باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چیئرمین کشمیر کمیٹی شہر یار آفریدی نے کہا ہے کہ اداروں کے خلاف مہم ملک کو کمزور کرنے کی سازش ہے،
لاہو رمیں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شہر یار آفریدی کا کہنا تھا کہ ہمیں ریاستی اداروں کو مضبوط بنانا ہے،بھارت چاہتا ہے پاکستان میں بدامنی ہو،نوازشریف کے بیانات پر وزیراعظم کے بیان کی تائید کرتا ہوں، نوازشریف نے ایک گھنٹہ تقریر کی کسی نے پابندی نہیں لگائی،ریاست پاکستان بنانا ری پبلک نہیں ہے،
شہر یار آفریدی کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کے فیصلے ملک سے باہر نہیں ہوں گے،نوازشریف ووٹ کو عزت دینا چاہتے ہیں تو وطن واپس آئیں ،پی ٹی آئی اورعمران خان پر تنقید کریں لیکن ملک پر سمجھوتہ نہیں ہوگا،ریاستی ادارے اور ملک ایک پیج پر ہیں،ریاستی اداروں کےخلاف بولنے والوں کو نشان عبرت بنائیں گے،
شہر یار آفریدی کا مزید کہنا تھا کہ نواز شریف ملک سے محبت رکھتے ہیں تو یہاں آنا چاہیے نواز شریف عدالتوں میں نہیں جارہے نواز شریف اقتدار کیلئے اس سطح پر آگئے ہیں،ہر ایک کو اختیار ہے کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق مقدمہ کرا سکتا ہے
شہر یار آفریدی کا مزید کہنا تھا کہ زیراعظم عمران خان نے وزرا کو ملک اور بیرون ملک بھارت کی جانب سے پانچ اگست 2019 کے اقدامات کے خلاف آواز اٹھانے کی ذمہ داری سونپی ہے۔ کشمیری شہدا کو پاکستان کے پرچم کے ساتھ سپرد خاک کررہے ہیں۔ بھارت جموں وکشمیر کے بارے میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کررہا ہے۔
وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی نے کہاہے کہ بھارت کاجارحانہ رویہ خطے کے امن وسلامتی کے لئے سنگین خطرہ ہے۔پاکستان کے ہم خیال دوست ملکوں کے آن لائن اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرخارجہ نے کہاکہ انہوں نے بھارتی رویے پراقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل کے صدر کو متعدد خطوط لکھے ہیں۔ بھارت کے غیرقانونی زیرقبضہ جموں و کشمیرمیں بھارت کی طرف سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کاحوالہ دیتے ہوئے شاہ محمودقریشی نے کہاکہ پچھلے سال پانچ اگست کو بھارت نے غیرقانونی اوریکطرفہ طورپرعلاقے کی متنازعہ حیثیت تبدیل کرنے کی کوشش کرکے عالمی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی۔ انہوں نے کہاکہ بھارت نے علاقے میں اضافی فوجی تعینات کئے جوپہلے ہی دنیامیں سب سے بڑا فوجی علاقہ ہے۔کشمیری رہنماوں کوجیلوں میں ڈال کراوربے گناہ نوجوان کشمیریوں کاماورائے عدالت قتل، حق خودارادیت کیلئے جدوجہدکرنے والوں کےعزم کے خاتمے کےلئے ہتھکنڈے ہیں۔یہ حقائق انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹوں میں عیاں ہیں۔ وزیرخارجہ نے کہاکہ افغانوں کے درمیان مذاکرات کاآغازاہم اورعلاقائی امن کے لئے مثبت پیشرفت ہے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان نے اس سال کے آغاز میں دوحہ میں امریکہ اور طالبان کے درمیان امن معاہدے کےلئے سہولت فراہم کی۔ ملکی صورتحال کے بارے میں شاہ محمودقریشی نے کہاکہ کوروناوائرس کی وبا سے درپیش چیلنج سے قطع نظر موجودہ حکومت کی طرف سے شروع کی گئی ڈھانچہ جاتی اصلاحات کے نتیجے میں بہتری آناشروع ہوگئی ہے۔انہوں نے کہاکہ ہماری ٹیکس وصولی میں تیس فیصداضافہ ہوا جبکہ پہلی دفعہ ترسیلات زر بیس ارب ڈالرسے تجاوزکرگئی ہیں۔شاہ محمود قریشی نے کہاکہ ہماری پالیسیوں کی وجہ سے سرمایہ کاروں کے اعتمادمیں اضافہ ہواہے۔ برطانیہ کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کے حوالے سے وزیرخارجہ نے کہاکہ دونوں ملکوں میں شاندارتعلقات ہیں اوراسے مزید مستحکم کریں گے۔
