Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • آرمی چیف سے چینی سفیر کی ملاقات،اہم امور پر ہوئی بات

    آرمی چیف سے چینی سفیر کی ملاقات،اہم امور پر ہوئی بات

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ سے چینی سفیرنونگ رونگ کی ملاقات ہوئی ہے

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں باہمی دلچسپی کےامور اورخطےکی صورتحال پرتبادلہ خیال کیا گیا،ملاقات جی ایچ کیو میں ہوئی

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں دونوں ممالک کے مابین تعلقات کو مزید بہتر بنانے کا عہد کیا گیا۔ ملاقات میں باہمی مثالی تعلقات کومزید مضبوط ومستحکم کرنےپراتفاق کیا گیا،چینی سفیر نے نے خطے میں تنازعات کی روک تھام کے لئے پاکستان کے کردار کو تسلیم کیا اور ان کی تعریف کی

    کشمیر سے متعلق سوال پر ٹرمپ نے کیا جواب دیا؟ جان کر ہوں حیران

    سی پیک بارے امریکی بیان اندرونی معاملات میں مداخلت ،امریکہ باز آ جائے، رضا ربانی

    امریکہ نے سی پیک بارے ایسی کیا بات کی کہ چینی سفیر ناراض ہو گئے

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سی پیک اتھارٹی آرڈیننس پر دستخط کردیئے

    سی پیک کے خلاف امریکی سازشیں، اسد عمر میدان میں آ گئے،ایسا جواب دیا کہ….

    سی پیک کے خلاف امریکی سازشیں، امریکی سفیربھی بول پڑے، کیا کہا؟

    حکومت چینی سرمایہ کاروں کوہرممکن سہولت کی فراہمی کواولین ترجیح دے گی،وزیراعظم

  • پارلیمانی رہنماؤں کا اجلاس طلب،عسکری حکام کی جانب سے قومی سلامتی کے موجودہ امور پر ہو گی بریفنگ

    پارلیمانی رہنماؤں کا اجلاس طلب،عسکری حکام کی جانب سے قومی سلامتی کے موجودہ امور پر ہو گی بریفنگ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے پارلیمانی رہنماؤں کا اجلاس بلانے کے لیے نوٹس جاری کر دیئے گئے

    اسپیکرقومی اسمبلی نے قومی اسمبلی اورسینیٹ میں پارلیمانی رہنماؤں کا اجلاس طلب کرلیا ،اجلاس اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیرصدارت 11 نومبر کو دوپہر 2بجے ہوگا،اجلاس میں عسکری حکام کی جانب سے قومی سلامتی کے موجودہ امور پر بریفنگ دی جائے گی

    پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرین سے بلاول بھٹو زرداری، ایم ایم اے سے اسعد محمود مدعو،پی ٹی آئی سے ڈپٹی پارلیمانی لیڈرشاہ محمود قریشی، مسلم لیگ ن سے خواجہ آصف کو دعوت دی گئی ہے،عوامی نیشنل پارٹی سے امیر حیدر، اعظم خان کو اجلاس میں مدعو کیا گیا ہے ،جی ڈی اے سے غوث بخش خان مہر،عوامی مسلم لیگ سے شیخ رشید احمد شریک ہونگے

    بلوچستان عوامی نیشنل پارٹی سے خالد حسین مگسی کو اجلاس میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے،بی این پی سے اخترمینگل، ایم کیو ایم سے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کو دعوت دی گئی ہے،مسلم لیگ ق سے چودھری طارق بشیر چیمہ کو مدعو کیا گیا ہے

    سینیٹ سے سینیٹرز مشاہد اللہ خان، شیری رحمان، محمد علی خان سیف کومدعو کیا گیا ہے،سینیٹر میرکبیر شاہی، مولانا عبدالعفور حیدری، عثمان خان کاکڑ، سراج الحق ،سینیٹرستارہ ایاز، جہانزیب جمالدینی، انوار الحق کاکڑ اور سینیٹر اورنگزیب خان کو دعوت دی گئی ہے.

    وفاقی وزرا میں پرویزخٹک، اعجازشاہ، علی امین گنڈاپور، شفقت محمود شریک ہوں گے ،وفاقی وزرا اسد عمر، شبلی فراز اور وزیراعظم کے مشیر بابر اعوان بھی مدعو،معاون خصوصی معید یوسف اجلاس میں خصوصی شرکت کریں گے،اٹارنی جنرل خالد جاوید خان، گورنرگلگت بلتستان راجا جلال حسین مقپون کو دعوت نامہ جاری کر دیا گیا،قائم مقام وزیراعلیٰ گلگت بلتستان میر افضل کو خصوصی شرکت کیلئے دعوت نامہ جاری کیا گیا ہے،اجلاس میں صدرآزاد کشمیر سردار مسعود خان اور وزیراعظم راجا فاروق حیدر کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی ہے

  • بھارت کوکوئی تحفظات ہیں تو عدالت سے رجوع کرسکتا ہے،کلبھوشن کیس میں عدالت کے ریمارکس

    بھارت کوکوئی تحفظات ہیں تو عدالت سے رجوع کرسکتا ہے،کلبھوشن کیس میں عدالت کے ریمارکس

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں کلبھوشن یادیو کو وکیل فراہم کرنے کی حکومت کی درخواست پرسماعت ہوئی.

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کیا بھارتی سفارت خانے کے تحفظات ختم کرنے کی کوشش کی گئی،جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ بھارت جان بوجھ کر عدالتی کارروائی کا حصہ بننے سے انکار کرر ہا ہے،

    چیف جسٹس نے کہا کہ عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر عملدرآمد کیلئے ہمیں معاونت چاہیے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ بھارت وکیل کے ذریعےاس عدالتی کارروائی کا حصہ بن سکتا ہے،بھارت کہتا ہے کہ اگرہم نے وکالت نامہ جمع کرایا تو وہ ہماری خودمختاری کے خلاف ہے

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر بھارت کوکوئی تحفظات ہیں تواس عدالت سے رجوع کرسکتا ہے،

    واضح رہے کہ بھارتی ایجنٹ کلبھوشن یادیو کی سزا سے متعلق عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر عمل درآمد ،حکومت نے فیئر ٹرائل کے تقاضے پورے کرنے کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر رکھی ہے

    وزارت قانون و انصاف نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا،حکومت نے حال ہی میں جاری کیے گئے صدارتی آرڈیننس کے تحت درخواست دائر کی، اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ قومی مفاد میں عدالت بھارتی ایجنٹ کلبھوشن یادیو کی جانب سے قانونی نمائندہ مقرر کرے،

    دائر درخواست میں مزید کہا گیا کہ کلبھوشن یادیونےسزاکیخلاف اپیل سےانکارکیا، کلبھوشن بھارتی معاونت کے بغیر پاکستان میں وکیل مقررنہیں کرسکتا،بھارت بھی آرڈیننس کے تحت سہولت حاصل کرنے سے گریزاں ہے،

    واضح رہے کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو 3 مارچ 2018ء کو پاکستان ایران سرحدی علاقے سے گرفتار کیا گیا تھا، یہ بھارتی جاسوس بھارتی نیوی کا حاضر سروس افسر اور ”را“ کے ایجنٹ کے طور پر کام کر رہا تھا۔ کلبھوشن یادیو کی گرفتاری پر حکومت پاکستان نے بھارتی سفیر کو طلب کرکے انڈین جاسوس کے غیر قانونی طور پر پاکستان میں داخلے اور کراچی اور بلوچستان میں دہشت گردی میں ملوث ہونے پر باضابطہ احتجاج کیا۔ اس کے بعد کلبھوشن یادیو کے اعترافی بیان کی ویڈیو جاری کی گئی۔

    کلبھوشن کی گرفتاری کے ایک ماہ بعد اپریل 2018ء میں اس کے خلاف دہشتگردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا، جس کے بعد پاکستان کی فوجی عدالت نے کلبھوشن یادیو کو دہشتگردی کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا مجرم قرار دیتے ہوئے سزائے موت سنا دی۔

    پاکستان کا کلبھوشن کے معاملے پربھارت سے دوبارہ رابطہ

    کلبھوشن کا وکیل مقرر کرنے کی درخواست پر سماعت کے لئے لارجر بینچ تشکیل

    کلبھوشن کی سزا کیخلاف ہائی کورٹ میں اپیل داخل کرنے کی مدت ختم

    کلبھوشن کا نام لینے یا نہ لینے پر حب الوطنی یا غداری کا سرٹیفیکیٹ جاری ہوتاتھا اب سہولت کاری کیلیے قانون بن رہا ہے، خواجہ آصف

    کلبھوشن یادیوتک قونصلر رسائی، بھارت مان گیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھارت کو کلبھوشن تک قونصلر رسائی کا ایک اور موقع دے دیا

    کلبھوشن یادیو کیس ،حکومت کا عالمی عدالت انصاف آرڈیننس میں توسیع کا فیصلہ

    کلبھوشن کیس میں بھارت کی کیا کوشش ہے؟ ترجمان دفتر خارجہ نے بتا دیا

    گزشتہ برس مئی میں بھارت نے اپنے جاسوس کلبھوشن یادیو کی پھانسی رکوانے کے لیے عالمی عدالت انصاف میں درخواست دائر کی تھی۔ 15 مئی کو بھارتی درخواست پر سماعت کا آغاز ہوا،نیدرلینڈز کے شہر دی ہیگ میں قائم عالمی عدالت اںصاف نے بھارت کی درخواست پر اٹھارہ سے اکیس فروری تک اس مقدمے کی سماعت کی تھی

  • جوبائیڈن کے آنے سے سعودی عرب کے لیے مشکلات کھڑی ہوگئیں

    جوبائیڈن کے آنے سے سعودی عرب کے لیے مشکلات کھڑی ہوگئیں

    جوبائیڈن کے آنے سے سعودی عرب کے لیے مشکلات کھڑی ہوگئیں
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق امریکہ کے نومنتخب صدر جوبائیڈن کا سعودی عرب کے حوالہ سے بیان سامنے آیا ہے جو پرانا ہے جس سے اس امر کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آنے والے دن سعودی عرب کے لئے سخت ہیں

    جوبائیڈن کے صدر منتخب ہونے کے بعد امریکہ کی سعودی عرب کے حوالہ سے پالیسی بدلے گی یا نہیں اس حوالہ سے جوبائیڈن کی ایک رپورٹ کو اہمیت دی جا رہی ہے ،خبر رساں ادارے ٹی آر ٹی کی رپورٹ کے مطابق جوبائیڈن کی سعودی عرب کے حوالہ سے پالیسی تبدیل ہو گی

