Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • ترکی اورپاکستان یک دل دوجان:ائیرچیف مارشل مجاہد انورکی ترکی میں اہم ملاقاتیں

    ترکی اورپاکستان یک دل دوجان:ائیرچیف مارشل مجاہد انورکی ترکی میں اہم ملاقاتیں

    اسلام آباد :ترکی اورپاکستان یک دل دوجان:ائیرچیف مارشل مجاہد انورکی ترکی میں اہم ملاقاتیں ،اطلاعات کے مطابق پاکستان اورترکی کے درمیان برادرانہ تعلقات کے نئے دور کا آج پرجوش ترین دن ثآبت ہو اجب ائیرمارشل مجاہد انور خان نے ترکی میں اہم ملاقاتیں کیں‌،

     

    پاک فضائیہ کے ذرائع کے مطابق سربراہ پاک فضائیہ ائیر چیف مارشل مجاہد انور خان نے ترکی کے چار روزہ سرکاری دورے کے دوران ترکی کی اعلیٰ فوجی قیادت سے ملاقاتیں کیں

    ترجمن کے مطابق اس دوران پاکستان اور ترکی بالخصوص دونوں فضائی افواج کے مابین دفاعی تعلقات کو مزید فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا۔

     

    پاک فضائیہ کیطرف سے اس دورے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اپنے دورہ ترکی کے دوران سربراہ پاک فضائیہ نے ترکی کے وزیر دفاع جناب ہولوسی آکار اور چیف آف جنرل سٹاف، جنرل یاسر گلر سے علیحدہ علیحدہ ملاقات کی۔

     

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ان ملاقاتوں میں سربراہ پاک فضائیہ نے ترکی کے ساتھ دفاعی پیداوار، قومی سلامتی اور تربیت کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔

    ادھر پاک فضائیہ کے ذرائع کے مطابق اس دوران سربراہ پاک فضائیہ نے کمانڈر ترک فضائیہ، جنرل حسن کوکو کاکیوز سے بھی ملاقات کی۔

    دونوں سربراہان نے دورِ حاضر کے چیلنجوں سے نبردآزما ہونے کیلئے دونوں فضائیہ کے مابین باہمی تعاون بڑھانے اور ایک دوسرے کی مہارت سے استفادہ حاصل کرنے کیلئے تفصیلی تبادلہ خیال کیا.

     

    ذرائع کے مطابق ملاقات میں پاک فضائیہ کی ترکی میں اینا تولین ایگل مشقوں میں شمولیت، پاک فضائیہ کے زیرِ اہتمام مختلف مشقوں میں ترک فضائیہ کی شرکت، پائلٹس کی تربیت کے تبادلے اور دفاعی پیداوار میں تعاون پر بھی تبادلہء خیال کیا گیا۔

  • عوام کوبغاوت پراکسانے پرٹرمپ کےخلاف مقدمات،اقدامات :مریم ،نوازشریف،اورمولانا کےخلاف کیوں نہیں:اہم سوال

    عوام کوبغاوت پراکسانے پرٹرمپ کےخلاف مقدمات،اقدامات :مریم ،نوازشریف،اورمولانا کےخلاف کیوں نہیں:اہم سوال

    واشنگٹن:عوام کوبغاوت پراکسانے پرٹرمپ کے خلاف مقدمات اوراقدامات :نوازشریف،مریم نوازاورمولانا کے خلاف کیوں نہیں :اہم سوال،اطلاعات کے مطابق امریکی عوام کو بغاوت پر اکسانے کے الزام میں امریکہ کے ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کی قرارداد منظوری کرلی ہے

    امریکی میڈیا کے مطابق جانے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکی عوام کو ریاستی اداروں ، الیکشن کمشین ، سپریم کورٹ ، پینٹا گان اورایسے ہی دیگراداروں کے خلاف مسلسل اکسارہے ہیں‌ ڈونلڈ ٹرمپ کی ان حرکتوں کی وجہ سے مواخذے کی تحریک کے ساتھ ساتھ مقدمات قائم کرنے کی استدعا کی گئی ہے

    اس مواخذے کی تحریک میں جانے والے امریکی صدر ٹرمپ کے مواخذے کے لیے ڈیمو کریٹک پارٹی کی جانب سے ایوان میں پیش کردہ قرار داد پر آج ووٹنگ ہوئی. جس میں 232 ارکان نے صدر کے مواخذے کے حق میں جبکہ 197 ارکان نے مخالفت میں ووٹ دیا صدر کے مواخذے کے حق میں ووٹ دینے والوں میں ری پبلکن پارٹی کے10 ارکان بھی شامل ہیں.

    یہ بھی یاد رہےکہ امریکہ کی 245 سالہ تاریخ میں صدر ٹرمپ واحد صدر ہیں جن کے خلاف ایوانِ نمائندگان نے دوسری مرتبہ مواخذے کی قرارداد منظور کی ہے صدر کے مواخذے کی قرار داد ایسے موقع پر منظور ہوئی ہے جب ان کی مدت صدارت مکمل ہونے میں ایک ہفتے سے بھی کم وقت باقی ہے.

    یاد رہے کہ امریکہ میں جمہوریت کی علامت سمجھی جانے والی کانگریس کی عمارت ”کیپٹل ہل“ پر 6 جنوری کو صدر ٹرمپ کے حامیوں نے اس وقت حملہ کر دیا تھا جب وہاں نو منتخب صدر جو بائیڈن کی انتخابات میں کامیابی کی توثیق کا عمل جاری تھا.

    مظاہرین نے کیپٹل ہل میں توڑ پھوڑ کی ہنگامہ آرائی کے دوران خاتون اور پولیس افسر سمیت 5 افراد ہلاک ہوئے تھے کیپٹل ہل پر حملے سے قبل مظاہرین وائٹ ہاﺅس کے قریب جمع ہوئے تھے جہاں صدر ٹرمپ نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے طاقت کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا تھا.

    ڈیموکریٹک پارٹی اور ری پبلکن پارٹی کے بعض رہنما کیپٹل ہل پر حملے کا ذمہ دار صدر ٹرمپ کے ٹھہراتے ہیں اور اسی الزام کی بنا پر ایوانِ نمائندگان نے آج دوسری مرتبہ ان کے مواخذے کی منظوری دی ہے نومنتخب صدر جو بائیڈن نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ وہ پرامید ہیں کہ کانگریس مواخذے کی کارروائی میں نہ صرف اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرے گی بلکہ وہ ملک کے دیگر معاملات پر بھی کام کرے گی.

    ایوان نمائندگان میں 2019 کے آخر میں صدر کے خلاف اپنے مخالف جو بائیڈن کے خلاف بیرونِ ملک سے مدد مانگنے کے الزام میں مواخذے کی کاروائی کی تھی تاہم ری پبلکن اکثریت والی سینیٹ نے 2020 کے اوائل میں صدر کو اس الزام سے بری کر دیا تھا.

