Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • زلمے خلیل زاد کی آرمی چیف سے کی اہم ملاقات، اہم امورپرتبادلہ خیال

    زلمے خلیل زاد کی آرمی چیف سے کی اہم ملاقات، اہم امورپرتبادلہ خیال

    راولپنڈی: زلمے خلیل زاد کی آرمی چیف سے کی اہم ملاقات، اہم امورپرتبادلہ خیال،اطلاعات کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغانستان زلمے خلیل زاد نے ملاقات کی۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے زلمے خلیل نے ملاقات کی ، جی ایچ کیو میں ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ترجمان پاک فوج کے مطابق ملاقات میں علاقائی سیکیورٹی کی صورت حال بالخصوص افغان مفاہمتی عمل پر بات چیت ہوئی ،

    آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں دونوں جانب سے امن و استحکام کے فروغ کے لیے عزم کا اعادہ کیا گیا، دونوں جانب سے مختلف سطح پر فروغ امن کے لیے رابطہ جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔اس اہم ملاقات کے درمیان امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغانستان زلمے خلیل زاد نے امن کے فروغ کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ ماہ بھی آرمی چیف اور زلمے خلیل زاد کی ملاقات ہوئی تھی جس میں افغانستان میں امن عمل پر پیش رفت کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔

    پاک فوج کے سپہ سالار کا کہنا تھا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کرتا رہے گا، دوسری جانب زلمے خلیل زاد کی خطے میں فروغ امن کے لیے پاکستان کے کردار کی تعریف کی تھی۔

  • جوکام 73 سال سے سابقہ حکمران نہ کرسکے:عمران خان نے کردکھایا: نوٹی فکیشن بھی جاری

    جوکام 73 سال سے سابقہ حکمران نہ کرسکے:عمران خان نے کردکھایا: نوٹی فکیشن بھی جاری

    لاہور : جوکام 73 سال سے سابقہ حکمران نہ کرسکے:عمران خان نے کردکھایا: نوٹی فکیشن جاری،اطلاعات کے مطابق جوکام پچھلے 73 سال میں سابق حکمران نہ کرسکے وہ وزیراعظم عمران خان نے کردکھایا ، جس کا آغازپنجاب سے کردیا گیا ہے، صوبہ پنجاب کے سرکاری اور پرائیویٹ سکولوں میں یکساں نصاب تعلیم نافذ کردیا گیا ، آئندہ تعلیمی سال میں پہلی تا پانچویں جماعت تک یکساں نصاب رائج کرنے کا نوٹی فیکیشن بھی جاری کردیا گیا۔

    تفصیلات کے مطابق وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی منظوری کے بعد صوبہ پنجاب میں نئے تعلیمی سال سے سنگل نیشنل کریکولم نافذ کر دیا گیا ، ایم ڈی بورڈ ڈاکٹر فاروق احمد نے نئے نصاب کے نفاذ کا نوٹیفیکیشن بھی جاری کر دیا ، جس کے ساتھ ساتھ ٹیکسٹ بک بورڈ نے یکساں نصاب کے ساتھ ماڈل کتابوں کا بھی اجراء کر دیا ، ان کتابوں کے نمونوں کی بنیاد پر مزید کتب تیار کی جائیں گی۔

    اس ضمن میں مزید بتایا گیا ہے کہ صوبہ پناجب میں نرسری تا پانچویں کا نصاب تمام سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں اور دینی مدارس میں نافذ العمل ہوگا ، اس ضمن میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹیز تمام سکولوں میں ایس این سی کو نافذ کرنے کی پابند ہوں گی۔

  • خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی،……….:اکیلا عمران خان کچھ نہیں کرسکتا:شبرزیدی کےچونکا دینے والے انکشافات

    خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی،……….:اکیلا عمران خان کچھ نہیں کرسکتا:شبرزیدی کےچونکا دینے والے انکشافات

    اسلام آباد :إِنَّ اللّهَ لاَ يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُواْ مَا بِأَنْفُسِهِمْ:اکیلا عمران خان کچھ نہیں کرسکتا:شبرزیدی کےچونکا دینے والے انکشافات،اطلاعات کے مطابق ایف بی آر کے سابق چیرمین شبر زیدی نے بڑے تہلکہ خیز اور چونکا دینے والے انکشافات کئے ہیں

