Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • ایڈمرل امجد خان نیازی نے پاک بحریہ کی کمان سنبھال لی

    ایڈمرل امجد خان نیازی نے پاک بحریہ کی کمان سنبھال لی

    ایڈمرل امجد خان نیازی نے پاک بحریہ کے نئے سربراہ کی ذمہ داریاں سنبھال لیں۔

    نیول ہیڈ کوارٹر پی این ایس ظفر میں پاک بحریہ کے سربراہ کی کمان کی تبدیلی کی پروقار تقریب ہوئی جس میں غیر ملکی سفیروں سمیت اعلیٰ شخصیات نے شرکت کی۔پاک بحریہ کے دستے نے سبکدوش ہونے والے سربراہ ایڈمرل ظفر محمود عباسی کو گارڈ آف آنر پیش کیا ۔ایڈمرل ظفر محمود عباسی نے ایڈمرل امجد خان نیازی کو پاک بحریہ کی کمان سونپی۔

    ایڈمرل امجد خان نیازی پاک بحریہ کے 22 ویں سربراہ کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالی ہیں۔کمان کی تبدیلی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سبکدوش ہونے والے ایڈمرل ظفر محمود عباسی نے پاک بحریہ کے نئے سربراہ امجد نیازی کو مبارکباد پیش کی۔

    ایڈمرل ظفر عباسی نے کہا کہ پاک بحریہ کی پیشہ ورانہ صلاحیت پر خصوصی توجہ دی، 4چینی فریگیٹ آئندہ 2 برس میں پاک بحریہ میں شامل ہوں گے، پی این ایس یرموک پاکستان نیوی کا حصہ بن گیا ہے اور پی این ایس ہیبت کی کیمیشننگ رواں سال کے آخر میں ہوگی۔ایڈمرل ظفر عباسی کا کہنا تھا کہ گوادرمیں بحری اڈہ قائم کیا جا رہاہے، میرین ٹریننگ سینٹر کراچی سے گوادر منتقل کردیا گیا ہے۔ہم ملکی دفاع کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں چین کے تعاون سے اکنامک زون سے متعلق اقدامات کیے جارہے ہیں،اللہ پر یقین رکھنا ہمارے ایمان کا حصہ ہے پاکستان نیوی میں اسلامی تعلیمات کو لازمی قرار دیا گیا ہے

    صدر پاکستان نے وائس ایڈمرل محمد امجد خان نیازی کی پاک بحریہ کے نئے سربراہ کےطور پر تعیناتی اور ایڈمرل کے عہدے پر ترقی کی منظوری دی تھی۔

    وائس ایڈمرل محمد امجد خان نیازی، نے ایڈمرل ظفر محمود عباسی کی جگہ پاک بحریہ کی کمانڈ سنبھالی۔ وائس ایڈمرل محمد امجد خان نیازی نے1985میں پاک بحریہ کی آپریشنز برانچ میںکمیشن حاصل کیا اور ابتدائی تربیت کے اختتام پر پاکستان نیول اکیڈمی سے اعزازی شمشیر حاصل کی۔ اپنے پیشہ ورانہ کیریئر کے دوران وائس ایڈمرل محمد امجد خان نیازی متعدد کمانڈ اوراسٹاف عہدوں پر فرائض سرانجام دے چکے ہیں۔ ان کی کمانڈ تقرریوں میں دو Type-21 جہاز پی این ایس بدر اور پی این ایس طارق کی کمانڈ، اٹھارہویں ڈسٹرائر اسکواڈرن (Destroyer Squadron) کے کمانڈر، کمانڈانٹ پی این ایس بہادر، کمانڈانٹ پاکستان نیوی وار کالج / کمانڈر سینٹرل پنجاب، کمانڈر پاکستان فلیٹ اورکمانڈر کراچی شامل ہیں۔انکی اہم اسٹاف تقرریوں میں چیف آف دی نیول اسٹاف کے پرنسپل سیکرٹری، ہیڈ آف F-22P مشن چائینہ، ڈپٹی چیف آف نیول اسٹاف (ٹریننگ اینڈ ایوالیوایشن) اور ڈائریکٹر جنرل نیول انٹیلیجنس شامل ہیں۔ آپ اس وقت نیول ہیڈ کوارٹرز اسلام آبادمیں چیف آف اسٹاف(آپریشنز)کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔

    وائس ایڈمرل محمد امجد خان نیازی آرمی کمانڈاینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد کے گریجویٹ ہیں۔ آپ نے چین میں Beijing University of Aeronautics and Astronautics سےUnderwater Acoustics میں ماسٹرز ڈگری حاصل کی۔ انکی اعلیٰ خدمات کے اعتراف میں انہیں ہلالِ امتیاز(ملٹری) اور ستارہ بسالت کے اعزاز سے نوازا گیاہے۔ وائس ایڈمرل محمد امجد خان نیازی کو حکومتِ فرانس کی جانب سے فرانسیسی میڈل Chevalier (Knight) سےبھی نوازا گیاہے۔

  • کرونا وائرس پینٹاگان پرحملہ آور: امریکی فوج کے تمام جنرل کرونا کے ڈرسے چُھپ گئے

    کرونا وائرس پینٹاگان پرحملہ آور: امریکی فوج کے تمام جنرل کرونا کے ڈرسے چُھپ گئے

    واشنگٹن : امریکی فوج کے تمام جنرل کرونا کے ڈرسے قرنطینہ پہنچ گئے ،اطلاعات کے مطابق ایک اعلیٰ امریکی فوجی افسر کا کورونا ٹیسٹ مثبت آنے پر امریکی فوج کے سروسز چیف سمیت پینٹاگون کی اعلیٰ عسکری قیادت قرنطینہ میں چلی گئی۔

    امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق وائس کمانڈر یو ایس کوسٹ گارڈ ایڈمرل چارلس رے میں کورونا کی تصدیق ہوئی تھی جس کے بعد امریکی فوج کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل مائیک ملی قرنطینہ میں چلے گئے۔

