Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • چین اوربھارت کے درمیان کسی بھی وقت جنگ ہوسکتی ہے، جنرل بین راوت

    چین اوربھارت کے درمیان کسی بھی وقت جنگ ہوسکتی ہے، جنرل بین راوت

    نئی دہلی:چین اوربھارت کے درمیان کسی بھی وقت جنگ ہوسکتی ہے، بھارتی چیف آف ڈیفنس سٹاف نے خبردار کردیا ، اطلاعات کے مطابق بھارتی چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل بپن راوت کا کہنا ہے کہ چین کے ساتھ بھارت کا سرحدی تنازعہ کسی بھی وقت بڑی لڑائی میں تبدیل ہوسکتا ہے۔

    بھارتی میڈیا کا کہنا ہےکہ اس اہم خطاب میں جنرل بپن راوت کا کہنا تھا کہ چین اور بھارت کے کمانڈر سطح کے مذاکرات ہورے ہیں لیکن لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر صورتحال بدستور کشیدہ ہے۔انہوں نے کہا کہ عسکری نقل و حرکت یا معمول جھڑپ کو بڑی لڑائی میں تبدیل ہونے کے امکان کو مسترد نہیں کیا جاسکتا۔ بھارت چین کشیدگی کے باعث ہزاروں فٹ کی بلندی پر دونوں افواج پہلی بار سردیوں میں بھی آمنے سامنے رہیں گی۔

    یاد رہے کہ مقبوضہ کشمیر کے علاقے لداخ سے بی جے پی کے سابق رکن پارلیمنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ چینی فوج نے بھارتی حدود میں گھس کر پانگونگ جھیل کے شمالی کنارے فنگر 2 اور 3 کے مزید مقامات پر قبضہ کر لیا ہے۔

    سابق رکن تھوپستان چھوانگ نے بھارتی اخبار ‘‘دی ہندو’’کو بتایا کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول کے قریبی علاقے کے مکینوں نے اسے بتایا کہ بارڈر کی صورتحال تشویشناک ہے ، چینی فوج نے فنگر 2 اور 3 کے مزید اہم مقامات پر قبضہ ہی نہیں کیا،بلکہ ہاٹ سپرنگز ایریا بھی مکمل طور پر خالی نہیں کیا۔

    انہوں نے کہا کہ مقامی لوگوں کے مطابق بھارتی فوجی خیموں میں مقیم ہیں جوکہ انتہائی سرد موسمی حالات میں کسی طور مناسب نہیں۔ متعدد بار مذاکرات کے بعد بھی اگر حکومت چینیوں کو انخلا کیلئے قائل نہیں کر سکی تو پھر فوجیوں کو مناسب رہائش فراہم کی جائے ، انہیں خیموں میں رکھنا قابل قبول نہیں۔

  • وزیراعظم کے سوات جلسے میں حادثہ ، درجنوں افراد زخمی

    وزیراعظم کے سوات جلسے میں حادثہ ، درجنوں افراد زخمی

    وزیراعظم کے سوات جلسے میں حادثہ ۔درجنوں افراد زخمی
    باغی ٹی وی : وزیراعظم کے سوات جلسے میں حادثہ ہوا ہے جلسے میں‌چھت گر گئی جس وجہ سے درجنوں افراد زخمی ہوگئے . ، وزیراعظم عمران خان کے جلسہ میں وزیراعظم کے خطاب بعد چھت گری جس سے 20افراد زخمی ہوئے تھے جو فوری طور پر ہسپتال منتقل کر دیے گئے ہسپتال میں زیرعلاج ہیں، پی ٹی آئی ملاکنڈ ڈویژن کے صدر چیئرمین ڈیڈک فضل حکیم خان یوسفزئی نے گراسی گراؤنڈ جلسہ میں زخمی ہونیوالوں کی عیادت کی، ہسپتال انتظامیہ کو بہترین علاج معالجہ کرنے کی ہدایت کی ہے .


    چیئرمین ڈیڈک چیئرمین ایم پی اے فضل حکیم نے سنٹرل ہسپتال سیدوشریف میں گراسی گراؤنڈ جلسہ میں زخمی ہونیوالے افراد کی عیادت کی وہ زخمی افراد سے فرداً فرداً ملاقات کرکے ان کی خیریت دریافت کی اورجلد صحت یابی کیلئے خصوصی دعا کی

    اس موقع پر ایم پی اے فضل حکیم نے ہسپتال انتظامیہ کوہدایت کی کہ زخمیوں کے علاج معالجے میں کسی قسم کاکوئی کسر نہیں چھوڑاجائے اورانہیں تمام طبی سہولیات مہیا کیاجائے۔

