Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • بہاولپور: مولانا،مریم توپہنچ گئے مگرکارکن نہ‌آئے

    بہاولپور: مولانا،مریم توپہنچ گئے مگرکارکن نہ‌آئے

    بہاولپور: بہاولپور: مولانا،مریم توپہنچ گئے مگرکارکن نہ‌آئے ،اطلاعات کے مطابق جنوبی پنجاب کے اہم ضلع بہاولپور میں پی ڈی ایم کی جانب سے عوامی طاقت کا بھرپور مظاہرہ کیا جانا تھا تاہم کارکنان جمع نہ ہونےپر اب ریلی تاخیر کا شکار ہوگئی ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ ریلی میں عوام اور کارکنان کی عدم شرکت پر ن لیگی میزبان اور مرکزی قائدین نےسرجوڑ لئے ہیں، لوگوں کی عدم شرکت کے باعث ریلی نکلنے میں مزید دو سےتین گھنٹے لگ سکتے ہیں۔

    دوسری جانب صدر مسلم لیگ (ن) پنجاب رانا ثنااللہ نے کارکنان جمع نہ ہونے پر مدعا ضلعی انتظامیہ پر ڈال دیا ہے، انہوں نے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت کنٹینرز لگا کر راستے روک رہی ہے، انتظامیہ سے گزارش ہے کہ کنٹینرز کو ہٹایا جائے۔لیگی صدر کا کہنا تھا کہ ہرلیڈر سےدس میں سے پانچ افراد کی شرکت کی درخواست کی گئی ہے، حکومت کی غلامی میں انتظامیہ شہرکا امن خراب نہ کرے۔

    واضح رہے کہ گذشتہ روز بہاولپور کے ڈپٹی کمشنر نے مسلم لیگ ن کو ریلی کی اجازت دینے سے انکار کردیا تھا، مسلم لیگ ن کی مقامی قیادت نے بہاولپور ریلی کی اجازت کے حوالے سے درخواست دائر کی تھی اور استدعا کی تھی کہ انہیں پروگرام کی اجازت دی جائے۔

    ڈپٹی کمشنر بہاولپور نے ریلی کی اجازت دینے سے انکار کرتے ہوئے موقف اپنایا تھا کہ تھریٹ الرٹ کی وجہ سے مسلم لیگ ن کو ریلی نکالنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

  • خبردار:کورونا ویکسین لگوانے والی میکسیکن ڈاکٹر کو دورے پڑنے لگے

    خبردار:کورونا ویکسین لگوانے والی میکسیکن ڈاکٹر کو دورے پڑنے لگے

    الاسکا:خبردار:کورونا ویکسین لگوانے والی میکسیکن ڈاکٹر کو دورے پڑنے لگے،اطلاعات کے مطابق ویکسین لگوانے کے بعد میکسیکو کی خاتون ڈاکٹر کو دورے پڑنے، سانس لینے میں تکلیف اور جلد پر سرخ نشانات ظاہر ہونے لگے۔

    برطانوی نشریاتی خبررساں ادارے کے مطابق میکسیکو کی 32 سالہ خاتون ڈاکٹر نے کورونا ویکسین لگوائی جس کے بعد ان دورے پڑنے لگے، جب کہ انہیں سانس لینے میں تکلیف اور جلد پر سرخ نشانات ظاہر ہوگئے، جس کے بعد فوری بعد ہی انہیں شمالی ریاست نیوو لیون کے ایک سرکاری اسپتال کے انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں داخل کردیا گیا۔

    میکسیکن وزارت صحت کا کہنا ہے کہ ابتدائی تشخیص کے مطابق خاتون ڈاکٹر کو (اینسیفیلومائلائٹس) دماغ اور ریڑھ کی ہڈی کی سوزش ہے،

    متاثرہ ڈاکٹر الرجی کی مریضہ بھی ہیں، اور ابھی تک ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ ویکسینیشن کے بعد کسی اور شخص کے دماغ میں اس طرح کی سوزش پیدا ہوئی ہو، تاہم کیس کا جائزہ لے رہے ہیں کہ کورونا وائرس کی ویکسین کی خوراک لگانے کے بعد مریضہ کو اسپتال کیوں جانا پڑا۔

    واضح رہے کہ میکسیکو میں کورونا سے اب تک ایک لاکھ 26 ہزار 500 سے زائد افراد جاں بحق ہوچکے ہیں، جب کہ میکسیکو میں 24 دسمبر 2020 سے طبی عملے کو کورونا ویکسین لگانے کا پہلا مرحلہ شروع کیا گیا تھا۔

  • پاکستان کے خلاف دنیا بھرمیں مصروف بھارت کی پراکسی واربے نقاب؛مگرنوازشریف اورمولانا چپ کیوں؟ قوم کا سوال

    پاکستان کے خلاف دنیا بھرمیں مصروف بھارت کی پراکسی واربے نقاب؛مگرنوازشریف اورمولانا چپ کیوں؟ قوم کا سوال