    پینٹاگون حکام کے مطابق ایڈمرل چارلس نے پچھلےہفتے سروس چیفس کے ساتھ میٹنگ میں شرکت کی تھی۔

    حکام کے مطابق جنرل مائیک ملی کے علاوہ پینٹاگون کے دیگر اعلیٰ عہدیدار بھی خود ساختہ تنہائی (آئسولیشن) میں چلے گئے ہیں پینٹاگون کے مطابق تمام عہدیداد قرنطینہ میں رہتے ہوئے ہی اپنی خدمات انجام دیں گے۔

  • بین المسالک ہم آہنگی کے فروغ کے لئے 20 نکاتی متفقہ ضابطہ اخلاق تیار

    بین المسالک ہم آہنگی کے فروغ کے لئے 20 نکاتی متفقہ ضابطہ اخلاق تیار

    اسلام آباد:بین المسالک ہم آہنگی کے فروغ کے لئے 20 نکاتی متفقہ ضابطہ اخلاق تیار،اطلاعات کے مطابق پیغام پاکستان کے تحت مسلکی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے 20 نکاتی متفقہ ضابطہ اخلاق تیار کرلیا گیا۔

    ذرائع کے مطابق 20 نکاتی متفقہ ضابطہ اخلاق پر تمام مسالک کے علما کے دستخط موجود ہیں، اسلام کے نام پر جبر، ریاست خلاف کارروائی، تشدد، انتشار کی صورتیں بغاوت قرار دی گئی ہیں۔

    پیغام پاکستان ضابطہ اخلاق کے مطابق کسی فرد کی جانب سے کسی کو کافر قرار نہیں دیا جاسکتا، ریاست کے خلاف لسانی، علاقائی، مذہبی و فرقہ واریت پر تحریکوں کا حصہ بننا ممنوع قرار ہوگا، ریاست ایسے گروہوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائے گی۔

    متن میں لکھا گیا ہے کہ علما، مشائخ تشدد کے خاتمے کے لیے ریاست، مسلح افواج کی حمایت کریں گے، فرقہ وارانہ نفرت، مسلح فرقہ وارانہ تنازع، جبراً نظریات مسلط کرنا فساد فی الارض قرار ہوگا۔

    ضابطہ اخلاق کے مطابق انتہاپسندی، فرقہ واریت فروغ دینے والوں کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں، مسلک اور عقائد کی تبلیغ اسلام کے تمام مکاتب فکر کا حق ہے، کسی شخص، ادارے یا فرقے کے خلاف نفرت انگیزی، بے بنیاد الزامات کی اجازت نہیں ہوگی۔

     

    وزیرمذہبی امور پیر نور الحق کی زیر صدارت مختلف مکتنہ فکر سے تعلق رکھنے والے علمائے کرام کا اجلاس ہوا، جس میں میں چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل قبلہ ایاز، سینیٹرعلامہ پروفیسر ساجد میر،مفتی تقی عثمانی، مفتی منیب الرحمان، مولانا محمد حنیف جالندھری ، ڈاکٹرراغب نعیمی، علامہ عارف واحدی، سید افتخار حسین نقوی، سید ضیا اللہ شاہ بخاری، مولانا عبدالمالک، پیر نقیب الرحمان، ڈاکٹر معصوم یاسین زئی اور راجہ ناصر عباس سمیت دیگر علمائے کرام نے شرکت کی۔

    اجلاس میں پیغامِ پاکستان کے تحت ملک میں بین الامسالک ہم آہنگی کے فروغ کے لئے 20 نکاتی متفقہ ضابطہ اخلاق تیار کیا گیا جس پر تمام مسالک کے علماء کے دستخط ہیں۔ ضابطہ اخلاق کے نکات میں مساوات، سماجی اور سیاسی حقوق، اظہار خیال، عقیدہ، عبادات اور اجتماع کی آزادی شامل ہے۔

     

    ضابطہ اخلاق کے نکات کے مطابق تمام شہریوں کا فرض ہے کہ وہ دستور پاکستان کا تسلیم کریں، ریاست پاکستان کی عزت و تکریم کو یقینی بنائیں اور ریاست سے وفاداری کے حلف کو نبھائیں، تمام شہری دستور میں درج تمام بنیادی حقوق کے احترام کو یقینی بنائیں، علما، مشائخ اور شہری ریاست، اداروں اورمسلح افواج کی حمایت کریں تاکہ تشدد کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جاسکے۔

    متن میں لکھا گیا ہے کہ کوئی شخص مقدس ہستیوں کی توہین نہیں کرے گا، کوئی شخص یا گروہ قانون ہاتھ میں نہیں لے گا، کوئی فرد یا گروہ توہین رسالت کیسز کی تفتیش یا استغاثہ میں رکاوٹ نہیں بنے گا۔

    ضابطہ اخلاق کے مطابق کوئی شخص دہشت گردی کو فروغ نہیں دے گا اور نہ ہی ایسی سرگرمیوں میں ملوث ہوگا، غیرمسلموں کو حق ہوگا کہ وہ مذہب، رسومات کی ادائیگی عقائد کے مطابق کریں، مساجد، امام بارگاہوں، مجالس میں نفرت انگیز تقاریر نہیں کی جائیں گی۔

    متن کے مطابق فرقہ وارانہ موضوع پر اخبار، ٹی وی، سوشل میڈیا پر متنازع گفتگو ممنوع ہوگی، اسلام خواتین کے حقوق کا محافظ ہے، کسی کو خواتین سے ووٹ، تعلیم، روزگار چھیننے کا حق نہیں ہے، آزادی اظہار، اسلام اور ملکی قوانین کے ماتحت ہے۔

  • میں ان لوگوں کی عزت نہیں کرتا جو…..مبشر لقمان غصہ میں آ گئے

    میں ان لوگوں کی عزت نہیں کرتا جو…..مبشر لقمان غصہ میں آ گئے

    میں ان لوگوں کی عزت نہیں کرتا جو…..مبشر لقمان غصہ میں آ گئے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ اتنا نشہ ہے پاور کا کہ نواز شریف نے اتنا غلط کیا تو استعفیٰ مارو،تا کہ دوبارہ الیکشن ہو، اتنا کریکٹر دکھاؤ، جو لوگ چھپ کر مل رہے ہیں، کہ اعظم سواتی کو بیان دینا پڑا میں ان لوگوں کی عزت نہیں کرتا،