    جب ہم خود بدلنا نہیں چاہتے تو چایے فوج آئے یا عمران ،چاہے صدارتی نظام ہو یا شریعت، کوئی مائی کا لعل ہمیں بدل نہیں سکتا. شبرزیدی کہتے ہیں کہ قوم کوبہترین موقع ملا ہے کہ وہ اپنے لیڈر کے ساتھ مل کراس معاشرے کوبدلنے کی جدوجہد کریں ، عمران خان اکیلا کچھ نہیں کرسکتا ، اگرآج عمران خان کا ساتھ نہ دیا اور مخالفت برائے مخالفت کی توپھریاد رکھیں کہ یہ قوم روئے گی لیکن ان کوچپ کرانے والا کوئی نہیں ہوگا

    شبرزیدی کہتے ہیں کہ ہمارا حال تو یہ ہے کہ جھوٹ، دھوکہ، چوری، ملک سے غداری اور خود غرضی میں اس قدر آگے نکل چکے ہیں کہ شاید اس کے بعد کوئی ہمیں اس جیسا مخلص بندہ نہ ملے ہم بس ایسے ہی ہیں

    شبر زیدی کہتے ہیں کہ میں کیا بتاوں کہ میں سات انڈسٹریز پہ ٹریک اینڈ ٹریس لگانے کی کوشش میں تھا جیسے سیمنٹ، سیگریٹ وغیرہ، لیکن ہم ناکام ہو گئے، سیگریٹ پہ لگایا گیا تو عدالت سے سٹے آرڈر آ گیا،

    شبرزیدی کہتے ہیں کہ دوسری میری کوشش تھی ایف بی آر کو بینکنگ ڈیٹا تک رسائی حاصل ہو، پاکستان میں بزنس اکاونٹ 4 کروڑ ہیں لیکن ٹیکس میں 1 کروڑ ڈیکلئیر ہیں، ایک کروڑ روپے اکاونٹ میں ہونے پر NTN لگنا چاہیے،

    ایف بی آر کے سابق چیئرمین شبرزیدی کہتے ہیں کہ بجلی کے ساڑھے تین لاکھ انڈسٹرئیل کمرشل کنکشن ہیں لیکن سیلز ٹیکس میں 40 ہزار رجسٹرڈ ہیں، میں نے ہر ڈسکو کو ڈیٹا کے لئے خط لکھا، ڈیٹا نہیں دیا گیا، پھر لاہور چیمبر آف کامرس سے پریشر آنا شروع ہوگیا کہ ہاتھ ہولا رکھیں

    شبرزیدی پاکستان میں زراعت کے حوالے سے انکشاف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ پاکستان میں آڑھتی اتنا پاور فل ہے جس کی مرضی وہ قیمت بڑھائے یا کم کرے، مہنگائی کی اصل وجہ صرف آڑھتی ہے، وہ اتنا طاقتور اسلئے ہے کہ کرپشن کا پیسہ اسکا پارکنگ لاٹ ہے، میری آڑھتیوں سے بھی میٹنگ ہوئی تھی مجھے کہا گیا آپکے بس کا روگ نہیں،

    گوشت (بیف) کی اتنی بڑی ٹریڈ ہے ایک گوشت والا مجھ سے زیادہ پیسہ کما رہا ہے، لیکن سرکار کو ایک پیسہ نہیں جاتا، پولٹری کس کی ہے سب کو پتہ ہے، پولٹری پہ کتنا پیسہ سرکار کو جاتا ہے؟پولٹری پہ ٹوٹل انکم ٹیکس پورے پاکستان سے تیس چالیس کروڑ سے زیادہ نہیں ہے، شبر زیدی

    پاکستان میں سلک کی ایک بھی ملز نہیں چل رہی، نہ ہی پاکستان سلک امپورٹ کر رہا ہے، تو اندازہ لگائیں پاکستان میں سلک کا کپڑا کہاں سے آ رہا ہے ؟ سارا کچھ یہاں سمگلنگ سے چل رہا ہے، شبر زیدی

    کراچی چیمبر میں سراج قاسم تیلی کو کہا تھا کہ ٹیکس سے متعلق ساری مشکلات ختم کر دوں گا، لیکن شرط یہ ہے کل سے آپ کراچی میں سمگل گڈز نہیں بیچیں گے، لیکن انہوں نے انکار کر دیا، یہ ہمارے رویے ہیں، شبر زیدی