    لاہور:پاکستان کے خلاف دنیا بھرمیں مصروف پراکسی واربے نقاب؛مگرنوازشریف اورمولانا چپ کیوں؟ قوم کا سوال ،اطلاعات کے مطابق چند دن پہلے جس طرح دنیا بھر میں پاکستان کے خلاف بھارتی سازشوں کا بھانڈہ پھوٹا ہے ، اس پر جہاں پاکستانی عوام غیض وغضب میں ہیں‌ وہاں دنیا کے دوسرے مہذب ممالک بھی بھارتی عزائم اوربھارتی پراپیگنڈے کی مذمت کررہے ہیں، لیکن پاکستان کی اپوزیشن جماعت ن لیگ کے سربراہ میاں نواز شریف ان کی صاحبزادی مریم نواز،مولانا فضل الرحمن ، محمود خاں اچکزئی ، علامہ ساجد میر اور ایسے ہی پی پی قیادت خاموش ہے

     

     

    پاکستانی یہ سوال کررہے ہیں کہ اتنا بڑا پاکستان پرحملہ پھران لیڈروں کی خاص کرمیاں نوازشریف اورمولنا فضل الرحمن کی خاموشی کا مطلب "دال میں کچھ کالا کالا ضرور ہے ”

    دنیا بار بار پاکستان کے خلاف اس پراکسی وار جسے ہائیبرڈ وار بھی کہا جاتا ہے بھارت کی مذمت کررہی ہے ، بڑے بڑے مفکرپاکستان کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں پربھارت کو جہاں کوس رہے ہیں وہاں وہ پاکستان کی اپوزیشن جماعتوں کی خاموشی پرخاموش نہ رہ سکے اوراسے گھرکے بھیدی سے تشبیہ دی ہے

     

     

    اب چلتے ہیں کہ یہ کھیل کیا تھا !

    یورپ کے ایک غیر سرکاری ادارے نے بھارت کی ایک ایسی مہم کا پردہ چاک کیا ہے، جو وہ پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کرنے کے لیے سالہا سال سے چلا رہا ہے۔

    ‘ای یو ڈس انفو لیب’ نامی ادارہ برسلز میں قائم ہے، جس کی تحقیقات نے ثابت کیا ہے کہ بھارت کا شری واستَو گروپ پاکستان کی ساکھ کو خراب کرنے کے لیے ایک باضابطہ مہم چلا رہا ہے اور اس مہم میں ایک بھارتی خبر رساں ادارے ایشیا نیوز انٹرنیشنل (اے این آئی) کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔

     

     

    ڈس انولیب کے تحقیقاتی ماہرین کا ماننا ہے کہ ان اداروں کا ہدف ہے ان ملکوں کو بدنام کرنا جو خطے میں بھارت کے مفادات کے خلاف ہیں، خاص طور پر پاکستان اور کسی حد تک چین۔ یہ مہم عالمی سطح پر بھارت کی ساکھ کو بہتر بنانے کا ہدف رکھتی ہے، تاکہ نئی دہلی یورپی یونین اور اقوام متحدہ جیسے بین الاقوامی اداروں کی زیادہ سے زیادہ حمایت حاصل کر سکے۔

     

     

    ڈس انفو لیب کے محققین کا ماننا ہے کہ یہ کام کم از کم 15 سال سے جاری ہے اور اس میں 750 سے زیادہ جعلی میڈیا ادارے شامل ہیں اور 119 ملکوں سے 550 سے زیادہ ویب سائٹس چلائی جا رہی ہیں جو بھارت کی حمایت اور پاکستان کی مخالفت کا تاثر پروان چڑھاتی ہیں۔

    این جی او کے مطابق ’’انڈین کرونیکل‘‘ نے یورپی یونین کے لیے نئی ویب سائٹ بنائی ہے، یورپی قانون سازوں اور صحافیوں کے جعلی اکاؤنٹس بنا کر ان سے جعلی مضامین شیئر کرائے جاتے ہیں۔

     

     

    بھارتی نیوز ایجنسی ’’اے این آئی‘‘ ان جعلی خبروں کو بھارت میں پھیلاتی ہے، بھارت میں بزنس ورلڈ میگزین اور دیگر ادارے انہیں شائع کرتے ہیں، اس سے بھارت اور یورپی یونین میں پاکستان مخالف بیانیہ پھیلایا جاتا ہے۔

    بھارتی ادارہ Srivastava اس کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ یہ تنظیم پاکستان اور چین کے خلاف منفی مواد کی تشہیر میں ملوث ہے، جعلی خبروں کے ذریعے مقبوضہ کشمیر میں بھارت مخالف مہم کو غلط رنگ دیا جاتا ہے۔

     

     

     

    رپورٹ میں محققین نے انکشاف کیا ہے کہ یورپی یونین کی نئی ویب سائٹ پر MEPsکےذریعے پاکستان کے خلاف مواد کی تشہیر EU Chronicle website بھارت کی بین الاقوامی اثر و رسوخ کی مہم میں نیااضافہ ہے ۔

     

     

    گو کہ ان ویب سائٹس کا بھارتی حکومت سے براہِ راست کوئی تعلق نظر نہیں آتا لیکن محققین کے مطابق ان سب کے تانے بانے نئی دہلی میں قائم شری واستو گروپ سے ملتے ہیں۔ انہوں نے برسلز، جنیوا اور دنیا بھر میں ایسے جعلی میڈیا ادارے بنائے ہیں جو نہ صرف جعلی خبریں بناتے ہیں بلکہ انہیں بھارت کی مشہور نیوز ایجنسی اے این آئی کے ذریعے پھیلا کر مین اسٹریم میڈیا اداروں تک بھی پہنچاتے ہیں۔ یوں ان کی جھوٹی خبروں کو توثیق ملتی ہے۔

    ان اداروں کا بنایا گیا زیادہ تر مواد پاکستان کے خلاف ہی ہوتا ہے، جو علاقے میں بھارت کے عزائم کے خلاف کھڑی ہونے والی واحد ریاست ہے۔

     

     

    ای یو ڈس انفو لیب نے گزشتہ سال اس مہم کے بارے میں اپنی ابتدائی تحقیقات جاری کی تھیں، لیکن اب انہیں "انڈین کرونیکلز” کے نام سے ایک جامع رپورٹ کی صورت میں پیش کیا گیا ہے۔ جس میں حیران کن انکشافات موجود ہیں جیسا کہ کس طرح اس مہم میں مختلف ناموں سے میڈیا ویب سائٹس بنائی گئیں اور یہ تاثر دیا گیا کہ ان کا تعلق اسی ملک سے ہے اور پھر اس کے ذریعے زہریلا پروپیگنڈا الٹا جاتا ہے۔

     

    جعلی ویب سائٹس کی اس طویل فہرست میں ایک نام ‘ای یو کرونیکل’ کا بھی ہے، جو پاکستان مخالف مواد شائع کرنے میں پیش پیش ہے اور بھارتی مفادات کے لیے لابنگ کر رہی ہے۔ ڈس انفو لیب کے مطابق یہ ویب سائٹ "جعلی میڈیا اور جعلی صحافیوں کے ساتھ یورپی امور کی خبروں کا احاطہ کرتی ہے، اور یورپی اراکین پارلیمنٹ کو بھارت کی حمایت میں تحاریر لکھنے کے لیے پلیٹ فارم دیتی ہے۔ اب تک اس پر یورپی پارلیمنٹ کے مختلف پارلیمانی گروپوں سے تعلق رکھنے والے 11 اراکین اپنی آراء کا اظہار کر چکے ہیں۔

     

     

    رپورٹ کے مطابق یہ جعلی ویب سائٹس اور ان کے سوشل میڈیا ہینڈلز پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی وڈیوز اور تحاریر کو بڑے پیمانے پر پھیلانے کا کام کرتے ہیں۔ ساتھ ہی یہ بھارت کے حوالے سے مثبت خبریں بھی پیش کرتے رہتے ہیں۔ تحقیقات نے ظاہر کیا ہے کہ ان ویب سائٹس پر کام کرنے والے عملے کے اراکین کے نام تک اصلی نہیں بلکہ چند تحاریر تو بغیر کسی نام کے لگائی جاتی ہیں۔ ان کی تمام تر کوششوں کا محور ایک ہی ہے، پاکستان کو ولن کے روپ میں اور بھارت کو بین الاقوامی اقدار کا محافظ بنا کر دکھایا جائے۔

     

     

    تحقیقات میں انہیں ‘زومبی سائٹس’ کا نام دیا گیا ہے، جو پاکستان کے خلاف مواد کی ترویج کرتی ہیں اور کئی ویب سائٹس کے نام تو موجودہ اداروں اور ختم ہو جانے والے پرانے خبری اداروں سے بھی ملتے جلتے ہیں تاکہ لوگوں کو نقل سے اصل کا دھوکا ہو۔

    ڈس انفو لیب نے اقوام متحدہ کی تسلیم شدہ شدہ این جی اوز کے ایک نیٹ ورک کا بھی پتہ چلایا ہے جو بھارت کے مفادات کی ترویج کرتا ہے اور پاکستان کو تنقید کا نشانہ بناتا ہے۔ ان میں سے کم از کم دس این جی اوز کا تعلق شری واستو گروپ سے ہے جبکہ کئی دوسری مشکوک این جی اوز بھی ہیں جو یہی راگ الاپتی رہتی ہیں۔

     

     

    ڈس انولیب کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے سب سے دلچسپ انکشاف امریکا میں قائم ایک این جی او ESOSOC کے حوالے سے ہے جو 1970ء کی دہائی ہی غیر متحرک ہو گئی تھی البتہ 2005ء میں وہ ایک مرتبہ پھر اچانک سامنے آ گئی۔

    اس خصوصی رپورٹ‌ کے مطابق اس انجمن کے سابق چیئرمین لوئس سوہن نے 2007ء میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کونسل کے ایک اجلاس میں "شرکت” بھی کی اور 2011ء میں واشنگٹن ڈی سی میں "فرینڈز آف گلگت بلتستان” کی جانب سے منعقدہ ایک تقریب میں بھی۔

     

     

    ڈس انفولیب کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سب تقاریب اور ان میں ہونے والی گفتگو کی خبریں محض ان ویب سائٹس پر ہی تھیں اور ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں تھا بلکہ لوئس سوہن تو 2006ء ہی میں انتقال کر گئے تھے۔

     

     

    پھر کچھ ایسے ادارے بھی ہیں جو اقوامِ متحدہ کی تسلیم شدہ این جی اوز کے ساتھ کام کرتے ہیں ان میں یورپین آرگنائزیشن فار پاکستانی مائنارٹیز، بلوچستان ہاؤس اور ساؤتھ ایشیا ڈیموکریٹک فورم بھی شامل ہیں، اور رپورٹ کے مطابق یہ شری واستو گروپ نے بنائے ہیں۔

     

    ایسی بہت سی اقوام متحدہ کی تسلیم شدہ این جی اوز دراصل پرانے اور ختم ہو جانے والے اداروں کی خاک سے ابھری ہیں۔ ڈس انفو لیب کے مطابق شری واستو گروپ نے اپنے ایجنڈے کو پھیلانے کے لیے ایسی انجمنوں کا ریکارڈ حاصل کیا اور اس کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنا یک نکاتی ایجنڈا پھیلایا کہ پاکستان کو بدنام کرنا ہے اور بھارت کے مفادات کو فروغ دینا ہے۔

    یعنی یہ پورا سیٹ اپ اقوام متحدہ اور یورپی یونین کو دھوکا دینے کے لیے کام کر رہا ہے اور میدانِ عمل میں شکست نہ دے پانے کے بعد ایسے اوچھے ہتھکنڈے آزما رہا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ گزشتہ روز امریکا نے مذہبی آزادی کے حوالے سے پاکستان کو تو ‘بلیک لسٹ ممالک’ کی فہرست میں شامل کیا ہے لیکن بھارت اپنے پچھلے چند سالوں کے بدترین ریکارڈ کے باوجود اس فہرست کا حصہ نہیں بن پایا۔

     

     

    پاکستان کے خلاف اس قدر وسیع جنگ اورپھراس کے بڑے بڑے ثبوتو‌ں کا سامنے آنے پرپوری قوم سخت غصے میں ہے اور وہ اتنے دن گزرنے کے باوجود میاں نوازشریف اورمولانا فضل الرحمن کی طرف بھارت کےخلاف اعلان جنگ کی توقع کررہے تھے مگران دونوں شخصیات نے بھارت کے خلاف اعلان جنگ کرنے کی بجائے پاکستانی عوام کومشکلات میں ڈالنے کا منصب سنبھال رکھا ہے

    دوسری طرف یوریین ممالک کے سنیئر تجزیہ نگاروں کا کہنا ہےکہ یہ ایسا معاملہ تھا کہ پوری پاکستانی قوم کواکٹھا ہونا چاہیے تھا مگرکچھاپوزیشن لیڈروں اورجماعتوں کا خاموش رہنا یہ ثآبت کرتا ہےکہ دال میں کچھ کالا کالا ضرور ہے جس کے نوازشریف اورمولانا فضل الرحمن کوطعنے دیئے جاتے ہیں‌

  • بھارت کی ریاستی دہشت گردی ،پاکستان نے اقوام متحدہ سے بڑا مطالبہ کردیا

    بھارت کی ریاستی دہشت گردی ،پاکستان نے اقوام متحدہ سے بڑا مطالبہ کردیا

    بھارت کی ریاستی دہشت گردی :پاکستان نے اقوام متحدہ سے بڑا مطالبہ کردیا

    پاکستان نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے ماورائے عدالت قتل عام،پھانسیوںاورانسانی حقوق کی پامالیوں کی تحقیقات کی جائیں،آسیہ اندرابی سمیت بھارتی جیلوں میںسیاسی قیدیوں اور انسانی حقوق رہنماؤں کو رہا کرائے جائے ۔

    بھارت کی ریاستی دہشت گردی :پاکستان نے اقوام متحدہ سے بڑا مطالبہ کردیا

    ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ آسیہ اندرابی سمیت دیگر رہنماؤں کی قید کا مقصد بذریعہ بربریت کشمیر پر قبضے کو طول دینا ہے،ہندوستان نے جان بوجھ کر مقدمے کی سماعت تیز کی، عدل پامال کیا، بھارت نے آسیہ اندرابی پر جھوٹے الزامات کے تحت مقدمہ قائم کر رکھا ہے،آسیہ اندرابی سمیت دیگر رہنماؤں کی قید کا مقصد بذریعہ بربریت کشمیر پر قبضے کو طول دینا ہے،