    جوبائیڈن سعودی حکمرانوں کے سخت خلاف ہیں،جوبائیڈن کی جیت کے بعد محمد بن سلمان کے اقتدار کو خطرہ نظر آ رہا ہے،جوبائیڈن نے جمال خشوگی کے قتل کا ذمہ دار محمد بن سلمان کو قرار دیا تھا،یمن میں انسانی حقوق کی پامالی ، بجوں کے قتل کاذمہ داربھی سعودی عرب کو قرار دیا گیا تھا

    رپورٹ کے مطابق ایران کے حوالے سے جوبائیڈن نرم دل ایران سے پابندیاں ہٹالیں گے .سعودی عرب پردباوبڑھانے کے لیے پابندیوں کی دھمکیوں کی آڑ میں بڑی بڑی تبدیلیاں کروائی جائیں گی ،سعودی عرب کو اسلحے کی فراہم روک دی جائے گی سعودی عرب کے قدیم اسلامی نظام حکومت کوخطرات درپیش ہوں گے

    سعودی عرب میں محمد بن سلمان کے اقتدارکوجوبائیڈن پسند نہیں کرتے ، محمد بن سلمان کے ساتھ کوئی بھی سانحہ ہوسکتا ہے ،جوبائیڈن سعودی عرب ، امارات ، مصر اور ایسے ہی دیگر سعودی حمایتیوں کے لیے بھی سخت پالیسیاں لانا چاہتے ہیں

    جوبائیڈن نیا سعودی عرب چاہتے ہیں ، دوصورتیں ہوں اگرسعودی عرب دباو میں آگیا تو رہی سہی کسر بھی سعودی معاشرے کی ختم ہوجائے گی اوراس صورت میں سعودی عرب میں بغاوت ہوگی ،اگرمحمد بن سلمان جوبائیڈن کی بات نہیں مانیں گے تو پھر خود محمد بن سلمان بدلے جائیں گے ،سعودی عرب پراگلے آنے والے دنوں میں سخت پابندیا ں لگنے کا بھی امکان ہے جبکہ جمال خشوگی کے قتل کامعاملہ پھر اٹھا دیا جائے گا

    دوسری جانب ایک خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارتی انتخابات میں جیت اور کامیابی کے لئے اربوں ڈالر صرف کئے جو سب ضائع اور برباد ہوگئے ہیں۔ یمن کی اعلی کونسل کے سربراہ احمد حامد نے امریکہ کی صدارتی انتخابات میں ٹرمپ کی شکست کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب نے ٹرمپ کی جیت کے سلسلے میں بڑا سرمایہ لگایا تھا جو ٹرمپ کی شکست کے نتیجے میں ضائع‏ اور برباد ہوگیا ہے ۔

    احمد حامد نے کہا کہ ہمارے نزدیک ٹرمپ اور بائیڈن میں کوئی فرق نہیں دونوں صہیونیوں اور اسرائیل کے حامی ہیں، لیکن سعودی عرب ، بحرین اور متحدہ عرب امارات نے ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابات میں جیت کے لئے سرتوڑ کوشش کی اور سرمایہ لگایا نیزاسرائیل کی غاصب صہیونی حکومت کو بھی تسلیم کیا اور اس کے ساتھ ساتھ اربوں ڈالر بھی خرچ کئے لیکن ٹرمپ کو پھر بھی شکست ہوگئی۔ٹرمپ کی شکست کا یہ مطلب نہیں کہ بائیڈن اچھا ہے بائیڈن بھی صہیونیوں کا حامی اور طرفدار ہے اور اسلام و مسلمانوں کا چھپا ہوا دشمن ہے۔

    واضح رہے کہ سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے امریکا کے نومنتخب صدر جوزف بائیڈن اور ان کی ساتھی نومنتخب نائب صدر کمالا ہیرس کو صدارتی انتخابات میں جیت پر اتوار کے روز مبارک باد دی تھی ،

    امریکا میں گذشتہ منگل کے روز منعقدہ صدارتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار جوزف بائیڈن نے موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو شکست سے دوچار کیا ہے اور وہ امریکا کے چھیالیسویں صدر منتخب ہوئے ہیں۔جوبائیڈن کی ساتھی امیدوار کمالاہیرس امریکا کی پہلی خاتون نائب صدر منتخب ہوئی ہیں ۔انھوں نے ٹرمپ کے ساتھی امیدوار مائیک پینس کو شکست سے دوچار کیا ہے۔وہ امریکا کی پہلی سیاہ فام اور جنوب ایشیائی نژاد خاتون نائب صدر بھی ہیں۔

  • میر شکیل الرحمان کی درخواست ضمانت، سپریم کورٹ نے بڑا فیصلہ سنا دیا

    میر شکیل الرحمان کی درخواست ضمانت، سپریم کورٹ نے بڑا فیصلہ سنا دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جنگ اور جیو گروپ کے ایڈیٹرانچیف میر شکیل الرحمان کی درخواست ضمانت پر سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے میرشکیل الرحمان کی ضمانت منظورکر لی ،10کروڑروپے کے ضمانتی مچلکوں کےعوض ضمانت منظورکی گئی ،سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے دس کروڑ کے مچلکوں کے عوض میر شکیل الرحمان کو ضمانت دے دی۔

