Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • عمران خان واقعی اسلام دشمن ثابت ہورہا ؟ ہزارہ یونیورسٹی میں ہونے والے اقدامات نے حقیقت بتادی

    عمران خان واقعی اسلام دشمن ثابت ہورہا ؟ ہزارہ یونیورسٹی میں ہونے والے اقدامات نے حقیقت بتادی

    ایبٹ آباد:عمران خان واقعی اسلام دشمن ثابت ہورہا ؟ ہزارہ یونیورسٹی میں ہونے والے اقدامات نے حقیقت بتادی،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے اقدامات نے حقیقت اختیارکرنا شروع کردی ہے

    ادھر ذرائع کے مطابق کے پی کی تحریک انصاف کی حکومت کی طرف سے تعلیمی اداروں‌میں اسلامی طرززندگی اختیارکرنے کے احکامات بھی حقیقت میں بدلنے لگے ہیں ، انہیں اقدامات کے نتیجے میں ہزارہ یونیورسٹی میں طالبات کے بناؤ سنگھار پر پابندی عائد کر دی گئی۔ ڈریس کوڈ کو لازمی قرار دیا گیا

    ہزارہ یونیورسٹی کے اکیڈمک کونسل کا اجلاس ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ ہزارہ یونیورسٹی میں طلبہ اور طالبات کےلئے اخلاق ملبوسات لازمی قرار دیا گیا۔جامعہ کے اعلامیہ کے مطابق جامعہ کے اندر طالبات میک اپ اور جیولری کے استعمال پر پابندی لگادی گئی طلباو طالبات یونیورسٹی میں شرٹ اور فٹ جینز بھی پہن کر نہیں آسکتے۔

    میل سٹوڈنٹس کا لمبے بال اورفینسی ڈیزائن کی داڑھی رکھنے پر بھی پابندی ہو گی۔ یونیورسٹی سٹاف بھی ٹائٹ جینز اور جیولری ڈیوٹی کے دوران نہیں پہن سکتے۔تمام طلبہ یونیورسٹی کے اندر ضابطہ اخلاق کا خیال رکھیں بصورت دیگر کارروائی ہوگی۔

  • لداخ میں ایک بارپھرکشیدگی: بھارتی فوج کا چینی فوجی کو گرفتار کرنے کا دعویٰ

    لداخ میں ایک بارپھرکشیدگی: بھارتی فوج کا چینی فوجی کو گرفتار کرنے کا دعویٰ

    نئی دہلی :لداخ میں ایک بارپھرکشیدگی: بھارتی فوج کا چینی فوجی کو گرفتار کرنے کا دعویٰ،اطلاعات کے مطابق بھارت نے مغربی ہمالیہ میں متنازع سرحد کے پاس سے ایک چینی فوجی کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق بھارتی فورسز نے کہا کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) کی خلاف ورزی پر چینی فوجی کو گرفتار کرلیا گیا۔اس حوالے سے بتایا گیا کہ جون میں لداخ کی وادی گلوان میں بھارتی اور چینی فورسز کے مابین مسلح جھڑپ میں 20 بھارتی اور متعدد چینی فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔

    بھارت کی جانب سے جون کے بعد سے اب تک یہ دوسرے چینی فوجی کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔بھارت فوج نے ایک بیان میں کہا کہ پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) کے سپاہی کو لائن آف ایکچول کنٹرول کے بھارتی حصے پر ‘پکڑا’ گیا۔

    چین کی فوج کے زیر انتظام پیپلز لبریشن آرمی ڈیلی نے کہا کہ یہ سپاہی ‘اندھیرے اور پیچیدہ خطے’ میں لاپتہ ہوگیا تھا اور اصرار کیا کہ بھارت کو اس کی اطلاع دی گئی ہے۔

    فوجی اخبار نے مزید کہا کہ بھارت کو دونوں ممالک کے مابین متعلقہ معاہدوں کی سختی سے پابندی کرنی چاہیے اور لاپتہ فرد کو فوری طور پر چین کے حوالے کرے تاکہ چین اور بھارت کی سرحدی صورتحال میں تیزی مزید بہتری آئے۔اکتوبر 2020 میں ایک اور چینی فوجی کو اسی علاقے میں بھارتی فورسز نے مختصر دورانیہ کے لیے پکڑا تھا۔

