Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کروانے سے متعلق صدارتی ریفرنس،سپریم کورٹ میں سماعت،کس نے کی مہلت طلب؟

    سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کروانے سے متعلق صدارتی ریفرنس،سپریم کورٹ میں سماعت،کس نے کی مہلت طلب؟

    سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کروانے سے متعلق صدارتی ریفرنس،سپریم کورٹ میں سماعت،کس نے کی مہلت طلب؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ میں سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کروانے سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں پانچ رکنی خصوصی بنچ سماعت کر رہا ہے،وکیل کامران مرتضیٰ نے کہا کہ عدالت نے 2 ہفتے کا وقت دیا تھا مگر ہمارا جواب جمع نہیں کیا جارہا،وکیل جے یو آئی نے کہا کہ جمعیت علما اسلام پاکستان کا جواب رجسٹرار آفس قبول نہیں کر رہا،

    چیف جسٹس گلزار احمد نے وکیل کو کہا کہ آپ جواب جمع کرائیں، وصول کر لیں گے،ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے سینیٹ انتخابات پر جواب جمع کرانے کے لیے مہلت مانگ لی،عدالت نے استدعا منظور کرتے ہوئے سندھ حکومت کو ایک ہفتے کا وقت دے دیا

    صدارتی ریفرنس میں سینیٹر رضا ربانی کی فریق بننے کی استدعا منظورکر لی گئی،رضا ربانی کے علاوہ دو مزید وکلا نے فریق بننے کی درخواست کر دی

    چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ تمام فریقین کے جوابات آنے کے بعد سب کو دیکھیں گے، اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ صدارتی ریفرنس آرٹیکل 226 کے اسکوپ سے متعلق ہے ،سپریم کورٹ صدر کی جانب سے بھیجے گئے ریفرنس پر رائے دینے کی پابند ہے،سپریم کورٹ مستقبل کی قانون سازی سے متعلق بھی رائے دے سکتی ہے،صدارتی ریفرنس آرٹیکل 186 کے تحت قابل سماعت ہے،

    جے یو آئی پاکستان نے صدارتی ریفرنس کی مخالفت کردی،جے یو آئی پاکستان نے اپنے تحریری معروضات سپریم کورٹ میں جمع کرا دیئے،جے یو آئی نے موقف اپنایا کہ صدارتی ریفرنس ناقابل سماعت ہے،صدارتی ریفرنس پارلیمنٹ کو بے توقیر کرنے کے مترادف ہے،

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ قومی اسمبلی کے انتخابات خفیہ ہی ہو سکتے ہیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ عدالت نے فیصلہ کرنا ہے سوال قانونی یا عوام مفاد کا ہے یا نہیں؟ اٹارنی جرنل نے کہا کہ سپریم کورٹ مستقبل کی قانون سازی سے متعلق بھی رائے دے سکتی ہے،سپریم کورٹ صدر کی جانب سے بھیجے گئے ریفرنس پر رائے دینے کی پابند ہے،اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے تحریری معروضات جمع کرا دیں

    اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ پہلے ریفرنس کے قابل سماعت ہونے پر دلائل دوں گا،صدارتی ریفرنس آرٹیکل 226 کے اسکوپ سے متعلق ہے،بھٹو ریفرنس کے علاوہ عدالت تمام ریفرنسز پر فیصلہ دے چکی ہے

    ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ سندھ حکومت کا جواب جمع کرنا چاہتے ہیں، چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ کیا سندھ حکومت کا جواب میٹھا ہو گا؟ چیف جسٹس گلزار احمد کے سوال پر عدالت میں قہقے گونج اٹھے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالتی حکم پر اخبارات میں اشتہارات دیئے تھے،

    جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ کیا کوئی آزاد حیثیت میں سینیٹ الیکشن لڑ سکتا ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ آزاد حیثیت میں امیدواروں کے سینیٹ الیکشن لڑنے پر پابندی نہیں،عدالت نے کہا کہ عدالت نے فیصلہ کرنا ہے کہ سوال قانونی یا عوامی مفاد کا ہے یا نہیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ماضی میں بھی قوانین پر سپریم کورٹ سے رائے لی گئی ہے،کئی بار قانون سازی سے قبل صدر نے عدالتوں سے رائے لی،عدالت ماضی میں بھی صدارتی ریفرنسز قابل سماعت قرار دے چکی ہے، بنگلہ دیش کو تسلیم کرنے کے معاملے پر بھی صدارتی ریفرنس آیا تھا، عدالت نے کہا تھا کہ پارلیمنٹ بنگلہ دیش کو تسلیم کرنے یا مسترد کرنے کی قرار داد منظور کر سکتی ہے،