    مہنگائی ختم کرنے اور معشیت ٹھیک کرنے کا پہلا علاج یہ ہے کہ پانچ ہزار کا نوٹ بند کر دیں، بڑے نوٹ نہیں ہونے چاہیں، دوسرا مارکیٹ تک رسائی کو بہتر بنائیں، آڑھتی مڈل مین خودبخود ختم ہو جائے گا، اس میں چھ سات بڑے آئیٹم لائیں، شبر زیدی

    انڈر انوائسنگ تقریبا 8 ارب ڈالر کے قریب تھی، جسے کم کر کے 3 ارب ڈالر کے پاس لایا گیا ہے، عمران خان کی حکومت کو اگر کوئی کریڈٹ جاتا ہے تو وہ یہ ہے، اس وجہ سے امپورٹر مجھ سے بہت ناراض ہوئے، میں نے کسٹم کلئیرنس پرائس کو ریٹیل پرائس کردیا، شبر زیدی

    ان کا کہنا ہے کہ میں نے پوزیشن لی، عمران خان نے بھی لی، میرا سوال ہے بڑے خرچے پر شناختی کارڈ کے شرط کہاں گئی؟ وہ معاملہ کہاں پہنچا، چاہے اسکی لمٹ پچاس ہزار کی بجائے دو لاکھ کر دیں، لیکن معاملہ کہاں پہنچا ہے آج ؟

    شبرزیدی انکشاف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میں نے ایک اکاونٹ دیکھا جس میں اربوں روپے آ جا رہے ہیں لیکن اسکا NTN کیوں نہیں ہے؟ سٹیٹ بینک یہ کیوں نہیں کرتا جس کے اکاونٹ میں اتنی بڑی رقوم ہوں وہ NTN رکھے گا، لمٹ ایک کروڑ کر لیں، دس کروڑ کر لیں، لیکن نمبر تو ہونا چاہیے

    شبرزیدی کہتے ہیں کہ یہاں ایک پے رول پرطبقہ جہانگیرترین کے خلاف پراپیگنڈہ کرکے وزیراعظم کی ذات کونشانہ بنانا چاہتے ہیں لیکن سچ یہ ہےکہ جہانگیر ترین کے علاوہ کسی سیاستدان کی کمپنی لسٹڈ نہیں ہے، وہ لوگ ڈاکومینٹیشن چاہتے ہی نہیں، میں خبر دے رہا ہوں، فرٹیلائزر ڈاکومنٹڈ ہے لیکن کوئی ڈیلر رجسٹرڈ نہیں ہے، شوگر کا کوئی ڈسٹری بیوٹر رجسٹرڈ نہیں ہے،

    ایف بی آر کے سابق چیئرمین دکھ بھری داستان سناتے ہوئے کہتے ہیں کہ مجھے بزنس کمیونٹی کی طرف سے بہت زیادہ دباو کا سامنا کرنا پڑا ہے، کوئی ایک فیصد بھی ڈاکومینٹیشن کے لئے انٹرسٹڈ نہیں ہے، وہ ہر وہ کوشش کرتے ہیں جس میں ڈاکومینٹیشن نہیں ہو،

    شبرزیدی کہتے ہیں کہ یہ ایشو منظم اور غیرمنظم کا ہے کہ اگر میں کمپنی میں آکے بزنس کروں گا تو ٹیکس ریٹ بھی زیادہ ہوگا ریکوائرمنٹ بھی زیادہ، پریشانی بھی زیادہ، انفرادی میں یہ سب نہیں ہوگا، تو یہ تصور غلط ہے،

    شبرزیدی نے اپنی بات پھردہراتے ہوئے کہا کہ بات سیاسی ہوجائے گی، ذاتی کاروبار کا یہاں جو سلسلہ ہے اسکا منبہ نوازشریف ہیں انکی پالیسی دیکھ لیں، انکے گروپ میں کوئی کمپنی لسٹڈ نہیں ہے، کسی سیاستدان کی کمپنی لسٹڈ نہیں، سوائے ایک جہانگیر ترین کے۔ اسلئے کہ انکو ڈاکومینٹیشن نہیں چاہیے، یہ پورا مافیا ضیا کے دور میں بناہے

