Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • اسرائیل سےترکی کےسفارتی اورتجارتی تعلقات کی عجب کہانی:عرب امارات اسرائیل تعلقات پرترکی کامنافقانہ رویہ کیوں‌؟

    اسرائیل سےترکی کےسفارتی اورتجارتی تعلقات کی عجب کہانی:عرب امارات اسرائیل تعلقات پرترکی کامنافقانہ رویہ کیوں‌؟

    لاہور:اسرائیل سےترکی کےخفیہ،سفارتی اورتجارتی تعلقات کی عجب کہانی:عرب امارات اسرائیل تعلقات پرترکی کامنافقانہ رویہ کیوں‌؟تاریخی واقعات اورحقائق کے مطابق یہ بات کھل کرسامنے آگئی ہے کہ عرب امارات کی اسرائیل سے ڈیل کی مخالفت کرنےوالے ترکی نے خود اسرائیل سے خفیہ اورسفارتی تعلقات قائم کررکھے ہیں ،

     

     

    اس حوالے سے جو حقائق سامنے آئے ہیں اس کے مطابق 1949 میں ترکی نے یہودی ریاست کو تسلیم کرلیا تھ ، پھراس کے بعد کسی نہ کسی صورت میں ترکی اور اسرائیل نے سفارتی تعلقات کی کچھ شکل برقرار رکھی ہے۔ اسرائیل میں ترکی کا پہلا سفارتی مشن 7 جنوری 1950 کوباضابطہ طور پر گیا تھا ، اور پہلے ترک چیف آف مشن سیف اللہ ایسن نے اسرائیل کے صدرچیم ویزمان کو اپنی اسناد پیش کیں ۔

     

    اسرائیلی حکام نے ترکی اوراسرائیل کے درمیان تعلقات کے بارے میں انکشاف کیا ہے کہ سن 1958 میں ، اسرائیلی وزیر اعظم ڈیوڈ بین گورین اور ترکی کے وزیر اعظم عدنان مانڈیرس نے ایک خفیہ طور پر ملاقات کی جس میں دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات، انٹلیجنس معلومات کے تبادلے اور فوجی امداد شامل تھی ۔

     

     

    1967 میں عرب اسرائیل کی چھ دن کی جنگ پراسرائیل سے کچھ ناراض سا ہوگیا اوراسرائیل کی مذمت بھی کردی اور اسرائیل کے فلسطینی علاقوں سے دستبرداری کا مطالبہ کیا ، لیکن اس نے اسرائیل کو "جارحیت پسند ریاست” کے طور پر پیش کرتے ہوئے اس شق کے حق میں رائے دہی سے پرہیز کیا۔ مراکش کے شہر رباط میں تنظیم اسلامی کانفرنس کے اجلاس میں ترکی نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرنے کی قرارداد کی مخالفت کی

     

    مارچ 1992 میں ترکی کی طرف سے دونوں ملکوں کے درمیان باہمی سفارتی تعلقات کو ایک بار پھر سفیر کی سطح پرلانے کی کوشش کی گئی اور ایک ترک سفیر نے اسرائیل کے صدر چیم ہرزوگ کو ٹیلیفون میں اپنی اسناد پیش کیں

     

    دونوں ملکوں کے تعلقات میں بہتری لانے کی ان کوششوں کے نتیجے میں اسرائیل نے ترکی میں دو سفارتی مشن قائم کئےجن میں سے ایک دارالحکومت انقرہ میں واقع ایک سفارت خانہ اور ترکی کے سب سے بڑے شہر استنبول میں اس کا قونصل خانہ قائم ہوا ۔

    2002ء کے الیکشن میں طیب اردگان کی پارٹی کی جیت اور اردگان کے وزیراعظم بننے کے بعدترکی اور اسرائیل کے تعلقات نے نیا رخ موڑا۔

    بعض ذرائع کا یہ بھی کہنا ہےکہ ترک صدر طیب اردگان اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے لیے اس لیے بھی راضی تھے کیونکہ طیب اردوگان یہ سمجھتے تھے کہ ترکی میں فوجی بغاوتوں کے پیچھے اسرائیل کا ہاتھ ہے ، اس لیے وہ فوجی بغاوتوں سے بچنے کے لیے اسرائیل کی کے ساتھ اچھے تعلقات بناکراس مشکل سے نکلنا چاہتے تھے ،

    طیب اردگان نے باوجود اسرائیل سے نفرت کے 2005ء میں اسرائیل کا دورہ کیا اور اسرائیلی حکومت کو برابری کی سطح پر تعلقات رکھنےاور مشرق وسطیٰ کو پرامن بنانے کے لیے مشترکہ جدوجہد کرنے کی دعوت دی ،ترک وزیر اعظم رجب طیب اردوان نے مشرق وسطی کے امن ثالث کی حیثیت سے خدمات انجام دینے اور یہودی ریاست کے ساتھ تجارتی اور فوجی تعلقات استوار کرنے کی پیش کش کی اورپھراسی تناظرمیں اسرائیل کا دورہ کیا۔ ایردوان نے وزیر اعظم ایریل شیرون اور صدر موشے کاتسو سے ملاقات کی اور ید وشم پر پھولوں کی چادر چڑھائی۔

    اسرائیلی حکام کا تو یہ بھی کہنا تھا کہ سن 2006 کے اوائل میں اسرائیلی وزارت خارجہ نے ترکی کے ساتھ اپنے ملک کے تعلقات کو "بہترین” قرار دیا تھا۔ نومبر 2007 میں اسرائیلی صدر شمعون پیریز نے ترکی کے صدر عبداللہ گل سے ملاقات کی اور ترکی کی عظیم الشان قومی اسمبلی سے خطاب کیا اس خطاب میں طیب اردگان بھی موجود تھے اور تالیاں بجارہے تھے

    چنانچہ 2009ـ2008 میں موسم سرما میں ترکی کی جانب سے اسرائیل کے آپریشن کاسٹ لیڈ کی مذمت کے بعد دونوں ممالک کے مابین تعلقات کشیدہ ہونا شروع ہو گئے تھے

    ترکی نے اسرائیل کو مشترکہ اناطولیہ ایگل فوجی مشق میں حصہ لینے سے روک دیا ، جس کے جواب میں اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے یہ کہتے ہوئے ترکی پرسخت تنقید کی اورکہا کہ ترکی اب شام اوراسرائیل کے درمیان ایماندار دلال نہیں بن سکتا”

    غزہ پر اسرائیلی حملے کے خلاف طیب اردگان نے بھرپور احتجاج کیا۔اس سے پہلے 2004ء میں حماس کے بانی شیخ احمد یسین ؒ کے قتل پر بھی اردگان حکومت نے اسرائیل سے سخت احتجاج کیا تھا۔ادھر 2009میں ترک ٹی وی چینل پر اسرائیلی مظالم کے خلاف پروگرامز نشر ہونے پر اسرائیلی حکومت نے ترکی سے سخت احتجاج کیا۔ یوں ترکی اور اسرائیل تعلقات میں تناؤ بڑھتا رہا۔

     

