Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • کورونا ویکسین لگوانے والے 23 افراد ہلاک

    کورونا ویکسین لگوانے والے 23 افراد ہلاک

    اوسلو: کورونا ویکسین لگوانے والے 23 افراد ہلاک،اطلاعات کے مطابق ناروے میں کورونا ویکسین کی پہلی خوراک لینے کے چند دنوں بعد ہی 23 افراد ہلاک ہوگئے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق مرنے والوں میں سے 13 افراد کی موت کورونا وائرس کی ویکسین کے ضمنی اثرات کی وجہ سے ہوئی۔ ان تمام افراد کی عمر 80 برس کے لگ بھگ تھی اور یہ سب نرسنگ ہومز کے رہایشی تھے۔

    نارویجن میڈیسن ایجنسی کے چیف فزیشن سیگار ہورٹیمو نے غیر ملکی خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ویکسین لگنے کے بعد بخار اور متلی ہونا عام ہے اور پیچیدہ صحت کے مسائل رکھنے والوں کے لیے ویکسین کے ضمنی اثرات مہلک بھی ثابت ہوسکتے ہیں۔

    ناروے میں اب تک 30 ہزار افراد کو ویکسین لگائی جاچکی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ 23 افراد کی موت کی بنیاد پر ویکسین کو غیر محفوظ قرار نہیں دیا جاسکتا تاہم ڈاکٹروں کو ویکسین لگانے سے پہلے مزید باریک بینی سے صحت کا جائزہ لینا ہوگا۔ جن کی صحت بہت خراب ہو یا عمر رسیدہ افراد کے حوالے سے اضافی احتیاط برتنے کی ضرورت ہوگی۔

    دوا ساز کمپنی فائزر کی تیار کردہ ویکسین کی پہلی خوراک لگوانے کے بعد مرنے والے 23 افراد میں 21 خواتین اور 8 مرد شامل ہیں۔ فائزر کمپنی کے مقامی نمائندے کا کہنا ہے کہ ویکسینیشن کے بعد اموات کا علم ہے اور مقامی حکام کے ساتھ مل کر متعلقہ معلومات بھی جمع کی جارہی ہیں۔

    یاد رہےکہ اس سے پہلے جرمنی ، برطانیہ اورایسے کئی دیگرممالک سے کرونا ویکسین لینےوالے افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں یہی وجہ ہے کہ آج پاکستانی ماہر طب نے خبردار کیا ہے کہ کرونا ویکسن موثر نہیں ہوسکتی کیونکہ کرونا وائرس 25 سے30 دن کے اندر اپنی شکل تبدیل کرلیتا ہے

  • براڈ شیٹ کے سربراہ کاوے موسوی کا دعویٰ :نوازشریف زرداری سچے؟یاپھرحسب روایت میڈیاکریسی:دلچسپ کہانی

    براڈ شیٹ کے سربراہ کاوے موسوی کا دعویٰ :نوازشریف زرداری سچے؟یاپھرحسب روایت میڈیاکریسی:دلچسپ کہانی

    لاہور :براڈ شیٹ کے سربراہ کاوے موسوی کا دعویٰ اورنوازشریف زرداری کے کمالات،ردعمل کے پیچھے چھپی دلچسپ کہانی،تفصیلات کے مطابق ایک طرف براڈ شیٹ کے سربراہ اپنے دعوے پرقائم ہیں کہ پاکستان میں نوازشریف ، زرداری پاکستان سے باہراربوں‌ ڈالرز بھیجتے رہے اوران کے پاس ثبوت ہیں مگرنوازشریف اور آصف علی زرداری کی طرف سے اس دعوے کو سرا سرجھوٹ قراردیا جارہاہے

    ایک طرف مریم نواز اپنے ابو کوبے گناہ ثابت کرنےکےلیے میڈیا کےذریعے مصنوعی سچی کہانی سنارہی ہیں تو دوسری طرف آصف علی زرداری کی طرف سے بھی ان کا دفاع کرنےکے لیے قمرزمان قائرہ اورفاروق ایچ نائک میدان میں اترپڑے ہیں

    پاکستان میں براڈ شیٹ کے سربراہ کاوے موسوی کے دعووں پرجس طرح دونوں سیاسی پارٹیاں ردعمل دے رہی ہیں اس پرکاوے موسوی کہتے ہیں کہ میڈیا کوخرید کراپنے حق میں فضا قائم کرنا یا کروانا آسان ہے مگرعدالت میں یہ لوگ کبھی بھی سچے ثابت نہیں ہوسکتے کیونکہ یہ ایک مافیا ہے جو بڑے ٹیکنیکل طریقے سے پیسوں کی بیرون ملک منتقلی کا فن جانتا ہے

    اسی حوالے سے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے بھی ایک تحقیقاتی تجزیہ اوررپورٹ پیش کی ہے اورساتھ ہی براڈ شیٹ کے سربراہ کاوے موسوی سے تبفصیلی بات چیت بھی کی ہے ، اس رپورٹ کے مطابق پاکستانی سیاست میں ان دنوں براڈ شیٹ نامی ایک کمپنی اور اس کے سربراہ کاوے موسوی کی طرف سے سامنے آنے والے حالیہ بیانات کی بازگشت ہے۔ انھوں نے پاکستان میں احتساب کے قومی ادارے نیب پر ’دھوکہ دہی‘ کا الزام عائد کیا ہے۔

    کاوے موسوی نے یہ دعوٰی کیا ہے کہ انھوں نے سابق وزیرِاعظم نواز شریف کے خاندان سمیت کئی پاکستانی سیاستدانوں کے بیرونِ ممالک میں بنائے گئے لاکھوں ڈالرز مالیت کے بینک اکاؤنٹس اور اثاثہ جات کا سراغ لگا لیا تھا۔

    اسی تناظر میں ان کے اس بیان نے پاکستان میں ایک تنازع کو جنم دیا جس میں انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’شریف خاندان نے اپنے اثاثہ جات کے حوالے سے ان کی تحقیقات کو سامنے نہ لانے کے عوض انھیں 25 ملین ڈالر رشوت کی پیشکش کی تھی۔‘ شریف خاندان کی طرف سے ان الزامات کی تردید کی گئی ہے۔

    کاوے موسوی کی طرف سے یہ بیانات اس وقت سامنے آئے جب حال ہی میں براڈ شیٹ ایل ایل سی نے پاکستانی حکومت کے خلاف برطانیہ میں ثالثی کا ایک مقدمہ جیتا ہے۔ اس کے بعد عدالتی حکم پر انھیں برطانیہ میں پاکستانی سفارتخانے کے بینک اکاؤنٹ سے لگ بھگ 29 ملین ڈالر کی رقم ادا کی گئی ہے۔

    کاوے موسوی کون تھے، وہ پاکستانی سیاسی شخصیات کے بیرونِ ملک اثاثہ جات کی کھوج کیوں لگا رہے تھے اور پاکستانی حکومت کو نہ چاہتے ہوئے بھی اتنی خطیر رقم انھیں کیوں ادا کرنا پڑی؟

    ادارے نے ایک حالیہ انٹرویو میں براڈ شیٹ ایل ایل سی کے سربراہ کاوے موسوی سے ان تمام سوالات کے جواب جاننے کے ساتھ ساتھ ان کی طرف سے نیب اور شریف خاندان کے خلاف عائد کیے جانے والے الزامات کے حوالے سے بات چیت کی۔

