مظفرآباد : بین الاقوامی میڈیا کے صحافیوں نے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے چری کوٹ سیکٹر کا دورہ کرکے بھارتی اشتعال انگیزیوں سے ہونے والی تباہ کاریاں دیکھیں۔اطلاعات کے مطابق بین الاقوامی میڈیا نمائندگان نے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے چیریکوٹ سیکٹر پر بھارتی سیز فائر کی مسلسل خلاف ورزیوں سے متاثرہ افراد سے ملاقات کی اور صورتحال کا مشاہدہ کیا۔
فوج کے ہمراہ غیرملکی صحافیوں نے دور بین سے مقبوضہ کشمیر کے پونچھ سیکٹر کا مشاہدہ کیا جہاں بھارتی فوج جان بوجھ کر بھاری ہتھیاروں اور مارٹروں سے آزاد کشمیر میں شہری آبادی کو نشانہ بنا کر تمام بین الاقوامی قوانین کے خلاف ورزی کرتا ہے۔
علاوہ ازیں مختلف بین الاقوامی ذرائع ابلاغ سے تعلق رکھنے والے صحافیوں نے بھارت کی طرف گرڈ اور رکاوٹوں کے نظام کا دوربین سے جائزہ لیا جو ایل او سی سے محض 3-4 کلومیٹر دور ہے۔
مبصرین نے ایل او سی کے ساتھ موجود بھارتی فوجیوں کی چوکیاں بھی دیکھیں۔علاوہ ازیں آزاد کشمیر میں ایل او سی کے پاس مقیم شہریوں نے بھارتی فورسز پر الزام لگاتے ہوئے بتایا کہ وہ قصداً شہریوں کو نشانہ بناتے ہیں۔
انہوں نے اپنی رہائش گاہوں کو نہ چھوڑ نے کا اعادہ کا اظہار کیا۔ عبدالعزیز نے کہا کہ ’بھارتی فورسز ہمیں جان بوجھ کر نشانہ بناتی ہے۔خیال ہے کہ عبدالعزیز 3 جولائی کو بھارتی گولہ باری سے زخمی ہوگئے تھے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ’اگر بھارت ہم پر حملہ کرتا ہے تو ہمارے خاندان کا آخری بچہ بھی کشمیر کا دفاع کرنے کے لیے لڑے گے۔ 23 سالہ اسد زبیر نے کہا کہ وہ بھی دو برس قبل بھارتی گولہ باری سے زخمی ہوگئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ وہ اب موت سے خوفزدہ نہیں ہیں، موت کہیں بھی آسکتی ہے، ہم یہاں رہتے ہیں اور ادھر ہی مریں گے۔
العربی کی خاتون صحافی بلال ایستال نے کہا کہ ’میں نے وہاں رہنے والے لوگوں کو دیکھا، جو بھارتی فائرنگ اور گولہ باری سے متاثر ہوئے اور اس مرتبہ میں ایل او سی کی صورتحال کے بارے میں زیادہ واضح ہوں۔
انہوں نے کہا کہ ’میں نے ایک چھوٹے سے لڑکے کا انٹرویو کیا، جس کے کاندھے میں گولی لگنے کے سبب وہ زخمی ہوا تھا، مجھے بہت دکھ ہوا‘۔
الجزیرہ کے صحافی ا حمد برکات نے کہا کہ ’ہم اس علاقے میں بہت سارے گولہ باری کے متاثرین بہت آزادی سے ملے، بات چیت کے دوران ہمیں مکمل آزادی حاصل تھی ہم نے متاثرین کی باتیں سنیں‘۔
انہوں نے کہا کہ ’ان میں سے کچھ سرحد پر بھارتی گولہ باری کا نشانہ بنے اور ان میں سے کچھ زخمی بھی ہوئے، ہم ان کی آواز دنیا تک پہنچائیں گے‘۔
اس سے قبل 23 اکتوبر 2019 کو پاکستان نے بھارتی آرمی چیف کے دعوے کو بے نقاب کرنے اور حقائق سے آگہی کے لیے غیر ملکی سفرا، ہائی کمشنرز اور میڈیا نمائندگان کو آزاد کشمیر میں ایل او سی کے جورا سیکٹر کا دورہ کروایا تھا۔
ایل او سی کا دورہ کرنے کے لیے غیر ملکی سفرا، ہائی کمشنرز اور میڈیا نمائندگان وادی نیلم پہنچے، تاہم پاکستان میں متعین بھارتی ناظم الامور گورو اہووالیا ان سفرا کے ساتھ ایل او سی نہیں آئے تھے۔
اس دورے کے دوران سفرا و ہائی کمشنرز نے ان مقامات کا جائزہ لیا جنہیں بھارتی اشتعال انگیزی سے نقصان پہنچا تھا جبکہ ان ہتھیاروں کا بھی معائنہ کیا جو بھارتی افواج نے بلا اشتعال فائرنگ کے دوران شہری آبادی پر داغے تھے۔
غیر ملکی میڈیا نے ایل او سی پر آمنے سامنے موجود فوجی چوکیاں اور ایل او سی پر 3،4 کلومیٹر دور اینٹی انفلٹریشن گرڈ بھی دیکھے۔ گرڈز پر بارودی سرنگیں، زیر زمین سینسرز، آبزرویشن سسٹم اور ریڈار موجود ہیں۔
واضح رہے کہ 2015ء سے اب تک بھارت 11 ہزار 815 بار سیز فائر کی خلاف ورزیاں کر چکا ہے۔ بی جے پی کے برسر اقتدار آنے سے ایل او سی پر اشتعال انگیزیاں بڑھی ہیں۔
اشتعال انگیزی کے جواب میں پاک فوج صرف بھارتی چوکیوں کو نشانہ بناتی ہے۔ پاک فوج کی جانب سے شہری آبادی پر فائرنگ سے اجتناب برتا جاتا ہے۔
روپے کی قدر میں کمی،ڈالر کی قیمت میں اضافہ،حکومت کا قصور نہیں بلکہ ذمہ دار کون؟ مبشر لقمان نے حقائق سے پردہ اٹھا دیا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ ڈالر کی قیمت میں اضافہ حکومت کی وجہ سے نہیں بلکہ ان لوگوں کی وجہ سے ہے جنہوں نے بینکوں سے پیسہ نکالنا شروع کر دیا، اگر حکومت کا اس میں کوئی قصورہوتا تو سٹاک مارکیٹ بھی نیچے آتی لیکن ایسا نہیں ہے
مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اینکر پرسن مریم خان نے سوال کیا کہ سونے کی قیمت ایک لاکھ 15 ہزار ہو گئی ہے جس پر مبشر لقمان نے کہا کہ نہ خریدیں، مریم خان کا کہنا تھا کہ روپے کی قدر بھی 168 ہو گئی ہے،اسکی کیا وجہ ہے جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ حکومت کی جو اپوزیشن ہے وہ لوگوں کو اصلیت نہین بتا رہی اور کچھ صحافی بھی اصلیت نہیں بتا رہے، یہ ہو کیوں رہا ہے ؟ایک تو پہلے سے آپ نے روپے کو کنٹرول کر کے رکھا ہوا تھا اسکے لئے کئی بلین سالانہ دے رہے تھے،حکومت نے لوکل بزنسز اور فیکٹریز والوں کو مراعات دینے کے لئے 13 فیصد سے 7 فیصد انٹرسٹ کر دیا، اس سے ڈالر کو بہت افکیٹ پہنچا ہے، جب 13 فیصد انٹرسٹ مل رہا ہے بہت لوگوں نے پیسے ڈال کر اکاؤںٹ کھول دیئے، انہوں نے کہا کہ بیٹھے بٹھائے پیسہ مل رہا ہے،کسی چیز کا رسک لینے کی ضرورت نہیں، حکومت نے جب انٹرسٹ ریٹ بتدریج پہلے 9 اور پھر سات کیا تو پھر ڈالر کی فلائٹ شروع ہو گئی، جنہوں نے یہاں انویسمنٹ کے لئے پیسہ رکھا تھا انہوں نے ڈالر نکال کر باہر بھجوا دئے کہ اب فائدہ نہیں، یہ فلائٹ اب اور ہو گی، اگر ڈالر کو دیکھنا ہو اور حکومت کی کمزوری کی وجہ سے ڈالر اوپر جا رہا ہو تو پھر سٹاک مارکیٹ کو بھی نیچے جانا چاہئے،اور اگر سٹاک مارکیٹ اوپر آ رہی ہے اس میں انویسٹ ہو رہی ہے تو پتہ چلنا چاہئے کہ یہ آرٹفیشل فلائٹ ہے، خبریں ہیں کہ اور انٹرسٹ ریٹ کم ہو تو انکا تو بھٹہ بیٹھ جائے گا اسلئے انہوں نے ڈالر نکالنا ہے،میرا خیال ہے کہ یہ کنٹرول بھی ہو جائے گا
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ حکومت نے ایک اور کام بھی کیا، حکومت نے یہ فیصلہ کیا کہ آرٹفیشل طریقے سے ڈالر کو کنٹرول نہین کیا اس کو اصل قیمت پر رکھنا ہے، اس سے ایکسپورٹر کو بڑا فائدہ ہے ،جب آپ دس ڈالر کی چیز ایکسپورٹ کرتے ہین تو وہ آپکو جو ڈالر آتے ہیں سو ڈالر وہ آپکو پھر 168 وپے آتے ہیں، بنگلہ دیش اور انڈیا کے مقابلے میں آپ سستی چیز باہر بھیج سکتے ہیں اگر ایکسپورٹر فائدہ اٹھائیں تو اس چیز کا ہمیں بہت فائدہ بھی ہو سکتا ہے
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ یوٹیوب، سمیت دیگر ایپس کو بند کرنا حل نہیں، جو غلط کر رہے ہیں انکے خلاف کاروائی ہونی چاہئے،پابندی سے جگ ہنسائی تو ہو سکتی ہے فائدہ کچھ نہیں
مبشر لقمان کے آفیشیل یوٹیوب چینل کے پروگرام میں اینکر مریم خان نے سوال کیا کہ سپریم کورٹ نے سوشل میڈیا پر فحش مواد کو نوٹس لیا اور یوٹیوب بین کرنے کا عندیہ دے دیا،پہلے پب جی بین ہوا اب یوٹیوب کی طرف آ گئے ہیں یہ کہاں جا رہے ہیں ؟ جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ میں عدالت کو کچھ نہیں سکتا، عدالت قابل احترام ہے لیکن اتنا ضرور کہوں گا کہ اگر کسی نے ایسی ویڈیوز اپلوڈ کی ہیں جو پاکستان کے استحکام یا پاکستان کے اداروں کے اوپر کسی طرح بھی منفی اشارہ کرتی ہین تو ان کو بند ہونا چاہئے، ان پر پابندی لگنی چاہئے،ایک پرنٹنگ پریس پر اگر غلط مواد چھپ رہا ہے تو اسکی وجہ سے ہر اس مواد کو جو وہاں چھپ رہا ہے اسکو تو منع نہین کیا جا سکتا،صرف چھاپنے والے اور شائع کروانے والے کو سزا ہونی چاہئے
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ مجھے یقین ہے کہ سب حق بجانب ہو گا، سپریم کورٹ کے لوگ کہہ رہے ہین وہ کسی بات کی وجہ سے کر رہے ہوں گے، کچھ دیکھا ہو گا انہوں نے،ان لوگوں کی نشاندہی مسئلہ نہین جو سامنے آئے انکو پکڑیں اور ایف آئی اے کو کہیں کہ ایکشن ہونا چاہئے، کسی کو اجازت نہیں ہونی چاہئے کہ ملک میں رہتے ہوئے اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی کرے، انکے خلاف سائبر کرائم کو ایکشن لینا چاہئے، جو غلط کرے اسکو سزا ہونی چاہئے، روڈ حادثہ کی وجہ سے گاڑی بین نہیں ہوتی،تا کہ نہ گاڑی ہو گی نہ کوئی مرے گا،ایسا نہین ہوتا بلکہ اسکو سیکور کرتے ہیں
مریم خان نے سوال کیا کہ پب جی اور ٹک ٹاک کے لئے پی ٹی اے نے کہا ہے کہ ہم قوانین بنا رہے ہیں تو وہ قواعد کیسے بنائیں گے انکی تو ایپس ہی نہیں ہیں،جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پی ٹی اے میں پتہ نہیں کوئی ایسے لوگ ہیں بھی سہی یا نہیں جن کو پتہ ہو کہ یہ ایپس ہیں کیا اور کرتی کیا ہیں،لیکن قواعد اگر وہ بنا سکتے ہیں تو وہ صرف ان ایپس کے بنانے والوں کے ساتھ ملکر بنا سکتے ہیں تب وہ لاگو کرٰیں گے کیونکہ جو انکی پروڈکٹس نہیں ہیں انکے اوپر کوئی قواعد نہیں بنا سکتے، جو ہمارے نظریات یا اخلاقیات کے منافی ہو گا اسکو بند کردیں گے یہ جائز ہے، اب ہمارے اداروں کو سوچنا پڑے گا کہ چیزوں کو بند نہیں کیا جا سکتا انکو ریگولیٹ کیا جا سکتا ہے،فعال طریقے سے انکو بنایا جا سکتا ہے، گیمز،ایپ کو بین کرنے سے جگ ہنسائی تو ہماری ہو سکتی ہے، فائدہ کوئی نہیں.
بھارت کی تیاری عروج پر، پاکستان اتنا پرسکون کیوں؟ بھارت اب ابھینندن کو بھیجے تو چائے میں پلاؤں گا، مبشر لقمان
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ اللہ کا بڑا کرم ہے ،پاکستان کو بہت کچھ پتہ ہے وہ بھی پتہ ہے جو انکو بھی نہیں پتہ، بھارت کی تو یہ حالت ہے کہ وہ کبوتروں کو پکڑ کر جیل میں ڈال دیتا ہے کہ یہ پاکستان کے جاسوس ہیں، ہمارا جو ملٹری ڈپلائمنٹ ہے یا ہماری جو بلڈ اپ ہے وہ ڈیفنسو ہے، ہمارے جارحانہ عزائم نہیں ہیں خطے میں کسی کے ساتھ، یہ انڈیا ہی ہے جس کے پیٹ میں ہر بار مروڑ اٹھتا ہے، پھر اسے ڈائریا ہوتا ہے ،پھر ادھر ادھر بھاگتا ہے، مار کھاتا ہے اور چپ کر کے بیٹھ جاتا ہے،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ جتنی انڈیا تیاری کر رہا ہے سب کا ہمیں پتہ ہے،میں کہتا ہوں ایک بار آئے تو سہی، ابھینندن کو دوبارہ بھیجیں اس بار میں اسکو چائے خود بنا کر پلاتا ہوں دیکھتا ہوں اسکا پیٹ کب تک نہیں ٹھیک ہوتا،اور وہ جو بعد میں جا کر یہاں پر کچھ اور اور وہاں پر کچھ اور گانے گائے، ہم تیار ہیں،دیکھی جائے گی، اللہ مالک ہے، یہ ملک اللہ کے نام پر بنا ، اس ملک کی اللہ نے حفاظت کرنی ہے،اللہ کے بعد عوام نے اور مسلح افواج نے حفاظت کرنی ہے اور ملک کے دفاع کے لئے ہم سب اکٹھے ہیں اس میں پریشانی کی کوئی بات نہیں
اینکر مریم خان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے بنگلہ دیش کی وزیراعظم کو فون کیا ہے آپ کو کیا لگتا ہے کہ پاکستان خطے کے تمام ممالک کو چین کے قریب کر رہا ہے جس کے جواب میں مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان نے حسینہ واجد کو کال کی، روابط بنانے کا کریڈٹ دیں،مجھے نہیں پتہ چائنہ نے کہا یا نہیں کہا، ہم اپنی حکومت یا وزیراعظم کو کیوں اچھی باتیں کو نظر انداز کرتے ہٰیں، کمزوری کو تو بڑھا کر بیان کرتے ہیں بہت سی خبریں ایسی ہین جو مین سٹریم میڈیا پر نہیں آ رہیں جو حکومت نے کام کیا، یہ عمران خان ہے جس نے انڈیا کو پوری دنیا سے الگ کیا،یہ چائنہ نے نہیں کیا،عمران خان نے سب سے پہلے مودی کو فاشسٹ مودی کہا،عمران خان نے کشمیر پر آواز اٹھائی تب دنیا کی آنکھیں کھلنا شروع ہوئیں، عمران خان نے ہر ایک کو فون کیا اور کشمیر پر بات کی ، ملائشیا کو دیکھ لین ،عمران خان نے فون کر کے کہا کہ انڈیا اگر پام آئل سے منع کرتا ہے تو ہم پام آئل لے لیتے ہیں،انڈیا کے رعب میں مت آنا، حسینہ واجد کو انہوں نے خود کال کی ہے یہ پاکستان اور فارن آفس کی بہت اچھی بات ہے کہ وہ خطے کے تمام لوگوں کو آن بورڈ لے رہے ہیں، بنگلہ دیش، نیپال،بھوٹان یہ بھارت سے دکھی ہیں،جو بھی انڈیا کا دشمن ہے وہ ہمارا دوست ہے
اینکر مریم خان نے سوال کیا کہ سپریم کورٹ نے سوشل میڈیا پر فحش مواد کو نوٹس لیا اور یوٹیوب بین کرنے کا عندیہ دے دیا،پہلے پب جی بین ہوا اب یوٹیوب کی طرف آ گئے ہیں یہ کہاں جا رہے ہیں ؟ جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ میں عدالت کو کچھ نہیں سکتا، عدالت قابل احترام ہے لیکن اتنا ضرور کہوں گا کہ اگر کسی نے ایسی ویڈیوز اپلوڈ کی ہیں جو پاکستان کے استحکام یا پاکستان کے اداروں کے اوپر کسی طرح بھی منفی اشارہ کرتی ہین تو ان کو بند ہونا چاہئے، ان پر پابندی لگنی چاہئے،ایک پرنٹنگ پریس پر اگر غلط مواد چھپ رہا ہے تو اسکی وجہ سے ہر اس مواد کو جو وہاں چھپ رہا ہے اسکو تو منع نہین کیا جا سکتا،صرف چھاپنے والے اور شائع کروانے والے کو سزا ہونی چاہئے
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ مجھے یقین ہے کہ سب حق بجانب ہو گا، سپریم کورٹ کے لوگ کہہ رہے ہین وہ کسی بات کی وجہ سے کر رہے ہوں گے، کچھ دیکھا ہو گا انہوں نے،ان لوگوں کی نشاندہی مسئلہ نہین جو سامنے آئے انکو پکڑیں اور ایف آئی اے کو کہیں کہ ایکشن ہونا چاہئے، کسی کو اجازت نہیں ہونی چاہئے کہ ملک میں رہتے ہوئے اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی کرے، انکے خلاف سائبر کرائم کو ایکشن لینا چاہئے، جو غلط کرے اسکو سزا ہونی چاہئے، روڈ حادثہ کی وجہ سے گاڑی بین نہیں ہوتی،تا کہ نہ گاڑی ہو گی نہ کوئی مرے گا،ایسا نہین ہوتا بلکہ اسکو سیکور کرتے ہیں
مریم خان نے سوال کیا کہ پب جی اور ٹک ٹاک کے لئے پی ٹی اے نے کہا ہے کہ ہم قوانین بنا رہے ہیں تو وہ قواعد کیسے بنائیں گے انکی تو ایپس ہی نہیں ہیں،جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پی ٹی اے میں پتہ نہیں کوئی ایسے لوگ ہیں بھی سہی یا نہیں جن کو پتہ ہو کہ یہ ایپس ہیں کیا اور کرتی کیا ہیں،لیکن قواعد اگر وہ بنا سکتے ہیں تو وہ صرف ان ایپس کے بنانے والوں کے ساتھ ملکر بنا سکتے ہیں تب وہ لاگو کرٰیں گے کیونکہ جو انکی پروڈکٹس نہیں ہیں انکے اوپر کوئی قواعد نہیں بنا سکتے، جو ہمارے نظریات یا اخلاقیات کے منافی ہو گا اسکو بند کردیں گے یہ جائز ہے، اب ہمارے اداروں کو سوچنا پڑے گا کہ چیزوں کو بند نہیں کیا جا سکتا انکو ریگولیٹ کیا جا سکتا ہے،فعال طریقے سے انکو بنایا جا سکتا ہے، گیمز،ایپ کو بین کرنے سے جگ ہنسائی تو ہماری ہو سکتی ہے، فائدہ کوئی نہیں.
مریم خان نے سوال کیا کہ سونے کی قیمت ایک لاکھ 15 ہزار ہو گئی ہے جس پر مبشر لقمان نے کہا کہ نہ خریدیں، مریم خان کا کہنا تھا کہ روپے کی قدر بھی 168 ہو گئی ہے،اسکی کیا وجہ ہے جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ حکومت کی جو اپوزیشن ہے وہ لوگوں کو اصلیت نہین بتا رہی اور کچھ صحافی بھی اصلیت نہیں بتا رہے، یہ ہو کیوں رہا ہے ؟ایک تو پہلے سے آپ نے روپے کو کنٹرول کر کے رکھا ہوا تھا اسکے لئے کئی بلین سالانہ دے رہے تھے،حکومت نے لوکل بزنسز اور فیکٹریز والوں کو مراعات دینے کے لئے 13 فیصد سے 7 فیصد انٹرسٹ کر دیا، اس سے ڈالر کو بہت افکیٹ پہنچا ہے، جب 13 فیصد انٹرسٹ مل رہا ہے بہت لوگوں نے پیسے ڈال کر اکاؤںٹ کھول دیئے، انہوں نے کہا کہ بیٹھے بٹھائے پیسہ مل رہا ہے،کسی چیز کا رسک لینے کی ضرورت نہیں، حکومت نے جب انٹرسٹ ریٹ بتدریج پہلے 9 اور پھر سات کیا تو پھر ڈالر کی فلائٹ شروع ہو گئی، جنہوں نے یہاں انویسمنٹ کے لئے پیسہ رکھا تھا انہوں نے ڈالر نکال کر باہر بھجوا دئے کہ اب فائدہ نہیں، یہ فلائٹ اب اور ہو گی، اگر ڈالر کو دیکھنا ہو اور حکومت کی کمزوری کی وجہ سے ڈالر اوپر جا رہا ہو تو پھر سٹاک مارکیٹ کو بھی نیچے جانا چاہئے،اور اگر سٹاک مارکیٹ اوپر آ رہی ہے اس میں انویسٹ ہو رہی ہے تو پتہ چلنا چاہئے کہ یہ آرٹفیشل فلائٹ ہے، خبریں ہیں کہ اور انٹرسٹ ریٹ کم ہو تو انکا تو بھٹہ بیٹھ جائے گا اسلئے انہوں نے ڈالر نکالنا ہے،میرا خیال ہے کہ یہ کنٹرول بھی ہو جائے گا
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ حکومت نے ایک اور کام بھی کیا، حکومت نے یہ فیصلہ کیا کہ آرٹفیشل طریقے سے ڈالر کو کنٹرول نہین کیا اس کو اصل قیمت پر رکھنا ہے، اس سے ایکسپورٹر کو بڑا فائدہ ہے ،جب آپ دس ڈالر کی چیز ایکسپورٹ کرتے ہین تو وہ آپکو جو ڈالر آتے ہیں سو ڈالر وہ آپکو پھر 168 وپے آتے ہیں، بنگلہ دیش اور انڈیا کے مقابلے میں آپ سستی چیز باہر بھیج سکتے ہیں اگر ایکسپورٹر فائدہ اٹھائیں تو اس چیز کا ہمیں بہت فائدہ بھی ہو سکتا ہے
مریم خان کا کہنا تھا کہ کرونا کے مریض کم ہو رہے ہیں جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ مجھے بالکل کرونا کم ہوتا نظر آ رہا ہے، عید پر اگر سمارٹ لاک ڈاؤن کے حوالہ سے کوشش کامیاب رہی ،مویشی منڈی کو بند کرنے کی اور لوگوں نے اسی طرح سماجی فاصلے کا خیال رکھا تو عید کے بعد ہمیں فائدہ ہو گا، مودی کو عمران خان کی آفر سمجھ نہیں آئی تھی،اگر وہ عمران خان کی بات مان لیتے اور کرونا کے حوالہ سے چیزیں شیئر کر لیتے تو انکو یہ پتہ چلتا، انڈیا پاکستان کے ڈیمو گرافکس تو ایک ہی ہیں،بسوں ، ٹرینوں میں ایک طرح سفر کرتے ہین، اب اگر وہ بات مان لیتے اور حکومت پاکستان سے چیزیں شیئر کر لیتے تو انڈیامیں بھی بہت سی قیمتی جانیں بچ سکتی تھیں، انہوں نے اس کا تمسخر اڑایا، انہوں نے کہا شاید پیسوں کی بات ہو رہی ہے،انہوں نے کہا کہ پاکستان کا اتنا بجٹ نہیں جتنا ہم نے کرونا پر لگایا، اللہ تعالیٰ بڑے بول بولنے والوں کو پسند نہیں کرتا، اب انکو پتہ چل رہا ہے کہ وہ بجٹ بھی انکو کم پڑ رہا ہے، آج بھی مودی کو چاہئے کہ وہ عمران خان کو فون کرے اور کہے کہ سوری مجھے غلط فہمی ہو گئی تھی، مجھے ڈاکٹر فیصل سلطان کو بھیجیں میرے پاس، ڈاکٹر چغتائی کو بھیجیں اور ان لوگوں کو جو کرونا کے حوالہ سے کام کر رہے ہین انکو کہیں کہ ہمیں انڈیا بھی کام کر کے دیں اس سے ہمیں فائدہ ہو جائے، ہم پیسے نہیں آفر کر رہے،ہم اسکو انٹیلی جینس آفر کر رہے ہیں
مریم خان نے سوال کیا کہ بلاول نے کہا کہ نیب انتقامی ادارہ ہے، نیب کو بند کر دینا چاہئے،اگر چیئرمین نیب میں شرم ہے تو وہ گھر چلے جائیں جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بڑے دکھ کی بات ہے کہ جو خود وصیت نامے پرپارٹی کا صدر بنا ہے،چیئرمین اسکو کم از کم ادارے بند کرنے کی بات نہیں کرنی چاہئے،ادارے بند کرنا آسان کام ہے لیکن اداروں کو ٹھیک کرنا اصل کام ہے، اب تمام پارلیمنٹ کو چاہئے کہ نیب آرڈیننس کو ری وزٹ کرین اور جو سقم رہتے ہین اسکے اوپرپارلیمنٹ میں بحث ہونی چاہئے، نیب اگر کہیں پر ایسا امپریشن پڑ رہا رہے کہ لوگوں سے زیادتی ہو رہی ہے تو وہ بھی ختم ہونی چاہئے، جمہوریت کا جو حسن ہے ہر ادارے کو کہیں نہ کہیں جواب دہ ہونا چاہئے ،کرپشن پیسے کی صرف نہیں ہوتی، پاور کی بھی ہوتی ہے،اسکو روکنا چاہئے اسکے لئے بلاول صاحب پارلیمنٹ کو فعال کریں ،شہباز شریف ،فضل الرحمان، اسفند یار ولی اور وہ آن بورڈ ہیں پی ٹی آئی کے، پی ٹی آئی بھی خوش نہیں ہے نیب سے ، انکے لوگ بھی کیسز بھگت رہے ہیں،اور انکے ساتھ بھی زیادتی ہو رہی ہے، ایک دو کیسز میں پرسنلی جانتا ہوں انکے ساتھ زیادتی ہوئی، نیب آرڈیننس ری وزٹ ہونا چاہئے، پراسکیوٹر کی کوالٹی، نیب کورٹ بھی ری وزٹ ہونی چاہئے تا کہ روزانہ سماعت ہو ،تین تین ماہ کی تاریخ نہ ملے، نیب کورٹ الگ ہوں گی تو پھر روز ہیئرنگ ہو گی تو تین ماہ میں سزا جزا کا فیصلہ ہو جائے گا کسی کو پریشانی نہیں ہو گی پھر
مریم خان نے سوال کیا کہ اداکارہ میرا نے آرٹسٹ سپورٹ فنڈ کے لئے درخواست دے دی ہے وہ کہہ رہی ہیں کہ مالی بحران سے گزر رہی ہوں، اس سکیم میں 5 ہزار ماہانہ دیئے جاتے ہیں تو کیا میرا کو 5 ہزار کی ضرورت ہے، اتنے برے حالات ہوگئے ہیں اسکے ، جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ میرا کی جو پراپرٹیز کا صرف مجھے پتہ ہے،اس سے زیادہ نہیں پتہ، اتنا زیادہ قریب نہیں ہوں ، انکی پراپرٹیز 30،35 کروڑ مالیت کی ہو گی،ان میں سے ایک بھی بکی نہیں ہے ابھی تک میری اطلاع کے مطابق ،میرا کو مالی مسئلہ نہین، انکو فن آتا ہے خبروں میں رہنے کا اور یہی انکا فن ہے کہ آج میں اور آپ انکو ڈسکس کر رہے ہیں اسکا میرا کو کریڈٹ دیں، پتہ نہیں کتنا عرصہ ہو گیا ہے کوئی ڈرامہ فلم نہیں کی،کوئی ایڈ نہیں کیا، کوئی کمرشل نہیں کیا،کچھ نہیں کیا لیکن وہ خبروں میں ہیں، 5 ہزار کی وجہ سے ہی سہی لیکن وہ خبروں میں تو ہیں
مبشر لقمان نے امریکی صدر کے ماسک کے بیان پر یوٹرن لینے پر کہتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کا بیان بدلنے کی وجہ ڈومیسٹک آرڈینس کا رسپانس ہو سکتا ہے، الیکشن قریب آ رہا ہے اب وہ ریٹنگ کو سییرس لیں گے، ٹرمپ ذہین آدمی ہیں اور بڑی چیزیں چین کی قونصلٹ بند کر رہے ہیں ،کچھ پابندی لگانے کا سوچ رہے ہیں یہ سب الیکشن کے لئے ہے اور ماسک پہننا یہ میرا خیال ہے بیان بدلنا نہیں اللہ نے انکوہوش دیا ہے کیونکہ امریکہ میں سب سے زیادہ ابھی تک اموات ہوئیں اور انہوں نے ہی سب سے زیادہ مزاق اڑایا تھا
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ میں ایک دلچسپ خبر دیتا ہوں کہ جو ٹرمپ پیسے لگا کر وال بنا رہے تھے یونائیٹڈ سٹیٹ اور میکسیکو کے مابین، اس پر خاردار تار لگائی گئی تھی وہ تار چوری ہو گئی ہے اور سامنے جو میکسیکو کے گھر ہیں وہاں کرائم ریٹ بہت زیادہ ہے وہی تار اب انہی گھروں میں لگی ہوئی ہے اور کوئی یہ نہیں بتا رہا کہ تار کہان سے آئی، کتنے کی خریدی،ٹرمپ دیوار بناتے جا رہے ہین، میکسیکو والے گھروں کے لئے استعمال کر رہے ہیں،کسی نے سوچا تھا کہ امریکہ دیوار بنائے گا اور کسی اور ملک کے لوگ اسے توڑنا شروع کر دیں گے اور وہاں چوری شروع کر دیں گے یہ بھی ہو رہا ہے
مبشر لقمان نے سعودی بادشاہ شاہ سلمان کی بیماری کے حوالہ سے سوال کے جواب میں کہا کہ شاہ سلمان نے ،جو ہاؤس آف سعود ہے اس میں سیشن کا ایک پرنسپل ہے، محمد بن سلمان کی کوشش ہے کہ زندگی میں انکو نامی نیٹ کر دیں تا کہ جی ایٹ کا جو اجلاس سعودی عرب میں ہونا ہے وہ ہیڈ آف سٹیٹ اس میں شرکت کریں، شاہ سلمان نے شاید وہ نہیں کیا، اب اگر شاہ سلمان کو کچھ ہو جاتا ،تو محمد بن سلمان چاہے مرضی جتنے طاقتور ہوں انکے لئے بڑی مشکل ہو گی کیونکہ رائل فیملی جو انکے مخالفین ہین جس میں انکا سگا بھائی موجود ہے اور وہ اندر ہے، اسکو کرونا نیگٹو کہہ کر اٹھایا تھا ابھی تک اندر ہے، شاہ سلمان کو پھر اپوزیشن دیکھنی پڑے گی پھر وہ شوریٰ میں چلا جائے گا، فیملی میں محمد بن سلمان ہر ایک کے پسندیدہ نہین ہیں، پرنس نائف کا بھی بڑا ہولڈ ہے،فیملی میں دراڑ ڈال کر بیٹھے ہوئے ہیں، محمد بن سلمان نے آرامکو کے شیئر کو پنلک کیا، پیسے لئے اور جو اصلاحات کیں، سعودی مین ایک رولنگ کلاس ہے، ایک مذہبی کلاس جو خانہ کعبہ، مسجد نبوی کے رکھوالے ہیں وہ اس بات پر بہت خلاف ہیں، سعودی عرب میں پہلی بار ہو رہا ہے کہ رولنگ کلاس اور ریلیجس کلاس کے لوگ دونوں آمنے سامنے آ گئے ہیں،محمد بن سلمان کے لئے یہ پریشانی کا ٹائم ہے.
اسلام آباد:عوام کی صحت وتندرستی کا خیال رکھیں اورصحت کے لیےتمام تروسائل بروئےکارلائےجائیں،وزیراعظم کی صوبوں کوہدایت،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ نظام صحت کی بہتری کیلئےنجی شعبے کی شراکت داری کی حوصلہ افزائی کی جائے۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعظم کی زیرصدارت پنجاب میں شعبہ صحت کی اپ گریڈیشن سےمتعلق اجلاساجلاس میں وزیرِ اطلاعات سنیٹر سید شبلی فراز، وزیرِ منصوبہ بندی اسد عمر، مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، وزیرِ اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار، وزیرِ خزانہ پنجاب مخدوم ہاشم جوان بخت، صوبائی وزیرِ صحت ڈاکٹر یاسمین راشد، وزیرِ اعظم کے معاون خصوصی لیفٹنٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ، ڈاکٹر شہباز گل، چیف سیکرٹری پنجاب و دیگر سینئر افسران شریک ہوئے
اجلاس میں وزیراعظم کو شعبہ صحت کی بہتری اور مختلف منصوبوں پرعملدرآمد اور ان کے عوام کیلئےثمرات پربریفنگ دی گئی۔شرکاء کو گوجرانوالہ، بہاولنگر، بہاولپور، لیہ، راجن پور اور اٹک میں اسپتال سمیت جدید مراکز صحت کےقیام پر تفصیلی آگاہ کیا گیا۔
وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ صحت کی معیاری سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے گوجرانوالا، لاہور، بہاولنگر، بہاولپور، لیہ، راجن پور، اٹک، میانوالی، چکوال جیسے شہروں میں مختلف ہسپتالوں اور صحت کے جدید مراکز خصوصاً زچہ و بچہ ہسپتالوں اور نرسنگ کالجز کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے جن کی کل لاگت اسی سے نوے ارب روپے ہے۔ رواں سال ان پر تقریباً سترہ ارب روپے خرچ کیے جائیں گے جس کے لئے وفاقی حکومت کا تعاون درکار ہے
وزیراعظم نے ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ صوبےمیں اسپتالوں کی تعمیر،صحت کی بہتر سہولتوں کی فراہمی پرخصوصی توجہ دی جائے اور نظام صحت کی بہتری کیلئےنجی شعبے کی شراکت داری کی حوصلہ افزائی کی جائے۔
اجلاس میں وزیراعظم کو آبپاشی، صوبےکےآبی وسائل کے بہتر انتظام اور مجوزہ منصوبوں پر بھی بریفنگ دی گئی۔
وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ صحت کی معیاری سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے گوجرانوالا، لاہور، بہاولنگر، بہاولپور، لیہ، راجن پور، اٹک، میانوالی، چکوال جیسے شہروں میں مختلف ہسپتالوں اور صحت کے جدید مراکز خصوصاً زچہ و بچہ ہسپتالوں اور نرسنگ کالجز کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے جن کی کل لاگت اسی سے نوے ارب روپے ہے۔ رواں سال ان پر تقریباً سترہ ارب روپے خرچ کیے جائیں گے جس کے لئے وفاقی حکومت کا تعاون درکار ہے۔
اس موقع پر وزیرِ اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے ماضی میں صحت کی معیاری سہولتوں کی دستیابی خصوصاً پنجاب کے کم ترقی یافتہ علاقوں میں دستیابی کو نظرانداز کیا جاتا رہا۔ انہوں نے کہا کہ ماں اور بچے کی صحت سے متعلق صحت کے مراکز پر خصوصی توجہ دی جائے کیونکہ اس شعبے میں سہولیات ناکافی ہیں۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ صوبے میں معیاری صحت کی سہولیات اور ہسپتالوں کی تعمیرکے ساتھ ساتھ موجود ہسپتالوں کے بہتر انتظام اور ان میں سہولیات کی فراہمی پر خصوصی توجہ دی جائے۔ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ ہسپتالوں اور خصوصاً قائم کیے جانے والے نئے مراکز صحت کے انتظام کو جدید بنیادوں پر اور منظم طریقے سے چلانے پر خصوصی توجہ دی جائے۔
وزیرِ اعظم نے پنجاب حکومت کو ہدایت کی کہ صحت کے نظام کی بہتری کے لئے نجی شعبے کی شراکت داری کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ اس ضمن میں وزیرِ اعظم نے وفاقی حکومت کی جانب سے ہسپتالوں کے لئے مشینری کی درآمد کے حوالے سے مراعات، متروکہ املاک کی ارزاں نرخوں پر ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں کے لیے فراہمی جیسے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ صحت کے شعبے میں نجی شعبے کی شراکت داری اور حوصلہ افزائی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس ضمن میں ہر ممکنہ سہولت فراہم کرنے کے لئے پرعزم ہیں۔
بعد ازاں وزیرِ اعظم کو آبپاشی، صوبے کے آبی وسائل کے بہتر انتظام کے حوالے سے مختلف مجوزہ منصوبوں پر بھی بریفنگ دی گئی۔
بھارتی فوج کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں مسلسل جاری ہیں۔ باغی ٹی وی کو کشمیر سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق لائن آف کنٹرول پر کھوئی رٹہ سیکٹر میں بھارتی فوج نے آج ایک بار پھر سول آبادی پر شدید گولہ باری کی۔ بھارتی فائرنگ کے نتیجہ میں عام شہری 72 سالہ بزرگ خاتون مقصودہ بیگم شدید زخمی ہو گئیں۔ انہیں طبی امداد کے لیے فوری طور پر مقامی ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ پاکستانی فوج نے فوری طور پر جوابی کارروائی کی جس سے دشمن کی کمر ٹوٹ گئی اور اس کی توپیں خاموش ہوگئیں۔ مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔
اسلام آباد :شہزاد اکبر کا عہدہ تبدیل، وزیر اعظم کے مشیر مقررکردیئے گئے ،اطلاعات کےمطابق وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کا عہدہ تبدیل کرکے انہیں عمران خان کا مشیر برائے داخلہ و احتساب مقرر کردیا گیا۔
کابینہ سیکریٹریٹ سے جاری نوٹی فکیشن کے مطابق صدر مملکت نے وزیر اعظم کی ایڈوائس پر مرزا شہزاد اکبر کو عمران خان کا مشیر برائے احتساب اور داخلہ امور مقرر کیا ہے۔اس سے قبل وہ معاون خصوصی برائے احتساب اور داخلہ امور اپنے فرائض انجام دے رہے تھے۔
وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی روابط ڈاکٹر شہباز گِل نے ٹوئٹ کے ذریعے کابینہ میں اس تبدیلی کی تصدیق کی۔
واضح رہے کہ قانونی طور پر وزیر اعظم کے مشیر کا عہدہ وفاقی وزیر اور معاون خصوصی کا وزیر مملکت کے برابر ہوتا ہے۔
وزیر اعطم کے معاون خصوصی مقرر ہونے سے قبل شہزاد اکبر قبائلی علاقوں میں امریکی ڈرون حملوں کے خلاف مختلف عدالتوں میں دائر کی جانے والی درخواستوں کی پیروی کرتے تھے۔
انہوں نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں نیب میں بطور معاون بھی کام کیا تھا۔خیال رہے کہ حالیہ مہینوں میں وفاقی کابینہ میں متعدد بار تبدیلیاں کی جاچکی ہیں۔
28 اپریل کو سینیٹر شبلی فراز کو وزیر اطلاعات و نشریات مقرر کردیا تھا جبکہ معاون خصوصی اطلاعات فردوس عاشق اعوان سے عہدہ واپس لے کر یہ عہدہ سی پیک اتھارٹی کے چیئرمین لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ کو اعزازی طور پر سونپ دیا گیا تھا۔
قبل ازیں 6 اپریل کو وزیر اعظم آفس سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ مخدوم خسرو بختیار کو وفاقی فوڈ سیکیورٹی کی وزارت سے ہٹا دیا ہے اور انہیں اقتصادی امور کا وفاقی وزیر بنا دیا گیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ کشمیر کمیٹی کے چیئرمین سید فخر امام اب قومی فوڈ سیکیورٹی کی وزارت جبکہ حماد اظہر وزیر اقتصادی امور کی جگہ اب وزیر صنعت کا قلمدان سنبھا لیں گے۔
اسلام آباد :پاک فوج کے سربراہ کی قطری سفیر سے اہم ملاقات، مختلف شعبوں میں تعاون پر تبادلہ خیال،اطلاعات کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے قطری سفیر سے ملاقات کے دوران کہا ہے کہ توقع ہے پاک قطر تعلقات میں مزید وسعت اور استحکام آئے گا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق پاکستان میں تعینات خلیجی ریاست قطر کے سفیر نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی ہے، ملاقات کے دوران دونوں رہنماوں نے باہمی دلچسپی کے امور اور مختلف شعبوں میں تعاون پر تبادلہ خیال کیا۔
ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے قطر کے سفیر کو نئی ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارکباد دی۔
اس موقع پر آرمی چیف کا کہنا تھا کہ توقو ہے پاک قطر تعلقات میں مزید وسعت اور استحکام آئے گا، خطے میں دیرپا امن و استحکام ہوگا تو ہی اقتصادی ترقی ممکن ہوگی۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق قطری سفیر نے خطے میں امن و استحکام کیلئے پاکستان کی کوششوں کی تعریف کی۔
سول ایوی ایشن نے امریکی چارٹرطیارےکواسلام آبادایئرپورٹ پر لینڈنگ کی اجازت دے دی۔امریکی کمپنی اومنی ایئرکاخصوصی چارٹر طیارہ 28 جولائی کوپاکستان پہنچےگا۔ خصوصی پرواز اواےای423 ملک بدرکیےگئے114پاکستانیوں کولےکرپہنچےگی۔ سی اے اے نےامریکی سفارت خانےکی درخواست پرخصوصی طیارےکولینڈ کرنے کی اجازت دی ہے جب کہ سول ایوی ایشن اتھارٹی نےوزارت خارجہ کی ہدایت پراجازت نامہ جاری کیا۔ امریکہ سےملک بدرہونےوالےپاکستانیوں سےمتعلق وزارت خارجہ کوآگاہ کردیاگیا۔ سی اے اے حکام کا کہنا ہے ایس او پی کےتحت طیارےکے عملےکوایئرپورٹ پراترنےکی اجازت نہیں ہوگی۔
اسلام آباد میں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کی زیر صدارت وزارت خارجہ میں خطے میں امن و امان کی صورتحال کے حوالے سے اعلی سطحی اجلاس ہوا جس میں وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے قومی سلامتی معید یوسف، سیکرٹری خارجہ سہیل محمود، اعلی عسکری حکام اور وزارت خارجہ کے سینئر افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری بھارتی جارحیت اور خطے میں امن و امان کی مجموعی صورتحال کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ ء خیال کیا گیا۔ مخدوم شاہ محمود قریشی نے اس موقعہ پر کہا کہ بھارت کی ہندتوا سوچ اور جارحانہ پالیسیوں کے باعث پورے خطے کے امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ بھارت، افغانستان میں قیام امن کی کاوشوں کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے۔ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت، مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور اپنی داخلی کمزوریوں پر پردہ ڈالنے کیلئے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزیوں کے ذریعے عام شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ پاکستان, مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کشی اور انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں کو اقوام متحدہ سمیت ہر عالمی و علاقائی فورم پر اٹھا رہا ہے اور بھارت سرکار کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے لا رہا ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ نہتے کشمیریوں کو بھارتی استبداد سے نجات دلانے کیلئے عالمی برادری کو اپنا موثر کردار ادا کرنا ہوگا۔
اجلاس میں بھارت سرکار کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں کیے گئے 5 اگست کے یکطرفہ اقدامات کی طرف عالمی برادری کی توجہ مبذول کروانے اور انہیں مزید اجاگر کرنے کیلئے کیلئے مختلف تجاویز کو زیرغور لایا گیا۔ اجلاس میں افغان امن عمل سمیت علاقائی سلامتی کے مختلف امور پر مشاورت کی گئی۔