    چنانچہ 2009میں ڈیوس عالمی اقتصادی فورم پر طیب اردگان نے اسرائیلی مظالم کے خلاف بھرپور آواز اٹھائی اور اسرائیل کے جنگی جرائم کو ہٹلر کی طرح قراردیا۔2010ء میں ترک حکومت نے حماس کے لیڈر خالد مشعل کو باقاعدہ ترکی بلاکر نئے سرے سے تعلقات کا آغاز کیا،جس پر اسرائیل نے ترکی سے سخت احتجاج کیا۔

    یہی وجہ ہے کہ اس وقت اسرائیلی وزیراعظم نے کہا تھا کہ عیجب معاملہ ہے کہ ایردوآن مجھے "ہٹلر” کا نام دیتے ہیں اور اسرائیل سے تجارت بھی مضبوط بنا رہے ہیں

     

     

    بعدازاں 31مئی 2010 کو ترکی نے غزہ میں مظلوم فلسطینیوں کے لیے فریڈم فلوٹیلانامی جہاز پرامدادی سامان بھیجا،جس پر اسرائیلی فوجیوں نے حملہ کیا اور جہاز کے عملے میں شامل 10 ترکوں کو قتل کردیا۔اس حملے کی وجہ سے بالآخرطیب اردگان نے پہلی مرتبہ اسرائیل کے ساتھ 60 سال سے قائم تعلقات منقطع کردیے۔اس کے بعد اردگان مسلسل اسرائیلی مظالم کے خلاف بین الاقوامی فورمز پر آوا ز اٹھاتے رہے۔2013 میں اقوام متحدہ سے غزہ پرا سرائیلی مظالم رکوانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ "صہیونیت انسانیت کے خلاف بہت بڑا جرم ہے”۔

     

    اس طرح اسرائیل کوبین الاقوامی دباؤ کی وجہ سے پسپائی کا سامنا کرنا پڑا۔چنانچہ 2013میں اسرائیلی حکومت نے باقاعدہ دنیا کے سامنے فریڈم فلوٹیلاحملے پر ترکی سےمعافی مانگی اور تعلقات بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔ترک حکومت نے معافی قبول کرتے ہوئے نقصان کے ازالے کا مطالبہ کیا۔تین سال بعد اسرائیلی حکومت نے نقصان کے ازالے پر حامی بھری اور فریڈم فلوٹیلا حملے میں مرنے والوں کو 200 ملین ڈالر ہرجانہ اداکرنے کا وعدہ کیا۔

     

     

    یوں جون 2016ء میں باقاعدہ طور پر اسرائیل اورترکی دونوں نے دوبارہ سفارتی تعلقات بحال کرنے پر اتفاق کیا۔چند دن پہلے دونوں ملکوں نے اپنے اپنے سفیر بھی منتخب کردیے۔اسرائیل میں لگنے والی آگ بجھانے کے لیے بھی اردگان نے انسانیت کے ناتے اسرائیل کی مدد کی جس پر اسرائیلی صدر نے اردگان کا شکریہ ادا کیا۔

    اردگان حکومت کے مطابق تین شرائط پر ترکی نے اسرائیل سے تعلقات بحال کیے ہیں۔فریڈم فلوٹیلا حملے پر معافی اور نقصان کا ازالہ کیا جائے گا،غزہ کی ناکہ بندی کا خاتمہ اورفلسطین بالخصوص غزہ میں امدادی اور فلاحی کاموں کی ترکی کو اجازت ہوگی۔اسرائیلی حکومت کے مطابق ان تین مطالبات کے باوجودیہ معاہدہ اسرائیل کے لیے سود مند ہے،کیوں کہ اسرائیلی اپنی قدرتی گیس ترکی کے ذریعے یورپ تک پہچنا سکے گا، ترکی اسرائیل کے خلاف بین الاقومی فورمز پر خاموش رہے گااور حماس کے قبضے میں قید اسرائیلی فوجیوں کی رہائی کے لیے ترکی مدد کرے گا۔

     

     

    ترکی باوجو داسرائیل سے تعلقات بحال کرنے کے فلسطینیوں کا حامی ہے۔یہی وجہ ہے کہ 22نومبر 2016 کو طیب اردگان نے پہلی مرتبہ اسرائیلی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیا،اس میں انہوں نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات بحالی کے باوجودفلسطینیوں کی نمائندہ جماعت حماس کو ایک سیاسی حقیقت تسلیم کیا اور ان کے ساتھ تعلقات رکھنے کی حامی بھری۔اردگان کے اس بیان پر اسرائیل میں مظاہرے بھی ہوئے اور اسرائیلی عوام اور پارلیمنٹ کے بعض اراکین نے ترکی سے تعلقات منقطع کرنے کا مطالبہ بھی کیا ۔

    اگرچہ ترکی اور اسرائیلی خفیہ ایجنسیاں 1958 سے ایک ساتھ کام کر رہی ہیں ، لیکن ترکی اور اسرائیل کے مابین 1990 کی دہائی کے اوائل میں موساد اور ترکی کی قومی انٹلیجنس آرگنائزیشن (ایم آئی ٹی) کے مابین معاہدے پر دستخط کیے جانے کے بعد اسٹریٹجک انٹلیجنس تعاون کو اہمیت حاصل ہوئی ہے۔

    اس اہم معاہدے میں یہ بھی طئے تھا کہ ہمسایہ ممالک میں مشنوں کو انجام دینے کے دوران موساد ترکی کو بفر زون کے طور پر استعمال کرے گا تاکہ وہ اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے اپنی حفاظت اور حفاظت کو یقینی بنائے۔

    ان معاہدوں کے نتیجے میں موساد کے ممبران سرحدوں سے تجاوزات اور سیکیورٹی کے طریقہ کاروں کے بغیر اپنے جاسوس سازوسامان کے ساتھ ترکی میں داخل ہوسکتے تھے اور پاسپورٹ اور کسٹم چیکس سے بھی گریز کرتے تھے۔ یہ سیکیورٹی اور انٹیلیجنس تعلقات اکتوبر 2012 سے سخت تناؤ کا شکار ہیں ، جب یہ انکشاف ہوا کہ ترکی نے ایران کو کام کرنے والے 10 ایرانی جاسوسوں کے نام لیک کردیئے تھے۔

    دوسری طرف ان خفیہ اورسفارتی تعلقات رکھنے کے باوجود ترکی نے عرب امارات کی اسرائیل سے ڈیل پرسخت تنقید کی ہے اوردھمکی دی ہے کہ وہ عرب امارات سے سفارتی تعلقات منقطع کرسکتا ہے

    ترکی نے اپنے علاقائی حریف متحدہ عرب امارات (یو اے ای) پر امریکا کی جانب سے اعلان کردہ امن معاہدے میں اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات معمول پر لانے کے فیصلے پر سخت تنقید کرتے ہوئے اس پر فلسطین کاز کے ساتھ غداری کرنے کا الزام عائد کردیا ہے۔

    امریکی خبر رساں ادارے ‘اے پی’ کی رپورٹ کے مطابق ترک وزارت خارجہ کی جانب سے کہا گیا کہ یو اے ای کو فلسطینیوں کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کرنے یا ‘فلسطین کے لیے اہم معاملات پر مراعات دینے’ کا کوئی اختیار نہیں۔