    کاوے موسوی نے بی بی سی کو بتایا کہ پاکستانی سیاسی شخصیات کے بیرونِ ملک اثاثہ جات کا سراغ لگانے کے لیے اپنی خدمات پیش کرنے کے حوالے سے موجودہ پاکستانی حکومت کے ساتھ ان کی بات چیت جاری ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ وہ پہلے ہی ‘رضاکارانہ طور پر’ موجودہ حکومت کو برطانیہ میں ایک ارب ڈالر مالیت کے ایک مشکوک بینک اکاؤنٹ کی نشاندہی کر چکے ہیں تاہم ’پاکستانی حکومت نے تاحال اس کا کھوج لگانے میں دلچسپی ظاہر نہیں کی۔‘

    وہ اکاؤنٹ کس کا ہے، اس سوال پر موسوی کا کہنا تھا کہ ‘یہ آپ پاکستانی حکومت سے پوچھیں، انھیں معلوم ہے۔’

    دلچسپ امر یہ ہے کہ 13 جنوری کو ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ براڈ شیٹ کے انکشاف کے مطابق ایک پاکستانی سیاسی شخصیت نے ایک ارب ڈالر برطانیہ منتقل کیے تھے تاہم ان کا دعویٰ تھا کہ براڈ شیٹ نے تاحال حکومت کو اس اکاؤنٹ ہولڈر شخصیت کا نام نہیں بتایا۔

    موسوی نے الزام عائد کیا کہ اس اکاؤنٹ کی نشاندہی پر موجودہ حکومت کے ایک نمائندے نے ان سے ’اپنے لیے اس میں کمیشن کی بات بھی کی تھی۔‘

    کاوے موسوی کے مطابق حکومت کے ساتھ معاہدہ ہو جانے کی صورت میں وہ ‘شریف خاندان کے خلاف جمع کیے گئے شواہد پاکستانی حکومت کے حوالے کر سکتے ہیں۔’

    کاوے موسوی کے پاس شریف خاندان کے خلاف کس نوعیت کے شواہد موجود ہیں، یہ انھوں نے کب، کیسے اور کہاں سے حاصل کیے، یہ کہانی ان کی پاکستان کے سیاسی منظر نامے پر آمد سے شروع ہوتی ہے۔

    کاوے موسوی کون ہیں اور براڈشیٹ کمپنی کا پاکستان سے کیا تعلق؟یہ جاننا پاکستانیوں کے لیے بہت ضروری ہے ،
    برطانیہ نژاد کاوے موسوی بنیادی طور پر انسانی حقوق کے وکیل ہیں۔وہ برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی میں قانون کی تعلیم بھی دے چکے اور بین الاقوامی مصالحتی عدالت میں ثالث کے طور پر کام کر چکے ہیں۔

    آئل آف مین میں رجسٹرڈ اثاثہ جات کی کھوج لگانے والی ان کی کمپنی براڈ شیٹ ایل ایل سی پہلی مرتبہ سنہ 2000 میں پاکستان آئی تھی۔ اس وقت کے فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف نے نیب کے لیے ان کی خدمات حاصل کی تھیں۔

    براڈ شیٹ ایل ایل سی پہلی مرتبہ سنہ 2000 میں پاکستان آئی تھی۔ اس وقت کے فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف نے نیب کے لیے ان کی خدمات حاصل کی تھیں

    کاوے موسوی کے مطابق جنرل پرویز مشرف خاص طور پر نواز شریف، بینظیر بھٹو اور آصف زرداری کے بیرونِ ملک اثاثہ جات کا سراغ لگا کر مبینہ طور پر لوٹی گئی رقم پاکستان واپس لانے میں دلچسپی رکھتے تھے۔

    ’لیکن ہم کسی سیاسی انتقامی کارروائی کا حصہ نہیں بننا چاہتے تھے جو کہ اس وقت ظاہر ہو رہا تھا کہ مشرف کرنا چا رہے تھے۔ اس لیے ہم نے واضح کر دیا کہ ہم صرف ان تین شخصیات کے پیچھے نہیں جائیں گے۔‘

    ابتدائی بات چیت کے بعد نیب اور پاکستانی حکومت کے ساتھ ان کا معائدہ طے پایا۔ انھیں ان تین شخصیات سمیت 200 اہداف کی ایک فہرست فراہم کی گئی۔

    معاہدے کے مطابق نیب نے انھیں مطلوبہ دستاویزات فراہم کرنا تھیں جن کی بنیاد پر براڈشیٹ ایل ایل سی کو ان افراد کی طرف سے بیرونِ ملک رکھی گئی مبینہ کرپشن کی رقم کا سراغ لگا کر ثبوت فراہم کرنا تھے اور اسے پاکستان واپس لانے میں مدد فراہم کرنا تھی۔

    ‘نیب نے ہم سے کہا کہ ہمارے پاس پیسے نہیں، آپ پیسہ خرچ کریں، ان افراد کے اثاثہ جات کا سراغ لگائیں اور لوٹی ہوئی رقم واپس دلانے میں ہماری مدد کریں۔ کل رقم کا 20 فیصد حصہ آپ کو معاوضے کے طور پر دیا جائے گا۔’

    براڈشیٹ نے شریف خاندان کے خلاف کیا ڈھونڈا؟

    کاوے موسوی کے مطابق وہ سابق وزیرِاعظم نواز شریف کے پیسے کا سراغ لگا رہے تھے اور انھوں نے مبینہ طور پر کئی بینک اکاؤنٹس کے حوالے سے موزوں شواہد حاصل کر لیے تھے جن میں سے کئی اکاؤنٹس کو منجمد بھی کروایا گیا تھا۔

    ‘آپ کو جنیوا میں خریدے گئے نیکلس (ہار) کی کہانی معلوم ہے، آپ کو جنیوا میں استعمال کیے گئے کریڈٹ کارڈ کی کہانی بھی معلوم ہو گی اور پھر پانامہ پیپرز سامنے آتے ہیں اور ہمیں وہ سب کچھ بتا دیتے ہیں جو ہمیں جاننے کی ضرورت تھی۔‘

    تاہم جب ان سے پوچھا گیا کہ جن بینک اکاؤنٹس کا کھوج انھوں نے نکالا وہ کون سے تھے اور کن ممالک میں موجود بنائے گئے تھے تو موسوی کا کہنا تھا کہ وہ ‘تاحال یہ معلومات عام کرنے کے مجاز نہیں کیونکہ یہ معاملہ اس وقت برطانیہ کی عدالت کے پاس تھا تاہم اگر کبھی اس حوالے سے دیا گیا عدالتی فیصلہ سامنے منظرِ عام پر آ جاتا ہے تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ جج نے اس میں کیا لکھا ہے۔’

    ‘ایک مثال میں آپ کو دے سکتا ہوں کہ ہمیں (امریکی شہر) نیو جرسی میں اکاؤنٹس ملے، ہمیں لندن، سوئٹرزلینڈ اور جزیرہ کیمن میں اکاؤنٹس ملے۔ ہم واضح طور پر دیکھ سکتے تھے کہ یہ اکاؤنٹس یا تو خود نواز شریف اور یا ان کے معتبر دوستوں کے تھے۔’

    ‘ہم نے لاکھوں ڈالرز مالیت کے اکاؤنٹس کا سراغ لگایا’
    تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس سے قبل کے وہ ان اکاؤنٹس کو منجمد کروانے کے لیے حرکت میں آتے انھیں دھوکہ دہی سے ہٹا دیا گیا۔یاد رہے کہ نیب نے براڈ شیٹ کے ساتھ معاہدہ سنہ 2003 میں ختم کر دیا تھا۔

    کاوے موسوی کے مطابق نیب نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ براڈ شیٹ مطلوبہ اہداف حاصل نہیں کر پائی تھی۔ براڈشیٹ کے سربراہ کے مطابق حقیقت اس کے برعکس تھی۔

    ’حقیقت میں ہم نے نیب کو لاکھوں ڈالرز مالیت کے بینک اکاؤنٹس کا سراغ لگا کر ثبوت فراہم کیے اور ان سے کہا کہ وہ اس رقم کو واپس لانے کے لیے متعلقہ حکومتوں کو قانونی چارہ جوئی کی درخواست دیں اور درخواست تحریر بھی کر کے فراہم کی۔’

    انھوں نے دعوٰی کیا کہ نیب نے نہ صرف اس پر عمل نہیں کیا بلکہ ‘اگلے ہی روز نیب کی طرف سے ہمیں کہا جاتا تھا کہ آپ اس ہدف کا نام فہرست سے نکال دیں۔’

    ‘نیب نے اہداف کے بارے خفیہ معلومات لیک کیں’کاوے موسوی نے مثال دیتے ہوئے سابق وزیرِ داخلہ آفتاب خان شیرپاؤ کا نام لیا۔

    کاوے موسوی نے پاکستان میں احتساب کے قومی ادارے نیب پر ‘دھوکہ دہی’ کا الزام عائد کیا ہے تاہم اب تک نیب کی جانب سے اس پر کوئی جواب سامنے نہیں آیا

    ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے شیر پاؤ کے ایک لاکھوں ڈالر مالیت کے اکاؤنٹ کا سراغ نیو جرسی میں لگایا۔ نیب کو آگاہ کیا گیا اور انھیں کہا گیا کہ آپ نیو جرسی میں حکام کو لکھیں تاکہ یہ رقم پاکستان لائی جا سکے۔

    ’آپ کو معلوم ہے نیب نے کیا کِیا؟ ہمیں اعتماد میں لیے بغیر انھوں نے حکام کو لکھا کہ ہمیں اس اکاؤنٹ سے مسئلہ نہیں ہے لہذا اسے کھول دیا جائے۔ اس کے بعد اس میں سے رقم نکلوا لی گئی اور ساتھ ہی شیر پاؤ کو وزیرِ داخلہ بنا دیا گیا۔‘

    کاوے موسوی کا کہنا تھا کہ ‘نیب نے اہداف کے پیچھے جانے کے بارے میں فراہم کی جانے والی خفیہ معلومات بھی لیک کیں۔

    ‘ہم ایک ہدف کے پیچھے جاتے تھے تو پتا چلتا تھا کہ وہ پہلے ہی اکاؤنٹ سے پیسے نکلوا کر اکاؤنٹ بند کر کے نکل گیا ہے کیونکہ نیب کے اندر سے کوئی انھیں پہلے ہی خبردار کر دیتا تھا کہ ہم اس کے پیچھے آ رہے ہیں۔’

    کاوے موسوی کے مطابق جب ‘ہم اس حوالے سے نیب سے سوال کرتے تھے تو وہ انتہائی ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف یہ کہ اس کی تردید نہیں کرتے تھے بلکہ ہمیں کہا جاتا تھا کہ آپ اس شخص کا نام اہداف کی فہرست سےنکال دیں۔’

    براڈشیٹ کو ملنے والی رقم 29 ملین ڈالرز کیسے بنی؟

    کاوے موسوی کے مطابق انھوں نے لاکھوں ڈالرز کی رقم ان تین برس میں ان اکاؤنٹس اور اثاثہ جات کا سراغ لگانے پر خرچ کی تاہم نیب نے ان سے معاہدہ ختم کرنے کے بعد انھیں کسی قسم کی ادائیگی نہیں کی۔

    سنہ 2004 میں انھوں نے معاوضے کی رقم حاصل کرنے کے لیے مصالحتی عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے بعد نیب کے ایک نمائندے نے انھیں پانچ لاکھ پاؤنڈز لے کر چلے جانے کی پیشکش کی جسے لینے سے انھوں نے انکار کر دیا۔

    ‘میں نے ان سے کہا کہ جنرل صاحب اس میں دو صفر اور بھی لگا لیں کیونکہ جتنی رقم کا ہم نے آپ کو سراغ لگا کر دیا تھا اس کا 20 فیصد اتنا ہی بنتا ہے۔’ وہ اس پر راضی نہیں ہوئے اور عدالتی کارروائی چلتی رہی۔

    موسوی نے شریف خاندان پر رشوت دینے کا الزام کیوں لگایا؟

    براڈ شیٹ کے موسوی نے دعوٰی کیا کہ اسی عدالتی کارروائی کے دوران سنہ 2012 میں انجم ڈار نامی ایک شخص نے ان سے رابطہ کیا اور خود کو نواز شریف کا بھتیجا ظاہر کیا۔’اس شخص نے کہا کہ وہ شریف خاندان کے خلاف ہمارے پاس موجود معلومات کے بارے بات کرنا چاہتا ہے۔’

    انھوں نے الزام عائد کیا کہ اس ملاقات کے دوران اس شخص نے شریف خاندان کے اثاثہ جات کے حوالے سے معلومات اور شواہد سامنے نہ لانے کے عوض 25 ملین ڈالر ادا کرنے کے پیشکش کی جسے انھوں نے یہ کہہ کر ٹھکرا دیا کہ اس قسم کی کوئی بھی رقم مصالحتی عدالت کے ذریعے ادا کی جائے۔

    تاہم جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ جب وہ سنہ 2003 میں اپنی تحقیقات ختم کر چکے تھے تو لگ بھگ دس برس بعد شریف خاندان ان سے کیوں رابطہ کرتا، کاوے موسوی کا کہنا تھا کہ ‘شریف خاندان کو معلوم تھا کہ جب یہ معاملہ مصالحتی عدالت کے سامنے جائے گا تو جج اس کی تہہ میں جائے گا اور یوں ایک مرتبہ پھر ان کی مبینہ کرپشن کا معاملہ سامنے آ جائے گا جو وہ نہیں چاہتے تھے۔’

    تاہم سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز مقامی ذرائع ابلاغ میں ان کے اس بیان کی تردید کر چکے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ان کے خاندان میں اس نام کا کوئی شخص ہے ہی نہیں اور یہ کہ ایک محقق کی حیثیت سے موسوی کو معلوم ہونا چاہیے تھا کہ وہ الزام عائد کرنے سے پہلے اس کی تصدیق کیسے کر سکتے تھے۔

    اس کے جواب میں موسوی کا کہنا تھا کہ ‘اس شخص نے انھیں نواز شریف کے گھر پر ان کے ساتھ بغلگیر ہونے کی اپنی تصاویر دکھائی تھیں اور ساتھ ہی میرے سامنے انھوں نے نواز شریف کے ساتھ فون پر بات کی تھی۔ میں نواز شریف کی آواز کو پہچان سکتا تھا۔’

    پاکستان مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب نے براڈ شیٹ کے معاملے پر حال ہی میں مقامی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘پرویز مشرف نے پاکستانی چھ سو کروڑ روپے ایک نجی کمپنی کو دیے جو اس وقت چھ ماہ پہلے رجسٹرڈ ہوئی تھی اور وہ چھ سو کروڑ روپے اس لیے دیے گئے تاکہ اس وقت کے منتخب وزیرِاعظم کے خلاف مقدمہ بناؤ۔’

    براڈشیٹ، نیب کے درمیان معلومات کا شریف خاندان کو کیسے پتا چل سکتا تھا؟

    بی بی سی نے کاوے موسوی سے دریافت کیا ہے کہ شریف خاندان کے خلاف مبینہ شواہد کی معلومات جب صرف ان کے اور نیب کے درمیان تھیں تو شریف خاندان کو کیسے پتا چلا کہ وہ شواہد کیا تھے اور کس نوعیت کے تھے جس کے لیے وہ اتنی بڑی رقم دینے کو تیار ہو جاتے۔

    اس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ‘یہ معلومات نیب ہی میں سے کسی نے شریف خاندان کو خفیہ طور پر فراہم کی ہوں گی کیونکہ جب شریف خاندان کے اس شخص نے ہم سے رابطہ کیا تو ہم نے سوچا کہ کیا یہ محض اتفاق ہو سکتا ہے۔ یہ اتفاق نہیں ہو سکتا تھا۔’

    ان کا کہنا تھا کہ نیب اوراس وقت کی پاکستانی حکومت کی ‘بدنیتی شروع دن ہی سے واضح تھی۔ جب ہم نواز شریف کی بیرونِ ملک رکھی دولت کا کھوج لگا رہے تھے تو اسی دوران جنرل مشرف نے انہیں طیارے پر بٹھا کر سعودی عرب بھیج دیا۔’

    کاوے موسوی اور موجودہ حکومت کے درمیان کیا بات چیت ہوئی؟

    موسوی کا کہنا تھا کہ معاوضے کی رقم کو کم کروانے کے لیے پاکستان کی موجودہ حکومت کی جانب سے کیے جانے والے مذاکرات کے دوران سنہ 2018 میں انھوں نے پاکستانی حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کا ایک مرتبہ پھر ارادہ ظاہر کیا تھا۔

    موسوی کے مطابق موجودہ حکومت کے اندر ہی سے ان کے ساتھ بات چیت کرنے والے چند افراد نے انھیں پیشکش کی کہ ‘ہم آپ کا نیا کانٹریکٹ کروا دیں گے لیکن یہ بتائیں کہ اس میں ہمارا حصہ کتنا ہو گا۔’ ان کا کہنا تھا کہ اس کے فوراً بعد انھوں تمام تر بات چیت روک دی تھی۔

    ‘ہم نے ان سے کہا کہ ہم معاوضے کی اس رقم کو بھول جاتے ہیں اور آئیں مل کر اس پر پھر سے کام کرتے ہیں۔ ہم نے معاہدے کا ایک مسودہ بھی تیار کر لیا تھا لیکن عمران (وزیرِاعظم عمران خان) کی حکومت کے اندر ہی سے چند عناصر نے ایک مرتبہ پھر اس کوشش کو سبوتاژ کر دیا۔’

    کاوے موسوی نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی پاکستانی حکومت کے ساتھ دوبارہ کام کرنے کے حوالے سے بات چیت جاری ہے۔

    ایک ارب ڈالر کے اکاؤنٹ میں کمیشن کس نے مانگا؟

    کاوے موسوی کے مطابق سنہ 2019 میں لندن کے ایک کیفے میں ملاقات کے دوران انھوں نے پاکستانی حکومت کے چند نمائندوں کو ایک ارب ڈالر مالیت کے ایک مشتبہ بینک اکاؤنٹ کے بارے میں بتایا۔ تاہم ان میں سے ایک نمائندے نے ان سے کہا کہ اس میں ان کا کمیشن کتنا ہو گا۔

    ‘میں نے فوراً اس کو جواب دیا کہ ہم اس طرح کام نہیں کرتے اور میں نے فوراً اپنے وکلا کے ذریعے پاکستانی حکام کو اس بارے میں آگاہ بھی کر دیا۔ ہمیں جواب آیا کہ آپ لکھ کر دیں۔ میں نے ان سے کہا کیا آپ واقعی لکھوانا چاہتے ہیں کیونکہ یہ تو آپ کو اڑا کر رکھ دے گا۔’

    حال ہی میں پاکستان میں حزبِ اختلاف کی چند جماعتوں کی طرف سے یہ الزام عائد کیا جا رہا تھا کہ یہ شخص مبینہ طور پر شہزاد اکبر خود تھے۔

    تاہم موسوی نے وضاحت کی ہے کہ ‘ان سے کمیشن کی بات کرنے والے وزیرِاعظم کے مشیر شہزاد اکبر نہیں تھے۔’

    یاد رہے کہ عمران خان نے 13 جنوری کو اپنے ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’براڈ شیٹ سے ہم اپنی اشرافیہ کی منی لانڈرنگ اور تحقیقات رکوانے والوں کے حوالے سے مکمل شفافیت چاہتے ہیں۔‘

    انھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ’براڈ شیٹ کے انکشافات نےایک مرتبہ پھر ہماری حکمران اشرافیہ کی بھاری بھرکم کرپشن اور منی لانڈرنگ بےنقاب کردی ہے۔‘

    چند روز قبل ایک بیان میں عمران خان نے یہ بھی کہا کہ براڈ شیٹ کے انکشاف کے مطابق ایک پاکستان سیاسی شخصیت نے سعودی سے ایک ارب ڈالر برطانیہ منتقل کیے ہیں۔’براڈ شیٹ نے تاحال حکومت کو اس اکاؤنٹ ہولڈر کا نام نہیں بتایا۔‘

    ‘میں عمران خان کو جانتا ہوں’

    کاوے موسوی کا کہنا تھا کہ ‘میں عمران خان کو جانتا ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ وہ ایک ایماندار شخص ہے اور بظاہر لگتا ہے کہ وہ اس حوالے سے سنجیدہ ہیں۔

    ’تاہم کیا وہ یہ کام کرنے کی اہلیت بھی رکھتے ہیں، یہ مجھے معلوم نہیں۔ ان کی حکومت کے لوگوں کے ساتھ حالیہ تجربے کے بعد میں کچھ زیادہ پُرامید نہیں ہوں۔’

    ان کا کہنا تھا کہ وہ صرف اس صورت میں پاکستانی حکومت کے ساتھ کام کرنے پر راضی ہوں گے جب انھیں یقین ہو جائے گا کہ ‘نیب کے اندر موجود کرپٹ عناصر کو نکال دیا گیا ہے اور حکومت پاکستان کی لوٹی ہوئی دولت واپس لانے کے بارے سنجیدہ ہے۔’

  • بتادودنیا کو:ہمیں‌ وزیراعظم عمران خان پربھرپوراعتماد ہے: پاکستان میں بہت بڑی سرمایہ کاری کرنےآرہےہیں‌: ابوظہبی گروپ کااعلان

    بتادودنیا کو:ہمیں‌ وزیراعظم عمران خان پربھرپوراعتماد ہے: پاکستان میں بہت بڑی سرمایہ کاری کرنےآرہےہیں‌: ابوظہبی گروپ کااعلان

    دبئی :وزیراعظم عمران خان پراعتماد کرتے ہیں :ابوظہبی گروپ نے پاکستان میں بہت بڑی سرمایہ کاری کااعلان کردیا،اطلاعات کے مطابق متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزیر ثقافت برائے نوجوان و سماجی ترقی شیخ نہیان بن مبارک النہیان نے بہت بڑا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کی قیادت پراعتماد کرتے ہیں اورپاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کا فیصلہ کرچکے ہیں‌

    ذرائع کے مطابق اس حوالے سے انہوں نے بدھ کے روز کہا کہ ابو ظہبی گروپ پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کی قیادت اور وژن میں پاکستان میں اپنی سرمایہ کاری میں اضافہ کرے گا۔

     

     

    متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزیر ثقافت ، نوجوانوں اور سماجی ترقی ، شیخ نہیان بن مبارک النہیان نے یہ بات پاکستانی قانون ساز اور کشمیر سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کے چیئرمین شہریار خان آفریدی سے کہی جو کہ ان دنوں عرب امارات کے دورے پرہیں‌،

    دو ماہ سے بھی کم عرصے میں دونوں ممالک کے رہنماؤں کے مابین یہ دوسرا اعلی سطحی اجلاس تھا۔ پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے دسمبر 2020 میں متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا اور امارات میں مقیم پاکستانیوں کے مسائل کے "جلد حل” پر زور دیا۔

    متحدہ عرب امارات میں سعودی عرب کے بعد 12 لاکھ پاکستانی اور بیرون ملک مقیم پاکستانی کارکنوں اور غیر ملکی ترسیلات زر کا دوسرا سب سے بڑا میزبان ہے۔

    ابوظہبی گروپ کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ "متحدہ عرب امارات اور پاکستان کئی دہائیوں کے درمیان بھائی چارے کے تعلقات میں بندھے ہوئے ہیں اور متحدہ عرب امارات میں مقیم بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے دونوں ریاستوں کے مابین تاریخی اور دوستانہ تعلقات کو مزید تقویت بخشی ہے۔”

    ذرائع کے مطابق اس ملاقات میں عرب امارات کے سنیئر وزیرنے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کے وژن کی وجہ سے ابو ظہبی گروپ پاکستان میں اپنی سرمایہ کاری کو مزید آگے بڑھائے گا اور جلد ہی پاکستان میں ایک نیا منصوبہ شروع کیا جائے گا۔ متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانیوں کی خدمات نے متحدہ عرب امارات کو جدید ملک کی شکل میں ترقی کرنے میں مدد فراہم کی۔

    شہریار آفریدی نے متحدہ عرب امارات کے وزیر کو ایک "خصوصی پیغام” پہنچایا اور کہا کہ وزیر اعظم خان کے تحت ملک کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔

    ذرائع کے مطابق اس اہم ملاقات میں شہریارآفریدی نے متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانیوں کو درپیش امور پر بھی تبادلہ خیال کیا اور وزیر سے ان کے حل میں کردار ادا کرنے کی درخواست کی۔

    بیان میں کہا گیا ہے "شیخ نہیان بن مبارک نے مسٹر آفریدی کو یقین دلایا کہ متحدہ عرب امارات میں پاکستانی رہائشیوں کو درپیش مسائل پر امن طریقے سے حل ہوجائیں گے۔”

  • میرپورماتھیلواور کوئٹہ کے سریاب روڈ پر دھماکا، 7افراد زخمی

    میرپورماتھیلواور کوئٹہ کے سریاب روڈ پر دھماکا، 7افراد زخمی

    کوئٹہ :میرپورماتھیلواور کوئٹہ کے سریاب روڈ پر دھماکا، 7افراد زخمی،اطلاعات کے مطابق کوئٹہ کے سریاب روڈ پر دھماکے کے نتیجے میں 2 افراد زخمی ہوگئے ، دھماکے سے مسافر بس کے شیشے ٹوٹ گئے۔

    پولیس کے مطابق سریاب روڈ پر عوامی پمپ کے قریب مغرب سے کچھ وقت پہلے زورداردھماکہ اس وقت ہواجب ایک لوکل بس سڑک کنارے پڑے کچرے کےقریب آکررکی،

    ذرائع کے مطابق دھماکے سے بس کابکنڈیکرسیلم جودروازے میں کھڑا وہ اورایک مسافر محمد اکبڑ زخمی ہوئے، جن کو فوری طورپر سول ہسپتال منتقل کردیاگیاہے جہاں انکی حالت تسلی بخش بتائی جاتی ہے۔

    دھماکے سے بس کے شیشے بھی ٹوٹ گئے ہیں ۔ اطلاع ملنے پولیس نے موقع پر پہنچ کر بی ڈی ٹیم کو طلب کرلیاہے ۔ابتدائی تفیش کے مطابق دھماکہ خیز مواد سڑک کنارے پڑے کچرے میں رکھاگیاتھا۔

    ادھر میرپورماتھیلو رینجرذ ہیڈ کوارٹر میں زوردار دھماکہ ہوا ہے ، اس دھماکے میں پانچ رینجرز اہکار زخمی ہیں جبکہ ایک کی حالت تشویشناک ہے

    ادھر ذرائع کے مطابق اس دھماکے کی نوعیت کے باری میں معلوم کیا جا رہا ہے،زخمیوں کو ڈی ایچ کیو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے

  • کورونا وائرس ہر ماہ تبدیل ہو رہا،کیسے کہہ سکتے ہیں‌ کہ ویکسین کامیاب ہوسکتی:ڈاکٹراقبال چوہدری

    کورونا وائرس ہر ماہ تبدیل ہو رہا،کیسے کہہ سکتے ہیں‌ کہ ویکسین کامیاب ہوسکتی:ڈاکٹراقبال چوہدری

    کراچی:کورونا وائرس ہر ماہ تبدیل ہو رہا،کیسے کہہ سکتے ہیں‌ کہ ویکسین کامیاب ہوسکتی:اس حوالے سے کراچی یونیورسٹی کے بین الاقومی مرکز برائے کیمیائی حیاتیاتی علوم کے سربراہ ڈاکٹر اقبال چودھری نے کہا ہے کہ کورونا وائرس ہر ماہ تبدیل ہورہا، ویکسین مفید ہوگی ابھی واضح نہیں،

    ڈاکٹراقبال چوہدری کہتے ہیں‌ کہ وائرس میں اب تک 122 تبدیلیاں ہوچکی ہیں، وائرس میں 30 ہزار مالیکیول ہیں،جوانسانی خلیوں سے ملکر انفیکشن بڑھاتے ہیں۔

    انہوں نے آج یہاں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وائرس میں ہر مہینے تبدیلیاں ہورہی ہیں، اب تک 122 تبدیلیاں ہوچکی ہیں۔وائرس میں 32 تبدیلیوں کا اثر ووہان کے وائرس سے مختلف ہے۔

    خطرناک وائرس مستقل تبدیل ہورہا ہے، وائرس میں 30 ہزار مالیکیول ہیں جو فٹ بال کی طرح ارینج ہیں۔یہ مالیکیول انسانی خلیوں سے ملکر انفیکشن بڑھاتے ہیں۔ وائرس کی اشکال بدلنے کے ساتھ ویکسین کتنی مفید ثابت ہوگی یہ ابھی واضح نہیں ہے۔

  • نوازشریف کے دورمیں‌ پی آئی اے کے لیز پر لیے گئے طیارے کی کمپنی کے مالک اور ڈائریکٹر بھارتی نکلے

    نوازشریف کے دورمیں‌ پی آئی اے کے لیز پر لیے گئے طیارے کی کمپنی کے مالک اور ڈائریکٹر بھارتی نکلے

    اسلام آباد: نوازشریف کے دورمیں‌ پی آئی اے کے لیز پر لیے گئے طیارے کی کمپنی کے مالک اور ڈائریکٹر بھارتی نکلے،اطلاعات کے مطابق ملائیشیا میں پی آئی اے طیارے کو قبضے میں لینے کے معاملے میں نیا موڑ آگیا۔

    ذرائع کے مطابق لیز پر لیے گئے طیارے کی کمپنی کا مالک اور ڈائریکٹر بھارتی نکلے، پری گرائن کمپنی کا دفتر دبئی میں قائم ہے۔

    ترجمان پی آئی اے کے مطابق پی آئی اے کا اٹارنی کوالالمپورمیں موجود ہے جبکہ طیارے کے کیس سے متعلق تمام دستاویزات ملیشیا ارسال کردی گئی ہیں۔

    دوسری جانب پی آئی اے کی کوالمپور پرواز والے مسافر متبادل ذریعے سے آج شام اسلام آباد پہنچیں گے۔ 118 مسافر براستہ دبئی پرواز نمبر ای کے 614 کے ذریعے شب 11 بجے اسلام آباد پہنچیں گے جبکہ 54 مسافر براستہ دوہا پرواز نمبر قیو آر 632 سے کل صبح 1 بج کر 40 منٹ پر اسلام اباد پہنچیں گے۔

    ترجمان کے مطابق پی آئی اے کا زمینی عملہ دوبئی اور دوہا میں مسافروں کی دیکھ بھال میں مصروف ہے، مسافروں کی تمام ضروریات اور آرام کا خیال رکھا جا رہا ہے۔

  • نوازشریف نےسعودی عرب سےمددکی اپیل کردی:میڈیا پرخبریں بھی خود ہی لگوارہےہیں‌:اہم لیگی رہنماکاانکشاف

    نوازشریف نےسعودی عرب سےمددکی اپیل کردی:میڈیا پرخبریں بھی خود ہی لگوارہےہیں‌:اہم لیگی رہنماکاانکشاف

    لاہور:نوازشریف نے سعودی عرب سے مدد کی اپیل کردی:میڈیا پرخبریں بھی خود ہی لگوارہے ہیں‌:اہم ن لیگی رہنما کا انکشاف ،اطلاعات کے مطابق برطانیہ کی طرف سے نوازشریف کو ملک بدرکرنے کے پیغام کے بعد نوازشریف نے سعودی عرب میں پناہ لینے کے لیے رابطے شروع کردیئے ہیں‌

    ادھرذرائع کے مطابق اس حوالے سے نوازشریف نے اپنے کاروباری حلیفوں کوکردار اداکرنے کی درخواست کی ہے ، یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ لندن میں اس وقت نوازشریف کے غیرملکی دوست بھی اسی فکر میں ہیں کہ نوازشریف کو پاکستان نہ ہی جانے دیا جائے

    اس حوالے سے نوازشریف کے قریبی ن لیگی رہنما نے انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ نوازشریف کو امریکہ میں موجود کچھ قوتوں نے پیش کش کی ہے وہ اگرامریکہ میں آناچاہتےہیں تو ان کو تحفظ دیا جائے گا

    اس لیگی رہنما کے مطابق پاکستانی میڈیا میں نوازشریف کے حوالےسے خبریں بھی خودہی لگوائی جارہی ہیں اوراکثرخبرکا متن مریم نوازکی موجودگی میں تیار ہوتا ہے

    یہ بھی بتایا گیا کہ اگرمریم نواز موقع پرنہ ہوں تو پھر یہ متن پڑھ کرمریم نواز سے سنایا جاتا ہے واٹس اپ پردکھایا جاتا ہے اورپھر اس کی منظوری لی جاتی ہے

    اس اہم رہنما کا کہنا ہے کہ اس کے لیے ایک فوکل پرسن بھی مقرر کیا گیا ہے جو تمام اخبارات اورچینلز کو یہ خبرشیئر کرتے ہیں ، اس مقصد کے لیے بھاری رقم ان میڈیا گروپس کو دی جارہی ہے

    اس رہنما کا کہنا ہے کہ اس قسم کی خبریں شیئر کی جاتی ہیں جن میں یہ تاثردیا جاتا ہے کہ نوازشریف خود نہیں بلکہ سعودی عرب ، قطر ، امریکہ بھارت یا ایسے ہی دیگر ممالک نواز شریف کو یاد کرتے ہیں بلاتے ہیں

    اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ نوازشریف کو برطانوی حکومت نے وارننگ جاری کردی ہے اس کے بعد نوازشریف نے اپنے کاروباری دوستوں کے ذریعے کوششیں تیز کردی ہیں ، یہ کوششیں بارآورہوتی ہیں یا نہیں اس کے بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہا جاسکتا

  • پلوامہ میں بھارت نے اپنے فوجی خود مروائے،الزام پاکستان پر لگایا،حقائق سامنے آ گئے

    پلوامہ میں بھارت نے اپنے فوجی خود مروائے،الزام پاکستان پر لگایا،حقائق سامنے آ گئے

    پلوامہ میں بھارت نے اپنے فوجی خود مروائے،الزام پاکستان پر لگایا،حقائق سامنے آ گئے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں قومی سلامتی کے ادارے اور فیصلہ سازی میں انتہائی غیر سنجیدگی بے نقاب ہو گئی ہے

    پلوامہ میں بھارت نے اپنے فوجی خود مروائے،الزام پاکستان پر لگایا ،نریندر مودی 40 بھارتی فوجیوں کی لاشوں پر کھڑے ہو کر مگر مچھ کے آنسو بہاتے رہے

    گوسوامی اوربھارتی براڈکاسٹ آڈینس ریسرچ کونسل کےسربراہ کی واٹس ایپ چیٹ نے بھانڈہ پھوڑ دیا ،واٹس ایپ چیٹ کے مطابق گوسوامی کوبھارت میں اعلیٰ ترین سطح پرہونیوالے فیصلوں کا علم تھا ،گوسوامی کے کرتوتوں نے بھارت میں اعلیٰ ترین سطح پرعسکری فیصلوں کا پول بھی کھول دیا ارنب گوسوامی نہ صرف بالاکوٹ پرحملے بلکہ آرٹیکل370کے خاتمےسے بھی آگاہ تھا،ارنب گوسوامی بی اے آرسی کے سربراہ کے ساتھ مل کراپنے چینل کی ریٹنگ بڑھانے پر کام کرتا رہا

    23فروری2019کوارنب نےبی اےآرسی سربراہ کوپاکستان سےمتعلق بڑی خبرکی پیشگی اطلاع دی ، گوسوامی نے بتایاکہ پاکستان کیخلاف معمول سےبڑی کارروائی ہوگی ،گواسوامی کوپتا تھا کہ کشمیر میں معمول سے ہٹ کرکچھ بڑاہونیوالا ہے ،گوسوامی کے مطابق مودی حکومت پاکستان مخالف کارروائی سے عوام کوخوش کرنا چاہتی تھی ،بالاکوٹ حملے کے بعد گوسوامی نے بی اے آر سی سربراہ کو بتایا کہ مزیدکارروائی بھی ہو گی

    بھارتی فیصلہ سازٹی آرپیزکے جنون میں مبتلا مسخرہ نما اینکرکے ہاتھوں میں کھیلتے رہے ،بھارتی پروفیسراشوک سوائن پہلے ہی پلوامہ کوڈرامہ قراردے چکے ہیں ،پروفیسراشوک کے مطابق مودی نے پلوامہ میں وہی کیا جو اس نے 2002 میں گجرات میں کیا ،اشوک سوائن کے مطابق مودی نے ووٹ بٹورنے کیلئے پلوامہ ڈارمہ ہونے دیا

    ارنب گوسوامی کو 4 نومبر 2020 کو ایک خاتون اور اسکے بیٹے کی خودکشی کے پس منظر میں گرفتار کیا گیا،ارنب گوسوامی نے انٹیرئیر ڈیزائنر کے 83 لاکھ روپے ادا کرنے تھے،گوسوامی نے گرفتاری کے دوران ایک خاتون افسر پر حملہ بھی کیا

    واضح رہے کہ گزشتہ برس پلوامہ حملے میں چالیس سے زائد بھارتی فوج ہلاک ہو گئے تھے، جس کا الزام بھارت نے پاکستان پر لگایا تھا اور بھارت نے بالا کوٹ میں سرجیکل سٹرائیک کی ناکام کوشش تھی. 27 فروری کو بھارت کے دو طیارے پاک فضائیہ نے گرائے تھے. پلوامہ حملے کے بعد بھارت کے طیارے بالا کوٹ پے رول گرا کر فرار ہو گئے تھے جس کے بعد اگلے روز پاکستان نے بھارت کے دو طیارے مار گرائےتھے اور بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو گرفتار کر لیا تھا جسے پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے رہا کرنے کا اعلان کیا تھا

    پلوامہ،لشکر سے وابستہ عسکریت پسندوں کی 5 بار نماز جنازہ ادا،دوسرے روز بھی مکمل ہڑتال

    مقبوضہ کشمیر، شہداء کے جنازوں کو عسکریت پسندوں کی سلامی، بھارتی فوج دیکھتی رہ گئی

    پلوامہ حملے میں ہلاک بھارتی فوجی کی اہلیہ کو کس کام کے لیے مجبور کیا جانے لگا؟

    پلوامہ حملے کے لئے کیمیکل کہاں سے خریدا گیا؟ تحقیقاتی ادارے کے انکشاف پرکھلبلی مچ گئی

    پلوامہ حملہ،عسکریت پسندوں نے کہاں سے منگوایا تھا حملے کیلئے سامان؟ بھارت کا نیا انکشاف

    مقبوضہ کشمیر، پلوامہ میں کار بم دھماکا

    چین سے شرمناک شکست کے بعد مودی سرکار کی ایک اور پلوامہ ڈرامہ کی کوشش ناکام

    پلوامہ حملے سے متعلق بھارتی بھارتی انٹیلیجنس کی رپورٹ،پاکستان کا رد عمل بھی آ گیا

    پلوامہ کے بعد گیلوان میں مارے جانے والے بھارتی فوجیوں کا ذمہ دار کون؟ بھارتی صحافی نے سیاسی قیادت پر بڑا سوال اٹھا دیا

    بھارت کی پلوامہ ڈرامے کی آڑ میں پاکستان کےخلاف سازش بے نقاب،بھارت نے جسکو مردہ کہا وہ پاکستان میں زندہ نکلا

  • قصور جنسی سیکنڈل، باغی ٹی وی پر خبرشائع ہونے کے بعد تحقیقاتی کمیٹی قائم

    قصور جنسی سیکنڈل، باغی ٹی وی پر خبرشائع ہونے کے بعد تحقیقاتی کمیٹی قائم

    قصور جنسی سیکنڈل، باغی ٹی وی پر خبرشائع ہونے کے بعد تحقیقاتی کمیٹی قائم
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق قصور جنسی سیکنڈل کے حوالہ سے پنجاب پولیس کا موقف بھی سامنے آ گیا ہے، پنجاب پولیس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ الزامات کی تحقیقات کے لئے کمیٹی قائم کر دی گئی ہے

    باغی ٹی وی نے قصور جنسی سیکنڈل کی خبر بریک کی تھی کہ قصور کے ایک تعلیمی ادارے میں سو سے زائد طالبات کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے،

    زینب انسٹی ٹیوٹ نرسنگ کالج موضع بنگلہ کمبوہاں قصور شہر میں رونما ہوا ہے جس میں بتایا جارہا ہے کہ سو سے زائد بچیوں کا جنسی استحصال کیا گیا ہے اور ان کو پیپرز میں پاس کرنے کے نام پر زیادتی کی گئی ہے اور معصوم بچیوں کے مستقبل کو داﺅ پر لگایا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ جس بچی نے آواز بلند کرنے کی کوشش کی اسے عبرت کا نشان بنایا گیا ہے۔پنجاب پولیس نے تاحال صرف دو ایف آئی آر دو معصوم بچیوں کے ساتھ پیش آنیوالے واقعات کی درج کی ہیں جب کہ حقائق اس کے بالکل برعکس ہیں 100 سے زائد بچیوں کو جنسی ہوس کا نشانہ بنایا گیا ہے اور اب پنجاب حکومت پپو نلکا نامی اس جنسی درندے کیخلاف ایف آئی آر درج نہیں کررہی کیونکہ اس بہروپیے نے ایک جعلی صحافی کا بھی روپ دھار رکھا ہے۔

    اہل علاقہ بنگلہ کمبوواں و متاثرین زینب انسٹی ٹیوٹ میڈیکل کالج قصور کا کہنا ہے کہ قصور کا میڈیا جس طرح زینب والے معاملے پر شروع سے خاموشی اختیار کئے ہوا تھا تاہم جب قومی میڈیا پر جب بات آئی تو عوام کو حقائق کا علم ہوا۔ایک بار پھر قصو ر کا مقامی میڈیا پپو نلکا جیسے بھیڑیا کو سپورٹ کررہا ہے جس میں پولیس بھی سرفہرست ہے۔

    طلبا کے ساتھ زیادتی کرنے، ویڈیو بنا کر بلیک میل کرنے والے سابق پولیس اہلکار کو عدالت نے سنائی سزا

    لاہور میں 2 بچیوں کے اغوا کی کوشش ناکام،ملزم گرفتار

    پولیس ناکے پر 100روپے کے تنازعے پر دو پولیس اہلکار آپس میں لڑ پڑے

    خاتون کی غیر اخلاقی ویڈیو وائرل کرنیوالا ملزم لاڑکانہ سے گرفتار

    موٹروے کے قریب خاتون سے مبینہ زیادتی ،پولیس کی 20 ٹیمیں تحقیقات میں مصروف

    ‏موٹروے پر اجتماعی زیادتی کا سن کر دل دہل گیا ، ملوث تمام افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے ، مریم نواز

    موٹر وے کے قریب خاتون سے اجتماعی زیادتی،سراج الحق کا ملزمان کی گرفتاری کیلئے 48 گھنٹوں کا الٹی میٹم

    درندہ صفت مجرمان کو پھانسی کی سزا دی جائے۔ دردانہ صدیقی

    زیادتی کے مجرموں کو خصوصی عدالت کے ذریعے فی الفور سزا دی جائے،کل مسالک علماء بورڈ

    آبروریزی کے بڑھتے واقعات کسی بڑی تباہی کی نشاندہی کر رہے ہیں، علامہ عبدالخالق اسدی

    پنجاب پولیس کی اعلیٰ کارکردگی،موٹروے زیادتی کیس کے ملزم تیسرے روز بھی گرفتار نہ ہو سکے

    موٹروے پر خاتون سے اجتماعی زیادتی، واحد عینی شاہد نے کیا منظر دیکھا؟ بتا دیا

    دو ایف آئی آر درج ہوئی ہیں جبکہ باقی درخواستوں پر کارروائی عمل میں نہیں لائی جارہی ۔پپو نلکا نرسنگ کی طالبات کو واٹس ایپ پرمیسیج کرکے اپنے کمرے میں بلاتا تھا اور اپنی جنسی ہوس پوری کرتا تھا لڑکیوں کی طرف سے منتیں اور واسطے دینے پر انہیں مغلظات بکتا ہے اور انکی بات نہ ماننے پرانہیں کالج سے نکالنے اور پیپر میں فیل کرنے کی دھمکی دیتا ہے۔

    موٹروے زیادتی کیس، متاثرہ خاتون سے بیان ریکارڈ کرنے کیلئے پولیس کا رابطہ،خاتون نے کیا دیا جواب؟

    موٹروے زیادتی کیس،سی سی پی او کے بیان پر کابینہ کو معافی مانگنی چاہئے تھی،عدالت،ریکارڈ طلب

    موٹرے پر سفر ذرا احتیاط سے، سینیٹر کی گاڑی پر حملہ،پولیس کا روایتی بیان،ملزم فرار

    ریپ کے مجرموں کو نامرد بنانے کی بجائے کونسی سزا دینی چاہئے؟ انصار عباسی کی تجویز

    بچوں سے زیادتی کے مجرموں کوسرعام سزائے موت ،علامہ ساجد میر نے ایسی بات کہہ دی کہ سب حیران