  • نئی دہلی میں پاکستانی ناظم الامور کی وزارت خارجہ میں طلبی

    نئی دہلی میں پاکستانی ناظم الامور کی وزارت خارجہ میں طلبی

    بھارتی وزارت خارجہ نے پاکستان میں نارووال کے قریب گوردوارہ کرتار پور صاحب کی دیکھ بھال کے لئے حکومت پاکستان کی طرف سے گوردوارے کو خود مختار قرار دئیے جانے اور گوردوارہ پراجیکٹ مینجمنٹ یونٹ میں سکھوں کو نمائندگی نہ دینے پر نئی دہلی میں پاکستان کے ناظم الامور آفتاب حسن کو طلب کیا ہے اور انہیں بھارتی حکومت کی طرف سے احتجاجی مراسلہ دیا۔ مراسلے میں یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان سکھوں کے مذہبی مقام کے حوالے سے کوئی بھی کمیٹی بنانے کے حوالے سے سکھوں کی نہ صرف رائے لے بلکہ انہیں بھی کمیٹی میں شامل کرے۔

  • سیاست میں شرافت کے پیکرچوہدری شجاعت حسین بیمارہیں،اللہ ان کوجلد صحت کاملہ عطافرمائے ،مبشرلقمان

    سیاست میں شرافت کے پیکرچوہدری شجاعت حسین بیمارہیں،اللہ ان کوجلد صحت کاملہ عطافرمائے ،مبشرلقمان

    لاہور:سیاست میں شرافت کے پیکرچوہدری شجاعت حسین بیمارہیں،اللہ ان کو صحت کاملہ عطافرمائے ،اطلاعات کے مطابق معروف صحافی مبشرلقمان نے دعائے صحت کرتے ہوئے بتایا ہے کہ پاکستان کے بزرگ سیاستدان ، جنہیں سیاست میں شرافت کی علامات کہا جاتا ہے اورجنہیں دنیا چوہدری شجاعات حسین کے نام سے یاد کرتی ہے سخت بیمار ہیں ،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اس سے قبل پچھلے سال چوہدری شجاعت حسین علاج معالجہ کے لیے کچھ عرصہ سے جرمنی میں مقیم تھے ۔ وہاں بھی ان کا علاج معالجہ کیا گیا

    معروف صحافی مبشرلقمان نے اپنے ٹویٹ پیغام میں دعائے صحت کرتے ہوئے کہا ہےکہ چوہدری شجاعت پاکستان کی سیاست کے ایک روشن باب ہیں اورہمیشہ پاکستان کی سیاست کی ہے ، مبشرلقمان نے ان کے لیے دعا کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالٰی چوہدری شجاعت حسین کو جلد صحت کاملہ عاجلہ عطا فرمائے ،

    چودھری شجاعت اپنی سیاسی ذہانت ، روادار رویہ اور کنبہ اور دوستوں کے ساتھ وفاداری کے لئے جانے جاتے ہیں اور ان کی بیماری کی خبروں نے ان کے چاہنے والوں کو غمگین کردیا ہے۔ دوسری طرف باغی کی ٹیم ان کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لئے دعا گو ہے ۔

    یاد رہے کہ چودھری شجاعت حسین 1946ءمیں پیدا ہوئے ۔ ان کا تعلق گجرات کے جاٹ خاندان سے ہے جو تقریباً پچیس سال قومی سیاست میں سرگرم ہیں۔ ان کے والد چودھری ظہور الٰہی متوسط طبقہ سے تھا۔ وہ ایوب دور میں سرکاری جماعت کنوینشن مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل رہے اور ایوب کی فوجی حکومت کی سرپرستی میں پنجاب میں جاٹ برادری کے ایک نمایاں سیاست دان کے طور پر جانے لگے۔

    چوہدری ظہور الٰہی نے ذو الفقار علی بھٹو کی سخت مخالفت کی اور 1977کے انتخابات کے وقت وہ جیل میں تھے۔ جنرل ضیاءالحق کے مارشل لا دور میں ظہور الٰہی وفاقی وزیر رہے ۔ ظہور الہی کو 25ستمبر1981کو لاہور میں قتل کر دیا گیا ۔

    شجاعت حسین نے اپنے والد کی وفات کے بعد سیاست میں قدم رکھا اور ضیاءالحق کی مجلس شورٰی کے رکن رہے۔ 1985 کے انتخابات میں وہ پہلی مرتبہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور وزیر اعظم محمد خان جونیجو کی کابینہ میں وزیر صنعت رہے۔چودھری شجاعت 1988، 1990 اور 1997 کے عام انتخابات میں بھی رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔

    1986 میں چودھری خاندان نے پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے لیے اس وقت کے وزیراعلیٰ نواز شریف کے خلاف بغاوت کی لیکن اسے ناکامی کا ہوا۔شجاعت حسین نواز شریف کے دور میں وفاقی وزیر داخلہ بھی رہے ۔
    چوہدری شجاعت حسین 2003ءمیں میاں اظہر کے مستعفی ہونے کے بعد مسلم لیگ ق کے صدر منتخب ہوئے۔ جب 2004ءمیں میر ظفراللہ جمالی نے وزیراعظم کے عہدے سے استعفیٰ دیا تو ان کو ملک کا وزیراعظم منتخب کیا گیا۔ وہ دو ماہ تک ملک کے وزیراعظم رہے۔