    وہیں الجزیرہ نے یہ بھی رپورٹ کیا کہ ترکی کی جانب سے کہا گیا کہ تاریخ اور خطے کے لوگوں کا ضمیر ‘اسے نہیں بھولے گا اور متحدہ عرب امارات کے اس منافقانہ رویے’ کو کبھی فراموش نہیں کریں گے۔

     

     

    دوسری جانب ترک صدر رجب طیب اردوان نے متحدہ عرب امارات سے سفارتی تعلقات ختم کرنے کا عندیہ دے دیا۔

    انادولو نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق رجب طیب اردوان نے استنبول میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ‘ہم متحدہ عرب امارات سے سفارتی تعلقات معطل کرنے یا وہاں سے اپنا سفیر واپس بلانے کے اقدامات اٹھا سکتے ہیں۔’

    خیال رہے کہ اس معاہدے نے متحدہ عرب امارات کو خلیج عرب کا پہلا اور مصر اور اردن کے بعد تیسرا عرب ملک بنا دیا ہے جس کے اسرائیل کے ساتھ مکمل سفارتی تعلقات ہیں۔

  • یوم آزادی، وزیراعظم عمران خان نے دیں قوم کو چار بڑی خوشخبریاں

    یوم آزادی، وزیراعظم عمران خان نے دیں قوم کو چار بڑی خوشخبریاں

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے پاکستان کے یوم آزادی پر قوم کو چار بڑی خوشخبریاں سنا دیں،کہا معیشت بہتر اور کرونا کیسز کم ہو رہے ہیں،ہماری برآمدات میں بھی اضافہ ہورہا ہے،جلد حالات مزید بہتر ہوجائیں گے،آئی پی پیز سے معاہدہ ہوگیا ہے،بجلی کی پیداواری قیمت ہوجائے گی

    کہا ہے کہ پاکستان قائداعظم اور علامہ اقبال کا خواب تھا،پاکستان کو ایک فلاحی ریاست بنانا تھا،ہم اس خواب کی تعبیر کے سفر پر ہیں،

    وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پوری قوم نے کورونا وائرس کا کامیابی سے مقابلہ کیا،شاید ہی پاکستانیوں کی طرح کسی اور قوم نے کورونا سے بیلنس کیا،ایک طرف ہمیں کورونا اور دوسری طرف بھوک سے اموات کا خوف تھا،آج ہماری معیشت بہتر اور کورونا کیسز کم ہورہے ہیں،ابھی ہم کورونا کے خلاف جنگ نہیں جیتے،کورونا سے بچاوَ کیلئے اب بھی احتیاط ضروری ہے،ہجوم میں ماسک کا استعمال اور فاصلہ ضروری ہے،

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ قوم نے حکومت کے پہلے 2سال مشکل میں گزارے،اب ہماری معیشت بہتر ہورہی ہے،لوگوں کا اعتماد بڑھنے سے پاکستان اسٹاک ایکس چینج بہتر ہورہی ہے،ہم نے تعمیراتی شعبے کو کاروبار میں آسانیاں دیں،کاروبار میں آسانی سے معیشت بہتر اور غربت میں کمی ہوتی ہے،پہلے سال 4ہزار ارب روپے کا آدھا قرضوں کی قسطیں ادا کرنے میں لگے،ہماری حکومت پر قرضوں کا بوجھ تھا،ہماری حکومت پر قرضوں اور پاورسیکٹرکا بوجھ تھا،

    مادر وطن کی سمندری سرحدوں اور ساحلوں کے دفاع کے لیے تیار ہیں، سربراہ پاک بحریہ

    پاک بحریہ کے سربراہ کا کریکس اور کوسٹل ایریا میں پاک بحریہ کی تنصیبات کا دورہ

    پاک بحریہ دشمن کے ناپاک منصوبوں کو ناکام بنانے کے لئے تیار، نیول چیف کا دبنگ اعلان

    کراچی شپ یارڈ میں پاک بحریہ کیلئے جدید جنگی ملجم کلاس جہاز کی اسٹیل کاٹنے کی تقریب

    پاکستان بحریہ کا یوم آزادی پرخصوصی نغمہ ”پرچم پاکستان کا” ٹیزر جاری

    یوم آزادی، ملک بھر میں تقریبات کا آغاز، مزار قائد، اقبال پر گارڈز کی تبدیلی،صوبوں میں توپوں کی سلامی

    پاک بحریہ میں یوم آزادی کی تقریب،اکیس توپوں کی سلامی دی گئی

    یوم آزادی، موٹروے پولیس کا قومی شاہرات پر فلیگ مارچ

    یوم آزادی پاکستان پر وزیراعظم نے دیا کشمیریوں کو اہم پیغام

    ہم معیشت بہتر کرکے مسلم امہ کی قیادت حاصل کرسکتے ہیں،صدر مملکت

    یوم آزادی،حریت رہنما سید علی گیلانی کوپاکستان کے سب سے بڑے سول اعزاز نشان پاکستان سے نوازا گیا

    مستحکم پاکستان کشمیر اور فلسطین کی آزادی کیلئے ضروری ہے،سراج الحق

    پاکستان کو اپنائیت دینی ہو گی،وفاقی وزیر ہوا بازی کا یوم آزادی کی تقریب سے خطاب

    قومی آزادی آئینی اور قانونی حقوق کے تحفظ سے جڑی ہے.قمر زمان کائرہ

    مولانا طارق جمیل سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی میں نمایاں خدمات انجام دینے والی184 شخصیات کیلئے سول ایوارڈز کا اعلان

    نااہل و کرپٹ ٹولہ رخصت ہوا تو پاکستان پنپنے لگا،مراد سعید

    ایک طرف پاکستان ایٹمی طاقت ،دوسری جانب بھکاری، کشکول کو توڑنا ہو گا، شہباز شریف

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ بجلی مہنگی ہونے کے باعث صنعتی شعبے کو مشکلات تھیں،صنعتیں چلنے سے ٹیکس وصولی بڑھی اور روزگار میں اضافہ ہوا،ہماری برآمدات میں بھی اضافہ ہورہا ہے،جلد حالات مزید بہتر ہوجائیں گے ،آئی پی پیز سے معاہدہ ہوگیا ہے،بجلی کی پیداواری قیمت ہوجائے گی

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ساتھ کھڑا ہے،ہمیں مقبوضہ کشمیر کے عوام پر مظالم کا احساس ہے،ہم کشمیریوں کی آزادی کی جدوجہد جاری رکھیں گے،کیونکہ وہ گزشتہ ایک سال سے فوجی محاصرے کا سامنا کررہے ہیں، ہم حق خود ارادیت کی جدوجہد میں اپنے کشمیری بھائیوں کے پیچھے مضبوطی سے کھڑے ہیں اور ہر دستیاب فورم پر اُن کے لیے آواز بلند کرتے رہیں گے،

    پاکستان ہمارا فخر اور پہچان،ہمارا منشور پاکستان کی سربلندی ہے، فریال تالپور

  • دنیا بھر میں جشن  یوم آزادی پاکستان  کی تقریبات

    دنیا بھر میں جشن یوم آزادی پاکستان کی تقریبات

    دنیا بھر میں جشن یوم آزادی پاکستان کی تقریبات

    باغی ٹی وی : دنیا بھر میں‌ پاکستان کے یوم آزادی کے سلسلےل میں‌تقریبات ہوئی ہیں‌. آسٹریلیا بیرون ملک قائم پاکستانی ہائی کمشنز میں بھی یوم آزادی کے حوالے سے تقریبات انعقاد کیا گیا جن میں اہم شخصیات نے شرکت کی
    آسٹریلیا کے دارلحکومت کینبرا میں موجود پاکستان ہائی کمیشن میں چودہ اگست قومی جوش و جذبے کے ساتھ منائی گئی۔