    باغی ٹی وی کے پاس تمام تر واٹس ایپ پیغامات کی کاپی بھی ثبوت کے طور پر موجود ہے ۔ پپو نلکا نے جعلی نرسنگ سکول بھی قائم کررکھا ہے جس پر مقامی ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت کے افسران بھی کارروائی کرنے سے گریزاں ہیں۔

    اہل علاقہ بنگلہ کمبوواں و متاثرین زینب انسٹی ٹیوٹ میڈیکل کالج قصور نے وزیر اعظم عمران خان سے اپیل کی ہے کہ آپ سے گزارش ہے کہ اس بھیڑیے کیخلاف جلد از جلد سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ اس معاشرے کے اندر لوگوں کی عزتیں محفوظ ہوسکیں اور لوگ سکول، یونیورسٹی میں اپنی بچیوں کو بھیج سکیں۔

    باغی ٹی وی کی خبر پر پنجاب پولیس کے آفشیل ٹویٹر ہینڈل سے جواب دیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ 2 طالبات کو ہراساں کیا گیا جن کی شکایات پر مقدمات درج کر لیے گئے تھے ۔ مزید الزامات کی تحقیقات کے لیے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل، ایڈیشنل ایس پی قصور، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر قصور، پرنسپل سکول آف نرسنگ پر مشتمل کمیٹی بنائی گئی، جس کی روشنی میں قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے گی

  • سینیٹ انتخابات، اوپن بیلٹ کے ذریعے ہو سکتے ہیں یا نہیں؟ الیکشن کمیشن نے جواب جمع کروا دیا

    سینیٹ انتخابات، اوپن بیلٹ کے ذریعے ہو سکتے ہیں یا نہیں؟ الیکشن کمیشن نے جواب جمع کروا دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینیٹ انتخابات کے حوالہ سے الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سپریم کورٹ میں جواب جمع کروا دیا

    اسلام آباد الیکشن کمیشن نےصدارتی ریفرنس میں جواب جمع کرادیا ،صدارتی ریفرنس میں سپریم کورٹ سےسینیٹ انتخابات پررائے طلب کی گئی ہے ،

    الیکشن کمیشن کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کروائے گئے جواب کہا گیا ہے کہ سینیٹ انتخابات صدر،وزیراعظم کےانتخابات کی مانند آئین کے تحت ہیں،خفیہ بیلٹ ختم کرنے کیلئے آئینی ترمیم کرنا ہو گی ،سینیٹ انتخابات آئین کے آرٹیکل 226 کے تحت ہوتے ہیں،

    الیکشن کمیشن آف پاکستان کا صدارتی ریفرنس میں جواب 12 صفحات کا ہے

    دوسری جانب جماعت اسلامی نے سینیٹ انتخابات سے متعلق صدارتی ریفرنس کی مخالفت کردی ،جماعت اسلامی نے عدالت سے صدارتی ریفرنس کا جواب دینے کے بجائے واپس بھیجنے کی استدعا کر دی،جماعت اسلامی نے تحریری موقف سپریم کورٹ میں جمع کرا دیا،جماعت اسلامی نے جواب میں کہا کہ اوپن بیلٹ کیلئے صرف قانون نہیں آئین میں بھی ترمیم کرنا ہوگی،سینیٹ انتخابات کیسے کرانے ہیں فیصلہ پارلیمنٹ کو کرنے دیا جائے،سینیٹ انتخابات پر آئین کے آرٹیکل 226 کا اطلاق ہوتا ہے،

    حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں مزید کہا گیا کہ خفیہ ووٹنگ کی وجہ سے سینیٹ الیکشن کے بعد شفافیت پر سوال اٹھائے جاتے ہیں

    قبل ازیں سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانے کے حوالے سے بڑی پیشرفت سامنے آئی ہے ، صدر مملکت عارف علوی نے معاملے پر سپریم کورٹ کی رائے حاصل کرنے کیلئے صدارتی ریفرنس پر دستخط کر دیئے ہیں

    ایوان صدر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ کے ذریعےکرانے کیلئے آئین کے آرٹیکل 186 کے تحت ریفرنس سپریم کورٹ بھجوانے کی وزیرِاعظم کی تجویزکی منظوری دے دی ہے۔

    وفاقی کابینہ سے مشاورت کے ساتھ ہی سینیٹ انتخابات شوآف ہینڈسےکرانے کا فیصلہ ہوگیا

    ریفرنس میں آئین میں ترمیم کے بغیر الیکشن ایکٹ 2017ء کے سیکشن (6) 122 میں ترمیم کرنے پر سپریم کورٹ کی رائے مانگی گئی ہے۔وفاقی کابینہ اس معاملے پر 15 دسمبر کو سپریم کورٹ سے رائے لینے کی منظوری دے چکی ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت ہارس ٹریڈنگ کے خاتمے اور انتخابات میں شفافیت کے لئے ایوان بالا کے آئندہ الیکشن اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانے کی خواہاں ہے۔

    مردوں سے دوقدم آگے بڑھ کریہ کام کرنا ہے، مریم نواز نے خواتین رہنماؤں کو دیئے مشورے

    سب سن لیں،مریم پارٹی کو لیڈ کررہی ہیں،رانا ثناء اللہ، نواز شریف کو بھی دیا مشورہ

    عمران خان اور انکے ساتھی جو الفاظ استعمال کررہے ہیں وہ کشیدگی بڑھا رہی ہے ،قمر زمان کائرہ

    لاہور جلسہ سے قبل پی ڈی ایم کو سرپرائز دینگے ، فردوس عاشق اعوان

    پی ڈی ایم کی تحریک کامیابی کی جانب بڑھنا شروع،حکومتی حلقوں میں تہلکہ

    مریم نواز نے گھر چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا

    استعفے لینے والوں کو دینے پڑ گئے، پی ڈی ایم سے پہلا استعفیٰ آ گیا،رکن اسمبلی مستعفی

    لاہور جلسہ سے قبل پی ڈی ایم کا سربراہی اجلاس اسلام آباد میں طلب،اہم فیصلے متوقع

    سیاسی جلسے جلسوں پر پابندی،عدالت نے کس کو کیا طلب؟

    مریم نواز نکلیں گی، ہم ہر صورت یہ کام کریں گے، مریم اورنگزیب کا چیلنج

    13 دسمبر کو ہر ہاتھ میں جھنڈا اورہر جھنڈے میں ڈنڈا ہوگا، قمر زمان کائرہ

    شاہدرہ جلسے میں حملہ کیسے ہوا اور کس نے کیا؟ مریم نواز نے خود بتا دیا

    استعفے منظور کرنے ہیں یا نہیں؟ پرویز الہیٰ نے بڑا فیصلہ کر لیا

    پی ڈی ایم کو بڑا دھچکا،حکومت نے ایسا کام کر دیا کہ پی ڈی ایم کی ساری امیدوں پر پانی پھر گیا

    نیب کی کارروائیاں ناقابل برداشت ہوتی جا رہی ہیں،اپوزیشن سینیٹ میں پھٹ پڑی

    سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانے کا معاملہ،رضا ربانی بھی عدالت پہنچ گئے

    سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کروانے سے متعلق صدارتی ریفرنس،سپریم کورٹ میں سماعت،کس نے کی مہلت طلب؟

    کوئی ایم پی اے پارٹی کیخلاف ووٹ دینا چاہتا ہے تو….سینیٹ انتخابات سے متعلق صدارتی ریفرنس کیس،عدالت کے ریمارکس

    سیاسی پارٹیوں کے آپس کے معاملات ہوں توعدالت ان میں نہیں پڑتی،سپریم کورٹ