Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • شہزاد اکبر کتنے قابل ہیں؟براڈ شیٹ کمیشن کا انجام کیا ہوگا؟ سابق اٹارنی جنرل عرفان قادرکا مبشر لقمان کے ساتھ خصوصی انٹرویو

    شہزاد اکبر کتنے قابل ہیں؟براڈ شیٹ کمیشن کا انجام کیا ہوگا؟ سابق اٹارنی جنرل عرفان قادرکا مبشر لقمان کے ساتھ خصوصی انٹرویو

    سینئیر صحافی اور اینکر پرسن مبشر لقمان کا کہنا ہے کہ براڈ شیٹ کیس میں نئے نئے حقائق اور انکشافات سامنے آ رہے ہیں اور اس سے ایسا بھی لگتا ہے کہ اس کے تانے بانے پاکستان سے مل رہے ہیں میں تو اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ جو مشرف کے ٹائم پر تھے آج وہی لوگ حکومت میں ہیں اور جو مشرف کے ساتھ بُرا حال ہوا اور جس طرح اس کو فیل کروایا گیا کیا آج بھی وہی کچھ ہو رہا ہے کہ نہیں لیکن براڈ شیٹ کے قانون میں ہم نے کہاں پر غلطی کی اور مزید غلطی کر رہے ہیں وہ کیا ہے-

    باغی ٹی وی : گزشتہ روز مبشر لقمان نے اپنے یو ٹیوب چینل کے شو میں جنرل اٹارنی عرفان قادر کو مدعو کیا جس میں انہوں نے براڈ شیٹ کیس کے حوالے سے سوالات کئے-

    پاکستان کے چیف لاء آفیسر اور سابق اٹارنی اٹارنی عرفان قادر جنرل مشرف کے ٹائم سےسب سے زیادہ ان چیزوں کو دیکھ چکے ہیں اور ابھی بھی دیکھ رہے ہیں نے براڈ شہٹ کے حوالے سے اپنی رائے کا اظہار کیا-

    مبشر لقمان نے کہا کہ میں تو سمجھتا ہوں ایسا قانون ہونا چاہیئے کہ جو شخص ایک بار کسی ایک حکومت میں کم سے کم ایک سال رہ چکا ہے وہ کسی دوسری پارٹی کی حکومت میں نہ ہو-کیونکہ سارے جاتے ہیں ادھر ادھر سے میل ملاپ کر کے تو ساروں کو فیل کروا دیتے ہیں اور مجھے یہ بھی پتہ ہے کہ ایسا ہو نہیں سکتا اور فنڈا مینٹل رائٹس کو لے آئیں گے-

    سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر نے اس بات پر کہا کہ انہیں ایسا کوئی قانون نہیں ہو سکتا اور فنڈا منٹل کی بات ہی نہیں یہ سیدھی سادھی سینس کی بات ہے کہ حکومت میں جو لوگ تجربہ رکھتے ہیں حکومت کی معاونت کرنے میں تو آپ اگر ان کو ہی نکال دیں گے اور کسی کو لے آئیں گے تو نظام کیسے چلے گا-

    اس پر مبشر لقمان نے کہا کہ کسی اور ملک میں تو ایسا نہیں ہوتا یہاں تک کہ ہندوستان میں بھی ایسا نہیں ہوتا وہ آپ کی مرضی ہے کہ آپ اپنے دوست شہزاد اکبر کا دفاع کر ر ہے ہیں کہ مشرف کو بھی مروانے والا وہ اور ابھی عمران خان کو بھی مروائے وہ الگ بات ہے-

    سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر نے کہا کہ شہزاد اکبر کی مشرف کے ٹائم پر ایسی کوئی پوزیشن نہیں تھی وہ کنسلٹنٹ تھے اور بڑا وہ لوئر ٹئیر تھا –

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اتنی تو پاکستان یں کسی پارٹی کے ہیڈ نے پریس کانفرنسز نہیں کیں جتنی پچھلے ایک سال میں شہزاد اکبر نے کر دی ہیں-

    سابق اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہاں یہ بات ٹھیک ہے کیونکہ اس وقت وہ اس حکومت کا بہت ضروری حصہ بنے ہوئے ہیں-

    سینئیر اینکر پرسن نے اس پر کہا کہ لیکن کیا فائدہ ایسی کانفرنسز کا کہ آپ کیسز ہار رہے ہیں آپ سے دفاع کیا نہیں جا تا آپ کا کوئی ثبوت ہے نہیں اور پاکستان حکومت کو اور ریاست کو باہر انہوں نے مذاق بنو دیا-

    عرفان قادر نے مبشر لقمان کی اس بات کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ ہاں یہاں میں آپ سے اتفاق کرتا ہوں کہ شہزاد اکبر کو اپنے دائرے میں رہ کر بات کرنا چاہیئے اور اگر وہ صحیح لیگل ایکسپرٹ ہیں اور ان کے پاس جتنی مہارت ہے تو وہ اسی حد تک رہیں –

    مبشر لقمان نے سوال پوچھا کہ خدا کو حاضر ناظر جان کر سچ بتائیں کہ کیا وہ سچ میں لیگل ایکسپرٹ ہیں؟

    عرفان قادر کا کہنا تھا کہ شہزاد اکبر کو ہمارے ٹائم پر کنسلٹنٹ رکھا تھا وکالت میں ان کے تجربے کے بارے میں مجھے زیادہ نہیں پتہ میرا نہیں خیال کہ انہوں نے کیسز زیادہ کئے ہوئے کوئی سپریم کورٹ ہائی کورٹ میں انہوں نے کیسز نہیں کئے کوئی لانگ ٹرم کا ان کا میرا نہیں خیال کہ ایسا کوئی تجربہ ہے-

    مبشر لقمان نے پوچھا کہ کیا جب مشرف کے دور میں براڈ شیٹ ہائر ہوئی ہے تب بھی اس میں شہزاد اکبر تھے؟

    اس پرعرفان قادر کا کہنا تھا کہ نہیں تب اس میں نہیں تھے وہ بہت بیگ گراؤنڈ میں تھے کسی امپورٹنٹ پوزیشن میں نہیں تھے ان کا کوئی ایسا کردار نیب میں نہیں ہوتا تھا-

    مبشر لقمان نے کہا کہ براڈ شیٹ کا کیس ہار گئے ہیں لینے کے دینے پڑ گئے ہیں برطانیہ کی عدالت نے آپ کو جھوٹا ثابت کر دیا-