    شبرزیدی نے کہا کہ میں پھرکہتا ہوں کہ میرے عمران خان سے ذاتی بے شماراختلافات ہوں لیکن میں بتارہاہوں کہ وہ قوم کے لیے درد رکھتا ہے ، انہوں نے کہا کہ مہنگائی کی وجہ حکومت نہیں مہنگائی کی وجہ کرونا ہے جس نے دنیا کی بڑی بڑی معاشی قوتوں کا دیوالیہ کردیا ہے ، یہاں تولوگ کھاکرسوتے ہیں ان ترقی یافتہ ممالک میں لوگ اس کرونا کی وجہ سے مہنگائی اورحکومتی ٹیکسز کی وجہ سے بتاہ حال ہوگئے ہیں،

    ان کا کہنا تھا کہ امریکہ ، برطانیہ اورایسے دیگرملکوں میں لوگ کھانے کے لیے کچھ مل نہیں رہا

    شبرزیدی کہتے ہیں کہ سن لیں پھرکہہ رہا ہوں کہ جنرل ضیاالحق کے دورسے شروع ہونے والا یہ مافیانوازشریف اورایسے ہی ان سے فائدہ اٹھانے والے دیگرتجارتی ، معاشی ، سیاسی حلیف ہی اس ملک کوچلنے نہیں دے رہے جس کا نقصان غریب نہیں امیرکوہوگا اوربہت زیادہ ہوگا

  • براڈ شیٹ کیس: نیب نے برطانوی کمپنی کو 28.7ملین پاؤنڈ ادا کر دیے:اصل کہانی باغی کی زبانی

    براڈ شیٹ کیس: نیب نے برطانوی کمپنی کو 28.7ملین پاؤنڈ ادا کر دیے:اصل کہانی باغی کی زبانی

    اسلام آباد / لندن : نیب نے لندن ہائیکورٹ سے مقدمہ ہارنے کے بعد برطانوی فرم براڈ شیٹ کو 28 اعشاریہ سات ملین پاؤنڈ ادا کر دیے۔

    برطانوی ہائیکورٹ نے براڈ شیٹ کی جانب سے حکومت پاکستان اور نیب کے خلاف مقدمے میں شریف فیملی کی ملکیت ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کے 4 فلیٹس کی اٹیچمنٹ کے خلاف احکامات جاری کر دیے۔

    براڈ شیٹ نے درخواست میں 4 اپارٹمنٹس کی اٹیچمنٹ کی استدعا کی تھی جبکہ شریف فیملی کے وکلا نے عدالتی فیصلے کا خیر مقدم کیا۔

    سابق صدر پرویز مشرف نے نواز شریف، آصف علی زرداری، بینظیر بھٹو اور دیگر کی پراپرٹیز کا پتہ چلانے کے لیے 1999 میں براڈ شیٹ کی خدمات حاصل کی تھیں، یہ معاہدہ 2003 میں ختم ہو گیا تھا۔

    کہانی کہاں سے شروع ہوتی ہے !

    براڈ شیٹ ایل ایل سی ایک برطانوی کمپنی ہے جس نے انگلینڈ میں کرکٹ کھیلنے کے لیے گئی ہوئی پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سامان اور اثاثہ جات کو ضبط کر نے دھمکی دی ہے۔ اس کمپنی کا دعوٰی ہےکہ اس کے پاس اس حوالے سے پہلے ہی عدالت کے احکامات موجود ہیں۔

    کمپنی نے یہ بات حکومت پاکستان اور قومی احتساب بیورو (نیب) کے ساتھ ایک پرانے قانونی تنازعے کے تناظر میں کہی ہے۔ یہ قانونی تنازعہ کیا ہے؟

    2000 میں جنرل پرویز مشرف کے دور میں 200 کے قریب پاکستانی سیاست دانوں، سرکاری اہلکاروں اور ان کے خاندانوں کے بیرون ممالک اثاثہ جات کی نشاندہی اور چھان بین کے لیے نیب نے براڈ شیٹ ایل ایل سی کی خدمات حاصل کی تھیں۔ ان پاکستانی شخصیات میں پیپلز پارٹی کے رہنما اور بینظیر بھٹو کے خاوند آصف علی زرداری اور سابقہ وزیر اعظم نواز شریف بھی شامل تھے۔

    کمپنی نے یہ کام اپنے خرچے پر کرنا تھا اور اس کے بدلے میں اسے مطلوبہ افراد سے بازیاب ہونے والی رقم کا 20 فیصد بطور معاوضہ ملنا تھا۔

    لیکن 2003 میں نیب نے یک طرفہ طور پر اس معاہدے کو ختم کر دیا۔

     