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ جہاں جہاں آئین کے مطابق انتخابات کروانے کا کہا گیا وہاں طریقہ کار بھی وضع کیا گیا،آئین سینیٹ انتخابات کی بات تو کرتا ہے لیکن اسکا کوئی طریقہ کار وضع نہیں کیا گیا آرٹیکل 226 میں انتخابات آئین کے تحت کروانے کا کہا گیا ہے،

    حکومت کی جانب سے دائرصدارتی ریفرنس میں موقف اپنایا گیا کہ سینیٹ انتخابات آ ئین کے تحت نہیں کرائے جاتے، سینیٹ کا انتخاب الیکشن ایکٹ 2017 کے تحت کرایا جاتا ہے،سینیٹ کا الیکشن اوپن بیلٹ کے تحت ہو سکتا ہے، اوپن بیلٹ سے سینیٹ الیکشن میں شفافیت آ ئے گی،

    حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں مزید کہا گیا کہ خفیہ ووٹنگ کی وجہ سے سینیٹ الیکشن کے بعد شفافیت پر سوال اٹھائے جاتے ہیں

    قبل ازیں سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانے کے حوالے سے بڑی پیشرفت سامنے آئی ہے ، صدر مملکت عارف علوی نے معاملے پر سپریم کورٹ کی رائے حاصل کرنے کیلئے صدارتی ریفرنس پر دستخط کر دیئے ہیں

    ایوان صدر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ کے ذریعےکرانے کیلئے آئین کے آرٹیکل 186 کے تحت ریفرنس سپریم کورٹ بھجوانے کی وزیرِاعظم کی تجویزکی منظوری دے دی ہے۔

    وفاقی کابینہ سے مشاورت کے ساتھ ہی سینیٹ انتخابات شوآف ہینڈسےکرانے کا فیصلہ ہوگیا

    ریفرنس میں آئین میں ترمیم کے بغیر الیکشن ایکٹ 2017ء کے سیکشن (6) 122 میں ترمیم کرنے پر سپریم کورٹ کی رائے مانگی گئی ہے۔وفاقی کابینہ اس معاملے پر 15 دسمبر کو سپریم کورٹ سے رائے لینے کی منظوری دے چکی ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت ہارس ٹریڈنگ کے خاتمے اور انتخابات میں شفافیت کے لئے ایوان بالا کے آئندہ الیکشن اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانے کی خواہاں ہے۔

    پی ڈی ایم لاہور جلسے کو کامیاب بنانے کیلئے مریم نواز نے کس کو طلب کر لیا؟

    مردوں سے دوقدم آگے بڑھ کریہ کام کرنا ہے، مریم نواز نے خواتین رہنماؤں کو دیئے مشورے

    سب سن لیں،مریم پارٹی کو لیڈ کررہی ہیں،رانا ثناء اللہ، نواز شریف کو بھی دیا مشورہ

    عمران خان اور انکے ساتھی جو الفاظ استعمال کررہے ہیں وہ کشیدگی بڑھا رہی ہے ،قمر زمان کائرہ

    لاہور جلسہ سے قبل پی ڈی ایم کو سرپرائز دینگے ، فردوس عاشق اعوان

    پی ڈی ایم کی تحریک کامیابی کی جانب بڑھنا شروع،حکومتی حلقوں میں تہلکہ

    مریم نواز نے گھر چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا

    استعفے لینے والوں کو دینے پڑ گئے، پی ڈی ایم سے پہلا استعفیٰ آ گیا،رکن اسمبلی مستعفی