    جسٹس مشیرعالم کی سربراہی میں سپریم کورٹ کی تین رکنی بنچ نے سماعت کی ،سپریم کورٹ کے بینچ میں جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس قاضی امین شامل تھے،میر شکیل الرحمان کے وکیل امجد پرویز ایڈووکیٹ نے دلائل دیئے اور کہا کہ میر شکیل کوالاٹ زمین سےقومی خزانےکو ایک پینی کا بھی نقصان نہیں ہوا،میر شکیل الرحمان کو 12 مارچ کو گرفتار کیا گیا،انکوائری کے وقت میر شکیل الرحمان کی گرفتاری عمل میں لائی گئی، اس پورے معاملے میں قومی خزانے کا ایک دھیلے کا نقصان نہیں ہوا، کل رقبہ پالیسی کے مطابق 54 کنال 5 مرلہ بنتا ہے،ڈی جی ایل ڈی اے نے میر شکیل الرحمان کو خط لکھا،22-5-1986 کو میر شکیل الرحمان کو اس اراضی کی پاور آف اٹارنی ملی

    جسٹس قاضی امین نے استفسار کیا کہ یہ اراضی درخواست گزار نے کب لی، جس پر امجد پرویز ایڈوکیٹ نے کہاکہ اس وقت کے ڈی جی ایل ڈی اےنے اس درخواست کو مسترد کر دیا تھا، وراثتی اراضی پر عبوری تعمیرات کے لیے 1986 میں درخواست دی،کل رقبہ پالیسی کے مطابق 54 کنال 5 مرلہ بنتا ہے، درخواست گزار کے پاس 180 کنال 18 مرلہ کل رقبہ ہے،محمد علی جوہر ٹاؤن بنانے کے لیے یہ اراضی حاصل کی گئی،12 مارچ کو وارنٹ گرفتاری بھی جاری ہوئے، موجودہ ریفرنس 4 لوگوں کے خلاف دائر ہوا،اس کیس میں درخواست گزار کے علاوہ کسی ایک کو بھی گرفتار نہیں کیا گیا،یہ 180 کنال 18 مرلہ 1982 میں ایل ڈی اے نے ایکوائر کی،مالک محمدعلی کے انتقال کے بعد یہ وراثت 1985 میں تقسیم ہو ئی،اس وقت کے ڈی جی ایل ڈی اےنے اس درخواست کو مسترد کر دیا تھا، میر شکیل الرحمان کو ایک ایک کنال کے 54 پلاٹ ملے ہیں،

    جسٹس قاضی امین نے استفسار کیا کہ کیا نیب نے قومی خزانے کو نقصان کا کوئی سوال اٹھایا ہے، امجد پرویز ایڈوکیٹ نے کہا کہ نیب نے ایک روپے کے نقصان کا سوال نہیں اٹھایا،یہ کیس کسی حکومتی ادارے کے بجائے ایک شہری کے دائر کرنے پر ہوا،جسٹس یحیٰ آفریدی نے استفسار کیا کہ کیا اس وقت میر شکیل کے قبضے میں 54 کنال سے زیادہ اراضی ہے،امجد پرویز ایڈوکیٹ نے کہا کہ 4 کنال 12 مرلے اراضی زائد قبضے میں ہونے کا الزام ہے،یہ اراضی راستے کے طور پر دی گئی،اس وقت 60 ہزار روپے فی کنال رقم رکھی گئی،نیب کا یہ کیس نہیں کہ اراضی کی رقم ادا نہیں کی گئی،

    جسٹس یحییٰ آفریدی نے استفسار کیا کہ کیا یہ رقم آج بھی واجب الادا ہے،ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نیب نے کہا کہ جی ہمارا یہ کیس بھی ہے، امجد پرویز ایڈوکیٹ نے کہا کہ ایل ڈی اے کو رقم پالیسی کے مطابق 1987 میں ادا کردی گئی ہے، نیب کا کیس ہے پالیسی کے تحت نہیں بلکہ مارکیٹ ریٹ پررقم ادا کرنی تھی، عدالت نے کہا کہ آپ نے دیکھنا ہے کہ آپ کا کیس پالیسی کے تحت درست بنتا ہے؟ کیا اس سارے عمل میں کوئی چیز بھی پالیسی کے برعکس نہیں تھی؟نیب بتائےاس جج کے پاس کتنے کیس زیرالتواہ یں جہاں میر شکیل کا کیس ہے،نیب اس احتساب عدالت میں زیر التوا مقدمات کے گواہان کی تعداد بھی بتائے،

    امجد پرویز ایڈوکیٹ نے کہا کہ میر شکیل الرحمان نے 1987 میں پاور آف اٹارنی حاصل کی، کیس یہ ہے کہ 4 کنال 12 مرلہ کی اضافی زمین حاصل کی گئی،جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ آپ پر الزام ہے کہ آپ نے سڑکوں کی زمین حاصل کی، امجد پرویز ایڈوکیٹ نے کہا کہ جو اضافی زمین حاصل کی گئی اس کو یہ سڑکیں کہہ رہے ہیں،لاہور کا ماسٹر پلان 27 اگست 1990 میں منظور ہوا، میر شکیل الرحمان نے زمین 1987 میں خریدی اور اضافی زمین کی قیمت بھی ادا کیخریدی گئی زمین پر تعمیرات ایل ڈی اے کی منظوری کے بعد کی گئیں، آج تک ان تعمیرات پر کوئی اعتراض نہیں اٹھایا گیا،34 سال بعد اچانک کیس آ گیا، اضافی زمین کی قیمت 1987 کے ریٹ کے مطابق ادا کر دی گئی تھی،