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پراینکر زین علی نے سوال کیا کہ نواز شریف کا بیانیہ سے ن لیگ کے اندر لوگ اسکو انڈوز نہیں کر رہے ہیں، دس سے بارہ ایم این اے، سینیٹرز حکومت سے رابطے میں ہیں، اعظم سواتی نے ایسا کہا جس پر مبشر لقمان نے کہا فصلی بٹیرے ہیں، جہاز جب ڈوب رہا ہو تو چوہے سب سے پہلے بھاگتے ہیں، انہوں نے پریس کانفرنس نہیں کی،ن لیگ سے علیحدگی کا اعلان نہیں کیا، پی ٹی آئی کو اپروچ کیا کہ ہمیں بچاؤ کسی طرح، ہم چھوڑنا نہیں چاہتے،

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ یہ اتنا نشہ ہے پاور کا کہ نواز شریف نے اتنا غلط کیا تو استعفیٰ مارو،تا کہ دوبارہ الیکشن ہو، اتنا کریکٹر دکھاؤ، جو لوگ چھپ کر مل رہے ہیں، کہ اعظم سواتی کو بیان دینا پڑا میں ان لوگوں کی عزت نہیں کرتا، وہ کھل کر آئیں اور کہیں ملک کے لئے ہم سب کرنے کو تیار ہیں، مرنا بھی نہیں اور جنت میں بھی جانا ہے ایسا نہیں ہوتا، مسلم لیگ نام کی جو جماعت ہوتی ہے اس میں ایسا ہوتا ہے،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اے پی سی کا ونر بلاول ہے، پورے ماحول میں دیکھیں کہ بلاول اور پی پی باہر بیٹھ گئے ہیں وہ دیکھ رہے ہیں وہ نہ اپوزیشن کے ساتھ کھڑے ہیں نہ حکومت کے ساتھ، وہ خاموش ہیں، وجہ یہ ہےکہ وہ حکومت کے خلاف احتجاج ہونے ہیں، پی ڈی ایم، سندھ میں پی پی کی حکومت ہے، اپنی حکومت کے خلاف کیوں احتجاج کریں گے، ایم کیو ایم یا مصطفیٰ کمال کرین گے تو ملبہ ان پر ڈال دیں گے، ہر ایک اپنی بوٹی کے لئے لڑ رہا ہے، میں کہہ رہا ہوں کہ اٹھارہویں ترمیم ختم کرو، نئے صوبے بناؤ اور اجارہ داری ختم کرو،

  • بغاوت کا مقدمہ رات ڈھائی بجے ہو گیا،مبشر لقمان کی درخواستوں پر دو سال میں دو مقدمے نہ ہو سکے

    بغاوت کا مقدمہ رات ڈھائی بجے ہو گیا،مبشر لقمان کی درخواستوں پر دو سال میں دو مقدمے نہ ہو سکے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ مبشر لقمان کی چوری کی ایف آئی آر نہیں ہو رہی، ہراسمنٹ کی نہیں ہو رہی، ایف آئی آر کا جو اہلکار میشا شفیع کومجرم قرار دے رہا ہے اس کو معطل کر دیا گیا یہ کیا ہو رہا ہے، مجھے تو کہیں حکومت نظر نہیں آ رہی،

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اینکر زین علی نے کہا کہ آپ سرجری کی بات کر رہے ہیں لگتا ہے کہ اس ملک میں حکومت بڑی ویک ہے، عمران خان نے کہا کہ اس ملک میں اشرافیہ نے لاک ڈاؤن لگایا، ابھی کل کے جو ایف آئی آر ہوئی اس پر بات کرتے ہیں، بغاوت کا مقدمہ درج ہو گیا، گورنر پنجاب نے کہا کہ پی ٹی آئی سے اسکا تعلق نہیں،جب ایف آئی آر ہوتی ہے تو متعلقہ ایس پی بھی انوالو ہوتا ہے، جس پر مبشر لقمان نے کہا کہ مبشر لقمان کی چوری کی ایف آئی آر نہیں ہو رہی، ہراسمنٹ کی نہیں ہو رہی، ایف آئی آر کا جو اہلکار میشا شفیع کومجرم قرار دے رہا ہے اس کو معطل کر دیا گیا یہ کیا ہو رہا ہے، مجھے تو کہیں حکومت نظر نہیں آ رہی،دو سال میں دو پرچوں کی درخواست میں دے چکا ہوں ایک چوری کا ایک ہراسمنٹ کا،رپورٹس ہوئی ہیں لیکن پرچہ نہیں کٹ رہا، عدالت میں بھی چلا گیا،28 پیشیاں ہو گئی ہیں لیکن ابھی تک پرچہ نہیں کٹا،

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ 20 کلو کا آٹا مہنگا ہو گیا، مہنگائی سے لوگوں کی چیخیں نکل گئی ہیں،پٹرول، پانی، بجلی،گیس سب مہنگا، میں گھر کا دفتر کا بجلی کا بل دکھاؤں تو ہوش اڑ جائیں، ہوٹل کا بل ہوتا تھا ایک زمانے میں اتنا اب گھروں کے آنا شروع ہو گئے،ہمارا مسئلہ ہے کہ قانون ہاتھ میں نہیں لے سکتے، کمزور لوگ ہیں، بجلی کٹوائیں گے یا کچھ بیچ کر بل دیں گے،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا ک میں کچھ عرصے سے لوگوں کو کہتا ہوں لیکن احساس نہیں ہوتا، اس ملک میں تیزی سے بڑھنے والا پروفیشن پراسیٹیوشن ہے،بچیاں سڑک پر آ گئیں ،گھر نہیں چل رہا، بھائی کو ملازمت نہیں مل رہی، باپ بیمار ہے، اب وہ کیا کریں، ہم نے لوگوں کو مجبور کر دیا کہ چادر و چار دیواری کا ہم استحصال کر رہے ہیں، ہر ایک ہر ایک سے لڑ رہا ہے، ہمیں سمجھنا چاہئے کہ ہمارے ملک کے سیاسی قائدین اس قابل نہیں کہ ہم ذاتی دوستیاں، تعلقات خراب کریں، لڑائی مت کریں، کوئی کسی کو اچھا کہتا ہے یا اچھا نہیں سمجھتا کہتا رہے، اچھا وہ ہے جو اچھا کرے گا