    ہائی کمشنر بابر امین نے پرچم کشائی کی۔ یوم آزادی کی مناسبت سے تقریب کے موقع پر صدرمملکت اور وزیر اعظم کے پیغامات پڑھ کر سنائے گئے۔بابر امین کا کہنا تھا کہ یہ دن ہمیں خود مختار حقوق، اپنے مذہبی، ثقافتی اور معاشرتی اقدار کے ساتھ ساتھ معاشی خوشحالی کے تحفظ کے لئے دی گئیں بے مثال قربانیوں کی یاد دلاتا ہے۔
    ہائی کمشنر نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت کے خلاف بھی آواز بلند کی۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ غیر قانونی کارروائیوں کو روکنے اور فوجی محاصرے کو ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔
    وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیرمیں گزشتہ ایک سال سےفوجی محاصرے جاری ہے۔ قوم کےبیٹوں نےاس دھرتی اوراس کے نظریہ کے دفاع کے لیے قربانیاں دیں۔ آزادی کے موقعے پر ہمیں اپنے کشمیری بھائیوں کو بھی یاد رکھنا چاہیے، اُن کے لیے ہمارے دل غمزدہ ہیں کیونکہ وہ گزشتہ ایک سال سے فوجی محاصرے کا سامنا کررہے ہیں، ہم حق خود ارادیت کی جدوجہد میں اپنے کشمیری بھائیوں کے پیچھے مضبوطی سے کھڑے ہیں اور ہر دستیاب فورم پر اُن کے لیے آواز بلند کرتے رہیں گے،

    پاکستان کا74 واں یوم آزادی مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھی روایتی جوش و جذبے سے منایا جارہا ہے۔کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق کشمیری 14 اگست کو یومِ تشکر کے طور پر منارہے ہیں۔ اس موقع پر مختلف علاقوں میں کشمیریوں نے پاکستانی جھنڈے گھروں میں تیار کیے ہیں۔

    کشمیری ہمیشہ سے پاکستان کے ساتھ اپنی محبت کا کھل کر اظہار کرتے ہیں، اور آزادی کشمیر کی جدوجہد کو تحریک پاکستان کا نامکمل ایجنڈا سمجھتے ہیں۔صدر اور وزیراعظم پاکستان نے بھی یوم آزادی کے موقع پر قوم کے نام اپنے پیغام میں کہا ہے کہ خوشی کے اس موقع پر کشمیری بہن بھائیوں کو نہیں بھولنا چاہیے.

    پاکستان کے 74 ویں یوم آزادی کے موقعہ پر بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن میں خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب میں پاکستان کے قائم مقام ہائی کمشنر سید علی حیدر نے پاکستان کا جھنڈا لہرایا۔
    تقریب میں مہمانوں کی بڑی تعداد نے جوش و خروش سے حصہ لیا۔ اس موقعہ پر پاکستان کا قومی ترانہ بھی بجایا گیا۔
    ہائی کمیشن کے منسٹر پولیٹیکل آفتاب حسن خان نے صدر مملکت عارف علوی اور وزیراعظم عمران خان کے پیغامات پڑھ کر سنائے۔

    نئی دہلی میں یوم پاکستان کی تقریب

  • نئی دہلی میں یوم پاکستان کی تقریب

    نئی دہلی میں یوم پاکستان کی تقریب

    پاکستان کے 74 ویں یوم آزادی کے موقعہ پر بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن میں خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب میں پاکستان کے قائم مقام ہائی کمشنر سید علی حیدر نے پاکستان کا جھنڈا لہرایا۔
    تقریب میں مہمانوں کی بڑی تعداد نے جوش و خروش سے حصہ لیا۔ اس موقعہ پر پاکستان کا قومی ترانہ بھی بجایا گیا۔
    ہائی کمیشن کے منسٹر پولیٹیکل آفتاب حسن خان نے صدر مملکت عارف علوی اور وزیراعظم عمران خان کے پیغامات پڑھ کر سنائے۔
    قائم مقام ڈپٹی ہائی کمشنر سید حیدر شاہ نے حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے قیام کے لئے کی گئی جدوجہد اور دی گئی قربانیوں کا خاص طور پر ذکر کیا

  • یوم آزادی،حریت رہنما سید علی گیلانی کوپاکستان کے سب سے بڑے سول اعزاز نشان پاکستان سے نوازا گیا

    یوم آزادی،حریت رہنما سید علی گیلانی کوپاکستان کے سب سے بڑے سول اعزاز نشان پاکستان سے نوازا گیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بزرگ حریت رہنما سید علی گیلانی کو پاکستان کا سب سے بڑا سول اعزاز نشان پاکستان دیا گیا

    پاکستان کے یوم آزاد کے موقع پر بزرگ حریت رہنما سید علی گیلانی کو نشانِ پاکستان کا اعزاز دیا گیا۔ یہ اعزاز پاکستان کے صدر عارف علوی نے ایوان صدر میں ایک خصوصی تقریب میں عطا کیا۔ یہ اعزاز اسلام آباد میں حریت رہنماوں نے وصول کیا۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق اسی ماہ وزیراعظم عمران خان نے 14 اگست کو بزرگ حریت رہنما سید علی گیلانی کو نشانِ پاکستان دینے کا اعلان کیا تھا۔ 29 ستمبر 1929 کو پیدا ہونے والے 88 سالہ سید علی گیلانی مقبوضہ کشمیر پر 72 سال سے جاری بھارتی قبضے کے خلاف جدوجہد کی توانا آواز ہیں۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق اوریئنٹل کالج پنجاب یونیورسٹی کے گریجویٹ بزرگ رہنما سید علی گیلانی نے بھارتی قبضے کے خلاف جدوجہد کا آغاز جماعت اسلامی کے پلیٹ فارم سے کیا تھا۔

    ایوانِ صدر اسلام آباد میں منعقد کی گئی جشنِ آزادی کی مرکزی تقریب میں صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے پرچم کشائی کی۔ تقریب میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے علاوہ اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی بھی شریک ہوئے۔

    پاکستان کا یہ سب سے بڑا اعزاز9 نومبر 1959کو ایرانی بادشاہ محمد رضا شاہ پہلوی کو دیا گیا تھا

    مادر وطن کی سمندری سرحدوں اور ساحلوں کے دفاع کے لیے تیار ہیں، سربراہ پاک بحریہ

    پاک بحریہ کے سربراہ کا کریکس اور کوسٹل ایریا میں پاک بحریہ کی تنصیبات کا دورہ

    پاک بحریہ دشمن کے ناپاک منصوبوں کو ناکام بنانے کے لئے تیار، نیول چیف کا دبنگ اعلان

    کراچی شپ یارڈ میں پاک بحریہ کیلئے جدید جنگی ملجم کلاس جہاز کی اسٹیل کاٹنے کی تقریب

