نئی دہلی: بھارت میں کورونا کا سو فیصد کامیاب علاج کرنے کے دعوے دار بھارتی بابا رام دیو نے اپنی دوا کورونل کے حوالے سے جاری نوٹس کے جواب میں اپنی کمپنی پتنجلی آیورویدپر لگائے گئے تمام الزامات کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمپنی نے کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں کی۔کمپنی کے سی ای او آچاریہ بال کرشنن نے کہا ہے کہ پتنجلی نے کبھی نہیں کہا تھا کہ کمپنی کی کورونل دوا سے کورونا وائرس کا علاج ہو سکتا ہے۔ کمپنی نے ‘کورونا کٹ’ نامی کسی بھی دوا کاپروڈکشن کرنے اور اس کو مہلک وائرس کے خلاف علاج کے طور پرمشتہرکرنے سے بھی انکار کیا ہے۔کمپنی نے کہا کہ اس نےصرف دویہ شواسری وٹی، دویہ کورونل ٹبلیٹ اور دویہ انوتیل نام کی دوائیوں کو ایک پیکیجنگ کارٹن میں پیک کیا تھا تاکہ انہیں آسانی سے بیرون ملک بھیجا جا سکے۔ نوٹس کے جواب میں فرم نے یہ بھی کہا ہے کہ اس نے کورونا کٹ نامی کسی بھی کٹ کو کاروباری طور پر نہیں بیچا ہے اور نہ ہی اس کوکورونا کے خلاف علاج کےطور پرمشتہرکیا ہے۔ جواب میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ نوٹس میڈیا کے ذریعے حقائق کو غلط طریقے سے پیش کرنے کانتیجہ تھا۔ جواب میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اس نے کسی ضابطہ یا قانون کی خلاف ورزی نہیں کی اور اس لیے اس کے خلاف کارروائی کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔اتراکھنڈ آیورویدک محکمہ نے کہا کہ وہ پتنجلی آیوروید کی ایک برانچ دویہ فارمیسی کی جانب سے بھیجے گئے اس جواب کاتجزیہ کر رہا ہے۔ محکمہ کے لائسنسنگ افسر وائی ایس راوت نے بتایا کہ سوموار کو جواب ملنے کے بعد ایک ڈرگ انسپکٹر کو کمپنی میں تصدیق کے لیے بھیجا گیا جہاں اس کو کوئی کورونا کٹ نہیں ملی۔یہ پوچھے جانے پر کہ کیا وہ جواب سےمطمئن ہیں، راوت نے کہا، ‘ہر کسی نے بابا رام دیو کو اپنی دواکو کورونا کے لیے علاج کے طور پر دعویٰ کرتے دیکھا ہے اور جواب کی ابھی اور جانچ کرنے کی ضرورت ہے۔ منگل 23 جون کو بابا رام دیو نے کورونل نامی دوا لانچ کی تھی اور اس سے کورونا وائرس ک سوفیصد علاج کا دعویٰ کیا تھا۔ہری دوار واقع پتنجلی یوگ پیٹھ میں صحافیوں سے رام دیو نے کہا تھا، ‘یہ دوائی صدفیصد(کووڈ 19) مریضوں کو فائدہ پہنچا رہی ہے۔ 100 مریضوں پرکنٹرولڈ کلینیکل ٹرائل کیا گیا، جس میں تین دن کے اندر 69 فیصد اور چار دن کے اندرصد فیصد مریض ٹھیک ہو گئے اور ان کی جانچ رپورٹ نیگیٹو آئی۔رام دیو نے بتایا کہ اس پروجیکٹ میں جئے پور کی نمس یونیورسٹی ان کی شراکت دار ہے۔ انہوں نے بتایا تھا، ‘ٹرائل میں ہم نے 280 مریضوں کو شامل کیا اور 100 فیصد مریض ٹھیک ہو گئے۔ ہم کورونا اور اس کی پیچیدگیوں کو قابو کرنے میں کامیاب رہے۔ اس کے ساتھ سبھی ضروری کلینیکل کنٹرول ٹرائل کئے گئے۔ وزارت آیوش نے پتنجلی کو اس دوا میں موجود مختلف جڑی بوٹیوں کی مقدار اوردوسری تفصیلات جلد از جلدفراہم کرانے کو کہا تھا۔وزارت نے معاملے کی جانچ پڑتال ہونے تک کمپنی کو اس کااشتہاربھی بند کرنے کا حکم دیا تھا۔اس معاملے کو لےکر اتراکھنڈ آیوش محکمہ نے بھی پتنجلی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے جواب مانگا تھا۔
گزشتہ27 جون کو چنڈی گڑھ ضلع عدالت میں رام دیو اور پتنجلی آیوروید کے خلاف ملاوٹی دوا اور دھوکہ دھڑی سے متعلق آئی پی سی کی مختلف دفعات کے تحت معاملہ درج کیا گیا تھا۔اس سے پہلے گزشتہ26 جون کو جئے پور کے جیوتی نگر تھانے میں آئی پی سی کی دفعہ 420 سمیت مختلف دفعات کے تحت ایک ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔اس گمران کن اشتہارکے الزام میں رام دیو اور بال کرشنن کے علاوہ سائنسداں انوراگ وارشنیہ، نمس کے صدر ڈاکٹر بلبیر سنگھ تومر اور ڈاکٹر انوراگ تومر کو ملزم بنایا گیا ہے۔ دوسری طرف راجستھان کے میڈیکل ڈپارٹمنٹ نے پتنجلی آیورویدکے ذریعے بنائی گئی دوا کے ‘کلینیکل ٹرائل’ کرنے پر نمس اسپتال کو نوٹس جاری کر کے وضاحت طلب کی ہے۔
Category: اہم خبریں
-

بابا رام دیو کا نیا ڈرامہ۔ کبھی نہیں کہا کہ کورونل دوا سے کورونا وائرس کا علاج ہو سکتا ہے
-

50 سال میں چار کروڑ 58 لاکھ بھارتی خواتین لاپتہ