    ایوانِ نمائندگان میں ایک مرتبہ پھر صدر کے مواخذے کے بعد ٹرمپ کو سینیٹ میں ٹرائل کا سامنا کرنا پڑے گا سینیٹ میں صدر کو مجرم ٹھہرانے کے لیے دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہو گی اگر صدر کا سینیٹ سے بھی مواخذہ ہو جاتا ہے تو وہ مستقبل میں کوئی وفاقی عہدہ سنبھالنے کے اہل نہیں ہوں گے.

    دوسری طرف پاکستان بھر سے جب عوام نے یہ سنا ہے کہ ایک طاقت ورامریکی صدرکے خلاف مقدمات اوراقدامات اس لیے بنائے جارہے ہیں کہ وہ امریکی عوام کو بغاوت اورریاست کے خلاف اکسا رہے ہیں

    امریکہ میں ہونے والی ڈویلپمنٹ کو دیکھ کرپاکستانیوں کی بڑی تعداد نے ریاستی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ نوازشریف ، مریم نواز ، مولانا فضل الرحمن پرعوام کوریاست کے خلاف اکسانے مقدمات قائم کرکے ان کو جیلوں میں بھیجا جائے اورآئندہ کےلیے کسی بھی سرکاری عہدے کے لیے نااہل قرار دیا جائے

    بڑی تعداد میں پاکستانیوں نے مطالبہ کیا ہےکہ اگرڈونلڈ ٹرمپ پرمقدمات اوران کےخلاف اقدامات کئے جاسکتے ہیں تو پھرنوازشریف ،مریم نواز اورمولانا فضل الرحمن کے خلاف کیوں نہیں ہوسکتے

    پاکستانیوں نے عدالت عظمیٰ سے درخواست کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ریاست کوان شرپسند عناصر سے محفوظ رکھنے کے لیے اپنا آئینی کردار ادا کرے

  • افسوس:شہبازشریف کا سگی بھتیجی ستیاناس کررہی ہے:   جلد شہبازشریف کےلیےبری خبرہوگی:اہم صحافی کادعویٰ

    افسوس:شہبازشریف کا سگی بھتیجی ستیاناس کررہی ہے: جلد شہبازشریف کےلیےبری خبرہوگی:اہم صحافی کادعویٰ

    لاہور :افسوس شہبازشریف کا سگی بھتیجی ستیاناس کررہی ہے:بہت جلد شہبازشریف کے لیے بری خبرہوگی::اہم صحافی کا دعویٰ ،اطلاعات کے مطابق شریف خاندان کو قریب سے جاننے والے ایک سنیئر صحافی نے بڑے افسوس والی خبرسناکرسب کو ہلاکررکھ دیا ہے ، وہ کہتے ہیں‌کہ افسوس تواس بات کا ہے کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ مگرشہبازشریف کوسگی بھتیجی بہت زیادہ نقصان پہنچا رہی ہے ۔

    تفصیلات کے مطابق رانا عظیم نے بتایا کہ شہباز شریف کو سائیڈ لائن کر کے مریم نواز کو پارٹی کا صدر بنانے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ شہباز شریف پچھلی مرتبہ جب اپنی پیشی پر آئے تو اُس سے قبل بھی اُن کی جیل میں اور اُس کے علاوہ بھی کچھ ملاقاتیں ہوئیں۔رانا عظیم نے بڑے افسوس کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ مگرسچ یہ ہے کہ شہازشریف کو بیگانوں نے نہیں اپنوں نے تباہ کیا ہے اور اس میں ان کی سگی بھتیجی کا مرکزی کردار ہے

    رانا عظیم کہتے ہیں کہ اس کے علاوہ بھی انہوں نے اس مرتبہ پیشی کے موقع پر اپنی کور کمیٹی کی ٹیم کو یہ پیغام پہنچایا ہے کہ اب آپ متحرک ہو جائیں نہیں تو مسلم لیگ ن کی صدر مریم نواز کو بنایا جا رہا ہے۔ میاں شہباز شریف کو مختلف ذرائع سے یہ خبر ملی ہے کہ انہیں بالکل کارنر کیا جا رہا ہے اور اُنہیں کارنر کیوں کیا جا رہا ہے ؟ جب محمد علی درانی کی ملاقات ہوئی تو اُس سے قبل پے رول پر رہائی کے دوران شہباز شریف نے نیشنل ڈائیلاگ کی بات کی تھی۔

    رانا عظیم کہتے ہیں‌ کہ یہ بات سب پرعیاں ہوچکی ہے کہ ان معاملات پر مریم نواز بھی نالاں تھیں جبکہ نواز شریف کو بھی کہا گیا تھا کہ آپ کے بھائی آپ کے ساتھ نہیں رہے۔ میاں نواز شریف یہ ماننے کو تیار نہیں ہیں لیکن ان کے قریبی رفقا نے انہیں یہ یقین دہانی کروا دی ہے کہ اگر آپ شہباز شریف کا ساتھ دیں گے تو آپ کا بیانیہ دم توڑ جائے گا اور مسلم لیگ ن جو کہ آپ کی اپنی جماعت ہے ، آپ کے ہاتھ سے نکل جائے گی۔

    رانا عظیم اس حوالے سے انکشاف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ امکان یہی ہے کہ اُس کے بعد ہوا یہ کہ میاں نواز شریف نے شہباز شریف کو بالکل کارنر کر دیا جائے۔ نواز شریف کی جانب سے یہ پیغام اُنکے قریبی رفقا کو پہنچا دیا گیا ہے جبکہ مریم نواز نے بھی یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ صرف میں ہی ایک ہوں جس کی وجہ سے ہجوم اکٹھا ہوتا ہے۔ نواز شریف کے بعد لوگ مجھے مسلم لیگ ن کا صدر دیکھنا چاہتے ہیں۔ رانا عظیم نے کہا کہ شاہد خاقان عباسی بیرون ملک کسی اور معاملات کے لیے گئے تھے۔

    ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے، دیکھنا ہو گا کہ کون کس کے ساتھ ہے۔ اگر پارٹی میں ایم این ایز اور ایم پی ایز کی تعداد دیکھی جائے تو وہ زیادہ شہباز شریف کے ساتھ ہیں، کیونکہ وہ استعفے نہیں چاہتے، وہ اداروں سے ٹکراؤ نہیں چاہئیے، وہ اپنے علاقوں میں ترقیاتی کام چاہتے ہیں

  • پاکستان مخالف قوتیں کان کھول کرسن لیں کسی کو شرپسندی کی اجازت نہیں دی جائےگی:اہم شخصیات کا پیغام

    پاکستان مخالف قوتیں کان کھول کرسن لیں کسی کو شرپسندی کی اجازت نہیں دی جائےگی:اہم شخصیات کا پیغام