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس ملک کے لئے، تمام سیاسی لیڈر آج تک ایک دفعہ بیٹھے نہیں کہ کالا باغ ڈیم ضروری ہے یا نہیں، ہم سمجھتے ہیں کہ وہ ایشو ہی نہیں رہا، پتہ نہیں آج مبشر لقمان اس ایشو پر کیوں بات کر رہا ہے، بیس سال بعد پانی نہیں ہو گا، جس طرح تیل بک رہا ہے اس طرح پانی بکے گا، پہلے سوچا کہ کر دو کردو ،تن کے رکھ دو، جب ری ایکشن آیا،اس بات سے کشمیر کاز کو کتنا ڈیمج کر دیا، انڈین میڈیا اس پر شادیانے بجا رہا ہے،خود ہی ہم نے اپنی کاز کو تہس نہس کر کے رکھ دیا

  • اس طرح نہیں چلے گا، مبشر لقمان پھٹ پڑے

    اس طرح نہیں چلے گا، مبشر لقمان پھٹ پڑے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ جس پر پرچہ ہونا چاہئے تھا اس پر کسی کو ہمت ہی نہیں پرچہ کرنے کی، اگر پرچہ ہونا تھا آرمی ایکٹ بل جو پاس ہوا اس کے بعد مولانا فضل الرحمان پر پرچہ ہونا چاہئے تھا، برملا فوج پر بات کی انہوں نے، اس پر تو پرچہ کر نہیں سکے،

    اینکر پرسن زین علی نے کہا کہ کل سے جو بغاوت کا مقدمہ ن لیگ کے کئی رہنماؤں پر درج ہوا اسکی بڑی باز گشت ہے، اس پر آج تجزیہ کریں گے،

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ میں بڑا ڈپریشن میں ہوں،انہی باتوں سے جو آپ نے کی ہیں، انتہائی بے تکی بات ہے مجھے سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا سوچ کر اس طرح کی حرکتیں کی جاتی ہیں پھر ڈس اون کیا جاتا ہے، رات کو ڈھائی بجے ایچ ایچ او ڈیوٹی پر بیٹھا ہوتا ہے اور وہ کسی کے کہنے پر پرچہ کاٹ دیتا ہے اور وہ شخص پی ٹی آئی کا عہدیدار ہے،وہ خود بڑے کیسز میں مطلوب ہے، اقدام قتل و دیگر کیسز میں،اور میں یہ سوچ رہا ہوں کہ دو سال میں دو پرچوں کی درخواست میں دے چکا ہوں ایک چوری کا ایک ہراسمنٹ کا،رپورٹس ہوئی ہیں لیکن پرچہ نہیں کٹ رہا، عدالت میں بھی چلا گیا،28 پیشیاں ہو گئی ہیں لیکن ابھی تک پرچہ نہیں کٹا، یہ صاحب رات کو ڈھائی بجے جاتے ہیں دو سابق وزیراعظم، ایک حاضر سروس وزیراعظم، سابق وفاقی وزراء، تین ریٹائرڈ جنرلز پر مقدمہ ہو جاتا ہے اور وہ ایس ایچ او ابھی تک ڈیوٹی پر ہے،یہ نہیں کہ اسکو فوری ہٹا دیا گیا، جس پر پرچہ ہونا چاہئے تھا اس پر کسی کو ہمت ہی نہیں پرچہ کرنے کی، اگر پرچہ ہونا تھا آرمی ایکٹ بل جو پاس ہوا اس کے بعد مولانا فضل الرحمان پر پرچہ ہونا چاہئے تھا، برملا فوج پر بات کی انہوں نے، اس پر تو پرچہ کر نہیں سکے، انکو نیب نوٹس دیے جا رہا ہے، مولانا فضل الرحمان نے اعلان کر دیا کہ میں 3 لاکھ لوگوں کے ساتھ جاؤں گا پھر نیب نے کہا کہ میں نے نوٹس نہیں دیا،پھر نیب بیٹھ گیا، میں عجیب کشمکش میں ہوں کہ یہ لوگ ملک چلا سکتے ہیں یا نہیں، اس طرح تو نہیں چلے گا،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ عجیب قسم کی گیم بنی ہوئی ہے،مجھے کسی نے بتایا کہ مطیع اللہ جان کو ایف آئی اے کے سابق ڈی جی نے بیان دیا کہ ہائی ایسٹ آفس نے بلا کر یہ کہا کہ مریم، کیپٹن صفدر کے اوپر غداری کا مقدمہ درج کرو،میں نے انکار کر دیا، مطیع اللہ کا بڑا سکوپ ہے، ہائی ایسٹ آفس دو ہی ہیں پرائم منسٹر کا یا صدر کا، یہ ملک کس طرح چل رہا ہے، خواہشات کے اوپر،کل سے سراج قاسم تیلی کی گفتگو سن رہا ہوں، خوفناک گفتگو ہے، آج عبداللہ ہارون کا ویڈیو آ گیا ہے،انہوں نے تصدیق کی کہ سراج تیلی نے یہ بات کی ہے،پاکستان کو بہت فورم پر وہ رہ چکے ہیں، انکا بڑا مقام ہے ،سراج قاسم نے جو کہا اس سے کتنے لوگوں کو اعتراض ہے، میرا خیال ہے کہ زیادہ لوگ اعتراض نہیں کریں گے، بات انہوں نے ٹھیک کی، جو حوصلہ آپ اور میرے میں نہیں وہ سراج صاحب نے دکھا دیا، مرد جو کرتا ہے اس طرح انہوں نے فرنٹ فٹ پر آ کر کیا، ارباب اختیار جس میں حکومت بھی ہے اور ادارے بھی ہیں، ان سب کو سر جوڑ کر بیٹھنا ہے، اب اس ملک میں سرجری ہونی ہے اورایسے نہیں ہونی کہ ذرا دیکھ بھال کر، بی پی نیچے آ جائے، شوگر کنٹرول ہو جائے، پھر ہم سرجری کریں گے، اور اب آپکو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ اٹھارہویں ترمیم کو ختم کرنا ہے تا کہ صوبائیت کی باتیں ختم ہوں، چار صوبوں کو 29 صوبوں میں کنورٹ کرنا ہے، جو 29 ہمارے ڈویژن ہیں، ڈویژن میں انتظامی ڈھانچہ بنا ہوا ہے،اور لوگوں کو دیں ان کا حق، افیکٹو لوکل باڈیز لے کر آنی ہے اور فوری لے کر آئیں تا کہ ایم پی اے، ایم این ایز کی بلیک میلنگ سے بچیں، سب سیاسی پارٹیاں بلیک میل ہو رہی ہیں