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں پچھلے 50 سال میں لاپتہ ہونے والی 14 کروڑ 26 لاکھ خواتین میں سے چار کروڑ 58 لاکھ خواتین بھارتی ہیں۔اقوام متحدہ نے منگل کو ایک رپورٹ میں کہا کہ لاپتہ خواتین کی تعداد چین اور بھارت میں سب سے زیادہ ہے۔اقوام متحدہ کے ادارے یو این ایف پی اےکی جانب سے جاری‘عالمی آبادی کی صورتحال2020’ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پچھلے 50سالوں میں لاپتہ ہوئیں خواتین کی تعداد دوگنی ہو گئی ہے۔یہ تعداد1970 میں چھ کروڑ 10 لاکھ تھی اور 2020 میں بڑھ کر 14 کروڑ 26 لاکھ ہو گئی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھارت میں سال 2020 تک چار کروڑ 58 لاکھ اور چین میں سات کروڑ 23 لاکھ خواتین لاپتہ ہوئی ہیں۔رپورٹ میں زچگی سے پہلےیازچگی کے بعدجنسی تعین کے اثرات کی وجہ سے لاپتہ لڑکیوں کو بھی اس میں شامل کیا گیا ہے۔اس میں کہا گیا ہے، ‘سال 2013 سے 2017 تک ہندوستان میں تقریباً چار لاکھ 60 ہزار بچیاں ہر سال پیدائش کے وقت ہی لاپتہ ہو گئیں۔ ایک تجزیہ کے مطابق کل لاپتہ لڑکیوں میں سے تقریباً دو تہائی معاملے اورپیدائش کے وقت ہونے والی موت کے ایک تہائی معاملےجنسی ترجیحات کی وجہ سے جنسی تعین سے جڑے ہیں ۔رپورٹ میں ماہرین کی جانب سے دستیاب کرائے گئے اعدادشمار کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ جنسی ترجیحات کے مدنظر(پیدائش سے قبل)جنس کے انتخاب کی وجہ سے دنیا بھر میں ہر سال لاپتہ ہونے والی تقریباً12 لاکھ سے 15 لاکھ بچیوں میں سے 90 سے 95 فیصد چین اورہندوستان کی ہوتی ہیں۔
اس میں کہا گیا ہے کہ سالانہ پیدائش کی تعدادکے معاملے میں بھی یہ دونوں ملک سب سے آگے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سرکاروں نے جنس کے انتخاب کی بنیادی وجہ سے نپٹنے کے لیے قدم اٹھائے ہیں۔ہندوستان اور ویت نام نے لوگوں کی سوچ کو بدلنے کے لیے مہم شروع کی ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لڑکیوں کے بجائے لڑکوں کوترجیح دینے کی وجہ سے کچھ ملکوں میں خواتین اور مردوں کےتناسب میں بڑی تبدیلی آئی ہے اور اس کا اثرشادیوں کے نظام پریقینی طورپرہھی پڑےگا۔ کچھ مطالعات میں یہ مشورہ دیا گیا ہے کہ ہندوستان میں ممکنہ دلہنوں کے مقابلےممکنہ دولہوں کی تعدادبڑھنے سے متعلق حالات 2055 میں سب سے خراب ہوں گے۔ -

پاک فوج کے ترجمان نے بھارتی میڈیا کے جھوٹ کا پول کھول دیا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاک فوج کے ترجمان ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ بھارتی میڈیا کی گلگت بلتستان میں ایل او سی پر اضافی فوج کی تعیناتی کی خبریں جھوٹی ہیں،
ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا ہے کہ بھارتی میڈیا کی گلگت بلتستان میں ایل او سی پر اضافی فوج کی تعیناتی کی خبریں بےبنیاد ہیں ،چین اسکردو میں کوئی پاکستانی ایئربیس استعمال نہیں کررہا،بھارتی میڈیا کی ائیر بیس سے متعلق خبریں سچ سے کوسوں دور ہیں،
ڈی جی آئی ایس پی آر کا مزید کہنا تھا کہ بھارتی میڈیا غیرذمہ دارانہ اور حقیقت سے ہٹ کررپورٹنگ کررہا ہے،گلگت بلتستان میں فوج کے اضافی دستے تعینات نہیں کیے گئے،گلگت بلتستان میں فوج کی کوئی نقل وحرکت نہیں ہورہی،
سی پیک کے خلاف امریکی سازش کے توڑ کیلئے چین کے پانچ ہزار فوجی بھارت میں گھس گئے
لداخ میں انڈیا اور چین میں سرحدی کشیدگی، سینئر صحافی مبشر لقمان نے کیا دی تجویز
یہ وہ لات ہے جو ایک چینی فوجی نے لداخ میں ایک بھارتی فوجی کو تحفہ میں دی
لداخ میں چین کے ہاتھوں شرمناک شکست پر جنرل بخشی نے ایک سائیڈ کی مونچھیں کٹوا دیں
"پلیز گو بیک چائنہ” بھارتی فوج کے ترلے، بینر اٹھا لیے
جنگ کی تیاری کرو، چینی صدر کا فوج کو حکم
چائنہ نے لداخ کے قریب اپنے ایئر بیس کو مزید پھیلانا شروع کر دیا،جنگی طیارے بھی پہنچا دیئے
مودی سرکار کے عزائم پڑوسی ممالک کیلئے خطرہ بن چکے،وزیراعظم عمران خان
لداخ میں چائنہ سے شرمناک شکست کے بعد "انڈیا” کا نام بدلنے کی انڈین سپریم کورٹ میں درخواست
بریکنگ،لداخ کشیدگی میں اضافہ،چینی جنگی طیارے بھارتی حدود میں گھس گئے،بھارتی فضائیہ بھی الرٹ
بھارت میں مسلمانوں پر تشدد کرنیوالی آر ایس ایس لداخ پر چین کے ساتھ بہادری کے جوہر کیوں نہیں دکھاتی؟
لداخ سرحدی کشیدگی، مذاکرات سے قبل چین نے ایسا کام کیا کہ مودی سرکار کے ہوش اڑ گئے
لداخ کشیدگی ، پیر سے چائنہ نے انڈیا سے اپنے شہری نکالنا شروع کر دئیے
