوازشریف، آصف علی زرداری وڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوں گے، پی ڈی ایم اجلاس میں بلاول بھٹو ، مریم نواز، محمود خان اچکزئی شرکت کریں گےاجلاس میں چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین سینیٹ انتخاب میں شکست کے بعدعملی پر مشاورت ہوگی،پی ڈی ایم اجلاس میں لانگ مارچ سے متعلق حکمت عملی طے ہوگی،

    واضح رہے کہ گزشتہ روز چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے الیکشن میں صادق سنجرانی اور مرزا آفریدی منتخب ہو چکے ہیں جبکہ پی ڈی ایم کو شکست ہوئی ہے، چیئرمین کی سیٹ پر پی ڈی ایم نے نتایج کو چینلج کر دیا ہے جبکہ عدالت بھی جانے کا اعلان کر رکھا ہے، عدالت میں پیر کو رٹ دائر کی جائے گی جس میں چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کو چیلنج کیا جائے گا

  • کرونا سے لڑنے والے دنیا بھر کے ہیروز میں پاکستانی ڈاکٹر کا نام بھی عالمی فہرست میں شامل

    کرونا سے لڑنے والے دنیا بھر کے ہیروز میں پاکستانی ڈاکٹر کا نام بھی عالمی فہرست میں شامل

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کورونا وائرس کو دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ایک سال مکمل ہونے کے بعد عالمی جریدے نے ہیروز کی فہرست جاری ہے

    کورونا وبا کے دوران خدمات پر عالمی جریدے کی فہرست میں پاکستانی ڈاکٹرسیمی جمالی بھی شامل ہیں،کوروناکی صورتحا ل میں ڈاکٹرسیمی جمالی کی خدمات کو عالمی سطح پرسراہاگیا،جریدے کا کہنا ہے کہ ڈاکٹرسیمی جمالی جان لیوا مرض کے باوجود فرائض پرڈٹی رہیں، ہیروز کی فہرست میں پاکستان،میکسیکو،جنوبی افریقہ اوردیگرممالک کے ہیلتھ ورکرزشامل ہیں

    رپورٹ میں اعتراف کیا گیا کہ پاکستانی ڈاکٹرز اور طبی عملے نے دہشت گردی کا سامنا کیا جو بہادری کا کام ہے۔ شہر قائد کراچی کے جناح ہسپتال کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر سیمی جمالی خود کینسر کے مرض میں مبتلا ہیں اور کورونا کے دوران ڈاکٹر سیمی جمالی کی کیمو تھراپی چل رہی تھی۔

    جریدے کی جانب سے جاری ہونے والی فہرست میں مقبوضہ کشمیر کے ایمبولینس ڈرائیور کا نام بھی شامل ہے

  • مریم نواز کی ضمانت منسوخی کی درخواست سماعت کیلئے مقرر، ن لیگ کا ردعمل بھی آ گیا

    مریم نواز کی ضمانت منسوخی کی درخواست سماعت کیلئے مقرر، ن لیگ کا ردعمل بھی آ گیا

    مریم نواز کی ضمانت منسوخی کی درخواست سماعت کیلئے مقرر، ن لیگ کا ردعمل بھی آ گیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز کی ضمانت منسوخی کی لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر ہونے پر ن لیگ کی جانب سے ردعمل آ گیا

    ن لیگ کے رہنما عطاء اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ کرائے کے ترجمانوں کے اختلافات کھل کر سامنے آرہے ہیں،مریم نواز اور حمزہ شہباز ایک اور ایک گیارہ ہیں،دونوں لانگ مارچ کو لیڈ کریں گے،مریم نواز کی میرٹ پر ضمانت ہوئی ہے، مریم نواز کو ضمانت ہائی کورٹ نے دی، شوگر ملز کیس میں مریم نواز کے خلاف کوئی ثبوت نہیں،نیب کو ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کی کیا ضرورت پڑی،

    دوسری جانب مریم نواز کی ضمانت منسوخی کی درخواست سماعت کے لئے مقرر کر دیا گیا ہے، لاہور ہائیکورٹ می 15 مارچ کو نیب کی درخواست پر سماعت ہو گی