    اینکر زین علی نے کہا کہ آپ سرجری کی بات کر رہے ہیں لگتا ہے کہ اس ملک میں حکومت بڑی ویک ہے، عمران خان نے کہا کہ اس ملک میں اشرافیہ نے لاک ڈاؤن لگایا، ابھی کل کے جو ایف آئی آر ہوئی اس پر بات کرتے ہیں، بغاوت کا مقدمہ درج ہو گیا، گورنر پنجاب نے کہا کہ پی ٹی آئی سے اسکا تعلق نہیں،جب ایف آئی آر ہوتی ہے تو متعلقہ ایس پی بھی انوالو ہوتا ہے، جس پر مبشر لقمان نے کہا کہ مبشر لقمان کی چوری کی ایف آئی آر نہیں ہو رہی، ہراسمنٹ کی نہیں ہو رہی، ایف آئی آر کا جو اہلکار میشا شفیع کومجرم قرار دے رہا ہے اس کو معطل کر دیا گیا یہ کیا ہو رہا ہے، مجھے تو کہیں حکومت نظر نہیں آ رہی، 20 کلو کا آٹا مہنگا ہو گیا، مہنگائی سے لوگوں کی چیخیں نکل گئی ہیں،پٹرول، پانی، بجلی،گیس سب مہنگا، میں گھر کا دفتر کا بجلی کا بل دکھاؤں تو ہوش اڑ جائیں، ہوٹل کا بل ہوتا تھا ایک زمانے میں اتنا اب گھروں کے آنا شروع ہو گئے،ہمارا مسئلہ ہے کہ قانون ہاتھ میں نہیں لے سکتے، کمزور لوگ ہیں، بجلی کٹوائیں گے یا کچھ بیچ کر بل دیں گے،میں کچھ عرصے سے لوگوں کو کہتا ہوں لیکن احساس نہیں ہوتا، اس ملک میں تیزی سے بڑھنے والا پروفیشن پراسیٹیوشن ہے،بچیاں سڑک پر آ گئیں ،گھر نہیں چل رہا، بھائی کو ملازمت نہیں مل رہی، باپ بیمار ہے، اب وہ کیا کریں، ہم نے لوگوں کو مجبور کر دیا کہ چادر و چار دیواری کا ہم استحصال کر رہے ہیں، ہر ایک ہر ایک سے لڑ رہا ہے، ہمیں سمجھنا چاہئے کہ ہمارے ملک کے سیاسی قائدین اس قابل نہیں کہ ہم ذاتی دوستیاں، تعلقات خراب کریں، لڑائی مت کریں، کوئی کسی کو اچھا کہتا ہے یا اچھا نہیں سمجھتا کہتا رہے، اچھا وہ ہے جو اچھا کرے گا اس ملک کے لئے، تمام سیاسی لیڈر آج تک ایک دفعہ بیٹھے نہیں کہ کالا باغ ڈیم ضروری ہے یا نہیں، ہم سمجھتے ہیں کہ وہ ایشو ہی نہیں رہا، پتہ نہیں آج مبشر لقمان اس ایشو پر کیوں بات کر رہا ہے، بیس سال بعد پانی نہیں ہو گا، جس طرح تیل بک رہا ہے اس طرح پانی بکے گا، پہلا سوچا کہ کر دو کردو ،تن کے رکھ دو، جب ری ایکشن آیا،اس بات سے کشمیر کاز کو کتنا ڈیمج کر دیا، انڈین میڈیا اس پر شادیانے بجا رہا ہے،خود ہی ہم نے اپنی کاز کو تہس نہس کر کے رکھ دیا

    اینکر پرسن زین علی نے سوال کیا کہ یہ زیادہ شرمندگی نہیں کہ حکومت خود کو مقدمے سے الگ رہی ہے،جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ سیف اللہ نیازی سے بھی پوچھنا چاہئے وہ پارٹی پی ٹی آئی اس وقت چلا رہے ہیں، یہ پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی ہے اسکو باہر نکالیں،جو مقدمے اس پر ہیں اسمیں کیوں نہیں پکڑا جا رہا اسکو،موٹروے کیس کا ملزم عابد ابھی تک پکڑا نہین گیا اور یہاں بغاوت کے مقدمے درج ہو رہے ہیں، ابھی دیکھیں کہ کتنے ڈکیتیوں کے واقعات ہو رہے ہیں، میں کیا کہوں،عابد ملہی گرفتار نہیں ہو سکتا کیونکہ پولیس والے خود ذمہ دار ہیں،آخر میں پتہ چلے گا کہ پولیس مقابلہ ہو گیا،یہی طرہ امتیاز ہے انکا، اس طرح تو پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنیاں چلتی ہیں ، اور یہ صوبے اور ملک اس طرح چلا رہے ہیں