بھارتی فوجیوں نے غیر قانونی طور پر بارڈر کراس کیا ، اس لیے مارے گئے، چین کا بیان
1975 کے بعد آج چین کے ہاتھوں بھارتی فوجی کی ہلاکت ہوئی ، انڈین آرمی دو بجے پریس کانفرنس کرے گی
لداخ میں تین فوجیوں کی ہلاکت پر بھارتی وزیر دفاع کے فوج کے سربراہان کے ساتھ ہنگامی میٹنگ
لگتا ہے چین نے "گھر میں گھس کر ماریں گے” کی جارحانہ عسکری اپروچ کو ہائی جیک کرلیا ،محبوبہ مفتی
چینی فوج کے ہاتھوں کرنل سنتوش کی ہلاکت کی خبر سن کر ماں اورچچی بیہوش،ہسپتال منتقل
بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد مودی کے احمد آباد میں چین کیخلاف مظاہرے، چینی مصنوعات نذرآتش
چینی فوج کے ہاتھوں بھارتی فوجیوں کی ہلاکت،اپوزیشن جماعتوں کے احتجاج کے بعد مودی نے بڑا فیصلہ کر لیا
باغی ٹی وی کا کبوتر بھارتی فوجیوں کو "کٹ” پڑنے کی تصویریں لے آیا
واضح رہے کہ چین سے لداخ میں شکست کھانے پر مودی سرکار جہاں مسلسل جھوٹ بولے جا رہی ہے وہاں بھارتی میڈیا بھی جھوٹ بولنے میں اور بھارتی قوم کو دھوکا دینے میں سب سے آگے ہے، بھارتی میڈیا نے گزشتہ روز پاک فوج کے حوالہ سے خبریں دیں جنکی آج پاک فوج کے ترجمان نے تردید کر دی ہے، پاک فوج ذمہ دار فوج ہے جس نے دہشت گردی کے خلاف طویل ترین اور کامیاب آپریشن کئے ہیں،
-

ریاستی ادارے اگر شوکاز نوٹس جاری کرتے ہیں اپنا موقف وہاں پیش کریں، سپریم کورٹ کے شوگر تحقیقاتی کمیشن کیس میں ریمارکس
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ میں شوگر کمیشن رپورٹ کے حوالہ سے درخواست پر سماعت ہوئی
جسٹس اعجاز الاحسن نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے مقدمے میں فیصلہ دیا ہے،کیا سندھ ہائیکورٹ کے علم میں یہ بات نہیں لائی گئی؟
اٹارنی جنرل نے کہا کہ شوگر ملز کی درخواست میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کا ذکر ہے، جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ کیا کمیشن کی رپورٹ پر شوگر ملز کے خلاف کوئی ایکشن لیا گیا؟ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ کچھ شوگر مل مالکان کے پی اور کچھ بلوچستان ہائی کورٹ چلے گئے،کچھ شوگر مل مالکان نہیں چاہتے کہ رپورٹ پر اتھارٹیز کارروائی کریں،ا
چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ یہ محض کمیشن رپورٹ ہے، اس پر حکم امتناع کیوں لینا چاہتے ہیں؟
شوگر مل مالکان کے وکیل مخدوم علی خان عدالت میں پیش ہوئے،اور کہا کہ ایگزیکٹو احکامات کو مالکان نے مختلف ہائیکورٹس میں چیلنج کیا، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ سندھ ہائی ورٹ کے پا س وہی مل مالکان گئے جو اسلام آباد ہائیکورٹ گئے،ایک ہی ایسو سی ایشن دو مختلف ہائیکورٹس سے کیسے رجوع کرسکتی ہے؟
چیف جسٹس گلزار احمد نے استفسار کیا کہ شوگر کمیشن کی رپورٹ پر مل مالکان کی تشویش کیا ہے؟ وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ شوگر مل ایسوسی ایشن ذاتی حیثیت سے اسلام آبادہائیکورٹ سے رجوع کیا،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ بظاہر کمیشن نے فیکٹ فائینڈنگ کی،کمیشن نے ڈیل اور بہت سی چیزوں کی نشاندہی کی،کمیشن کی رپورٹ متعلقہ اداروں کو کارروائی کے لیے بھیجی گئی ہے،ریاستی ادارے اگر شوکاز نوٹس جاری کرتے ہیں اپنا موقف وہاں پیش کریں،
چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ ابھی کسی شوگر مل کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا گیا،رپورٹ کے مطابق شوگر مل والوں کو نہیں سنا گیا، چینی کی قیمتیں بڑھنے پر پورے ملک میں شور مچا،
وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ عدالت نے دیکھناہے کہ کیا کمیشن قانون کے مطابق بنایا گیا،چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ کمیشن کی رپورٹ شوگر مل مالکان کو متاثر کیسے کر سکتی ہے؟جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ اسلام آبادہائیکورٹ نے قرار دیا کہ کمیشن کی تشکیل قانون کے مطابق تھی ، چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کئی مواقع پر کمیشن بنا چکی لیکن رپورٹس سامنے نہیں آئیں،
جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے بعد شوگر مل مالکان نے سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کیا،شوگر ملز مالکان کے حقوق کومکمل تحفظ حاصل ہے،