    نیب لاہور نے مریم نواز کی ضمانت منسوخی کے لیے لاہو ر ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا,نیب کی جانب سے دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ مریم نواز لاہور ہائیکورٹ سے چودھری شوگر ملز کیس میں ضمانت پر رہا ہیں، مریم نواز اپنی ضمانت کا ناجائز فائدہ اٹھا رہی ہیں، مریم نواز کو طلب کیا جاتا ہے لیکن وہ پیش نہیں ہوتیں،مریم نواز کیخلاف چودھری شوگر ملز سمیت دیگر کیسزمیں تحقیقات جاری ہیں عدالت مریم نواز کی چودھری شوگر مل میں ضمانت منسوخ کرنے کا حکم دے،

    مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز کی نومبر 2019 میں عدالت نے ضمانت منظور کی ہے، لاہور ہائیکورٹ نے  فیصلہ سناتے ہوئے مریم نواز کی چودھری شوگر ملز میں درخواست ضمانت منظور کی تا ہم عدالت نے فیصلے میں یہ حکم بھی دیا کہ مریم نواز اپنا پاسپورٹ رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ کو جمع کروائیں گے .عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اگر مریم نواز پاسپورٹ جمع نہیں کروانا چاہتی تو 7 کروڑ روپے زرضمانت جمع کرنا ہو گا ،

    جیل جا کر بڑے بڑے سیدھے ہو جاتے ہیں، مریم نواز بھی جیل جا کر”شریف” بن گئیں

    مریم نواز کی تاریخ پیدائش کیا ہے؟ عدالت نے پوچھا تو مریم نے کیا جواب دیا؟

    مریم نواز کو نیب نے چودھری شوگر ملز کیس میں کوٹ لکھپت جیل کے باہر سے حراست میں لیا تھا بعد ازاں مریم کو جوڈیشل ریمانڈ پر کوٹ لکھپت جیل منتقل کر دیا گیا تھا، مریم نواز کے والد نواز شریف کی طبیعت ناساز ہونے کے باعث مریم نواز کو سروسز ہسپتال لایا گیا تھا،

    نواز شریف لندن چلے گئے لیکن مریم نواز تاحال باہر ہیں وہ نیب میں پیش بھی نہیں ہو رہی، نیب کی جانب سے ایک ہفتہ قبل بھی مریم نواز کو طلب کیا گیا تھا.

  • جوبائیڈن بیورکریسی کےسامنےڈھیریاٹیم نااہل جمہوریت       کی آڑمیں سب گیابھاڑمیں،امریکی مایوس ہونےلگے

    جوبائیڈن بیورکریسی کےسامنےڈھیریاٹیم نااہل جمہوریت کی آڑمیں سب گیابھاڑمیں،امریکی مایوس ہونےلگے

    واشنگٹن :امریکی صدر جوبائیڈن بھی بیورکریسی کے سامنے بے بس،دعوے ٹھس،امریکی مایوس ہونے لگے ،اطلاعات کے مطابق امریکی صدر جوبائیڈن کو اسی صورت حال کا سامنا ہے جوپاکستان میں عمران خان کوبیوروکریسی کی طرف سے مزاحمت کا سامنا ہے

    جس طرح عمران خان کوبیورکریسی نہیں چلنے دے رہی اوران پرالزام ہےکہ ان کی ٹیم ٹھیک نہیں ہے اسی طرح جوبائیڈن بھی بیورکریسی کے سامنے بے بس نظرآتے ہیں ، اس‌حوالے سے معروف برطانوی چینل ٹیلی گراف نے ایک رپورٹ دی ہے کہ جوبائیڈن کی ٹیم بالکل نکمّی ہے

    ٹیلی گراف میں لکھے جانے والے مضمون کے مطابق جو بائیڈن کی بے بسی دیکھ کراس قدر شرم محسوس کی جارہی ہے کہ اس کا ذکر کرنا بھی احمقانہ عمل ہے۔