    اسلام آباد: پاکستان مخالف قوتیں کان کھول کرسن لیں کسی کوشرپسندی کی اجازت نہیں دی جائےگی:اہم شخصیات کا پیغام ،اطلاعات کے مطابق وفاقی وزرا نے کہا ہے کہ اپوزیشن ملک میں افراتفری پھیلانے کے درپے ہے، احتجاج جمہوری حق لیکن قانون ہاتھ میں نہیں لینے دیں گے، امید ہے مخالفین کوئی مسئلہ پیدا نہیں کریں گے۔

    وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کا کابینہ کے دیگر راکین کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ کیا عمران خان اسرائیل کو تسلیم کرنے جا رہے ہیں جو مولانا ریلی نکال رہے ہیں، مولانا عالم دین ہیں، اسلام کودیکھیں، اسلام آباد کی طرف نہیں، اسلام آباد ان کے نصیب میں نہیں ہے۔ عمران خان پانچ سال پورے کریں گے۔

    شیخ رشید کا کہنا تھا کہ فارن فنڈنگ کیس میں تحریک انصاف نے تمام ثبوت دیئے۔ پاکستان کی سیاست میدان میں آگئی لیکن یہ بند گلی میں لے کر جانا چاہتے ہیں۔ مولانا مذہبی نعرے لگا کر مذہبی اشتعال نہ پھیلائیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ دنیا مشرق سے مغرب ہو جائے، عمران خان اسرائیل کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے۔ عوام کی طاقت ان کیساتھ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مدارس کے حوالے سے نور الحق قادری اور میرے سمیت کمیٹی بنائی گئی ہے۔

    اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ پہلے ہی دن انہوں نے اسمبلی کو نہیں چلنے دیا۔ اگر الیکشن ٹھیک نہیں تھا تو اپوزیشن کو ثبوت دینا چاہیے تھا۔ الیکشن کے حوالے سے کمیٹی میں آج تک اپوزیشن نہیں آئی۔ یہ ملک میں افراتفری پھیلانا چاہتے ہیں۔ پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ سے درخواست ہے کہ الیکشن کمیشن آکر اپنی پارٹی فنڈنگ کے ثبوت بھی لے کر آئیں۔

    وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ احتجاج کرنا ہر پارٹی کا حق ہے۔ تاہم فیض آباد دھرنے میں سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ ہر جگہ دھرنا اور احتجاج نہیں ہو سکتا، اگر یہ لوگ قانون کو مانتے ہیں تو سپریم کورٹ کے فیصلے کو سامنے رکھیں۔

    فروغ نسیم نے اپوزیشن سے کہا کہ وہ قانون کو ہاتھ میں نہ لے۔ اپوزیشن قانون اور آئین کے اندر رہتے ہوئے احتجاج کرے۔ اگر قانون سے ہٹ کر کچھ ہوا تو پھر ایکشن لیا جائے گا۔

  • ایل اوسی اورشمالی وزیرستان میں دشمنوں کیساتھ جھڑپ،پاک فوج کے 4 جوان ملک وملت پرقربان ہوگئے

    ایل اوسی اورشمالی وزیرستان میں دشمنوں کیساتھ جھڑپ،پاک فوج کے 4 جوان ملک وملت پرقربان ہوگئے

    راولپنڈی: ایل اوسی اورشمالی وزیرستان میں دشمنوں کیساتھ جھڑپ،پاک فوج کے 4 جوان ملک وملت پرقربان ہوگئے،اطلاعات کے مطابق بھارتی دہشت گردی پھر جاری ہے اور ادھر لائن آف کنٹرول (ایل او سی) اور شمالی وزیرستان میں دشمنوں کے ساتھ جھڑپ میں پاک فوج کے 4 جوان وطن کیلئے قربان ہو کر شہادت کے رتبے پر فائز ہو گئے ہیں۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق بھارتی فوج نے دیوا سیکٹر پر ایل او سی کی خلاف ورزی کی۔ پاکستانی افواج نے بھارتی اشتعال انگیزیوں کا بھرپور جواب دیا جس سے دشمن کو شدید جانی نقصان اٹھانا پڑا۔ فائرنگ کے تبادلے میں 28 سالہ سپاہی نبیل لیاقت شہید ہوگئے۔

    دوسری جانب شمالی وزیرستان میں دہشتگردوں کیساتھ جھڑپ میں 3 جوانوں نے جام شہادت نوش کر لیا ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج نے خفیہ اطلاعات پر آپریشن کیا اور اس دوران 2 دہشتگردوں کو جہنم واصل کردیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق ہلاک دہشت گرد دھماکا خیز مواد بنانے کے ماہر تھے۔ دہشت گردوں کا مقابلہ کرتے ہوئے تین جوان وطن پر قربان ہوئے۔ شہدا میں سپاہی ازیب احمد، ضیاء السلام اور لانس نائیک عباس خان شامل ہیں۔

    خیال رہے کہ دفتر خارجہ نے 12 جنوری کو بھارت کے سینئر سفارتکار کو طلب کرکے ایل او سی کے نیزہ پیر سیکٹر میں جنگ بندی کی بلا اشتعال خلاف ورزیوں پر شدید احتجاج ریکارڈ کیا تھا۔

  • والٹن ایئرپورٹ:اگرعمران خان یہ کام کرنےمیں کامیاب ہوگئے تویہ پاکستان کی کامیابی ہوگی:خصوصی رپورٹ

    والٹن ایئرپورٹ:اگرعمران خان یہ کام کرنےمیں کامیاب ہوگئے تویہ پاکستان کی کامیابی ہوگی:خصوصی رپورٹ

    لاہور:والٹن ایئرپورٹ:اگرعمران خان یہ کام کرنے میں کامیاب ہوگئے تویہ پاکستان کی کامیابی ہوگی:اہم شخصیت نے بڑا دعویٰ‌ کردیا ،اطلاعات کے مطابق پاکستان کے ایک سنیئر تجزیہ نگار نے ایک بڑی پتے کی بات کی ہے وہ کہتے ہیں‌ کہ اگرعمران خان والٹن ایئرپورٹ کی جگہ کاروباری مرکز بنانے میں کامیاب ہوگئے تو سمجھ لیں عمران خان اپنا مقصد حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہوگئے

    سنیئر تجزیہ نگارعبدالستار خان نے اس‌حوالے سے ایک تحقیقاتی رپورٹ تیار کی ہے وہ کہتے ہیں کہ یہ تو سب کو معلوم ہے کہ والٹن ایئرپورٹ صرف ایک اکیڈمی کے طورپراستعمال ہورہا ہے ، یہاں کوئی کمرشل پروازیں نہیں اترتیں