    دفتر خارجہ نے کہا کہ آسیہ اندرابی مسلسل 15 سال سے غیر قانونی اور غیر انسانی قید و بند کا شکار ہیں، تنظیم نے ہندوستانی قابض فورسز کے ہاتھوں جنسی تشدد اور بدسلوکی کے خلاف مہم شروع کی،آسیہ اندرابی 4 دہائیوں تک مقبوضہ کشمیر میں معاشرتی اصلاحات کیلئے سرگرم رہیں، جیل میں آسیہ اندرابی کی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہیں، اقوام متحدہ ماورائے عدالت قتل عام، پھانسیوں، انسانی حقوق پامالیوں کی تحقیقات کرے۔ دفتر خارجہ کے مطابق اقوام متحدہ سیکریٹری جنرل، ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق جنیوا سے رابطہ کیا گیا اورمطالبات کیے کہ اقوام متحدہ انسانی حقوق کمیشن کی سفارشات کی روشنی میں تحقیقات کی جائیں،

    اقوام متحدہ انسانی حقوق کمیشن کی 2رپورٹس کی روشنی میں تحقیقاتی کمیشن قائم کیا جائے،امقبوضہ کشمیر میں رائج تمام کالے قوانین ختم کیے جائیں،سیاسی قیدیوں اور انسانی حقوق رہنماؤں کو رہا کیا جائے۔پاکستان نے کہا کہ اقوام متحدہ تمام الزامات، جھوٹے مقدمات ختم کرنے میں کردار ادا کرے، بھارت، آسیہ اندرابی، ان کے شوہر، ساتھیوں کے خلاف تمام من گھڑت الزامات ختم کرے،بھارت کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں قید آسیہ اندرابی کو فوری رہا کیا جائے۔

    ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ بھارت مسلسل بین الاقوامی انسانی حقوق اور قانون کی دھجیاں بکھیر رہا ہےاورانڈیا، اقوام متحدہ چارٹر، سلامتی کونسل، جنرل اسمبلی قراردادوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ بھارت، کشمیری جدوجہد کو دہشت گردی کا رنگ دینے کی کوشش کر رہا ہے،یہ بھارتی طرز عمل بدنیتی پر مبنی، عدالتی قتل کے مترادف ہے۔

  • اسامہ قتل کیس کی تحقیقات کے لئے   جے آئی ٹی بنا دی گئی، سربراہ کون ہوں‌گے ، تفصیلات جاری

    اسامہ قتل کیس کی تحقیقات کے لئے جے آئی ٹی بنا دی گئی، سربراہ کون ہوں‌گے ، تفصیلات جاری

    اسامہ قتل کیس کی تحقیقات کے لئے جے آئی ٹی بنا دی گئی

    اسامہ قتل کیس کی تحقیقات کے لئے چیف کمشنر اسلام آٰباد نے جے آئی ٹی بنا دی۔ سینٹ کمیٹی نے بھی نوٹس لے لیا، چھ جنوری کو اجلاس طلب کرلیا گیا۔

    اسلام آباد میں پولیس گردی سے نوجوان جاں بحق، مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بن گئی۔ آئی ایس آئی، ایم آئی اور آئی بی کے نمائندے بھی شامل کئے گئے ہیں۔ چیف کمشنر کی جانب سے نوٹی فکیشن کے مطابق انسداد دہشتگردی ایکٹ کے سیکشن 19 کے تحت بنی جے آئی ٹی کے سربراہ ایس پی صدر سرفراز ورک ہوں گے۔ آئی ایس آئی، ایم آئی اور آئی بی کا ایک ایک نمائندہ، ڈی ایس پی رمنا، ڈی ایس پی انویسٹی گیشن اور ایس ایچ او رمنا بھی جے آئی ٹی میں شامل ہے۔

    دوسری طرف سینٹ کی انسانی حقوق کمیٹی نے بھی معاملہ کا نوٹس لے لیا، چیئرمین کمیٹی مصطفی نواز کھوکھر کا کہنا تھا کہ والدین اور پیارے کس اذیت سے گزررہے ہوں گے، اس درد کو بیان کرنا ممکن نہیں، ہتھیارکا استعمال آخری آپشن ہونا چاہیے۔

    ادھر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پولیس اہلکاروں کی فائرنگ سے نوجوان کے قتل کے معاملے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔اسامہ ندیم ستی کے والد نے تھانہ رمنا میں پولیس اہلکاروں کے خلاف درخواست دے دی ہے۔درخواست میں میں موقف اپنایا گیا کہ پولیس اہلکاروں سے میرے بیٹے کی تلخ کلامی اور جھگڑا ہوا تھا۔بیٹے نے ان پولیس اہلکاروں سے جھگڑے کا مجھ سے ذکر کیا تھا۔پولیس اہلکاروں نے بیٹے کو دھمکی دی تھی کہ تمہیں مزہ چکھائیں گے۔گزشتہ رات ان پولیس اہلکاروں نے بیٹے کی گاڑی کا پیچھا کیا۔پانچ پولیس اہلکاروں نے دہشت گردی اور درندگی کا مظاہرہ کر کے بیٹے کو مار دیا۔