اٹارنی جنرل نے کہا کہ شوگر کمیشن کی رپورٹ میں سیاسی اتحادیوں کی نشاندہی بھی کی گئی ہے،چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ صوررتحال حکومت نے خود پیدا کی ہے،حکومت تحقیقات کرواکر مقدمات بنوا دیتی ،
جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ شاید ایف بی آر سمیت کئی اداروں میں اہلیت کا فقدان ہے،کمیشن اراکین کے نام سب کے سامنے تھے ان کو کسی نے چیلنج نہیں کیا،کمیشن کی تشکیل غیر قانونی تھی تو وہ پہلے چیلنج کیوں نہیں کی؟ کمیشن کے ارکان شوگر ملز کے خلاف کیوں جانبدارہوں گے؟ آپ چاہتے ہیں کی رپورٹ کو کالعدم قرار دیا جائے،متعلقہ ادارے پھرسے صفر سے سے کام شروع کریں،
چینی کی قیمتوں میں اضافے پر سینیٹ میں بھی تحقیقات کا مطالبہ
جہانگیر ترین کے حق میں تحریک انصاف کی کونسی شخصیت کھل کر سامنے آ گئی، بڑا مطالبہ کر دیا
چینی بحران رپورٹ، وزیراعظم کیخلاف تحریک عدم اعتماد آ سکتی ہے یا نہیں؟ شیخ رشید نے بتا دیا
چینی بحران رپورٹ ، جہانگیر ترین پھر میدان میں آ گئے ،بڑا دعویٰ کر دیا
شوگر ملزسٹاک کی نقل و حمل اور سپلائی کی مکمل مانیٹرنگ کا حکم
چینی بحران رپورٹ، جہانگیر ترین کے خلاف بڑا ایکشن،سب حیران، ترین نے کی تصدیق
شوگر کمیشن رپورٹ، وزیراعلیٰ پنجاب،اسد عمر اور مشیر تجارت کے جوابات غیر تسلی بخش قرار
دوستوں اور اتحادیوں کیخلاف کارروائی کے لئے بڑی جرات اورعزم چاہیے،اٹارنی جنرل کے عدالت میں دلائل
شوگر تحقیقاتی کمیشن،حکم امتناع آج ختم ہوگا،دو دن میں حکومت کیا کارروائی کرلے گی ،عدالت
واضح رہے کہ شوگر کمیشن کی تحقیقاتی رپورٹ پر کاروائی رکوانے کے لئے اسلام آبا دہائیکورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی، 20 جون کو سلام آبادہائیکورٹ نےشوگرملز کی درخواست پرجاری اسٹےآرڈرختم کردیا،
حکومت کو شوگر انکوائری کمیشن کی روشنی میں کارروائی جاری رکھنے کی اجازت مل گئی،اسلام آبادہائیکورٹ نےشوگر ملز ایسوسی ایشن کی درخواست نمٹا دی،اسلام آباد ہائیکورٹ نے چینی انکوائری کمیشن میں حکم امتناع خارج کر دی،عدالت نے تمام متعلقہ اداروں کو چینی انکوائری رپورٹ پر کارروائی کی اجازت دے دی
اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے مختصر فیصلہ سنایا،عدالت نے کہا کہ ایسی بیان بازی نہ کی جائے جس سے شفاف ٹرائل کا حق متاثر ہو،
-

کراچی اسٹاک ایکسچینج حملے کی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے کی مذمت
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے کراچی اسٹاک ایکسچینج حملے کی مذمت کی ہے
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھارتی سفارتکاری کو منہ کی کھانا پڑی، مودی حکومت کی کوششوں کے باوجود اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے پاکستان سٹاک ایکسچینج پر دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کی گئی۔ سلامتی کونسل کے تمام اراکین نے متفقہ طور پر مذمتی بیان کی حمایت کی اور پاکستان سے اظہار یکجہتی کیا۔
سلامتی کونسل کی جانب سے جاری کردہ بیان میں شہدا کے لواحقین سے اظہار ہمدردی، دہشتگردوں، سہولت کاروں، معاونین اور حامیوں کو قانون کے شکنجے میں لانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا
سلامتی کونسل کے تمام اراکین نے چین کے مطالبے پر کی جانے والی مذمت کی حمایت کی۔ مذمتی بیان میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردی مجرمانہ اور غیرمنصفانہ فعل ہے۔ دہشت گردی بین الاقوامی امن و سلامتی کےلیے شدید خطرہ ہے۔ کونسل کے اراکین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ تمام ریاستیں سلامتی کونسل قراردادوں کے تحت پاکستان کیساتھ تعاون کریں۔
کراچی حملہ ناکام بنانے کے لیے سیکیورٹی اداروں نے دشمن کا بہادری سے مقابلہ کیا، وزیر اعظم
شہر قائد کے بعد پشاور میں سیکورٹی اداروں نے دہشت گردی کا بڑا منصوبہ بنایا ناکام
آج کے حملے کے تانے بانے بھارت کے سلیپرسیل سے ملتے ہیں، وزیر خارجہ
قوم کے تعاون سے دہشت گردوں کی ہر کوشش کو ناکام بنا دیں گے،آرمی چیف
پاکستان کو غیر مستحکم کرنیکی سازشیں کرنیوالے ناکام رہیں گے، گورنر بلوچستان
کراچی اسٹاک ایکسچینج حملہ،چینی سفارتخانہ بھی میدان میں آ گیا، مذمت کے ساتھ کیا بڑا اعلان
کراچی ،دہشت گردانہ حملے میں شہید پولیس اہلکار کی نماز جنازہ ادا
کراچی حملہ، مولانا فضل الرحمان کی مذمت، ساتھ ہی بڑا مطالبہ کر دیا
دہشت گردی کا حملہ ناکام بنانے والے پولیس کے بہادر سپاہیوں اورمحافظوں کو وزیراعظم کا سلام
بھارت کے دہشتگردی میں ہاتھ کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جاسکتا،ثروت اعجاز قادری
دہشت گردوں کا حملہ ناکام بنانیوالے اہلکاروں کو انعام دینے کا فیصلہ
کل جہنم واصل ہونے والے دہشتگرد بھی آپکے ماموں کی مسنگ پرسن لسٹ میں شامل تھے؟ وینا ملک
اسٹاک ایکسچینج ،بھارتی ٹویٹر ہینڈل نے 12 روز قبل ٹویٹ میں دی تھی ممکنہ حملے کی دھمکی
پاکستان واضح طور پر کہہ چکا ہے کراچی دہشتگردی کے واقعے میں بھارتی خفیہ ادارے ملوث ہیں۔ سلامتی کونسل کی جانب سے مذمتی بیان عالمی برادری کی جانب سے پاکستان کی انسداد دہشتگردی حکمت عملی کی تائید کا ثبوت ہے۔
وزیراعظم عمران خان بھی کہہ چکے ہیں کہ کراچی حملے میں بھارت ملوث ہے ، چین، امریکہ، ایران، جاپان، سمیت کئی ممالک نے اس حملے کی مذمت کی ہے اور دیشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کا ساتھ دینے کا اعلان کیا ہے
-

پاکستان میں کرونا کا پھیلاؤ جاری، 24 گھنٹوں میں مزید 78 اموات
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرونا وائرس کا پھیلاؤ جاری ہے،گزشتہ 24 گھنٹوں میں ملک بھر میں کورونا کے 4 ہزار339نئےکیسزرپورٹ ہوئے،
ملک بھر میں کورونا کیسز کی تعداد 2 لاکھ 17ہزار809ہوگئی،24گھنٹے کے دوران کورونا سے مزید78افراد جاں بحق ہوئے ،ملک بھر میں کورونا سے اموات کی تعداد4 ہزار473 ہوگئی ہے
سندھ میں 86ہزار795کورونا کیسز رپورٹ ہوئے،پنجاب میں کورونا متاثرین کی تعداد77ہزار740ہوگئی ،خیبرپختونخوا میں کورونا کیسزکی تعداد 26ہزار938 ہوگئی،بلوچستان میں 10ہزار608 کورونا کیسز رپورٹ ہوئے،اسلام آباد میں کورونا سے 13ہزار82 افراد متاثر ہوئے،آزاد کشمیرمیں کورونا کے ایک ہزار135کورونا کیسزرپورٹ ہوئے،گلگت بلتستان میں کورونا کیسز کی تعدادایک ہزار511ہوگئی،
ملک بھر میں مجموعی ٹیسٹ کی تعداد 13 لاکھ 27 ہزار 638 ہے،گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران سندھ میں 8ہزار201ٹیسٹ کیے گئے،پنجاب میں کورونا کے7ہزار996ٹیسٹ کیے گئے،اسلام آباد میں کورونا وائرس کے 2ہزار408ٹیسٹ کیے گئے، گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران خیبرپختونخوا میں 2ہزار397ٹیسٹ کیے گئے،بلوچستان 780،آزادکشمیر 300 اور گلگت بلتستان میں 46 ٹیسٹ کیے گئے
میں پنجاب میں کورونا سے ایک ہزار784اموات رپورٹ ہوئیں،سندھ میں ایک ہزار406افراد کورونا سے جاں بحق ہوئے ،خیبر پختونخوا میں 973 کورونا مریض جاں بحق ہوچکے ہیں،اسلام آباد میں 129 کورونا متاثرین جاں بحق ہوئے،بلوچستان 21 ،آزاد کشمیر32 اور گلگت بلتستان میں 28 اموات ہوئیں،
-

عمران خان کی حکومت کو کس سے خطرہ ہے؟ اہم انکشافات مبشر لقمان اور مرتضی علی شاہ کی زبانی
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکرپرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ بڑی خبریں آ رہی ہیں ہر قسم کی،کوئی اسمبلی میں بات کرتا ہے تبدیلی کی،کوئی آٹے کی،کوئی شوگر کی، کوئی فیول کرائسز کی بات کرتا ہے، اب تو فیول کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں،یوکے سے آج مرتضیٰ علی شاہ ہمارے ساتھ ہیں جو جیو کے وہاں نمائندہ خصوصی ہیں
مرتضیٰ علی شاہ کا کہنا تھا کہ آپ کو یاد ہو گا کچھ عرصے پہلے سینیٹ کے الیکشن تھے اور اسوقت بات تھی کہ شاید کوئی انقلاب آئے گا لیکن جس طرح سینیٹ کے الیکشن ہوئے اور ڈسپلن دیکھا گیا وہی ڈسپلن بجٹ میں بھی سامنے آئے، 2018 کے الیکشن کے بعد سیٹ اپ کو اداروں کی سپورٹ حاصل ہے اور آنے والے دنوں میں بھی سپورٹ حاصل رہے گی، بجٹ پاس ہوا کسی کے ذہن میں تھا کہ بجٹ پاس نہیں ہو گا یا وزیراعظم کے لئے کوئی مشکل ہو گی تو یہ تو خام خیالی تھی،اپوزیشن نے جتنا بھی شور مچایا وہ ٹھیک تھی انکویہی کام کرنا ہے ،بجٹ کے پاس ہونے میں کچھ مشکلات ہونی تھیں لیکن جو ڈسپلن پہلے نظر آیا تھا وہی نظر آیا، ایک ماحول بنا ہوا تھا کہ شاید کچھ ہونے جا رہا ہے،
مرتضیٰ علی شاہ کا مزید کہنا تھا کہ بجٹ میں لوگوں کے لئے مشکلات آنے والی ہیں، حقیقت یہ ہے کہ حکومت کو کوئی خطرہ نہیں، اگر خطرہ ہے تو سب سے بڑی پوزیشن اسکی کارکردگی ہے، حکومت اپوزیشن ،میڈیا کی وجہ سے نہیں بلکہ کارکردگی کی وجہ سے پریشان ہے، کچھ ڈلیوری نہیں ہو سکی، حکومت کے لئے وہ سٹیج پہنچ چکی ہے، ریڈ لائن کراس ہو چکی ہے،کہا جاتا تھا کہ ماضی کی حکومتوں نے یہ کیا، اب پی ٹی آئی کی حکومت کے اپنے لوگ کہہ رہے ہیں کہ ٹھیک ہے ماضی کے حکمرانوں نے جو کیا، آپ بتائیں آپ کیا کر رہے ہیں، بجٹ پاس ہو گیا، لگتا ہے اگلے سال کا بجٹ بھی پاس ہو جائے گا، حکومت کے و وعدے تھے، ایم این اے اور وزیر بھی بات کر رہے ہیں فواد چودھری، غلام سرور کہہ چکے ہیں کہ ہم نے زیادہ وعدے کر لئے تھے، اب لوگ سوال پوچھ رہے ہیں انکو اسوقت وعدے کرتے وقت دیکھنا چاہئے تھا،
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ مسئلہ ایک اور ہے،میں پی ٹی آئی کا سپورٹر رہا ہوں، برملا کھلے عام کہہ رہا ہوں کہ کل بھی میرے پاس تحریک انصاف کے دو وزرا ذاتی حیثیت میں آئے ہوئے تھے اور کہہ رہے تھے کہ دو سال میں ہم ایک بھی پروجیکٹ نہیں لا سکے، مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ صرف قرضہ اتارنا کافی نہیں، ایک بھی پروجیکٹ شروع نہیں ہوا،ایک چیز سامنے نہیں ہے، یہ لوگوں کے پاس کیا کہیں گے؟
مرتضیٰ علی شاہ کا کہنا تھا کہ دو سال ہو گئے ہیں اور لوگوں نے شائد حکومت نے جتنا ٹائم دیا اسکی تاریخ نہیں ملتی، انکو اور بھی ٹائم ملے گا اور ملنا چاہئے ،مینڈیٹ پورا ہونا چاہئے، دو سال میں رپورٹ کارڈ کیا ہے، کرونا کی وجہ سے پروازیں رکی ہوئی ہیں اس سے پہلے پی ٹی آئی کی بزنس کمیونٹی کے لوگ یوکے کا وزٹ کرتے تھے، میں چار پانچ لوگوں سے ملا جنہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد یہ ہے کہ یہاں بزنس سیو ہے، ہم نے ووٹ دے دیئے لیکن وہاں انویسٹ نہیں کر سکتے، اگر اکانومی بہتر چلتی ہے، گورننس بہتر چلتی ہے تو عمران خان کو اگلے بیس سال تک کوئی مسئلہ نہیں ہو گا
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ میں آپ پر سخت الزام لگانے لگا ہوں، جیو، جنگ بلکہ تمام میڈیا پر، مجھے یہ ایڈوانٹج ہے کہ جاب میرے پاس نہیں، کسی کے ساتھ منسلک نہیں، میں سوال پوچھ سکتا ہوں، جو بی آر ٹی پراجیکٹ کے پی میں سات سال پہلے شروع ہوا تھا اسکا پتہ نہیں چلتا کہ ختم ہونا ہے یا نہیں،اسکا بجٹ ختم ہونا یا نہیں لیکن سونے پہ سہاگہ، جیو، نوائے وقت،ڈان سب میڈیا کو لے لیں بی آر ٹی اگر پیپلز پارٹی کا پروجیکٹ ہوتا تو اس پر کتنے پروگرام، اور کالم آ گئے ہوتے ،آپ لوگ چپ کیوں ہیں کیا حکومت نے آپ کو لفافہ دے دیا ہے
اگرکوئی پائلٹ جعلی ڈگری پر بھرتی ہوا ہے تو سی اے اے اس کی ذمے دارہے،پلوشہ خان
شہباز گل پالپا پر برس پڑے،کہا جب غلطی پکڑی جاتی ہے تو یونین آ جاتی ہے بچانے
وزیراعظم کا عزم ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری نہیں ری سٹکچرنگ کرنی ہے،وفاقی وزیر ہوا بازی
860 پائلٹ میں سے 262 ایسے جنہوں نے خود امتحان ہی نہیں دیا،اب کہتے ہیں معاف کرو، وفاقی وزیر ہوا بازی
کراچی طیارہ حادثہ کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش، مبشر لقمان کی باتیں 100 فیصد سچ ثابت
طیارہ حادثہ، رپورٹ منظر عام پر آ گئی، وہی ہوا جس کا ڈر تھا، سنئے مبشر لقمان کی زبانی اہم انکشاف
جنید جمشید سمیت 1099 لوگوں کی موت کا ذمہ دار کون؟ مبشر لقمان نے ثبوتوں کے ساتھ بھانڈا پھوڑ دیا
کراچی میں پی آئی اے طیارے کا حادثہ یا دہشت گردی؟ اہم انکشافات
مرتضیٰ علی شاہ کا کہنا تھا کہ بڑا اچھا سوال پوچھا ہے،مجھے سب سے زیادہ خوشی یہ ہے کہ یہ سوال آپ پوچھ رہے ہیں، آپ بتائیں کہ 105 دن سے زائد ہو گئے ہیں جنگ اور جیو کے ایڈیٹرانچیف کو حکومت اور نیب نے ایسے کیس میں پکڑ کر اندر کیا ہوا ہے جو چالیس سال پرانا ہے جس کے کوئی سر پیر نہیں حکومتی لوگ کہتے ہیں کہ اس میں سوائے انتقام کے کچھ نہیں اسکا مقصد کیا ہے،
مرتضیٰ علی شاہ نے مبشر لقمان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے بھی پچھلے دنوں بات کی تھی کہ اس میں زیادتی ہو رہی ہے، صرف اور صرف میڈیا کو ڈرانا مقصد ہے،اور یہ کہ میڈیا سوالات نہ پوچھے، کچھ شو ہوئے جو احتساب پر ہوئے، بی آر ٹی پر دیگر منصوبوں پر پروگرام ہونے چاہئے، بی آر ٹی پر شاہزیب خانزادہ نے پروگرام کئے، سلیم صافی نے کالم لکھے،جو بنیاد بنے پوری اس حکومت کے اس منصوبے کے کہ جنگ اور جیو کو فکس کرنا ہے ، اور پھر میر شکیل الرحمان کو بند کر دیا ، کہ وہ اب چوبیس گھنٹے حکومت کی پی آرز چلائیں،
مرتضیٰ علی شاہ کا مزید کہنا تھا کہ 70 سال ایک بندے کی عمر ہے اور جس طرح حکومت کر رہی ہے،اگر میر شکیل کے ساتھ یہ ہو سکتا ہے تو کسی بھی میڈیا ادارے کے ساتھ ہوتا ہے،اسطرح کی حرکتیں کر کے میڈیا کو متاثر کر کے بڑے پروجیکٹس پر بات ہی نہیں ہو سکتی، سندھ حکومت کو جتنی گالیاں دے سکتے ہیں دے دیں، میڈیا بالکل ذمہ دار ہے، میڈیا پر چیزیں ڈسکس نہیں ہوتی، یہ بھی فیکٹ ہے کہ میڈیا کے لوگوں کی اکثریت اس پروجیکٹ کا حصہ رہی ہے، میڈیا کے لوگوں نے سیاسی پوزیشن لی ہے، پہلے جو پروگرام ہوتے تھے وہ اب نہیں ہو رہے، اب مایوسی کی صورتحال ہے ، لوگ سمجھ رہے ہیں کہ فائدہ ہی نہیں، اگر کسی نے پروگرام کیا تو پھر گرفتاری یا مقدمہ ہو گا ٹی وی بند ہو گا، پیمرا کا استعمال ہو گا، ریگولرائز میڈیا اسی وجہ سے حکومت کے ساتھ ہم آہنگ ہے، سوشل میڈیا پر لوگ بات کر رہے ہیں، سوال پوچھ رہے ہیں
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر کوئی سوال کریں تو دونوں طرف سے گالیاں پڑنا شروع ہو جاتی ہیں،مجھے سمجھ نہیں آتی کہ لوگ اتنے زبان چھٹ کیوں ہیں، ود پاکستان ہونا چاہئے ،میں عمران یا کسی اور کے ساتھ کیوں؟ میں پاکستان کے ساتھ پہلے کیوں نہیں
مرتضیٰ علی شاہ کا کہنا تھا کہ ایسے ہی ہونا چاہئے، سوشل میڈیا پر زہریلی کیفیت ہے ہر سائڈ پر، اس کو تیار کیا گیا ہے، اس ساری چیز کا آغاز پاکستانی ٹی وی چینل سے ہوا، سارے لوگوں نے کردار ادا کیا، پھر عام لوگ جو سوشل میڈیا کو دیکھتے ہیں وہاں اب یہ بات طے ہو گئی ہے کہ نقطہ نظر کو سپورٹ کرنا ہے تو ٹھیک ہے، نہیں تو گالیاں ملیں گی،
مبشر لقمان کا کہنا تھا میں آپ کو خبر دیتا ہون دیکھتا ہوں جیو جنگ اس کے اوپر کیا کرتا ہے، وہ کمپنی جو سات سال سے بی آر ٹی پروجیکٹ بنا رہی ہے، جو ابھی تک مکمل نہیں ہوا، اب لاہور میں جو انڈر پاس بننے جا رہا ہے،فردوس مارکیٹ اور گلبرگ کے اندر ہے اسی کمپنی کو ٹھیکہ دیا گیا جس کو بی آر ٹی کا دیا گیا، اب دیکھیں لاہور کتنی دیر کھدا رہتا ہے
مرتضیٰ علی شاہ کا کہنا تھا کہ اس میں بی آر ٹی اگر کوئی اور حکومت ہوتی تو یہ گلے کا پھندہ ہے، یہ پروجیکٹ سپورٹ اور فنڈنگ کے باوجود مکمل نہیں ہوا
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بی آر ٹی میں کرپشن سامنے آئی ہے،کل میرے پاس جو منسٹر آئے تھے میں نے انہیں کہا کہ نیب سے بات کرتے ہیں احد چیمہ وغیرہ کو پے رول پر ایک سال کے لئے لئے جاؤ کم از کم اپنا پروجیکٹ تو پورا کر لو،
مرتضیٰ علی شاہ کا کہنا تھا کہ فواد حسن فواد بھی ہیں انکو بھی لے جائیں، آپکو یاد ہے چینلز لائیو ٹرانسمیشن کیا کرتے تھے،پروگرام ہوتے تھے، وزٹ کیا کرتے تھے سب ختم ہو گیا ہے،کوئی بات نہیں ہو گی، نیب چئرمین 40 سالہ پرانے کیس میں میر شکیل الرحمان کو گرفتار کر لیتے ہیں، مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ میں نے سنا ہے کہ انکی طبیعت ٹھیک نہیں اور وہ ہسپتال میں ہیں جس پر مرتضیٰ علی شاہ کا کہنا تھا کہ بالکل انکی طبیعت ٹھیک نہیں، بہت عرصے سے بیمار ہیں، یہاں پر جب لندن میں ہوتے تھے وہ علاج کی وجہ سے ہوتے تھے، لیکن اس کے باوجود جس طرح وہاں پر انکو ٹارچر سے گزارا گیا، نیب چیئرمین سارے لوگوں کو سب کے اوپر گرفتاریاں بھی ہوں اور اسکے نتائج بھی آئیں ،تو یہ سب ہونا چاہئے احتساب سب کا ہونا چاہئے، لیکن پرابلم اسوقت ہوتا ہے جب سیلکٹو احتساب ہو،
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ سلیکٹو بھی نہیں ہے،دو سال پہلے جن کو اٹھایا گیا تھا چاہئے سعد رفیق، سلمان رفیق کوئی بھی ہوں انکے اوپر ثابت تو کچھ نہ کر سکے
مرتضیٰ علی شاہ کا کہنا تھا کہ آپ ان کی مثال دے رہے ہیں، راجہ پرویز اشرف کو ہی دیکھ لیں میڈیا میں انکو راجہ رینٹل کے نام سے پکارا گیا، دنیا میں کئی سالوں تک بدنامی ہوئی، عام آدمی بھی راجہ رینٹل کہتا تھا، اب جا کر راجپ پرویز اشرف پر کرپشن ثابت نہیں ہوئی
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اگلی بار جب ہم آپ سے بات کریں گے تو لندن کے باسیوں کا حال بھی پوچھیں گے کہ نواز شریف کے پلیٹ لٹس پورے ہوگئے ہیں ؟ جہانگیر ترین وہان ہین کیا وہ ملاقاتیں کر رہے ہیں، لندن میں کیا کیا ہو رہا ہے،اگلی بار اس پر بات ہو گی
-

شہباز شریف کی مقبوضہ کشمیر میں ساٹھ برس کے بشیر احمد کو کم سن نواسے کے سامنے گولیاں مار کر شہید کرنے کی شدید مذمت
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہبازشریف نے مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارتی مظالم پر سخت احتجاج کیا ہے۔ ایک بیان میں انہوں نے بھارتی مقبوضہ کشمیر کے علاقہ سوپور میں ساٹھ برس کے بشیر احمد کو کم سن نواسے کے سامنے گولیاں مار کر شہید کرنے کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قابض بھارتی افواج کی ظلم وبربریت انسانیت کا ضمیر جھنجھوڑ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پوری دنیا کے مہذب، انصاف، قانون اور انسانیت پر یقین رکھنے والے انسانوں کو بھارتی بربریت کے خلاف کھڑا ہونا ہوگا۔ شہباز شریف نے کہا کہ انہوں نے یورپی یونین، امریکہ اور او۔آئی۔سی اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل سے بھارت کے خلاف جنگی جرائم کی کارروائی شروع کرائیں ۔ انہوں نے مقبوضہ جموں وکشمیر کے شہداءکے درجات بلندی کی دعا کرتےہوئے کہا، اللہ تعالی شہداءکے اہلخانہ کو صبر جمیل دے۔ آمین
-

بھارت پاکستان کےصوبے بلوچستان میں مسلسل مداخلت کررہاہے۔ شاہ محمودقریشی
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ بھارت مسلسل کوشش کرتاچلاآرہاہےکہ پاکستان میں عدم استحکام ہو ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ بھارت پاکستان کےصوبےبلوچستان میں مسلسل مداخلت کررہاہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت افغانستان میں امن کی کوششوں کوبھی متاثر کررہاہے جس کے بارے میں وہ امریکی نمائندہ خصوصی کوبھی آگاہ کرچکےہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی اسٹاک ایکسچینج پرحملےمیں دہشت گرد لوگوں کویرغمال بناناچاہتےتھے جب کہ پاکستانی جوانوں نےدہشت گردوں کےحملےکوناکام بنایا۔ وزیرخارجہ نے کہا کہ بھارت اندرونی انتشار سےتوجہ ہٹانےکیلئےدہشت گردی کرارہاہے وہ دنیا کی توجہ ہٹانےکیلئےدہشت گردی کےواقعا ت چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیرپرعالمی توجہ بڑھنےپربھارت نےپلوامہ کاڈرامہ رچایا-
-

امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغان امن عمل زلمے خلیل زاد کی وزارت خارجہ میں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی سے ملاقات ۔
امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغان امن عمل زلمے خلیل زاد کی وزارت خارجہ میں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی سے ملاقات ۔خطے کی صورتحال، افغان امن عمل کے حوالے سے خصوصی تبادلہ ء خیال. امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمتی عمل ایمبیسڈر زلمے خلیل زاد نے کراچی اسٹاک ایکسچینج پر ہونیوالے دہشتگردی کے حملے پر، وزیر خارجہ سے اظہار افسوس کرتے ہوئے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے بروقت کارروائی اور جوانوں کی مثالی جرات اور جرات کو سراہا.مخدوم شاہ محمود قریشی نےافغان امن عمل میں اب تک ہونیوالی پیش رفت کوانتہائی حوصلہ افزا قرار دیااور کہا کہ فریقین کی طرف سے بین الافغان مذاکرات پر آمادگی اور مذاکراتی ٹیموں کا اعلان خوش آئند ہے ان مذاکرات سے افغانستان میں مستقل اور دیرپا امن کی راہ ہموار ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ افغان امن عمل، اہم مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اس موقع پر ہمیں ان عناصر سے خبردار رہنا ہو گا جو افغانستان میں قیام امن کی کاوشوں کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان، گذشتہ چالیس برسوں سے افغان مہاجرین کی میزبانی کرتا آ رہا ہے جب کہ افغان مہاجرین کی باعزت وطن واپسی کو یقینی بنانے کیلئے، عالمی برادری کو ہاتھ بڑھانا ہو گا – انہوں نے کہا کہ پاکستان افغان قضیے کے مستقل اور پرامن سیاسی حل کیلئے، علاقائی و عالمی فریقین کے ساتھ تعاون کیلئے تیار ہے جب کہ
پاکستان مشترکہ ذمہ داری نبھاتے ہوئے، افغانستان میں قیام امن کیلئے اپنا مصالحانہ کردار، خلوص نیت سے ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ پورے خطے کی تعمیر و ترقی کا انحصار افغانستان میں قیام امن سے مشروط ہے۔ سیکرٹری خارجہ سہیل محمود اور پاکستان کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان ایمبیسڈر محمد صادق بھی اس موقع پر موجود تھے