    وہ کہتے ہیں‌کہ سیکڑوں ایکڑ پرمحیط یہ فلائنگ اکیڈمی جس کی زمین اربوں روپے کی مالیت کی ہے اگراس اکیڈمی کو کسی اورجگہ منتقل کردیا جائے یا کسی ادارے میں ضم کردیاجائے تو پھر یہ جگہ کسی بڑے مقصد کےلیے استعمال کی جاسکتی ہے اوراس مقصد کے لیے وزیراعظم عمران خان نیک نیتی سے کوشاں ہیں‌

    عبدالستار خان کہتے ہیں کہ اس سے پہلے بھی کوششیں ہوئیں پچھلے حکمرانوں کے دورمیں پروپوزل سامنے آئے تھے مگرلگتا ہے کہ ان خیالات کو ان منصوبوں کواگرکوئی عملی شکل دے سکتے ہیں‌ تو وہ عمران خان ہی ہیں‌

    وہ کہتے ہیں کہ جس جگہ یہ والٹن ایئر پورٹ موجود ہے یہ بہت ہی اہمیت کا حامل علاقہ ہے ایک طرف گلبرگ مین بلیوارڈ دوسری طرف پاک فوج کے دفاتر اورتیسری طرف پاکستان ایئر فورس موجود ہے

    وہ کہتے ہیں کہ عمران خان خود بھی اس قسم کے کاروباری مراکز بنانے میں‌ دلچسپی رکھتےہیں اورساتھ ہی ابو ظہبی اورقطرکے بڑے بڑے کاروباری گروپس نے یہ مشورہ دیا ہے کہ اگرپاکستان یہ کام کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو پاکستان معاشی طور پربڑا جمپ لگا سکتا ہے اسی مقصد کولے کرعمران خان کوشاں ہیں اورعثمان بزدار بھی دن رات اسی پرفوکس کئے ہوئے ہیں‌

    وہ کہتے ہیں کہ کچھ قانونی مسائل ہیں کہ قانون سازی کے بغیریہ زمین کسی دوسرے مقصد کے لیے استعمال نہیں ہوسکتی ، اس کےلیے قانون بنانا پڑےگا جس کے لیے عمران اورعثمان دونوں حکمت عملی طئے کررہےہیں‌

    ساتھ ہی انہوں نے ایک خطرے کی نشاندہی کی کہ کچھ لوگوں کا دعویٰ ہے کہ ان کی جگہ بھی وہاں ہے تو پھر اس صورت میں مشکلات بھی کھڑی ہوسکتی ہیں لیکن اس کا فیصلہ عدالتیں ہی کریں‌گی

    انہوں‌نے انکشاف کیاکہ سول ایوی ایشن کا دعوٰی ہے کہ ان کی زمین بھی وہاں‌ہے جس کی مالیت 60 ارب روپے سے زیادہ ہے اب تو موجودہ حالات میں اس کی مالیت تو اوربھی بڑھ گئی ہوگی

    اس کے علاوہ پاکستان آرمی ، پاکستان ایئرفورس کے ساتھ پاکستان آرمی ہاوسنگ ڈائریکٹوریٹ کی جگہ بھی ہے اوراگران کا تخمنہ لگایا جائے تو یہ جگہ کھربوں روپے کی بنتی ہے

    وہ کہتے ہیں کہ اگر یہ کاروباری مرکز بن جاتا ہے تو پھریقین کریں‌کہ دنیا کے بڑے بڑے کاروباری مراکز یہاں شفٹ ہوجائیں گے

    انہوں‌نے انکشاف کیا کہ سول ایوی ایشن کے دعوے کے مطابق ان کی یہاں 200 ایکڑ رقبہ ہے ، اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ پنجاب حکومت نے 415 ایکڑ زمین سول ایوی ایشن کوفلائنگ مقاصد کے لیے دی ہوئی تھی

    عبدالستان خان بتاتے ہیں کہ یہ زمین لیز پردی گئی تھی اوراس کی لیز کی مدت 1990 میں ختم ہوچکی ہے ، اب اس وقت سے لیکر اب تک بغیر توسیع کے سول ایوی ایش اس زمین کو استعمال کررہی ہے

    انہوں نے ایک اوربھی انکشاف کیا کہ یہاں پاکستان آرمی کی 95 ایکڑزمین ہے جوانہوں نے 1971 میں حاصل کی تھی ، اس کے ساتھ ساتھ پاکستان ایئرفورس نے بھی 1971 میں حالات کے تناظر میں 108 ایکڑ زمین حاصل کی تھی

    عبدالستان خان بتاتے ہیں کہ ایسے ہی پاکستان آرمی ہاوسنگ اتھارٹی ڈائریکٹوریٹ نے 1993 میں حاصل کی تھی

    ایسے ہی پاکستان نیوی نے 25 ایکڑ زمین 1995 میں حاصل کی تھی

    وہ آگے چل کربتاتےہیں کہ 1998 میں 102 ایکڑ زمین کچی آبادیوں کومنتقل کردی گئی تھی

    عبدالستارخان انکشاف کرتے ہیں‌کہ 25 ایکڑ زمین پرنرسریوں والوں نے قبضہ کررکھا ہے

    عدالستان خان بتاتے ہیں‌کہ 13 ایکڑزمین پرسینٹ میری پارک بنا ہوا ہے اوریہ زمین بھی بنیادی طورپروالٹن ایئر پورٹ ہی میں‌آتی ہے

    وہ آگے چل کربتاتے ہیں کہ 7 ایکڑزمین ایل ڈی اے نے سول ایوی ایشن سے لی تھی مین بلیوارڈ روڈ کی تعمیر کےلیے اور یہ بھی ایک قابل واپسی کا دعوی ہوسکتا ہے

    سنیئر تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ 27 ایکڑ زمین پاکستان ایئر فورس کہتی ہے کہ یہ ہماری زمین ہے جبکہ سول ایوی ایشن والے کہتے ہیں کہ یہ ہماری زمین ہے جبکہ اس کےساتھ ساتھ 85 ایکڑ زمین کا بھی ایشو ہے اوروہ یہ ہےکہ پرائیویٹ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ ہماری زمین ہے اب یہ کا دعوی کتنا سچا ہے یہ تو پرانی دستاویزات اورعدالتی فیصلے ہی بتاسکتے ہیں

    اس طرح وہاں 7 ایوی ایٹر ہیں‌ ان کا کیا بنے گا تو وہ بتاتے ہیں‌کہ یہ فیصلہ پہلے ہی ہوگیا ہے کہ ان میں‌سے 6 ایوی ایٹرز کو علامہ اقبال ایئرپورٹ پرمنتقل کردیا جائے گا اورایک الٹراایوی ایٹرگروپ کو لاہور سے باہر منتقل کردیا جائے گا