     

     

    عالمی ثالثی عدالت نے پاکستان کو حکم دیا کہ وہ کمپنی کو 21 ملین ڈالر ہرجانہ ادا کرے

    2008 میں نیب نے جیری جیمز نامی ایک شخص سے سمجھوتا کیا کہ اس کا براڈ شیٹ ایل ایل سی سے معاہدہ باقی نہیں رہا۔جیری جمیز مبینہ طور پر براڈ شیٹ ایل ایل سی کا مالک تھا۔ اس سمجھوتے کے نتیجے میں نیب نے اس کو پانچ ملین ڈالر ادا کئے۔ وہ براڈ شیٹ ایل ایل سی کے ابتدائی مالکان میں شامل تھا مگر بعد میں اس نے اسی نام سے امریکا میں ایک اور کمپنی بنا لی تھی۔ 2011 میں اس کا انتقال ہو گیا۔

    اسی دوران براڈ شیٹ ایل ایل سی نے ایک بین الاقوامی ثالثی عدالت میں نیب کے خلاف دعویٰ دائر کر دیا۔

    اگست 2016 میں اس عدالت نے براڈ شیٹ ایل ایل سی کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے کہا کہ جیری جیمز کو کمپنی کی طرف سے کوئی معاہدہ کرنے کا اختیار نہیں تھا۔

    جولائی 2018 میں بین الاقوامی ثالثی عدالت نے نیب کی جانب سے کیس لڑنے والی لا فرم ایلن اینڈ اووری کے دفتر میں چار دن تک فریقین کے دلائل سنے۔

    دسمبر 2018 میں عدالت نے کمپنی کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے پاکستانی حکومت کو 21 ملین ڈالر ہرجانہ ادا کرنے کے احکامات دیئے۔

    فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان کو کمپنی کو واجب الادا رقم پر سود کی مد میں روزانہ پانچ ہزار ڈالر سے زیادہ رقم بھی ادا کرنی ہو گی۔

     

     

    براڈ شیٹ ایل ایل سی لندن میں پاکستان ہائی کمیشن کی عمارت بھی ضبط کرنا چاہتی ہے

    لا فرم ایلن اینڈ اووری نے یہ کیس لڑنے کے لیے حکومت پاکستان سے دو اقساط میں 13.5 ملین پاونڈ وصول کیے تھے۔

    ابھی تک اس مقدمے کی پیروی کے لیے حکومت پاکستان تقریبا تین ارب روپے خرچ کر چکی ہے۔

    2017 میں پانامہ کیس میں نواز شریف کو ملنے والی سزا کے بعد براڈ شیٹ ایل ایل سی نے حکومت پاکستان سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ ان سے بازیاب کی جانے والی رقم کا 20 فیصد نیب کے ساتھ اس کے معاہدے کے تحت اس کو ادا کیا جائے۔

    کمپنی کی جانب سے جولائی 2020 میں پاکستانی حکومت کو لکھے گئے ایک خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان کی کرکٹ ٹیم حقیقت میں حکومت پاکستان کی ملکیت ہے لہذا اس ٹیم کو ملنے والے پیسے اور اثاثہ جات کو ضبط کر لینا اب کمپنی کا قانونی حق ہے۔

    کمپنی نے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت پاکستان نے اس کے خط کا مناسب جواب نہ دیا تو وہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے تمام اثاثوں کو اپنے قبضے میں لے لے گی ۔

    دیگر پاکستانی اثاثہ جات جن کو براڈ شیٹ ایل ایل سی ضبط کرنا چاہتی ہے ان میں لندن میں پاکستان ہائی کمیشن کی عمارت، لندن میں ہائی کمشنر کا گھر اور نیویارک میں پی آئی اے کا روزویلٹ ہوٹل بھی شامل ہیں۔

     

    نیویارک میں پی آئی اے کا روزویلٹ ہوٹل بھی تحویل میں لینے کا پروگرام شامل تھا 

    یاد رہے کہ لندن کی مصالحتی عدالت نے 2018 میں نیب کے خلاف 2 کروڑ ڈالر جرمانہ عائد کیا اور جرمانہ ادا نہ کرنے پر دو سال میں 90 لاکھ ڈالر سود بھی شامل ہوگیا جبکہ مصالحتی عدالت نے 2 کروڑ 90 لاکھ ڈالر 30 دسمبر تک ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔

    نیب کی جانب سے رقم کی عدم ادائیگی پر گزشتہ روز پاکستان ہائی کمیشن کا اکاؤنٹ منجمد ہوا۔

    نیب یہ کیس ہاری نہیں بلکہ اس کیس سے کنارہ کشی نے یہ جرمانہ کروایا ہے اوراس رقم میں زیادہ ترسود کی مد میں شامل ہونے والی رقم بھی ہے

  • تعلیمی ادارے کب کھلیں گے ، فیصلہ ہوگیا

    تعلیمی ادارے کب کھلیں گے ، فیصلہ ہوگیا

    تعلیمی ادارے کب کھلیں گے ، فیصلہ ہوگیا

    باغی ٹی وی : بین الصوبائی وزرائے تعلیم کانفرنس میں نویں سے بارہویں تک تعلیمی ادارے 11 جنوری سے کھولنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔ ذرائع کے مطابق پہلی سے 8 ویں تک تعلیمی ادارے 20 جنوری سے جبکہ یکم فروری سے یونیورسٹیز میں تدریس کا عمل شروع ہوگا۔

    یاد رہے تعلیمی ادارے کورونا کے باعث نومبر میں بند کئے گئے تھے، دسمبر کے آخری ہفتے سے 10 جنوری 2021 تک تعلیمی اداروں میں موسم سرما کی تعطیلا ت کا اعلان کیا گیا تھا

    گزشتہ ہفتے شفقت محمود سے نجی تعلیمی اداروں کی نمائندہ تنظیموں ملاقات11 جنوری سے تعلیمی ادارے کھولنے پر زور دیا۔

    انہوں نے کہا کہ وزارت صحت کی تجاویز کے بنا تعلیمی ادارے نہیں کھول سکتے۔ ہم نے بچوں، اساتذہ اور اسٹاف سمیت سب کی صحت کو دیکھنا ہے۔

    وزیرتعلیم نے کہا تھا کہ وزارت صحت کی بریفنگ پر تعلیمی ادارے کھولنے کا فیصلہ ہوگا، نجی تعلیمی اداروں کی مشکلات کا ادراک ہےاورانہیں پیکج دے رہے ہیں۔

  • عدم استحکام کے لیے بیرونی فنڈنگ کی گئی، فوج مخالف بیانات اسی سازش کا حصہ ہیں، اپوزیشن خوف خدا کرے:رحمان ملک

    عدم استحکام کے لیے بیرونی فنڈنگ کی گئی، فوج مخالف بیانات اسی سازش کا حصہ ہیں، اپوزیشن خوف خدا کرے:رحمان ملک

    اسلام آباد: عدم استحکام کے لیے بیرونی فنڈنگ کی گئی، فوج مخالف بیانات اسی سازش کا حصہ ہیں، اپوزیشن خوف خدا کرے،اطلاعات کے مطابق سابق وفاقی وزیر داخلہ اور پاکستان پیپلزپارٹی کے سینیٹر رحمان ملک نے کہا ہے کہ پاکستان میں سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے بھارت اور افغانستان سے بھاری فنڈنگ کی گئی ہے۔

    سابق وفاقی وزیرداخلہ نے انکشاف کیا کہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے کروڑوں ڈالر کی فنڈنگ کی گئی ہے، جس کے تحت ملک میں انتہا پسندی کےساتھ سیاسی دھڑے بندی کی کوشش کی جائے گی۔

    اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان میں فرقہ وارانہ اور نسلی فسادات کی سازشیں ہوں گی، ملک کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش بھارت اور افغانستان کی جارہی ہے۔

    انہوں نے انکشاف کیا کہ غیرملکی فنڈنگ مختلف فاننشل سروسز کےذریعے پاکستان لائی گئی۔ اُن کا کہنا تھا کہ ’کوئٹہ میں ہمارے بھائیوں کوشہید کیاگیا، میں اس کی شدیدمذمت کرتاہوں‘۔

    رحمان ملک نے کہا کہ ’پاک فوج کے خلاف جو زبان استعمال کی جارہی ہے وہ ٹھیک نہیں، فوج کے خلاف اس طرح کے بیانات اور تقاریر نہیں ہونی چاہیں کیونکہ یہ پاکستان کے خلاف سازش ہے‘۔