    عرفان قادر نے کہا بد قسمتی سے یہ بہت ہی دکھ کی بات ہے کہ ہم براڈ شیٹ کا کیس ہار گئے ہیں ریاست پاکستان کے لئے یہ ایک بہت بڑا دھچکا ہے اس کی اگر ساری ہسٹری دیکھیں تو سب سے پہلے میں سمجھتا ہوں کہ براڈ شیٹ کے ساتھ اثاثہ جات کو تلاشنے کے معاہدے ہونے ہی نہیں چاہیئے تھے اور اگر ہوئے بھی تھے تو پھر کم سے کم ان معاہدوں میں بہت ساری مبہم غلطیاں ہیں نہیں ہونی چاہیئں تھیں ان کو کلئیرٹی کے ساتھ وہاں پر بیان کرنا چایئے تھا سب سے بڑا ایشو وہاں سے اٹھا کہ جو اثاثہ جات کو وہ تلاشتے ہیں یا نہیں تلاشتے تو ان کو پھر بھی پاکستان کے اندر یا باہر سے ریکوریز ہوتی ہیں تو ان کو ان میں سے حصہ ملے گا تو اس طرح کا اس معاہدے سے جو امیریشن پیدا ہوا ہے یہ معاہدہ خود بے اعتدالی کا شکار ہے اور اس طرح کے معاہدے میں تو عمل درآمد ہونا ہی نہیں چاہیئے اور ایسا معاہدہ جو غیر مہذب ہو ایک چیز ہوتی ہے کمرشل کامن سینس اور کوئی بھی معاہدہ اگر کمرشل کامن سینس کی نفی کر رہا ہو اور کوئی بھی معاہدہ تیار کرنے والا یعنی ڈرافٹر آف دی ایگریمنٹ کوئی بھی معاہدہ آپ کے سامنے رکھے اور اس میں کوئی بھی متعصب بات نظر آئے تو ساری دنیا میں مسلمہ اصول ہے س کا وہ لاطینی زبان میں ڈاکٹرائن ہے اسے ہم کہتے ہیں ڈاکٹرائن آف کنٹرا پرفرینٹم اس کا مطلب یہ ہے کہ جس شخص نے یہ ڈرافٹ کیا اگر کل وہ اس میں کوئی بھی ابہام آتا ہے تو اس کے خلاف یہ استعمال ہو گا لیکن یہاں پر یہ نہیں ہوا ہہاں پر ساری تشریح پاکستان کے خلاف ہو گئی ہے

    اور یہ ڈرافٹر براڈ شیٹ والے تھے یہ پاکستان نے ڈرافٹ نہیں کیا تھا یہ جنرل امجد کے ٹائم پر جو نیب ہے اس وقت کی انہوں نے ڈرافٹ نہیں کیا تھا-

    مبشر لقمان نے کہا کہ اس پر آرگیو کیوں نہیں کیا گیا؟-

    عرفان قادر نے کہا کہ س پر آرگیو کرنا چاہیئے تھا جن لوگوں نے انگلش کورٹ میں یہ کیس ہینڈل کیا یا جن لوگوں نے یہ کمپرونائز کر لیا تھا جیری جیم کے ساتھ یہ سوال ان لوگوں سے کریں تو وہ بہتر طریقے سے جواب دے سکتے ہیں-

  • براڈ شیٹ پاکستان اورپاکستانیوں کےخلاف سازش جس میں‌ گھرکےبھیدی شامل ہیں،لمحہ فکریہ ہے: مبشرلقمان

    براڈ شیٹ پاکستان اورپاکستانیوں کےخلاف سازش جس میں‌ گھرکےبھیدی شامل ہیں،لمحہ فکریہ ہے: مبشرلقمان

    لاہور:براڈ شیٹ پاکستان اورپاکستانیوں کے خلاف ایک سازش جس میں‌ گھرکے بھیدی شامل ہیں،قوم کے لیے لمحہ فکریہ ہے :مبشرلقمان نے درد بھری کہانی سنادی جنرل امجد کے دورمیں سن 2ہزارمیں یہ معاہد براڈ شیٹ سے ہوا تھا ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ منسٹری آف لانے بھی اس معاہدے میں تعاون کیا تھا اورغالبا غلام رسول نامی اہلکار نے یہ پیٹرن تیار کیا تھا ، طلعت گھمن نے فاروق اعظم کا نام لیتے ہوئے کہاکہ وہ بھی متحرک تھے

    اس پرمبشرلقمان نے ایک بڑی زبردست بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ہاں یہ روایت بن چکی ہے کہ جو چلا جائے سارا مدعا اس پرڈال دیا جاتا ہے ، انہوں نے پی آئی اے کی مثال دیتے ہوئے کہاکہ اگرجہازکریش کرجائے تو سارا ملبہ پائلٹ پرڈال دیا جاتا ہے کیوں مدعا اورملبہ ڈالنے والے یہ جان چکے ہوتے ہیں کہ آپ پائلٹ تو دنیا سے جاچکا کس نے آکر انکار کرنا ہے

    طلعت گھمن نے مشرلقمان کو بتایا کہ چیئر مین نیب جنرل امجد ایک ایماندارانسان تھے اوروہ تو اپنا کھانا بھی اپنے گھرسے لاتے تھے ، بس ان کے اردگرد رہنے والے افسران نے یہ کھیل کھیلا ہے

    انہوں نے کہا کہ فاروق نام کے افسر نے جنرل امجد کو اتنے سبز باغ دکھائے کہ وہ اعتبار کربیٹھے اورپھر ایک غیرملکی ٹریووارنز تھے ، اس کے علاوہ غنضنفرصادق تھے

    انہوں نے مزید بتایا کہ غضنفرصادق ایک سابق بینکر تھے جن کے بیرونی دنیا سے بہت مضبوط رابطے تھے ، انہوں نے جنرل امجد کو اس طرح کہانی سنائی کہ وہ باہر کے ملکوں میں‌ چھپی اربوں روپے آنکھ جھپکتے ہی واپس لے آئیں گے ،طلعت گھمن نے مزید بتایا کہ اور ان کے جونیئر طارق فواد تھے