    واضح رہے کہ اگست 2020 میں بھارت نے چین کی جانب سے ایل اے سی پر 17 ہزار فوجیوں کے جواب میں ٹینک ریجمنٹس سمیت فوج کی بھاری نفری تعینات کردی تھی۔اس سے قبل متنازع خطے میں ہونے والی جھڑپ میں 20 بھارتی فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔

    لداخ کی وادی گلوان میں 15 جون کو لڑائی کے دوران کوئی گولی نہیں چلائی گئی اور بھارتی فوجیوں کو پتھروں سے مارا گیا تھا لیکن اس کے باوجود یہ ایشیا کی مسلح جوہری طاقتوں کے مابین دہائیوں میں بدترین تصادم تھا۔

    مئی سے اب تک جوہری طاقت کے حامل ملکوں کے درمیان جاری تناؤ میں ہزاروں فوجی دستے آمنے سامنے آ چکے ہیں جس پر ماہرین نے انتباہ جاری کیا تھا کہ کسی بھی قسم کی محاذ آرائی خطے میں ایک بڑے بحران کو جنم دے سکتی ہے۔

  • فوج مخالف بیانات دینے والوں کوجوابدہ ہونا پڑے گا:عمران خان

    فوج مخالف بیانات دینے والوں کوجوابدہ ہونا پڑے گا:عمران خان

    کوئٹہ:فوج مخالف بیانات دینے والے تمام لوگوں کوریاست کے سامنے جوابدہ ہونا پڑے گا:اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ یقین رکھیں! فوج مخالف بیانات دینے والے تمام لوگوں کا علاج ہوگا، مفتی کفایت اللہ کو ہر صورت پکڑیں گے، یہ فوج سے کہتے ہیں ایک منتخب جمہوری حکومت کا تختہ الٹ دیں، اپنی کرپشن بچانے کیلئے اداروں پر دباؤ بڑھایا جارہا ہے۔

    عمران خان نےکوئٹہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ پہلی تحریک ہے جو کرپشن کے حق میں عوام کو سڑکوں پر لانا چاہتی ہے، یہ پہلی اسمبلی ہے جو ڈیزل کے بغیر چل رہی ہے، حکومتیں بدلتی رہیں لیکن مولانا فضل الرحمان ہر حکومت کے ساتھ رہے۔

    وزیراعظم نے صحافیوں سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ یقین رکھیں فوج مخالف بیانات دینے والے سب لوگوں کا علاج ہوگا۔پہلی مرتبہ جمہوری دور حکومت میں اداروں کو بدنام کیا جارہا ہے، اداروں پر سیاسی بیان بازی اور حملے کرنے والوں کو نہیں چھوڑا جائے گا۔

    مشرف پر تنقید کرتے لیکن پوری فوج پر کیوں تنقید کررہے، مشرف ان دونوں جماعتوں سے بہتر تھا۔ نوازشریف باہر بیٹھ کر فوج میں بغاوت کرانا چاہتا ہے، یہ جنرل باجوہ کو کہتے ہیں حکومت کو گرا دو، اگر جنرل باجوہ حکومت نہیں گراتے تو فوج جنرل باجوہ کو گرا دے،یہ فوج سے کہتے ہیں ایک منتخب جمہوری حکومت کا تختہ الٹ دیں۔

    وزیراعظم نے کہا کہ عام آدمی کی مشکلات سے آگاہ ہوں۔ گھر پر مشکل وقت آئے تو سب گھر والے مشکل سے گزرتے ہیں۔ ن لیگ اور پیپلزپارٹی ملکی معیشت کو دیوالیہ کرکے گئے۔ لیکن ہم نے دو برسوں میں پچھلی حکومتوں کا لیا گیا قرضہ 20 ارب ڈالر واپس کیا۔

    وزیراعظم نے کوئٹہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ان کو ایک ہی خوف ہے کہ یہ حکومت پانچ سال پورے کرگئی تو ان کا کھیل ختم ہوجائے گا۔ کیونکہ خیبر پختونخوا میں ہم نے 5 برس مکمل کیے تو سب کی چھٹی ہوگئی۔ اس لیے ان کو پتا ہے کہ ہم نے 5 سال مکمل کیے تو ان کی سیاست ختم ہوجائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایک ایسا منصوبہ لا رہا ہوں کہ ملک میں کوئی بھوکا نہیں سوئے گا۔ ایسا منصوبہ لا رہے ہیں کہ دنیا کے کئی ملک ہمیں فالو کریں گے۔

