Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • بلاول سے ن لیگی وفد کی ملاقات ختم، قمر زمان کائرہ نے اے پی سی کا اعلان کر دیا

    بلاول سے ن لیگی وفد کی ملاقات ختم، قمر زمان کائرہ نے اے پی سی کا اعلان کر دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پیپلز پارٹی کے چییرمین بلاول زرداری سے ن لیگی وفد کی ملاقات ختم ہو گئی ہے، جس کے بعد قمر زمان کائرہ اور ن لیگی وفد نے مشترکہ پریس کانفرنس کی ہے

    قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ حکومت کے خلاف تحریک کے لئے کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، قومی اسمبلی میں بھی اپوزیشن عوام کے فلاح کے لئے کام کرے گی،کسی ایک ایشو پر نہیں بلکہ تمام ایشو پر ہم متحد ہیں، ن لیگ کے رہنماؤں کو پی پی کی طرف سے خوش آمدید کہتا ہوں ،بڑے اچھے ماحول میں گفتگو ہوئی، عید سے قبل ہوم ورک کر لیں گے عید کے بعد اے پی سی ہو گی

    قمر زمان کائرہ کا مزید کہنا تھا کہ ملاقات میں طے ہوا ہے کہ جوائنٹ اپوزیشن کوارڈینیشن کمیٹی بنائی جائے، کمیٹی میں شاہد خاقان عباسی، ایاز صادق، خواجہ آصف سمیت دیگر شامل ہوں گے، فرحت اللہ بابر، نیئر بخاری، راجہ پرویز اشرف سمیت دیگر شامل ہوں گے، : کمیٹی کا جلد ہی اجلاس ہو گا،عید کے بعد اے پی سی کا انعقاد ہو گا،

    مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی کی میزبانی پر شکر گزار ہوں، شہباز شریف کی ہدایت پر ہم بلاول اور انکی ٹیم کے ساتھ ملنے آئے اور ملکی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا، اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتوں کے مابین ہم آہنگی ہے کہ حکومت نے دو سالوں میں ملک کو جہاں پہنچا دیا، عوام کی زندگی میں مہنگائی ، بے روزگاری، غربت کا زہر گھول دیا، معاشی بحران میں دھکیل دیا، خارجہ پالیسی کے حوالہ سے ملک بحران کا شکار، مقبوضہ کشمیر کے عوام بھارت کے ظلم کا اکیلا مقابلہ کر رہے ہیں انکو ان کے حال پر چھوڑ دیا گیا، ملک میں نفرت اور محاذ آرائی کی سیاست کو فروغ دیا گیا، میڈیا کا گلا گھونٹنے کے لئے صحافیوں اور میڈیا مالکان کو انتقامی ایجنڈے کا نشانہ بنا کر آزادی اظہار رائے کو کچلنے کی کوشش کی، آئینی حکمرانی کے تصور کو ملیا میٹ کیا جا رہا ہے،یہ وہ خطرات ہیں جو پاکستان کی ریاست کی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہے ہی

    احسن اقبال کا کہنا تھا کہ ملک 22 کروڑ عوام کی امنگوں کے مطابق کسی اور راستے پر نہیں چل سکتا، آئین پاکستان ہی واحد راستہ ہے،ماضی میں تجربات نے ملک کو نقصان پہنچایا، معیشت حکومت کی نااہلی کی وجہ سے تباہ ہو گئی ہے، اس حکومت کے قائم رہنے سے داخلی اور خارجی خطرات کا سامنا ہو گا، ہمیں داخلی یکجہتی کی ضرورت ہے لیکن حکومت اتحاد کا شیرزاہ بکھیر رہی ہے، ہم متفق ہیں کہ حکومت سے نجات حاصل کرنا عوامی امنگوں کے عین مطابق ہے، تمام جماعتوں سے مشاورت کے بعد عید کے بعد اے پی سی ہو گی

    احسن اقبال کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کو گنجائش دینے کا مطلب ملک کو اور نقصان ہے،ایف اے ٹی ایف دہشت گردی کے خلاف ایجنڈہ ہے، حکومت فیٹف کی آڑ میں ایسا قانون مسلط کر رہی ہے جو نیب کا باپ نہیں دادا ہے، یعنی 90 دن کے لئے بغیر ریمانڈ کے پکڑ سکیں اور اسکے بعد 90 دن ضمانت نہ ہو، کسی میڈیا والے، تاجر، صحافی کارکن کو بوگس 100 ڈالر کی چٹ بنا کر اقتصادی دہشت گردی کی دفعہ لگا کر 180 دن کے لئے جیل میں ڈال دیا جائے گا، فیٹف کا قانون جو حکومت بنا رہی ہے ثابت کریں کہ کسی ملک مین ایسا قانون موجود ہے، افغانستان میں بھی ایسا قانون نہین ہے، انٹرنیشنل کمیونٹی کا نام لے کر کالے قانون مسلط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ہم مزاحمت کریں گے، ہم کسی طور پر ایسی اجازت نہین دیں گے،اس سے قوم نئی دلدل میں پھنسے گی، عوام کی سیاسی حقوق صلب کر لئے جائیں گے.