    سینئر صحافی مطیع اللہ جان کا میر شکیل الرحمان کی ضمانت منظور ہونے پر کہنا تھا کہ سپریم کورٹ میں ضمانت درخواستوں پر ایڈوکیٹ امجد پرویز نے طویل بحث کے بعد جب میر شکیل الرحمان کے خلاف الزامات کی قلعی کھول دی تو نیب کے وکیل ضمانت کی مخالفت سے دستبردار ہو گئے۔ نیب کے وکیل معزز ججوں کے سوالات کا جواب نہ دے سکے تو معزز ججوں نے بھی ضمانت درخواست کے میرٹ پر رائے نہ دی

    جنگ و جیو گروپ کے ہیڈ میر شکیل الرحمان کی لاہور ہائیکورٹ نے ضمانت کی درخواست مسترد کر دی تھی جس پر انہوں نے سپریم کورٹ سے رجوع کر رکھا تھا.جیو جنگ کے مالک میر شکیل الرحمن کو نیب نے گرفتار کیا تھا،جیو،جنگ پرنواز شریف کی نوازشات، لاہور کی قیمتی ترین 54 کنال اراضی کا تحفہ ،نیب نے میر شکیل کونیب آفس بلایا جہاں وہ سوالات کے جوابات نہ دے سکے جس پرنیب نے میر شکیل الرحمن کو گرفتار کرلیا تھا

    اس سے قبل میر شکیل الرحمان 5 مارچ کو پہلی مرتبہ اس کیس میں پیش ہوئے تھے، میر شکیل نے پہلی پیشی میں تین ملازم اور دو بچے نیب دفتر ساتھ لے جانے کی درخواست کی تھی تاہم ملازم ساتھ لانے کی درخواست مسترد کردی گئی تھی اور بچوں کو نیب دفتر میں داخلے کی اجازت دی گئی۔

    ‏لاہور ہائیکورٹ نے میر شکیل الرحمان کی درخواست ضمانت خارج کردی

    کسی سیٹھ کی مالی معاملات میں ہونے والی گرفتاری کو میڈیا کی‌ آزادی کے ساتھ جوڑنا صحافتی اقدار کی نفی ہے،فردوس عاشق اعوان

    مریم نواز کے وکلاء نے ہی مریم نواز کی الیکشن کمیشن میں مخالفت کر دی، اہم خبر

    صرف اللہ کوجوابدہ ،کوئی کچھ بھی رائے رکھےانصاف کے مطابق فیصلہ دیں گے، عدالت کےحمزہ کیس میں ریمارکس

    حمزہ شہباز کو جیل میں کیوں رکھا ہوا ہے؟ مریم اورنگزیب نے کیا بڑا انکشاف

    حمزہ شہباز، میر شکیل الرحمان کی رہائی کیلئے پنجاب اسمبلی میں قرارداد جمع

    نواز شریف کے وارنٹ ،عدالت کا تحریری حکم بھی آ گیا

    میر شکیل الرحمان کیس میں کیا غلط ہوا؟ سنئے مبشر لقمان کا کھرا سچ

    میر شکیل سے استقبالیہ پر شناختی کارڈ لیا گیا اور اندراج رجسٹر پر دستخط کروائے گئے جس کے بعد انھیں کمرہ نمبر 2 میں لے جایا گیا جہاں اس سے قبل نواز شریف اور شہباز شریف سے بھی تفتیش ہو چکی ہے

  • گستاخانہ خاکے:وزیراعظم کےٹویٹ پراسرائیلی این جی او کی شرانگیزی ،وزیراعظم عالم کفرکوکھٹکنےلگے

    گستاخانہ خاکے:وزیراعظم کےٹویٹ پراسرائیلی این جی او کی شرانگیزی ،وزیراعظم عالم کفرکوکھٹکنےلگے

    اسلام آباد:گستاخانہ خاکے:وزیراعظم کےٹویٹ پراسرائیلی این جی او کی شرانگیزی ،وزیراعظم عالم کفرکوکھٹکنےلگے،اطلاعات کے مطابق اسلام مخالف ایجنڈے پر کھل کر بات کرنے والے وزیر اعظم پاکستان عمران خان اسرائیل نواز این جی او کو کھٹکنے لگے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے فرانسیسی صدر کے بیان پر ردِ عمل میں کہا تھا کہ آزادی اظہار رائے کی آڑ میں توہین مذہب قبول نہیں۔

    فرانس میں حضورﷺ کی شان میں گستاخی کے خلاف وزیر اعظم عمران خان کے ٹویٹ پر اسرائیل نواز این جی او ’یو این واچ‘ نے سوشل میڈیا پر نفرت انگیزی کا مظاہرہ کیا جس پر وزارت مذہبی امور نے برہمی کا اظہار کیا ہے۔

     

    اپنے بیان میں وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ سے ملتےجلتے نام والے تنظیم (واچ UN) کا اظہار غم و غصہ اسرائیل کی ترجمانی ہے، اسلاموفوبیا اور توہین آمیز خاکوں پر وزیراعظم کا ردعمل اصولی ، مدلل اور امہ کی ترجمانی ہے، لگتا ہے اسلام دشمن اور امن عالم کے خلاف سازش کرنے والے عناصر کو وزیراعظم نے تکلیف پہنچائی ہے۔

    واضح رہے کہ یو این واچ کا اقوام متحدہ سے کوئی تعلق نہیں، صرف ملتاجلتا نام رکھا گیا ہے، یو این واچ نامی این جی او کو اسرائیلی گروپس کی سرپرستی حاصل ہے۔

    وزیر اعظم عمران خان نے اقوام متحدہ میں دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کی تھی، عمران خان سے پہلے کبھی کسی نے اسلام دشمنوں کو اتنا کھل کر جواب نہیں دیا تھا۔

    یاد رہے کہ 25 اکتوبر کو وزیر اعظم عمران خان نے ٹوئٹ میں کہا تھا کہ فرانسیسی صدر کے بیان سے کروڑوں مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے، فرانسیسی صدر نے جان بوجھ کر اسلام پر حملہ کر کے اسلامو فوبیا کی حمایت کی، وہ انتہا پسندی مسترد کرنے کی بجائے تقسیم کو بڑھاوا دے رہے ہیں۔

     

    وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ جہالت پر مبنی بیانات انتہا پسندی کو مزید فروغ دیتے ہیں، دنیا مزید تقسیم کی متحمل نہیں ہو سکتی، لیڈر کی پہچان یہ ہے کہ وہ انسانوں کو متحد کرتا ہے، جیسے نیلسن منڈیلا نے تقسیم کی بجائے لوگوں کومتحد کیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ اسلام اور ہمارے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نشانہ بنانے والے گستاخانہ کارٹونز کی نمائش کی حوصلہ افزائی کے ذریعے فرانسیسی صدر میکرون نے واضح طور پر اس کے بارے میں کچھ سمجھے بغیر، یورپ اور پوری دنیا کے لاکھوں مسلمانوں کے جذبات پر حملہ کیا ہے۔

    وزیر اعظم نے ٹویٹ میں لکھا کہ بدقسمتی کی بات ہے کہ صدر میکرون نے دہشت گردی کرنے والے دہشت گردوں (خواہ وہ مسلمان ہوں، سفید فام بالادست ہوں یا نازی نظریہ پسند) کی بجائے اسلام پر حملہ کر کے اسلامو فوبیا کی حوصلہ افزائی کا انتخاب کیا ہے، افسوس کی بات ہے صدر میکرون نے جان بوجھ کر مسلمانوں اور اپنے شہریوں کو مشتعل کرنے کا انتخاب کیا ہے۔

  • بین الاقوامی ایجنسی نے 188 ممالک میں پی آئی اے پرپابندی لگانے کی دھمکی دے دی

    بین الاقوامی ایجنسی نے 188 ممالک میں پی آئی اے پرپابندی لگانے کی دھمکی دے دی

    اسلام آباد : خبردار:اگرپاکستانی پائیلٹس بین الاقوامی معیارپرپورا نہ اترے تو188 ممالک میں پی آئی اے پرپابندی لگ سکتی ہے،اطلاعات کے مطابق اقوام متحدہ کی ایک خصوصی ایجنسی انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن (آئی سی اے او) کی ضرورت کے مطابق پائلٹ لائسنسنگ کے حوالے سے بین الاقوامی معیار پر پورا نہ اترنے پر پاکستان میں کام کرنے والی ایئر لائنز کو دنیا کے 188 ممالک میں چلانے پر پابندی عائد ہوسکتی ہے۔

    پی آئی اے پہلے ہی لائسنس اسکینڈل کے الزام میں برطانیہ اور یورپی یونین کے لئے پرواز سے روک دیا گیا ہے۔اوراگراس عالمی ایجنسی کی طرف سے پابندی عائد ہوتی ہے تویہ پی آئی اے کے لیے تباہی سے کم نہ ہوگا

    ذرائع کے مطابق آئی سی اے او نے اپنے 179 ویں اجلاس کے 12 ویں اجلاس میں اپنے ممبر ممالک کو اہم حفاظتی تحفظات (ایس ایس سی) سے نمٹنے کے لئے ایک طریقہ کار کی منظوری دی۔

    پاکستان کو آئی سی اے او کی رکن ریاست ہونے کی وجہ ان آٹھ ممالک میں‌ شامل کیا گیا تھا جو ایس ایس سی سے نمٹنے میں ناکام رہے تھے۔

    آئی سی اے او نے پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کو ملک میں سول ایوی ایشن کے سلامتی کے خدشات کے پیش نظر ایک سخت انتباہ بھی جاری کیا۔

    ذرائع کے مطابق اس عالمی ایجنسی برائے ہوا بازی نے 3 نومبر کو اپنے خط میں کہا ہے کہ پی سی اے اے پائلٹ کے لئے لائسنس دینے کے عمل کے سلسلے میں اہلکاروں کے لائسنس اور تربیت کے حوالے سے بین الاقوامی معیار کو پورا کرنے میں ناکام رہا ہے۔

    اس عالمی ایجنسی برائے ہوابازی نے دھمکی دی ہے کہ ایسی صورت میں پاکستان کے ہوائی جہاز اور پائلٹوں کو دنیا کے 188 ممالک میں پرواز سے روکنے کا امکان ہے۔

    یاد رہےکہ چند ماہ قبل وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے کہا تھاکہ پی آئی اے کے 141 سمیت 262 پائلٹس بوگس دستاویزات کے ذریعے نوکریاں کررہے ہیں ، جس کا دنیا بھر میں نوٹس لیا گیا تھا

    آئی سی اے او کی طرف سے جاری کردہ انتباہ کے بارے میں بات کرتے ہوئے پاکستان ایئر لائنز پائلٹس ایسوسی ایشن (پالپا) کے ترجمان نے کہا: "اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے اور یہ پاکستان کی ہوا بازی کی صنعت کے لئے ایک مکمل تباہی ہوسکتی ہے”۔

    انہوں نے مزید کہا ، "پالپا جون 2020 سے اس مسئلے کو اٹھا رہے تھی لیکن بدقسمتی سے اس سے متعلقہ حکام نے نظرانداز کیا”۔

    "پالپا نے بین الاقوامی طرز عمل کے مطابق نظام کو ازسر نو تشکیل دینے کے لئے متعدد آپشنز بھیجے تھے اور پیش کش بھی دی تھی۔”

    پالپا نے وزیر اعظم عمران خان سے درخواست کی ہے کہ وہ مداخلت کریں اور ایک خصوصی ٹاسک فورس تشکیل دیں تاکہ اس معاملے کو فوری طور پر حل کیا جاسکے۔

    خیال رہے کہ آئی سی اے او کی جانب سے دیئے گئے 90 دن کی میعاد ختم ہونے کے بعد اگر پاکستان دیگر چار ممالک ان عالمی اصولوں پرپورا نہیں اترتے تو پھر اس کے رجسٹرڈ ہوائی جہاز اور پائلٹوں کو 188 ممالک میں پرواز کرنے سے روک دیا جائے گا

  • پاکستان نےسعودی عرب کےدوارب ڈالرواپس کرنےکا فیصلہ کرلیا

    پاکستان نےسعودی عرب کےدوارب ڈالرواپس کرنےکا فیصلہ کرلیا

    اسلام آباد: پاکستان نےسعودی عرب کےدوارب ڈالرواپس کرنےکا فیصلہ کرلیا:واپسی کے ساتھ ہی پاکستان فیصلہ کرلے گا،اطلاعات کے مطابق معتبر ذرائع کے حوالے سے معلوم ہوا ہےکہ پاکستان نے سعودی عرب کے رویے کے باعث بہت جلد دو ارب ڈالر کا قرض واپس کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے:

    ذرائع کے مطابق پاکستان نے یہ کڑوا گھونٹ اس لیے جلد پینا گوارا کرلیا کہ وہ سعودی عرب کے متکبرانہ رویوں کو نظرانداز کرسکے ، اس صورت میں‌پھرپاکستان کوان ممالک کی طرف سے امداد کی پیش کش بھی ہوسکتی ہے جوسعودی حکومت کے خلاف ہیں

    معتبرذرائع کا یہ بھی کہنا ہےکہ پاکستان مزید قرضے کے حصول کے لئے مختلف اختیارات کی تلاش میں ہے جس کا مقصد اپنی موجودہ سطح پر 12 ارب ڈالر سے زائد کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو برقرار رکھنا ہے۔

    وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق سعودی قرضوں کی 1 بلین ڈالر کی دوسری قسط اگلے ماہ اداہونے والی ہے اور اس بات کا امکان موجود ہے کہ حکومت اس قرضے کے دو سال بعد ہی واپس کردے گی۔

    اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کی پاکستان کوامداد جس کا تخمینہ 6.2 بلین ڈالر ہے نے وزیر اعظم عمران خان کی حکومت کو بین الاقوامی قرضوں کی ذمہ داریوں پر عدم استحکام سے بچنے میں مدد فراہم کی تھی۔

    دوسری طرف "وزارت خارجہ نے ایک سخت ردعمل میں کہا ،” یہ دوبرادرحکومتوں کا اندورونی معاملہ ہےکسی کورائے دینے کی ضرورت نہیں‌

    لیکن ایک اعلی سرکاری عہدیدار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ اس بات کا امکان موجود ہے کہ پاکستان اگلے ماہ رقم واپس کردے گا۔

    وزیر اعظم نے پیکیج کو محفوظ بنانے کے لئے سعودی عرب کے دو دورے کیے ، جس سے پی ٹی آئی کی حکومت کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ معاہدے پر بات چیت کرنے کی اجازت مل گئی۔

    سعودی عرب نے پاکستان کو تین سالوں کے لئے 6.2 بلین ڈالر مالیت کا مالی پیکیج فراہم کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ اس میں 3 ارب ڈالر کی نقد امداد اور 3.2 بلین ڈالر کی سالانہ تیل و گیس کی فراہمی کی صورت میں موخر ادائیگیوں پر شامل ہے۔

    ذرائع کے مطابق اس حوالے سے پاکستان کے مرکزی بینک نے حکمت طئے کرنا شروع کردی ہے

    حکومت آئی ایم ایف کے معطل 6 بلین پروگرام کو بھی بحال نہیں کر سکی ، جس کی وجہ سے بغیر کسی رکاوٹ غیر ملکی آمد کو جاری رکھنا مشکل ہو رہا ہے۔

  • میں فوج کے خلاف نوازشریف کے بیانیے کی حمایت کرتا ہوں : مولانا فضل الرحمان

    میں فوج کے خلاف نوازشریف کے بیانیے کی حمایت کرتا ہوں : مولانا فضل الرحمان

    اسلام آباد: میں فوج کے خلاف نوازشریف کے بیانیے کی حمایت کرتا ہوں ،اطلاعات کے مطابق پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ میں فوجی قیادت کا نام لینے کی حمایت کرتا ہوں۔

    پی ڈی ایم سربراہ مولانا فضل الرحمان کی دیگر رہنماوں کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران اس سوال پر کہ پی ڈی ایم کے جلسوں میں فوجی قیادت کے نام لینے کے حوالے سے کیا بات ہوئی؟ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ کسی کا نام لینا یا نہ لینا کوئی مسئلہ نہیں یہ مسلئہ صرف میڈیا بہتان لگا رہا ہے

    میں فوجی قیادت کا نام لینے کی حمایت کرتا ہوں۔ وزیراعظم اور صدر کا نام لیا جا سکتا ہے تو کسی ادارے کے بندے کا نام کیوں نہیں؟ ہمارا ایشو نام لینا نہیں، ملک ک نظام ٹھیک کرنا ہے۔انہوں نے بتایا کہ آج کے اجلاس میں پارٹی سربراہان اور انکے نمائندے شریک ہوئے۔ معاشی بحران ملک کا سنگین مسلئہ ہے۔عوام کا سکون اور عزت نفس چھین لیا گیا ہے۔

    پی ڈی ایم کا اصل ہدف پاکستان میں حقیقی جمہوری نظام کی بحالی ہے۔حقیقی جمہوریت کی بحالی کے لیے ایک میثاق طے کرنے پر اتفاق کیا ہے۔تمام جماعتیں متفقہ میثاق کے لیے 13نومبر کو اپنی تجاویز پیش کریں گی۔ 14 نومبر کو اسلام آباد میں اپوزیشن جماعتوں کا سربراہی اجلاس ہوگا۔

    ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں مریم نواز اور ان کے شوہر کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی مذمت کی گئی۔ آرمی چیف کی تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ تاحال نہ آنے پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔

    اجلاس میں وزیرداخلہ کے بیان پر احتجاج کیا گیا۔وزیر داخلہ نے اعتراف کیا کہ اے این پی کے رہنماء کیوں شہید کیے گئے۔ ریاست کی سطح پر مسلم لیگ ن کو بھی دھمکی دی گئی،سیاستدانوں کو قتل کرنے والے دہشتگردوں کے پیچھے کون لوگ ہیں یہ واضح ہو چکا۔

    ان کا کہنا تھا کہ مخالفین کو عدالتوں میں گھسیٹا جارہا ہے اور اپنے کیسز التوا میں جارہے ہیں ۔ عاصم سلیم باجوہ اور جہانگیر ترین کے خلاف الزمات پر خاموشی اختیار کی جارہی ہے۔جسٹس قاضی فائز عیسی کیس میں سپریم کورٹ کے ریمارکس انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔

    قبل ازیں پاکستان ڈیموکریٹ موومنٹ کا مولانا فضل الرحمن کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں راجہ پرویز اشرف، شاہد خاقان عباسی، محمود خان اچکزئی، اختر مینگل، آفتاب شیرپاؤ، مولانا عبدالغفور حیدری، امیر حیدرہوتی، میاں افتخار حسین، شاہ اویس نورانی، ساجد میر، حافط عبدالکریم اور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری شریک ہوئے۔

  • مقبوضہ کشمیر:بھارتی فوج پرکشمیریوں کےحملےمیں افسرسمیت 4 اہلکارہلاک،جھڑپ جاری

    مقبوضہ کشمیر:بھارتی فوج پرکشمیریوں کےحملےمیں افسرسمیت 4 اہلکارہلاک،جھڑپ جاری

    سری نگر:مقبوضہ کشمیر:بھارتی فوج پرکشمیریوں کےحملےمیں افسرسمیت 4 اہلکارہلاک،جھڑپ جاری ،اطلاعات کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے ضلع کپواڑہ میں بھارتی فوجی قافلے پر حملے میں 4 اہلکار ہلاک ہوگئے۔یہ بھی اطلاعات ہیں کہ کشمیری مجاہدین اوربھارتی فوج کے درمیان ابھی جھڑپ جاری ہے

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی فوج پر حملہ ضلع کپواڑہ میں کیاگیا جس کے نتیجے میں ایک بھارتی فوجی افسر سمیت 4 بھارتی فوجی مارے گئے۔دوسری جانب قابض بھارتی فورسز نے ضلع کپواڑہ ہی میں محاصرے کی آڑ میں مزید 3 کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا۔

    رپورٹ کے مطابق بھارتی فوج کی جانب سے کپواڑہ کے مختلف علاقوں کا محاصرہ اور سرچ آپریشن جاری ہے۔جبکہ دیگرآزاد ذرائع سے موصول ہونے والی خبروں میں بتایا گیا ہےکہ بھارتی فوج کوبہت زیادہ جانی نقصان ہوا ہے جسے بھارتی فوج چھپا رہی ہے

    واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی فوج کے ظلم و بربریت اور ریاستی دہشت گردی کا سلسلہ جاری ہے اور قابض افواج کی جانب سے آئے روز بے گناہ کشمیری نوجوانوں کو شہید کیا جارہا ہے۔