  • سانحہ مچھ’’فساد پھیلانے والے 35، 40 لوگ ہیں، ہمیں سب معلوم ہے‘‘بڑے خطرناک عزائم تھے :وزیراعظم

    سانحہ مچھ’’فساد پھیلانے والے 35، 40 لوگ ہیں، ہمیں سب معلوم ہے‘‘بڑے خطرناک عزائم تھے :وزیراعظم

    کوئٹہ: سانحہ مچھ’’فساد پھیلانے والے 35، 40 لوگ ہیں، ہمیں سب معلوم ہے‘‘بڑے خطرناک عزائم تھے :وزیراعظم کی کوئٹہ میں گفتگو:اطلاعات کے مطابق کوئٹہ دورے کے دوران مچھ سانحہ کے لواحقین سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے یقین دہانی کرائی ہے کہ جو وعدے کیے گئے حکومت انہیں پورا کرے گی۔

    ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے سانحہ مچھ کے شہدا کے لواحقین سے ملاقات کی، متاثرہ گھرانوں نے بلوچستان آمد اور داد رسی کرنے پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔لواحقین نے بتایا کہ سانحہ مچھ کوئی پہلا واقع نہیں بلکہ اس سے قبل بھی برادری کے ساتھ واقعات ہوچکے ہیں۔

    وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ’ پورا ایک سال ہم نےکوشش کی آپ لوگوں کوتحفظ دیں، ہم آپ کولکھ کردیں گے جو وعدے کیے پورے کریں گے،ماضی میں بھی ہزارہ برادری کے پاس آیا تھا اب دوبارہ آیا ہوں’ْ

    اُن کا کہنا تھا کہ ’ہزارہ برادری کےتمام مسائل سمجھتاہوں،ماضی میں ایک کالعدم تنظیم کانام لیا تو انہوں نےمجھے دھمکیاں دیں، انٹیلی جنس ایجنسیوں نے آگاہ کیا تھا بھارت پاکستان میں انتشار چاہتاہے،پاکستان میں فرقہ وارانہ فسادات ہوسکتے ہیں‘۔

    ’ مجھے بریفنگ دی گئی کہ شیعہ اور سنی علمائےکرام کونشانہ بنایاجائے گا، کراچی میں ایک سنی عالم کو شہیدکیا گیا، جس کے بعد سیکیورٹی ایجنسیز نے بہترین کام کرکے اس سازش کو ناکام بنادیا، اس سازش کا مقصد شیعہ سنی کو لڑانا تھا، ہم نےمل کر ایس سازش کو ہمیشہ ناکام بناناہے‘۔

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’ 35،40لوگ دہشت گردی کررہےہیں، یہ لوگ پہلے لشکرجھنگوی تھے اب داعش میں چلےگئے ہیں، ہمیں فساد پھیلانے کی کوشش کرنے والوں کا علم ہے، جلد اُن کے گرد گھیرا تنگ کیا جائے گا‘۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’ ہزارہ برادری کویقین دہانی کراتے ہیں آپ کو تحفظ فراہم کیاجائے گا، ایک سیکیورٹی گروپ بنارہےہیں جو ہزارہ برادری کی سیکیورٹی دیکھےگا‘۔

    عمران خان نے اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’جب وزیراعظم نہیں تھا تو ہزارہ برادری سےملنےآیا تھا، میں نے اسی لیےکہاکہ پہلے تدفین کردیں پھر میں آؤں گا کیونکہ اگر کل کو کوئی اور وزیراعظم ہوگا تو آنے کا اصول بن جائے گا، مشکور ہوں کہ شہداکی تدفین کردی گئی‘۔

    وزیراعظم نے یقین دہانی کروائی کہ ’میں سیکیورٹی اداروں اور فورسز کے ساتھ رابطے بھی تھا اور صورت حال پر گہری نظر تھی، ہزارہ برادری کویقین دہانی کراتاہوں کہ ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہیں، ہزارہ برادری سےجوبھی وعدےکیے وہ پورےکریں گے،