    طلعت گھمن کہتے ہیں‌کہ میرے خیال میں‌ جنرل امجد سے غلطی ہوگئی انہوں نے اس ٹولے کی باتوں پراعتبارکرلیا اگروہ اس وقت ان معاہدوں اوردیگر متعلقات پر نظردوڑا دیتے تو شاید آج یہ حالات پاکستان کو نہ دیکھنے پڑتے

     

    ایک سوال کے جواب میں جس میں مبشرلقمان پوچھتے ہیں کہ فاروق اعظم نے انجانے میں‌ تو یہ معاہدہ نہیں کیا تھا براڈ شیٹ کے ساتھ ، آخران کو اس جال میں پھنسانے والے اورلوگ بھی ہوں گے

    اس پر طلعت گھمن نے جواب دیا کہ ہاں ضرور تھے ، ان میں‌ کچھ وہ بھی شامل ہوگئے تھے جو اس وقت کی سیاسی حکومت نے احتساب کے نام پرشامل کیے تھے
    اورکچھ نئے لوگ تھے

    طلعت گھمن نے انکشاف کیا کہ فاروق اعظم نے براڈ شیٹ سے جو معاہدہ کیا تھا وہ پاکستان کے خلاف معاہدہ تھا

    مبشرلقمان نے بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہاکہ میں‌ یہ معاہدہ دیکھ کر حیران ہوتا ہوں کہ وہ کمپنی ختم ہوگئی ہے اوراس کے باوجود وہ پاکستان سے بڑی رقم ہتھیا لے کرلے جاتی ہے

    طلعت گھمن نے اس موقع پرانکشاف کیا کہ اس معاہدے میں ایسی کوئی بات ہی شامل نہیں تھی جس کی بنیاد پریہ معاہدہ کیا گیا تھا ، اس پرمبشرلقمان نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جان بوجھ کر پاکستان کوپھنسایا گیا

    ایک سوال کے جواب میں طلعت گھمن نے کہاکہ ریکوری کے حوالے سے ایڈمرل منصورالحق اوردیگرجونیئر افسران نے مخلصانہ کوششیں کی تھیں‌ لیکن شاید ان کو کوشش کے باوجود کامیابی نہیں مل سکی

    مبشرلقمان کہتے ہیں‌ کہ بڑی حیرانی کی بات ہے کہ کمپنی ختم ہوگئی اور نو دس سال بعد  وہ لوگ جو ادھر ادھر بکھر گئے تھے ان کو خیال آیا کہ وہ پاکستانیوں سے پیسے بٹوریں‌

    طلعت گھمن کہتے ہیں کہ کیوی موسوی براڈ شیٹ کے مالک نہیں‌بلکہ کیری گیم ہے

    انہوں نے انکشاف کیا کہ اہم دستاویزات کیوی موسوی تک پہنچائی گئیں اوران کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ ایک بہت بڑی فائل تھی اور اس کا تعلق احمر صوفی سے تھا

  • اگرعمران خان کی حکومت ختم نہ کی تویہ ہمیں نہیں چھوڑے گا:پی ڈی ایم کا اس پراتفاق ہے:آصف علی زرداری

    اگرعمران خان کی حکومت ختم نہ کی تویہ ہمیں نہیں چھوڑے گا:پی ڈی ایم کا اس پراتفاق ہے:آصف علی زرداری

    لاہور: اگرعمران خان کی حکومت ختم نہ کی تویہ ہمیں نہیں چھوڑے گا:پی ڈی ایم کا اس پراتفاق ہے:اطلاعات کے مطابق سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ ملک شدید خطرات میں ہے، حکمران کوئی بڑی غلطی کر سکتے ہیں۔ حکومت کو گھر بھیجنا اس وقت بہت ضروری ہو چکا ہے۔

    ذرائع کے مطابق سابق صدر نے یہ بات پیپلز پارٹی پنجاب کے جنرل سیکرٹری چودھری منظور احمد سے ٹیلی فونک گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے یہ واضح کیا کہ پی ڈی ایم متحد ہے، اپوزیشن جماعتوں میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔

    ذرائع کے مطابق آصف علی زرداری نے قوم سے درخواست کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارا ساتھ دیں ، اگرعمران خان رہا توپھریہ کسی کو نہیں چھوڑے گا ، ان کا یہ بھی کہنا تھا پی ڈی ایم والے سارے اس بات سے اتفاق کرتے ہیں

    آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ اناڑی حکمرانوں کی نااہلی سے ملک کسی بڑے حادثے کا شکار ہو سکتا ہے۔ حکومت سے نجات کیلئے پی ڈی ایم تمام آپشنز بتدریج استعمال کرے گی۔

    ان کا کہنا تھا کہ اگلے چند مہینے ملکی سیاست کے مستقبل کیلئے بہت اہم ہیں۔ حکمرانوں کو اب مزید کورونا کے پیچھے چھپنے نہیں دیں گے۔ یہ لوگ نہ ویکسین خرید سکے نہ ہی بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے علاوہ کورونا کی صورتحال میں عوام کی مدد کر سکے۔

    سابق صدر نے کہا کہ ہم نے 2008ء کے عالمی معاشی بحران کے باوجود ایکسپورٹ 19 ارب سے 26 ارب تک بڑھائی، ملک کا ریونیو ڈبل کیا، ملازمین کی 125 فیصد تنخواہیں بڑھائیں اور سرکاری ملازمین کی پنشن میں 100 فیصد اضافہ کیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ اناڑی حکمرانوں نے آج ملک کے تمام اشاریے منفی کر دیئے ہیں۔ میں نے پہلے ہی کہا تھا یہ سلیکٹڈ حکمران اپنے وزن سے خود گریں گے۔ اب یہ گر چکے ہیں، بس اب ایک آخری دھکے کی ضرورت ہے۔ پی ڈی ایم کے ساتھ مل کر پیپلز پارٹی اس ناکام اور نااہل ٹولے کو گھر بھیجے گی۔

  • آذربائیجان نےکاراباخ فتح کےبعد جنگی ترانہ”پاک سرزمین شاد باد”ریلزکردیا:پاکستان کےدشمن غم میں ڈوب گئے

    آذربائیجان نےکاراباخ فتح کےبعد جنگی ترانہ”پاک سرزمین شاد باد”ریلزکردیا:پاکستان کےدشمن غم میں ڈوب گئے