    جس وقت دہشتگردی کے خلاف جنگ ہو رہی تھی کیا ایسی حرکت ہو سکتی تھی؟ یوسف رضا گیلانی کا سینتھیا کے دعویٰ پر جواب

    ریپ واقعہ کا میری فیملی کو بھی پتہ نہیں تھا، میں پاکستان کے مثبت پہلوؤں کو اجاگر کر رہی تھی لیکن پی پی قیادت نے مجھے رسوا کیا ، سینتھیا

    امریکی خاتون سنتھیا کے رحمان ملک پر ریپ کے الزامات ، رحمان ملک کے بیٹوں نے بڑا اعلان کر دیا

    سینتھیا کے خلاف اندراج مقدمہ کی درخواست پر ایف آئی اے نے ایسا جواب جمع کروایا کہ پی پی رہنما ہوئے پریشان

    مشکوک خاتون دنیا کو بتا رہی ہے کہ پاکستانی ایک جنسی درندہ قوم ہیں.شاہ اویس نورانی

    رحمان ملک ان ایکشن، الزامات پر سینتھیا کو 50 ارب ہرجانے کا دوسرا نوٹس بھجوا دیا

    ق لیگ تو صرف سامنے تھی،حکومت ختم کرنے کی یقین دہانی کس نے کروائی تھی، مولانا فضل الرحمان

    مولانا کے دھرنے کے وقت پرویزالہیٰ نے وزیراعظم کو کیا کہا تھا؟ چودھری شجاعت نے کیا اہم انکشاف

    قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ نیب کے ہتھکنڈے بہت بڑھتے جا رہے ہیں، آج بھی پی پی کے خورشید شاہ جو سینئر ہیں وہ قید ہیں، وہ تمام جماعتوں کو اکٹھا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، وہ دس ماہ سے جیل میں ہیں، کیس ٹرائل نہین ہو رہا اور الزامات وہی ہیں جو 2003 میں لگے، بلا وجہ کیس میں انکو پکڑ کر رکھا گیا ہے، حمزہ شہباز طویل عرصے سے جیل میں ہیں، ہماری قیادت پر دباؤ بڑھانے کے لئے یہ ہتھکنڈے استعمال کئے جا رہے ہیں

  • بدنام زمانہ ڈاکو ویرپن کی بیٹی ودیا ویرپن بی جے پی تامل ناڈو یوتھ ونگ کی نائب صدر بن گئی

    بدنام زمانہ ڈاکو ویرپن کی بیٹی ودیا ویرپن بی جے پی تامل ناڈو یوتھ ونگ کی نائب صدر بن گئی

    بھارت میں حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی نے بدنام زمانہ ڈاکو ویرپن کی بیٹی ودیا ویرپن کو تامل ناڈو یوتھ ونگ  کا نائب صدر بنادیا ہے۔انڈین ایکسپریس کے مطابق، دو ریاستوں(کرناٹک اور تمل ناڈو) اورویسٹ  گھاٹ کے پورے جنگلی علاقے میں ویرپن کی دہشت تھی۔ اس پر پولیس اور محکمہ جنگلات کے افسران سمیت 150 سے