    عبدالستان خان کہتے ہیں کہ بظاہر تویہ بڑے مشکل کام ہیں لیکن حکومتوں کے لیے مشکل نہیں ہوتے اوراگرعمران خان کی حکومت یہ کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو وہ دعوے سے کہہ سکتے ہیں‌ کہ عمران خان نواجوان طبقے خصوصا باشعور پاکستانیوں کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہوجائیں گے کہ عمران خان واقعی ایک مخلص انسان ہے وہ دیگرحکمران خاندانوں کی طرف اپنا پیٹ نہیں بھرے گا بلکہ ا پنی قوم کے لیے سوچے گا

  • کلبھوشن کے معاملہ پر اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکومت کو بڑا حکم

    کلبھوشن کے معاملہ پر اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکومت کو بڑا حکم

    کلبھوشن کے معاملہ پر اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکومت کو بڑا حکم

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کلبھوشن کو وکیل فراہم کرنے کی حکومتی درخواست پر سماعت 3 فروری تک ملتوی کر دی گئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں لارجر بنچ نے سماعت کی،عدالت نے استفسار کیا کہ بھارت سے حکومتی سطح پرپوچھیں وہ کلبھوشن کیس کی پیروی چاہتے ہیں یا نہیں؟

    ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ اٹارنی جنرل سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس کی سماعت میں مصروف ہیں، عدالت نے استفسار کیا کہ ایک اور بھارتی قیدی محمد اسماعیل کو رہا کرنے میں کیا پیش رفت ہے؟کیا بھارتی حکومت کلبھوشن والے کیس میں سنجیدہ نہیں؟حکومت ایک مرتبہ پھرکلبھوشن معاملے پر بھارت سے رابطہ کرے،

    پاکستان کا کلبھوشن کے معاملے پربھارت سے دوبارہ رابطہ

    کلبھوشن کا وکیل مقرر کرنے کی درخواست پر سماعت کے لئے لارجر بینچ تشکیل

    کلبھوشن کی سزا کیخلاف ہائی کورٹ میں اپیل داخل کرنے کی مدت ختم

    کلبھوشن کا نام لینے یا نہ لینے پر حب الوطنی یا غداری کا سرٹیفیکیٹ جاری ہوتاتھا اب سہولت کاری کیلیے قانون بن رہا ہے، خواجہ آصف

    کلبھوشن یادیوتک قونصلر رسائی، بھارت مان گیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھارت کو کلبھوشن تک قونصلر رسائی کا ایک اور موقع دے دیا

    کلبھوشن یادیو کیس ،حکومت کا عالمی عدالت انصاف آرڈیننس میں توسیع کا فیصلہ

    کلبھوشن کیس میں بھارت کی کیا کوشش ہے؟ ترجمان دفتر خارجہ نے بتا دیا

    گزشتہ برس مئی میں بھارت نے اپنے جاسوس کلبھوشن یادیو کی پھانسی رکوانے کے لیے عالمی عدالت انصاف میں درخواست دائر کی تھی۔ 15 مئی کو بھارتی درخواست پر سماعت کا آغاز ہوا،نیدرلینڈز کے شہر دی ہیگ میں قائم عالمی عدالت اںصاف نے بھارت کی درخواست پر اٹھارہ سے اکیس فروری تک اس مقدمے کی سماعت کی تھی

  • سیاسی پارٹیوں کے آپس کے معاملات ہوں توعدالت ان میں نہیں پڑتی،سپریم کورٹ

    سیاسی پارٹیوں کے آپس کے معاملات ہوں توعدالت ان میں نہیں پڑتی،سپریم کورٹ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ پیپرز سے کرانے سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ سماعت کر رہا ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ حکومت کا مقدمہ یہ ہے کہ آرٹیکل 226 کی تشریح کی جائے،اگر آئین میں تشریح درکارہو تو پارلیمنٹ سے رجوع کیا جاتا ہے، وفاق نے رائے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا،یہ سوال کیا گیا سینیٹ کا معاملہ پارلیمنٹ میں کیوں نہیں بھیجا گیا،میں دلائل کا آغاز جسٹس یحییٰ آفریدی کے سوالات سے کرنا چاہتا ہوں،

    جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ پارلیمنٹ قانون بناتی ہے سپریم کورٹ تشریح کرتی ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ آئین کی تشریح کا فورم پارلیمنٹ نہیں بلکہ سپریم کورٹ ہے، اب اس پانچ رکنی بنچ میں صدارتی ریفرنس آیا ہے تو اس کا جواب اب آپ کو دینا ہے یہی میرے دلائل کا نچوڑ ہے،

    جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ سوال یہ بھی ہے ہم تشریح کیسے کریں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ سپریم کورٹ نے ایک فیصلے میں قراردیا آئین کی تشریح کا اختیار ہمیں حاصل ہے، سپریم کورٹ نے قراردیا سیاسی،غیرسیاسی کی تفریق کیے بغیرفیصلے کیے جائیں،ہرملک میں آئینی معاملات کی تشریح کیلئے سپریم کورٹ یاپھر آئینی عدالت ہوتی ہے، ہماری سپریم کورٹ ہی آئینی عدالت ہے، متعدد ممالک میں سپریم کورٹ آئینی و سیاسی معاملات میں آئین کی تشریح کرتی ہے،اگر آئینی معاملات پرسیاسی معاملات غالب آجائیں تب عدالت ان معاملات سے گریز کرتی ہے،متعدد مرتبہ سپریم کورٹ بھی سیاسی معاملات کی تشریح کر چکی ہے،

    جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ انٹرا پارٹی یا سیاسی پارٹیوں کے آپس کے معاملات ہوں توعدالت ان میں نہیں پڑتی ،از خود نوٹس کے دائرہ اختیارکے تحت عدالت سیاسی معاملات کاجائزہ لیتی رہی ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہماری سپریم کورٹ اکثر سیاسی معاملات واپس پارلیمنٹ کو بھجتی رہی ہے، آئین نے سپریم کورٹ کواختیار دیا ہے لیکن پھر بھی عدالت نے معاملات واپس بھیجے،

    جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ عدالت کے سیاسی آئینی معاملات میں تشریح کے دو موقف پیش کررہے ہیں، اگر عدالت تشریح کرتی ہے تو پھر کیا عدالتی تشریح کو فوقیت حاصل ہوگی، اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت خود کہہ چکی ہے کہ اسے تشریح کرنے کا اختیار حاصل ہے، عدالت بہت سے معاملات پارلیمنٹ کو بھیج چکی ہے،عدالت اپنی نظیروں کی پابند ہے،9 رکنی بنچ مختلف معاملات میں دائرہ اختیار سے متعلق فیصلہ دے چکا ہے،

    حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں مزید کہا گیا کہ خفیہ ووٹنگ کی وجہ سے سینیٹ الیکشن کے بعد شفافیت پر سوال اٹھائے جاتے ہیں