    آذربائیجان : ”کاراباخ آذر بائیجان کا ہے“یہ ٹائٹل ہے اس نغمے کا جو آذر بائیجان نے ریلیز کیا۔اس ویڈیو میں آذری خاتون گلوکارہ نے آذر بائیجان کی نمائندگی کی جبکہ ایک فوجی اہلکار نے ترکی کی آرمی کی اور دوسرے فوجی وردی میں ملبوس شخص نے پاکستان آرمی کی نمائندگی کی۔

     

     

    ذرائع کے مطابق یہ نغمہ آذربائیجان زبان میں پیش کیا گیاہے۔اس جنگی ترانے کا ایک بڑا حصہ پاکستان کے قومی ترانے ”پاک سرزمین شاد باد“پر مشتمل ہے۔جبکہ ترانے کے ایک حصے میں ان شہیدوں کو خراج عقیدت پیش کیا گیاجنہوں نے آرمینیا کے ساتھ جنگ میں اپنی جانوں کانذرانہ پیش کیا۔

     

    ذرائع کے مطابق ترانے میں ترکی اور پاکستان کی فوج اور حکومت کا بھی شکریہ ادا کیا گی۔اس ترانے کے پس منظر میں آذربائیجان،ترکی اور پاکستان کو بھائی بھائی کا اسٹیٹس دیا گیا جس میں ان تینوں ممالک کی سول،ملٹری اور سفارتی سطح پر ایک ہونے کی کہانی بھی بیان کی گئی۔

    ترانے کا جو ٹائٹل ہے اس میں اس بات کو واضح کیا گیاہے کہ کاراباخ آذربائیجان کا ہے اور ا سکی طرف کوئی بھی آنکھ اٹھا کر نہ دیکھے۔

     

    گانے کی ویڈیو میں ترکی،پاکستان اور آذربائیجان کی ملٹری کی نمائندگی کے بعد کاراباخ جنگ کے منظر بھی دکھائے گئے۔سب سے آخر میں ترانے کے ٹائٹل کو نمایاں کرتے ہوئے آذر بائیجان،ترکی اورپاکستان کی نمائندگی کرنے والے فوجی وردی میں ملبوس افراد نے کاراباخ آذر بائیجان کا ہے کا نعرہ بلند کیا۔

     

    جب سے یہ جنگی ترانہ آذر بائیجان کی حکومت نے سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کیا یہ آناً فاناً وائرل ہو گیااور اس نغمے کو دنیا بھر میں پذیرائی مل رہی ہے اور لاکھوں کی تعداد میں سوشل میڈیا صارفین کاراباخ کی فتح کو تینوں ممالک کی فتح قرار دے رہے ہیں۔

     

    جبکہ اس گانے میں پاکستان کا قومی ترانہ شامل ہونے ا ور پاکستان آرمی کا شکریہ ادا کرنے پر انڈیا کے تن بدن میں ا ٓگ لگی ہوئی ہے لہٰذا انڈین سوشل میڈیاصارفین آذربائیجان کے اس جنگی ترانے کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ا ور پاکستان کے خلاف زہر اگلتے نظر آ رہے ہیں۔تاہم اس جنگی ترانے نے ہر طرف دھوم مچا رکھی ہے اور اس میں آذربائیجان نے اپنی محبت کا بھرپور اظہار کیا ہے۔

  • بھارت میں پھر پاکستان زندہ بادکے نعرے لگ گئے.مودی سرکار باؤلی ہوگئی

    بھارت میں پھر پاکستان زندہ بادکے نعرے لگ گئے.مودی سرکار باؤلی ہوگئی

    بھارت میں پھر پاکستان زندہ بادکے نعرے لگ گئے.مودی سرکار باؤلی ہوگئی

    باغی ٹی وی :بھارت میں مودی اور ہندوتوا کے خلاف ایسا رد عمل شروع ہوا ہے کہ بھارت سرکار کو سمجھ نہیں ‌آتی کہ کیا کیا جائے بھارتی یوم جمہوریہ سے دو دن پہلے دلی میں پاکستان زندہ باد کےنعرے لگ گئے، چھے افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔

    دلی کے خان مارکیٹ کا میٹرو اسٹیشن پاکستان زندہ باد کےنعروں سے گونج اٹھا، چند نوجوان چھوٹے بائیکس پر آئے اور نعرے لگا کر چلے گئے جس کے بعد پولیس میں کھلبلی مچ گئی، 6 افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔

    مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتارافراد میں تین لڑکیاں بھی شامل ہیں، پولیس ان کے گھر والوں سے بھی تحقیقات کر رہی ہے۔

    واضح‌ رہے کہ بھارتی وزیراعظم نے بھارت کے یوم جمہوریہ 26جنوری کی تیاریوں کے سلسلے میں دارالحکومت نئی دہلی سے کسانوں کا دھرنہ ختم کرانے کے لئے متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کر دی ہیں۔ بھارتی وزیراعظم ہاؤس کے ذرائع کے مطابق بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کرسمس کے موقعہ پر 25دسمبر کو کسانوں کے لئے اٹھارہ ہزار کروڑ کے ایک پیکج کا اعلان کریں گے لیکن اس کے باوجود اگر کسانوں نے اپنا دھرنہ ختم نہ کیا تو مودی حکومت ان کو زبردستی وہاں سے اٹھا دے گی تاکہ یوم جمہوریہ کی پریڈ کے حوالے سے کی جانے والی ریہرسل میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔

    اس سال یوم جمہوریہ کی تقریب میں برطانوی وزیراعظم بورس جانس کو مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کا دعوت نامہ بھیجا گیا ہے جب کہ انہوں نے تقریبات میں شمولیت کے لئے بھارت جانے کی اطلاع بھی بھارتی حکومت کو دے دی ہے۔ دریں اثنا کسان یونین لیڈر کلونت سنگھ سندھو نے کہا ہیے کہ مودی حکومت اٹھارہ ہزار کروڑ کی رشوت دے کر انہیں ان کے مقاصد سے دور نہیں کر سکتی۔

    بھارتی یوم جمہوریہ: مودی نے دہلی کو کسانوں سے پاک کرنے کا عندیہ دے دی

  • پاکستان میں فائیو جی انٹرنیٹ کب تک صارفین کے لیے میسر ہوگا، رپورٹ جاری

    پاکستان میں فائیو جی انٹرنیٹ کب تک صارفین کے لیے میسر ہوگا، رپورٹ جاری

    پاکستان میں فائیو جی انٹرنیٹ کب تک صارفین کے لیے میسر ہوگا، رپورٹ جاری

    باغی ٹی وی : پاکستان نے مالی سال 23-2022 تک جدید ترین فائیو جی انٹرنیٹ کو عام صارف کی دسترس میں لانے کی جانب سفر شروع کر دیا۔

    پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی سالانہ رپورٹ برائے 2020 کے مطابق پاکستان فائیو جی ٹیکنالوجی کے لیے ایک جامع روڈ میپ تیار کر رہا ہے اور 2023 میں فائیو جی سروسز کے لیے اسپیکٹرم کی نیلامی کی جائے گی۔

    رپورٹ کے مطابق کورونا کی وبا اس لحاظ سے ایک نعمت ثابت ہوئی ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں ڈیجیٹل اکانومی نے تیزی سے ترقی کی۔ اسٹیک ہولڈرز اور ریگولیٹرز ڈیجیٹل انفرا اسٹرکچر کو بہتر بنانے پر متفق ہوئے ہیں۔

    جی ایس ایم ایسوسی ایشن نے تخمینہ لگایا ہے کہ فائیو جی ٹیکنالوجی متعارف ہونے کے بعد پاکستانی معیشت میں موبائل انڈسٹری کا حصہ 24 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گا۔ پاکستان کے 98 فیصد گھروں میں موبائل فون موجود ہے۔

    وفاقی وزیر آئی ٹی امین الحق کے مطابق حکومت دسمبر 2022 میں فائیو جی ٹیکنالوجی لانچ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تاہم مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ماہرین کا خیال ہے کہ اگلی نسل کی اس ٹیکنالوجی کا اجرا 5 تا 7 سال سے پہلے ممکن نہیں ہو گا۔

    واضح رہے کہ امین الحق فائیو جی ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے چین میں آزمائشی وڈیو کال کر چکے ہیں جس کی آواز اور تصویر کا معیار بہترین تھا۔

    خیال رہے کہ فائیو جی انٹرنیٹ کی ڈاؤن لوڈنگ رفتار موجودہ تھری جی، فور جی انٹرنیٹ کی رفتار سے دس گنا زیادہ ہوگی۔ اس ٹیکنالوجی سے ملک میں معاشی سرگرمیاں نمایاں طور پر بہتر ہو جائیں گی۔

    پاکستان میں جلد ہی 5 جی سروس کا آغاز کر دیا جائے گا۔ فائیو جی نیٹ ورک موجودہ موبائل انٹرنیٹ کنکشن سے سو گنا تیز ہو گا۔ فائیو جی نیٹ ورک موجودہ براڈ بینڈ کنکشن سے دس گنا تیز ہوگا۔ فائیو جی ہوم روٹر کی رفتار فور گیگا بائٹس فی سیکنڈ ہے۔

    یا رہے کہ پی ٹی اے نے کچھ عرصہ پہلے لائسنس کے اجرا کیلئے درخواستیں طلب کی تھیں۔ آپریٹر کے پاس جو سپیکٹرم ہوگا اس پہ سپیڈ کا انحصار ہو گا۔چینی ٹیلی کام کمپنی نے پاکستان میں فائیو جی کا کامیاب تجربہ کر لیا۔ پاکستان 5 جی کا تجربہ کرنے والے چند ممالک میں شامل ہو گیا ہے۔

    فائیو جی نے دھوم مچا دی ، 2 منٹ میں 50 جی بی ڈیٹا

  • کرونا کی وجہ سے مزید 48 جانیں‌ لقمہ اجل، نئے مریضوں میں بھی اضافہ

    کرونا کی وجہ سے مزید 48 جانیں‌ لقمہ اجل، نئے مریضوں میں بھی اضافہ

    کرونا کی وجہ سے مزید 48 جانیں‌ لقمہ اجل، نئے مریضوں میں بھی اضافہ

    باغی ٹی وی : عالمی وبا کورونا وائرس کے سبب پاکستان میں مزید 48 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں اور مرنے والوں کی کل تعداد 11 ہزار 295 ہوگئی ہے۔

    نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے مطابق 24 گھنٹوں میں کورونا کے ایک ہزار 594 نئے کیسز سامنے آئے ہیں اور متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 5 لاکھ 32 ہزار 412 تک پہنچ گئی ہے۔

    ملک میں کورونا سے 4 لاکھ 86 ہزار 489 افراد صحتیاب ہو چکے ہیں اور زیر علاج مریضوں کی تعداد 34 ہزار 628 ہے۔

    اسلام آباد میں کورونا کیسزکی تعداد 40 ہزار 713، خیبر پختونخوا میں 65 ہزار 287، سندھ میں 2 لاکھ 40 ہزار 570، پنجاب میں ایک لاکھ 53 ہزار 410، بلوچستان میں 18 ہزار 736، آزاد کشمیر میں 8 ہزار 795 اور گلگت بلتستان میں 4 ہزار 901 افراد کورونا سے متاثر ہوچکے ہیں۔

    کورونا کے سبب سب سے زیادہ اموات پنجاب میں ہوئی ہیں جہاں 4 ہزار 561 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ سندھ میں 3 ہزار 888، خیبر پختونخوا میں ایک ہزار 832، اسلام آباد میں 465، گلگت بلتستان میں 102، بلوچستان میں 193 اور آزاد کشمیر میں 254 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

    پہلے50ہزار کیسز 86 دنوں اور آخری پچاس ہزار کیسز صرف بائیس روز میں سامنے آئے۔ پاکستان میں کورونا کا پہلا کیس 26 فروی کو سامنے آیا جبکہ کورونا سے پہلی موت اٹھارہ مارچ کو رپورٹ ہوئی۔

    قومی ادارہ صحت نے پاکستان میں کورونا کی نئی قسم کی تصدیق کر دی ہے۔ قومی ادارہ صحت کے مطابق دو پاکستانیوں میں کورونا وائرس کی نئی قسم پائی گئی۔ دونوں شہری برطانیہ سے وطن واپس آئے۔

    وزیر صحت پنجاب یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ کورونا کی نئی قسم کے چار مشکوک مریضوں کا تعلق لاہور سے ہے۔ چاروں کے ٹیسٹ لے کر این آئی ایچ بھجوا دیے ہیں۔

  • ہروقت پاکستان کا خوف سرپرسوار رہتا ہے بھارتی آرمی چیف ذہنی دباؤ کے شکارہونے کا اعتراف کرلیا

    ہروقت پاکستان کا خوف سرپرسوار رہتا ہے بھارتی آرمی چیف ذہنی دباؤ کے شکارہونے کا اعتراف کرلیا

    نئی دہلی:ہروقت پاکستان کا خوف سرپرسوار رہتا ہے بھارتی آرمی چیف ذہنی دباؤ کے شکارہونے کا اعتراف کرلیا،اطلاعات کے مطابق بھارتی فوج ہی نہیں بلکہ انکے سربراہ بھی پاکستان کے خوف سے ذہنی دباؤ کا شکار ہے،، جنرل منوج مکنڈنے میڈیا کے سامنے اعتراف کرلیا ہے کہ وہ خود ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق پاکستان کا خوف سر پر سوار، بھارتی فوج کے سربراہ ذہنی دباؤ کا شکار ہو گئے، میڈیا سے گفتگو میں کے دوران اعتراف کرلیا کہ وہ سٹریس کا شکار ہیں۔زبان سے بات نکلی تو جنرل منوج مکنڈ نے خفت چھپانے کی کوشش کی، پھر کہتے ہیں اسٹریس برا نہیں ہوتا۔

    جب بھارتی فوج کے سربراہ کایہ حال ہے تو باقی فوج دماغی طور پر کیسے مضبوط ہوسکتی ہے، اسی لیے تو بھارت کی تینوں افواج کے مشترکہ تھنک ٹینک، یونائیٹڈ سروس انسٹی ٹیوشن آف انڈیا کی حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ بھارت کے تیرہ لاکھ فوجیوں میں سے آدھے سخت ترین ذہنی تناؤ کا شکار ہیں۔

    رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کی سب سے بڑی وجہ یا تو خود کشی ہے، یا پھر ساتھی فوجیوں کی اپنے ہی دوستوں پر فائرنگ ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی کی نام نہاد ظالم فوج کا عالم یہ ہے کہ 2008ء سے لیکر 2020ء کے دوران 1900 سے زائد فوجی اپنی زندگی کا خاتمہ کر چکے ہیں

  • خطرے کی گھنٹی بج گئی:جوبائیڈن نےحساس،اہم اور مرکزی  عہدے یہودیوں کے سپرد کردیئے

    خطرے کی گھنٹی بج گئی:جوبائیڈن نےحساس،اہم اور مرکزی عہدے یہودیوں کے سپرد کردیئے

    واشنگٹن :جوبائیڈن نے حساس ، اہم اورمرکزی عہدے یہودیوں کے سپرد کردیئے،اطلاعات کے مطابق نومنتخب امریکی صدر جوبائیڈن نے امریکہ کے حساس ، اہم اوربڑے بڑے مرکزی عہدوں کو انتہاپسند یہودیوں‌ کے سپرد کردیا ہے

    ذرائع کے مطابق یہ یہودی امریکہ کے فیصلوں پراثراندازہونے کی بھرپورصلاحیت رکھتے ہیں ان بڑے بڑے عہدوں پر بڑے بڑے یہودی کون ہیں ان کا سرسری س خاکہ کچھ اس طرح‌ہے

    انتھونی بلنکن اب امریکہ کے سکریٹری خارجہ ہیں‌اوردنیا بھر میں اہم فیصلے کرنے کے مجاز ہوں گے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ انتھونی بلنکن ایک طویل عرصے سے بائیڈن کو ایک وسیع سفارتکاری کا مشورہ دینے والا مشیر ہے ،اس کے اباواجداد ہولوکاسٹ سے بچ جانےمیں سے ہیں‌ جس کی کہانیوں نے اس کے عالمی نظریہ کی شکل دی ہے اور اس کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ سمیت اس کے پالیسی فیصلے بھی شامل ہیں۔ وہ اسرائیل کو محفوظ رکھنے کے لیے ایران اورامریکہ کے درمیان بہتر تعلقات کا خواہاں ہے

    ڈیوڈ کوہن:سی آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر
    ڈیوڈ کوہن جو طویل عرصے سے امریکہ ، اسرائیل اوردنیا بھر میں رہنے والے یہودیوں کے سب سے بڑا خیرخواہ ہے اوران کے تمام معاملات کی نگرانی کرتے ہیں،سابق صدر اوبامہ کے دور میں بھی خاص عہدوں پرمعتمد رہے ہیں‌

    میرک گار لینڈ: اٹارنی جنرل
    میرک گار لینڈ کو اوباما انتظامیہ کے آخری سال میں سپریم کورٹ میں شامل ہونے سے روک دیا گیا تھا۔ اب اسے ملک کا اٹارنی جنرل بننے کے لئے سینیٹ کی توثیق درکار ہوگی۔ نامزد ہونے کے بعد اپنی تقریر میں اس نے اپنے دادا دادی کا سہرا لیا ، جو امریکہ آنے سے قبل یوروپ میں یہودیت پسندی کے لیے جدوجہد کررہی تھیں‌

    ایورل ہینس :ڈائریکٹر برائے قومی انٹلیجنس
    ایورل ہینس اوبامہ کے ماتحت سی آئی اے کی ڈپٹی ڈائریکٹر تھیں اور بائیڈن نے مبینہ طور پر انھیں اس ادارے کو چلانے کے لیے نامزد کیا ہے ۔ اس کی والدہ یہودی مصور ایڈرین رپیئن تھیں ، اور اس کے غیر یہودی والد نے ایک بار ہیینس کے ساتھ اسرائیل جانے والے سفر کے بارے میں ایک اکاؤنٹ میں لکھا تھا کہ نامزد شخص کی شناخت یہودی کے طور پر یاد رکھی جائے

    رونالڈ کلائن :چیف آف اسٹاف
    رونالڈ کلائن ایک طویل عرصے سے جوبائیڈن کی نظرمیں‌تھے اورصدرمنتخب ہونے سے پہلے ہی اس بڑے عہدے کے لیے چن لیا تھا ، اس سے قبل اپنے نائب صدر کے دنوں میں بائیڈن اور نائب صدر ال گور کے چیف آف اسٹاف تھے۔ انہوں نے انڈیانا پولس میں اپنی یہودی عبادات اوراس دوران یہودیت کے لیے جدوجہد کو فخرسے ہمیشہ بیان کیا ہے جہاں انہوں نے توریت یاد کی اوراس کی تعلیمات پر عمل کرنے کے ساتھ ساتھ ایک ٹیوٹر کے طورپرسامنے آئے اورہمیشہ اپنے بچوں کو یہودی مذہب کا مذہبی پیروکار بنانے کا عزم کیا