    چوہدری شجاعت کے کزن چوہدری پرویز الہی ا س وقت پنجاب اسمبلی کے سپیکر ہیں۔

  • جسدن ڈاکووں کو این آراو دیا وہ میری ملک سے سب سے بڑی غداری ہو گی،وزیراعظم

    جسدن ڈاکووں کو این آراو دیا وہ میری ملک سے سب سے بڑی غداری ہو گی،وزیراعظم

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے سوات میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ شاندار استقبال پر آپ سب کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں،وزیراعلیٰ خیبر پختون خوا نے گبین جبہ کا دورہ کرایا،موٹروے اور سیاحتی مقامات کی وجہ سے سوات تبدیل ہونے والا ہے،سیاحت ایک ایسا شعبہ ہے جس میں بہت زیادہ پوٹینشل ہے،سیاحت جتنا زیادہ بڑھے گی ملک میں خوشحالی آئے گی، وزیراعظم قوم کے لیے ایک باپ کی طرح ہوتا ہے،ٹورازم بڑھنے سے ڈالر ملک میں آئیں گے، خوشحالی آئے گی،

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ مدینہ کی ریاست میں انسانیت کا نظام اور قانون کی بالادستی تھی،خیبر پختون خوا کے تمام شہری کسی بھی اسپتال سے 10لاکھ روپے تک کا علاج کراسکتے ہیں، حکومت ایسے گھر بنائے گی کہ غریب آدمی قسطوں پر گھر لے سکے گا،انسان کو سب سے زیادہ ضرورت اپنے گھر کی ہوتی ہے، غریب لوگوں کو اپنا گھر لینے کا موقع ملے گا،پہلی دفعہ پاکستان میں ایک تعلیمی نظام لے کرآرہے ہیں، یکساں نظام تعلیم پاکستان میں پہلی بار ہے، غریب آدمی کے بچے بھی ڈاکٹر، پروفیسر بن سکیں گے، سول پروسیجر ایکٹ کے تحت کیسزکا فیصلہ ایک سال میں ہوگا، عدالتیں زمینوں کے کیسز سے بھری ہوئی ہیں،

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ جو کیسز عدالتوں میں لگتے ہیں ، ان کا ایک سال میں فیصلہ ہوگا، زمینوں کے کیسز عدالتوں میں 20،20سال تک چلتے رہتے ہیں،نئے قانون کے تحت اب ایک سال کے اندر کیسز کا فیصلہ ہوگا،

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ میں نے ڈاکوووَں کا نام لیا ہے ڈیزل کا نام نہیں لیا،ڈرامہ ہورہا ہے، پاکستان کے سارے ڈاکو اکٹھے ہوگئے ہیں،ایک شخص ڈرامہ کرکے لندن چلا گیا، جس پر عدالتوں کو بھی رحم آگیا، نوازشریف نے بڑی کوشش کی کہ کسی طرح این آر او مل جائے، وہ جانتا ہے کہ عمران خان این آر او نہیں دینے لگا، جب علم ہوگیا کہ عمران خان این آر او نہیں دے گا تو اس نے اداروں پر اٹیک کرنا شروع کردیا، نوازشریف اور ان کے بیٹے پیسے چوری کر کے باہر بیٹھے ہوئے ہیں، بڑے بڑے ڈاکو 30سال سے ملک کو لوٹ رہے تھے،

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ آصف زرداری اور نوازشریف ایک دوسرے کو کرپٹ کہتے رہے ،نوازشریف پر کیسز آصف زرداری نے بنائے، آج یہ دونوں مل کر مجھ سے این آر او مانگ رہے ہیں،ملک کا پیسہ چوری کرکے مجھ سے این آر او مانگ رہے ہیں، جس دن میں نے ان کو این آر او دیا اس دن میری ملک سے سب سے بڑی غداری ہوگی،پرویز مشرف کے این آر او کی وجہ سے ہمارا قرضہ 30ہزار ارب پر گیا،یہ ملک ترقی تب کرے گا جب اس ملک میں قانون کی بالادستی ہوگی،پاکستان کو فلاحی ریاست بنانے کیلئے اور قانون کی بالادستی کیلئے پورا زور لگارہا ہوں،پاکستان تب ترقی کرے گا جب ملک میں قانون کی بالادستی ہوگی اور یہی خواب قائد اعظم اور علامہ اقبال نے دیکھا تھا۔

  • جہانگیر ترین کا اپوزیشن کو ایک اور طمانچہ،بڑا اعلان

    جہانگیر ترین کا اپوزیشن کو ایک اور طمانچہ،بڑا اعلان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر خان ترین نے پاکستان واپس پہنچنے کے بعد ٹویٹر پر بڑا اعلان کر دیا

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے جہانگیر خان ترین کا کہنا تھا کہ میری تمام شوگرملز 10 نومبرسے کرشنگ کا آغاز کریں گی ،چینی بحران پرقابو پانے کیلئے کردارادا کروں گا

    جہانگیر خان ترین کا مزید کہنا تھا کہ ہماری شوگرملز10 نومبر کو گنے کی کرشنگ کے خلاف کسی پٹیشن کا حصہ نہیں،چینی کی قلت ختم اورقیمت کم کرنے کیلئے حکومت سے ہر ممکن تعاون کریں گے،سندھ اور پنجاب میں میری تمام ملز 10نومبر کو ہی کرشنگ شروع کریں گی،

    چینی کی قیمتوں میں اضافے پر سینیٹ میں بھی تحقیقات کا مطالبہ

    جہانگیر ترین کے حق میں تحریک انصاف کی کونسی شخصیت کھل کر سامنے آ گئی، بڑا مطالبہ کر دیا

    چینی بحران رپورٹ، وزیراعظم کیخلاف تحریک عدم اعتماد آ سکتی ہے یا نہیں؟ شیخ رشید نے بتا دیا

    چینی بحران رپورٹ ، جہانگیر ترین پھر میدان میں آ گئے ،بڑا دعویٰ کر دیا

    شوگر ملزسٹاک کی نقل و حمل اور سپلائی کی مکمل مانیٹرنگ کا حکم

    چینی بحران رپورٹ، جہانگیر ترین کے خلاف بڑا ایکشن،سب حیران، ترین نے کی تصدیق

    شوگر کمیشن رپورٹ، وزیراعلیٰ پنجاب،اسد عمر اور مشیر تجارت کے جوابات غیر تسلی بخش قرار

    شوگر کمیشن رپورٹ انگریزی میں اپوزیشن کو سمجھ نہیں آئی،جھاڑو کا سن کر شہباز نے قرنطینہ کر لیا، شہزاد اکبر

    سی سی پی کا شوگرملزایسوسی ایشن کے دفاتر کا سرچ انسپکشن،اہم ریکارڈ قبضے میں لے لیا

    جہانگیر خان ترین کی اچانک وطن واپسی کیوں؟ اہم انکشافات

    جہانگیر ترین نے لاہور پہنچتے ہی بڑا اعلان کر کے پاکستانی سیاست میں تہلکہ مچا دیا

    یاد رہے کہ چینی اسکینڈل میں نام آنے کے بعد جہانگیر ترین بیرون ملک چلے گئے تھے جس پر اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے حکومت پر بڑی تنقید کی گئی تھی اور کہا گیا تھا کہ عمران خان نے جہانگیر ترین کو این آر او دے دیا تا ہم وہ واپس پہنچ گئے ہیں ،جہانگیر ترین کی لندن موجودگی کے دوران نواز شریف سے ملاقات اور رابطوں کی خبریں بھی چلائی گئیں لیکن جہانگیر ترین نے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان سے بات چیت میں اس کی تردید کی تھی

    جہانگیر ترین لندن سے کچھ فاصلے پر نیوبری میں اپنے ہائیڈ ہاؤس نامی فارم ہاؤس رہائش پذیر ہیں۔ جہانگیر ترین کے ساتھ ان کے صاحب زادے علی ترین بھی اسی فارم پر موجود تھے، انہوں نے گزشتہ دنوں بیٹے کے ہمراہ سوئٹزرلینڈ کا بھی دورہ کیا تھا

    جہانگیر ترین اور وزیراعظم میں ناراضگی ہے یا نہیں؟ پی ٹی آئی رکن قومی اسمبلی کا بڑا دعویٰ

  • اگر اس شعبے پر توجہ دیں تو کسی سے قرضہ نہ مانگنا پڑے، وزیراعظم

    اگر اس شعبے پر توجہ دیں تو کسی سے قرضہ نہ مانگنا پڑے، وزیراعظم

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اگر پاکستان میں سیاحت کو بہتر کر لیا جائے تو ہمیں کسی سے قرضہ نہیں مانگنا پڑے گا

    حسن ابدال میں ریلوے سٹیشن کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے شیخ رشید احمد کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جب میں سیاست میں آیا تھا 24 سال پہلے،تو آج بھی آپ ویسے ہی جوان لگ رہے ہیں، میں آپکو سالگرہ کی مبارکباد دیتا ہوں

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ریلوے نیا پاکستان میں بہت اہمیت رکھتی ہے، ریلوے عام آدمی کے سفر کا ذریعہ ہے، ساری دنیا کے اندر عام لوگ، مزدور، غریب،کمزور ریلوے میں سفر کرتے ہیں، سستا اور آسان سفر ہے، ہماری بد قسمتی ہے کہ انگریز ریلوے کا جو نظام چھوڑ کر گیا ،وسیع کرنے کی بجائے ہم نے کم کر دیا،1861 میں انگریز نے ریلوے لائن لگائی تھیں ہم نے کم کر دیں، دنیا میں جو ملک تیزی سے ترقی کر رہا ہے چائنہ انہوں نے ریلوے کا جال ملک میں بچھایا