    زیادہ  لوگوں کو قتل کرنے کا الزام لگایاجاتا ہے جب کہ اس کے ساتھ ہی اس پر 100سے زیادہ  ہاتھیوں کے شکار کا بھی الزام ہے۔ حالانکہ، اس کی پہچان چندن اسمگلر کے طورپر تھی۔ اس کو سال 2004 میں پولیس نے ایک مقابلے  میں مار دیا تھا۔اب ویرپن کی29سالہ بیٹی ودیا ویرپن بی جے پی کے تامل ناڈو یوتھ ونگ کی نائب صدر بنائی گئی ہیں۔ مقامی یونیورسٹی سے لا گریجوایشن کرنے والی ودیا کرشناگری میں بچوں کے لیے ایک اسکول بھی چلاتی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ان کی تقرری ایک نئے مستقبل کااشارہ ہے۔ انہوں نے کہا، ‘میں کسی خاص کمیونٹی سے نہیں جڑی ہوں، میراانسانیت میں بھروسہ ہے اپنے والد ویرپن کے بارے میں بات کرتے ہوئے ودیا نے کہا، ‘میں نے اسکول کی چھٹیوں کے دوران انہیں صرف ایک بار دیکھا تھا، جب میں کرناٹک میں ہنور کے پاس گوپی ناتھم میں اپنے دادا کے گھر پر تھی۔ وہاں قریب ہی ایک جنگل تھا، تب میں مشکل سے چھ یا سات سال کی تھی۔ جہاں ہم کھیلتے تھے، وہاں وہ آئے اور کچھ دیر مجھ سے بات کی پھر چلے گئے۔ مجھے یاد ہے کہ انہوں نے کہا تھا کہ اچھا کام کرو، ڈاکٹر بننے کے لیے اچھے سے پڑھو اور لوگوں کی خدمت کرو۔’ انہوں نے کہا، ‘لیکن جب وقت کے ساتھ میں دنیا کو سمجھنے لگی تب وہ اپنی زندگی جی چکے تھے۔ میرا ماننا ہے کہ یہ ان کے آس پاس کے حالات  تھے جس نے انہیں ایک غلط راستہ چننے کے لیے مجبور کیا۔ لیکن ان کی کچھ کہانیاں مجھے سماج کی خدمت کرنے کے لیے حوصلہ دیتی ہیں۔

  • اثاثوں کو عوام کے سامنے پیش کرنے کی روایت عمران خان کی ہدایت پر تحریک انصاف نے ڈالی

    اثاثوں کو عوام کے سامنے پیش کرنے کی روایت عمران خان کی ہدایت پر تحریک انصاف نے ڈالی

    وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان ميں پہلے بھی بہت سی شخصیات حکومتوں میں اہم ذمہ داریاں نبھاتی رہی ہیں لیکن اثاثوں کی تفصیلات کو عوام کے سامنے پیش کرنے کی روایت عمران خان کی ہدایت پر تحریک انصاف نے ڈالی۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ جہاں تک دوہری شہریت کا تعلق ہے تو ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ قانون اور آئین اس سلسلے میں کیا کہتا ہے؟ قانوناً کوئی بھی دوہری شہریت کا حامل شخص قومی اسمبلی اور سینیٹ کا ممبر نہیں بن سکتا لیکن کسی بھی دیگر عہدے کے حوالے سے ایسی کوئی قدغن قانوناً موجود نہیں۔ مفادات کے تصادم سے بچنے کیلئے جس قدر واضح پالیسی تحریک انصاف نے اپنائی ہے وہ آج تک کسی جماعت نے نہیں اپنائی تاکہ کوئی شخص اپنے منصب کو اپنی ذاتی یا معاشی بڑھوتری کیلئے بروئے کار نہ لا سکے۔ انہوں نے کہا کہ میری رائے میں جمہوری روایات میں عوام کے منتخب نمائندوں کی حثیت افضل ہوتی ہے کیونکہ انہیں عوام کا اعتماد حاصل ہوتا ہے دوسری طرف امور سلطنت چلانے کیلئے آپ کو مختلف شعبہ جات کے ماہرین کی بھی ضرورت ہوتی ہے جو حکومت کی معاونت کر سکیں اور ایسا پوری دنیا میں ہوتا ہے۔ آئین کی رو سے وزیراعظم پانچ ایسے مشیر تعینات کر سکتا ہے گذشتہ ادوار میں بھی مشیران رکھے گئے اور عمران خان نے بھی قانون کے مطابق مشیران /ٹیکنو کریٹس تعینات کیے۔ وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر تحریک انصاف نے حکومتی عہدیداروں کی دوہری شہریت اور اثاثوں کو ظاہر کرنے کی نئی روایت ڈالی ہے جو ماضی میں آپ کو نظر نہیں آئے گی۔

  • پاکستان میں کرونا کے وار جاری، گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 31 اموات،1587 نئے مریض

    پاکستان میں کرونا کے وار جاری، گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 31 اموات،1587 نئے مریض

    پاکستان میں کرونا کے وار جاری، گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 31 اموات،1587 نئے مریض

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرونا کا پھیلاؤ جاری ہے،گزشتہ 24 گھنٹوں میں 31 اموات ہوئی ہیں جبکہ 1587 نئے مریض سامنے آئے ہیں