    لاہور جلسہ سے قبل پی ڈی ایم کا سربراہی اجلاس اسلام آباد میں طلب،اہم فیصلے متوقع

    سیاسی جلسے جلسوں پر پابندی،عدالت نے کس کو کیا طلب؟

    مریم نواز نکلیں گی، ہم ہر صورت یہ کام کریں گے، مریم اورنگزیب کا چیلنج

    13 دسمبر کو ہر ہاتھ میں جھنڈا اورہر جھنڈے میں ڈنڈا ہوگا، قمر زمان کائرہ

    شاہدرہ جلسے میں حملہ کیسے ہوا اور کس نے کیا؟ مریم نواز نے خود بتا دیا

    استعفے منظور کرنے ہیں یا نہیں؟ پرویز الہیٰ نے بڑا فیصلہ کر لیا

    پی ڈی ایم کو بڑا دھچکا،حکومت نے ایسا کام کر دیا کہ پی ڈی ایم کی ساری امیدوں پر پانی پھر گیا

    نیب کی کارروائیاں ناقابل برداشت ہوتی جا رہی ہیں،اپوزیشن سینیٹ میں پھٹ پڑی

    سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانے کا معاملہ،رضا ربانی بھی عدالت پہنچ گئے

  • غیر ملکی اثاثوں کے خلاف تحقیقات ترک کرنے پرنواز شریف کی براڈ شیٹ کو رشوت کی پیشکش

    غیر ملکی اثاثوں کے خلاف تحقیقات ترک کرنے پرنواز شریف کی براڈ شیٹ کو رشوت کی پیشکش

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق براڈشیٹ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) کا وی موساوی نے کہا ہے کہ نواز شریف نے اپنے غیر ملکی اثاثوں کے خلاف تحقیقات ترک کرنے پر براڈشیٹ کو رشوت کی پیش کش کی تھی۔

    ایک ویب ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ براڈشیٹ نے ایک شخص جس نے نواز شریف کا بھتیجا ہونے کا دعویٰ کیا تھا کی طرف سے پیش کش کو یہ کہہ کر مسترد کردیا کہ براڈ شیٹ مجرموں سے بات چیت نہیں کرتا ہے۔ شریف خاندان کے نہ صرف برطانیہ بلکہ پوری دنیا میں اثاثے ہیں، شریف خاندان کو ان اثاثوں کے ذرائع کے بارے میں بہت ساری وضاحتیں دینے کی ضرورت ہے۔

    خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق انہوں نے کہا کہ احتساب کا عمل جاری تھا لیکن مشرف حکومت کے بعد نئی حکومت نے معلومات تک رسائی نہ دینے اور براڈشیٹ کے ساتھ معاہدے ختم کرکے اس عمل میں رکاوٹ پیدا کرنا شروع کردی۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے نواز شریف کی طرف سے اس دعویٰ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا کہ براڈشیٹ نے شریف خاندان کو الزامات سے بری کردیا ۔ یہ مکمل جھوٹ ہے کہ براڈشیٹ نے شریف فیملی کو الزامات سے بری کردیا۔

    انہوں نے کہا کہ براڈشیٹ نے ایوین فیلڈ اپارٹمنٹس خریدنے کے ذرائع کی تحقیقات نہیں کیں کیونکہ پاکستانی احتساب عدالت یہ پہلے ہی واضح کرچکی تھی کہ یہ اپارٹمنٹ شریف خاندان نے لوٹی ہوئی دولت سے خریدے تھے۔انہوں نے کہا کہ اگر پاکستانی حکومت نے کہا ہوتا تو براڈشیٹ ایوین فیلڈ اپارٹمنٹس خریدنے کے ذرائع ل کی چھان بین کے لئے تیار تھی ۔

    انہوں نے بتایا کہ براڈشیٹ سے معاہدہ ختم کرنے کے پیچھے نواز شریف کا ہاتھ تھا جو اس بات کی تحقیقات کر رہا تھا کہ کیسے پاکستان سے رقم لوٹی گئی ہے اوربیرون ملک مقیم چھپائی گئی ۔انہوں نے کہا کہ جنرل مشرف نے براڈشیٹ کو 200 افراد کے اثاثوں کا پتہ لگانے کا کام سونپا تھا لیکن ان کی حکومت کے بعد نیب نے کچھ لوگوں کے نام اس فہرست سے نکالنے کے لئے کہا جس سے انکار کردیا گیا۔