    پیپلزپارٹی کے سینیٹر نے تمام شہریوں سے اپیل کی کہ وہ کسی بھی بات پر طیش میں نہ آئیں کیونکہ ایسےواقعات کے بعد سوشل میڈیا پر پاکستان کےخلاف محاذکھلےگا۔

    انہوں نے کہا کہ ’بطور چیئرمین اسٹینڈنگ کمیٹی داخلہ حکم دوں گا پاکستان مخالف تشہیرکو روکیں،سوشل میڈیا پر پاکستان مخالف موادکو فوری بلاک کیا جائے، وزیراعظم بھی سوشل میڈیا پر شیئر ہونے والے ملک مخالف مواد پر فوری ایکشن لیں‘۔

  • قوم جانتی ہےمیں نے10سال کشمیریوں کی کتنی خدمت کی:عمران خان نےکشمیرپربھارت کا قبضہ کروا دیا:مولانا فضل الرحمن

    قوم جانتی ہےمیں نے10سال کشمیریوں کی کتنی خدمت کی:عمران خان نےکشمیرپربھارت کا قبضہ کروا دیا:مولانا فضل الرحمن

    بہاولپور: قوم جانتی ہے میں نے 10سال کشمیریوں کی کتنی خدمت کی:عمران خان نے کشمیرپربھارت کا قبضہ کروا دیا :مولانا فضل الرحمن کا بہاولپورمیں خطاب،اطلاعات کے مطابق پی ڈی ایم سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ کبھی کارڈ چھپائیں گے، کبھی دکھائیں گے، دھاندلی کی پیداوار حکومت کو ہر صورت گھر بھجوائیں گے۔ پی ڈی ایم میں اختلافات کی کہانیاں سفید جھوٹ، تمام جماعتیں متحد اور ایک پیج پر ہیں۔ حقیقی جمہوریت اور تبدیلی کی جدوجہد جاری کامیابی تک جاری رہے گی۔

    مولانا فضل الرحمان نے بہاولپور میں خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ 21 جنوری کو اسرائیل نامنظور ریلی نکالیں گے اور دنیا پر واضح کریں گے کہ پہلے فلسطین کو تسلیم کرو، یہ آواز پاکستان کی سرزمین سے اٹھے گی۔انہوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اقتدار سے پہلے ہی عمران خان نے کشمیر کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کا فارمولا پیش کیا تھا۔ عمران خان نے اسی لیے کہا تھا کہ الیکشن میں مودی کامیاب ہو۔

    مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ قوم جانتی ہے کہ میں نے چیئرمین کشمیر کمیٹی کی حیثیت سے جوکشمیریوں کا کام کیا ہے وہ کسی اور نے نہیں کیا ، ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے مقبوضہ کشمیر پربھارت کا قبضہ کروادیا جوکہ ہمارے دور مین نہیں تھا،

    ان کا کہنا تھا کہ یہ کشمیر فروش ہے۔ ناکام پالیسیوں کے نتیجے میں کشمیریوں کو مودی کے جبر وستم پر چھوڑ دیا۔ ہم پانچ فروری کو قوم کشمیری بھائیوں کے ساتھ یکجہتی کا دن منائیں گے۔ پانچ فروری کو پی ڈی ایم کی سربراہی میں ہر بڑے شہر میں مظاہرے کیے جائیں گے۔

    ملکی معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ آج کی اس دنیا میں ریاستوں کی بقا کا دارومدار مستحکم معیشت ہوتی ہے۔ ناجائز حکومت نے ملکی معیشت کوتباہ وبرباد کردیا۔ آج ہمسایہ ممالک ہم سے زیادہ تیزی سے ترقی کر رہے ہیں۔

    پی ڈی ایم سربراہ کا کہنا تھا کہ ووٹ چوری کرکے حکومتیں نہیں چلا کرتیں، عوام کا نمائندہ بن کر آنا پڑے گا، عوام کے نمائندے پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم پر کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم سربراہی اجلاس کے بعد حکومت سوچ رہی تھی کہ شاید ہمارا اتحاد ٹوٹ جائے گا۔ ہم نے سربراہی اجلاس میں ایک آواز میں فیصلے کیے تو ان کے گھروں میں ماتم بچھ گیا۔ پی ڈی ایم کی ایک قومی تحریک ہے جس میں شامل تمام جماعتیں ایک پلیٹ فارم پر متحد ہیں۔