    پاکستان میں کورونا وائرس سے اموات کی مجموعی تعداد 5599 ہو گئی ہے جبکہ مریضوں کی تعداد 2 لاکھ 63 ہزار 496 ہو چکی ہے، دو لاکھ پانچ ہزار 929 کرونا مریض صحتیباب ہوچکے ہیں۔

    کرونا وائرس کے حوالہ سے بنائے گئے نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران 19 ہزار 108 ٹیسٹ کیے گئے۔ ملک بھر میں کورونا کے 17 لاکھ 40 ہزار 768 ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔

    سندھ میں 7 ہزار 977، پنجاب میں 7 ہزار 24، خیبر پختونخوا میں 2 ہزار 275، بلوچستان میں 194، آزاد کشمیر میں 277 اور اسلام آباد میں ایک ہزار 259 میں ٹیسٹ کئے گئے۔ گلگت بلتستان میں 102 کورونا ٹیسٹ کیے گئے۔

    سندھ میں کورونا مریضوں کی تعداد ایک لاکھ 12 ہزار 238 ہوگئی ہے،خیبرپختونخوا میں کورونا مریضوں کی تعداد 31890 ہو گئی ہے۔ بلوچستان میں 11424، اسلام آباد میں14576، آزاد جموں و کشمیرمیں 1888 گلگت میں 1807 اور پنجاب میں 89,793 کورونا مریض ہیں۔

    پنجاب میں کورونا وائرس سے جاں بحق افراد کی تعداد 2 ہزار 83، سندھ میں ایک ہزار 993، خیبر پختونخوا میں ایک ہزار 142، اسلام آباد میں 159، بلوچستان میں 132، آزاد کشمیر میں 47 اور گلگت بلتستان میں 43 ہو چکی ہے۔ پاکستان میں کرونا کے ایکٹو کیسزکی تعداد 53 ہزار 555 ہے۔

  • سکھوں کی بین الاقوامی تنظیم سکھ فار جسٹس کی قائم کردہ روس میں رجسٹر ویب سائٹ کو بھارتی اثرورسوخ کے باعث بند کر دیا گیا

    سکھوں کی بین الاقوامی تنظیم سکھ فار جسٹس کی قائم کردہ روس میں رجسٹر ویب سائٹ کو بھارتی اثرورسوخ کے باعث بند کر دیا گیا

    دنیا بھرمیں بسنے والے سکھوں کی طرف سے اپنے الگ ملک خالصتان کے قیام کے لئے کروائے جانے والے ریفرنڈم ٹوئنٹی 20 کی رجسٹریشن کے حوالے سے سکھوں کی بین الاقوامی تنظیم سکھ فار جسٹس کی قائم کردہ روس میں رجسٹر ویب سائٹ کو بھارتی اثرورسوخ کے باعث بند کر دیا گیا جس کے بعد سکھ فار جسٹس نے کینیڈا سے نئی ویب سائٹ www.delhibanaygakhalistan.ca کے نام سےرجسٹر کروالی ہے۔ اس ویب سائٹ سے بھارتی حکومت بوکھلاہٹ کا شکار نظرآرہی ہے۔ سکھ فار
    جسٹس کے مرکزی راہنما گورپتونت سنگھ پنوں نے کہا کہ بھارتی حلومت سکھوں کی آواز دبا نہیں سکتی۔ سکھوں کے الگ ملک کے لئے کرائے جانے والے ریفرنڈم کی رجسٹریشن 19جولائی کو نئی دہلی سے شروع کر دی گئی ہے جس کے بعد سکھوں کی طرف سے ریفرنڈم کو کامیاب بنانے کے لئے جوش و خروش مزید بڑھ گیا ہے۔ سکھ فار جسٹس کے رہنما گورپتونت سنگھ پنوں نے کہا ہے سکھ قوم ریفرنڈم2020 کے ذریعے بھارتی دارالحکومت دہلی کو بھی اپنے وطن خالصتان میں ضم کر لے گی۔ سکھ فار جسٹس کے مذکورہ اعلان کے بعد بھارتی خفیہ ادارے متحرک ہو گئے ہیں اور سکھوں کی پکڑ دھکڑ شروع کر دی ہے۔ 

  • اقوام متحدہ ڈارفر ، مشرقی تیمور کی طرح کشمیریوں کو بھی استصواب رائے کا حق دے. شہریارآفریدی

    اقوام متحدہ ڈارفر ، مشرقی تیمور کی طرح کشمیریوں کو بھی استصواب رائے کا حق دے. شہریارآفریدی

    پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی برائے کشمیر کے صدر شہریار خان آفریدی نے اتوار کے روز مقبوضہ جموں و کشمیر کے متنازعہ علاقے میں غیر قانونی فوجی چھاؤنیوں کے اہل بنانے کے لئے نئے قانون بنانے کے لئے بھارتی قابض حکومت کی شدید مذمت کی اور اقوام متحدہ سے اپیل کی کہ وہ اس غیر قانونی عمل کو روکنے کے لئے کارروائی کریں۔ یوم یکجہتی یوم منانے کے لئے نیشنل پریس کلب میں منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے شہریار آفریدی نے کہا کہ نئے قوانین مقبوضہ کشمیر میں آبادیاتی تبدیلیاں لانے کے ہندوستانی منصوبے کا ایک حصہ ہیں جس میں مسلم اکثریتی کشمیر کو مصنوعی طور پر ہندو اکثریتی علاقے میں تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
    آفریدی نے کہا کہ یہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی کے لئے تیار کیا گیا ایک مذموم منصوبہ ہے۔ دنیا کو اب اس ناپاک منصوبے کو روکنے کیلئے عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ اس مذموم منصوبے کے تحت ہزاروں ہندوستانی مزدوروں کو فوجی چھاؤنیاں بنانے کے لئے مقبوضہ کشمیر لایا گیا ہے۔ کشمیرمیں بھارتی فوجی کیمپوں کے گرد وسیع پیمانے پر تعمیرات ہو رہی ہیں۔ ہندوستانی فوج کے دستوں کے لئے ہزاروں رہائشی فلیٹ تعمیر کیے جارہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ تعمیراتی عمل اقوام متحدہ کی قرار دادوں اور اس کے کنونشنوں کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت متنازعہ قرار دئیے گئے علاقے میں ہندوستانیوں کو آباد کرکے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کررہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ دنیا کو بھارت کو خطے میں اس کے مضمرات کے بارے میں نوٹ کرنا چاہئے اور اسے متنبہ کرنا چاہئے۔ آفریدی نے کہا کہ اقوام متحدہ کو مقبوضہ علاقے میں رائے شماری کے انعقاد کے لئے کشمیر سے متعلق اپنی اپنی قراردادوں پر عمل کرنا چاہئے ، انہوں نے کہا کہ اگر اقوام متحدہ کشمیر پر اپنی ہی قراردادوں پر عملدرآمد میں ناکام رہا تو اقوام متحدہ کا حشر لیگ آف نیشن سے مختلف نہیں ہوگا۔آفریدی نے یہ بھی نشاندہی کی کہ ہزاروں ہندوستانیوں کو شہریت کے حقوق دیئے گئے ہیں اور انہی مقبوضہ کشمیر میں منتقل کیا جارہا ہے۔آفریدی نے مزید کہا کہ پچھلے چند ہفتوں کے دوران سینکڑوں غیر مقامی شہریوں کو کشمیر لے جایا جارہا ہے اور وہ ہندوستانی قابض فوج کے کیمپوں کے قریب دور دراز علاقوں میں آباد کئے جارہےہیں۔ اس سے کشمیریوں میں بے چینی بڑھ گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کی طرف سے جابرانہ قبضے کے باوجود ، کشمیری عوام نے پاکستان اور کشمیری عوام نے ساتھ الحاق کی خواہش ترک نہیں کی ، انہوں نے پاکستان سے محبت کا اظہار کیا اور اب بھی بھارت کے مقبوضہ کشمیر میں پاکستانی پرچم لہراتے ہوئے اور "پاکستان زندہ باد” کے نعرے بلند کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری پاکستان سے الحاق اور ہندوستان سے آزادی کے لئے اپنی جدوجہد جاری رکھنے کے لئے پرعزم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان اپنے اصولی موقف کو برقرار رکھتے ہوئے کشمیریوں کو سیاسی اور سفارتی مدد فراہم کرتی رہیگی۔انہوں نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ کشمیر سے متعلق اپنے نامکمل ایجنڈے پر عمل پیرا ہو اور کشمیریوں کے حق خودارادیت (آر ایس ڈی) کو یقینی بنائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کشمیریوں پر وحشیانہ مظالم ڈھا رہا ہے۔ بھارتی جارحیت کشمیریوں کے عزم کو مزید تقویت بخشے گی۔ مقبوضہ کشمیر میں آٹھ لاکھ ہندوستانی قابض فوجی کشمیریوں کی جدوجہد کو دبانے نہیں دے سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پوری دنیا میں کشمیری آج یوم پاکستان الحاق کا دن منا رہے ہیں ، بھارتی قابض افواج مقبوضہ کشمیر میں لاتعداد مظالم ڈھائے ہوئے ہیں ، اور نہتے کشمیری عوام محض پتھروں سے ہندوستان والی فوج کا مقابلہ شہادتوں دیکر کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آزادی کے حصول کے لئے مرد ، خواتین اور بچے شہادت دے رہےہیں ، زخمی ہو رہے ہیں ، جیلوں میں ہیں ، تاکہ اقوام متحدہ اور بین الاقوامی برادری ان کی آوازوں پر توجہ دے سکے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ڈارفور (جنوبی سوڈان) اور مشرقی تیمور کی طرح کشمیریوں کو اقوام متحدہ کے وعدے کے مطابق اپنے سیاسی مستقبل کے فیصلے کے لئے ووٹ ڈالنے کا حق دیا جانا چاہئے۔ لیکن اقوام متحدہ اور عالمی برادری مسئلہ کشمیر پر آنکھیں بند کر رہی ہے۔ آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان اور دیگر نے بھی فورم سے خطاب کیا۔