    ٹیلی گراف کا کہنا ہے کہ اس سے بڑھ کرزیادتی یہ ہے کہ جوبائیڈن کی ٹیم اس اہل ہی نہیں کہ وہ بائیڈن کے دعووں کوحقیقت میں دھار دیں‌

    جمعرات کی رات جوبائیڈن تین دن بعد میڈیا پرنظرآئے جہاں وہ اپنے اقتدار کے پچاسویں دن کرونا وائرس کی تباہ کاریوں کے حوالے سے اپنا نقطہ نظربیان کررہے تھے

    امریکی میڈیا کا کہنا ہےکہ جوبائیڈن کے پاس شاید کوئی حکمت عملی نہیں یہی وجہ ہے کہ وہ 20 منٹ تک اپنی مرضی کی گفتگو کرتے رہے لیکن جب ان سے سوال کیا گیا تو جواب دینے کی اہلیت بھی نہیں رکھتے تھے

    ٹیلی گراف نے امریکی میڈیا کے حوالےسے یہ نقل کیا ہے کہ وہ امریکی صدر جوبائیڈن کو مایوس ہوتے ہوئے دیکھ رہےہیں ان کے پاس اب باتوں‌کے سوا کچھ نہیں‌ہے

    ٹیلی گراف نے یہ بھی انکشاف کیا ہےکہ ٹیکساس میں جب بائیڈن کسی واک کررہےتھے توان کی بے چینی اورمایوسی کا اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ وہاں کسی راستے پرپڑی ہوئی کسی چیز کو ایسے ٹھوکریں ماررہےتھے جیسے کوئی بندہ مایوسی کی حالت میں اپنے جزبات کا ہاتھ پاوں مارکرکرتا ہے

    ٹیلی گراف کا کہنا ہے کہ ابھی توچند دن گزرے ہیں لیکن بائیڈن کی بے بسی نے بہت سے حقائق سے پردے اٹھا دیئے ہیں‌

    امریکی میڈیا کے حوالے سے ٹیلی گراف کا کہنا ہے کہ جوبائیڈن نے اس طرح کہانیاں سنائی جیسے کہ وہ کووڈ اوردیگرمسائل کو آنکھ جھپکتے ہی حل کردکھائیں گے

    ٹیلی گراف نے انکشاف کیا ہےکہ ان کی بے بسی اورمایوسی کی یہ حالت ہوچکی ہے کہ اپنےوزیردفاع جس کو خود ہی نامزد کیا گفتگو کے دوران اس کا نام بھول گئے اورپھر چونکہ چنانچہ والی باتیں کرتے رہے کہ ” وہ ” وہ جوکسی ادارے کو چلاتا ہے

    ٹیلی گراف لکھتا ہےکہ بائیڈن وہ پہلا صدر ہے کہ جس نے اپنے 50 دن بغیر کسی پریس کانفرنس کے گزاردیئے امریکی عوام کچھ سننے کی امید رکھتے تھے مگراب امریکی عوام ناامید ہوگئے ہیں

    ٹیلی گراف کا کہنا ہے کہ ایسے لگ رہا ہےکہ بائیڈن کی ٹیم یا تو اہل نہیں یا پھروہ بیوروکریسی کے ساتھ مل کرچل نہیں سکتی

    ٹیلی گراف کا کہنا ہے کہ بظاہر تو ایسے ہی لگ رہا ہےکہ بائیڈن اتنی جلدی کارکردگی نہیں دکھا سکیں گے اورویسے بھی اب ان کی کارکردگی کو ناپنے کے لیے کچھ وقت کا انتظارکرنا پڑے گا

    ڈومینک گرین اسپیکٹر کے امریکی ایڈیشن کے ڈپٹی ایڈیٹر ہیں وہ کہتے ہیں کہ ایک نکما شخص جس کو لانے کے لیے امریکی میڈیا نے بھونڈا کھیل کھیلا ، اب اس کا خمیازہ امریکی عوام کو بھگتنا پڑے گا ،