کرپشن کے خاتمے کے لئے مبشر لقمان نے دیا حکومت کو اہم مشورہ
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ میں نے حکومت کو ایک اور مشورہ دیا تھا کرپشن ختم کرنے کے لئے کہ دس روپے سے اوپر سارے نوٹ ختم کر دیں، ہر قسم کا ٹیکس ختم کر دیں، کوئی ٹیکس نہیں لیکن ہر ٹرانزکشن پر بینک کی ون پرسنٹ کٹوتی کر لیں
مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اینکر زین علی نے سوال کیا کہ نیب کیسز کو دیکھ لیں جتنے بھی کیسز چلے کسی میں ایک روپے کی بھی ریکوری نہیں ہوئی جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ نہیں ہوئی ہے، لیکن سیاستدانوں سے نہیں ہوئی، نیب پر اس سے زیادہ خرچہ ہو گیا ہے، انکی پراسیکیوشن کمزور ہے، وائٹ کالر کرائم کو ایکسپوز کرنا اتنا آسان نہیں ہے،
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ابھی تو کہہ رہے ہیں کہ پیسہ باہر نہیں آ رہا، آپ اناؤنس کریں نوٹوں کے رنگ بدل دیں، سارے نوٹ بینک میں ایک بار آ جائیں گے جتنے بھی ہوں، چاہے وہ میرا ڈرائیور یا کک لے کر جائے ایک بار تو اندراج ہو گا رقم جائے گی جو تہہ خانوں میں رکھی ہوئی ہے، حکومت کو ایسے فیصلے کرنے چاہئے، آپ کے پاس اگر 5 ہزار کا ایک لاکھ نوٹ ہے اور حکومت نے رنگ بدل دیا، تو انکا ایک مہینے بعد کیا کرنا ہے، انکو بدلنا پڑے گا،پیسہ تو باہر آئے گا ناں اور ڈاکومنٹ ہو جائے گا،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ میں نے حکومت کو ایک اور مشورہ دیا تھا کرپشن ختم کرنے کے لئے کہ دس روپے سے اوپر سارے نوٹ ختم کر دیں، ہر قسم کا ٹیکس ختم کر دیں، کوئی ٹیکس نہیں لیکن ہر ٹرانزکشن پر بینک کی ون پرسنٹ کٹوتی کر لیں، کوئی بھی ٹرانزکشن بینک سے ہو، ایک فیصد ٹیکس ہو، میں نے دو کروڑ رشوت دینی ہے اور دس سے اوپر کا نوٹ نہیں ہے تو پھر شہہ زور کروانی پڑے گی اور رکھیں گے کہاں؟ ویٹر کو یا کسی کو ٹپ دینے کے لئے پچاس سو تو دے دیں گے لیکن اس سے بڑی ہر ٹرانزکشن الیکٹرانک ہو جائے گی اور ارب پتی، ہزار پتی کے لئے ایک فیصد ٹیکس ہو گا، یکساں ٹیکس ہو گا اور ٹیکس بہت بہتر ہو گا، بینک ارن کریں گے انکے پاس سرپلس ہو گا،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ میں اکانومسٹ نہیں ہوں لیکن جو حل دے رہا ہوں وہ اکنامک کی باتوں میں نہیں لیکن جو سیکھا ہے وہ شیئر کر رہا ہوں، ابھی جو ٹیکس چوری کر رہا ہے اسکو نقصان نہیں ہو رہا اور جو ٹیکس دے رہا ہے اسکو فائدہ نہیں ہو رہا، جب آپکو ٹیکس ہی ایک پرسنٹ ہو گا تو چوری نہیں کریں گے،حکومت میں بیٹھے لوگ آئی ایم ایف کے غلام ہیں، انکا ایجنڈہ مختلف ہیں، حفیظ شیخ زرداری صاحب کے ساتھ بھی تھے، آپ کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونا ہے،آپ کو اپنے کاشتکار کو پیروں پر کھڑا کرنا ہے، آپ کے دوست ہیں، کیو موبائل ہے، کیو موبائل کو ٹیکسوں میں کیسوں میں پھنسا دیں وہ کسی کو دے رہا ہے کھلا رہا ہے، آپ کہہ دیں کہ ایک فیصد ٹیکس ہے وہ کیوں چوری کرے گا، کہے گا سو کروڑ کما رہا ہوں ایک فیصد ٹیکس دے رہا ہوں، چوری کرنے پر کسی پر مجبور نہ کریں، بیوپاری چوری نہین کرنا چاہتا وہ کہتا ہے کہ میں ٹیکس دے رہا ہوں سڑک بھی ٹھیک ہو، پانی بھی ہو، بجلی بھی ہو،سیکورٹی بھی ہو امن و امان بھی ہو اب یہ آپ کا کام ہے،جب آپ تیکس نیٹ ون کر دیتے ہین تو کئی کروڑ ٹرانزکشن ایک دن میں ہو جائیں گی اتنا تو ایف بی آر ٹیکس میں جمع نہیں کر رہا جتنا ایک دن میں ہو جائے گا.