    پاکستان بحریہ کا یوم آزادی پرخصوصی نغمہ ”پرچم پاکستان کا” ٹیزر جاری

    یوم آزادی، ملک بھر میں تقریبات کا آغاز، مزار قائد، اقبال پر گارڈز کی تبدیلی،صوبوں میں توپوں کی سلامی

    پاک بحریہ میں یوم آزادی کی تقریب،اکیس توپوں کی سلامی دی گئی

    یوم آزادی، موٹروے پولیس کا قومی شاہرات پر فلیگ مارچ

    یوم آزادی پاکستان پر وزیراعظم نے دیا کشمیریوں کو اہم پیغام

    صدرمملکت عارف علوی نے یوم آزادی کے موقع پر سول ایورڈز کا اعلان کردیا،مرحوم صادقین ،احمد فراز ، ڈاکٹر جمیل جالبی سمیت 6 شخصیات کیلئے نشان امتیاز ،سابق پروڈیوسر پی ٹی وی اور ہم نیٹ ورک کی صدر سلطانہ صدیقی کیلئے ستارہ امتیازکا اعلان کیا گیا

    علی بابا کے جیک ما کو ہلال قائد اعظم عطا کیاجائے گا،مولانا طارق جمیل کیلئے پرائیڈ آف پرفارمنس کا اعلان کیا گیا،مایہ نازصوفی گلوکارہ عابدہ پروین کیلئے نشان امتیاز کا اعلان،بشریٰ انصاری اور طلعت حسین کیلئے بھی ستارہ امتیاز کا اعلان کیا گیا،فاروق قیصر ،نعیم بخاری اور کرکٹرعبدالقادر مرحوم کیلئے بھی ستارہ امتیاز کا اعلان کیا گیا،سکینہ سموں اور نعمت سرحدی کیلئے پرائیڈ آف پرفارمنس،ہمایوں سعید،علی ظفراورمہہ جبین قزلباش کیلئے بھی پرائیڈ آف پرفارمنس کا اعلان کیا گیا

    تمام شخصیات کو ایوارڈ 23 مارچ کو دیئےجائیں گے،24شخصیات کو ستارہ شجاعت عطا کیاجائےگا،27شخصیات کو ستارہ امتیازعطا کیا جائے گا،44شخصیات کو صدارتی تمغہ حسن کارکردگی عطا کیا جائے گا

    ہم معیشت بہتر کرکے مسلم امہ کی قیادت حاصل کرسکتے ہیں،صدر مملکت

  • ہم معیشت بہتر کرکے مسلم امہ کی قیادت حاصل کرسکتے ہیں،صدر مملکت

    ہم معیشت بہتر کرکے مسلم امہ کی قیادت حاصل کرسکتے ہیں،صدر مملکت

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان بھر میں یوم آزادی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جا رہا ہے

    یوم آزادی کی مرکزی تقریب وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ایوان صدر میں منعقد ہوئی، صدر پاکستان ڈاکٹرعارف علوی نے پرچم کشائی کی اور تقریب سے خطاب کیا۔ ایوان صدر میں جشن آزادی کی تقریب کے آغاز میں سائرن بجایا گیا، صدر عارف علوی نے سبز ہلالی پرچم لہرایا۔ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی، سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، ڈپٹی سپیکر قاسم سوری، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر اطلاعات شبلی فراز سمیت وفاقی وزراء اور معاونین خصوصی بھی تقریب میں شریک ہوئے

    صدر مملکت عارف علوی کا کہنا تھا کہ پاکستان نے بھارت کی جارحیت کے جواب میں امن کا پیغام دیا، پاکستان کشمیریوں کی اخلاقی ،سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا، سی پیک سےخطے میں ترقی اورخوشحالی کے نئے دور کا آغاز ہو گا، کورونا سے نمٹنے کیلئے پاکستان کے اقدامات کا عالمی سطح پر اعتراف کیا گیا۔

    صدر مملکت کا مزید کہنا تھا کہ قیام پاکستان کے بعد مملکت کو بہت سے چیلنجز کا سامنا رہا، قوم نے آزمائشوں سے گزر کر بہت کچھ سیکھا۔ پاکستان سمیت دنیا بھرمیں کورونا کا حملہ ہوا، پوری دنیا لاک ڈاون کی طرف گئی۔ وزیراعظم عمران خان کوخراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے فیصلہ کیا کہ مکمل لاک ڈاون نہیں کر سکتے، غریبوں کی فکر کرتے ہوئے جزوی لاک ڈاون کیا جو کامیاب رہا۔دنیا نے کہا ہمیں پاکستان سے سیکھنا چاہیے،قومیں صحت اور تعلیم کے باعث غربت سے نکلتی ہیں،50ہزار غریب طلبا کو اسکالرشپ دی گئی،

    صدر مملکت کا مزید کہنا تھا کہ وطن بنانا ایسے ہی ہے جیسے صدیوں بعد آزادی ملے،پاکستانی قوم نے35لاکھ افغان مہاجرین کو پناہ دی،آج بھی پاکستان میں 27لاکھ افغان مہاجرین موجود ہیں،تاریخی دن پرڈاکٹروں،نرسوں اورشعبہ طب سےوابستہ دیگرافرادکوخراج تحسین پیش کرتاہوں ،نوجوان پاکستان اور اسلام کے حوالے سے اپنی جڑیں مضبوط کریں،

    مادر وطن کی سمندری سرحدوں اور ساحلوں کے دفاع کے لیے تیار ہیں، سربراہ پاک بحریہ

    پاک بحریہ کے سربراہ کا کریکس اور کوسٹل ایریا میں پاک بحریہ کی تنصیبات کا دورہ

    پاک بحریہ دشمن کے ناپاک منصوبوں کو ناکام بنانے کے لئے تیار، نیول چیف کا دبنگ اعلان

    کراچی شپ یارڈ میں پاک بحریہ کیلئے جدید جنگی ملجم کلاس جہاز کی اسٹیل کاٹنے کی تقریب

    پاکستان بحریہ کا یوم آزادی پرخصوصی نغمہ ”پرچم پاکستان کا” ٹیزر جاری

    یوم آزادی، ملک بھر میں تقریبات کا آغاز، مزار قائد، اقبال پر گارڈز کی تبدیلی،صوبوں میں توپوں کی سلامی

    پاک بحریہ میں یوم آزادی کی تقریب،اکیس توپوں کی سلامی دی گئی

    یوم آزادی، موٹروے پولیس کا قومی شاہرات پر فلیگ مارچ

    یوم آزادی پاکستان پر وزیراعظم نے دیا کشمیریوں کو اہم پیغام

    صدر مملکت کا مزید کہنا تھا کہ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں پاکستان نے ہزاروں جانوں کی قربانیاں دیں۔ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کےمطابق حل طلب ہے، سلامتی کونسل میں مسئلہ کشمیر پر بحث تاریخی تھی، یہ پاکستان کی خارجہ محاذ پر بڑی کامیابی تھی۔ بھارت نے اپنے ملک میں اقلیتوں کیلئے جینا محال کر رکھا ہے۔کشمیر پر نئے نقشے کا اجرا بہت بڑا کام ہے، ہم معیشت بہتر کرکے مسلم امہ کی قیادت حاصل کرسکتےہیں،