    ڈومینک گرین اسپیکٹر کے امریکی ایڈیشن کے ڈپٹی ایڈیٹر ہیں کہتے ہیں کہ اب ان کو بے نقاب کیا جائے گا جس نے امریکی عوام کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کے ساتھ دھوکہ کیا۔ جمہوری اداروں پر عوام کا اعتماد مزید کم ہوگا۔ اور ہم سب بائیڈن کی عوامی تذلیل کا حامی ہوں گے۔

  • نواز شریف نے وطن واپس آنے کا فیصلہ کر لیا؟ اسحاق ڈار نے مبشر لقمان کو سب بتا دیا

    نواز شریف نے وطن واپس آنے کا فیصلہ کر لیا؟ اسحاق ڈار نے مبشر لقمان کو سب بتا دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ سینیٹ کے الیکشن ہو گئے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے اس پر بہت شور ہو رہا ہے، مختلف ماہرین رائے دے رہے ہین مین بھی دے رہا ہوں، اسحاق ڈار سابق وزیر خزانہ، سینیٹربھی رہے ہیں،ان سے رابطہ کیا ہے وہ لندن سے آج ہمارے ساتھ موجود ہیں،

    مبشر لقمان نے سوال کیا کہ جو سینیٹ الیکشن ہوا اسکو کیسے دیکھتے ہیں ،کے جواب میں اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ گیلانی نے رولز کے مطابق الیکشن جیتا ہے، بہت ہی عجیب واقعہ ہوا جو پریڈائڈنگ آفیسر نے ووٹ مسترد کئے، ایک ووٹ کی تو سمجھ آتی ہے جو دو مہریں لگیں ، باقی جو سات ووٹ مسترد کئے گئے دو خانے ہیں ایک گیلانی ایک سنجرانی کا، جو گیلانی کے خانے میں نام کے اوپر مہر لگی ،یہ سات ایسے ہیں جہاں مہر لگی ہیں خانے سے باہر نہیں، بلاک کے اندر اور نام پر ہے،وہ کسی بھی صورت ان ویلڈ ووٹ نہیں ہے، سینیٹ میں جو ہدایات لگائی گئی تھی ووٹ کے حوالہ سے وہ میں نے ٹویٹ بھی کی ہوئی ہے اس میں بڑا کلیئر ہے کہ بلاک کے اندر مہر لگا دیں،

    اسحاق ڈار کا مزید کہنا تھا کہ ووٹنگ کے دوران شیری رحمان پوچھ رہی ہیں اور بھی کچھ لوگ پوچھ رہے ہین کہ مہر کہاں لگائی جائے،تو سیکرٹری نے کہا کہ کہیں بھی لگا دیں مہر،اس بلاک میں کہیں بھی مہر لگائیں ویلڈ ہے، ٹربیونل کے فیصلے بھی ہیں اور چھ اعلیٰ عدالتوں کے فیصلے ہیں جس میں ہے کہ ووٹر کی انٹریکشن میرٹ کرتی ہے، اس الیکشن میں تو بندے ہی دو ہیں انکے اپنے اپنے بلاک ہیں، اسکے سامنے الگ سے بلاک نہیں بنایا گیا کہ مہر یہاں لگانی ہے نام بھی اسی بلاک میں ہی لکھا ہوا ہے، یہ ہم اپنا مذاق بنوائیں گے، اس الیکشن میں کوئی الیکشن ٹربیونل نہیں نہ الیکشن کمیشن کا عمل دخل ہے، یہ اسلام آباد ہائیکورٹ لے کر جانا ہو گا، یہ سارا ریکارڈ جب دیکھا جائے گا اور جو نتایج دیئے گئے وہ مستر دہو جائیں گے، گیلانی کے سات ووٹ دے دیئے جائیں جو انکے نام کی مہریں لگی ہیں وہ ویلڈ ہیں، حکومت کو عدالت میں اس حوالہ سے نقصان ہو گا، یہ بڑا آسان کیس ہے اس میں لمبی تاریخوں کی بھی ضرورت نہیں ہے ، سینیٹ میں تمام پارٹیوں کی برابر نشستیں ہیں،دنوں میں اس کو جلدی حل کیا جانا چاہئے، یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں، میں سمجھتا ہوں کہ گیلانی صاحب نے آج الیکشن جیت لیا

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کچھ وکیلوں نے کہا ہے کہ سینیٹ الیکشن کسی کورٹ میں چیلنج نہیں ہو سکتا ، جس پر اسحاق ڈار نے کہا کہ کہیں تو ریلیف لینے جانا ہے، یہ بات صحیح ہے کہ اسکے لئے کوئی ٹربیونل نہیں ہے، الیکشن کمیشن نہیں ہے، لیکن یہ بھی نہیں ہو سکتا کہ سٹنگ گورنمنت جو مرضی کر لے،رولز آف بزنس یہ بھی کلیئر ہے کہ جو خانہ ہو گا باکس ہو گا امیدوار ہو گا وہ درست ہو گا، یہ رولز آف بزنس کی وائلیشن ہے، کسی کا فنڈا منٹل رائیٹ لیا گیا، جیتے ہوئے بندے کو غلط طریقے سے ہرا دیا گیا ،ہائیکورٹ اس کو سنے اور فیصلہ کرے

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ آج تین اہم واقعات ہوئے، مصدق ملک اور پی پی کے رہنما گئے انکو چھ کیمرہ، آڈیو ڈیوائسز مل گئیں، چیئرمین کا الیکشن ہو گیا، پھر ڈپٹی چیئرمین میں مزید چمک یا دھمک لگی ہے، جب تینوں چیزیں ساتھ ہو رہی ہیں تو سینیٹ کی کیا عزت رہ گئی ہے جس پر اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ہم نے کس کی عزت رہنے دی ہے دنیا میں آپ بتا دیں، آپ سینئر جرنلسٹ ہیں، اب تو آپ میڈیا ٹائیکون ہیں، دنیا میں ہماری کہاں عزت رہ گئی، ہم نے پاکستان کے پاسپورٹ کی دنیا میں تباہی کروا دی،ہم نے تو کچھ بھی نہیں چھوڑا، یہ وہ ادارے ہیں جس پر کوئی کمپرومائیز نہیں ہوتا ، اگر گیلانی چیئرمین بن جاتے تو کیا ہو جاتا، اگر شو آف ہینڈ ہوتا تو ہمارے نمبر 51 تھے پھر اس میں کونسا مسئلہ ہے ،کیا چیز آڑے ہوتی ہے، ہم جس کے زیادہ ووٹ ہیں اسکو چیئرمین بننے دیں، بدقسمتی ہے کہ ہم نے کوئی بھی اصول اسکو ہاتھ میں نہیں رہنے دیا، جیسے اخلاقیات کو تباہ کر رہے ہیں ایسے اداروں کی ریوٹیشن کو دنیا میں بدنام کر رہے ہیں

    اسحاق ڈار کا مزید کہنا تھا کہ میں سو فیصد اتفاق کرتا ہوں کہ کمیروں پر ایکشن ہونا چاہئے، اب کس نے پکڑے، ہم چھوٹی چھوٹی چیزوں پر جے آئی ٹی بنا لیتے ہیں اس پر سب کو سر جوڑ کو گھنٹوں یا دو چار دنوں میں فیصلہ کرنا چاہئے کہ کس نے یہ کروایا،

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ شبلی فراز نے کہا کہ پی پی نے کیمرے لگائے جس پر اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ شبلی نے تو یہ بھی کہہ دیا تھا کہ ہم ہر حربہ استعمال کریں گے یہ میرے پاس آتے تھے، اب تو بہت اونچی ہواؤں میں ہیں، ان کو بندہ بندہ نہیں نظر آتا،جب انہوں نے کہا کہ حربہ استعمال کریں گے کیا انہیں نمبر کا نہیں پتہ تھا، کم ووٹوں میں کیسے جیت سکتے ہیں. اس بلڈنگ کی جو ذمہ داری ہے ایڈمنسٹریشن کے حوالہ سے وہ سی ڈی اے دیکھ رہی ہے لیکن چیئرمین سینیٹ اور سپیکر کی اس بلڈنگ کی سیکورٹی کی ذمہ داری ہے، نیوز آ رہی ہیں کہ صبح پانچ بجے چیئرمین سینیٹ وہاں سے گئے ، سی سی ٹی وی نکالیں کون آیا کدھر سے آیا، سب پتہ چل جائے گا