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ ہر ملک میں صدر ،وزیراعظم بدلتے ہیں، سٹیٹ سیکرٹ آؤٹ نہیں کرتے، 3 بار وزیراعظم رہنے کے باوجود سٹیٹ سیکرٹ آؤٹ کر رہے ہیں یہ توغداری ہے، آرٹیکل سکس کے منافی ہے
مبشر لقمان آفیشل یوٹیوب چینل پر اینکر زین علی نے مبشر لقمان سے سوال کیا کہ نواز شریف اکیلے نہیں، باغی ٹی وی نے کچھ دن پہلے خبر دی تھی، مریم نواز کی ملاقاتیں اور نواز شریف کی کس سے ہو رہی ہیں، کیا حقیقت ہے،جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ انڈین ہائی کمیشن کے کچھ لوگ ہیں وہ رات کو گیارہ بجے گئے ہیں،جس گاڑی پر گئے ہیں اس پر نہیں دوسری پر واپس گئے،صبح ناشتہ کر کے نکلے،پھر وہی لوگ شہباز شریف کے پاس بھی گئے،وہاں ان سے بھی ملاقات کی، آپ ویسے ملیں انڈین ہائی کمیشن کے لوگوں کو، کوئی مسئلہ نہیں، لیکن جب رات کی روشنی میں نان ڈکلیر ڈپلومیٹ جس کو اسلام آباد سے نکلنے کی اجازت نہ ہو ، لاہور آئے رات کے ٹائم، وہ صبح جائے آپ اناؤنس بھی نہ کریں پھر آپ کے چاچے کو بھی ملنے جائے تو یہ انتہائی مشکوک ہو جاتا ہے، انکے رابطے تو ہیں، بھارتی ایجنسی اور بھارتی لوگوں سے،اجمل قصاب کے ٹائم سے شروع ہو جائیں، جندل کا آنا،نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر کو نکال دینا، کافی مشکوک سرگرمیاں ہیں انکی،
اینکر زین علی نے سوال کیا کہ نواز شریف جو بول رہے ہیں انکو ظاہر ہے کسی نے تھپکی دی ، کیا تھپکی وہاں سے ملی؟ جو ملاقاتیں چل رہی ہیں، جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ میجر گوارف نے کچھ مہینےپہلے یو ٹیوب کا جو کیا تھا میاں نواز شریف کی تقریر کا پورا سکرپٹ ہی وہی تھا، اور وہ اسی کے حوالے دے رہے تھے، پھر پورا جو انڈین ویب سائٹ پر چھپا اسی کو انہوں نے سوالوں کی شکل میں پیش کیا، اب سوال تو یہ بنتا ہے کہ انکا بیانیہ لے کر چل رہے ہیں یا اپنا؟ سوالیہ نشان ہے، دنیا کا پہلا وزیراعظم نہیں ہے جس کی پاور چھینی گئی ہے، ہر ملک میں صدر ،وزیراعظم بدلتے ہیں، سٹیٹ سیکرٹ آؤٹ نہیں کرتے، 3 بار وزیراعظم رہنے کے باوجود سٹیٹ سیکرٹ آؤٹ کر رہے ہیں یہ توغداری ہے، آرٹیکل سکس کے منافی ہے
اینکر زین علی نے کہا کہ آج تو غداری کا مقدمہ درج ہو چکا ہے، کیا یہ ٹھیک ہوا لوگ بڑی رائے دے رہے ہیں کہ غداری کے سرٹفکیٹ کھلے عام بانٹ رہے ہیں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بلوچستان، فاٹا میں کیا ہو رہا ہے، ہمارے اندر آرگنائزیشن ہیں جو انڈین نیریٹو کو لے کر چل رہی ہے جیسے سیفما ہیں اور بھی کچھ ہیں،جب آپ اگر انکو شروع میں سبق سکھا دیتے توپھر سرٹفکیٹ نہ دینے پڑتے، بہت سے لوگ انجانے میں کر رہے ہوتے ہیں اسی نیرٹو کو اپنی دشمنی میں آگے لے کر جاتے ہیں، میری اگر کسی وزیر سے لڑائی ہے تو میں پوری پی ٹی آئی کی حکومت کو غلط نہیں کہہ سکتا،میں مثال دے رہا ہوں کہ اگر مجھے جنرل باجوہ اچھے نہیں لگتے تو مجھے یہ اجازت نہیں کہ پورے ادارے کو برا کہنا شروع کر دوں، میں ایک فرد واحد تک رہوں،یہ فرق لوگوں کو سمجھ آنا چاہئے، باہر کہیں اس طرح سے بات کریں؟ امریکہ میں جوپائیڈن کرے نا پینٹا گون یا سی آئی اے کے اوپر بات، کسی پر بات کر کے دیکھیں اسکو ہوتا کیا ہے
اینکر زین علی نے کہا کہ مسئلہ یہ ہے کہ کبھی سزا کسی کو نہیں ہوئی،نواز شریف ، مریم سب پر غداری کے مقدمے درج ہو گئے، مبشر لقمان نے کہا کہ اب انکو ڈیفنڈ کرنا پڑے گا، اگر وہ نہیں آتے تو پھر ایکس پارٹی ڈیسیژن ہوگا، جو لوگ یہاں موجود ہیں، انکو ڈیفنڈ کرنا پڑے گا، وہ بتائیں کہ انکا اور انڈیا کا نیریٹو ایک کیوں ہے؟ انڈیا میں آپ کہہ کر دیکھیں کہ بھارتی فوج کشمیر میں غلط کر رہی ہے پھر دیکھیں کہ کون کونسا مقدمہ آپ کے اوپر ہوتا ہے،اور ہوا ہے، ایک انڈین صحافی نے سینئر ایڈیٹر ہیں اخبار کی، انہوں نے ہمارے چینل پر انٹرویو دیا کہ مودی جو کشمیر اور کرونا پر کر رہا ہے وہ غلط ہے، رات ساڑھے گیارہ بجے مجھے اسکا روتے ہوئے فون آیا کہ آپ میرا انٹرویو ان پبلش کر دیں ،میرے گھر میں آر ایس ایس والوں نے حملہ کر دیا، اگلے دن اس پر غداری کا مقدمہ ہو گیا رائے کا اظہار، یہاں سٹیٹ سیکرٹ اوپن کر رہے ہیں، دنیا میں ایسا نہیں ہوتا، اگر اس ملک کو بچانا ہے تو جو ملک کے ساتھ مخلص نہیں ہے، اسکو سزا دیتے ہوئے ہمیں شرم نہیں آنی چاہئے