  • یوم آزادی پاکستان پر وزیراعظم نے دیا کشمیریوں کو اہم پیغام

    یوم آزادی پاکستان پر وزیراعظم نے دیا کشمیریوں کو اہم پیغام

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے یوم آزادی کے موقع پر قوم کو مبارکباد دی اور کہا کہ آج قائد کے نظریے پر عمل پیرا ہونے کے لیے عہد کرنے کا دن ہے۔

    وزیراعظم عمران خان نے وطن عزیز پاکستان کے دفاع میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والوں کو خراج تحسین بھی پیش کیا۔ وزیراعظم نے اپنے پیغام میں کہا کہ یوم آزادی کے روز بھارتی مقبوضہ کشمیرمیں کشمیری بھائیوں کے دکھ میں غمزدہ ہیں، ہم حق خود ارادیت کی جدوجہد میں کشمیری بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہرفورم پر ان کے لیے آواز بلند کرتے رہیں گے۔

    وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیرمیں گزشتہ ایک سال سےفوجی محاصرے جاری ہے۔ قوم کےبیٹوں نےاس دھرتی اوراس کے نظریہ کے دفاع کے لیے قربانیاں دیں۔ آزادی کے موقعے پر ہمیں اپنے کشمیری بھائیوں کو بھی یاد رکھنا چاہیے، اُن کے لیے ہمارے دل غمزدہ ہیں کیونکہ وہ گزشتہ ایک سال سے فوجی محاصرے کا سامنا کررہے ہیں، ہم حق خود ارادیت کی جدوجہد میں اپنے کشمیری بھائیوں کے پیچھے مضبوطی سے کھڑے ہیں اور ہر دستیاب فورم پر اُن کے لیے آواز بلند کرتے رہیں گے

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ گزشتہ ستر سال میں ہمیں بہت سے چیلنجز کا سامنا رہا، ہم نے اندرونی اور بیرونی محاذوں پر جنگ لڑی، ہماری قوم نے ہمسایہ ملک کی دشمنی، دہشت گردی کا بہادری سے مقابلہ کیا، قدرتی آفات، وبائی امراض کا بھی ہماری قوم نے ہمیشہ استقامت سے مقابلہ کیا ہم آج عہد کرتے ہیں ثابت قدم رہیں گے۔

    جشن یوم آزادی کے موقع پر شہر قائد کراچی میں مزار قائد اور لاہور میں مزار اقبال پر تبدیلی گارڈز کی پروقار تقاریب ہوئیں۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں دن کا آغاز اکتیس توپوں جبکہ چاروں صوبوں میں اکیس اکیس توپوں کی سلامی سے ہوا۔ نماز فجر کے بعد مساجد میں ملکی استحکام ، ترقی و خوشحالی کے لئے خصوصی دعائیں بھی مانگی گئیں۔

    مادر وطن کی سمندری سرحدوں اور ساحلوں کے دفاع کے لیے تیار ہیں، سربراہ پاک بحریہ

    پاک بحریہ کے سربراہ کا کریکس اور کوسٹل ایریا میں پاک بحریہ کی تنصیبات کا دورہ

    پاک بحریہ دشمن کے ناپاک منصوبوں کو ناکام بنانے کے لئے تیار، نیول چیف کا دبنگ اعلان

    کرونا ریلیف فنڈ، نیول چیف میدان میں آ گئے،پاک بحریہ کتنا فنڈ دے گی؟ بڑا اعلان کر دیا

    کراچی شپ یارڈ میں پاک بحریہ کیلئے جدید جنگی ملجم کلاس جہاز کی اسٹیل کاٹنے کی تقریب

    پاکستان بحریہ کا یوم آزادی پرخصوصی نغمہ ”پرچم پاکستان کا” ٹیزر جاری

    یوم آزادی، ملک بھر میں تقریبات کا آغاز، مزار قائد، اقبال پر گارڈز کی تبدیلی،صوبوں میں توپوں کی سلامی

    پاک بحریہ میں یوم آزادی کی تقریب،اکیس توپوں کی سلامی دی گئی

    پرچم کشائی کی مرکزی تقریب ایوان صدر اسلام آباد میں ہوئی جس میں صدرمملکت عارف علوی بطور مہمان خصوصی شریک ہوئے۔ وفاقی وزرا ، سول اور عسکری قیادت نے بھی تقریب میں شرکت کی۔

    یوم آزادی، موٹروے پولیس کا قومی شاہرات پر فلیگ مارچ

  • یوم آزادی، ملک بھر میں تقریبات کا آغاز، مزار قائد، اقبال پر گارڈز کی تبدیلی،صوبوں میں توپوں کی سلامی

    یوم آزادی، ملک بھر میں تقریبات کا آغاز، مزار قائد، اقبال پر گارڈز کی تبدیلی،صوبوں میں توپوں کی سلامی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان بھر میں یوم جشن آزادی جوش و خروش سے منایا جا رہا ہے،

    جشن یوم آزادی کے موقع پر شہر قائد کراچی میں مزار قائد اور لاہور میں مزار اقبال پر تبدیلی گارڈز کی پروقار تقاریب ہوئیں۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں دن کا آغاز اکتیس توپوں جبکہ چاروں صوبوں میں اکیس اکیس توپوں کی سلامی سے ہوا۔ نماز فجر کے بعد مساجد میں ملکی استحکام ، ترقی و خوشحالی کے لئے خصوصی دعائیں بھی مانگی گئیں۔

    پرچم کشائی کی مرکزی تقریب ایوان صدر اسلام آباد میں ہوئی جس میں صدرمملکت عارف علوی بطور مہمان خصوصی شریک ہوئے۔ وفاقی وزرا ، سول اور عسکری قیادت نے بھی تقریب میں شرکت کی۔

    بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے مزار پر تبدیلی گارڈز کی پروقار تقریب ہوئی، اعزازی گارڈزنے مہمان خصوصی کی آمد پرسلامی پیش کی۔ قومی ترانے کی دھن بجائی گئی۔ نیول کیڈٹس کے چاک و چوبند دستے نے بابائے قوم کو جنرل سلیوٹ پیش کیا۔ مہمان خصوصی نے مزار پر فاتحہ خوانی کی اور پھول چڑھائے۔ اس موقع پر فوجی بینڈ نے مسحور کن دھن بجائی ،کمانڈنٹ پاکستان نیول اکیڈمی کموڈور مشتاق احمد نے مہمانوں کی کتاب میں اپنے تاثرات قلمبند کئے۔

    مادر وطن کی سمندری سرحدوں اور ساحلوں کے دفاع کے لیے تیار ہیں، سربراہ پاک بحریہ

    پاک بحریہ کے سربراہ کا کریکس اور کوسٹل ایریا میں پاک بحریہ کی تنصیبات کا دورہ

    لاہور میں شاہی مسجد کے احاطے میں واقع مزار اقبال پر بھی تبدیلی گارڈز کی تقریب ہوئی۔ کورکمانڈر لاہور لیفٹیننٹ جنرل ماجد احسان نے مزار اقبال پر حاضری دی۔ پاک فون فوج کے چاک و چوبند دستے نے مزار اقبال کی گارڈز تبدیلی کے فرائض سنبھال لئے۔ کور کمانڈر ماجد احسان نے مہمانوں کی کتاب میں تاثرات درج کئے۔