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کے اوپر اعتراض ہو رہے ہیں کہ وہ پی ٹی آئی پر غلط الزام لگا رہے ہیں سعید مہدی کے داماد کمشنر ہیں، سی ڈی اے کے چیئرمین سعید مہدی کے صاحبزادے ہیں، ساری کڑیاں آپکی پارٹیاں سے ملتی ہیں، جس پر اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ مبشر صاحب آپ نیوٹرل ایمپائر ہیں، الیکشن کمیشن پی ٹی آئی کو پروتیکشن دے رہا ہے، سات سال سے فارن فنڈنگ کیس جو گھنٹوں کا ہے وہ لٹکایا ہوا ہے، اس پر پی ٹی آئی الیکشن کمیشن کے تعریفوں کی پل باندھتی تھی، جہاں تک سعید مہدی کا بیٹا ہے، کس نے کیا بنی گالہ کو ریگولرائیز، ہم نے تو نہیں کیا، سعید مہدی کا بیٹا ہے وہ انکے کام کر رہا ہے بارہ لاکھ لے کر ریگولرائیز کر رہا ہے، تو یہ ن لیگ کا ہوا یا انکا، جو بھی ڈیوائسز لگائی گئی ہیں یہ پکڑی گئی ہیں، ہو سکتا ہے سسٹم کے اندر سے کسی نے ہمارے لوگوں کو بتا دیا ہو

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اگر کہیں پر کوئی کریش ہوتا ہے تو رولز آف بزنس کہتے ہیں کہ جو ایوی ایٹر ہوتا ہے اسکو معطل کر دیا جاتا ہے اور اسے آئسولیشن میں لے جاتے ہیں،اسکے مینٹل کنڈیشن کا ٹیسٹ اور تحقیقات ہوتی ہیں، اگر آج سیکورٹی افسر کو سسپینڈ نہ کیا تو اسکے پاس بہت مواقع ہین کہ وہ ثبوت مٹا سکے، اسکا ذمہ دار کون ہو گا جس پر اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ چیئرمین سینیٹ کی ذمہ داری ہے یہ ہونا چاہئے تھا، جو کی پرسن ہے جنکے پاس سسٹم کی سیکورٹی کی ذمہ داری ہے، انکے خلاف ایکشن ہونا چاہئے، فوری معطل کرنا چاہئے،

    مبشر لقمان نے سوال کیا کہ اب میاں صاحب کے پاکستان آنے کی کوئی امید ہے جس پر اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ میاں صاحب کا کرونا کی وجہ سے میڈیکل ٹرینٹمنٹ نہیں ہو رہی، پچھلے سال فروری مارچ میں کرونا آیا اب تک چل رہا ہے، میاں صاحب کی کیئر تو ہو رہی ہے لیکن دل کا اور باقی جو علاج ہونا ہے وہ ابھی نہیں ہوا، جب ہو گا تو پھر وہ پاکستان جائیں گے، ابھی میرے علم میں نہیں کہ انہوں نے دوستوں سے مشورہ کیا کہ وہ پاکستان آنا چاہتے ہیں،میرا خیال ہے کہ انکی میڈیکل ٹریٹمنٹ ضروری ہے جب تک وہ نہیں ہو گی پاکستان کا پروگرام نہیں ہو سکتا،

    پلیٹ لیٹس کے سوال پر اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پلیٹ لیٹس کاؤنٹ کا مجھے نہیں پتہ، انکے تین مسائل تھے، پلیٹ لیٹس ، ہارٹ اور آکسیجن سپلائی ٹو برین کی، تینوں کے ایکسپرٹ جو ٹریٹمنٹ دیتے ہیں وہ چل رہی ہے لیکن پرمننٹ نہیں ہو رہی