  • نکیال سیکٹر میں بھارت فوج کی اشتعال انگیزی۔ پاک فوج کا بھرپورطریقے سے جواب

    نکیال سیکٹر میں بھارت فوج کی اشتعال انگیزی۔ پاک فوج کا بھرپورطریقے سے جواب

    آزاد کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے قریبی علاقوں میں بھارت فوج کی طرف سے بلا اشتعال فائرنگ کا سلسلہ تھم نہیں رہا۔ رات بھرنکیال سیکٹر کے سرحدی دیہاتوں پر بھارتی فائرنگ و گولہ باری کا سلسلہ جاری رہا جس سے علاقے میں خوف و ہراس میں اضافہ ہورہا ہے۔ مقامی افراد کی نقل مکانی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ دریں اثنا بھارتی فائرنگ کے جواب میں پاکستانی حکام کی طرف سے بھر پور کارروائی کی گئی جس کے بعد بھارتی اشتعال انگیزی کا سلسلہ وقتی طور پر رک گیا۔

  • اشتہاری ملزموں کی تقاریر نشر کرنے پر پابندی کیخلاف درخواست،عدالت نے کیا حکم دے دیا؟

    اشتہاری ملزموں کی تقاریر نشر کرنے پر پابندی کیخلاف درخواست،عدالت نے کیا حکم دے دیا؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ نے اشتہاری ملزموں کی تقاریر نشر کرنے پر پابندی عائد کرنے کیخلاف درخواست پر سماعت 20 جنوری تک ملتوی کردی ،

    اشتہاری ملزموں کی تقاریر نشر کرنے پر پابندی عائد کرنے کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہرمن اللہ نے درخواست پر سماعت کی،وفاق کی جانب سے ڈپٹی اٹارنی جنرل طیب شاہ عدالت میں پیش ہوئے۔

    معاون وکیل نے عدالت میں کہا کہ سلمان اکرم راجہ سپریم کورٹ میں مصروف ہیں،کیس کو ملتوی کیا جائے ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس کیس میں بہت ہی تاخیر ہوئی ہے مزید تاخیر کی ضرورت نہیں ،

    نواز شریف کے قریبی دوست میاں منشا کی کمپنی کو نوازنے پر نیب کی تحقیقات کا آغاز

    نواز شریف سے جیل میں نیب نے کتنے گھنٹے تحقیقات کی؟

    نواز شریف کی بیماری کا علاج جیل میں نہیں ہو سکتا، ڈاکٹر کا انکشاف

    شہباز شریف اور مریم پہنچے کوٹ لکھپت، شہباز شریف کی گاڑی کی ٹکر سے کارکن ہوا زخمی

    کرونا کے باوجود ، باؤ جی ، لندن میں علاج کرواتے ہوئے

    نواز شریف کی تقریر کا مفہوم ہے کہ وہ سیاستدانوں کے نہیں فوج کے خلاف ہیں،چودھری شجاعت برس پڑے

    پی ڈی ایم جلسہ سے قبل ن لیگی کارکنان کو "ہراساں” کیا جانے لگا

    کس مفرور کا انٹرویو ائیر کروانا چاہتے ہیں؟ ریلیف نہیں دے سکتے، عدالت

    معاون وکیل نے عدالت سے استدعا کرتے ہوئے کہا کہ موکل سے ہدایات لینے کیلئے وقت دیاجائے، ہوسکتا ہے یہ درخواست واپس لے کر ایک نئی درخواست دائرکریں،عدالت نے کیس کی سماعت 20 جنوری تک کیلئے ملتوی کردی

  • بجلی کا بریک ڈاون، ن لیگ نے وفاقی وزراء کے استعفیٰ کے مطالبہ کر دیا

    بجلی کا بریک ڈاون، ن لیگ نے وفاقی وزراء کے استعفیٰ کے مطالبہ کر دیا

    بجلی کا بریک ڈاون، ن لیگ نے وفاقی وزراء کے استعفیٰ کے مطالبہ کر دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ملک میں بجلی کے بریک ڈاون کا معاملہ،‏وفاقی وزرا کے استعفوں کے مطالبے کی پنجاب اسمبلی میں قرارداد جمع کروا دی گئی