    ایرک لینڈر:پالیسی ڈائریکٹر برائے سائنس اور ٹیکنالوجی
    ایرک لینڈر کو اہک ماہر جنیاتی ماہر کی حیثیت سے جوبائیڈن نے اپنی کابینہ کا یہ بڑا عہدہ سونپ دیا ہے ہے

    ریچل لیوین:نائب وزیر صحت
    ریچل لیوین جس نے میساچوسٹس میں ایک قدامت پسند یہودی گھر میں پرورش پائی ہے ، پنسلوانیا کے سیکرٹری صحت ہیں۔ وہ پہلی ٹرانسجینڈر شخص ہیں جو کسی عہدے کے لئے نامزد کی گئیں ہیں جس کے لئے سینیٹ کی تصدیق کی ضرورت ہے۔

    ایلجینڈرو میورکاس :سکریٹری ہوم لینڈ سیکیورٹی
    صدر باراک اوباما کے ماتحت ہوم لینڈ سیکیورٹی کے نائب سکریٹری ، 60 سالہ میورکاس کیوبا میں ایک کیوبا کے یہودی والد اور رومانیہ کی یہودی والدہ کے ہاں پیدا ہوئے جو ہولوکاسٹ سے بچ گئے تھے۔ اس نے یہودی گروہوں کے ساتھ مل کر کام کیا ہے اور امریکی یہودیوں کو درپیش مخصوص خطرات کے بارے میں اکثرجدوجہد کرتے رہتے ہیں‌

    این نیوبرگر: ڈائریکٹر برائے قومی سلامتی ایجنسی برائے سائبرسیکیورٹی
    ایک آرتھوڈوکس یہودی ہیں‌ اصل میں بروکلین سے ہیں‌ اور قدامت پسند یہودی مدرسے سے تعلیم حاصل کی ہے ، نیوبرجر نے ایک دہائی سے زیادہ عرصہ سے NSA میں کام کیا ہے۔ اس نے یو ایس سائبر کمانڈ کو قائم کرنے میں مدد کی اور چیف رسک آفیسر کی حیثیت سے کام کیا

    وینڈی شرمین :نائب سکریٹری ریاست
    شیرمان 2015 کے ایران جوہری معاہدے کے لئے اہم مذاکرات کار تھا اور اس نے یہودی اور اسرائیل نواز جماعتوں کے ساتھ معاہدے کی وکالت کرنے میں پیش قدمی کی ، بعد ازاں اس معاہدے پر اسرائیل اور کچھ امریکی یہودی گروہوں کے ساتھ کشیدگی کو "انتہائی ، انتہائی تکلیف دہ” قرار دیا۔ انہوں نے ڈیموکریٹک پارٹی کے پلیٹ فارم کو اسرائیل کے روایتی خطوط پر استوار کرنے میں بھی اپنا کردار ادا کیا ہے۔

    جینٹ یلن :ٹریژری سکریٹری
    جینٹ یلن پہلے ہی فیڈرل ریزرو کی پہلی خاتون چیئر کے طور پر تاریخ رقم کرچکی ہیں ، لیکن اب انہیں پہلی خاتون ٹریژری سکریٹری مقرر کیا گیا ہے۔جینٹ یلن ایک قدامت پسند یہودی ہیں اورامریکہ اسرائیل سمیت دنیا بھرمیں یہودی مفادات کا تحفظ چاہتےہیں اوریہودیوں کی عالمی سطح پرمربوط اورمضبوط نیٹ ورکنگ کے ماہرہیں‌

  • نیب کا مولانا کے گرد گھیرا مزید تنگ کرنیکا فیصلہ،داماد کے بعد کس کو طلب کر لیا؟

    نیب کا مولانا کے گرد گھیرا مزید تنگ کرنیکا فیصلہ،داماد کے بعد کس کو طلب کر لیا؟

     

    نیب کا مولانا کے گرد گھیرا مزید تنگ کرنیکا فیصلہ،داماد کے بعد کس کو طلب کر لیا؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق نیب نے مولانا فضل الرحمان کے گرد گھیرا مزید تنگ کرنا شروع کر دیا ہے، نیب خیبرپختونخوا نے پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے بھائی کو طلب کرلیا۔

    نیب خیبرپختونخوا کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق پی ڈی ایم سربراہ مولانا فضل الرحمان کے بھائی ضیاء الرحمان کو سال2007 میں غیر قانونی طورپرپروونشل مینجمنٹ سروس میں شامل کیا گیا۔ اس کے علاوہ نیب نے سابق چیف سیکرٹری صاحبزادہ ریاض نور، سابق سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ صاحب جان اور سابق سیکرٹری گورنر احمد حنیف اورکزئی کو بھی طلب کیا ہے ان تمام افراد کو 27 اور 28 جنوری کو پشاور دفتر پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے

    نیب نے مولانافضل الرحمان کے خلاف دو انکوائریاں شروع کررکھی ہیں جب کہ گزشتہ روز ان کے داماد فیض علی کو بھی طلبی کا نوٹس جاری کیا گیا جنہیں 28 جنوری کو پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    پاکستان میں ہر کوئی اسرائیل کا سفیر بنا ہوا ہے،مولانا فضل الرحمان نے کیا پشاور میں اہم اعلان

    ن لیگ کی ناراض "مولانا ” کو ایک بار پھر منانے کی کوشش

    نواز شریف سے جیل میں نیب نے کتنے گھنٹے تحقیقات کی؟

    تحریک انصاف کا یوٹرن، نواز شریف کے قریبی ساتھی جو نیب ریڈار پر ہے بڑا عہدہ دے دیا

    بلی بارگین کرنے والے کو الیکشن لڑنے کی اجازت ہونی چاہئے، نیب ترمیمی بل سینیٹ میں پیش

    نیب آرڈیننس میں ترامیم کے بعد نیا مسودہ تیار

    نیب ترمیمی آرڈیننس 2019 کی مدت ختم، نیب کو پھر مل گئے وسیع اختیارات

    احسن اقبال کی گرفتاری، مریم اورنگزیب چیئرمین نیب پر برس پڑیں کہا جو "کرنا” ہے کر لو

    نواز شریف ایٹمی دھماکے کے مخالف تھے،میں ایٹمی دھماکوں کیلئے کس کو ملا تھا، شیخ رشید نے بتا دیا

    پاکستان اور بھارت کے مابین جنگ کا امکان ؟ شیخ رشید نے کی پیشنگوئی

    شیخ رشید کا ٹویٹر اکاؤنٹ بنانے اور چلانے والا چل بسا

    کرونا سے صحتیابی کی بعد شیخ رشید نے دیا صدقہ،کہا حالات بہتری کی طرف جا رہے ہیں،ایک لاکھ نوکریوں کا بھی اعلان

    ریلوے ٹریک ڈیتھ ٹریک بن چکا، سیکرٹری ، سی ای او اور تمام ڈی ایس فارغ کرنا پڑیں گے، چیف جسٹس

    الیکشن سے پہلے جھاڑو پھر جائے گا،پاکستان بدلنے جا رہا ہے، شیخ رشید

    مریم نواز کی طرف سے ملاقات کی باضابطہ دعوت نہیں آئی،مولانا نے شکوہ کر ہی دیا

    پشاور میں جے یو آئی کی تاریخی کانفرنس، عوام کا جم غفیر،مولانا فضل الرحمان کا خصوصی خطاب

    حالات وہاں تک مت لے جاو جہاں قوت برداشت جواب دے جائے،مولانا فضل الرحمان

    مولانا فضل الرحمان کی نیب پیشی سے قبل مولانا کا قریبی ساتھی گرفتار

    قبل ازیں جمعیت علما اسلام ف کے سربراہ فضل الرحمان کےخلاف کرپشن کے الزامات پر نیب نےسوال نامہ بھیج دیا، نیب کا مولانا فضل الرحمان کو بھیجا گیا سوال نامہ 26 سوالات پرمشتمل ہے۔ نیب نے مولانا فضل الرحمان ک جواب جمع کرانےکی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مولانافضل الرحمان جواب کے ساتھ ثبوت بھی پیش کریں، فضل الرحمان نے جواب جمع نہ کرایا توقانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔

    نیب کے سوال نامے میں کہا گیا ہے کہ فضل الرحمان اپنےوالد کےذرائع آمدن کی تفصیلات دیں، والد کی خریدی گئی اور وراثت میں ملنےوالی جائیداد ، اپنےاوراپنےخاندان کووالدین کی جانب سےملنےوالی وراثت کی تفصیل دیں جبکہ فضل الرحمان اپنے سالانہ ذرائع آمدن کی تفصیل بھی پوچھی گئی ہے۔

    نیب نے مولانا فضل الرحمان کی ملکیت جائیدادوں کاآمدن کاذریعہ بھی پوچھتے ہوئے کہا ہے کہ ڈی آئی خان میں 64 کینال کی مختلف زمین خریدنے کا ذریعہ آمدن ، بیٹے کے نام خریدی گئی 2 کینال 15مرلہ زرعی زمین کاذریعہ آمدن ، ملتان کینٹ میں بیٹےکےنام5مرلہ زمین خریدنے کا ذریعہ آمدن ، کوئی اورزمین جو آپ یا خاندان نےکسی اور کے نام خریدی اس کا ذریعہ آمدن بتائیں۔ گل اصغر، نور اصغر ،محمد جلال،شیربہادرسےآپ کا یا پارٹی کا کیاتعلق ہے جبکہ محمد اشرف، عبد الرؤف،شوکت خان،دین محمد ، یاسر،ابرارعلی شاہ،شریف اللہ،ٹکہ خان،حاجی شہزادہ ، ابراراحمداورمحمدرمضان سے بھی تعلق کے بارے میں پوچھا گیا ہے۔

    فضل الرحمان سے کہا گیا ہے کہ اپنے اورخاندان کوتحفےمیں ملنےوالےاثاثوں کی تفصیل ، آپ اورخاندان نےزمین کےعلاوہ جوکچھ خریدااس کی تفصیل جبکہ آپ اورخاندان نےزمین کےعلاوہ کسی اورکےنام بھی جوکچھ خریدا اس کی تفصیل دیں۔نیب نے فضل الرحمان سے بہن بھائیوں کی جانب سےزمین کےعلاوہ خریدی گئی جائیداد ک ی تفصیل ، ان کے اور ان کے خاندان کےجواثاثےفروخت کیےان کی تفصیل جبکہ وسروں کےنام پر تعمیر کیے گئے ہوٹل،دکانیں،گھرکی تفصیلات بھی طلب کی گئی ہے۔

    سوال نامے میں کہا گیا ہے کہ الیکشن اخراجات کی تفصیل جمع کرائیں، آپ کےاورخاندان کے بیرون ملک دوروں کے اخراجات اور مقاصدبتائیں جبکہ مولانا فضل الرحمان سے ان کی اور ان کے خاندان کے بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات اور اگر مولانافضل الرحمان کسی اورکااکاؤنٹ استعمال کررہے ہیں ، اس کی تفصیلات بھی مانگی گئی ہیں،نیب نے سوال کیا ہے کہ فضل الرحمان اپنی سرپرستی میں چلنے والے مدارس کی تفصیلات اور اپنےمدارس کے اکاؤنٹس، اثاثے سمیت رجسٹریشن کی تفصیل دیں۔

    سوال نامے کے مطابق فضل الرحمان اورخاندان مدارس سےحاصل ہونےوالی آمدنی ، ٹیکس گوشواروں کی تفصیلات بتائیں، اور سرکاری زمین جوآپ کو، قریبی دوستوں،پارٹی کے لوگوں کو ملی اس پررائے دیں۔نیب نے فضل الرحمان سے جماعت کے ملک اوربیرون ملک بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات بھی طلب کرتے ہوئے کہاہے کہ آپ کی پارٹی کوفنڈکون کرتاہے، پارٹی کےاثاثے بھی بتائیں۔نیب کا کہنا ہے کہ آپ اتنی شاہانہ زندگی کیسے گزاررہے ہیں،اخراجات کیسے پورے ہوتے ہیں، کیایہ درست ہے کہ آپ نےبھائی کی سرکاری نوکری کیلئے سیاسی اثر استعمال کیا۔

    ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیںگے لیکن نیب کے سامنے پیش نہیں ہونگے، مولانا کے قریبی ساتھی کا اعلان