  • کاش حکومتی پیشکش مان لی ہوتی تو ڈپٹی چیئرمین سینیٹ ہمارا ہوتا،مولانا کا نواز اور زرداری کو فون

    کاش حکومتی پیشکش مان لی ہوتی تو ڈپٹی چیئرمین سینیٹ ہمارا ہوتا،مولانا کا نواز اور زرداری کو فون

    کاش حکومتی پیشکش مان لی ہوتی تو ڈپٹی چیئرمین سینیٹ ہمارا ہوتا،مولانا کا نواز اور زرداری کو فون
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چیئرمین سینیٹ کے الیکشن کے نتائج آنے کے بعد پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان رات بھر سو نہ سکے

    مولانا فضل الرحمان نے گزشتہ روز نتائج کو تسلیم نہ کرنے کا اعلان کیا تھا اور خصوصی طور پر عبدالغفور حیدری کی شکست پر مولانا فضل الرحمان ناخوش نظر آئے، مولانا فضل الرحمان اس امید پر تھے کہ سینیٹ میں اہم نشست ہماری پارٹی کو مل جائے گی تا ہم ایسا نہ ہوا اور پی ڈی ایم کے ووٹ مولانا حیدری کو ملنے کی بجائے حکومتی امیدوار کو مل گئے

    پی ڈی ایم کو چیئرمین سینیٹ کے الیکشن میں شکست کیوں ہوئی اور اب کیا کرنا چاہئے، مولانا فضل الرحمان نے نواز شریف اور آصف زرداری سے ٹیلی فونک رابطہ کیا، تینوں رہنماؤں نے اس بات پر غور کیا کہ اب کیا کرنا چاہئے، شکست کے اسباب جاننے چاہئے، نام پر مہریں کس پارٹی کے اراکین نے لگائیں اس پر تحقیقات ہونی چاہئے یا نہیں، پہلے بھی صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے وقت ہمارے اراکین نے ووٹ دے دیئے تھے اب بھی ایسا ہی ہوا جان بوجھ کر اراکین نے ناموں پر مہریں لگائیں

    تینوں رہنماؤں نے لانگ مارچ کی تیاریوں اور پی ڈی ایم کے مستقبل پر تبادلہ خیال کیا اور اتفاق کیا کہ صادق سنجرانی سے قریبی تعلق رکھنے والے اپوزیشن اراکین کو چیک کیا جائے گا۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ کے انتخابات میں ووٹ مسترد اور پھر ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں حکومتی امیدوارکو وہ سب ووٹ کیسےمل گئے؟

    باخبر ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے دبے لفظوں میں اس بات کا بھی اظہار کر دیا کہ حکومت کی جانب سے ڈپٹی چیئرمین کی سیٹ کی پیشکش اگر مان لیتے تو کم از کم ڈپٹی چیئرمین تو ہمارا ہوتا، اب جو ہو گیا وہ ہو گیا، احتجاج کریں گے، لانگ مارچ کریں گے ، حکومت نے ہمیں ایک اور موقع دے دیا لیکن اسکے لئے ضروری ہے کہ سب سے پہلے استعفے دیئے جائیں

    استعفوں پر آصف زرداری کا کہنا تھا کہ پی پی کی پارلیمانی پارٹی فیصلہ کرے گی اور پی ڈی ایم کو آگاہ کرے گی، ہم پی ڈی ایم کے فیصلوں کے پابند ہیں.

    واضح رہے کہ گزشتہ روز چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے الیکشن میں صادق سنجرانی اور مرزا آفریدی منتخب ہو چکے ہیں جبکہ پی ڈی ایم کو شکست ہوئی ہے، چیئرمین کی سیٹ پر پی ڈی ایم نے نتایج کو چینلج کر دیا ہے جبکہ عدالت بھی جانے کا اعلان کر رکھا ہے، عدالت میں پیر کو رٹ دائر کی جائے گی جس میں چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کو چیلنج کیا جائے گا