    قرارداد مسلم لیگ (ن) کی رکن سمیرا کومل نے جمع کرائی،قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ بریک ڈاؤن کی تحقیقات کیلئے کمیشن قائم کیا جائے، ‏تحقیقاتی کمیشن میں وزیر بجلی و پانی، متعلقہ افسران کو طلب کیا جائے، تحقیقاتی کمیشن ایک ہفتے میں رپورٹ پبلک کرے،

    قرارداد کے متن میں مزید کہا گیا ہے کہ تحقیقات ہونے تک عمر ایوب، فیصل واوڈا فوری مستعفی ہوں،

    دوسری جانب بریک ڈاون کے 2 روز بعد بھی بجلی کا ترسیلی نظام معمول پر نہ آسکا،ملک میں اکثر شہروں میں بجلی کی آنکھ مچولی جاری ہے،راولپنڈی صدر، راجہ بازار، گنجمنڈی، صادق آباد کے علاقں میں بجلی وقفے وقفے سے غائب ہے،راولپنڈی میں کمرشل مارکیٹ، ڈھوک حسو، پیرودائی، اقر ملحقہ علاقں میں بجلی غائب ہے،سرگودھا، ساہیوال، گجرخان، سوہاوہ، جہلم، سمیت پنجاب کے اکثر علاقں مین بجلی کی متواتر سپلائی معطل ہے

    لیسکو کے 320 سے زائد فیڈرز سے بجلی بند ہے،لاہور کے مختلف علاقوں میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ جاری، گلشن راوی، سمن آباد، راج گڑھ، مغلپورہ، مزنگ شامل ہیں،‏عابد مارکیٹ، شادباغ اور بادامی باغ کے علاقوں میں بھی لوڈشیڈنگ جاری ہے شاہدرہ، کریم پارک، بیگم کوٹ، بلال گنج کے علاقے بھی لوڈشیڈنگ سے متاثر ہیں

    شیرانوالہ، بھاٹی گیٹ، شاہ عالم مارکیٹ میں بھی لوڈشیڈنگ جاری ہے،‏گرین ٹاؤن، بھٹہ چوک، آر اے بازار، گلستان پارک، ڈی ایچ اے میں بجلی ہے،نشاط کالونی، قلعہ گجر سنگھ، گڑھی شاہو، دھرم پورہ میں بھی بجلی غائب ہے ،صدر، گلبرگ، علامہ اقبال ٹاؤن کے علاقے بجلی سے محروم ہیں لیسکو کو بلاتعطل بجلی فراہمی کیلئے 2200 میگاواٹ کی ضرورت ہے

    ملک بھرمیں بجلی کی بندش کا سبب بننے والے افسروں کونوکریوں سے فارغ کردیا گیا ،اطلاعات کے مطابق حکام کی طرف سے کہا گیا ہے کہ وہ افسران جن کی وجہ سے ملک بھرمیں بجلی کی بندش ہوئی ہے ان کونوکریوں سے فارغ کردیا گیا ہے

    سینٹرل پاورجنریشن کمپنی کی طرف سے ان افسران کی لسٹ بھی جاری کردی گئی حکام کی طرف سے کہا جارہا ہے کہ ان افسران میں محمد سہیل احمد ایڈنشنل پلانٹ مینجر،دیدارعلی چنا جونیئر انجنیئر ، علی حسن گولو فورمین ،ایاز حسین داہڑ،سعید احمد،سراج احمد میمن اورمحمد الیاس کو برطرف کیا گیا ہے

  • نیویارک،دبئی،لندن اورکہاں کہاں محلات ہیں : وزیراعظم نے سچ بتادیا

    نیویارک،دبئی،لندن اورکہاں کہاں محلات ہیں : وزیراعظم نے سچ بتادیا

    اسلام آباد: نیویارک،دبئی،لندن اورکہاں کہاں محلات ہیں : وزیراعظم نے سچ بتادیا،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اپوزیشن کو این آر او دے دوں تو زندگی آسان ہو جائے گی لیکن مافیا کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیک سکتے، مخالفین چوری بچانے کے لیے ایک ہوئے، عوام نے پی ڈی ایم کا ساتھ نہیں دیا۔