  • شہبازشریف کا یوم الحاق پاکستان پر کشمیریوں کو خراج تحسین

    شہبازشریف کا یوم الحاق پاکستان پر کشمیریوں کو خراج تحسین

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہبازشریف نے یوم الحاق پاکستان پر کشمیریوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر کی آزادی اور بھارت کی شکست نوشتہ دیوار ہے۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ کشمیریوں اور پاکستان کی منزل ایک ہے، اسی لئے قائداعظم نے کشمیر کو پاکستان کی شہہ رگ قرار دیا۔ کشمیریوں نے قیام پاکستان سے پہلے الحاق پاکستان کا فیصلہ کیا۔ 19 جولائی 1947 کو سری نگر میں مسلم کانفرنس کے نمائندہ اجلاس میں الحاق قراردادپاکستان متفقہ منظور کی گئی ۔کشمیریوں کی اصولی، قانونی اور جمہوری جدوجہد میں ہر پاکستانی کشمیریوں کے ساتھ تھا، ہے اور رہے گا۔ انہوں نے کہاکہ کشمیر اسی طرح کشمیریوں کا ہے جس طرح فلسطین فلسطینیوں کا اور انگلستان انگریزوں کا ہے۔ بھارت کے جبرواستبداد اور ظلم کے ہتھکنڈے کشمیریوں کو ان کے بنیادی نصب العین سے دستبردار نہیں کرسکتے ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری شہداءکو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں، نسل در نسل کشمیریوں نے الحاق پاکستان کا پہرہ دیا ہے، کشمیری اپنے لہوکے نذرانے دے کر قرارداد الحاق پاکستان کی حفاظت کررہے ہیں۔ کشمیری قوم کے حوصلے، عزم واستقلال اور جرات وبہادری تاریخ کا بے مثل باب بن چکی ہے۔ پاکستان کشمیریوں کی آزادی تک ان کی جدوجہد میں ان کے شانہ بہ شانہ رہے گا۔

  • وزیراعظم کے دورہ لاہور کے بعد پنجاب کا اہم وزیر کابینہ سے فارغ

    وزیراعظم کے دورہ لاہور کے بعد پنجاب کا اہم وزیر کابینہ سے فارغ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق صوبائی وزیرجنگلی حیات اسد کھوکھر نے وزارت سے استعفیٰ دے دیا،

    وزیراعظم عمران خان کے دورہ لاہو رکے ایک روز بعد صوبائی وزیراسد کھوکھر کو پنجاب کابینہ سے فارغ کر دیا گیا ، ان کے پاس جنگلی حیات کی وزارت تھی۔ اسد کھوکھر کو وزیر بنانے پر شدید مخالفت سامنے آئی تھی اور وزیر بننے کے باوجود انہیں کوئی محکمہ نہیں دیا گیا تھا ۔

    انہیں چند ماہ پہلے ہی جنگلی حیات کا محکمہ ملا تھا تاہم اب انہیں وزارت کے منصب سے ہٹا دیا گیا ہے

    دوسری جانب اسد کھوکھر کا کہنا ہے کہ وزارت سے ہٹایا نہیں گیا، خود استعفیٰ دیا ہے،ذاتی وجوہات کی بنا پر فرائض سر انجام نہیں دے سکتا۔ وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار نے اسد کھوکھر کا استعفی منظور کر لیا ہے

    واضح رہے کہ پنجاب کابینہ کا یہ پہلا استعفیٰ نہیں ہے، اس سے قبل پنجاب کے صوبائی وزیر خوراک سمیع اللہ خان نے بھی استعفیٰ دیا تھا جسے قبول کر لیا گیا ، بعد ازاں عبدالعلیم خان کو صوبائی وزیر خوراک بنا دیا گیا

  • کشمیری یوم الحاق پاکستان کے موقع پر اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری کے پیغام

    کشمیری یوم الحاق پاکستان کے موقع پر اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری کے پیغام

    مقبوضہ اور آزاد کشمیر سمیت دنیا بھر میں مقیم کشمیری آج یوم الحاق پاکستان منا رہے ہیں،اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصرنے اس موقعہ پر اپنے پیغام میں کہا کہ مسئلہ کشمیر کا حل خطے کے امن اور استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی طرف سے ڈھائے جانے والے مظالم کا نوٹس لے، اسپیکر اسد قیصر نے کہا کہ آزادی کی خاطر کشمیریوں نے لازوال قربانیاں دی ہیں۔وہ دن دور نہیں جب کشمیری عوام آزادی کا سورج طلوع ہوتا ہوا دیکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیربرصغیر کی تقسیم کا نامکمل ایجنڈا ہے۔ عالمی برادری کو کشمیر میں بھارت کی طرف سے ڈھائے جانے والے مظالم کا سختی سے نوٹس لینے کی ضرورت ہے، اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ گزشتہ 11 ماہ سے کشمیر میں بھارت کی فاشسٹ حکومت کی جانب سے جبری لاک ڈاؤن جاری ہے۔72 سالوں سے کشمیری عوام اپنی جدو جہد آزادی کی جنگ لڑ رہیں ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکومت کی جانب سے بھارتی شہریوں کو ڈومیسائل کا اجراء غیر قانونی عمل ہے،اسد قیصرنے اس حوالے سے کہا کہ عالمی برادری بھارتی حکومت کے اس غیر قانونی اقدام کو فوری طور پر رکوانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی نام نہاد جمہوری حکومت نے اپنے ہاتھ ہزاروں کشمیریوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ مسئلہ کشمیر حل نہ ہونے کی وجہ سے خطہ کو جنگ کی دلدل میں دھکیلا جا رہا ہے۔پاکستان کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی کی حمایت اور اصولی موقف سے ایک انچ پیچھے نہیں ہٹے گا، اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ پاکستان کی پارلیمنٹ مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کے لیے پر عزم ہے۔کشمیر میں بھارت کی طرف سے طاقت کے بل بوتے پر قبضہ جدید معاشرے کی اخلاقی اقدار اور عوام کے بنیادی حقِ خودارادیت کے منافی ہے۔

    ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری نے کہا کہ کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی کی تحریک کے لیے کی جانے والی کوششیں راہیگاں نہیں جائیں گی۔کشمیری عوام بہت جلد آزادی کا سورج طلوع ہوتا دیکھیں گے، ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ وہ دن دور نہیں جب کشمیری عوام کو آزادی کی فضا میں سانس لینے کا موقع ملے گا۔ پاکستانی حکومت کشمیری کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی کی تحریک کی مکمل حمایت جاری رکھے گی۔وزیر اعظم عمران خان نے عالمی دنیا کے سامنے کشمیری عوام کا مقدمہ بھرپور انداز میں پیش کیاہے۔عالمی برادری کوکشمیر میں بھارت کی طرف سے ڈھائے جانے والے مظالم اور مقبوضہ کشمیر کی جغرافیائی حیثیت کو ختم کرنے کے عمل کو رکوانا ہو گا۔

  • ہم کشمیریوں کو ان کا حق دلانے کیلئے لڑتے رہیں گے،وزیراعظم

    ہم کشمیریوں کو ان کا حق دلانے کیلئے لڑتے رہیں گے،وزیراعظم

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ آج ہم یوم الحاق پاکستان منارہے ہیں،

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ آج کے دن کشمیریوں نے پاکستان سے الحاق کی قرارداد منظورکی تھی،کشمیریوں کی حق خود ارادیت کی جدوجہد میں ساتھ دینے کےعزم کی تجدید کرتے ہیں،

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ کشمیریوں کا حق خود ارادیت یواین سیکیورٹی کونسل نے تسلیم کر رکھا ہے،ہم کشمیریوں کو ان کا حق دلانے کیلئے لڑتے رہیں گے،کشمیریوں کی بھارتی حکومت کے مظالم کے خلاف جدجہد میں ساتھ دیتے رہیں گے،کشمیریوں کو ایک دن ضرور انصاف ملے گا،

    بہت ہو گیا ،اب گن اٹھائیں گے، کشمیری نوجوانوں کا ون سلوشن ،گن سلوشن کا نعرہ

    یکجہتی کشمیر، قومی اسمبلی میں کشمیر کا پرچم لہرا دیا گیا،علی امین گنڈا پور نے کیا اہم اعلان

    پاکستان کا ہر جوان تحریک کشمیر کا ترجمان ہے،ورلڈ کالمسٹ کلب کے زیر اہتمام یکجہتی کشمیر سیمینار سے میاں اسلم اقبال کا خطاب

    یوم یکجہتی کشمیر،وزیرخارجہ نے کیا عالمی دنیا سے بڑا مطالبہ

    مودی مسلمانوں کا قاتل، کشمیر حق خودارادیت کے منتظر ہیں، صدر مملکت

    یوم یکجہتی کشمیرپرتحریک آزادی بارے مفتیان نے کیا فتویٰ دیا؟ لیاقت بلوچ نے بتا دیا

    کشمیریوں کے قاتل کے ساتھ میں بیٹھوں ،بالکل ممکن نہیں،شاہ محمود قریشی کا بھارتی ہم منصب کی تقریر کا بائیکاٹ

    کشمیر پر دو ایٹمی طاقتیں آمنے سامنے آ سکتی ہیں،وزیراعظم عمران خان کا اقوام متحدہ میں خطاب

    وزیراعظم نے مظلوموں کا مقدمہ دنیا کے سب سے بڑے فورم پررکھ دیا،فردوس عاشق اعوان

    کشمیر پر بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ بڑی کامیابی ہے، وزیر خارجہ

    مقبوضہ کشمیر،کشمیری سڑکوں‌ پر،عمران خان زندہ باد کے نعرے، کہا اللہ کے بعدعمران خان پر بھروسہ

    برہان وانی کی چوتھی برسی، مقبوضہ کشمیر میں حریت کی اپیل پر مکمل ہڑتال

    واضح رہے کہ دنیا بھر میں کشمیری آج یوم الحاق پاکستان منا رہے ہیں، اس دن کو منانے کا مقصد اس عہد کی تجدید کرنا ہے کہ کشمیر پاکستان کا حصہ ہے اور اسکے پاکستان سے الحاق تک جدوجہد جاری رہے گی۔

    مقبوضہ وادی میں کشمیری بھارتی ناجائز تسلط سے آزادی اور پاکستان کے ساتھ الحاق کے لئے برسرپیکار ہیں، انیس جولائی 1947 کو کشمیریوں نے نظریاتی طور پر پاکستان سے رشتہ جوڑ کر الحاق کا فیصلہ کیا، آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس کے اجلاس کے دوران کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کی قرارداد متفقہ طورپر منظور کی گئی۔

    تاریخی قرارداد میں ریاست جموں وکشمیر کے پاکستان سے مذہبی، جغرافیائی، ثقافتی اور معاشی رشتوں کے تناظر میں پاکستان کے ساتھ الحاق پر زور دیا گیا۔

    کشمیر ی اس دن اس عہد کی تجدید کرتے ہیں کہ پاکستان کے ساتھ الحاق تک تحریک جاری رکھی جائے گی۔ جذبہ آزادی سے سرشار کشمیریوں کا آج بھی یہی نعرہ ہے کہ کشمیر بنے گا پاکستان.انیس جولائی1947ء کو سری نگر میں کشمیری رہنماء سردار ابراہیم کے گھر جمع ہونے والے 60 کشمیری رہنماؤں نے متفقہ طور پر پاکستان میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا، وہ فیصلہ جو ہر کشمیری کے دل کی آواز تھا، وہ فیصلہ جو مذہبی، ثقافتی، جغرافیائی اور معاشی حقوق کے تحفظ کیلئے کیا گیا، وہ فیصلہ جو الحاق کے برطانوی فارمولے کے مطابق تو تھا، لیکن بھارتی عزائم سے کسی طور مطابقت نہیں رکھتا تھا۔

    کشمیر کے ہندو ڈوگرا راج کے مہاراجہ ہری سنگھ کو مسلمانوں کا یہ فیصلہ ہضم نہ ہوا، ہری سنگھ نے اکثریتی آبادی کی خواہش کا احترام کیا اور نہ ہی بنیادی انسانی حقوق کا، اور چپکے سے بھارت نوازی کو قبول کرلیا، جس کے بعد پوری وادی میں ایسی بغاوت شروع ہوئی جو آج بھی جاری ہے۔