    پولیس اہلکاروں کے نام مدثرمختار، شکیل احمد، سعیداحمد ،محمد مصطفیٰ اورافتخارا حمد ہیں۔انہوں نے کہا کہ مین شاہراہ پر میرے بیٹے کی گاڑی پر 17 گولیاں چلائی گئیں۔قتل کیس میں 5 پولیس اہلکاروں کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور مزید تحقیقات جاری ہیں۔ آئی جی اسلام آباد نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی آپریشنز کی زیرنگرانی ایس ایس پی سی ٹی ڈی کی سربراہی میں ایس پی صدر اور ایس پی انوسٹی گیشن پر مشتمل ٹیمیں تشکیل دے دی۔صدر آل پاکستان انجمن تاجران اجمل بلوچ نے کہا کہ اسامہ سیکٹر جی 13 کا رہائشی اور طالب علم تھا جس کے والد تاجر ہیں، وہ دہشتگرد نہیں تھا،

    اسلام آباد میں پولیس اہلکاروں کی فائرنگ سے نوجوان کے قتل کا معاملہ اور رخ اختیار کرگیا

  • پاک فوج نے بھارت کا ایک اور جاسوس ڈرون مار گرایا

    پاک فوج نے بھارت کا ایک اور جاسوس ڈرون مار گرایا

    راولپنڈی: پاک فوج نے بھارت کا ایک اور جاسوس ڈرون مار گرایاا،طلاعات کے مطابق آج پھر پاک فوج نے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر بھارت کا ایک اور جاسوس ڈرون مار گرایا۔ نئے سال 2021ء کے دو روز کے دوران دوران ازلی دشمن کے دو ڈرونز گرائے گئے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل بابر افتخار کی طرف سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری کردہ بیان کے مطابق پاک فوج نے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے چکوٹھی سیکٹر کے مقام پر بھارتی کواڈ کاپٹر مار گرایا۔

     

     

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی کواڈ کاپٹر لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پربھارتی کواڈ کاپٹر 500 میٹر پاکستانی حدود میں گھس آیا تھا۔

    میجر جنرل بابر افتخار کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق یکم جنوری 2021ء کو بھی بھارتی کواڈ کاپٹر مار گرایا گیا تھا، یہ بھارتی ڈرون پاک فوج نے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے مقام نوشہری پر مار گرایا تھا۔

    یاد رہے کہ 30 دسمبر 2020ء کو بھی پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق پاکستان نے بھارت کا ایک اور جاسوس ڈرون مار گرایا تھا۔بدھ کی رات آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ پاکستان نے ہاٹ سپرنگ سیکٹر میں انڈیا کے جاسوس ڈرون کو نشانہ بنایا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان نے سال 2020 کے دوران فضائی حدود کی خلاف ورزی پر انڈیا کے 16 ڈرونز مار گرائے۔بھارتی فوج نے کھوئی رٹہ سیکٹر میں جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستانی علاقے پر بلااشتعال فائرنگ کی تھی۔

    پاکستان کی بھرپور جوابی کارروائی کے نتیجے میں بھارت کو جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ بھارتی انڈین فوج کی فائرنگ سے پاکستان کے ایک سپاہی فضل الٰہی شہید ہو گئے تھے جبکہ پھالنی بازار میں ایک شہری شدید زخمی ہوگیا۔

  • ’’نواز شریف”کردار ہے ، پیسہ پھینک، تماشہ دیکھ‘‘:اہم شخصیت نے پول کھول دیا

    ’’نواز شریف”کردار ہے ، پیسہ پھینک، تماشہ دیکھ‘‘:اہم شخصیت نے پول کھول دیا

    اوکاڑہ: ’’نواز شریف”کردار ہے ، پیسہ پھینک، تماشہ دیکھ‘‘:اہم شخصیت نے پول کھول دیا ،اطلاعات کے مطابق پاکستان کی ایک اہم شخصیت نے نوازشریف کے اعلیٰ کردار کوتسلیم کرتے ہوئے کہا ہے نوازشریف اک نام ہے ، جس کو وہ جانتےہیں جو بہت قریب رہ چکے ہیں‌،

    نوازشریف کی اس خوبی کوسراہتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے رہنما حافظ حسین احمد کا کہنا ہے کہ نواز شریف صرف ایک کام جانتے ہیں پیسہ پھینک تماشہ دیکھ، ان کی ملی بھگت سے محمد علی درانی، شہباز شریف اور مولانا کو ملے۔

    ذرائع کے مطابق جے یو آئی رہنما حافظ حسین احمد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نوازشریف نے زرداری کو کنٹرول کرنے کے لیے مولانا کو پی ڈی ایم کا سربراہ بنایالیکن زرداری سب پر بھاری نکلے۔

    حافظ حسین احمد نے کہا کہ ضیا الحق کی برسی سے مسلم لیگ کی سیاست شروع ہوئی اور زرداری نے اسے بینظیر بھٹو کی برسی پر دفن کردیا، زرداری نے اپنا ویٹو کا حق پی ڈی ایم سے منوالیا۔

    انہوں نے کہا کہ لاہور اجلاس میں پی پی سی ای سی کے فیصلے تسلیم کرلیے گئے، پی ڈی ایم اجلاس میں استعفے ہوں یا سینیٹ الیکشن تمام فیصلے ویٹو ہوگئے، زرداری اور بلاول نے پی ڈی ایم کے تمام فیصلے ویٹو کردئیے۔جے یو آئی رہنما نے کہا کہ ہم نے اپنی جماعت میں کانٹ چھانٹ کا سلسلہ شروع کردیا ہے، اس کا پہلا نشانہ فضل الرحمان بن چکے ہیں اور بنتے رہیں گے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ دنوں حافظ حسین کا کہنا تھا کہ ماضی میں مولانا شیرانی کو مولانا فضل الرحمان کے مقابلے میں پارٹی سربراہ بنانے کی بات کرنے والے ساتھیوں کو خاموش کروایا گیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ جے یو آئی کو ن لیگ، پی پی جیسی نہج پر پہنچایا جا رہا تھا، میں نے اس کے خلاف آواز بلند کی، مولانا فضل الرحمان کو پیپلز پارٹی کی حقیقت آج معلوم ہوئی، کاش وہ ہماری بات مان لیتے تو اپنی پارٹی کو اتنا نقصان نہ پہنچتا۔

  • مولانا فضل الرحمان لاعلاج مرض میں مبتلا ہوگئے:اہم شخصیت کا دعویٰ

    مولانا فضل الرحمان لاعلاج مرض میں مبتلا ہوگئے:اہم شخصیت کا دعویٰ

    لاہور:مولانا فضل الرحمان لاعلاج مرض میں مبتلا ہوگئے:اہم شخصیت کا دعویٰ ،اطلاعات کے مطابق ، پنجاب کی ایک اہم شخصیت نے بڑا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن ایک خطرناک اورلاعلاج بیماری میں مبتلا ہوگئے ہیں

    اس حوالے سے وزیراعلیٰ پنجاب کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کہتی ہیں کہ مولانا فضل الرحمان کا مرض لاعلاج ہے۔انہوں نے اس لاعلاج مرض کے بارے میں بتایا کہ یہ لاعلاج مرض اقتدارکی خواہش کے لیے ہرغیرقانونی اورپاکستان دشمن اقدامات کی صورت میں سامنے آیا ہے ،

    اپنے بیان میں فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ پی ڈی ایم کی کشتی منجدھار میں ڈوب گئی، مریم نواز لیڈر بننا چاہتی ہیں تو جاتی عمرہ کے محل سے باہر نکلیں۔انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت قبضہ مافیا کوجڑسےاکھاڑپھینکنا چاہتی ہے،قبضہ مافیا کا قلع قمع کرنےمیں جلد کامیاب ہوجائیں گے۔

  • عمران خان زندہ باد: پبلک سروس کمیشن مافیا پکڑکراحسان کردیا

    عمران خان زندہ باد: پبلک سروس کمیشن مافیا پکڑکراحسان کردیا

    لاہور:عمران خان زندہ باد: سالوں سے مصروف پبلک سروس کمیشن مافیا پکڑاکرغریبوں پراحسان کردیا ،اطلاعات کے مطابق پنجاب پبلک سروس کمیشن کے پرچے لیک کرکے کروڑوں روپے کمانے والے بالآخرپکڑے ہی گئے جس کا بلا شبہ کریڈٹ عمران خان کو ہی جاتا ہے

    دوسری طرف لاہور سے ذرائع کے مطابق اس پرچے کے لیک کرنے والوں کوبالآخر پنجاب کی ہونہار اینٹی کرپشن ٹیم نے پکڑ کراس ملک کے غریبوں پراحسان کرہی دیا ہے ، ڈائریکٹر ویجلینس، اینٹی کرپشن پنجاب ،،عبدالسلام عارف نے خوشخری سناتے ہوئے کہا ہے کہ چار ملزمان کو پیپر لیک کرنے والے ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے

    ان کا کہنا ہے کہ ایک ملزم کا تعلق سول سیکرٹریٹ سے ہے،جبکہ ایک ملزم کا تعلق پی پی ایس سی ہے،عبدالسلام عارف نے کہا ہے کہ دو ملزم پرائیویٹ ہیں جبکہ ٹیم کے کپتان ڈی جی گوہر نفیس ہیں

    عبدالسلام عارف کہتے ہیں‌ کہ پنجاب پبلک سروس کمیشن بہت بڑا ادارہ ہے،سالوں سے میرٹ پر کام کر رہا تھا یہ ادارہ کچھ لوگوں کی وجہ سے یہ ادارہ بدنام ہو گیا تھا،ڈی جی کی اجازت کے بعد چار رکنی ٹیم تشکیل دی گئی

    ان کا کہنا تھا کہ 15 لاکھ ایک پیپر کا مانگ رہے تھے ،آٹھ لاکھ میں ڈیل تہہ پائی تھی،ملزمان اپنے نمبر بدل کر ہمیں کال کرتے رہے،ملزمان گرفتار کرنے سے پہلے موک پریکٹس کی پوری مکمل پلاننگ کی،ملزمان نے کافی امیدواروں کو خود پک کیا

    ذرائع کے مطابق یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ صبح چار بجے ملزمان نے امیدواروں کو کا لاہور سے پک کیا،پنجاب یونیورسٹی کے ہاسٹل سے باہر نکلے، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ لاہور نہر سے ملزمان کو گرفتار کیا

    ایک غضنفر نامی ملزم سول سیکرٹریٹ کا ملازم تھا،غضنفر ملزم نے بعد میں بیان دئیے جس سے فائدہ ہوا ،بعد میں پی پی ایس سی کا ملازم پکڑا،چئیرمین اور سیکرٹری پی پی ایس سی ساری بات کی ، عبدالسلام عارف نے کہا ہے کہ اس ملزم کے پاس سے آج تحصیل دار کے امتحان کے لئے پیپر نکلا

    ملزمان نے لیکچرار ڈپٹی اکاونٹس آفسر انسپکٹر اینٹی کرپشن اور مختلف امتحانات کے پیپر بیچے ہیں،ڈی او پی پی ایس سی پیپر اپنے پاس رکھ کر بیچتا تھا،ان کا کہنا تھا کہ یہ بڑا منظم گروہ تھا
    ملزم غضفر خود ہر امتحان میں داخل ہوتا ہے

    ڈائریکٹر ویجلینس، اینٹی کرپشن پنجاب ،،عبدالسلام عارف نے خوشخری سناتے ہوئے کہا ہے کہ اللہ تعالی کا شکر ہے بہت بڑی کامیابی ملی

  • خواجہ آصف اورنوازشریف کا اندازلوٹ مارایک :سوال گندم جواب چنا:عدالتیں حقائق پربات کرتی ہیں:زبان تراشیوں پرنہیں :شہزاداکبر

    خواجہ آصف اورنوازشریف کا اندازلوٹ مارایک :سوال گندم جواب چنا:عدالتیں حقائق پربات کرتی ہیں:زبان تراشیوں پرنہیں :شہزاداکبر

    اسلام آباد :خواجہ آصف اورنوازشریف کی ٹی ٹیاں :سوال گندم جواب چنا:عدالتیں حقائق پربات کرتی ہیں:زبان تراشیوں پرنہیں :شہزاداکبر نے خواجہ آصف کو”گالڑی ” قراردیا ، اطلاعات کے مطابق شہزاد اکبر نے اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ خواجہ آصف سے عدالت میں جوسوالات پوچھے جارہے ہیں وہ ان کا جواب دینے کی بجائے کہانیاں‌سنا رہے ہیں ، عدالتیں ایسی کہانیوں کونہیں بلکہ حقائق کو تسلیم کرتی ہیں‌

    شہزاد اکبر نے انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہے ان کا حال ایک طرف وزیردفاع تودوسری طرف دبئی میں 50ہزارار درہم ماہانہ تنخواہ لے رہے تھے

    مشیر داخلہ شہزاد اکبر کا کہنا ہے کہ خواجہ آصف نیب کو مطمئن نہیں کرسکے، 1993 میں اثاثے صرف 51 لاکھ روپے تھے، یو اے ای میں ماہانہ بائیس لاکھ روپے تنخواہ کا کوئی ثبوت نہیں دیا گیا، لیگی رہنما نے اپنے قائد کی طرح ٹی ٹی کا طریقہ اپنایا، وزارت جاتے ہی نوکری بھی چلی گئی۔

    وزیراعظم کے مشیر برائے داخلہ و احتساب بیرسٹر شہزاد اکبر نے معاون خصوصی برائے امور نوجوانان عثمان ڈار کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ خواجہ آصف سے پوچھا جائے تنخواہ کے اکاؤنٹ ٹرانسفر کی تفصیلات دیں تو کہتے ہیں وہ مجھے کیش دیتے تھے، پوری دنیا میں تنخواہ بذریعہ بینک اکاؤنٹ ملتی ہے، خواجہ آصف کے پاس کوئی پے سلپ نہیں، لیگی رہنما نے دبئی کے اکاؤنٹ سے پاکستان میں ٹی ٹی لگوائی۔

    شہزاد اکبر کاکہنا تھا خواجہ آصف کو یہ نوکری صرف اس وقت ملی جب وہ وزیر دفاع تھے، آج کل تو خواجہ آصف وزیر بھی نہیں، پی ڈی ایم بھی پھُس ہوگئی، آجکل دبئی کی نوکری کیوں نہیں کر رہے، خواجہ آصف کے کیس میں بھی کیلبری فونٹ والا سلسلہ نکل آیا، لیگی رہنما نے پلاٹ کی فروخت کا جو معاہدہ دکھایا اس میں استعمال ہونیوالے چیکس کی سیریل ایک ماہ بعد جاری ہوئی، سیالکوٹ میں گھر سے ملحقہ جو پلاٹ فروخت ظاہر کیا وہ آج بھی خواجہ آصف کے قبضےمیں ہے۔

    معاون خصوصی نے مزید کہا کہ نیب قوانین تحریک انصاف کی حکومت نے نہیں بنائے، نیب قوانین سابق حکمرانوں نے بنائے۔