    قبل ازیں سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانے کے حوالے سے بڑی پیشرفت سامنے آئی ہے ، صدر مملکت عارف علوی نے معاملے پر سپریم کورٹ کی رائے حاصل کرنے کیلئے صدارتی ریفرنس پر دستخط کر دیئے ہیں

    ایوان صدر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ کے ذریعےکرانے کیلئے آئین کے آرٹیکل 186 کے تحت ریفرنس سپریم کورٹ بھجوانے کی وزیرِاعظم کی تجویزکی منظوری دے دی ہے۔

    وفاقی کابینہ سے مشاورت کے ساتھ ہی سینیٹ انتخابات شوآف ہینڈسےکرانے کا فیصلہ ہوگیا

    ریفرنس میں آئین میں ترمیم کے بغیر الیکشن ایکٹ 2017ء کے سیکشن (6) 122 میں ترمیم کرنے پر سپریم کورٹ کی رائے مانگی گئی ہے۔وفاقی کابینہ اس معاملے پر 15 دسمبر کو سپریم کورٹ سے رائے لینے کی منظوری دے چکی ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت ہارس ٹریڈنگ کے خاتمے اور انتخابات میں شفافیت کے لئے ایوان بالا کے آئندہ الیکشن اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانے کی خواہاں ہے۔

    مردوں سے دوقدم آگے بڑھ کریہ کام کرنا ہے، مریم نواز نے خواتین رہنماؤں کو دیئے مشورے

    سب سن لیں،مریم پارٹی کو لیڈ کررہی ہیں،رانا ثناء اللہ، نواز شریف کو بھی دیا مشورہ

    عمران خان اور انکے ساتھی جو الفاظ استعمال کررہے ہیں وہ کشیدگی بڑھا رہی ہے ،قمر زمان کائرہ

    لاہور جلسہ سے قبل پی ڈی ایم کو سرپرائز دینگے ، فردوس عاشق اعوان

    پی ڈی ایم کی تحریک کامیابی کی جانب بڑھنا شروع،حکومتی حلقوں میں تہلکہ

    مریم نواز نے گھر چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا

    استعفے لینے والوں کو دینے پڑ گئے، پی ڈی ایم سے پہلا استعفیٰ آ گیا،رکن اسمبلی مستعفی

    لاہور جلسہ سے قبل پی ڈی ایم کا سربراہی اجلاس اسلام آباد میں طلب،اہم فیصلے متوقع

    سیاسی جلسے جلسوں پر پابندی،عدالت نے کس کو کیا طلب؟

    مریم نواز نکلیں گی، ہم ہر صورت یہ کام کریں گے، مریم اورنگزیب کا چیلنج

    13 دسمبر کو ہر ہاتھ میں جھنڈا اورہر جھنڈے میں ڈنڈا ہوگا، قمر زمان کائرہ

    شاہدرہ جلسے میں حملہ کیسے ہوا اور کس نے کیا؟ مریم نواز نے خود بتا دیا

    استعفے منظور کرنے ہیں یا نہیں؟ پرویز الہیٰ نے بڑا فیصلہ کر لیا

    پی ڈی ایم کو بڑا دھچکا،حکومت نے ایسا کام کر دیا کہ پی ڈی ایم کی ساری امیدوں پر پانی پھر گیا

    نیب کی کارروائیاں ناقابل برداشت ہوتی جا رہی ہیں،اپوزیشن سینیٹ میں پھٹ پڑی

    سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانے کا معاملہ،رضا ربانی بھی عدالت پہنچ گئے

    سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کروانے سے متعلق صدارتی ریفرنس،سپریم کورٹ میں سماعت،کس نے کی مہلت طلب؟

    کوئی ایم پی اے پارٹی کیخلاف ووٹ دینا چاہتا ہے تو….سینیٹ انتخابات سے متعلق صدارتی ریفرنس کیس،عدالت کے ریمارکس

  • آخرحکومت کی کیا مجبوری ہے کہ وہ ڈاکٹرنقشب چوہدری کی جعل سازی کوکیوں تحفظ دے رہی ہے:خصوصی رپورٹ

    آخرحکومت کی کیا مجبوری ہے کہ وہ ڈاکٹرنقشب چوہدری کی جعل سازی کوکیوں تحفظ دے رہی ہے:خصوصی رپورٹ

    لاہور:آخرحکومت کی کیا مجبوری ہے کہ وہ ڈاکٹرنقشب چوہدری کی جعل سازی کوکیوں تحفظ دے رہی ہے:خصوصی رپورٹ،اطلاعات کے مطابق پچھلے کئی سال سے لاہور کی کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی میں‌ ایک طاقت ور ڈاکٹرکی خلاف پالیسی تقرری پربڑی پریشان کن رپورٹس آرہی ہیں‌ لیکن اس کے باوجود اس ڈاکٹرکے خلاف نہ توانکوائری کی گئی اورنہ ہی عوام کوبتایا گیا کہ آخرحکومت کی کیا مجبوری ہے ،کیاڈاکٹر کسی طاقت سیاسی خاندان سے تعلق رکھتا ہے یا پھرڈاکٹرنقشب چوہدری کے لمبے ہاتھ ہیں‌

    عوام ، میڈیکل کے شعبہ سے وابستہ لوگ بھی حیران ہیں‌کہ ڈاکٹرنقشب چوہدری کی تعلیمی جعل سازی سامنے آنےکے باوجود بھی اسے تحفظ دیا جارہا ہے تو پھروہ قوتیں سامنے آنی چاہیں جوتحفظ دے رہی ہیں‌

    عوام کئی سال سے جاری اس تنازعے کا خاتمہ اورحل چاہتی ہے ، اب یہ حکومت پنجاب کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس معاملے کو نمٹاتی ہے یا الجھاتی ہے

    ڈاکٹر نقشب چوہدری جن کے بارے میں‌ لوگ نہیں بلکہ حقائق بولتے ہیں‌کہ جعل سازی کے بڑے ماہر ہیں‌ یہی وجہ ہے کہ وہ جس طرح شارٹ کٹ طریقے سے بڑی بڑی منزلیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں‌ اس سے قبل اس کی مثال نہیں ملتی

    اب آتے ہیں‌ کہ یہ معاملہ آخر ہے کیا ؟

    ڈاکٹرنقشب چوہدری کس طرح بائی پاس کرتے رہے ، اس کے بارے میں‌معلوم ہوا ہے کہ کنگ ایڈورڈ میڈکل یونیورسٹی میں بائی پاس کرتے ہوئے 21 گریڈ پرتعینات ہونے والے ڈاکٹرنقشب چوہدری نے دو میڈیکل کالجز کے جعلی سرٹیفکیٹ لگا کر اپنی منزل حاصل کی

    ڈاکٹرنقشب چوہدری نے صرف ساڑھے تین سال میں گریڈ اٹھارہ سے گریڈ اکیس کا سفر جس طرح طئے کیا اس کی مثال پاکستان میں نہیں ملتی

    جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پروفیسر کے عہدے کے لیے کم از کم 9 سال کا تجربہ ہونا پہلی شرط ہے

    پھر یہ ہی نہیں کہ یہ کوئی کہانی تھی بلکہ حقائق کودیکھتے ہوئے علامہ اقبال میڈیکل یونیورسٹی نے موصوف کے یہ جعلی سرٹیفکیٹ منسوخ‌کرکے پاکستان میڈیکل ڈینٹل کونسل کورپورٹ کردی تھی کہ وہ اس جعل سازڈاکٹر کے خلاف کارروائی کرے

    ڈاکٹرنقشب چوہدری نے سروسز انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں اسٹنٹ پروفیسر کے طور پرکام کرنے کے لیے جعلی سرٹیفکیٹ بھی لگایا

    جبکہ سچ اورحقیقت یہ ہے کہ ڈاکٹرنقشب چوہدری نے کبھی بھی اس عہدے پرکام نہیں کیا جس کا انہوں نے سرٹیفکیٹ پیش کیا تھا

    یہ بھی حقیقت کھل گئی کہ ڈاکٹرنقشب چوہدری تو فرانزک میڈیسن میں‌ کام کرتے رہے ہیں لیکن ڈاکٹرنقشب چوہدری کا کمال دیکھیں انہوں نے بائیو کیمسٹری میں ڈگری حاصل کرلی

    یہ بھی انکشاف ہوا تھا کہ ڈاکٹر نقشب چوہدری 2 اکتوبر 2011 تک ڈیمانسٹریٹرکی حیثیت سے 2017 کام کرتے رہے ہیں‌

    پھر یہ ہی نہیں‌بلکہ ایک طرف ڈیمانسٹریٹر کی حیثیت سے کام کررہے ہیں تو ٹھیک ایک دن بعد ڈاکٹرنقشب چوہدری کو پنجاب پبلک سروس کمیشن سے گزارے ہوئے اسسٹنٹ پروفیسر جیسا عہدہ بھی نواز دیا اور یوں وہ بائیوکیمسٹری کے اسسٹنٹ پروفیسر بن گئے

    میڈیکل کی دنیا کے ماہرین کہتے ہیں کہ ایسے ہوتا نہیں اور نہ ہی آج تک ایسے ہوتے دیکھا ہے کہ ساڑھے تین سال میں کوئی ڈاکٹر اسسٹنٹ پروفیسر سے پروفیسر بن جائے حالانکہ اس کے لیے 5سال اورایسوسی ایٹ پروفیسر کے لیے 9 سال کا تجربہ ہونا ضروری ہے

    پھر یہ ہی نہیں‌بلکہ سچ تو یہ ہے کہ نقشب چوہدری کی پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی پی ایم ڈی سی کے ساتھ رجسٹرڈ نہیں تو پھریہ طاقتورشخص کیسے چھلانگیں لگاتا رہا

    میڈیکل کے شعبے میں‌ اس عہدے پربھرتی کے لیے محکمہ صحت ، ریگولیشن فنانس اورپبلک سروس کمیشن کے اراکین اورمتعلقہ شعبے کے دوپروفیسرزکا موجود ہونا اورتصدیق کرنا ضروری ہوتا ہے ، مگرچونکہ ڈاکٹرنقشب چوہدری کونوازا جانا تھا توطریقے کار بھی خود ہی بدل کرنیا انداز اختیار کرتےہوئے گریڈ 20 کے افسران کے ذریعے گریڈ 21 کے افسر کی حیثیت سے ڈاکٹرنقشب چوہدری کی تقرری کی گئی

    ڈاکٹرنقشب چوہدری کو بائی پاس لانے کے اس عمل سے کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کے 40 سے زائد بڑے بڑے پروفیسرز ڈاکٹرزاورماہرین طب متاثر ہوئے

    حیرانگی اس بات پر ہے کہ ڈاکٹرنقشب چوہدری کی غیرقانونی تعیناتیوں‌پرنہ تو پی ایم ڈی سی حرکت میں آئی اورنہ ہی پنجاب حکومت نے اس معاملے کی تحقیقات کرکے اس تنازعے کو ہمیشہ کےلیے ختم کرنے کی مخلصانہ کوششیں کیں‌

  • سی پیک کو نقصان پہنچانے کی سازش ناکام، کراچی سے بھارتی خفیہ ایجنسی را کا تربیت یافتہ دہشت گرد گرفتار

    سی پیک کو نقصان پہنچانے کی سازش ناکام، کراچی سے بھارتی خفیہ ایجنسی را کا تربیت یافتہ دہشت گرد گرفتار

    سی پیک منصوبوں کو نقصان پہنچانے کی سازش ناکام، کراچی سے بھارتی خفیہ ایجنسی را کا تربیت یافتہ دہشت گرد گرفتار

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق شہر قائد میں پولیس نے کاروائی کرتے ہوئے بھارتی خفیہ ایجنسی را کے دہشت گرد کو گرفتار کر لیا

    کراچی کے ضلع کیماڑی میں حساس اداروں نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے ’را‘ کے تربیت یافتہ دہشتگرد منصور عرف انیل کو گرفتار کر لیا ہے۔دہشتگرد کو اتحاد ٹاؤن سے ٹارگٹڈ آپریشن کے دوران گرفتار کیا گیا۔

    ملزم کے قبضے سے ایک کلو دھماکہ خیز مواد، 2 ریسیور، بونا وائر، پستول، راؤنڈز اور دیگر سامان برآمد کر لیا گیا۔ ایس ایس پی کیماڑی فدا حسین کا کہان ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی را کا تربیت یافتہ دہشتگرد ریکی بھی کرتا تھا۔تمام کارروائیوں کے لیے فنڈز فراہم کرتی ہے ۔ا س گروپ کا سربراہ اصغرشاہ ہے جو اس ملک سے فرار اور را سے رابطوں میں ہے۔

    زرداری کے پروڈکشن آرڈر، حکومت کے لئے خطرے کی گھنٹی بج گئی

    زرداری کے پروڈکشن آرڈر جاری نہ کرنے کے لئے درخواست پرعدالت نے بڑا حکم دے دیا

    آصف زرداری نیب کی بدنیتی ثابت کرنےمیں ناکام رہے: ضمانت مسترد ہونے کا تفصیلی فیصلہ

    امریکی عدالت نے ایم کیو ایم رہنما کو سزا سنا دی، بڑی خبر آ گئی

    ایم کیو ایم لندن کے دو کارکنان کو ہوئی سزا

    کراچی کے پیسوں پر راج کرنیوالا اب لندن میں مالی مدد کی اپیل کرنے پر مجبور

    اصغر شاہ دہشتگردوں کو ٹارگٹ اور اسلحہ و بارود فراہم کرتا ہے۔ ملزم منصور عرف انیل ایس آر ار اے کا سرگرم رکن ہے۔مبینہ دہشگرد نے باقاعدہ را سے بھارت میں تربیت حاصل کی تھی۔ملزم دہشتگردی کے مقاصد کے لیے حساس مقامات کی ریکی کرتا رہا ہے۔اصغر شاہ گروپ کی کارروائیوں کا مقصد سی پیک کو نقصان پہنچانا ہے۔

    واضح رہے کہ 15 جولائی کو ایف آئی اے حکام نے کامیاب کروائی کرتے ہوئے بھارتی خفیہ ایجنسی "را” سلیپر سیل کا اہم رکن ظفر گرفتار کر لیا گیا.ملزم ظفر بم دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ہے،

    گرفتار ملزم نے بھارت میں چودہ ماہ دہشت گردی کی ٹریننگ لی.ملزم ظفر کو دہلی میں محمود صدیقی گروپ نے عسکری تربیت دلوائی، ملزم ظفر کا تعلق ایم کیوایم لندن سے ہے،گرفتار ملزم بم بنانے اور جدید ہتھیار چلانے کا ماہر ہے .ملزم ظفر فائر بریگیڈ میں سرکاری ملازمت بھی کرتا تھا،

    ماہ مئی میں کراچی سے را سلیپر سیل کا ایک اور اہم رکن گرفتار کرلیا گیا، ملزم کراچی ایئر پورٹ پر سرویلنس یونٹ میں ڈیوٹی کر رہا تھا۔

    ملزم کو ایف آئی اے نے گرفتار کیا ہے ایف آئی اے حکام کے مطابق ملزم 1991 میں سندھ پولیس میں بھرتی ہوا، ملزم 2008 میں ٹریننگ کے لیے بھارت بھی جا چکا ہے، ملزم ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث رہا ہے۔

    ایف آئی اے حکام کے مطابق گرفتار ملزم کا تعلق ایم کیو ایم لندن سے ہے۔ ملزم کیخلاف قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے، ملزم سے مزید تحقیقات کی جا رہی ہے،

    ایف آئی اے کے مطابق اے ایس آئی مصور نقوی را سلیپرسیل کا اہم رکن ہے۔ ملزم کراچی ایئرپورٹ پر سرویلنس یونٹ میں ڈیوٹی کر رہا تھاملزم 1991 میں سندھ پولیس میں بھرتی ہوا تھا، محمود صدیقی کی ہدایت پر ملزم کو رقم فراہم کی جاتی تھی۔ ملزم 2008 میں ٹریننگ کے لیے انڈیا بھی جا چکا ہے ملزم ایئرپورٹ پر ساتھیوں کی آمدورفت میں سہولت کاری بھی کرتا تھا

    قبل ازیں ماہ مئی میں ہی ایف آئی اے انسداد دہشتگردی ونگ نے اہم کارروائی کے دوران بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سلیپر سیل کے اہم رکن آصف صدیقی کو گرفتار کرلیا ہے۔ ایف آئی اے حکام کے مطابق گرفتار ملزم آصف صدیقی 17 گریڈ کا سرکاری ملازم تھا،

    ملزم بھارتی خفیہ ادارے کے لئے کام کرتا تھا اور پاکستانی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے بارے میں اہم معلومات بھارت بھجواتا تھا، اس حوالہ سے ملزم نے کئی ای میلز کی ہیں، ملزم نے حساس مقامات کی تصاویر اور تفصیلات بذریعہ ای میل بھارت بھیجی ہیں.

    واضح رہے کہ اس سے قبل بیس اپریل کو بھارتی خفیہ ایجنسی را کیلئے کام کرنے والا کراچی پولیس کا اے ایس آئی گرفتارکر لیا گیا تھا،پولیس کے مطابق ایس آئی یو پولیس اور اداروں نے گلستان جوہر میں کاروائی کی،اے ایس آئی شہزاد پرویز شاہراہ فیصل تھانے میں تعینات تھا۔ ملزم شہزاد پرویز کو محمود صدیقی گروپ کی جانب سے بھاری رقم فراہم کی جارہی تھی ،گرفتار پولیس اہلکار دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہے

    پولیس کے مطابق پولیس اہلکار ٹارگٹ کلرز کی ٹیم کا اہم رکن بتایا جاتا ہے ،ملزم اہلکار ایم کیوایم لندن سے وابستہ ہے،اے ایس آئی شہزاد پرویز گلستان جوہر کا رہائشی ہے،گرفتار اہلکار کے قبضے سے 2 دستی بم برآمد کئے گئے تھے

    قبل ازیں  یکم اپریل کو بھی شہر قائد کراچی میں بھارتی خفیہ ایجنسی را کے گرفتار ملزمان کی جانب سے انکشاف کے بعد کراچی یونیورسٹی کے ایک دفتر پر اداروں نے چھاپہ مارا اور ایک مشین گن، دو پستول اور گولیاں برآمد کر لی

    اداروں نے چھاپے کے دوران لیپ ٹاپ اور کمپیوٹر بھی برآمد کر لیا،ملک کے خلاف ذہن سازی کا لٹریچر بھی برآمد کیا گیا،ملزم ماجد نے اپلائیڈ اکنامکس ریسرچ سینٹر میں اپنا آفس بنا رکھا تھا،گروہ کے سرغنہ شاہد متحدہ کی ہدایت پر آفس بنایا گیا تھا

    کاروائی جے آئی ٹی میں انکشافات کے بعد کی گئی،ایف آئی اے نے ملزمان کے زیراستعمال آئی پی کی جانچ پڑتال کر لی ،ملزمان کو بھارت سے تخریب کاری کے لیے ہدایات ملتی تھی ،ای میل ریکارڈ اور ڈیٹا بھی تحویل میں لے لیا گیا ،ملزمان شاہد متحدہ عادل انصاری اور ماجد کے گھروں پر بھی چھاپے مارے گئے اور تلاشی لی گئی،

    بھارتی خفیہ ایجنسی را کیلئے کام کرنے والا کراچی پولیس کا اہلکار گرفتار

    بھارتی خفیہ ایجنسی "را” کیلیے کام کرنیوالا گریڈ 17 کا سرکاری ملازم کراچی سے گرفتار

    بھارتی خفیہ ایجنسی را کے نیٹ ورک کے خلاف ایک اور کاروائی، را کا اہم رکن گرفتار

    بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سلیپر سیلز کو کراچی میں رقوم فراہم کرنیوالا گرفتار

    چھاپوں کے دوران ملک کی اہم تنصیبات کی تصاویر نقشے اور چیک بکس برآمد ہوئیں،ایس آئی یو پولیس اور ایف آئی اے نے کارروائیاں تیز کر دیں ،اورتحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا

    بھارتی خفیہ ایجنسی را کے نیٹ ورک کا اہم رکن کراچی سے گرفتار