    پاک بحریہ دشمن کے ناپاک منصوبوں کو ناکام بنانے کے لئے تیار، نیول چیف کا دبنگ اعلان

    کرونا ریلیف فنڈ، نیول چیف میدان میں آ گئے،پاک بحریہ کتنا فنڈ دے گی؟ بڑا اعلان کر دیا

    کراچی شپ یارڈ میں پاک بحریہ کیلئے جدید جنگی ملجم کلاس جہاز کی اسٹیل کاٹنے کی تقریب

    وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے بھی مزار اقبال پر حاضری دی، پھول چڑھائے اور فاتحہ خوانی کی۔ وزیر اعلی عثمان بزدار نے مہمانوں کی کتاب میں تاثرات بھی درج کئے۔

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں دن کا آغاز اکتیس توپوں جبکہ چاروں صوبوں میں اکیس اکیس توپوں کی سلامی سے ہوا۔ نماز فجر کے بعد مساجد میں ملکی استحکام ، ترقی و خوشحالی کے لئے خصوصی دعائیں بھی مانگی گئیں

    ملک بھر میں سرکاری عمارتوں پر چراغاں کیا گیا ہے۔ گھروں پر پاکستان کا سبز ہلالی قومی پرچم لہرائے گئے ہیں اور گلیوں اور بازاروں کو سجایا گیا ہے۔ پارلیمنٹ ہاؤس میں خوبصورت برقی قمقموں نے ڈی چوک کی رونق بڑھا دی ہے

    پاکستان بحریہ کا یوم آزادی پرخصوصی نغمہ ”پرچم پاکستان کا” ٹیزر جاری

  • ‌وطن عزیزمملکت خداداد کا 73واں جشن آزادی، پاکستان سمیت دنیا بھر میں چودہ اگست کا شاندار استقبال

    ‌وطن عزیزمملکت خداداد کا 73واں جشن آزادی، پاکستان سمیت دنیا بھر میں چودہ اگست کا شاندار استقبال

    اسلام آباد: ‌وطن عزیزمملکت خداداد کا 73واں جشن آزادی، ملک بھر میں چودہ اگست کا شاندار استقبال،اطلاعات کے مطابق ملک بھر میں رات 12 بجتے ہی ملک کے مختلف علاقوں میں شاندار آتش بازی اور چراغاں کر کے 73ویں آزادی کا جشن منایا گیا۔

    جشن آزادی کی مناسب سے شہر شہر جیوے پاکستان کے نعروں کی گونچ اور سبز ہلالی پرچموں کی بہار ہے جبکہ ہر شخص قومی نغمے سُن کر وطن سے اپنی محبت کا اظہار کیا۔

     

    کراچی تا کشمور اور گواد سے خنجراب تک ہر طرف وطن سے محبت کا اظہار کیا جارہا ہے اور قوم آج یوم آزادی روایتی شان و شوکت سےمنارہی ہے جس کی وجہ سے فضاؤں میں پاکستان زندہ باد کے فلک شگاف نعرے بلند ہوئے۔

     

    https://www.youtube.com/watch?v=7LaaLM0mbyg

    چودہ اگست کی مناسبت سے گلیوں اور محلوں کو جھنڈیوں سے سجایا گیا ہے جبکہ بچوں سمیت تمام عمر کے لوگوں نے اپنے سینے پر بیج سجا لیے، کوئی وطن سے محبت کا اظہار پوسٹرز بنا کر کیا۔

     

    ملک کے تقریباً تمام ہی بڑے شہروں میں جشن آزادی کی مناسبت سے شاندار آتش بازی کا مظاہرہ کیا گیا۔ شہری لاہور میں مینار پاکستان، کراچی میں سی ویو پر شاندار آتش بازی دیکھنے کے لیے بڑی تعداد میں پہنچے جبکہ نوجوان موٹرسائیکلوں پر نکل پر قومی پرچم تھامے مارچ کیا۔

  • "را” کا سی پیک کیخلاف منصوبہ بے نقاب، چین نے بھارت کو گھیر لیا، اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    "را” کا سی پیک کیخلاف منصوبہ بے نقاب، چین نے بھارت کو گھیر لیا، اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ دنیا اب پاکستان کی یہ بات تسلیم کر رہی ہے کہ بھارت دہشت گردی کی ایک نرسری ہے اور پاکستان میں افغانستان سے دہشت گردی ہوتی ہے، اقوام متحدہ نے اس کا برملا اظہار بھی کر لیا ہے کہ افغانستان میں پاکستان سے دہشت گردی ہوتی ہے جس کا مرکز بھارت ہے

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ سفارتی ذرائع کے مطابق بھارت پر دہشت گرد عناصر کے خلاف ایکشن لینے کے لئے دباؤ بڑھ رہا ہے ،دوسری جانب پاکستان کی خفیہ ایجنسیز کی رپورٹ کے مطابق بھارت نے سی پیک کو ہدف بنانے کے لئے اپنی خفیہ ایجنسیز کو بلوچستان میں جارحیت اور شرانگیزی کا ٹاسک دے دیا ہے،بھارت نے سی پیک کو ٹارگٹ کرنے کے لئے نئی پلاننگ کے تحت دو کروڑ کے فنڈ کو مختص کیا ہے،اور جس میں سوشل میڈیا فنڈنگ بھی شامل ہے، جس کے تحت افواج پاکستان اور سی پیک کے تحت کام کرنے والی خاص کر پاکستان کی فوجی شخصیات کو متنازعہ بنانا ہے

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستانی افواج اور دفاعی اداروں پر کرپشن اور خفیہ کاروبار کا جھوٹا پروپیگنڈہ کرنا،دفاعی اداروں کا بجٹ عوام کے سامنے بڑھا چڑھا کر پیش کرنا، میجر گورف یار ہیں اس کو انچارج بنایا گیا ہے، انکے یوٹیوب چینل پر بک بک ہوتی رہی اسکے بعد انکو نوکری مل گئی،اب بھارتی ایجنسی را اور انکی ملٹری ایجنس ٹیکنیکل سپورٹ ڈویژن نے قندھار سے آپریٹ کرتے ہوئے بلوچستان کو جو سی پیک کا اہم روٹ ہے اس کو ٹارگٹ کرنے کے لئے بی ایل اے اور بی ایل ایف و دیگر دہشت گردوں سے حملے بھی کرائے ،پاکستانی ایجنسیز نے اس پر ایکشن لے کر فوری قابو پایا، بی ایل اے اور بی ایل ایف کی نقل و حرکت بڑھی ہے،انکے گروپ کوسٹل ایریا میں شفٹ ہوئے ہین

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان میں بھارتی ایجنسیز کو قندھار اور مزار شریف ،سیف ہاؤسز میں ٹریننگ کے بعد پاکستان لانچ کیا جاتا ہے، سی پیک کو ٹارگٹ کرنے کے لئے قندھار اور مزار میں قائم بھارتی قونصل خانوں میں غیر معمولی نقل و حرکت جاری ہے،بھارتی ملٹری اینٹیل جینس کے ٹیکنیکل سپورٹ ڈویژن کے آپریٹر وہاں لگائے گئے ہیں، مشکوک سامان کی آمد کی اطلاع بھی ملی ہے، بھارت سے جڑے دہشت گرد کمانڈر بھی قندھار میں موومنٹ کر رہے ہیں اسکی اطلاع ملی ہے