  • واہ مریم نواز! نئہیں تیریاں ریساں‌:نیازی تیرا مقابلہ نہیں کرسکتا

    واہ مریم نواز! نئہیں تیریاں ریساں‌:نیازی تیرا مقابلہ نہیں کرسکتا

    لاہور:واہ مریم نواز! نئہیں تیریاں ریساں‌ ،اطلاعات کے مطابق ن لیگ کی نائب صدر کرپشن پربرطرف سابق وزیراعظم نوازشریف کی سیاسی جانشین مریم نواز کی خوبیوں کوشاید ہی کم لوگ جانتے ہیں، جوخوبیاں مریم نوازمیں وہ عمران خان کے پاس بھی نہیں

    ویسے تو بہت سی خوبیاں ہیں مگرجوایک منفرد اور بڑی خوبی ہے وہ عوام کے سامنے مختلف چہروں سے آنا ہے ، اس کی تازہ مثآل اس سے بڑھ کراورکیاہوسکتی ہے کہ ‏مریم نواز جوگاڑی چلا رہی ہے وہ چوہدری شوگر ملز کے نام پر رجسٹرڈ ہے.

     

    یہ بات قابل ذکررہے کہ پاکستان میں چینی بحران میں اس چوہدری شوگرمل کا بڑا ہاتھ ہے، چوہدری شوگرمل نہ صرف شوگر سکینڈل میں شامل ہے بلکہ مریم نے اسکو منی لانڈرنگ کے لیے بھی استعمال کیا.

    یہ بھی یاد رہےکہ 2015 میں نوازشریف نے اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئےاسکوگوجرہ سے رحیم یارخان شفٹ کیاجس پرڈیڑھ ارب لاگت آئی

  • سینیٹ انتخابات:سپریم کورٹ کا ردعمل آگیا

    سینیٹ انتخابات:سپریم کورٹ کا ردعمل آگیا

    اسلام آباد :سینیٹ انتخابات:سپریم کورٹ کا ردعمل آگیا،اطلاعات کے مطابق سپریم کورٹ نے سینیٹ انتخابات کے حوالے سے صدارتی ریفرنس سماعت کے لئے مقرر کر دیا ہے۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ 4 جنوری کو سماعت کرے گا۔

    چیف جسٹس گلزار احمد، جسٹس مشیر عالم، جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس یحییٰ آفریدی بینچ کا حصہ ہیں۔ حکومت نے سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانے کے لئے سپریم کورٹ سے رائے طلب کی ہے۔

    خیال رہے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی منظوری کے بعد سینیٹ الیکشن شو آف ہینڈز کے ذریعے کرانے کے لئے ریفرنس سپریم کورٹ میں دائر کیا گیا تھا۔ ریفرنس میں سینیٹ کے الیکشن اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانے کے معاملے پر رائے طلب کی گئی ہے

  • سانحہ بلوچستان، جاں بحق کان کنوں کے لواحقین کوحکومت تنہانہیں چھوڑے گی، وزیر اعظم کا دبنگ اعلان

    سانحہ بلوچستان، جاں بحق کان کنوں کے لواحقین کوحکومت تنہانہیں چھوڑے گی، وزیر اعظم کا دبنگ اعلان

    سانحہ بلوچستان، جاں بحق کان کنوں کے لواحقین کوحکومت تنہانہیں چھوڑے گی، وزیر اعظم کا دبنگ اعلان

    باغی ٹی وی رپورٹ‌کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہاہے کہ مچھ میں حملہ بزدلانہ اورغیرانسانی ہے، جاں بحق کان کنوں کے لواحقین کوحکومت تنہانہیں چھوڑے گی۔

    وزیراعظم عمران خان نے اپنے ٹویٹر پیغام میں بلوچستان کے علاقے مچھ میں 11کان کنوں کےقتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے ایف سی کوقاتلوں کوپکڑنے اورکٹہرے میں لانے کیلئےتمام وسائل بروئے کارلانے کی ہدایت کر دی۔

    واضح رہے کہ بلوچستان کے ضلع بولان کے علاقے مچھ کی کوئلہ فیلڈ میں فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا جس میں نامعلوم دہشت گردوں نے کان کنوں کو پہاڑوں پر لے جا کر ان پر فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں 11 کان کن جاں بحق اور 4 زخمی ہو گئے۔

    حکومت اور اپوزیشن کے سیاسی قائدین کی مچھ میں دہشتگردانہ حملے کی مذمت