    پاکستان ہی نہیں دنیا میں مسلمانوں کو متحدکرنےکی کوشش کررہا ہوں کیونکہ ہمیں علم ہے کہ مسلمانوں کو تقسیم کر کے دنیا پر کون حکمرانی کررہا ہے، پاکستانی قوم کو بھی تقسیم کر کے مقاصد حاصل کیے جارہے ہیں، میرا ایک ہی مقصد ہے کہ اپنی قوم کو متحدکروں، ہم متحدہوں گے تو مسائل نہیں ہوں گے اور ایسےواقعات کامقابلہ کرسکیں گے

  • فضاوں میں ہوائی جہازغائب ہونے لگے:انڈونیشیا کا مسافرطیارہ بھی لاپتہ:دنیا پرخوف طاری

    فضاوں میں ہوائی جہازغائب ہونے لگے:انڈونیشیا کا مسافرطیارہ بھی لاپتہ:دنیا پرخوف طاری

    جکارتہ :فضاوں میں ہوائی جہازغائب ہونے لگے:انڈونیشیا کا مسافرطیارہ بھی لاپتہ،اطلاعات کے مطابق اس وقت ایک عجیب کیفیت طاری ہے کہ اب فضاوں میں دنیا کے مسافر طیارے لاپتہ ہونے لگے ، اس سلسلے کا تازہ واقعہ آج انڈونیشیا میں پیش آیا

     

     

    ذرائع کے مطابق انڈونیشیا میں نجی ایئرلائن کے طیارے کا دارالحکومت جکارتہ سے اڑان بھرنے کے کچھ دیر بعد رابطہ منقطع ہوگیا۔

     

     

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ‘رائٹرز’ کے مطابق مقامی میڈیا نے کہا کہ جہاز میں 50 سے زائد افراد سوار تھے اور وہ مغربی کلیمنتان صوبے کے شہر پونٹیانَک جارہا تھا۔

     

    قابل اعتماد ٹریکنگ سروس ‘فلائٹ ریڈار 24’ نے ٹوئٹر پر کہا کہ ‘سری وِجایا ایئر کی پرواز ‘ایس جے 182’ کی بلندی میں جکارتہ سے اڑان بھرنے کے بعد تقریباً 4 منٹ بعد ایک منٹ سے بھی کم وقت میں 10 ہزار فٹ کی کمی آئی۔

    ٹریکنگ ڈیٹا میں موجود رجسٹریشن تفصیلات کے مطابق لاپتہ ہونے والا بوئنگ 500-737 جہاز 27 سال پُرانا تھا۔انڈونیشین ایئرلائن سری وِجایا ایئر نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ اپنے بیان سے قبل طیارے سے متعلق اب بھی تفصیلی معلومات جمع کر رہی ہے

     

    یاد رہے کہ اس سے پہلے ملائیشیا کا ہوائی جہازبھی لاپتہ ہوا تھا

  • چھ پاکستانی نوجوان غلطی سے سرحد پار کر کے بھارتی علاقے میں چلے گئے

    چھ پاکستانی نوجوان غلطی سے سرحد پار کر کے بھارتی علاقے میں چلے گئے

    بھارت کی بارڈرسیکیورٹی فورس (بی ایس ایف)نے جمعہ کی شام کو غلطی سے سرحدعبور کرنے والے جن 6 پاکستانی نوجوانوں کو گرفتارکیا تھا ہفتہ کو رات دیر گئےانہیں واہگہ بارڈر کے راستے پاکستان رینجرز کے حکام کے حوالے کردیا۔ ان تمام پاکستانی شہریوں کا تعلق صوبہ خیبر پختون خواہ کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان سے ہےاور یہ لاہورکے قریب بارڈرایریا میں محنت مزدوری کرتے ہیں۔ بی ایس ایف نے جمعہ کے روز لاہوراورامرتسرسے تقریبا ڈھائی کلومیٹر دور بھارتی بارڈر کے بالکل ساتھ واقع گاوں پلموراں سے جن 6 پاکستانی نوجوانوں کو گرفتارکیاتھا ان کی عمریں 20 سے 25 سال کے درمیان ہیں۔ ان کے نام محمدآصف ولد عاشق حسین، عمرفاروق ولد حاجی محمد ایوب، محمدعارف ولد ساجد خان، محمد ارسلان ولد محمد بلال، راجہ عباس ولد غلام شبیر اورشوکت ولدیاسین بتائے گئے ہیں۔بھارتی حکام نے ان نوجوانوں کے قبضے سے دو اسمارٹ فونز، تین فیچر فونز، 9 فون سمیں، تین میموری کارڈ، ایک ہیڈ فون، تین بٹوے اور چھ بجلی کے بل برآمد کرنے کا دعوی کیا تھا۔ تاہم ان کے قبضہ سے کوئی مشکوک چیزبرآمد نہیں ہوئی۔ ہفتہ کے روز ان نوجوان کی واپسی کے حوالے سے پاکستان اورانڈیا کی سرحدی فورسز کے مابین فلیگ میٹنگ بھی ہوئی۔ بی ایس ایف نے جمعہ کے روزان نوجوانوں کی گرفتاری سے متعلق پاکستانی حکام کو آگاہ کیا تھا، جس کے بعد ان کی شناخت کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ ان دنوں سردی اوردھندکی وجہ سے پاکستان اورانڈیاکوتقسیم کرنیوالے زیرولائن کو دیکھنا مشکل ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے اس علاقے سے متعلق معلومات نہ رکھنے والے دونوں طرف کے افراد غلطی سے ایک دوسرے ملک کے علاقے میں داخل ہوجاتے ہیں۔ بعض شہریوں کو بھارت کی طرف سے لگائے گئے لوہے کے جنگلے کی وجہ سے بھی زیرولائن کا دھوکا ہوجاتا ہے۔ عام شہری اس جنگلے کو سرحد سمجھتے ہیں جبکہ جنگلا انڈیا نے کئی میٹراندراپنی حدود میں لگایا ہے۔

  • آپ کس کوخوش کرنے کے لیے قوم کوجھوٹی خبریں پہنچا رہے ہیں :وزیراعظم توایسی چیزوں کوپہلے ہی پسند نہیں کرتے

    آپ کس کوخوش کرنے کے لیے قوم کوجھوٹی خبریں پہنچا رہے ہیں :وزیراعظم توایسی چیزوں کوپہلے ہی پسند نہیں کرتے

    کوئٹہ :آپ کس کوخوش کرنے کے لیے قوم کوجھوٹی خبریں پہنچا رہے ہیں :وزیراعظم توایسی چیزوں کوپہلے ہی پسند نہیں کرتے،اطلاعات کے مطابق معاون خصوصی سیاسی امور ڈاکٹر شہباز گل نے کہا ہے کہ وزیراعظم کو کوئٹہ میں پولیس دستے کی سلامی کی خبر درست نہیں، سلامی دینے کی خبر درست نہیں، خبر دینے والے نمائندے کے خلاف ایکشن لیا جائے،

    اطلاعات کے مطابق معاون خصوصی سیاسی امور ڈاکٹر شہباز گل کہتے ہیں کہ ہرکسی کوعلم ہے کہ وزیراعظم انتہائی سادہ انسان ہیں وہ تو وزیراعظم عام دنوں میں بھی ایسی چیزیں پسند نہیں کرتے اب تو لواحقین کو ملنے گئے ہیں۔ انہوں نے وزیراعظم کو سلامی دینے کی خبر پر ردعمل دیتے ہوئے ٹویٹر پر خبر شیئر کی اور کہا کہ یہ خبر غلط ہے۔

    اطلاعات کے مطابق معاون خصوصی سیاسی امور ڈاکٹر شہباز گل نے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا کہ خدا را سچ بولیں ، ان کا کہنا تھا کہ حیرانی ہوتی ہے کہ پتہ نہیں یہ چینلز کس کوخوش کرنے کے لیے جھوٹی خبریں پھیلارہے ہیں ، اگرہم آپ کا کچھ نہیں‌ کرسکتے توایک ذات ہے جوجھوٹ اورفریب کو بے نقاب بھی کرتی ہے اورسخت سزا بھی دیتی ہے ،

    ڈاکٹرشہبازگل کہتے ہیں‌ کہ چینلز جیو نیوز سے گزارش ہے کہ اپنے لوکل نمائندے کے خلاف ایکشن لیں، جس نے یہ غلط خبر فائل کی۔ پولیس کے دستے کی سلامی کی خبر جھوٹ پر مبنی ہے۔ وزیراعظم عام دنوں میں بھی ایسی چیزیں پسند نہیں کرتے اب تو لواحقین کو ملنے گئے ہوئے ہیں۔ براہ مہربانی جائز رپورٹنگ کی جائے۔

    واضح رہے وزیراعظم عمران خان آج سانحہ مچ کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیلئے کوئٹہ پہنچے ہیں، وزیراعظم کے ہمراہ وفاقی وزراء بھی ہیں، وزیراعلیٰ بلوچستان نے وزیراعظم کا استقبال کیا، وزیراعظم عمران خان کی زیرصدات کوئٹہ میں وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں امن اوامان کی صورتحال کے حوالے سے اجلاس ہوا، اجلاس کے بعد وزیراعظم نے سانحہ مچ کے لواحقین سے ملاقات کی اور اظہار تعزیت کیا۔

  • نعوذباللہ : ن لیگی رہنما احسن اقبال نے پھرپیغمبردوجہاں حضرت محمد ﷺ  کے نام مبارک کی توہین کردی

    نعوذباللہ : ن لیگی رہنما احسن اقبال نے پھرپیغمبردوجہاں حضرت محمد ﷺ کے نام مبارک کی توہین کردی

    لاہور:نعوذباللہ : ن لیگی رہنما احسن اقبال نے پھرپیغمبردوجہاں حضرت محمد ﷺ کے نام مبارک کی توہین کردی ،اطلاعات کے مطابق ن لیگ کے مرکزی رہنما احسن اقبال نے پیغمبردوجہاں حضرت محمد ﷺ کے نام کی پھرتوہین کرکے مسلمانوں کے جذبات کومجروح کیا ہے ، ادھر دوسری طرف عوامی غیض وغضب میں بہت اضافہ ہوگیا ہے اوراطلاعات یہ ہیں کہ احسن اقبال کے خلاف توہین رسالت کا مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ زورپکڑگیا ہے

     

     

    ادھر اس حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ دو دن قبل بنوں میں پی ڈی ایم کے جلسے میں احسن اقبال یہ گستاخیاں کرتے رہے ، یہ بھی کہا جارہا ہےکہ احسن اقبال نے کئی بارپیغمبردوجہاں کا مقدس نام مبارک بیگاڑ کے ساتھ پیش کرتے رہے

    اپنی گفتگو میں احسن اقبال عمران خان کو”جھوٹوں کا پیغمبر” کہہ کرتوہین کرتے رہے

    یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی احسن اقبال گستاخی کرچکے ہیں جس پرنارووال کے ایک نوجوان نے احسن اقبال پرحملہ بھی کردیا تھا

    احسن اقبال نے قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ "کوئی اللہ اوررسول کا ٹھیکیدار نہیں ،یہاں کوئی رسول ﷺ کی فرنچائز نہیں ، جس پرایک نوجوان نے احسن اقبال پرحملہ بھی کردیا تھا
    دوسری طرف احسن اقبال کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے

  • وزیراعظم کوئٹہ پہنچ گئے ، ساتھ کون سے وفاقی وزیر ؟

    وزیراعظم کوئٹہ پہنچ گئے ، ساتھ کون سے وفاقی وزیر ؟

    وزیراعظم کوئٹہ پہنچ گئے ، ساتھ کون سے وفاقی وزیر ؟

    باغی ٹی وی : وزیراعظم عمران خان سانحہ مچھ کے لواحقین سے تعزیت کرنے کے لئے کوئٹہ پہنچ گئے۔ شیخ رشید بھی وزیراعظم کے ہمراہ ہیں۔ عمران خان سانحہ کے بعد اٹھائے گئے اقدامات کے متعلق بھی آگاہ کریں گے۔

    دوسری جانب سانحہ مچھ میں جاں بحق افراد کے ورثا کے حکومت سے مذاکرات کامیاب ہونے پردھرنا ختم ہوگیا۔ شہدا کمیٹی کے رہنماؤں نے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی مذہب، مسلک یا زبان کے خلاف احتجاج نہیں کیا، شہیدوں کے لواحقین کے مطالبے پر دھرنا دیا۔

    وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے شہدا کمیٹی اور لواحقین کے دھرنا ختم کرنے کے اعلان پر شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیشہ کوشش رہی کہ ہزارہ برادری سے تعاون کریں۔

    وفاقی وزیرعلی زیدی کا کہنا ہے کہ ماضی میں حکومتیں وعدے کر کے چلی جاتی تھیں، پہلی بار ہزارہ برادری کے ساتھ حکومت نے تحریری معاہدہ کیا، واقعے کی تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی بنا دی۔

    شہدا کے لواحقین کی اپیل پر ملک کے مختلف شہروں میں جاری دھرنے بھی ختم ہوگئے۔دوسری جانب سانحہ مچھ میں جاں بحق افراد کے ورثا کے حکومت سے مذاکرات کامیاب ہونے پردھرنا ختم ہوگیا۔ شہدا کمیٹی کے رہنماؤں نے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی مذہب، مسلک یا زبان کے خلاف احتجاج نہیں کیا، شہیدوں کے لواحقین کے مطالبے پر دھرنا دیا۔

    وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے شہدا کمیٹی اور لواحقین کے دھرنا ختم کرنے کے اعلان پر شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیشہ کوشش رہی کہ ہزارہ برادری سے تعاون کریں۔

    وفاقی وزیرعلی زیدی کا کہنا ہے کہ ماضی میں حکومتیں وعدے کر کے چلی جاتی تھیں، پہلی بار ہزارہ برادری کے ساتھ حکومت نے تحریری معاہدہ کیا، واقعے کی تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی بنا دی۔

    شہدا کے لواحقین کی اپیل پر ملک کے مختلف شہروں میں جاری دھرنے بھی ختم ہوگئے۔

  • سانحہ مچھ کے شہدا کی  تدفین کر دی گئی ، کون کون سی بڑی شخصیات شامل ہوئیں

    سانحہ مچھ کے شہدا کی تدفین کر دی گئی ، کون کون سی بڑی شخصیات شامل ہوئیں

    سانحہ مچھ کے شہدا کی تدفین کر دی گئی ، کون کون سی بڑی شخصیات شامل ہوئیں

    باغی ٹی وی : سانحہ مچھ کے شہدا کی کوئٹہ کے ہزارہ ٹاؤن قبرستان میں تدفین کر دی گئی۔ نماز جنازہ میں وفاقی، صوبائی وزرا، ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی اور لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

    وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان، وفاقی وزیر علی زیدی، ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری اور وزیراعظم کے معاون خصوصی ذلفی بخاری نے دھرنے کے شرکا سے ایک بار پھر مذاکرات کیے جس کے بعد لواحقین نے حکومتی ٹیم کیساتھ تحریری معاہدہ کر کے 6 روز بعد دھرنا ختم کر دیا۔

    اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علی زیدی نے کہا کہ جو مطالبات ہمارے سامنے رکھے گئے وہ مشکل تھے، تاہم جن افسران کو ہٹانا تھا ان کا فیصلہ ہوچکا، شہدا ایکشن کمیٹی سے ہمارا تحریری معاہدہ ہوچکا، کبھی کسی حکومت نے ماضی میں تحریری معاہدہ نہیں کیا تھا، ہم ملکر کام کرینگے تو مسائل حل ہو جائیں گے۔

    انہوں نے کہا جے آئی ٹی کا اعلان ہو گیا ہے، ایک اعلیٰ سطح کا کمیشن بنے گا۔ وزیر داخلہ بلوچستان ضیا اللہ اس کی سربراہی کریں گے، پولیس افسر سمیت دو اعلیٰ افسر اس کے ممبر ہونگے اور شہدا کمیٹی سے بھی 2 ممبران لئے جائیں گے۔ وفاقی اور صوبائی حکومت کے سکیورٹی ادارے مل کر حکمت عملی بنائیں گے ، ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مانیٹرنگ ضروری ہے، سکیورٹی کو فول پروف بنایا جائے گا، اسی طرح نادرا، پاسپورٹ آفس، امیگریشن کے حکام پر مشتمل کمیٹی بنائی گئی ہے۔

    علی زیدی نے کہا کہ شہدا کے ورثا کو بلوچستان حکومت ملازمت دے گی، شہدا کے لواحقین میں سے طالب علموں کو سکالرشپس دی جائیں گی، شہدا کا خون رائیگاں نہیں جائے گا، قوم کو ان دہشتگردوں سے بچانا ہے، بلوچستان کی زمین اور سمندر میں اتنی طاقت ہے کہ ہمارے معاشی مسائل ختم کرسکتا ہے لیکن بلوچستان کے لوگ بیڈ گورننس کی وجہ سے پیچھے رہ گئے ، اب سب ٹھیک کرینگے۔