    وزیراعظم عمران خان کا سوشل میڈیا پر ایکٹو شخصیات سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ نواز شریف، خواجہ آصف اور احسن اقبال نے منی لانڈرنگ کے لیے اقامے لیے، مل ملا کر لوٹ مار کرنے والوں نے ملک تباہ کردیا۔ اس طرح پہلے پاکستان چل رہا تھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ جب وزیراعظم اور وزرا منی لانڈرنگ کریں گے تو باقی لوگوں کو کیسے چوری سے روکیں گے؟ ان سب کے نیویارک، دبئی اور لندن میں بڑے بڑے محلات ہیں۔ ہم مافیا کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیک سکتے۔ کہتے ہیں الیکشن کو نہیں مانتے لیکن آج تک کوئی ثبوت نہیں دیا۔

    عمران خان نے کہا کہ چھوٹا سا طبقہ جب سارے وسائل لوٹ لے تو قوم نہیں بن سکتی۔ کرپٹ حکومت ہو تو ملک میں غربت بڑھتی ہے۔ سابقہ دونوں حکومتیں مل کر پاکستان میں چوری کر رہی تھیں۔ پہلے ان دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے کو این آر او دیا ہوا تھا۔ آدھا ٹیکس ان کے لیے ہوئے قرضوں کی قسطوں میں چلا جاتا ہے

    انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی اندرون سندھ سے ووٹ لے کر آتی ہے، کراچی کی پرواہ نہیں کرتی۔ بلوچستان میں سرداروں کا نظام ہے، وہاں کے سردار طاقتور اور امیر جبکہ عوام غریب ہو گئے۔ ہماری حکومت بلوچستان کی ترقی پر بھرپور توجہ دے رہی ہے۔ بلوچستان میں فنڈز سرداروں کو ملتے تھے۔ ماضی کی حکومتوں نے بلوچستان پر توجہ نہیں دی۔

    سانحہ مچھ اور پاکستان میں دہشتگردی کی کارروائیوں پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ افغان جہاد کے بعد گروپس بنے، جنہوں نے پاکستان کو بہت نقصان پہنچایا۔ اب یہ فرقہ ورانہ گروپ داعش میں شامل ہو چکے ہیں۔ سانحہ مچھ کی ذمہ داری داعش نے قبول کی ہے۔ داعش کو بھارت سپورٹ کر رہا ہے۔ مارچ میں ہمارے پاس معلومات تھیں کہ بھارت شعیہ اور سنی علما کو قتل کرکے فساد کرانا چاہتا ہے۔ ہماری ایجنسیز نے بھارت کے متعدد منصوبوں کو ناکام بنایا۔

    ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان میں 35 سال دونوں پارٹیاں اقتدار میں رہیں۔’’سٹیٹس کو‘‘ کی بہت پاور ہوتی ہے، ہر جگہ ان کا کنکشن ہوتا ہے۔ انقلاب کا مطلب ’’سٹیٹس کو‘‘ کی تبدیلی ہے۔ پاکستان میں خونی نہیں، بیلٹ کے ذریعے انقلاب آیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف تو بھاگ گیا لیکن اندر تک ان کے لوگ بیٹھے ہوئے ہیں۔ مہاتیر محمد کے جانے کے بعد نجیب نواز شریف کی طرح آگیا جس نے کرپشن شروع کر دی۔ ڈھائی سال بعد ملایشیا کی’’سٹیٹس کو‘‘ نے مہاتی رمحمد کی حکومت کو گرا دیا تھا۔ ’’سٹیٹس کو‘‘ پہلے دن سے مجھے گرانے میں لگی ہے۔ اسے پتا ہے کہ حکومت نے پانچ سال پورے کر لیے تو ان کی دکانیں بند ہو جائیں گی۔

  • مفتاح اسماعیل صاحب!تمہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا :اہم ادارے کا پیغام

    مفتاح اسماعیل صاحب!تمہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا :اہم ادارے کا پیغام

    اسلام آباد:مفتاح اسماعیل صاحب!تمہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا :اہم ادارے کا پیغام:اطلاعات کے مطابق نوازشریف کے یارخاص سابق وزیرخزانہ مفتاح اسمعیل کی طرف سے بڑے بڑے جھوٹوں کے بعد پاورڈویژن نے بہت بڑی بات کردی ہے ،

    ادارے کی طرف سے کہا گیا ہے کہ سچ بولنا چاہیے لیکن مفتاح‌اسمعیل پتا نہیں کس کے حکم پرجان بوجھ کرجھوٹ بول رہے ہیں اورحقائق بدل بدل کرپیش کررہے ہیں، پاور ڈویژن کے ترجمان نے سرکلر قرضوں سے متعلق سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کے دعوؤں کی قلعی کھول دی۔

    ذرائع کے مطابق ترجمان پاور ڈویژن نے کہا ہے کہ جولائی 2019 سے جنوری 2020 تک 7 ماہ میں سرکلر قرضہ 12 سے 14 ارب ماہانہ بڑھا ہے، سرکلر قرضہ بڑھنے کی رفتار 39 ارب ماہانہ سے کم ہو کر 14 ارب تک لائی گئی۔

    ترجمان نے بتایا کہ وزیر اعظم کے احکامات پر جنوری تا اپریل 2020 ٹیرف ایڈجسٹمنٹ مؤخر کی گئی، مہنگائی کے باعث اس عرصے کے دوران فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ بھی مؤخر رہی، کرونا کے باعث مارچ 2020 سے 3 ماہ کے لیے بلز بھی مؤخر رکھے گئے۔

    انھوں نے بتایا مجموعی طور پر اس ریلیف سے سرکلر قرضے پر 320 ارب روپے کا اضافہ ہوا، ریلیف اور دیگر وجوہ سے سرکلر قرضوں کا حجم 538 ارب روپے بڑھا، تاہم کرونا سے بحالی کے بعد جولائی 2020 سے قرضے 14 فی صد ماہانہ کم ہونا شروع ہوئے۔ترجمان کا کہنا تھا کاروباری سرگرمیاں بڑھنے سے سرکلر قرضے بڑھنے کی رفتار میں تبدیلی آئی ہے۔

    واضح رہے کہ مفتاح اسماعیل نے کہا تھا کہ بجلی کی قیمت بڑھنے کے باوجود سرکلر ڈیٹ 2400 ارب روپے ہے، عمران خان نے اتنا قرض لے لیا جو نواز شریف نے 3 حکومتوں میں نہیں لیا، بجلی کی قیمت بڑھی ہے، اگلے ماہ بھی بڑھے گی، 6 روپے کے بجائے 16 روپے فی یونٹ کی بجلی بنائی جا رہی ہے۔

  • سابق صدرآصف علی زرداری کی طبعیت سخت ناساز، دل کی تکلیف

    سابق صدرآصف علی زرداری کی طبعیت سخت ناساز، دل کی تکلیف

    کراچی: سابق صدرآصف علی زرداری کی طبعیت سخت ناساز، دل کی تکلیف،اطلاعات کے مطابق پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف زردارکی طبیعت ناساز ہوگئی، آصف زرداری دل کی تکلیف میں مبتلا ہیں،طبی معائنے کیلئے ڈاکٹرز کی ٹیم بلاول ہاؤس پہنچ گئی۔

    تفصیلات کے مطابق سابق صدر آصف زرداری کی طبیعت ایک بار پھر ناساز ہوگئی ہے، آصف زرداری دل کے عارضے میں مبتلا ہیں۔ دل کی تکلیف کے باعث ان کی طبیعت ناساز ہوئی ہے، ڈاکٹرز کی ٹیم بلاول ہاؤس میں ان کا میڈیکل چیک اپ کررہی ہے۔

    ڈاکٹروں کی ٹیم کے ہمراہ ایمبولینس بھی بلاول ہاؤس آئی ہے۔ اس سے قبل چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے آصف زرداری اور چیئرمین پی پی بلاول بھٹو سے رابطہ کیا تھا، جس میں انہوں نے آصف زرداری کی طبیعت بارے دریافت کیا تھا،

    یاد رہے پی ڈی ایم کی تحریک کے دوران بھی آصف زرداری کی طبعیت خراب رہی، لیکن اس کے باوجود بھی وہ سیاسی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، اس سے قبل 11اکتوبر کو بھی جب پی ڈی ایم کی تحریک کا آغاز ہوا اس دوران بھی سابق صدر آصف علی زرداری کی طبیعت ناساز ہوگئی تھی، آصف زرداری ہسپتال میں بھی زیرعلاج رہے

  • الحمدللہ :ملک بھر میں بجلی کا ترسیلی نظام بحال کردیا گیا:ترجمان

    الحمدللہ :ملک بھر میں بجلی کا ترسیلی نظام بحال کردیا گیا:ترجمان

    اسلام آباد :الحمدللہ :ملک بھر میں بجلی کا ترسیلی نظام بحال کردیا گیا:ترجمان ،اطلاعات کے مطابق نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی کے ترجمان نے کہا ہے کہ ملک بھر میں بجلی کا ترسیلی نظام بحال کردیا گیا ہے، تمام 500 کےوی اور220 کےوی گرڈ اسٹیشنز اور ٹرانسمیشن لائنز سے بجلی کی سپلائی جاری ہے، گڈو پاور پلانٹ سے ڈیرہ غازی خان، مظفر گڑھ اور رحیم یار خان کو بھی بجلی کی سپلائی شروع ہوگئی ہے۔

    انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ملک بھر میں این ٹی ڈی سی کا ترسیلی نظام بحال ہوگیا ہے۔ تمام500 کےوی اور220 کےوی گرڈ اسٹیشنز اور ٹرانسمیشن لائنز سے بجلی کی سپلائی جاری ہے۔ گڈو پاورپلانٹ سے ڈیرہ غازی خان، مظفر گڑھ اور رحیم یار خان کو بھی بجلی کی سپلائی جاری ہے۔ ترجمان نے کہا کہ منیجنگ ڈائریکٹر نے بجلی بریک ڈاؤن کے حقائق جاننے کیلئے تحقیقات کا بھی حکم دیا ہے۔

    اسی طرح اسلام آباد، جہلم، گجرات، سرگودھا، سیالکوٹ، فیصل آباد، گوجرانوالہ، لاہور، شیخوپورہ، اوکاڑہ، ساہیوال اور ملتان کے علاقوں میں بجلی بحال ہو گئی ہے۔واضح رہے گزشتہ روز رات ملک بھر میں بجلی کا بریک ڈاؤن ہوا، جس پر مختلف چہ مگوئیاں اور قیاس آرائیاں بھی کی گئیں۔ جبکہ بجلی کے بریک ڈاؤن کے باعث موبائل سروس بھی متاثر رہیں۔ ملک کے بیشتر علاقوں میں موبائل فون سروس بھی بند رہیں، مختلف شہروں میں کالز اور انٹرنیٹ ڈیٹا سروس محدود ہوگئی تھیں۔

    موبائل فون ٹاورز کو بجلی کی عدم فراہمی سے سروس متاثر ہوئی ،کمپنیوں کے ٹاورز کو متبادل توانائی کی فراہمی کا نظام بھی غیر فعال رہا ، بعض علاقوں میں کمپنیوں کے ٹاورز کو چلانے والے جنریٹرز بھی بند کردیئے ، عوام کو سگنلز کی کمی یا بندش سے مواصلاتی رابطوں میں مشکلات کا سامنا کر نا پڑا ۔ جب صبح ہوئی تو لوگوں کو پانی کی قلت اور دوسرے مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑا۔

  • برساتی نالہ ڈیک سے بھارتی ساختہ اینٹی ٹینک مائن برآمد

    برساتی نالہ ڈیک سے بھارتی ساختہ اینٹی ٹینک مائن برآمد

    نارووال کے قریب نالہ ڈیک سے بھارتی ساختہ 18 پونڈ وزنی اینٹی ٹینک مائن برآمد ہوا ہے۔ علاقے کے رہائشی افراد کا کہنا ہے کہ اینٹی ٹینک مائن نالے میں بہتا ہوابھارت کی طرف سے پاکستان آیا جو گاوں پنڈی دیونی کے قریب برساتی نالہ سے ملا۔ ڈسٹرکٹ سول ڈیفنس بم ڈسپوزل سکواڈ نارووال نے اینٹی ٹینک مائن کو ناکارہ بنا دیا۔