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ اگر اس ملک کو بچانا ہے تو جو ملک کے ساتھ مخلص نہیں ہے، اسکو سزا دیتے ہوئے ہمیں شرم نہیں آنی چاہئے
زین علی نے کہا کہ آج اپوزیشن کے لئے خاص اچھا دن نہیں ہے، ن لیگ کے تمام رہنماؤں بشمول نواز شریف سب پر غداری کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور مولانا فضل الرحمان کے خلاف چیئرمین نیب نے انکوائری کی منظوری دے دی ہے، کچھ دن پہلے باغی ٹی وی نے خبر دی تھی کہ نواز شریف اکیلے نہیں وہ اہم ملاقاتیں کر رہے ہیں،شہباز گل نے بھی کل ملاقاتوں کا ذکر کیا اور کہا کہ مریم نواز نے لاہور میں کچھ اہم ملاقاتیں کیں
اینکر زین علی نے مبشر لقمان سے سوال کیا کہ نواز شریف اکیلے نہیں، باغی ٹی وی نے کچھ دن پہلے خبر دی تھی، مریم نواز کی ملاقاتیں اور نواز شریف کی کس سے ہو رہی ہیں، کیا حقیقت ہے،جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ انڈین ہائی کمیشن کے کچھ لوگ ہیں وہ رات کو گیارہ بجے گئے ہیں،جس گاڑی پر گئے ہیں اس پر نہیں دوسری پر واپس گئے،صبح ناشتہ کر کے نکلے،پھر وہی لوگ شہباز شریف کے پاس بھی گئے،وہاں ان سے بھی ملاقات کی، آپ ویسے ملیں انڈین ہائی کمیشن کے لوگوں کو، کوئی مسئلہ نہیں، لیکن جب رات کی روشنی میں نان ڈکلیر ڈپلومیٹ جس کو اسلام آباد سے نکلنے کی اجازت نہ ہو ، لاہور آئے رات کے ٹائم، وہ صبح جائے آپ اناؤنس بھی نہ کریں پھر آپ کے چاچے کو بھی ملنے جائے تو یہ انتہائی مشکوک ہو جاتا ہے، انکے رابطے تو ہیں، بھارتی ایجنسی اور بھارتی لوگوں سے،اجمل قصاب کے ٹائم سے شروع ہو جائیں، جندل کا آنا،نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر کو نکال دینا، کافی مشکوک سرگرمیاں ہیں انکی،
اینکر زین علی نے سوال کیا کہ نواز شریف جو بول رہے ہیں انکو ظاہر ہے کسی نے تھپکی دی ، کیا تھپکی وہاں سے ملی؟ جو ملاقاتیں چل رہی ہیں، جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ میجر گوارف نے کچھ مہینےپہلے یو ٹیوب کا جو کیا تھا میاں نواز شریف کی تقریر کا پورا سکرپٹ ہی وہی تھا، اور وہ اسی کے حوالے دے رہے تھے، پھر پورا جو انڈین ویب سائٹ پر چھپا اسی کو انہوں نے سوالوں کی شکل میں پیش کیا، اب سوال تو یہ بنتا ہے کہ انکا بیانیہ لے کر چل رہے ہیں یا اپنا؟ سوالیہ نشان ہے، دنیا کا پہلا وزیراعظم نہیں ہے جس کی پاور چھینی گئی ہے، ہر ملک میں صدر ،وزیراعظم بدلتے ہیں، سٹیٹ سیکرٹ آؤٹ نہیں کرتے، 3 بار وزیراعظم رہنے کے باوجود سٹیٹ سیکرٹ آؤٹ کر رہے ہیں یہ توغداری ہے، آرٹیکل سکس کے منافی ہے
اینکر زین علی نے کہا کہ آج تو غداری کا مقدمہ درج ہو چکا ہے، کیا یہ ٹھیک ہوا لوگ بڑی رائے دے رہے ہیں کہ غداری کے سرٹفکیٹ کھلے عام بانٹ رہے ہیں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بلوچستان، فاٹا میں کیا ہو رہا ہے، ہمارے اندر آرگنائزیشن ہیں جو انڈین نیریٹو کو لے کر چل رہی ہے جیسے سیفما ہیں اور بھی کچھ ہیں،جب آپ اگر انکو شروع میں سبق سکھا دیتے توپھر سرٹفکیٹ نہ دینے پڑتے، بہت سے لوگ انجانے میں کر رہے ہوتے ہیں اسی نیرٹو کو اپنی دشمنی میں آگے لے کر جاتے ہیں، میری اگر کسی وزیر سے لڑائی ہے تو میں پوری پی ٹی آئی کی حکومت کو غلط نہیں کہہ سکتا،میں مثال دے رہا ہوں کہ اگر مجھے جنرل باجوہ اچھے نہیں لگتے تو مجھے یہ اجازت نہیں کہ پورے ادارے کو برا کہنا شروع کر دوں، میں ایک فرد واحد تک رہوں،یہ فرق لوگوں کو سمجھ آنا چاہئے، باہر کہیں اس طرح سے بات کریں؟ امریکہ میں جوپائیڈن کرے نا پینٹا گون یا سی آئی اے کے اوپر بات، کسی پر بات کر کے دیکھیں اسکو ہوتا کیا ہے