    وزیراعطم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ ایم ایل ون پاکستان میں پہلی دفعہ ریلوے میں انویسمنٹ ہے، چین کے ساتھ ملکر کر رہے ہیں، 9 ارب ڈالر یہ سب سے زیادہ مہنگی پاکستان میں انویسمنٹ ہے،ہم اسکو 6 ارب ڈالر پر لے آئے، 3 ارب ڈالر کم کروایا، جب ایم ایل ون بن جائے گا تو کراچی سے لاہور کا سفر ساتھ گھنٹے کا رہ جائے گا، اسکے پورے گیٹ لگیں گے، انڈر پاسز بنیں گے، روزگار ملے گا، اکانومی کو فائدہ ہو گا، ایم ایل ون سے پاکستان کو بہت فائدہ ہو گا، پاکستان وہ ملک بنے جو کبھی کسی سے قرضے نہ مانگے، ہمیں مقروض پاکستان ملا تھا، دوسرے ملکوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے پڑتے ہیں

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ ایم ایل ون سے ملک میں جو ترقی ہو گی اسکا تصور نہیں کر سکتے، ہماری اکانومی اٹھنی شروع ہو گئی ہے، معیشت تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے،ہمارے نئے پاکستان میں تمام مذاہب کے لوگ برابر کے شہری ہیں، سکھ برادری کا مکہ مدینہ پاکستان میں ہے، کرتار پور اور ننکانہ صاحب، حسن ابدال میں بھی زیادت ہے ہم چاہتے تھے کہ انکی مدد کریں، انکو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا، آج ریلوے سٹیشن کے افتتاح سے انکو آسانی ہو گی، میں چاہتا ہوں پاکستان ایسا ملک بنے جدھر باہر سے لوگ آئیں اورہماری زیارتیں، دینی جگہیں، سکھ، ہندوؤں کے لئے ہیں سب کو ٹھیک کریں تا کہ باہر سے لوگ آئیں، پہاڑ، سیاحت کے مقامات کو بہتر کریں، ایک انٹرنیشنل میگزین نے کہا کہ سیاحت کے لئے آگے سب سے زبردست جگہ پاکستان بن رہی ہے، ہمیں ہر قسم کی مدد کرنی چاہئے سیاحتی مقامات کو بہتر کرنے کی، تا کہ زیادہ لوگ آئیں، ہم سیاحت کو بہتر کر لیں تو ہمیں کبھی باہر سے ،آئی ایم ایف سے یا کسی اور قرضہ نہ مانگنا پڑے،

  • جہانگیر ترین نے لاہور پہنچتے ہی بڑا اعلان کر کے پاکستانی سیاست میں تہلکہ مچا دیا

    جہانگیر ترین نے لاہور پہنچتے ہی بڑا اعلان کر کے پاکستانی سیاست میں تہلکہ مچا دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر خان ترین پاکستان پہنچ گئے ہیں

    جہانگیرترین کی 7 ماہ بعد برطانیہ سے وطن واپس پہنچے ہیں جہانگیر ترین براستہ دبئی علامہ اقبال ایئرپورٹ پہنچے, جہانگیر ترین کے استقبال کے لیے ان کے کچھ قریبی دوست ائیرپورٹ پر موجود تھے جنہوں نے ان کی لاہور آمد پر انہیں گلدستہ پیش کیا۔

    لاہور ایئر پورٹ پر میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے جہانگیر ترین کا کہنا تھا کہ علاج کی غرض سے باہر گیا تھا، ہرسال علاج کے لیے باہر جاتا ہوں، اپوزیشن کا کام ہے الزام لگانا، جواب دینا ضروری نہیں،

    جہانگیر خان ترین کا مزید کہنا تھا کہ اللہ کا شکر ہے میرا تمام کاروبار صاف اورشفاف ہے

    چینی کی قیمتوں میں اضافے پر سینیٹ میں بھی تحقیقات کا مطالبہ

    جہانگیر ترین کے حق میں تحریک انصاف کی کونسی شخصیت کھل کر سامنے آ گئی، بڑا مطالبہ کر دیا

    چینی بحران رپورٹ، وزیراعظم کیخلاف تحریک عدم اعتماد آ سکتی ہے یا نہیں؟ شیخ رشید نے بتا دیا

    چینی بحران رپورٹ ، جہانگیر ترین پھر میدان میں آ گئے ،بڑا دعویٰ کر دیا

    شوگر ملزسٹاک کی نقل و حمل اور سپلائی کی مکمل مانیٹرنگ کا حکم

    چینی بحران رپورٹ، جہانگیر ترین کے خلاف بڑا ایکشن،سب حیران، ترین نے کی تصدیق

    شوگر کمیشن رپورٹ، وزیراعلیٰ پنجاب،اسد عمر اور مشیر تجارت کے جوابات غیر تسلی بخش قرار

    شوگر کمیشن رپورٹ انگریزی میں اپوزیشن کو سمجھ نہیں آئی،جھاڑو کا سن کر شہباز نے قرنطینہ کر لیا، شہزاد اکبر