    اینکر زین علی نے سوال کیا کہ نواز شریف کا بیانیہ سے ن لیگ کے اندر لوگ اسکو انڈوز نہیں کر رہے ہیں، دس سے بارہ ایم این اے، سینیٹرز حکومت سے رابطے میں ہیں، اعظم سواتی نے ایسا کہا جس پر مبشر لقمان نے کہا فصلی بٹیرے ہیں، جہاز جب ڈوب رہا ہو تو چوہے سب سے پہلے بھاگتے ہیں، انہوں نے پریس کانفرنس نہیں کی،ن لیگ سے علیحدگی کا اعلان نہیں کیا، پی ٹی آئی کو اپروچ کیا کہ ہمیں بچاؤ کسی طرح، ہم چھوڑنا نہیں چاہتے، یہ اتنا نشہ ہے پاور کا کہ نواز شریف نے اتنا غلط کیا تو استعفیٰ مارو،تا کہ دوبارہ الیکشن ہو، اتنا کریکٹر دکھاؤ، جو لوگ چھپ کر مل رہے ہیں، کہ اعظم سواتی کو بیان دینا پڑا میں ان لوگوں کی عزت نہیں کرتا، وہ کھل کر آئیں اور کہین ملک کے لئے ہم سب کرنے کو تیار ہیں، مرنا بھی نہیں اور جنت میں بھی جانا ہے ایسا نہیں ہوتا، مسلم لیگ نام کی جو جماعت ہوتی ہے اس میں ایسا ہوتا ہے، اے پی سی کا ونر بلاول ہے، پورے ماحول میں دیکھیں کہ بلاول اور پی پی باہر بیٹھ گئے ہیں وہ دیکھ رہے ہیں وہ نہ اپوزیشن کے ساتھ کھڑے ہیں نہ حکومت کے ساتھ، وہ خاموش ہیں، وجہ یہ ہےکہ وہ حکومت کے خلاف احتجاج ہونے ہیں، پی ڈی ایم، سندھ میں پی پی کی حکومت ہے، اپنی حکومت کے خلاف کیوں احتجاج کریں گے، ایم کیو ایم یا مصطفیٰ کمال کرین گے تو ملبہ ان پر ڈال دیں گے، ہر ایک اپنی بوٹی کے لئے لڑ رہا ہے، میں کہہ رہا ہوں کہ اٹھارہویں ترمیم ختم کرو، نئے صوبے بناؤ اور اجارہ داری ختم کرو،

  • چیلنجز سے موثر انداز میں نمٹنے کیلئے بہترین تیاری ضروری ہے: آرمی چیف

    چیلنجز سے موثر انداز میں نمٹنے کیلئے بہترین تیاری ضروری ہے: آرمی چیف

    راولپنڈی: چیلنجز سے موثر انداز میں نمٹنے کیلئے بہترین تیاری ضروری ہے،اطلاعات کے مطابق پاک فوج کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ درپیش چیلنجز سے موثر انداز میں نمٹنے کے لیے بہترین تیاری ضروری ہے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل بابر افتخار کی طرف سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری کردہ بیان کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے سکردو اور گلگت کا دورہ کیا۔ سکردو پہنچنے پر کور کمانڈر راولپنڈی لیفٹیننٹ جنرل اظہر عباس نے آرمی چیف کا استقبال کیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف کو کنٹرول لائن پر تعینات افسروں اور جوانوں کی تیاریوں کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ گلگت کے دورے کے دوران آرمی چیف نے جدید ترین سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک کا افتتاح کیا اور ان کی کوششوں کو سراہا۔

     

     

    میجر جنرل بابر افتخار کے مطابق سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک سپیشل کمیونیکشن آرگنائزیشن نے بنایا ہے۔ پارک انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبہ میں جدید ریسرچ کے لیے معاون ثابت ہو گا، علاقہ میں سائبر انڈسٹری کی ترقی کے حوالے سے پراجیکٹ اہم کردار ادا کرے گا۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل کے مطابق سافٹ ویئر پارک دفاعی کمیونیکیشن کے شعبہ میں نوجوانوں کی صلاحیت بڑھانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق جنرل قمر جاوید باجوہ نے خراب موسمی حالات کے باجود افسروں اور جوانوں کے بلند جذبے کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے دور دراز کے علاقوں میں سافٹ ویئر پارک ڈیجیٹلائزیشن کی جانب ایک حوصلہ مند قدم ہے۔

    پاک فوج کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ درپیش چیلنجز سے موثر انداز میں نمٹنے کے لیے بہترین تیاری ضروری ہے۔

  • نوازشریف کے بیانیے نے ن لیگ کوتوڑدیا :31 دسمبر سے 20 فروری تک مسلم لیگ ش بنے گی، شیخ رشید کا دعویٰ

    نوازشریف کے بیانیے نے ن لیگ کوتوڑدیا :31 دسمبر سے 20 فروری تک مسلم لیگ ش بنے گی، شیخ رشید کا دعویٰ

    راولپنڈی:نوازشریف کے بیانیے نے ن لیگ کوتوڑدیا :31 دسمبر سے 20 فروری تک مسلم لیگ ش بنے گی، شیخ رشید کا دعویٰ،اطلاعات کے مطابق وفاقی وزیر ریلوے اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ 31دسمبر سے 20 فروری تک مسلم لیگ ش بنے گی، شہباز شریف اپنی حفاظت کے لیے خود اندر چلے گئے۔

    راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ شہباز شریف سیلف پروٹیکشن میں اندر چلاگیا ہے، اگلے چند ماہ اہم ہے، اکتیس دسمبر سے 20 فروری تک مسلم لیگ ش بن جائے گی، اگر اپوزیشن جماعتیں باہر نکلیں تو انہیں شکست ہی ہوگی، اپوزیشن شکست سے بچنا چاہتی ہے، مجھے ڈر ہے ان کے جلسوں میں وائرس نہ پھیل جائے۔