اینکر زین علی نے کہا کہ مسئلہ یہ ہے کہ کبھی سزا کسی کو نہیں ہوئی،نواز شریف ، مریم سب پر غداری کے مقدمے درج ہو گئے، مبشر لقمان نے کہا کہ اب انکو ڈیفنڈ کرنا پڑے گا، اگر وہ نہیں آتے تو پھر ایکس پارٹی ڈیسیژن ہوگا، جو لوگ یہاں موجود ہیں، انکو ڈیفنڈ کرنا پڑے گا، وہ بتائیں کہ انکا اور انڈیا کا نیریٹو ایک کیوں ہے؟ انڈیا میں آپ کہہ کر دیکھیں کہ بھارتی فوج کشمیر میں غلط کر رہی ہے پھر دیکھیں کہ کون کونسا مقدمہ آپ کے اوپر ہوتا ہے،اور ہوا ہے، ایک انڈین صحافی نے سینئر ایڈیٹر ہیں اخبار کی، انہوں نے ہمارے چینل پر انٹرویو دیا کہ مودی جو کشمیر اور کرونا پر کر رہا ہے وہ غلط ہے، رات ساڑھے گیارہ بجے مجھے اسکا روتے ہوئے فون آیا کہ آپ میرا انٹرویو ان پبلش کر دیں ،میرے گھر میں آر ایس ایس والوں نے حملہ کر دیا، اگلے دن اس پر غداری کا مقدمہ ہو گیا رائے کا اظہار، یہاں سٹیٹ سیکرٹ اوپن کر رہے ہیں، دنیا میں ایسا نہیں ہوتا، اگر اس ملک کو بچانا ہے تو جو ملک کے ساتھ مخلص نہیں ہے، اسکو سزا دیتے ہوئے ہمیں شرم نہیں آنی چاہئے
اینکر زین علی نے سوال کیا کہ پی ڈی ایم نے پہلا جلسہ منسوخ کر دیا، آج مولانا فضل الرحمان کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کی انکوائری کی منظوری ہو گئی ہے،اس تحریک کا انجام کیا ہو گا، جس پر مبشر لقمان نے کہا کہ جب تحریک چلے گی تو پتہ چلے گا ابھی تک تو تحریک چلتی نظر نہیں آ رہی مجھے اس میں صرف مولانا فضل الرحمان نظر آ رہے ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ سیاسی طور پر چاہے وہ صحیح ہو حکومت نے یہ صحیح نہیں کیا تا کہ مولانا اور اپوزیشن الگ الگ ہوتے، اب لگتا ہے کہ ساری اپوزیشن اکٹھی ہو گئی ہے، مولانا فضل الرحمان کو ایک دو مہینے کا وقفہ دے دیتے اور انکوپولٹکلی انگیج کر کے کہہ دیتے کہ یہ سوال ہیں انکے جواب دے دو، مولانا زیرک آدمی ہین، کوئی درمیانی راستہ نکل آتا، مولانا ابھی تک مجرم تو نہیں، حکومت نے یہ جلد بازی کی، یہ سیاسی سوجھ بوجھ کی کمی ہے، اگر اب کوئی تحریک چلی تو وہ صرف مولانا چلا سکتے ہیں، باقی کسی میں ہمت نہیں، مولانا کو جس دن نیب نے بلایا نیب کے لوگوں کو لگ پتہ جائے گا کیونکہ انکا ورکر کمٹڈ ہے، ان سے عشق کرتا ہے، میرا مطلب ہے کہ جب آپ بڑے لوگوں سے سوال بھی کرتے ہیں تو عزت دے کر کرتے ہیں، شہباز شریف کی آٹھ بار ضمانت میں توسیع ہوئی، کیوں ہوئی؟ مانیں یا نہ مانیں بڑے لوگوں کو موقع دیا جاتا ہے کہ وہ اپنی صفائی پیش کر دیں عزت کے ساتھ، میں سمجھتا ہوں کہ حکومت چارج شیٹ لگا رہی ہے تو حکومت بیک آف ہوتی ہے، این آر او ہوتا ہے تو پھر اس میں یہ بھی خراب ہوں گے
اینکر زین علی نے سوال کیا کہ نیب کیسز کو دیکھ لیں جتنے بھی کیسز چلے کسی میں ایک روپے کی بھی ریکوری نہیں ہوئی جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ نہیں ہوئی ہے، لیکن سیاستدانوں سے نہیں ہوئی، نیب پر اس سے زیادہ خرچہ ہو گیا ہے، انکی پراسیکیوشن کمزور ہے، وائٹ کالر کرائم کو ایکسپوز کرنا اتنا آسان نہیں ہے،ابھی تو کہہ رہے ہیں کہ پیسہ باہر نہیں آ رہا، آپ اناؤنس کریں نوٹوں کے رنگ بدل دیں، سارے نوٹ بینک میں ایک بار آ جائیں گے جتنے بھی ہوں، چاہے وہ میرا ڈرائیور یا کک لے کر جائے ایک بار تو اندراج ہو گا رقم جائے گی جو تہہ خانوں میں رکھی ہوئی ہے، حکومت کو ایسے فیصلے کرنے چاہئے، آپ کے پاس اگر 5 ہزار کا ایک لاکھ نوٹ ہے اور حکومت نے رنگ بدل دیا، تو انکا ایک مہینے بعد کیا کرنا ہے، انکو بدلنا پڑے گا،پیسہ تو باہر آئے گا ناں اور ڈاکومنٹ ہو جائے گا،میں نے حکومت کو ایک اور مشورہ دیا تھا کرپشن ختم کرنے کے لئے کہ دس روپے سے اوپر سارے نوٹ ختم کر دیں، ہر قسم کا ٹیکس ختم کر دیں، کوئی ٹیکس نہیں لیکن ہر ٹرانزکشن پر بینک کی ون پرسنٹ کٹوتی کر لیں، کوئی بھی ٹرانزکشن بینک سے ہو، ایک فیصد ٹیکس ہو، میں نے دو کروڑ رشوت دینی ہے اور دس سے اوپر کا نوٹ نہیں ہے تو پھر شہہ زور کروانی پڑے گی اور رکھیں گے کہاں؟ ویٹر کو یا کسی کو ٹپ دینے کے لئے پچاس سو تو دے دیں گے لیکن اس سے بڑی ہر ٹرانزکشن الیکٹرانک ہو جائے گی اور ارب پتی، ہزار پتی کے لئے ایک فیصد ٹیکس ہو گا، یکساں ٹیکس ہو گا اور ٹیکس بہت بہتر ہو گا، بینک ارن کریں گے انکے پاس سرپلس ہو گا، میں اکانومسٹ نہیں ہوں لیکن جو حل دے رہا ہوں وہ اکنامک کی باتوں میں نہیں لیکن جو سیکھا ہے وہ شیئر کر رہا ہوں، ابھی جو ٹیکس چوری کر رہا ہے اسکو نقصان نہیں ہو رہا اور جو ٹیکس دے رہا ہے اسکو فائدہ نہیں ہو رہا، جب آپکو ٹیکس ہی ایک پرسنٹ ہو گا تو چوری نہیں کریں گے،حکومت میں بیٹھے لوگ آئی ایم ایف کے غلام ہیں، انکا ایجنڈہ مختلف ہیں، حفیظ شیخ زرداری صاحب کے ساتھ بھی تھے، آپ کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونا ہے،آپ کو اپنے کاشتکار کو پیروں پر کھڑا کرنا ہے، آپ کے دوست ہیں، کیو موبائل ہے، کیو موبائل کو ٹیکسوں میں کیسوں میں پھنسا دیں وہ کسی کو دے رہا ہے کھلا رہا ہے، آپ کہہ دیں کہ ایک فیصد ٹیکس ہے وہ کیوں چوری کرے گا، کہے گا سو کروڑ کما رہا ہوں ایک فیصد ٹیکس دے رہا ہوں، چوری کرنے پر کسی پر مجبور نہ کریں، بیوپاری چوری نہین کرنا چاہتا وہ کہتا ہے کہ میں ٹیکس دے رہا ہوں سڑک بھی ٹھیک ہو، پانی بھی ہو، بجلی بھی ہو،سیکورٹی بھی ہو امن و امان بھی ہو اب یہ آپ کا کام ہے،جب آپ تیکس نیٹ ون کر دیتے ہین تو کئی کروڑ ٹرانزکشن ایک دن میں ہو جائیں گی اتنا تو ایف بی آر ٹیکس میں جمع نہیں کر رہا جتنا ایک دن میں ہو جائے گا.
سمندر پار بیٹھ کر سازشیں کرنے والوں کے متعلق آرمی چیف نے دو ٹوک پیغام دے دیا
باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق ، چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں باور کرادیا ہے کہ جو لوگ سمندر پار بیٹھ کر فوج کو برا بھلا کہتے ہیں. انہیں یہ جان لینا چاہیے کہ جب تک پاک فوج کے بہادر سپاہی موجود ہیں تب تک پاکستان کے خلاف ہر سازش اور برے ارادے کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا.
انہوں نے کہا کہ جلد ایسے لوگ قانون کی گرفت میں ہوںگے ، ملک پر کسی قسم کی آنچ نہیں آنے دی جائے گی.
پیپلز پارٹی کا اعتراض ، پی ڈی ایم کے 18 اکتوبر کے جلسے کی جگہ تبدیل
باغی ٹی وی : پاکستان پیپلز پارٹی کے اعتراض کے بعد اپوزیشن کے اتحاد پاکستان ڈیمو کریٹک (پی ڈی ایم) نے کوئٹہ میں ہونے والا جلسے کی تاریخ تبدیل کر دی ہے، یہ جلسہ 18 اکتوبر کو کوئٹہ کے بجائے کراچی میں ہو گا، جبکہ اپوزیشن اتحاد کا پہلا جلسہ 16 اکتوبر گوجرانوالہ میں ہو گا۔
پی ڈی ایم میں کوئٹہ جلسہ کی تاریخ پر اختلاف سامنے آگیا ، پی ڈی ایم اسٹیئرنگ کمیٹی نے جلسہ 11 اکتوبر کو رکھنےکااعلان کیا تھا تاہم جے یو آئی اور پختونخواہ ملی عوامی پارٹی نے جلسہ 18 اکتوبر تک ملتوی کر دیا تھا۔
پیپلزپارٹی نے پی ڈی ایم کے تنظیمی ڈھانچے اور 18 اکتوبر کی تاریخ پر تحفظات ظاہر کیے،کیونکہ پیپلزپارٹی 18اکتوبر کو سانحہ کارساز کی برسی مناتی ہے اور سانحہ پر کراچی میں جلسہ کرے گی۔پی پی کا کہنا تھا کہ کراچی جلسہ پرکوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا ، سانحہ کار ساز میں177افراد شہید اور 610 زخمی ہوئے تھے۔
دوسری طرف پاکستان ڈیمو کریٹک پارٹی (پی ڈی ایم) نے کوئٹہ میں ہونے والے جلسے کو کراچی منتقل کر دیا ہے جس کی میزبانی پیپلز پارٹی کرے گی۔پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما احسن اقبال کا کہنا تھا کہ 16 اکتوبر کو پی ڈی ایم کا جلسہ گوجرانوالہ میں ہو گا، 18 اکتوبر کو کراچی میں جلسہ ہو گا، 25 اکتوبر کو کوئٹہ میں جلسہ ہو گا۔ 22 نومبر کو پشاور میں جلسہ ہو گا۔30 نومبر کو ملتان میں میدان سجے گا۔13 دسمبر کو تاریخ سب سے بڑا جلسہ لاہور میں ہو گا۔
ان کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کے اجلاس میں فیصلے کے بعد سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی کو پی ڈی ایم کا جنرل سیکرٹری مقرر کر دیا ہے۔ اجلاس کے بعد بات کرتے ہوئے احسن اقبال کا کہنا تھا کہ پاکستان میں آزاد عدلیہ چاہتے ہیں، اجلاس میں بغاوت کے مقدمات کی پر زور مذمت کی گئی.
خیال رہےکہ گذشتہ دنوں اسلام آباد میں ہونے والے پی ڈی ایم کےاجلاس میں اپوزیشن جماعتوں نے 11 اکتوبر کو کوئٹہ میں تحریک کے پہلے جلسہ عام کا اعلان کیا تھا۔
واضح رہے کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ میں مسلم لیگ (ن) پیپلزپارٹی، جمعیت علمائے اسلام اور عوامی نیشنل پارٹی سمیت 11 جماعتیں شامل ہیں جبکہ جے یو آئی کے قائد مولانا فضل الرحمان پی ڈی ایم کے سربراہ ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہےکہ 18اکتوبر کوکوئٹہ میں ہونے والے پی ڈی ایم کے پہلے جلسےکی میزبانی جے یو آئی اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کرے گی۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چیئرمین نیب جسٹس (ر)جاوید اقبال کی زیرصدارت ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس ہوا.
اجلاس میں ڈپٹی چیئر مین نیب پراسیکیوٹر جنرل اکاونٹبلٹی نیب،ڈی جی آپریشن نیب،ڈی جی نیب خیبر پختونخواہ نے بذریعہ ویڈیو لنک شرکت کی،
نیب کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا کہ مالم جبہ سوات کیس میں پشاور ہائیکورٹ کے فیصلہ کی مصدقہ نقول کی روشنی میں قانون کے مطابق کیس پر کارروائی کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے. اجلاس میں امیر مقام، مولانا فضل الرحمان، کیپٹن(ر) صفدر اور شیر اعظم وزیر کے کیسز کا جائزہ لیا گیا، بلین ٹری سونامی، محمود زیب اور عثمان سیف اللہ کے خلاف کیسز کا بھی جائزہ لیا گیا، اجلاس میں آفیسرز، آفیشلزآف بنک آف خیبر پشاور کے خلاف قواعدو ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مبینہ طور ہر غیر قانونی بھرتیوں کے الزام میں انویسٹی گیشن کی منظوری دی گئی
چیئرمین نیب جسٹس ر جاوید اقبال کا کہنا ہے کہ بدعنوانی کے خلاف انتہائی سنجیدہ کوششیں کررہے ہیں میگا منی کرپشن کومنطقی انجام تک پہنچانا اولین ترجیح ہے ،نیب کا تعلق کسی سیاسی جماعت ،گروہ،فرد سے نہیں بلکہ صرف اورصرف ریاست پاکستان سے ہے،نیب بدعنوان عناصرسے قوم کی لوٹی گئی دولت بر آمد کرنے کیلیے ہر ممکن وسائل بروئے کار لا رہا ہے ،مفرور اور اشتہاری ملزمان کی گرفتاری کیلیے قانون کےمطابق اقدامات کیے جائیں گے، شکایات کی جانچ پڑتال ،انکوائریاں،انوسٹی گیشنز مقررہ وقت کے اندر قانون کیمطابق منطقی انجام تک پہنچائی جائیں،قومی و بین الاقومی ادارے بھی نیب کی کارکردگی کی تعریف کررہے ہیں،اشتہاری ملزمان کی گرفتاری کےلیے اقدامات اٹھائے جائیں گے
واضح رہے کہ رواں برس مارچ میں نیب خیبر پختونخوا نے مالم جبہ ریزورٹ پراجیکٹ کے ٹھیکے کو مبینہ طور پر بدنیتی پر مبنی اور محکمہ جنگلات کی قیمتی اراضی ہتھیانے کا ایک میگا فراڈ قرار دیتے ہوئے اپنی تحقیقات مکمل کر کے کیس نیب ہیڈ کوارٹر بھجوا دیا تھا۔
مالم جبہ سکینڈل پر چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے 9 جنوری 2018 کو انکوائری کا حکم دیا تھا۔ نیب خیبر پختونخوا نے انکوائری کے بعد اسے انوسٹی گیشن میں تبدیل کیا اور اس وقت کے وزیر اعلیٰ، موجودہ وزیر دفاع پرویز خٹک، خیبرپختونخوا کے سینئر وزیر عاطف خان ،سابق چیف سیکرٹری اور وزیر اعظم کے موجودہ سیکرٹری اعظم خان، موجودہ وزیر اعلیٰ اور اس وقت کے صوبائی وزیر سیاحت و کھیل محمود خان اور چیئرمین خیبرپختونخوا اسپورٹس بورڈ محسن عزیز کے خلاف تحقیقات کیں۔
اس کیس میں سوات کے علاقے مالم جبہ میں 275 ایکڑ سرکاری اراضی 2014 میں تفریحی مقامات کے لیے لیز پر دی گئی جس میں مبینہ طور پر بے قاعدگیوں اور اقربا پروری کے الزامات لگے تھے۔ مالم جبہ اراضی کی لیز کا اشتہار 15 سال کے لیے دیا گیا تاہم کنٹریکٹ کے بعد لیز کو 32 سال تک کے لیے بڑھا دیا گیا تھا اور جس کمپنی کے ساتھ معاہدہ کیا گیا وہ اس کے پاس اس کی اہلیت نہیں تھی۔ لیکن اس کیس میں بھی ریفرنس ابھی تک دائر نہیں ہو سکا ہے۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ پشاور رجسٹری میں ماحولیاتی آلودگی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی
عدالت نے 4ہفتوں میں تفصیلی رپورٹ طلب کرکے سماعت ملتوی کردی ،ماحولیاتی آلودگی کی روک تھام کےلیے انتظامات نہ ہونے پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کیا،چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو لوگ کام نہیں کرتے،فارغ کرکے نئے لوگ لے آئیں،یہ اے سی کے کمرے میں بیٹھے ہوتے ہیں،صرف خط لکھتے ہیں
چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر افسران کام کررہے ہوتے تو کلف والے کپڑوں میں نہ آتے بلکہ جینز پہن کر آتے،خطوط پرکام ہونے کا زمانہ چلا گیا،خط لکھنابابو کا کام ہے،یہاں بہت بری حالت ہے، ہرجگہ آلودگی ہے،آپ کی رپورٹ میں غیرسنجیدگی کا مظاہرہ کیاگیاہے،کوئی عملی اقدامات نہیں ،کاغذی معاملات میں ہمیں کوئی دلچسپی نہیں،آپ کہتے ہیں بلین ٹری لگائے لیکن ہمیں کوئی درخت نظر نہیں آیا، آپ کو پتہ نہیں کہ دنیا میں معاملات کیسے چل رہے ہیں؟
جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ اگر کورونا نہ ہوتا تو بھی آلودگی کی وجہ سے فیس ماسک لگاتے،چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ ہم نے شہر کا حال اپنی آنکھوں دیکھ لیا،چھوٹے شہر کا یہ حال ہے تو بڑے شہروں کا کیا حال ہوگا،لاہور میں ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے کےلیے اچھے اقدامات کیے گئے
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں سابق وزیراعظم نواز شریف و دیگر ن لیگی رہنماوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے
مدعی بدر رشید سکنہ شاہدرہ کی مدعیت میں مقدمہ تھانہ شاہدرہ ٹاؤں میں درج کیا گیا ہے، ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ سزا یافتہ مجرم نواز شریف جن کے کرپشن کے کئی کیسز عدالتوں میں زیر سماعت بھی ہیں، لاہور ہائیکورٹ نے بیماری کی وجہ سے نواز شریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت دی اور حکومت نے مخالفت نہ کی،اب نواز شریف لندن میں علاج کروانے کی بجائے سوچی سمجھی سازش کے تحت پاکستان کے ادارون کو بدنام کر رہا ہے،نواز شریف نے دو مختلف تقریروں میں ہمارے دشمن ملک انڈیا کی پالیسی کی تائید کی
ایف آئی آر میں مزید کہا گیا ہے کہ نواز شریف کا مقصد پاکستان کو عالمی برادری میں تنہا کرنا ہے،نواز شریف نے اے پی سی اور دیگر پروگراموں سے خطاب کیا،ن لیگ کی سنٹرل ورکرکمیٹی اور سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں رہنماؤں نے نواز شریف کے بیان کی تائید کی،
ایف آئی آر میں مزید کہا گیا کہ نواز شریف لندن میں بیٹھ کر پاکستانی عوام کو کھلے عام بغاوت کی ترغیب دے رہا ہے،تا کہ ملک میں آگ اور خون کا کھیل کھیلا جا سکے، اور بھارتی وزیراعظم مودی کو فائدہ پہنچایا جا سکے،عالمی برادری میں پاکستان کے اداروں کو بدنام کیا جا سکے، نواز شریف کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے
مقدمے میں ظفر الحق، خرم دستگیر، اقبال ظفر جھگڑا، صلاح الدین ترمذی، احسن اقبال، شیخ آفتاب، پرویز رشید، خواجہ آصف، رانا ثنا اللہ، ایاز صادق کو بھی نامزد نامزد کیا گیا۔ بیگم نجمہ وحید، بیگم ذکیہ شاہنواز، طارق رزاق چودھری، شیزا فاطمہ، جاوید عباسی، مہتاب عباسی، جاوید لطیف، مریم اورنگزیب اور دیگر کو بھی ایف آئی آر میں نامزد کیا گیا ہے
تھانہ شاہدرہ میں نواز شریف کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے