شیخوپورہ: شیخوپورہ: سکھ یاتریوں کی ویگن ٹرین کی زد میں آگئی، 19 افراد ہلاک، متعدد زخمی،اطلاعات کے مطابق شیخوپورہ کے قریب فاروق آباد جاتری روڈ پھاٹک پر سکھ یاتریوں کی ویگن ٹرین کی زد میں آگئی، حادثے میں 19 افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوگئے۔
ترجمان ریلوے کے مطابق شاہ حسین ایکسپریس کراچی سے لاہور آ رہی تھی، حادثہ فاروق آباد اور بحالی ریلوے سٹیشن کے درمیان پیش آیا، ریلوے کی امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔ ریسکیو حکام کے مطابق سکھ یاتری سچا سودا جا رہے تھے۔
وزیر اعظم نے شیخوپورہ میں ٹرین حادثے پر افسوس اور قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ عمران خان نے زخمیوں کو بہترین طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کر دی۔
پاکستان کے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا اقتصادی تعاون تنظیم(ECO) کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر حادی سلیمان پور سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے جس میں دونوں راہنماوں نے اقتصادی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ اور تنظیم کے طے شدہ، اہداف کے حصول میں درپیش چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا.وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان، اقتصادی تعاون تنظیم کے بانی رکن ملک ہونے کی حیثیت سے ہمیشہ کوشاں رہا کہ یہ تنظیم ، خطے میں اقتصادی تعاون کا مضبوط اور مستحکم مرکز بن کر سامنے آئے۔ وزیر خارجہ نے سیکرٹری جنرل اقتصادی تعاون تنظیم کو باور کرایا کہ پاکستان اقتصادی تعاون تنظیم کے وژن 2025 کی روشنی میں ممبر ممالک کے مابین علاقائی،تجارتی و اقتصادی روابط کے فروغ کیلئے اپنا کردار ادا کرنے کیلئے پر عزم ہے۔ وزیر خارجہ نے سیکرٹری جنرل ای سی او کو، کرونا وبا کے معاشی مضمرات سے نمٹنے اور ترقی پذیر ممالک کی کمزور معیشتوں کو سہارا دینے کیلئے، وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے عالمی سطح پر دی گئی، "ڈیٹ ریلیف” تجویز کے خدوخال سے آگاہ کیا اور اس ضمن میں مشترکہ کاوشیں بروئے کار لانے کی ضرورت پر زور دیا۔ وزیر خارجہ نے کرونا عالمی وبائی چیلنج سے نمٹنے اور علاقائی سطح پر مشترکہ لائحہ عمل اپنانے کیلئے ای سی او وزرائے صحت ورچول کانفرنس کے جلد انعقاد کی ضرورت پر زور دیا۔ وزیر خارجہ نے سیکرٹری جنرل اقتصادی تعاون تنظیم کو بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے 80 لاکھ معصوم شہری کرونا وبا کے باعث دوہرے لاک ڈاؤن کی صعوبت برداشت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مظلوم کشمیریوں کو بھارتی جبر و استبداد سے نجات دلانے کیلئے، عالمی برادری کو آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ دونوں رہنماؤں کا مشترکہ اہداف کے حصول کیلئے باہمی مشاورت جاری رکھنے پربھی اتفاق
لاہور ہائیکورٹ نے ویڈیو اسکینڈل میں ملوث جج ارشد ملک کو عہدے سے برطرف کر دیا۔
باغی ٹی وی : چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ قاسم خان کی سربراہی میں انتظامی کمیٹی نے فیصلہ سنایا، لاہور ہائیکورٹ نے بطور انکوائری آفیسر جج ارشد ملک کو قصور وار قرار دیا تھا۔واضح رہے کہ جج ارشد ملک نے نوازشریف کو سزا سنائی تھی۔
خیال رہے کہ مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز نے جج ارشد ملک کی ویڈیو جاری کی تھی جس کے بعد احتساب عدالت کے جج کی خدمات دوبارہ لاہور ہائیکورٹ کے سپرد کر دی گئیں، جج ارشد ملک نے حلف نامے میں ویڈیو کو جعلی قرار دیا اور کہا کہ مجھے دھمکیاں دی گئیں اور بلیک میل کرنے کی کوشش کی.
جج ارشد ملک کی اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرائے گئے بیان حلفی میں کہا گیا تھا کہ دوران سماعت نمائندگان کے ذریعے بارہا رشوت کی پیش کش کی گئی اورتعاون نہ کرنے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی گئی۔ مجھے کہا گیا کہ نواز شریف منہ بولی قیمت دینے کو تیار ہے. بیان حلفی میں مزید کہا گیا کہ فروری 2018 میں مہر جیلانی اور ناصر جنجوعہ سے ملاقات ہوئی، ملاقات میری بطور جج احتساب عدالت تعیناتی کے کچھ عرصے بعد ہوئی، ناصر جنجوعہ نے بتایا کہ انھوں نے سفارش کر کے مجھے جج لگوایا، ناصر جنجوعہ نے اپنے ساتھ موجود شخص سے تصدیق کرائی کہ میں نے چند ہفتے قبل تعیناتی کی خبر نہیں دی، میں نے اس دعوے کے بارے میں زیادہ سوچ بچار نہیں کی۔ جج ارشد ملک نے اپنے بیان حلفی میں مزید کہا کہ 16 سال پہلے ملتان کی ایک ویڈیو مجھے دکھائی گئی، ویڈیو کے بعد کہا گیا وارن کرتے ہیں تعاون کریں، ویڈیو دکھانے کے بعد دھمکی دی گئی اور وہاں سے سلسلہ شروع ہوا، سماعت کے دوران ان کی ٹون دھمکی آمیز ہوگئی، مجھے رائے ونڈ بھی لے جایا گیا اور نواز شریف سے ملاقات کرائی گئی، نواز شریف نے کہا جو یہ لوگ کہہ رہے ہیں اس پر تعاون کریں، نواز شریف نے کہا ہم آپ کو مالا مال کر دیں گے.
بھارتی ریاست ہماچل کے خوبصورت سیاحتی مقام ضلع سپیتی کے کازہ گاؤں کی200 خواتین کے خلاف مقامی انتظامیہ نے مقدمہ درج کر لیا ہے۔ گاوں کی مقامی کمیٹی نے یہاں آنے والوں کے لیےلازمی کورنٹائن کا ضابطہ بنایا ہے۔ ریاست کے وزیر زراعت رام لال مارکنڈہ وہاں پہنچے مگراس ضابطہ کو نہ ماننے پر مقامی خواتین کے گروپ نے ان کے خلاف مظاہرہ کیا۔ جس کے بعد کازہ گاؤں کی200 خواتین کے خلاف مقامی انتظامیہ نے مقدمہ درج کر لیا ہے۔ گزشتہ دنوں مذکورہ وزیر رام لال مارکنڈہ وہاں پہنچے تو انہیں گاوں کےکوارنٹین قانون کے بارے میں آگاہ کیا گیا لیکن انہوں نے مقآمی قانون ماننے سے انکار کیا اور اس کے بعد وہ وہاں سے واپس لوٹ گئے اور اپنا اسمبلی حلقہ چھوڑ دیا۔ اگلے دن پولیس نے مظاہرین کے خلاف ایف آئی آر درج کیا۔ مظاہرین کو معاملہ درج کیےجانے کی اطلاع تب ملی جب انہیں سمن آنے لگے۔کازہ گاؤں کی آبادی لگ بھگ1700ہے۔ 200 لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے سے گاؤں کی کل آبادی کے 10 فیصد لوگوں کے خلاف معاملہ درج ہو چکا ہے۔ ان خواتین پر آئی پی سی کی دفعہ341 (کسی شخص کو غلط طریقے سے روکنا)، دفعہ 143 (غیرقانونی اجلاس) اور دفعہ 188(پبلک آرڈر کی خلاف ورزی)کے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے۔مظاہرہ میں شامل ہونے کے لیے ایف آئی آر کا سامنا کر رہی مہیلا منڈل کی صدرسونم ڈولما نے کہا، مظاہرین کی پہچان کرنے کے لیے پولیس ہر گھر میں آ رہی تھی اس لیے ہم نے خود ایک فہرست پیش کی ہے۔ ناموں میں لگ بھگ گاؤں کی ہر گھر کی خواتین شامل ہیں اور اب ان تمام پر مقدمہ درج ہو چکا ہے۔تاہم ابھی تک اس معاملے میں کوئی گرفتاری نہیں ہوئی ہے۔
دوسری طرف وزیرزراعت مارکنڈا کا کہنا کہ انہیں سرکاری کام کاج کے لیے شملہ جانا تھا، جس کی وجہ سے وہ کورنٹائن کے لیے راضی نہیں ہوئے اور واپس لوٹ گئے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ان کے خلاف کیا گیا مظاہرہ سیاسی تھا اور کچھ مظاہرین نے کانگریس کے حق میں نعرے بھی لگائے۔تاہم سونم ڈولمانے ان الزامات کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے بتایا، ہم کسی ایسے کام کے لیے معافی نہیں مانگیں گے جو ہم نے کیا ہی نہیں۔ یہ ایک غیر سیاسی اور کووڈ مخالف مظاہرہ تھا۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرونا کا پھیلاؤ جاری ہے، ملک میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا سے 78 افراد انتقال کر گئے،
پاکستان میں کورونا سے اموات کی تعداد 4 ہزار551 ہوگئی،پاکستان میں کورونا مریضوں کی تعداد2 لاکھ 21 ہزار895 ہوگئی،گزشتہ 24 گھنٹوں میں 4 ہزار87 افراد کے کورونا ٹیسٹ مثبت آئے،
این سی او سی کے مطابق سندھ میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد89ہزار 225ہوگئی،پنجاب میں کورونا وائرس کیسز کی تعداد 78ہزار956رپورٹ ہوئی،خیبرپختونخوا میں کورونا کیسز کی تعداد27ہزار110ہوگئی،بلوچستان میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 10ہزار666ہوگئی،اسلام آباد میں کورونا کیسزکی تعداد13ہزار195ہوگئی،آزاد جموں و کشمیرمیں کورونا وائرس کیسز کی تعداد ایک ہزار 160ہوگئی،گلگت میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد ایک ہزار 524ہوگئی ہے
پاکستان میں کورونا سے صحتیاب افراد کی تعداد1 لاکھ 13 ہزار 623ہوگئی،گزشتہ 24 گھنٹوں میں 22 ہزار941 ٹیسٹ کیے گئے،
راولپنڈی:ابھرتے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے چوکس رہنا ہوگا:اطلاعات کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ ابھرتے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے چوکس رہنا ہوگا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ نے کور ہیڈ کوارٹرز کراچی کا دورہ کیا جہاں انھیں اندرونی سیکیورٹی اور آپریشنل امور پر بریفنگ دی گئی۔
آرمی چیف نے افسروں اور جوانوں سے بھی ملاقات کی۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ابھرتے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ہمیں چوکس رہنا ہوگا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق آرمی چیف نے کراچی میں امن کے قیام کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اجتماعی کوششوں پر اطمینان کا اظہار کیا۔
آرمی چیف نے دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خراج تحسین پیش کیا۔ بعد ازاں انہوں نے گیرژن، ہیلتھ اور فیلڈ آئسولیشن سینٹر کا بھی دورہ کیا۔
جنرل قمر جاوید باجوہ نے کراچی فارمیشن کی کورونا کے خلاف کوششوں کو سراہا۔ سندھ رینجرز ہیڈ کوارٹرز پہنچنے پر آرمی چیف نے یادگار شہدا پر پھول چڑھائے اور فاتحہ پڑھی۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں بڑی چہ میگوئیاں ہو رہی ہے، کوئی کچھ کچھ کہہ رہا ہوں، اسلام آباد کے کسی ایسے صحافی سے جو تکلیف حد تک نیوٹرل ہو اس سے چند سوال کرتا ہوں کہ کیا چل رہا ہے،بہت ہی پرانے دوست کاشف عباسی کو زحمت دی ہے
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ لوگ سوال کرتے ہیں کہ عمران کی گورننس پر کیا خیالات ہیں، کیا واقعی حالات خراب ہو چکے ہیں یا اپوزیشن شور مچا رہی ہے
کاشف عباسی کا کہنا تھا کہ حالات خراب ہیں بھی، اپوزیشن کا کام ہونا ہے چیزوں کو زیادہ خراب کر کے پیش کرنا، اپوزیشن کا یہ کام ہوتا ہے، چینی کی قیمت کم ہو گئی ہے، پائلٹ، گندم کا کرائسز، پٹرول کا کرائسز، روز ایک نئی چیز آتی ہے، اسکے علاوہ کیا مسئلہ ہے،عمران خان جو وعدے کر کے آئے تھے پبلک ریفارمز کے، ادارے ٹھیک ہوں گے، تھانے کچہریاں ٹھیک ہوں گی،اس طرف بھی کچھ نہیں ہو رہا ، جب سارے اکٹھے کرتے ہیں تو لوگ کہتے ہیں کہ دو سال بعد جو حکومت کی شیٹ بنتی ہے اس میں حکومت پر تنقید کی بہت گنجائش ہے، اس تنقید کا حکومت فائدہ اٹھاتی ہے، اپوزیشن اپنی سیاست کر رہی ہے وہیں تحریک انصاف کی گورننس کا بھی قصور ہے وہ وہ نہیں کر سکی جس کی عوام کو توقع تھی
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ن لیگ پر ہم نے بڑی تنقید کی لیکن ن لیگ نے آشیانہ، لیپ ٹاپ، پیلی ٹیکسی، دانش سکول، جنگلہ بس کیا، انہوں نے اورنج ٹرین کا کیا جس پر ہم نے تنقید کی، پی ٹی آئی سات سال میں بی آر ٹی مکمل نہ کر سکی اور دو سال میں ایک منصوبہ بھی نہیں دے سکی تو عوام کیسے مطمئن ہو گی
کاشف عباسی کا کہنا تھا کہ میں یہی تو کہہ رہا ہوں ووٹر کو کچھ چاہئے ہوتا ہے، میں اور انصار عباسی کے ساتھ لاہور سے واپس آ رہے تھے اس دن ہزارہ کمیونٹی نے موٹروے بند کر دی، ہم وہاں کھڑے ہوئے تو بحث شروع ہو گئی کہ الیکشن ٹائم ہے ،تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن کے حوالہ سے، لوگ کہتے تھے کہ ملک ٹھیک نہیں چل رہا،تو مسلم لیگ ن کے ایک سپورٹر نے کہا کہ آپ جس جگہ کھڑے ہو کر گفتگو کر رہے ہیں یہ موٹروے بھی نواز شریف کی دی ہوئی ہے،لوگوں کو کچھ دیں گے تو لوگ کہہ سکتے ہیں کہ حکومت نے کچھ کیا لیکن جب کچھ نہیں دیں گے تو کچھ نہین ہو گا، ایک سال پہلے خان صاحب کو یہ بات کہی تھی، اب تو کافی عرصے سے ملاقات نہین ہوئی،اب یہ ڈیفنسو پر آ گئے ہیں ، خان صاحب جو کر رہے ہیں تحریک انصاف اسکو ڈیفنڈ بھی نہیں کر پا رہی.
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کیا مائنس والا فارمولا ہے,کاشف عباسی کا کہنا تھا کہ نہیں، میری انفارمیشن ہے، کچھ لوگ ملنے گئے تھے، گفتگو ہوئی اور یہ چیزیں چلتی رہتی ہیں آگے سے انکو کہا گیا کہ کیسز اپنے خود ڈیل کریں گے، حکومت کو ان ڈیفینیٹ پیغام یہ پہنچایا گیا کہ یہ گورننس اپنی کرین، ملک ٹھیک کریں، مائنس ون والی بات نہیں تھی،ملک ان کے ہاتھ میں دے دیا گیا،یعنی آپ کے ہاتھ میں حکومت دی، گورننس ٹھیک کریں، یہ نہین کہا کہ ہم نے حکومت دی یعنی ان کے ہاتھ میں حکومت ہے اس لئے گورننس بہتر کریں، ان کو لے آئیں یا کسی کو نکال دیں اس حوالہ سے جوڑ توڑ والی گفتگو بالکل نہین ہوئی،پاکستان میں کوئی بھی بات لانگ ٹرم نہیں کی جا سکتی، ہر کام کا آج تک پتہ ہوتا ہے، پچھلے کچھ دنوں کا میں قصہ سنا رہا ہوں، اگلے ہفتے میں ہی بدل جائے تو میں کچھ نہیں کہہ سکتا
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کابینہ میں تبدیلی متوقع ہے، لوگ کہہ رہے ہین، جس پر کاشف عباسی کا کہنا تھا کہ آئن سٹائن اور بل گیٹس وغیرہ کابینہ میں آنا چاہ رہے ہیں لیکن بریک لگی ہوئی ہے، اگر کابینہ میں تبدیلی کر بھی دیں گے تو کس کو لے کر آئیں گے جو میٹریل موجود ہے وہ سب کے سامنے ہے، چھ مہینے سال میں مشکل ہو تو تبدیلی کرتے ہین کسی اور کو لاتے ہیں کہ شاید وہ چل جائے، آپ سب سے اچھے لوگ استعمال کر چکے، کہاں سے لائیں گے،کس بندے کو لائیں گے ؟ یہ ضرور ہے کہ ایک کو اٹھا کر دوسری وزارت دے دیں ، اس طرح شاید ہو، یہ کابینہ میں تبدیلی نہیں ہوتی
مبشر لقمان نے سوال کرتے ہوئے کہا کہ کیا موجودہ حکومت کی ناک کے نیچے کرپشن ہو رہی ہے جس پر کاشف عباسی کا کہنا تھا کہ ایک تو کرپشن دو قسم کی ہوتی ہے، ایک بڑی کرپشن جس کا ذکر ہم کرتے آئے ہیں بڑے پروجیکت میں ، دوسری کرپشن گراؤنڈ لیول کی ہے، پولیس آپ سے کچھ لے لے، دونوں صورتوں میں آوازیں مارکیٹ سے آ رہی ہیں کہ کرپشن کچھ پکڑی ہیں،حکومت کا کچھ پروجیکٹ ہے نہیں ایسا اسلیے ابھی تک نہیں سنا لیکن کچھ چیزیں خراب ہو رہی ہین، یہ نہیں ہونا چاہئے پالیسی لیول پر،اور گراؤنڈ کے اوپر تو کرپشن بہت ہے کیا پولیس ، پٹواری کو ٹھیک کر دیا،مسائل تو ہیں، جب سارے مسائل ہین اسکا مطلب کہ جو وعدے کئے تھے کہ میں آؤں گا تو 90 دن میں کرپشن ختم ہو جائے گی وہ نہیں ہوا
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اتحادی حکومت کے خلاف بیان دے رہے ہیں، پرویز الہیٰ،مونس الہیٰ ٹویٹ کر رہے ہیں،ملکر تو بھی مسئلے حل ہو سکتے ہیں یہ پبلک کیوں کر رہے ہیں جس پر کاشف عباسی کا کہنا تھا کہ آپ عمران خان کو جانتے ہیں اور بڑے عرصے سے جانتے ہیں، میں بھی جانتا ہوں لیکن ایک چیز جس پر انہوں نے آگے موو نہیں کرنا، اگر پرویز الہیٰ اور مونس الہیکی اہمیت ہے تو چھوڑ کیوں دیتے، انہوں چھوڑنے دیتا کوئی نہیں،سسٹم چلایا جا رہا ہے، انہی کے نیچے چل رہا ہے اور کچھ عرصہ چلے گا، انکو بھی پتہ ہے کہ وہ سیاستدان ہے، بچہ روئے گا نہیں تو ماں دودھ کیسے پلائے گی، دو بیان دیں تو وزیراعظم ملاقات کے لئے بلا لیتے ہیں، اتحادی بھی یہی کرتے ہیں جب شور کریں گے تو توجہ ملے گی،حکومت میں ہوں تو کرپشن کے کیسز نہیں بنتے، انکا یہ ہے کہ ہم حکومت میں ہیں پھر بھی کیسز بن رہے ہیں
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کیا مونس الہیٰ کا نام نکل جائے گا کیس سے یا رہے گا جس پر کاشف عباسی کا کہنا تھا کہ یہ مستقبل کی بات ہے میں نہیں جانتا کہ کیا ہو گا،مجھے لگتا ہے اس حکومت کا کیس بند کرنا مشکل ہے اگر کوئی سمجھتا ہے کہ کیس ختم ہو گا تو مشکل ہو گا، مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ جسٹس فائز عیسیٰ کا بیان سکائپ پرہو سکتا ہے تو آصف زرداری کو زبردستی کیوں بلایا جا رہا ہے انکا بیان سکائپ پر کیوں نہیں ہو سکتا جس پر کاشف عباسی کا کہنا تھا کہ میں سو فیصد آپ سے متفق ہوں،جسدن شہباز شریف کو گرفتار کرنے کے لئے چھاپے مار جا رہے تھے اسدن بھی کہا تھا کہ کچھ گراؤنڈ ریلیٹیز ہیں، کچھ کی ورڈز ہیں، آصف زرداری، نواز، شہباز انکے پیچھے ہم دوسرے کو بغیر لاجک کے ناس مار کے رکھ سکتے ہیں ،پوچھ لیں، ریکارڈ کر لیں اگر جواب نہیں دیتا، انکار کرتا ہے تو پھر سمجھ میں آتی ہے، گرفتاریاں کرنا وہ بھی کرونا ماحول میں ایسے لوگوں کی جو ہائی رسک ہیں، شہباز شریف کینسر کے مریض ہیں، زرداری صاحب بھی بیمار ہیں،گرفتاریاں نہیں ہونی چاہئے
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ دو دو سال تک لوگوں کو خواجہ سعد رفیق، سلمان رفیق، احد چیمہ انکو اندر رکھا گیا لیکن کیس ثابت نہیں کر سکے، انکو چھوڑ دیں، کاشف عباسی کا کہنا تھا کہ اکثریت کے خلاف ریفرنسز ہی نہیں ہیں، گرفتاری کے بعد ریفرنس ہوتا ہے کہ یہ ثبوت ہے کیس چلائیں اور سزا دیں، دو سال سے حمزہ شہباز اندر ہیں کوئی ریفرنس نہیں ، اب کوئی بات چل رہی ہے، باقی کسی کے خلاف نہیں، ٹی ٹیز کا کیس، سیدھا سادھا ہے، کچھ ریفرنس تو دائر کریں، اندر ہیں اور جب باہر آئے تو کیس ختم، گرفتاری کس لئے کر رہے ہیں
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ میر شکیل الرحمان بھی بے گناہ ہیں ان پر بھی کوئی بات ثابت نہیں ہو سکی، کئی مہینے ہو گئے ہیں، کاشف عباسی کا کہنا تھا کہ آپ نے 40 سال پرانے کیس میں سوال پوچھنا ہے، سب کو جواب دینا چاہئے، اگر کل مجھے اٹھا لیں ، میر شکیل کو اٹھا لیا اور اگر ریفرنس دائر نہ کریں، کیس ثابت نہ ہو تو اسکا جواب کون دے گا، حمزہ شہباز دو سال سے اندر ہیں جواب کون دے گا، کاغذ کے اوپر کچھ سامنے تو آنے چاہئے، کوئی ثبوت ہونے چاہئے، عدالت کو کنوینس کرنا مشکل نہین ہونا چاہئے جن لوگوں کو دو سال سے اندر رکھا ہوا ہے
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ میر شکیل الرحمان کے بارے میں میں نے ایک بات ضرور کہنی ہے، میں نے بڑے پروگرام کئے ہیں لیکن اگر ثبوت ہیں تو چارج کریں اور اگر ثبوت نہیں تو الزام تراشی نہ کریں انکے 18 ہزار ملازمین ہیں سب کا مستقبل تباہ کر رہے ہیں، کاشف عباسی کا کہنا تھا کہ ایک بھی ملازم نہ ہو ،لیکن اسکا رائٹ ہے پروٹیکٹ کرے،مجھے اٹھاتے ہیں اور الزام لگاتے ہیں، سال دو سال تک ریفرنس بھی دائر نہیں کرتے، سزا کے بعد جیل بھیجیں تو سزا یافتہ ہوں،لیکن جب بغیر کچھ ثابت کئے جیل میں ڈالتے ہیں،میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ 3 مہینے میں کیا انویسٹی گیشن ہوئی ، مفتاح اسماعیل کا بیان یاد ہے جس میں انہوں نے کہا کہ انویسٹی گیشن ٹیم کو پابند کریں کہ کم از کم ایک ڈیڑھ گھنٹہ میرے ساتھ بات کیا کریں یہ آتے ہی نہیں
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ شاہد خاقان عباسی نے کہا تھا کہ مین نے ضمانت نہیں لینی میرے اوپر ثابت کرو تا کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے اس پر کسی نے جواب نہیں دیا،جس پر کاشف عباسی نے کہا کہ میں بہت سارے کیسز کو دیکھ کر لگتا ہے کہ کیسز ٹھیک ہیں، آصف صاحب کو دیکھیں کہاں سے شروع ہوئے اور کہاں پہچنے، ہمارے ہاں مسئلہ یہ ہے کہ الزام لگا کر انکو گندہ کر کے اندر ڈال دیتے ہیں لیکن ریفرنس نہیں، اگر ثبوت نہیں، میاں صاحب کیس میں ایک چیز ثابت ہوگی،اگر پراپرٹی نکل آئی تو آپ نے بتانی ہے کہ یہ کہان سے آئی،سٹیٹ نے بھی ثابت کرنا ہے، سٹیٹ پر جو ثبوت ہیں لیکن وہ کر ہی کچھ نہیں رہی، میں ریفرنسز کا انتظار کر رہا ہوں ملک کے بڑے چوروں کو سزا ہو لیکن یہ کیس ہی نہیں بنا رہے اسکا مطلب ہے کہ انکے پاس کچھ نہیں تو پھر جانے دیں
اسلام آباد :نیویارک میں پی آئی اے کی ملکیت ہوٹل کی نجکاری نہ کرنےکا فیصلہ،سابقہ حکومتوں کےتباہ کئےمنصوبے چلا کردکھائیں گے ،اطلاعات کے مطابق کابینہ کمیٹی برائے نجکاری (سی سی او پی) نے نیویارک میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن کی ملکیت روزویلٹ ہوٹل کی نجکاری نہ کرنے اور اسے مشترکہ وینچر کے ذریعے چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔
کمیٹی کا اجلاس مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی زیر صدارت ہوا جس میں نیویارک شہر کے قصبے مین ہٹن میں واقع پی آئی اے انویسٹمنٹ لمیٹڈ کی ملکیت روزویلٹ ہوٹل کی نجکاری کے حوالے سے ایک نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا۔
خزانہ ڈویژن سے جاری بیان کے مطابق کمیٹی نے اکاؤنٹنگ فرم ڈیلوئٹ کی جولائی 2019 کی رپورٹ کی روشنی میں ٹرانزیکشن کے عمل کے آغاز کے لیے نجکاری کمیشن کو مالی مشیر کی خدمات حاصل کرنے کی ہدایت کی۔
اس اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ اس ہوٹل نے ماضی میں کیا کمایا اورکتنا نقصان پہچا اس کی رپورٹ بھی پبلش کی جائے گی
اکاؤنٹنگ فرم نے سفارش کی تھی کہ روزویلٹ ہوٹل کی جائیداد کا بہترین استعمال یہ ہوسکتا ہے کہ اسے مشترکہ وینچر کے ذریعے مختلف طریقے سے استعمال کے لیے دوبارہ تعمیر کیا جائے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ ڈیلوئٹ آئندہ چار ہفتوں میں ہوٹل ٹرانزیکشن سے متعلق اپنی رپورٹ اپ ڈیٹ کرے گی جسے کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
اس کے علاوہ ایوی ایشن ڈویژن کی درخواست پر کابینہ کمیٹی نے روزویلٹ ہوٹل کی جگہ کو لیز پر دینے اور مشترکہ وینچر کے لیے بزنس پلان اور ٹرمز آف ریفرنس تیار کرنے کے لیے گزشتہ سال تشکیل دی گئی ٹاسک فورس کو ختم کرنے کا بھی فیصلہ کیا۔
کمیٹی نے گزشتہ سال نومبر میں ٹاسک فورس کے قیام کی منظوری دی تھی جس کے چیئرمین وزیر نجکاری محمد میاں سومرو تھے، جبکہ اراکین میں وزیر اعظم کے معاون خصوسی زلفی بخاری اور دیگر حکام شامل تھے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز روزویلٹ ہوٹل کی فروخت پر غور کے لیے سی سی او پی اجلاس سے متعلق رپورٹس سامنے آنے کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے اس اقدام کو ‘غلط وقت’ پر شروع کرنے کی مخالفت کی تھی۔
سینیٹ میں پارٹی کی پارلیمانی رہنما شیری رحمٰن نے سوال اٹھایا تھا کہ کیا یہ روزویلٹ کی فروخت کا صحیح وقت ہے جب عالمی وبا کی وجہ سے جائیدادوں کی قیمت میں انتہائی کمی آئی ہے؟ جس کے نتیجے میں پاکستان کا نقصان ہوگا اور ہمیں صحیح قیمت نہیں ملے گی۔انہوں نے کہا کہ یہ اربوں کی اراضی ہے اور جب میں امریکا میں سفیر تھی تو یہ منافع بخش تھا۔
اسلام آباد:پی آئی اے کی طرح تمام قومی اداروں کوتباہ کیا گیا،ہم قومی اداروں کی بحالی کی بات کرتے ہیں وہ اپنے سیاسی آقاوں کوبچانے کی سیاست کرتے ہیں ،اطلاعات کے مطابق شبلی فراز، علی زیدی اور شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ ماضی میں پی آئی اے میں ہونے والے ڈراموں کا پوری قوم کو علم ہے، اداروں کی تباہی میں سیاست دانوں کا بڑا ہاتھ، مشاہد اللہ خان نے ایئر لائنز میں اپنے رشتہ دار لگائے، تحقیقات کے دوران ہر جگہ کرپٹ عناصر کی موجودگی کا انکشاف ہوا۔
وفاقی وزیر برائے بحری امور علی زیدی کا پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ سابق ادوار میں ہر ادارے کو تباہ کیا گیا۔ ہماری حکومت نے تحقیقات شروع کرائیں تو پتا چلا کہ ہر ادارے میں کرپٹ عناصر ہیں۔ اداروں کو تباہ کرنے میں سیاست دانوں کا بڑا ہاتھ ہے۔ انہوں نے پی آئی اے میں جو ڈرامے کئے اس کا پوری قوم کو پتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ 2010ء سے 2018ء کے درمیان 236 افراد مشکوک طریقوں سے بھرتی کیے گئے۔ مارچ 2019ء میں ہماری حکومت نے نئی ایوی ایشن پالیسی متعارف کرائی۔ وعدہ ہے چند ماہ میں سول ایوی ایشن اتھارٹی دنیا کی ٹاپ اتھارٹی بن جائے گی، گندے انڈے نکالیں گے۔ خلاف ضابطہ بھرتیوں میں ملوث افراد کا کڑا احتساب ہوگا۔
علی زیدی کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت عوامی ہے، بے قاعدگیاں چھپا نہیں سکتے۔ کیا یہ دانشمندانہ فیصلہ ہوتا کہ ہم حقیقت چھپا کر رکھتے۔ تھوڑی تکلیف برداشت کرنا ہمارے مستقبل کے لیے ضروری ہے۔ پائلٹ کا معاملہ سیفٹی کا ایشو ہے، سسٹم کو شفاف بنائیں گے۔ ہماری حکومت کی اولین ترجیح مسافروں کا تحفظ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ عزیر بلوچ کی جے آئی ٹی میں لکھا ہے کہ ہم سے قتل کرائے جاتے تھے۔ یہ حکومت جے آئی ٹی چھپانے والی حکومت نہیں، ہم کھل کر بتاتے ہیں کہ عوام سے کس نے زیادتیاں کیں۔ ہمارا وعدہ ہے، انکوائری کو جلد نمٹا دیں گے۔
وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز کا اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ 60ء سے 70ء کی دہائی میں دنیا میں پی آئی اے کا ایک مقام تھا لیکن بدقسمتی سے اس کو برباد کیا گیا۔ گزشتہ دس سے پندرہ سال میں یہ قومی ادارہ زوال پذیر ہوا، ہم اس کے معیار کو بحال کرائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جو پائلٹس اس وقت جہاز اڑا رہے ہیں، وہ سکروٹنی پراسس سے گزر چکے ہیں۔
پریس کانفرنس کرتے ہوئے معاون خصوصی بیرسٹر شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے سول ایوی ایشن حکام کو تحقیقات کا عمل جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ عوام کی حفاظت کے لیے تمام اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ 28 پائلٹس کی حتمی رپورٹ کابینہ میں پیش کر دی گئی ہے جن کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔
شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ 2018ء میں چیف ایگزیکٹو ایئر بلیو کو بھی انہیں معاملات پر سمن جاری کیے گئے تھے۔ شاہد خاقان عباسی ملک کے وزیراعظم ہونے کے ساتھ ایئر بلیو کے چیف ایگزیکٹو بھی تھے۔ پی آئی اے کدھر اور ان کے اپنے پرائیویٹ بزنس کدھر چلے گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں اداروں کی تباہ حالی پر سپریم کورٹ نے بھی سوموٹو نوٹسز لیے۔ اداروں میں ہونے والی بے ضابطگیوں پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ شاہد خاقان عباسی نے ابھی تک سلمان شہباز کو دی جانے والی سبسڈی دینے کا جواب نہیں دیا۔ سابق وزیراعظم نے سلمان شہباز کو 36 گھنٹے میں سمری پاس کرا کے 20 ارب کی سبسڈی دی۔
ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جسٹس فائز عیسیٰ کیس سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کو تسلیم کرتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے معاملے پر ایف بی آر کو تحقیقات کی ہدایت کی۔ اس وقت یہ معاملہ ٹیکس دہندہ اور ٹیکس اتھارٹی کے درمیان ہے۔
ہمارے شہروں کے ماسٹر پلان نہیں،شہر تباہ ہو رہے ہیں، ہم بچائیں گے ، وزیراعظم
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو بے پناہ خوبصورتی دی ہے،
اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ تیزی سے بڑھتی آبادی کے تناظر میں ماحول کا تحفظ بہت ضروری ہے،پروٹیکٹڈ ایریا انیشی ایٹوکے تحت جنگلات کا رقبہ 15 فیصد تک لے جایا جائے گا ،ہم نے اپنی زندگی میں مری اور گلیات کو تباہ ہوتے دیکھا ہے،ملک میں سیاحت کو فروغ دینے کیلئے اقدامات کررہے ہیں،
وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ نیشنل پارک بنانے سے بے روزگار افراد کو روزگارملےگا، سیاحتی علاقے کھولنے سے پہلے ان کیلئے قوانین ہونے چاہئیں،نیشنل پارکس کو محفوظ بنانا اہم منصوبہ ہے،15نیشنل پارکس کا فیصلہ آئندہ نسلوں کیلئے بڑا قدم ہے،گائیڈ لائنز دیں گے کہ کیسے نیشنل پارکس کو محفوظ بنانا ہے ،ابھی تک ہمارے شہروں کے ماسٹر پلان نہیں ہیں ،ہمارے شہر تباہ ہورہے ہیں،
وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ ماسٹراور ٹاوَن پلاننگ کرکے اپنے شہروں کو بھی بچائیں گے،ہم ایسی سیاحت نہیں لے کر آرہے جو شہروں کو تباہ کردے،نایاب جنگلی حیات کو بچانے کیلئے مزید اقدامات کرنے ہیں،
وزیراعظم عمران خان نے آج ملک بھر میں 15 نیشنل پارک منصوبوں کا افتتاح کیا، ہر صوبے میں ایک نیشنل پارک بنایا جائے گا جب کہ ملک میں نیشنل پارکس سروس بھی قائم کی جائے گی۔نیشنل پارکس سروس میں 5 ہزار لوگوں کو براہ راست نوکریاں ملیں گی۔ منصوبے کے تحت بعض پارکس میں جنگلی حیات کو بھی تحفظ ملے گا۔نیشنل پارکس منصوبے میں تفریحی مقامات بنانے کے لیے سرمایہ کاری کی دعوت بھی دی جائےگی