    سی سی پی کا شوگرملزایسوسی ایشن کے دفاتر کا سرچ انسپکشن،اہم ریکارڈ قبضے میں لے لیا

    یاد رہے کہ چینی اسکینڈل میں نام آنے کے بعد جہانگیر ترین بیرون ملک چلے گئے تھے جس پر اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے حکومت پر بڑی تنقید کی گئی تھی اور کہا گیا تھا کہ عمران خان نے جہانگیر ترین کو این آر او دے دیا تا ہم وہ واپس پہنچ گئے ہیں ،جہانگیر ترین کی لندن موجودگی کے دوران نواز شریف سے ملاقات اور رابطوں کی خبریں بھی چلائی گئیں لیکن جہانگیر ترین نے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان سے بات چیت میں اس کی تردید کی تھی

    جہانگیر ترین لندن سے کچھ فاصلے پر نیوبری میں اپنے ہائیڈ ہاؤس نامی فارم ہاؤس رہائش پذیر ہیں۔ جہانگیر ترین کے ساتھ ان کے صاحب زادے علی ترین بھی اسی فارم پر موجود تھے، انہوں نے گزشتہ دنوں بیٹے کے ہمراہ سوئٹزرلینڈ کا بھی دورہ کیا تھا

     

    جہانگیر خان ترین کی اچانک وطن واپسی کیوں؟ اہم انکشافات

  • جہانگیر خان ترین کی اچانک وطن واپسی کیوں؟ اہم انکشافات

    جہانگیر خان ترین کی اچانک وطن واپسی کیوں؟ اہم انکشافات

    جہانگیر خان ترین کی اچانک وطن واپسی کیوں؟ اہم انکشافات
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اتحادی جماعتوں کے ظہرانے میں ق لیگ نے شرکت نہیں کی، ق لیگ کی عدم شرکت کے بعد تحریک انصاف کے رہنما اور وزیراعظم عمران خان کے قریبی دوست جہانگیر خان ترین جو لندن میں تھے انہوں نے نومبر میں پاکستان واپسی کا اعلان کیا اور پھر فوری پاکستان کے لئے روانہ ہو گئے

    باغی ٹی وی ذرائع کے مطابق جہانگیر خان ترین کی اچانک پاکستان واپسی مسلم لیگ ق کو منانے کے لئے ہے،حکومت کی جانب سے اتحادی جماعتوں کے تحفظات دور کرنے کے لئے حکومت نے کمیٹیاں بنائی تھیں اس میں مسلم لیگ ق سے مذاکرات اور تحفظات کے خاتمے کے لئے بنائی گئی کمیٹی میں جہانگیر خان ترین بھی شامل تھے،

    جس کمیٹی میں جہانگیر ترین شامل تھے اس کمیٹی کو بعد ازاں ختم کر کے ایک اور کمیٹی بنا دی گئی تھی جس پر مسلم لیگ ق نے اعتراض عائد کیا تھا، نئی بننے والی کمیٹی میں پاکستان مسلم لیگ (ق) کے ساتھ رابطے کے لئے چوہدری محمد سرور (کنوینر)، سردار عثمان بزدار اور شفقت محمود شامل تھے

    سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الہیٰ کا کہنا تھا کہ ہ ایک کمیٹی بنتی ہے ،دوسری ڈالی جاتی ہے، اب حکومت کی نئی کمیٹی سامنے آگئی ، پہلی کمیٹی سے مذاکرات کےبعدمعاملات میں بہتری آئی، اتحادیوں کو سوتن نہیں سمجھا چاہئے، حکومت کو نقصان پہنچا تو ہمیں بھی پہنچے گا، چاہتے ہیں حکومت اپنی مدت پوری کرے، حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں، جس کے ساتھ چلتے ہیں نیک نیتی کے ساتھ چلتے ہیں،

    اتحادیوں سے مذاکرات کے لئے بنائی گئی کمیٹی کے بدلنے پر مونس الہیٰ نے بھی خدشات کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ پی ٹی آئی خود معاملات کو کیوں خراب کررہی ہے؟ حکومت کی سابقہ کمیٹی سےمثبت پیش رفت ہورہی تھی، سابقہ کمیٹی میں جہانگیرترین، پرویزخٹک اور شہزاد اکبر شامل تھے.

    مونس الہیٰ کا مزید کہنا تھا کہ کچھ لوگ وزیراعظم عمران خان کوفیل کرناچاہتے ہیں ہمارامعاہدہ تھاکہ ہمارے وزرا باا ختیار ہوں گے تین اضلاع کے حوالے سے معاملات طے ہوئے تھے طے ہوا تھاکہ ہماری وزارتوں میں مداخلت نہیں کی جائے گی،شفقت محمودنے کہا جو پہلی کمیٹی سے معاملات طے ہوئے اس پرعمل ہوگا،پہلی کمیٹی سے جومعاملات طے ہوئے تھےان پرکام شروع ہوگیا تھا،

    اب جب پی ڈی ایم نے حکومت کے خلاف تحریک شروع کی تو اس حوالہ سے مشاورت کے لئے وزیراعظم عمران خان نے اتحادی جماعتوں کو ظہرانے پر بلایا لیکن ق لیگ نہیں گئی اور ق لیگ نے شدید خدشات کا اظہار کیا، وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ اور چوھدری مونس الہیٰ دونوں کا کہنا تھا کہ ہمارا اتحاد کھانے کے لئے نہیں ہے.

    ق لیگ کے سخت رد عمل کے بعد حکمران جماعت تحریک انصاف کی کچھ اہم شخصیات نے باخبر ذرائع کے مطابق جہانگیر خان ترین سے رابطہ کیا اور انہیں واپس آنے کے لئے قائل کیا، جس کے بعد جہانگیر خان ترین واپس روانہ ہوئے، اب آنے والے دنوں میں مسلم لیگ ق کے تحفظات کو دور کرنے کے لئے جہانگیر خان ترین جلد چودھری برادران سے ملاقات کریں گے،

    باغی ٹی وی ذرائع کے مطابق حکومت اگر چوھدری برادران کے تحفظات کو دور کرنے کے لئے کسی اور شخصیت کو بھیجتی ہے تو حکومت کو اس بات کا اندیشہ ہے کہ چوھدری برادران نہیں مانیں گے اور جہانگیر خان ترین کے بارے میں چوھدری برادران خود کہہ چکے ہیں کہ انکو کمیٹی میں ہونا چاہئے، اسلئے حکمران جماعت نے جہانگیر خان ترین کو واپس بلایا ہے تا کہ حکومت کے لئے آنیوالے دنوں میں اتحادی جماعتوں کی جانب سے کوئی بڑی مشکل کھڑی نہ ہو.

  • عمران خان کو ایک اور جھٹکا،ق لیگ کیوں بگڑی؟ اندرونی کہانی سامنے آ گئی

    عمران خان کو ایک اور جھٹکا،ق لیگ کیوں بگڑی؟ اندرونی کہانی سامنے آ گئی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ پاکستانی سیاست میں ایک بار پھر گرمی آ رہی ہے، ہم امریکی الیکشن پر زور دے رہے تھے لیکن ادھر اندر ہی اندر لوگوں نے کام دکھانا شروع کر دیا،عمران خان نے اتحادی جماعتوں کو ظہرانے پر بلایا تو ق لیگ نے انکار کر دیا، چودھری شجاعت حسین اور پرویز الہیٰ کی جماعت نے اس کو رد کر دیا اور کہا ہم نہیں جائیں گے

    یہ بات ہو رہی تھی کہ مونس الہیٰ کی ٹویٹ آ‌گئی کہ ہم ووٹ دینے کی حد تک ملے ہوئے ہیں، کھانے کی حد تک نہیں ملے ہوئے یہ باقاعدہ حکومت کے منہ پر زناٹے دار لگائی ہے، مونس الہیٰ نے، اب لوگ اس سے پریشان ہیں، لوگ اس پر تجزئے کر رہے ہیں کہ کیا ہونے والا ہے، سنٹر میں بھی اور پنجاب میں بھی پی ٹی آئی کی اکثریت ختم ہو جاتی ہے اگر ق لیگ علیحدہ ہو جائے، مینگل پہلے علیحدہ ہو گئے،جن اشاروں پر ق لیگ نے علیحدہ ہونا ہے ان پر ایم کیو ایم بھی الگ ہو سکتی ہے، اسکا مطلب ہے حکومت تو گئی،لیکن میرا نہیں خیال کہ ایسا ہو

    ق لیگ اپنے آپ کو سیاسی طور پر زندہ رکھے ہوئے ہے، حکومت سے بیزاری کا اظہار نہیں کرتے تو کل جب الیکشن ہوں گے تو آٹے چینی،مہنگائی کا بحران بھی ق لیگ کے سر پر بھی پڑے گا وہ کہہ دیں گے کہ ہم احتجاج کر رہے تھے، حکومت میں نہیں تھے، پہلے دن سے ہی جب سے حکومت بنی ق لیگ اور پی ٹی آئی میں اختلاف ہیں، سب سے پہلے انہوں نے چوھدری مونس الہیٰ کو وزارت دینی تھی، وفاق میں،جس کی پی ٹی آئی نے یقین دہانی کروائی تھی اور وہ نہیں مانے، عمران خان خود نہیں مان رہے تھے، میری خود دو بار اس ایشو پر عمران خان سے بات ہوئی تو اس پر وزیراعظم کے کافی تحفظات تھے، عمران خان سیاسی ہیں، انہوں نے کہا کہ مونس الہیٰ کے فرسٹ کزن کو ہم وزیر بنا دیتے ہیں، مونس کو نہیں بناتے، اس پر کافی چہ میگوئیان شروع ہو گئیں کہ شجاعت کا بیٹا وزیربن گیا تو یہ اکٹھے نہیں رہ سکتے چوھدری برادران

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس کے بعد چوھدری شجاعت نے وزیراعطم کے ساتھ میٹنگ کی اور کہا کہ اب ق لیگ سے کوئی آدمی وزیر نہیں بنے گا، اگر بنے گا تو مونس الہی بنے گا، چوھدری شجاعت نے تمام چہ میگوئیاں‌ جو پارٹی یا خاندان کو تقسیم کرنے کی چال چلی گئی وہ ختم ہو گئی، چوھدری شجاعت بیمار ہیں وہ جرمنی میں زیر علاج رہے، ان کا گلہ ہے کہ پی ٹی آئی کی سینئر لیڈر شپ کبھی چوھدری شجاعت کا حال پوچھنے نہیں آئی، دو سال بعد اب اتحادیوں کو کھانے پر بلانے کی یاد آ گئی

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کی جو تحریک ہے ہم اس کو جو مرضی کہیں اسکا اپنا زور ہے اور وہ زور پکڑ رہی ہے، گلگت میں جو الیکشن ہیں بلاول نے تو بہت ٹائم لگا لیا، انہوں نے پارٹی کو متحرک کر لیا، اب مریم بھی پہنچ گئی، حکومتی جانب سے نہیں لگتا کہ اس طرح کا کوئی افورٹ ہو، یہ پہلی بار ہو گا کہ حکومت میں کوئی اور جماعت ہے اور گلگت میں کوئی اور جماعت جیت جائے، ایسا ہو سکتا ہے، حکومت نے اس کو کاؤنٹر کرنے کے لئے کہا کہ ہم اسکو صوبہ بنا رہے ہیں، اس سے آزاد کشمیر کے لوگ ناراض ہو گئے ،کوئی حکومت کے پاس حل نہیں، بری گورننس کی وجہ سے سردار عثمان بزدار جو اب سردار ہو گئے ہیں، انکا اگر کسی کو فائدہ ہے تو ق لیگ کو ہے، انکو سارے فنڈ ملتے ہیں، انکے سات آٹھ اضلاع میں کام ہوتے ہیں،اے سی ڈی سی انکی مرضی کا لگتا ہے، سب کچھ انکی مرضی سے ہوتا ہے، پی ٹی آئی والے اس سے دکھی ہیں، عمران خان نے بزدار کو بدلنا ہو اور اتحادی جماعت ووٹ نہ دے تو وزیراعلیٰ کوئی نہیں بن سکے گا، بزدار ق لیگ کی سپورٹ سے کھڑے ہیں کیونکہ نمبر دوبارہ اکٹھے نہیں ہو سکتے، پی ٹی آئی میں کوئی ایسا نہیں جس کو چوھدری برادران سپورٹ کریں

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ کہ دھرنے پر چوھدری بردارن جب مولانا فضل الرحمان کے پاس گئے یہ انکی گڈ ول ہے، چوھدری شجاعت سیاست میں واحد آدمی ہیں جو کسی بھی پارٹی کو ریچ آؤٹ کر سکتے ہیں، وہ ہر ایک کے لئے قابل قبول ہیں، زیرک ہیں، بردباری ہے ان میں، وہ لوگوں سے کاروبار ،لین دین نہیں کرتے، صرف عزت کرتے ہیں اور انکو عزت ملتی ہے، یہ بات صرف انکے متعلق کہہ رہا ہوں، چوھدری پرویز الہیٰ بھی بڑے زیرک ہیں، انہوں نے جے یو آئی کے لیڈر سے بات چیت کی اور بہت سی یقین دہانیاں کروائیں، اور ایسا ہی ہوتا ہے جب مصالحت کروانی ہوتی ہے، جیسے ہی دھرنا ختم ہوا تو پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ٹیم نے مولانا کا مذاق اڑانا شروع کر دیا اور یہ ہاتھ صاف ہو گیا، اس بات کا احساس نہیں کیا گیا کہ اتحادیوں نے دھرنا ختم کروایا،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ شوگر مافیا میں مونس کا نام آ گیا یہ بھی تکلیف دی تھا، مونس الہیٰ نے کئی بار کہا کہ میرا انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں، شیئر ہولڈر ہوں، مالک نہیں، لیکن انہوں نے سمجھا کہ ہمیں متاثر کر رہے ہیں، ق لیگ کے پاس ناراضگی کی بڑی وجوہات ہیں، سیاسی انگیجمنٹ نہیں ہے ،میوچل رسپیکٹ نہیں، ان کو حکومت میں آنے کا فائدہ یا نقصان کیا، آنے والے دن بڑے اہم ہیں، چوھدری کو ذاتی طور پر جانتا ہوں،یہ غصے میں جلدبازی میں فیصلہ نہیں کرتے اور جب فیصلہ کرتے ہیں تو بہت آگے کا سوچ کر کرتے ہیں، اب آگے کیا ہونے والا ہے یہ میں ان سے ملکر ہی بتاؤں گا