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ بھارت کی ان سرگرمیوں پر اب اقوام متحدہ بھی چیخ پڑا ہے،لیکن اقوام متحدہ کی حیثیت تو دھوبی کے کتے جیسی ہے وہ امریکہ کے سامنے بے بس ہے،بھارت کے زیر قبضہ کشمیر کو دیکھ سکتے ہیں اس پر بھی امریکہ چپ ہے ،ماضی کے محاصروں کو کشمیر میں بھارتی فوج نے مات دے دی ہے، مقبوضہ کشمیر میں بھارتی معاشی دہشت گردی سے ایک سال میں ہونے والے نقصان کی مالیت 9 سو ارب 18 کروڑ، بے روزگاروں کی تعداد 50 لاکھ ہے، بچوں پر پیلٹ کا استعمال بھی بھارت کے حصے میں آتا ہے، مودی اور ہٹلر کا کوئی فرق نہیں ایک ہی طریقہ رہا ہے

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ دوسری طرف مودی چائنہ کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے پی ایل اے کو پیچھےہٹانا چاہتا ہے لیکن چائنہ کا کہنا ہے کہ اس علاقے سے پیچھے جانے کا سوال ہی پیدا نہین ہوتا، وہ اس کا علاقہ ہے، انڈیا کو پورا سال سیا چین میں صف بندی کے لئے اپنے ٹروپس کو سپورٹ کرنا پڑے گا اس پر ضیاع آپ کی سوچ سے باہر ہے،پاکستان کا نیا سیاسی نقشہ اس تناظر اس عمل کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اگر پاکستان سیاچین گلیشیر پر قبضہ کرنا چاہتا تو گلگت کے زمین راستے سے مشرقی لداخ میں چینی ٹروپس سے ملاپ کر سکتا ہے،جو اس علاقے میں صف آرا ہیں

    دنیا بحران کی جانب گامزن.ٹرمپ کی چین کو نتائج بھگتنے کی دھمکی، مبشر لقمان کی زبانی ضرور سنیں

    سعودی عرب میں طوفان ابھی تھما نہیں، فوج کے ذریعے تبدیلی آ سکتی ہے،سعودی ولی عہد کو کن سے ہے خطرہ؟ مبشر لقمان نے بتا دیا

    سعودی شاہی خاندان کو بڑا جھٹکا،بادشاہ اورولی عہد جزیرہ میں روپوش، مبشر لقمان نے کیے اہم انکشافات

    سعودی شاہی خاندان میں بغاوت:گورنرہاوسز،شاہی محل فوج کے حوالے،13شہزادےگرفتار،حرمین شریفین کواسی وجہ سےبندکیا : مبشرلقمان

    سعودی ولی عہد کے خلاف بغاوت کے الزام میں شاہی خاندان کے 20 مزید افراد گرفتار

    سعودی عرب میں بغاوت ، کون ہوگا اگلا بادشاہ؟ سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان نےبتائی اندر کی بات

    امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی ممکن، کیسے؟ سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے بتا دیا

    سعودی عرب میں سخت ترین کرفیو،وجہ کرونا نہیں کچھ اور،مبشر لقمان نے کئے اہم انکشافات

    سعودی عرب اور اسرائیل کا نیا کھیل، سنئے اہم انکشافات مبشرلقمان کی زبانی

    کرونا وائرس، امید کی کرن پیدا ہو گئی،وبا سے ملے گا جلد چھٹکارا،کیسے؟ سنیے مبشر لقمان کی زبانی

    محمد بن سلمان کے گرد گھیرا تنگ، خوف کا شکار، سنئے اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    شاہ سلمان کی طبیعت بگڑ گئی،سعودی عرب خطرناک راستے پر،اہم انکشافات ،سنئے مبشر لقمان کی زبانی

    محمد بن سلمان نے سابق جاسوس کے قتل کیلئے اپنا قاتل سکواڈ کینیڈا بھیجا

    آرمی چیف کا سعودی نائب وزیر دفاع کی وفات پر اظہار افسوس

    محمد بن سلمان کو بڑا جھٹکا،سعودی عرب دنیا میں تنہا، سعودی معیشت ڈوبنے لگی، اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ انڈین میڈیا تو اس بات سے خوفزدہ ہے کہ چین کا اس علاقے میں آنا اسکی سٹریٹجک چال ہے،اور اگر مستقبل میں بھی جنگ ہوئی اور انڈیا کو چین اور پاکستان کا مشترکہ مقابلہ کرنا پڑے گا ،یہ پریشانی بلاو جہ نہیں، انڈیا کو دونوں کا مقابلہ کرنا ہو گا اور دو محاذوں پر،بعض مبصرین تو کہہ رہے ہیں کہ جب چین اور پاکستان کی فوج کا ملاپ ہونا ہے تو لداخ کے روٹ کی ضرورت نہین ، تبت سے سیانکانگ تک سڑک موجود ہے اور چائنہ اسے استعمال کر سکتا ہے،بہت سے لوگوں نے اس ملاپ کا نوٹس نہیں لیا،چائنہ پاکستان، افغانستان اور نیپال کے وزرائے خارجہ ملاقات میں طے ہوا کہ ضرورت پڑی تو نیپال کی زمینی بندش کو ختم کرنے کے لئے نیپال کو پہلے سنکیانگ اور پھر سی پیک کے ذریعے بحیرہ عرب تک رسائی دی جا سکتی ہے،اب یہ گویا اقتصادی کوریڈور ہو اس میں نیپال کو پاکستان سے ملانے کا پلان ہے، چین کے وزیر خارجہ نے یہ بھی نیپال کو خوشخبری دی ہے کہ وہ گوادر سے استفادہ کر سکتا ہے،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان نے گوادر کو استعمال کرنا شروع کر دیا ہے، اب پاکستان کے سیاسی نقشے چائنہ کے بیلٹ اینڈ روڈ کو اضافی سپورٹ فراہم کر رہا ہے یہ سپورٹ گلگت میں بھی میسر ہو گی، طے امر ہے کہ جنگ کا آغاز بھارت کی جانب سے ہو گا، بھارتی فوج کے مورال ڈاؤن ہے، 20 فوجی ہلاک ہوئے اس زخمی مورال کو ٹھیک کرنا چاہ رہا ہے انکی عسکری قیادت میں دوراندیشی کا فقدان ہے،عسکری قیادت 26 فروری کو اور آج بھی وہی قیادت ہے، بالا کوٹ پر فضائی حملہ عسکری قیادت کا بلنڈر ہے جو دنیا کو تیسری جنگ کی طرف لے جا سکتا تھا وہ تو پاکستان کی عسکری و سیاسی قیادت کی بصیرت تھی جس نے صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا،اور جہنم واصل کیا کئی لوگوں کو، اب یہ بدلتی ہوئی صورتحال ہے.

    حالات گرم،فیصلہ کا وقت آ گیا،سعودی عرب اسرائیل کے ہاتھ کیسے مضبوط کر رہا ہے؟ اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی