Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • پاکستان میں کورونا وائرس کے باعث5ہزار 320 افراد ہلاک

    پاکستان میں کورونا وائرس کے باعث5ہزار 320 افراد ہلاک

    پاکستان میں کورونا وائرس کے باعث5ہزار 320 افراد ہلاک

    باغی ٹی وی : پاکستان میں کورونا وائرس کے باعث5ہزار 320 افراد ہلاک اور 2لاکھ 53ہزار 604 متاثر ہو چکے ہیں جب کہ ایک لاکھ 70 ہزار 656 افراد اس بیماری کو شکست دی۔

    نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے جاری اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ24 گھنٹوں میں کورونا وائرس سے50افراد کی موت واقع ہوئی اور ایک ہزار979نئے کیسز رپورٹ ہوئے۔ گزشتہ روز21 ہزار20ٹیسٹ کیے گئے اور اب تک مجموعی طور پر 16لاکھ 6 ہزار 190 ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔
    کورونا وائرس کے باعث پنجاب میں 2ہزار26اموات رپورٹ ہوئی ہیں۔ سندھ ایک ہزار826، خیبرپختونخوا ایک ہزار106، اسلام آباد 155، بلوچستان126، گلگت بلتستان36 اورآزادکشمیرمیں 45مریض جاں بحق ہوئے۔

    سندھ میں کورونا کیسز کی تعداد ایک لاکھ 6ہزار622 ہوگئی ہے۔ پنجاب87ہزار492، خیبرپختونخوا90ہزار747، بلوچستان11پزار192، اسلام آباد14ہزار202، آزادکشمیرایک ہزار655، گلگت بلتستان ایک ہزار694 کورونا ہے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

    این سی اوسی کی جانب سے جاری اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ24 گھنٹوں کے دوران سندھ میں 8ہزار929 کوروناٹیسٹ کیےگئے ہیں۔ پنجاب میں7ہزار375، خیبرپختونخوا2ہزار98، اسلام آباد2ہزار15، بلوچستان 204، گلگت بلتستان62 اورآزادکشمیر میں337 ٹیسٹ کیے گئے۔

    ملک بھرمیں 733اسپتالوں میں کورونامریضوں کےلیےسہولیات ہیں اور اس وقت 4ہزارکورونا مریض اسپتالوں میں داخل ہیں۔ ملک بھرمیں کورونامریضوں کے لیےایک ہزار820وینٹی لیٹرزدستیاب ہیں اور اس وقت 362 کورونا مریض وینٹی لیٹرزپرہیں۔

    پاکستان میں کورونا سے صحت یاب افراد کی تعداد ایکٹو کیسز سے زائد ہے اور تا حال ایک لاکھ 61 ہزار 917 کورونا متاثرین صحت یاب ہوئے۔ پاکستان میں اس وقت کورونا کے ایکٹو کیسز کی تعداد 84 ہزار 442 ہے۔

    ملک میں کورونا ٹیسٹنگ صلاحیت یومیہ 60 ہزار سے زائد ہوگئی ہے۔ اور 132 ٹیسٹنگ لیبارٹریز کام کر رہی ہیں۔ کورونا کے مریضوں کیلئے ایک ہزار525وینٹی لیٹرز مختص ہیں۔ 30شہروں میں ٹریس، ٹیسٹ اورقرنطینہ حکمت عملی موثر طریقے سے کام رہی ہے۔

    پاکستان میں کورونا کا پہلا کیس 26 فروری کو رجسٹرڈ ہوا اور ایک ہزاراموات 21 مئی تک ہوئیں۔ وزارت صحت کا کہنا ہے کہ ابتدا میں کیسز میں اضافے کی رفتار سست تھی لیکن اب اس میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے

  • پاکستانیوں کے لیے بڑی خوشخبری؛ کورونا ویکسین کیلیے چین سے معاہدہ طے پا گیا:

    پاکستانیوں کے لیے بڑی خوشخبری؛ کورونا ویکسین کیلیے چین سے معاہدہ طے پا گیا:

    کراچی:پاکستانیوں کے لیے بڑی خوشخبری؛ کورونا ویکسین کیلیے چین سے معاہدہ طے پا گیا: اطلاعات کے مطابق معروف سائنسدان ڈاکٹر عطاالرحمان نے کہا ہے کہ کورونا سے متعلق پاکستان میں صورتحال بہترہے اگر احتیاطی تدابیرا یسے ہی رہیں تو2،3ماہ میں کورونا پر کنٹرول کرلیں گے۔

    نجی ٹی وی کے پروگرام الیونتھ آور میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کوروناویکسین سےمتعلق چینی کمپنی کے ساتھ پاکستان میں معاہدہ ہوگیا ہے، ڈریپ کو معاہدے سےمتعلق آگاہ کیا گیا ہے جس کی منظوری کا انتظار ہے جیسےہی منظوری دی جائےگی پاکستان میں کلینکل ٹرائل شروع کر دیاجائے گا، کلینکل ٹرائل کےبعدویکسین کی تیاری شروع کردی جائےگی۔

    ڈاکٹر عطا الرحمان نے بتایا کہ چین میں ویکسین کے فیزون اور ٹو ہوچکا ہے فیز تھری ہونا باقی ہے جب کہ پاکستان میں ڈریپ کی منظوری کےبعدفیزون شروع ہوگا، پاکستان اورچین میں فیز مکمل ہونےکےبعد6سے8ماہ میں ویکسین میسرہوگی اور امید ہےٹرائل کامیاب رہےتوپاکستان میں6،8ماہ میں ویکسین میسرہوگی۔

    انہوں نے کہا کہ کورونا سے نمٹنے کے لیے حکومتی پالیسیوں اور اقدامات کو درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ کورونا سے متعلق پاکستان میں صورتحال بہترہے، حکومت کی اسمارٹ لاک ڈاؤن کی پالیسی کامیاب جارہی ہے، اسمارٹ لاک ڈاؤن کی وجہ سےکوروناکیسزمیں کمی آرہی ہے، کوروناکےخلاف حکومت کی پالیسی اچھی سمت میں جارہی ہے۔

    ڈاکٹرعطاالرحمان نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ عید پر بےاحتیاطی کی گئی تو کورونا وائرس پھر پھیلےگا، عیدپرہمیں بہت زیادہ احتیاط کرنےکی ضرورت ہے، ماسک کااستعمال تولازمی ہونا چاہیےکوروناسےسب محفوظ رہیں گے اگر احتیاطی تدابیرایسےہی رہیں تو2،3ماہ میں کوروناپرکنٹرول کرلیں گے۔

  • پاکستان سمیت دنیا بھر میں یوم شہدائے کشمیر، بھارتی مظالم کیخلاف مظاہرے، ریلیاں اور جلسے

    پاکستان سمیت دنیا بھر میں یوم شہدائے کشمیر، بھارتی مظالم کیخلاف مظاہرے، ریلیاں اور جلسے

    مظفرآباد:پاکستان سمیت دنیا بھر میں یوم شہدائے کشمیر، بھارتی مظالم کیخلاف مظاہرے، ریلیاں اور جلسے ،اطلاعات کے مطابق لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور دنیا بھر میں بسنے والے کشمیری آج یوم شہدائے کشمیر منا رہے ہیں، بھارتی مظالم کے خلاف مختلف شہروں‌ میں‌ ریلیاں‌ نکالی گئیں‌ جن میں‌ آزادی کی حمایت اور مقبوضہ کشمیر میں‌ غاصب فوج کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔

    یوم شہدائے کشمیر پر آزادکشمیرسمیت مختلف شہروں میں ریلیاں نکالی گئیں، مرکزی تقریب مظفرآباد کے وزیراعظم سیکرٹریٹ پر منعقد ہوئی، تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم آزادکشمیر کا کہنا تھا کہ بھارتی مظالم کشمیریوں کے جزبہ آزادی کو نہیں دبا سکتے۔

    یوم شہداء کی مناسبت سے مانکپیاں کیمپ میں بھی ریلی نکالی گئی جبکہ آزادی چوک سے کفن پوش کشمیریوں کے دستے نے بھی علمدار چوک تک مارچ کیا۔ شہداء کی یاد میں آزادکشمیر کے دیگر شہروں نیلم، ہٹیاں باغ، کوٹلی، میرپور، فارورڈ کہوٹہ اور بھمبھر میں بھی تقریبات کا اہتمام کیا گیا۔

    یوم شہدائے کشمیر اس دن کی یاد دلاتا ہے جب ایک آذان بائیس لوگوں نے اپنی جان دے کر پوری کی، ایک پیغام جو کشمیری عوام کی رگوں میں لہو بن کر دوڑ رہا ہے، یوم شہدائے کشمیر، ڈوگرہ راج کے خلاف جدوجہد اور قربانی کی لازوال داستان ہے۔ 13 جولائی 1931 کو سرینگر سینٹرل جیل میں قید کشمیری نوجوا ن عبدالقدیر کے خلاف بغاوت کے مقدمے کی سماعت تھی۔ اس موقع پر ہزاروں کشمیری جیل کے باہر جمع ہو گئے، نماز ظہر کے وقت ایک کشمیری نوجوان نے آذان کی صدا بلند کی تو ڈوگرہ سپاہی نے گولی مار کر اسے شہید کر دیا۔

    توحید کے پروانوں نے وہیں سے آذان کو آگے بڑھایا تو ڈوگرہ سپاہی بھی گولیاں برساتے رہے، ایک کے بعد ایک جوان جام شہادت نوش کرتا گیا لیکن آذان گونجتی رہی اور یوں 22 کشمیریوں نے اپنی جان دیکر آذان مکمل کی۔

    کشمیری عوام کا ظلم کے خلاف نہ جھکنے کا یہ عہد آج نواسی سال بعد انتفادہ کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ 90 کی دہائی میں تحریک آزادی کے فیصلے کن معرکے کا آغاز ہوا تو 5 اگست 2019 کے بعد اب بھارت سے آزادی کی یہ جنگ اپنے نقطہ عروج پر پہنچ چکی ہے۔ لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور دنیا بھر میں بسنے والے کشمیری آج یوم شہدائے کشمیر اس عہد کی تجدید کیساتھ منا رہے ہیں کہ بھارت کے غاصبانہ تسلط سے مکمل آزادی تک تکمیل پاکستان کی یہ جنگ پورے عزم کیساتھ جاری و ساری رہے گی۔

  • واہگہ بارڈر افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کیلئے 15 جولائی سے کھولنے کا فیصلہ

    واہگہ بارڈر افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کیلئے 15 جولائی سے کھولنے کا فیصلہ

    پاکستان نے واہگہ بارڈر کراسنگ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کیلئے کھولنے کا فیصلہ کر لیا، افغان حکومت نے دوطرفہ تجارت کھولنے کیلئے خصوصی درخواست کی تھی۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق 15 جولائی سے واہگہ کراسنگ پوائنٹ سے افغان ایکسپورٹس دوبارہ شروع کر دی جائیں گی، بارڈر کراسنگ سے ایکسپورٹس بحال کرتے ہوئے کووڈ 19 پروٹوکولز پر عملدرآمد کیا جائے گا۔ دفتر خارجہ کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان نے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے پر عملدرآمد کیا اور افغانستان سے دو طرفہ تجارت اور افغان ٹرانزٹ ٹریڈ بحال کر دی۔ پاکستان ہمسایہ ملک افغانستان کے ساتھ تجارت سمیت دوطرفہ تعلقات بہتر بنانے کے اصول پر کاربند ہے۔

  • بھارتی مظالم مقبوضہ کشمیر کے غیور عوام کے دلوں میں جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتے. وزیراعلی پنجاب

    بھارتی مظالم مقبوضہ کشمیر کے غیور عوام کے دلوں میں جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتے. وزیراعلی پنجاب

    وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے یوم شہداء کشمیر کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ بھارتی مظالم مقبوضہ کشمیر کے غیور عوام کے دلوں میں جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتے۔انہوں نے کہا کہ بھارتی افواج نے مقبوضہ کشمیر میں بربریت کی انتہا کردی ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے نہتے عوام اپنے لہو سے آزادی کی شمع روشن کررہے ہیں۔آزادی کشمیری عوام کا حق ہے جو انہیں ہر صورت مل کر رہے گا۔بھارتی ظلم و تشددسے کشمیری عوام کے دلوں میں آزادی کی تڑپ کومزید جلاملی ہے۔ بھارت کویہ بات سمجھ لینی چاہیئے کہ بندوق کی نوک پر کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی جائز جدوجہد کو دبایا نہیں جاسکتا۔عثمان بزدارنے کہا کہ کشمیریوں کے حق کیلئے ملکی اوربین الاقوامی فورم پر آئندہ بھی بھر پور آواز اٹھاتے رہیں گے۔حق خودارادیت کے حصول کیلئے کشمیری عوام کی دلیرانہ جدوجہد کو سلام پیش کرتا ہوں۔کشمیر کی آزادی کی صبح شہدائے کشمیر کے خون سے طلوع ہوگی۔بھارتی ظلم و ستم پر عالمی برادری کی خاموشی کا کوئی جواز نہیں۔وزیراعلی نے کہا کہ عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی طرف سے انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں کا نوٹس لے۔مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزی پر عالمی برادری کو بیدار ہونا پڑے گا۔

  • مقبوضہ جموں وکشمیر مسلم اکثریت خطہ ہے اور انشاءاللہ ہمیشہ رہے گا۔ شہباز شریف

    مقبوضہ جموں وکشمیر مسلم اکثریت خطہ ہے اور انشاءاللہ ہمیشہ رہے گا۔ شہباز شریف

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہبازشریف نے یوم شہدائے کشمیر پر شہداءجموں وکشمیر کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہداءکشمیر کی پکار بھارت سے آزادی کی تحریک کی صورت میں مقبوضہ جموں وکشمیر میں آج بھی پوری قوت سے گونج رہی ہے۔بھارت غلط فہمی میں نہ رہے، مقبوضہ جموں وکشمیر مسلم اکثریت خطہ ہے اور انشاءاللہ ہمیشہ رہے گا۔۔عالمی برادری، اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل سے کشمیری سوال پوچھ رہے ہیں کہ انہیں انصاف کب ملے گا؟ انگریز سامراج کی سرپرستی میں ڈوگرہ فوج کے خلاف سری نگر سینٹرل جیل کے باہر جام شہادت نوش کرنے والوں کا نام تاریخ میں سنہری حروف سے درج ہے۔آج کے دن کشمیریوں نے ثابت کیا کہ قرآن کریم اوراسلام کی عزت وحرمت انہیں اپنی جان سے پیاری ہے۔22 مسلمانوں کا جان قربان کرکے اذان مکمل کرنا واضح پیغام ہے کہ انہیں شکست نہیں دی جاسکتی، نہ جھکایا جاسکتا ہے۔شہداء کشمیر کی پکار بھارت سے آزادی کی تحریک کی صورت میں مقبوضہ جموں وکشمیر میں آج بھی پوری قوت سے گونج رہی ہے۔بھارت غلط فہمی میں نہ رہے، مقبوضہ جموں وکشمیر مسلم اکثریت خطہ ہے اور انشاءاللہ ہمیشہ رہے گا۔بھارت کے ظلم وجبر اور استبداد میں 5 اگست 2019 سے ایک نئی شدت آئی ہے جوانتہائی قابل مذمت ہے۔عالمی برادری، اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل سے کشمیری سوال پوچھ رہے ہیں کہ انہیں انصاف کب ملے گا؟جموں وکشمیر کے رہنے والوں کو سلام ہے جنہوں نے آزادی کے لئے ہر ظلم، مصیبت کا عزم وہمت سے مقابلہ کیا اورہرسازش کو ناکام بنایا۔جموں وکشمیر کے رہنے والوں کی عظیم قربانیاں ناقابل فراموش ہیں۔اللہ تعالی شہداءکے درجات بلند فرمائے اور پسماندگان کو صبرجمیل دے۔ آمین

  • یوم شہدائے کشمیر پر وزیراعظم عمران خان نے دیا کشمیریوں کو اہم پیغام

    یوم شہدائے کشمیر پر وزیراعظم عمران خان نے دیا کشمیریوں کو اہم پیغام

    یوم شہدائے کشمیر پر وزیراعظم عمران خان نے دیا کشمیریوں کو اہم پیغام

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران نے شہدائے کشمیرکی لازوال قربانیوں کوخراج عقیدت پیش کیا ہے،

    وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بھارتی قبضے کے خلاف کشمیریوں کی جدوجہد کو سلام پیش کرتے ہیں بھارت نے جموں و کشمیر پر غیر قانونی اور ظالمانہ قبضہ کر رکھا ہے، شہدائے13جولائی 1931 آج کی تحریک آزادی کے آباو َاجداد تھے،آزادی کی خاطر کشمیری نسل در نسل قربانیاں دے رہے ہیں،

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ کشمیری ہندوتوا حکومت کی ان کی شناخت کے خاتمے کی سازش کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں، پاکستان نے ہمیشہ کشمیریوں کی حق خود ارادیت کی حمایت کی ہے،مقبوضہ کشمیر کی آزادی تک تحریک آزادی کی حمایت جاری رکھیں گے، بھارت کے غیر قانونی قبضے کے خاتمے کا دن دور نہیں

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ شہدا نے حق خودارادیت کی جدوجہدکوتازہ کیا،

    واضح رہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں پہلی بار 13 جولائی یعنی ‘یوم شہدا’ کے موقع پر کسی بھی طرح کی سرکاری تقاریب کا انعقاد نہیں کیا گیا ۔ اور نہ ہی اس دن تعطیل کا ہی اعلان کیا گیا ۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق 1948 کے بعد پہلی مرتبہ اس طرح کا فیصلہ کیا گیا ہے۔13 جولائی کے موقع پر جموں و کشمیر میں سرکاری تعطیل ہوا کرتی تھی تاہم اس بار یہ چھٹی بھی منسوخ کردی گئی۔مقبوضہ جموں و کشمیر انتظامیہ کے ایک سینیئر افسر نے ساوتھ ایشین وائر کو بتایا کہ گزشتہ برس دسمبر کے مہینے میں رواں سال کے لیے چھٹیوں کا کیلنڈر شائع کیا گیا تھا۔ اس کیلنڈر میں یوم شہدا، 13 جولائی اور جموں کشمیر کے سابق وزیر اعظم شیخ محمد عبداللہ کے یوم پیدائش 5 دسمبر کی اہم ترین چھٹیاں منسوخ کر دی گئیں۔ اب ایسے میں 13 جولائی کے دن چھٹی یا کسی بھی قسم کی تقاریب کا انعقاد کیسے ممکن ہے؟

    گزشتہ برس جب سرکاری چھٹیوں کا اعلان کیا گیا تھا تب 13 جولائی اور 5 دسمبر کی چھٹی منسوخ کیے جانے کی وجہ سے وادی کے متعدد سینیئر سیاستدانوں نے ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے انتظامیہ کے اس فیصلے کی شدید مذمت بھی کی تھی۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق سرکاری تعطیلات کی فہرست میں 26 اکتوبر کو شامل کیا گیا ہے۔

    یہ وہ دن ہے جس دن مہاراجہ ہری سنگھ نے 1947 میں بھارت کے ساتھ "انسٹورمنٹ آف ایکسیشن” پر دستخط کیے تھے۔نیشنل کانفرنس اور پیپلز ڈیموکرٹک پارٹی نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا۔مقبوضہ جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعظم شیخ محمد عبداللہ نے 13 جولائی کے دن کو یوم شہدا قرار دیا تھا۔ انہوں نے ڈوگرہ حکومت کے مظالم کے خلاف آواز اٹھانے والے 22 شہدا کی یاد میں اس دن کو منانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس کے بعد 1948 سے گزشتہ برس تک 13 جولائی کو سنہ 1931 کے سانحہ میں شہید ہونے والے شہدا کو یاد کیا جاتا ہے اور انہیں خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے۔

    کشمیریوں سے یکجہتی، وزیراعظم کی کال پر قوم لبیک کہنے کو تیار

    بہت ہو گیا ،اب گن اٹھائیں گے، کشمیری نوجوانوں کا ون سلوشن ،گن سلوشن کا نعرہ

    یکجہتی کشمیر، قومی اسمبلی میں کشمیر کا پرچم لہرا دیا گیا،علی امین گنڈا پور نے کیا اہم اعلان

    پاکستان کا ہر جوان تحریک کشمیر کا ترجمان ہے،ورلڈ کالمسٹ کلب کے زیر اہتمام یکجہتی کشمیر سیمینار سے میاں اسلم اقبال کا خطاب

    یوم یکجہتی کشمیر،وزیرخارجہ نے کیا عالمی دنیا سے بڑا مطالبہ

    مودی مسلمانوں کا قاتل، کشمیر حق خودارادیت کے منتظر ہیں، صدر مملکت

    یوم یکجہتی کشمیرپرتحریک آزادی بارے مفتیان نے کیا فتویٰ دیا؟ لیاقت بلوچ نے بتا دیا

    کشمیریوں کے قاتل کے ساتھ میں بیٹھوں ،بالکل ممکن نہیں،شاہ محمود قریشی کا بھارتی ہم منصب کی تقریر کا بائیکاٹ

    کشمیر پر دو ایٹمی طاقتیں آمنے سامنے آ سکتی ہیں،وزیراعظم عمران خان کا اقوام متحدہ میں خطاب

    وزیراعظم نے مظلوموں کا مقدمہ دنیا کے سب سے بڑے فورم پررکھ دیا،فردوس عاشق اعوان

    کشمیر پر بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ بڑی کامیابی ہے، وزیر خارجہ

    مقبوضہ کشمیر،کشمیری سڑکوں‌ پر،عمران خان زندہ باد کے نعرے، کہا اللہ کے بعدعمران خان پر بھروسہ

     

    جبکہ میرواعظ عمر فاروق کی قیادت میں علیحدگی پسند جماعتوں کے اتحاد حریت کانفرنس نے 13 جولائی ‘یوم شہدا’ کے روز عوام سے ہڑتال کرنے کی اپیل کی تھی۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق یہ پانچ اگست کے بعد پہلا ایسا موقع ہے جب میر واعظ کی قیادت میں علیحدگی پسند جماعتوں نے ہڑتال کی کال دی ہو۔ حریت کانفرنس کے ایک بیان کے مطابق ‘یوم شہدائے کشمیر’ جموں و کشمیر کی عوام کا ایک قابل فخر تاریخی ورثہ ہے جو اس وقت سے لے کر آج تک اپنے نصب العین کے حصول کے لئے مسلسل جدوجہد کرتے ہوئے قربانیاں دیتے آئے ہیں۔’بیان میں یہ بات زور دے کر کہی گئی کہ ‘مسئلہ کشمیر کا پر امن حل وقت اور حالات کا ناگزیر تقاضا ہے جس کیلئے بھارت اور پاکستان کو مل بیٹھ کر ایک ایسا حل تلاش کرنا ہے جو یہاں کے عوام کی مرضی اور امنگوں کے مطابق ہو اور اس ضمن میں حریت قیادت اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔’بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ موجودہ covid-19 کی وبائی بیماری اور حریت چیئرمین میرواعظ مولوی محمد عمر فاروق کی مسلسل خانہ نظر بندی کے سبب امسال 13جولائی کے تعلق سے عوامی جلسہ جلوس اور شہدا کے خراج عقیدت کے اجتماعی پروگرام کو ملتوی کیا گیا ہے۔دریں اثنا سینئر علیحدگی پسند رہنما سید علی گیلانی کے نمائندے عبداللہ گیلانی نے ٹویٹ کے ذریعے کشمیری عوام سے 13جولائی کو ہڑتال کی اپیل کی تھی۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق 6 جولائی کو گیلانی کی جانب سے 8 اور 13 جولائی کو ہڑتال کی اپیل کی گئی تھی

    دریں اثنا 13جولائی کی ہڑتال سے قبل مقبوضہ کشمیر میں علیحدگی پسند رہنما اشرف صحرائی کو سری نگر میں واقع ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کر لیا گیا۔صحرائی تحریک حریت کے چیئرمین ہیں جس کی سربراہی پہلے سید علی شاہ گیلانی کر رہے تھے۔ جنھوں نے حال ہی میں حریت کانفرنس سے بطور چیئرمین استعفی دیا تھا۔حریت کانفرنس مختلف گروہوں کا اتحاد ہے اور تحریک حریت ان میں سے ایک ہے۔

    مقبوضہ کشمیر میں بھی بوسنیا کی طرح قتل عام کا خدشہ ہے،وزیراعظم

  • پاکستان میں کرونا مریضوں کی تعداد 2 لاکھ 51 ہزار سے زائد ہو گئی

    پاکستان میں کرونا مریضوں کی تعداد 2 لاکھ 51 ہزار سے زائد ہو گئی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرونا کا پھیلاؤ جاری ہے کرونا کے مریضوں میں اضافہ ہو رہا ہے،گزشتی 24 گھنٹوں میں 2769 نئے مریض سامنے آئے ہیں جبکہ 69 اموات ہوئی ہیں

    پاکستان میں کرونا سے مجموعی طور پر 5ہزار 266 اموات ہو چکی ہیں جبکہ اب تک مجموعی طور پر 2لاکھ 51 ہزار 625 مریض سامنے آ چکے ہیں.

    کرونا وائرس کے حوالہ سے بنائے گئے نیشنل کمانڈاینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے جاری تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق سندھ میں کورونا کیسزکی تعداد ایک لاکھ 5 ہزار533 ہوگئی ہے۔ پنجاب میں 87ہزار43، خیبرپختونخوا میں 30ہزار 486، بلوچستان میں 11ہزار185، اسلام آباد میں 14ہزار108، آزاد جموں و کشمیر میں ایک ہزار599 اور گلگت بلتستان میں ایک ہزار 671 افراد کورونا مریض سامنے آئے.

    پنجاب میں کورونا سے 2 ہزار6 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ سندھ میں ایک ہزار747، خیبرپختونخوا میں ایک ہزار87، بلوچستان میں 126، اسلام آباد میں 152، آزادکشمیر میں 43 اور گلگت بلتستان میں 36 کورونا مریض جان کی بازی ہار گئے ہیں۔گزشتہ24 گھنٹوں کے دوران پاکستان میں 22 ہزار532 ٹیسٹ کیے گئے اور ملک بھر میں مجموعی طور پر 15 لاکھ 85 ہزار 170 ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔ گزشتہ24 گھنٹوں میں3 ہزار سے زائد افراد صحتیاب ہوئے ہیں۔

    پاکستان میں کورونا سے صحت یاب افراد کی تعداد ایکٹو کیسز سے زائد ہے اور تا حال ایک لاکھ 56 ہزار 700 کورونا متاثرین صحت یاب ہوئے۔ پاکستان میں اس وقت کورونا کے ایکٹو کیسز کی تعداد 86 ہزار 975 ہے۔

  • بھارتی مظالم کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو دبانے میں ناکام رہے، جنرل بابرافتخار

    بھارتی مظالم کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو دبانے میں ناکام رہے، جنرل بابرافتخار

    اسلام آباد :بھارتی مظالم کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو دبانے میں ناکام رہے،اطلاعات کے مطابق ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ دہائیوں سےجاری بھارتی مظالم، کشمیریوں کے ناقابل تسخیر جذبے اور جدوجہد آزادی کو دبانے میں ناکام رہے۔

    ان خیالات کا اظہار ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز میجر جنرل افتخار بابر یوم شہدائے کشمیر کی مناسبت سے جاری پیغام میں کیا، ان کا کہنا تھا کہ مسلح افواج کی جانب سے شہدائے کشمیر کو زبردست سلام عقیدت اور کشمیریوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔

    میجر جنرل افتخار بابر کا کہنا تھا کہ یوم شہدائے کشمیر، آزادی کیلئے بہادر کشمیریوں کی لازوال قربانیوں کی یاد دلاتا ہے، شہدا کے لہو کا ایک ایک قطرہ نہ فراموش کیا جائے گا نہ ہی معاف کیا جائے گا۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کا مزید کہنا تھا کہ دہائیوں سے جاری بھارتی مظالم، ناقابل تسخیرجذبے، جدوجہد آزادی کو دبانےمیں ناکام رہے، انشااللہ کامیابی کشمیریوں کا مقدر ہے۔خیال رہے کہ یوم شہدائے کشمیر ہر سال 13 جولائی کو منایا جاتا ہے۔

    آج سے 89 سال قبل برطانوی اور ڈوگرا سامراج کی باہمی مسلم دشمن نفرت انگیز ملی بھگت سے جموں و کشمیرمیں ابھرنے والی ‘اولین تحریکِ آزادی’ کو دبایا اور کشمیر کے جانثاروں پراندھا دھند فائرنگ کرکے22 کشمیری نوجوانوں کو موقع پر ہی شہید کردیا گیا۔

    تیرہ جولائی 1931 کو سینٹرل جیل کشمیر میں کشمیری قوم کے مرد مجاہد عبدالقدیر خان پر قائم کردہ مقدمے کی سماعت ہونا تھی، اس موقع پر ملزم سے اخوت اور یکجہتی کے مظاہرے کے لیے ہزاروں افراد جیل کے احاطے کے باہر جمع ہوگئی اس دوران نماز ظہر کا وقت آگیا مگر مظاہرین کو نماز ادا کرنے کی اجازت نہ ملی، ایسے میں ایک شخص اذان دینے کے لئے کھڑا ہوگیا مگر ڈوگرہ مہاراجہ کے سپاہی نے اس شخص کو گولی مار کے شہید کر دیا۔

    اس کے بعد دوسرا مرد مجاہد اذان کے لئے کھڑا ہوا، اسے بھی گولی مار کر شہید کردیا گیا، پھر تیسرا ، چوتھا اور کرتے کرتے اذان کی تکمیل تک 22 بے گناہ مسلمانوں کو مہاراجہ کے سپاہیوں نے شہید کر دیا جبکہ بے شمار مسلمانوں کو گرفتار کیا گیا۔

  • بھارتی فوج کی لائن آف کنٹرول پر بلا اشتعال فائرنگ، معمر خاتون زخمی

    بھارتی فوج کی لائن آف کنٹرول پر بلا اشتعال فائرنگ، معمر خاتون زخمی

    راولپنڈی: بھارتی فوج کی لائن آف کنٹرول پر بلا اشتعال فائرنگ، معمر خاتون زخمی،اطلاعات کے مطابق بھارتی فوج کی جانب سے فائرنگ رکھ چکری سیکٹر میں کی گئی اور دانستہ طور پر آبادی کو نشانہ بنایا۔ فوج کی جانب سے بھارتی فورسز کی فائرنگ کا منہ توڑ جواب دیا گیا۔

    پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار کی جانب سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر کے ذریعے بتایا گیا ہے کہ بھارتی فوج نے ایک مرتبہ پھر لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آبادی کو نشانہ بنایا ہے۔

     

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارتی فوج کی جانب سے فائرنگ رکھ چکری سیکٹر میں کی گئی اور دانستہ سول آبادی کو نشانہ بنایا۔ بھارتی فورسز کی فائرنگ کے نتیجے میں کرنی گاؤں کی رہائشی ایک معمر خاتون زخمی ہو گئی۔ پاک فوج کی جانب سے بھارتی فورسز کی فائرنگ کا منہ توڑ جواب دیا گیا۔

    میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ اس سال اب تک بھارتی فورسز کی جانب سے ایک ہزار 643 مرتبہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