    اُن کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کی قیادت کے خلاف غداری کا مقدمہ عام شہری نے درج کروایا، ریڑھی والے سے لے کر عام آدمی تک سب میرے ساتھ شوق سے تصاویر بنواتے ہیں، مجھے عام آدمی کا نمائندہ ہونے پر فخر ہے۔

    وفاقی وزیر ریلوے کا کہنا تھا کہ ’کابینہ اجلاس میں نوازشریف کو واپس لانے کے حوالے سے بات ہوئی، میں نے واپس لانے کے حق میں ووٹ دیا، حکومت کی کوشش ہے کہ انہیں واپس لاکر عدالتوں میں پیش کیا جائے‘۔

    شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ ’اپوزیشن کی اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے، مجھے ڈر ہے اپوزیشن کے جلسوں کی وجہ سے ملک میں وائرس نہ پھیل جائے‘۔

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’میں نےکبھی شکایت نہیں لگائی،اس عمرمیں جھوٹ نہیں بولتا، اسی ہفتےایم ایل ون منصوبے پر بھی کام شروع ہوجائےگا، میری بلاول سے لڑائی ہوگئی ہے اور اب ڈر ہے کہ رابطہ ہی منقطع نہ ہوجائے، مریم نواز کا اُس وقت تک احترام کروں گا جب تک وہ میرے بارے میں کچھ نہیں بولیں گی۔

  • انّہی ونڈے ریوڑیاں مُڑ مُڑ اپنیاں نوں:شہباز شریف کی تحفے دینے اورلینے کی دلچسپ کہانی

    انّہی ونڈے ریوڑیاں مُڑ مُڑ اپنیاں نوں:شہباز شریف کی تحفے دینے اورلینے کی دلچسپ کہانی

    لاہور: انّہی ونڈے ریوڑیاں مُڑ مُڑ اپنیاں نوں:شہباز شریف تحفے دینے اورلینے کی دلچسپ اورعجیب کہانی ،اطلاعات کے مطابق پاکستان کے اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی شہباز شریف کے اربوں روپے مالیت کے تحائف لینے اور دینے کی تفصیلات منظر عام پر آگئیں۔

    نیب رپورٹ کے مطابق سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے بیوی بچوں کو 24 کروڑ 22 لاکھ 77 ہزار 400 روپے تحائف میں دئیے، شہباز شریف نے اپنے صاحبزادوں سے 4 کروڑ 26 لاکھ 80 ہزاد 6 سو 78 روپے تحفے میں وصول کیے، شہباز شریف نے نصرت شہباز کو 749 کنال اراضی مختلف موضوعات کی تحفے میں دی۔

    نیب دستاویزات کے مطابق شہباز شریف کو 867 کنال 18 مرلے کی قیمتی اراضی والدہ سے تحفے میں ملی، شہباز شریف کو 748 کنال 19 مرلے کی قیمتی اراضی اپنے والد سے تحفے میں ملی، شہباز شریف نے 2011،12 میں سلمان شہباز کو 17 کروڑ 12 لاکھ 38 ہزار 200 روپے تحفے میں دئیے۔ حمزہ شہباز کو شہباز شریف نے 2013 میں 1 کروڑ 7 لاکھ روپے تحفے میں دئیے۔

    شہباز شریف نے حمزہ کو 2015 میں 2 کروڑ روپے بطور تحائف دئیے، شہباز شریف نے 2015 میں تہمینہ درانی کو ڈیفنس میں 2 کروڑ 40 لاکھ کا پلاٹ تحفے میں دیا، 2015 میں شہباز شریف نے تہمینہ درانی کو ہری پور میں ایک کاٹیچ اور ایک ولاز خرید کردیا، ہری پور میں خریدی گئی راضی کی مالیت 1 کروڑ 63 لاکھ 39 ہزار 200 ظاہر کی گئی ہے۔

    واضح رہےکہ 28 ستمبر کو نیب نے لاہور ہائیکورٹ سے عبوری ضمانت خارج ہونے پر آمدن سے زائد اثاثوں اور منی لانڈرنگ کے کیس میں شہباز شریف کو گرفتار کیا تھا، جو اب 14 روزہ جسمانی ریمانڈ نیب کی حراست میں ہیں۔

  • عدالت یقینی بنائے گی کہ کلبھوشن یادیو کا حق زندگی بھی محفوظ بنایا جا سکے،کلبھوشن یادیو کیس کی سماعت ملتوی

    عدالت یقینی بنائے گی کہ کلبھوشن یادیو کا حق زندگی بھی محفوظ بنایا جا سکے،کلبھوشن یادیو کیس کی سماعت ملتوی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں کلبھوشن یادیو کو وکیل فراہم کرنے کے کیس پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر مکمل عملدر آمد کرانا مقصد ہے، یہ اس نوعیت کا پہلا کیس نہیں ہوگا اسی طرح کے کیسز پر فیصلے موجود ہوں گے، اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ ہم نے اپنی ذمہ داری پوری کردی آئین بھی صاف شفاف ٹرائل کا حق دیتا ہے،

    عدالت نے استفسار کیا کہ کمانڈر یادیوکو گزشتہ عدالتی حکم کی کاپی دے دی گئی تھی؟کیا یہ عدالت اپنے طورکلبھوشن کیلیےوکیل مقرر کر سکتی ہے؟اس نکتے پربھی معاونت کریں بھارت یا کلبھوشن کی مرضی کے بغیروکیل مقرر کرنے کے کیا اثرات ہونگے؟کیا یہ موثر نظر ثانی کے قانونی تقاضے پورے کرے گا؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ درخواست دے اورقانونی طریقے سے دستاویزات حاصل کرے عدالتی حکم کی تعمیل پرآرڈر کی کاپی فراہم کردی گئی

    چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ بھارت کو مواقع دیئے، لیکن بھارت ہچکچاہ رہا ہے. چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ وکیل مقرر کرنے سے پہلے معاونت کی ضرورت ہے، وفاقی حکومت پر اس کیس میں کیا ذمہ داری عائد ہوتی ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کے دو مرحلےہیں، پہلا مرحلہ وکیل مقرر کرنا دوسرا مرحلہ وکیل کا اپیل دائر کرنا ہے، عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کا کیس عدالت میں پیش کروں گا تاکہ سمجھنے میں آسانی ہو،ہمیں تین سے چار ہفتے کا وقت چاہیے ہو گا،

    جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ یہ کلبھوشن یادیو کے حق زندگی کا کیس ہے، عدالت یقینی بنائے گی کہ کلبھوشن یادیو کا حق زندگی بھی محفوظ بنایا جا سکے،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہرمن اللہ نے کہا کہ ہم چاہتےہیں عالمی عدالت انصاف کےفیصلے پر اس کی روح کے مطابق عمل ہو،اٹارنی جنرل نے کہا کہ بھارت جان بوجھ کر کلبھوشن کیس سے بھاگ رہا ہے

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس کی سماعت 9 نومبر تک ملتوی کر دی

    قبل ازیں بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کےلئے عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر عمل درآمد کا معاملہ ،کلبھوشن یادو کے لیے وکیل مقرر کرنے کی درخواست پر عدالتی معاونین نے عدالتی معاونت سے معذرت کر لی تھی،عدالتی معاونین مخدوم علی خان اور عابد حسن منٹو نے ہائی کورٹ میں جواب جمع کرادی ،مخدوم علی خان اور عابد حسن منٹو نے عدالت کی معاونت سے معذرت کرلی ،عابد حسن منٹو نے خراب صحت اور مخدوم علی خان نے پروفیشنل وجوہات کی بنیاد پر پیش ہونے سے معذرت کی

    عابد حسن منٹو نے کہا کہ اپنی عمر اور جسمانی کمزوری کی وجہ سے عدالت میں پیش ہونے سے قاصر ہوں، کچھ سال قبل وکالت سے ریٹائر ہوچکا ہوں، اعزاز کی بات ہے عدالت نے معاون مقرر کیا، عدالت معذرت قبول کرے کیوں کہ خراب صحت کے باعث معاونت کرنے کی پوزیشن میں نہیں، مخدوم علی خان نے کہا کہ عدالتی معاون کرنا میرے لیے باعث فخر ہے، پروفیشنل وجوہات کی بنیاد پر عدالتی معاونت نہیں کرسکتا،

    واضح رہے کہ بھارتی ایجنٹ کلبھوشن یادیو کی سزا سے متعلق عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر عمل درآمد ،حکومت نے فیئر ٹرائل کے تقاضے پورے کرنے کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر رکھی ہے

    وزارت قانون و انصاف نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا،حکومت نے حال ہی میں جاری کیے گئے صدارتی آرڈیننس کے تحت درخواست دائر کی، اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ قومی مفاد میں عدالت بھارتی ایجنٹ کلبھوشن یادیو کی جانب سے قانونی نمائندہ مقرر کرے،

    دائر درخواست میں مزید کہا گیا کہ کلبھوشن یادیونےسزاکیخلاف اپیل سےانکارکیا، کلبھوشن بھارتی معاونت کے بغیر پاکستان میں وکیل مقررنہیں کرسکتا،بھارت بھی آرڈیننس کے تحت سہولت حاصل کرنے سے گریزاں ہے،

    واضح رہے کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو 3 مارچ 2018ء کو پاکستان ایران سرحدی علاقے سے گرفتار کیا گیا تھا، یہ بھارتی جاسوس بھارتی نیوی کا حاضر سروس افسر اور ”را“ کے ایجنٹ کے طور پر کام کر رہا تھا۔ کلبھوشن یادیو کی گرفتاری پر حکومت پاکستان نے بھارتی سفیر کو طلب کرکے انڈین جاسوس کے غیر قانونی طور پر پاکستان میں داخلے اور کراچی اور بلوچستان میں دہشت گردی میں ملوث ہونے پر باضابطہ احتجاج کیا۔ اس کے بعد کلبھوشن یادیو کے اعترافی بیان کی ویڈیو جاری کی گئی۔

    کلبھوشن کی گرفتاری کے ایک ماہ بعد اپریل 2018ء میں اس کے خلاف دہشتگردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا، جس کے بعد پاکستان کی فوجی عدالت نے کلبھوشن یادیو کو دہشتگردی کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا مجرم قرار دیتے ہوئے سزائے موت سنا دی۔

    پاکستان کا کلبھوشن کے معاملے پربھارت سے دوبارہ رابطہ

    کلبھوشن کا وکیل مقرر کرنے کی درخواست پر سماعت کے لئے لارجر بینچ تشکیل

    کلبھوشن کی سزا کیخلاف ہائی کورٹ میں اپیل داخل کرنے کی مدت ختم

    کلبھوشن کا نام لینے یا نہ لینے پر حب الوطنی یا غداری کا سرٹیفیکیٹ جاری ہوتاتھا اب سہولت کاری کیلیے قانون بن رہا ہے، خواجہ آصف

    کلبھوشن یادیوتک قونصلر رسائی، بھارت مان گیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھارت کو کلبھوشن تک قونصلر رسائی کا ایک اور موقع دے دیا

    کلبھوشن یادیو کیس ،حکومت کا عالمی عدالت انصاف آرڈیننس میں توسیع کا فیصلہ

    گزشتہ برس مئی میں بھارت نے اپنے جاسوس کلبھوشن یادیو کی پھانسی رکوانے کے لیے عالمی عدالت انصاف میں درخواست دائر کی تھی۔ 15 مئی کو بھارتی درخواست پر سماعت کا آغاز ہوا،نیدرلینڈز کے شہر دی ہیگ میں قائم عالمی عدالت اںصاف نے بھارت کی درخواست پر اٹھارہ سے اکیس فروری تک اس مقدمے کی سماعت کی تھی

    کلبھوشن کیس میں بھارت کی کیا کوشش ہے؟ ترجمان دفتر خارجہ نے بتا دیا