ایس او پیز پر عمل جاری رہا تو بحران سے نکل آئیں گے،وزیراعظم عمران خان
باغی ٹی وی : وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ انکی ٹیم اسمارٹ لاک ڈاوَن نافذ کرنے والے پہلے لوگوں میں شامل تھی، فخر ہے ساتھیوں نے کورونا بحران میں مدد کی.عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ انشاء اللہ اب سے اگر ہم ایس او پیز پر عمل پیرا ہوں گے تو اس بحران سے نکل جائیں گے۔
پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا کے سبب مزید 83 اموات رپورٹ ہوئیں جس کے بعد اموات کی مجموعی تعداد 4 ہزار 118 ہو گئی ہے۔
سمارٹ لاک ڈاؤن اختیارکرنےوالوں میں میری ٹیم سرفہرست ہے۔مجھےفخر ہےکہ کروناء سے پیدا شدہ بحرانی کیفیت میں وطنِ عزیزکو پیہم درست سمت میں رکھنےکیلئےیہ تدبیر میرےکام آئی۔آج سے اگر ہم ایس او پیز کالحاظ رکھتےہیں توبحران کی سنگینی سے بخوبی نجات پالیں گےانشاءاللہ۔ https://t.co/xC3kBWdxo3
ملک بھر سے کورونا وائرس کے مزید 4 ہزار 72 کیسز رپورٹ ہوئے جس کے بعد متاثرہ افراد کی تعداد 2 لاکھ 2 ہزار 955 ہو گئی۔
نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر کی جانب سے جاری کیے گئے اعدادوشمار کے مطابق ملک بھر میں کورونا سے متاثرہ 86 ہزار 906 مریض صحت یاب ہو گئے۔پاکستان کے صوبہ پنجاب میں کورونا کے اب تک 72 ہزار 880 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔ سندھ میں 76 ہزار 318، خیبرپختونخوا میں 24 ہزار 943، بلوچستان میں 10 ہزار 116، اسلام آباد میں 12 ہزار 206، آزادکشمیر میں 1,003 اور گلگت بلتستان میں ایک ہزار 417 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں.
کورونا وائرس کے باعث سب سے زیادہ اموات پنجاب میں ہوئی ہیں جہاں ایک ہزار 656 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ سندھ میں ایک ہزار 205، خیبر پختونخوا میں 890، اسلام آباد میں 120، گلگت بلتستان میں 23، بلوچستان میں 113 اور آزاد کشمیر میں 28 افراد کورونا وائرس سے جاں بحق ہو چکے ہیں۔
ملک بھر میں 24 گھنٹوں کے دوران 21 ہزار تینتس ٹیسٹ کیے گئے جب کہ مجموعی طور پر 12 لاکھ 14 ہزار 140 ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔
وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں پاکستان میں کورونا کیسز میں مزید اضافہ ہوگا اور اموات بھی بڑھیں گیں۔
باغی ٹی وی : پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا کے سبب مزید 83 اموات رپورٹ ہوئیں جس کے بعد اموات کی مجموعی تعداد 4 ہزار 118 ہو گئی ہے۔
ملک بھر سے کورونا وائرس کے مزید 4 ہزار 72 کیسز رپورٹ ہوئے جس کے بعد متاثرہ افراد کی تعداد 2 لاکھ 2 ہزار 955 ہو گئی۔
نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر کی جانب سے جاری کیے گئے اعدادوشمار کے مطابق ملک بھر میں کورونا سے متاثرہ 86 ہزار 906 مریض صحت یاب ہو گئے۔پاکستان کے صوبہ پنجاب میں کورونا کے اب تک 72 ہزار 880 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔ سندھ میں 76 ہزار 318، خیبرپختونخوا میں 24 ہزار 943، بلوچستان میں 10 ہزار 116، اسلام آباد میں 12 ہزار 206، آزادکشمیر میں 1,003 اور گلگت بلتستان میں ایک ہزار 417 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔
کورونا وائرس کے باعث سب سے زیادہ اموات پنجاب میں ہوئی ہیں جہاں ایک ہزار 656 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ سندھ میں ایک ہزار 205، خیبر پختونخوا میں 890، اسلام آباد میں 120، گلگت بلتستان میں 23، بلوچستان میں 113 اور آزاد کشمیر میں 28 افراد کورونا وائرس سے جاں بحق ہو چکے ہیں۔
ملک بھر میں 24 گھنٹوں کے دوران 21 ہزار تینتس ٹیسٹ کیے گئے جب کہ مجموعی طور پر 12 لاکھ 14 ہزار 140 ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔
وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں پاکستان میں کورونا کیسز میں مزید اضافہ ہوگا اور اموات بھی بڑھیں گیں۔
معان خصوصی ظفر مرزا نے بھی خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں کورونا کیسزاوراموات میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ معاون خصوصی نے کہا کہ اسپتالوں میں وینٹی لیٹرز پر بھی مریضوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوگا۔ ظفر مرزا کا کہنا تھا کہ پاکستان کے گنجان آباد علاقوں میں کورونا وائرس کے کیسز زیادہ ہیں۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ پی آئی اے کی رپورٹ کے مطابق سول ایوی ایشن پر انگلیاں اٹھنا شروع ہو گئی ہیں،اور بہت سے سیکنڈل بے نقاب ہوں گے
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ جس وقت سے منسٹر ایوی ایشن نے اسمبلی میں نام دیئے اسکی بذات خود تحقیق ہونی چاہئے اور منسٹر کو استعفیٰ دینا چاہئے کیونکہ انہوں نے بغیر سوچے سمجھے ایک لسٹ دے دی، یہ لسٹ نکلی کہاں سے ؟ یہ سول ایوی ایشن کے آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ سے نکلی ہے، آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ نے سارا بلیم لائسنسنگ ڈیپارٹمنٹ پر ڈال دیا،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ لسٹ جو آںی تھی اور اس سے جو بدنامی ہونی تھی وہ تو ہو گئی،ایک بھی فیک یا غلط لائسنس ہے،تو وہ بے نقاب ہونا چاہئے، لیکن اگر ایک ہے تو ایک کا ہی نام آنا چاہئے، 262 کا نام نہیں آنا چاہئے،جس کسی کا نام لیتے ہیں تو سوچ سمجھ کر نام لینا چاہئے، منسٹر نے کافی غلط لسٹ دی، یہ جو لسٹ سامنے آئی ہے باغی ٹی وی پر شائع ہو چکی ہے اس لسٹ میں بہت سے ایسے پائلٹ ہیں جو اس دنیا میں نہیں ، ملک میں نہیں، ایئر لائن انڈسٹری میں نہیں
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کل کو جب دو بندے عدالت میں جاتے ہیں اور کسی بھی عدالت میں جا کر کہتے ہیں کہ یہ دس نام تو غلط ہیں میرا بھی اسی طرح ہیں، اس طرح سارے کے سارے نکل جائیں گے، یہ لسٹ ایسے بنائی گئی ہے کہ کچھ صحیح لوگ بھی ہیں،اور کچھ غلط بھی، تاکہ ایک لابی بن جائے، اور غلط بچ جائیں،مجھے یہ لسٹ سمجھ نہیں آئی، اس ملک میں اگر کسی نے لائسنسنگ کا ایشو اٹھایا، سول ایو ی ایشن پر انگلیاں اٹھائیں سب سے زیادہ تو وہ میں ہوں، کسی نے اگر پی آئی اے پر انگلیاں اٹھائی ہیں انکے سسٹم کے اوپر تو میں نے اٹھائی،اگر کوئی اور ہے تو مجھے اسکا نام بتایا جائے تا کہ میں بھی دیکھوں کہ کون ایوی ایشن انڈسٹری پر اتنی ریسرچ کر رہا ہے،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس لسٹ میں کون کون لوگ ہیں، کچھ تو ایسے لوگ ہیں جیسے اے ٹی آر کریش میں پائلٹ آگے چلے گئے اسکا نام ہے، لینڈنگ پوائنٹ جس نے مس کیا اور اے ٹی آر کو کریش کرنے لگی تھیں انکا نام بھی ہے، اور ایسے بڑے لوگوں کے نام ہیں جو مختلف چیزوں میں انوالو ہین، کہیں نہ کہیں یہ لسٹ صحیح بھی ہے ،لیکن جس طرح جھاڑو پھیرا گیا ،سعودی ایئر لائن، سرین، کوئی کسی اور لائن میں ہیں، اب انکے نام لسٹ میں دے دیئے، بیرون ملک میں جتنے پاکستانی ہیں، انکی جاب پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے، اس پر احتیاط برتنی چاہئے تھی،لسٹ کو پہلے سے تیار کرنا چاہئے تھا،
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پہلے تو منسٹر یہ بتائیں کہ دو سال کے اندر انکی کارکردگی کیا رہی ہے،انہوں نے سول ایوی ایشن کے نیشنل کیرئر کے لئے کیا کیا ہے؟ کتنے فلائنگ سکولز شروع ہوئے؟ کتنے نئے ایئر پورٹس بنے؟ کتنی جابز آئیں، وہ سول ایوی ایشن کے آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے دی گئی لسٹ اسمبلی میں پڑھ دیتے ہیں، اور کل کو پوری دنیا میں اسکو اٹھایا گیا ہے، جائز اٹھایا ہے دنیا نے، اب اس میں آپریشن ہوں گے، دو چیزوں کی تحقیق ہونی چاہئے ایوی ایشن کی افرادیت اور ایئر لائن کے آپریشنل پروسیجرز کی،جوغلط کر رہے ہین وہ افراد ہیں،ان دو آرگنائزیشن کی سرزنش کیوں نہیں، پچھلے 12 سال میں جو جعلی لائسنسن بنے انکو اریسٹ کیوں نہیں کیا گیا،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اصل پرچہ تو آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ میں بنتا ہے، نو سے 5 وہاں سوفٹ ویئر کام ہوتا ہے، پیپر آئی ٹی والے فل کرتے ہیں، میں نے اگر پیپر لینا ہے تو آئی ٹی والے کو پیسے لگا دیئے تو وہ اسکو جا کر فل کرتا ہے،وہاں پر پتہ کرنے کے لئے کچھ نہیں کہ امیدوار خود کر رہا ہے یا کوئی اور، اگر ایگزامنیشن کی ویڈیو ہے تو وہ نکالیں تا کہ حقیقت سامنے آئے،ایوی ایشن میں امپورٹڈ لوگ ہیں جنہوں نے نقصان پہنچایا وہ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھے ہین، نہ وہ ذمہ داری لے رہے ہیں بلکہ دوسرے لوگوں پر ڈال رہے ہیں، کل 5 لوگوں کو سول ایوی ایشن میں معطل کیا گیا، صحیح کیا ہو گا،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ مسئلہ ایک اور ہے، 2018 میں ایک انکوائری شروع ہوئی، یہی 5 لوگ تھے،اور اسوقت انہین 5 لوگوں کو معطل کیا تھا، 2019 میں جو رپورٹ آئی تھی وہ انہی لوگوں کے بارے میں تھیں اور انہوں نے ڈیوٹی شروع نہیں کی تھی، دنیا کو دکھانے کے لئے گونگلوؤں پر مٹی جھاڑ دی، جو اصل ذمہ دار ہیں وہ چھپ کر بیٹھے ہیں،اور ایوی ایشن کو برباد کر رہے ہیں ،جب سیکشن آفیسر منسٹری آف ایوی ایشن کا اپنے نام سے لسٹ نکالتا ہے تو اس سے پتہ چل جاتا ہے کہ سیکرٹری ایوی ایشن کتنے قابل آدمی ہیں، اور سیکرٹری ایوی ایشن کو سب سے پہلے اندر کرنا چاہئے، انکی ناک کے نیچے سب کچھ ہو رہا ہے، جو بھی سیکرٹری ایوی ایشن ہیں سب کو پکڑنا چاہئے، جو چن چڑھائے ہیں انہوں نے وہ اب نظر آ رہے ہیں، انکو اندر کرنا چاہئے اور تحقیقات ہوئی چاہئے، جے آئی ٹی یا جوڈیشل کمیشن سپریم کورٹ کے جج کی سربراہی میں ہونا چاہئے
مبشر لقمان کا کہنا تھا ک 16 کریشز ہو چکے ہیں، ابھی تک ایک رپورٹ نہیں آئی، منسٹر نے بتا دیا کہ پائلٹ کا قصور نہین تھا، وہ تیکنیکل فلیئر تھا، اسکے لئے حکومت نے ایوی ایشن نے کیا کیا، لوگوں کو بہلایا جا رہا ہے، لوگوں کو پٹرول کی قیمت کے پیچھے لگا دیا جاتا ہے،سوشل میڈیا ایکٹوسٹ کے ذریعے آٹا چینی دال پر مہم شروع ہوتی ہے، ہم عجیب بحثوں میں پڑ گئے ہیں،ساری چیز کو جب ہم ڈیورٹ کرتے ہین تو یہ انکوائری پر مٹی ڈال دیں گے اور ان لوگوں کو بچانے کی کوشش کریں گے جو ہر دور حکومت میں رہے ہیں
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ انکے بھی نام ہیں جو بادشاہ سلامت اور ملکہ سو گئے تھے کاک پٹ میں راستے میں، مین نے جب بات کی تو کہا گیا کہ جھوٹ ہے، کیپٹن عامر آفتاب سے میری بات ہوئی تو انہوں نے کہا دیکھیں میں انکوائرئ کر رہا ہوں،یورپ سے کوئی ایسی رپورٹ نہیں آئی،دو ہفتے بعد مین نے پوچھا تو کہا کہ آپ نے کنٹریکٹ رینیو کر لیا، دوبارہ آ گئے مبارک ہو، اب تو یورپی ایوی ایشن نے کمپلین کر دی تو انہوں نے کہا کہ یہ سیریس ایشو ہے ہم اسکو دیکھیں گے اور ابھی تک وہ اسکو دیکھ رہے ہیں
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ جنہوں نے گلگت میں غلط لینڈنگ کی، وہ سول ایوی ایشن میں کس کی سالی ہے، جو شہزادی کاک پٹ میں سو گئی تھی وہ کس کی زوجہ محترمہ ہیں،اگر منسٹر ایوی ایشن، سیکرٹری کو نہیں پتہ تومیں بتاؤں گا کیونکہ ہمارا کام بولنا ہے،میں نام بتاتا ہوں، میرے میں حوصلہ ہے کیونکہ ہم نے سچ بولنا ہے، آج میں ایک موقع دے رہا ہوں اور کل سے نام دینا شروع کر دوں گا، یہ لوگ صحیح چیزیں نہیں بتاتے تو اسکا مطلب ہے کہ جرم میں برابر کے شریک ہیں
اسلام آباد:وزیراعظم عمران خان پرخاتون اول سمیت کئی اہم خواتین کاسحرہوچکا ہے ،عظمی کاردار کے بعد ایک اورپی ٹی آئی ورکرانم ممتاز کی آڈیولیک،بڑےانکشافات،اطلاعات کے مطابق پی ٹی آئی کی قیادت سمیت اہم معروف کارکنان کے اہم رازوں سے پردے اٹھنے کا سلسلہ ابھی تھما نہیں کہ ایک اورخاتون ورکزکی طرف سے بڑے خطرناک الزامات لگادیئے گئے ہیں
باغی ٹی وی کے مطابق چند دن پہلے کی طرف جب ممبراسمبلی عظمیٰ کاردار کی طرف سے اہم انکشافات کئے گئے ، آج ایک اوراہم خاتون انعم ممتار کی طرف سے عمران خان اوران کے گرد خاتون اول سے لیکردیگراہم خواتین کے متعلق اہم انکشافات نے پی ٹی آئی کی ساکھ کو بہت زیادہ نقصان پہنچا رکھا ہے ،
ذرائع کے مطابق عظمی کاردار کی طرح انعم ممتار کی بھی آڈیو کال لیک ہوگئی ہے ، جس میں انعم ممتازاس بات کا انکشاف کرتی ہیں کہ خاتون اول سے لیکر بڑی تعداد میں خاص خواتین نے وزیراعظم عمران خان کواپنے سحرمیں جکڑرکھا ہے ، یہی وجہ ہے کہ عمران خان کے فیصلوں پران کا اثردکھائی دیتا ہے
انعم ممتاز کہتی ہیں کہ بہت جلد وہ ان سارے رازوں پرسے پردہ اٹھائیں گی ، ان کا کہنا تھا کہ وہ ان خواتین کا نام پرافشاں کریں گی جنہوں نے وزیراعظم عمران خان کو گھیررکھا ہے،انعم ممتازکہتی ہیں کہ دکھ اس بات کا ہے کہ عمران خان کو بیگانے نہیں اپنے ہی مروا رہے ہیں
ان کا کہنا تھا کہ ان حالات میں وزیراعظم عمرانخان کو کسی اپوزیشن کی ضرورت نہیں ان کے اپنے لوگ ہی ان کی اپوزیشن ہے جو وزیراعظم کو اندھیرے میں رکھ رہے ہیں ، ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کو اس سے بہت زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے ، انعم ممتاز کا کہنا تھا کہ ہوسکتا ہے کہ اس ٹولے کے متعلق اوربھی انکشافات کسی طرف سے آجائیں جو وزیراعطم کے گرد گھیرا ڈال چکا ہے
یاد رہے کہ چند دن قبل ایسے ہی پی ٹی آئی کی نظریاتی ورکرممبرصوبائی اسمبلی عظمیٰ کاردار کی جانب سے بھی بڑے اہم انکشافات کئے گئے تھے ، جس کے بعد ملک میں حکمران پارٹی کے اندرہونے والی توڑپھوڑاورشدید اختلافات کیخبروں سے سیاسی فضا گرد آلود ہوگئی تھی ، بعد ازاں پارٹی نے عظمیٰ کاردار کو پنجاب کی میڈیا کمیٹی کی رکنیت سے فارغ کردیا تھا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرونا کا پھیلاؤ جاری ہے، گزشتہ 24 گھنٹوں میں 74 اموات ہوئی ہیں جبکہ 3138 نئے مریض سامنے آئے ہیں
پاکستان میں کورونا کے مریضوں کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 98 ہزار 745 تک پہنچ گئی جبکہ اموات کی مجموعی تعداد 4 ہزار 35 ہوگئی ہے
کرونا وائرس کے حوالہ سے بنائے گئے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 3 ہزار 138 نئے مریض سامنے آئے، پنجاب میں 72 ہزار 880، سندھ میں 76 ہزار 318، خیبر پختونخوا میں 24 ہزار 943، بلوچستان میں 10 ہزار 116، گلگت بلتستان میں ایک ہزار 417، اسلام آباد میں 12 ہزار 206 جبکہ آزاد کشمیر میں ایک ہزار 3 کیسز مریض ہیں
پاکستان میں اب تک 12 لاکھ 14 ہزار 140 افراد کے ٹیسٹ کئے گئے، گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 21 ہزار 33 نئے ٹیسٹ کئے گئے، اب تک 86 ہزار 906 مریض صحتیاب ہوچکے ہیں جبکہ 2 ہزار 729 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے،
پاکستان میں کورونا سے ایک دن میں 74 افراد جان کی بازی ہا رگئے جس کے بعد جاں بحق افراد کی مجموعی تعداد 4 ہزار 35 ہوگئی ہے، پنجاب میں ایک ہزار 656، سندھ میں ایک ہزار 205، خیبر پختونخوا میں 890، اسلام آباد میں 120، گلگت بلتستان میں 23، بلوچستان میں 113 اور آزاد کشمیر میں 28 مریض جان کی بازی ہار چکے ہیں
پی آئی اے کے جعلی لائسنس والے پائلٹ کی فہرست باغی ٹی وی نے حاصل کر لی
باغی ٹی وی کو ان پائلٹوں کے نام موصول ہوئے ہیں جو ممکنہ طور پر جعلی لائسنس رکھنے والے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن (پی آئی اے) کے پائلٹوں کی فہرست میں شامل ہوسکتے ہیں۔
باغی ٹی وی کے ذرائع کے مطابق ، یہ پی آئی اے کے پائلٹوں کی فہرست ہے جو ممکنہ طور پر جعلی اور ‘مشکوک’ لائسنس لینے والے پائلٹوں کی فہرست میں شامل ہیں۔
کراچی میں پی آئی اے طیارہ حادثے کی ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ ملک کے 30٪ پائلٹوں کے پاس جعلی لائسنس موجود ہیں،
پاکستان کی قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے ، ہوا بازی کے وزیر غلام سرور خان نے کہا کہ ملک کے پاس 860 فعال پائلٹ ہیں جن میں سے 262 کے پاس جعلی لائسنس ہیں اور وہ جہاز اڑانے کے قابل نہیں.
تاہم ، اطلاعات کے مطابق ، پی آئی اے نے مشتبہ اور جعلی لائسنسن رکھنے والوں کے خلاف اب کاروائی کا فیصلہ کیا ہے اور انکے ہوائی جہاز اڑانے پر پابندی عائد کر دی ہے، حکومت نے ان تمام پائلٹوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو لائسنس کے بغیر کام کر رہے تھے.
مودی نے بھارت توڑنے کی بنیاد ڈال دی،گلوان کے بعد بھارت جلد سیاچن اور کارگل بھی کھو دے گا،مبشر لقمان کے اہم انکشافات
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی ایک انتہا پسند ، ظالمانہ ، اور ضدی آدمی ہیں۔ اس کا آر ایس ایس نظریہ ہر ایک پر واضح ہے۔
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ہندوستانی مسلمان اور اقلیتیں خوفناک حالت میں زندگی گزار رہی ہیں۔ بھارت کو بنگلہ دیش ، نیپال ، پاکستان اور چین ساتھ تناؤ کا سامنا ہے۔
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ خالصتان کی تحریک تیزی پکڑ رہی ہے اور جلد ہی علیحدگی کی تحریک زوروں پر ہوگی اور کشمیر کی آزادی اپنے آخری مراحل میں ہے۔بھارت لداخ میں سڑکیں ، گولہ بارود ڈپو ، فضائی اڈوں کی تعمیر کر رہا ہے اور اس کا ارادہ تھا کہ وہ راستہ بنائے اور پاکستان اور آزاد کشمیر پر حملہ کرنے کے لئے ایک مضبوط اڈہ قائم کرنے کی کوشش کرے لیکن لداخ میں چین کی بروقت مداخلت نے اس فائدہ مند اونچی زمین کو بھارت سے لے لیا اب وہ براہ راست سپلائی کے لئے سائی چین تک رسائی حاصل نہیں کرسکتے ہیں اور مقبوضہ کشمیر سے رابطہ بھی متاثر ہے۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ہندوستان کے سابق آرمی چیف دوہری سرحدوں پر لڑنے کی ہندوستانی صلاحیت کو بڑھا رہے ہیں لیکن چین نے بھارتی تیاری اور صلاحیت کو بے نقاب کردیا ہے۔ 45 سال پہلے چین نے ہندوستان کے ساتھ جنگ کی تھی اور اس وقت ان کو اچھی طرح سے شکست دی تھی اور اب ایک بار پھر انہوں نے اپنی فوج ، ٹینک ، گولہ بارود سرحد پر لایا اور فوج کو بڑی تعداد میں جمع کر لیا جس سے بھارت خوفزدہ ہے
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ایک معاہدے کے تحت دونوں فوجوں کو ہتھیار لے جانے کی اجازت نہیں ہے اسکے باوجود چینی فوج نے بھارتی فوج کو زبردست شکست دی ہے۔ ہندوستان نے کسی قسم کے نقصان کی تردید کی ہے اور نہ ہی انہوں نے اپنے فوجی عہدیداروں کی گرفتاری کو قبول کیا ہے۔ چینی فوج کے ذریعہ بھارتی فوج کے افسران کی گرفتاری کے بارے میں میڈیا پر جاری خبروں کے بعد ہی ، ہندوستانی فوجیوں کو یہ قبول کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں بچا تھا کہ انھیں جانی نقصان ہوا اور ان کے فوجیوں کو پکڑ لیا گیا۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ بین الاقوامی سیاست بدل رہی ہے ، دوست اور دشمن بھی بدل رہے ہیں۔ ہندوستان ٹوٹ پھوٹ کے دہانے پر ہے ، اس کی فوج تقسیم ہے ، اوربھارت میں مذہبی تقسیم بھی عروج پر ہے۔
اسلام آباد: جہاں 262 پائلٹس سابقہ حکمرانوں لوگوں کومارنے کے لیے بھرتی کئے :بوگس امتحان ،لائسنس مشکوک ہیں: وزیر ہوا بازی غلام سرورخان کا انکشاف,وفاقی وزیر برائے ہوا بازی غلام سرور خان کا کہنا ہے کہ 262 پائلٹس کے لائسنس مشکوک ہیں، پی آئی اے کے 141 ، سیرین ایئر کے 10 اور ایئر بلیو کے 9 کپتان شامل ہیں۔ قومی ایئر لائنز کے 148 پائلٹ گراؤنڈ، 128 کے خلاف انکوائری مکمل کر لی ہے، جعلی لائسنس جاری کرنے والے 5 افسر معطل کر دیئے، تمام بھرتیاں گزشتہ دو ادوار میں ہوئیں۔
اسلام میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے 2023 تک پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کو دنیا کی ذمہ دار ایئرلائن بنانے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ادارے میں 28 پائلٹس کے جعلی لائسنس کی تصدیق ہوچکی ہے۔
24 نیوز کے مطابق غلام سرورخان کا کہنا تھا کہ جتنے بھی پائلٹس ہیں، جن لوگوں کے خلاف انکوائری ہوئی، یا جو لوگ ریکروٹ ہوئے یہ سب سے 2018 سے پہلے کے لوگ ہیں۔ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ 2018 کے بعد ہم نے پی آئی اے یا ایوی ایشن ڈویژن میں نہ کوئی نئی بھرتی کی ہے اور نہ ہی اس طرح کے کوئی امتحانات لیے ہیں ۔
انہوں نے مزید کہا کہ پچھلے دو ادوار میں جو کچھ ہوتا رہا ہے، بعض لوگ عالمی سطح پر اس کے اثرات اورمنفی پہلو کی بات کررہے ہیں لیکن ایک مریض کا بچانے کے لیے اس کی سرجری اور کیمو بھی ہوتی ہے۔
بات کو جاری رکھتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اصلاحات شروع کردی ہیں، جہاں کچھ غلط ہورہا تھا اس سے ٹھیک کرنے کی کوشش کررہے ہیں، پچھلے دور میں پچھلے چیف جسٹس نے سوموٹو لے کر پی آئی اے کے مختلف شعبوں کے اندر ڈگری چیک کرنے کا حکم دیا تھا جس پر تصدیق کا عمل شروع ہوا ۔
ان کا کہنا تھا کہ تصدیق کے اس عمل میں 2019 تک مجموعی طور پر 648 لوگ کیبن کرو 119، کاک پٹ 16، انجینئرنگ 98 اور جنرل ایڈمنسٹریشن کے 415 لوگ تھے۔
انہوں نے کہا کہ جب پائلٹس کے لائسنسن کی سکروٹنی شروع کی گئی تو پاکستان میں کمرشل پائلٹس 753 ہیں، غیرملکی ایئرلائنز میں کام کرنے پاکستانی پائلٹس کی تعداد 107 اورمجموعی 860 ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پی آئی اے میں 450 پائلٹس کام کررہے ہیں، ایئربلو 87 سیرنے میں 47، شاہین میں 68 تھے، مختلف ایئرلائنز اور فلائنگ کلبز میں 101 کے لگ بھگ پائلٹس کام کرتے ہیں اور مجموعی تعداد 753 ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جن پائلٹس پر سوالات اٹھائے گئے ہیں وہ 262 ہیں، پی آئی اے میں 141، ایئربلیو کے 9، 10 سرینے، سابق شاہین کے 17 اور دیگر85 ہیں۔ یہ سارے مشتبہ ہیں، 121 پائلٹس ایسے ہیں جن کے فرانزک کرنے کے بعد پتہ چلا کہ ان کا ایک پرچہ بوگس تھا اور ان کی جگہ کسی اور نے بیٹھ کر پرچہ دیا۔
غلام سرور خان کا کہنا تھا کہ دو بوگس پرچے والے پائلٹس 39، تین بوگس پرچے والے 21، 4 بوگس پرچے والے 15، 5 بوگس والے 11، 6 بوگس پرچے والے 11، 7 بوگس پرچے والے 10 اور 8 بوگس پرچے والے 34 پائلٹس ہیں جبکہ مجموعی پرچے 8 ہوتے ہیں۔
وزیرہوابازی نے کہا کہ لائسنس کی بھی اقسام ہوتی ہیں، ایک کمرشل پائلٹس لائسنسن (سی پی ایل) اور دوسرا ایئرلائن ٹرانسپورٹ پائلٹس لائسنس (اے ٹی پی ایل) ہے۔
انہوں نے کہا کہ سی پی ایل کی تعداد 109، اے ٹی پی ایل 153 ہیں، یہ سارے مشکوک لائسنس کے حامل ہیں، ان کی فہرست تمام متعقلہ اداروں کو بھیج دی گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پی آئی اے کو 141 پائلٹس کی فہرست دی گئی، ایئربلیو کو 9 پائلٹس کی فہرست دی اورکہا کہ یہ مشکوک ہیں لیکن انہوں نے اس تاثر کو رد کیا، اسی طرح سرینے کو بھی کہا گیا ہے کہ ان پائلٹس کو پروازوں کی اجازت نہیں دی جائے۔
غلام سرور خان نے کہا کہ اس عمل میں سول ایوی ایشن کے جولوگ ملوث تھے، اور 5 لوگوں کو معطل کرکے ان کے خلاف انکوائری شروع کردی گئی ہے اور کریمنل انکوائری کے لیے مشورہ کیا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئی ٹی کے بھی چند لوگ ملوث تھے اور ان کی چھان بین کی جارہی ہے اور 3 یا 4 لوگ بیرونی ہیں لیکن متعلقہ اداروں کو ان کےنام بھی دیے گئے ہیں جن کے خلاف انکوائری ہوگی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ 28 پائلٹس ایسے ہیں، جن کی تمام انکوائریز مکمل ہوئی ہیں، ان میں سے 9 پائلٹس نے اعتراف بھی کرلیا ہے، انہیں برطرف کرنا حکومت کا کام ہے جس کے لیے کابینہ سے اجازت لینی ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ بتانا ضروری تھا کہ یہ سب کچھ 2018 سے پہلے ہوا، 2010 سے لے کر 2018 تک ہوا، پیپلزپارٹی کے دور میں شروع ہوا اور عبوری حکومت تک ان کےامتحانات ہوئے اور تربیت بھی شروع ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا ایجنڈا پی آئی اے کی ری اسٹرکچرنگ ہے، جعلی ڈگری والے 600 سے زائد ملازمین کو سپریم کورٹ کے حکم پر پہلے ہی نکالا جاچکا ہے اور ادارے نے انہیں فارغ کیا۔
غلام سرور خان نے کہا کہ ہم نے حکومت میں آنے کے بعد جعلی ڈگری کی بنیاد پر 280 ملازمین کو نکالاہے اور اب 28 پائلٹس کا کیس کابینہ میں لے کر جارہے ہیں جن کے بارے میں ثابت ہوچکا ہے کہ ان کے پاس جعلی لائسنس تھے۔
انہوں نے کہا کہ ان پائلٹس کے نہ صرف لائسن منسوخ ہوں گے بلکہ نوکریوں سے جائیں گے اور کریمنل کارروائی بھی ہوگی اور صفائی کا عمل اسی سال ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس صفائی کے بعد 2021 کا سال پاکستان کے اداروں کی بہتری کا سال ہوگا اورپی آئی اے 1960، 1970 اور 1980 والی اچھی پی آئی اے ہوگی اور منصوبے کے مطابق 2023 تک 45 جہازوں کی فلیٹ ہوگی جس میں نئے جہاز بھی شامل ہوں گے اور پائلٹس بھی اہل اور تربیت یافتہ ہوں گے۔ پی آئی اے دنیا کی ایک ذمہ دار ایئرلائن بن کر ابھرے گی۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ امریکہ اور ہانگ کانگ کے درمیان تعلقات ہمیشہ سے ہی گہرے تھے،دنیا کی اہم ترین اکنامک پارٹنر شپ میں سے ایک ہے،اگر موجودہ عالمی سیاست میں کوئی تبدیلی آتی ہے تو دونوں پر بڑے گہرے اثرات مرتب ہوں گے
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پچھلے دس سالوں میں امریکہ نے ہانگ کانگ کے ساتھ تجارت سے فائدہ اٹھایا ،2018 میں 33.8 بلین کی تجارت ہوئی اسکا مطلب ہے کہ امریکہ اور ہانگ کانگ دونوں اہم اور منافع بخش تجارتی پارٹنر ہیں،ہانگ کانگ اور امریکہ کے تعلقات یہاں تک کیسے پہنچے یہ جاننے کے لئے ضروری ہے کہ پہلے ہانگ کانگ کو سمجھ لیں
مبشرلقمان کا مزید کہنا تھا کہ ہانگ کانگ وہ اووسیز کمپنیز کے لئے دنیا کا سب سے بڑی مارکیٹ تک پہنچنے کے لئے اہم گیٹ وے ہے ، دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکہ نے چائنہ کے اس شہر میں دلچپسی لینا شروع کر دی تھی،اور ابتدا میں ہانگ کانگ کی جو لوکیشن تھی اس کو اہم شپنگ حب کے طور پر جانا جاتا تھا، 1960 کی آخری دہائی مین امریکہ نے امریکن چیمبر آف کانگریس ہانگ کانگ قائم کیا تو اس سے قبل کئی امریکی تجارتی کمپنیاں یہاں اسٹیبل کر چکی تھیں
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ 1992 میں جب برطانیہ نے ہانگ کانگ کا اختیار واپس چائنہ کو دیا اسوقت سے امریکی سیاستدان اس پر گہری نظر رکھنے لگے یہی وجہ ہے کہ امریکہ نے خاص قانون سازی کر کے اہم قانون پاس کیا جس کو ہانگ کانگ پالیسی ایکٹ کہا جاتا ہے، ہانگ کانگ کو امریکہ کی معیشت کے لئے اہم قرار دیا جاتا تھا یہی وجہ ہے کہ ہانگ کانگ کی برٹش اکانومیز سے الگ ہو بھی چائنہ کے زیر اثر آ کر بھی ہانگ کانگ امریکہ کے ساتھ غیر متنازعہ تجارتی تعلقات قائم رکھ رہا تھا
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ہانگ کانگ کے حوالہ سے اس قانون کو امریکی صدر ہی کالعدم قرار دے سکتے ہیں اسکے علاوہ کسی کو اختیار نہیں، جب ہانگ کانگ کی سپیشن ٹریڈنگ سٹیٹس کی بات کرتے ہین تو اسکا یہی مطلب ہے کہ واشنگٹن ہانگ کانگ کو چائنہ سے الگ مانتا ہے جس کی وجہ سے ہانگ کانگ ان ٹیرف سے بچ سکتا ہے جو امریکہ چائنہ پر لگاتا ہے،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ 1992 ایکٹ میں اہم شق ہے جس میں واشنگٹن ہانگ کانگ کو کنڈیشنل سپورٹ فراہم کرتا ہے اس سے ہانگ کانگ امریکہ، اور اس کے اتحادیوں کے پاس ٹیکنالوجیز تک رسائی حاصل کرتا ہے، ہانگ کانگ میں 1998 تک ہانگ کانگ اور امریکہ میں 24 ارب مالیت کی تجارت تھی اب اور مضبوط ہوئے،ہانگ کانگ میں اب 80 ہزار سے زائد امریکی شہری موجود ہیں جبکہ 13 سے زائد کمپنیز موجود ہیں
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ان کمپنیز میں تقریبا ایک لاکھ افراد ملازمت کرتے ہیں اور ان میں سے 300 امریکن کمپنیز کا ایشیا کے علاقائی ہیڈ کوارٹر کے طور پر استعمال کرتی ہے، ہانگ کانگ کی تجارت کا 40 فیصد ری ایکسپورٹنگ ہے، چائنہ اور امریکہ کے مابین ری ایکسپورٹنگ ہوتی ہے، دو ممالک اپنے مال کو تیسرے ملک کو بیچتے ہیں جہاں سے تیسرے ملک کو بیچا جاتا ہے،اور ایکسپورٹ کروایا جاتا ہے، ہانگ کانگ کو بین الاقوامی تجارت کے لئے مضبوط دیکھا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ امریکہ کا ہانگ کانگ کے لئے ٹریڈ سر پلس کسی بھی ملک کی نسبت زیادہ ہے
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ امریکی بینکس کے تقریبا 148 بلین ڈالر کے اثاثے ہانگ کانگ میں ہیں، ہانگ کانگ امریکن سروسز اور ایکسپورٹ کے لئے اہم ہے، ویسے بھی امریکہ بھی ہانگ کانگ کے لئے اہم ہے،2019 میں ہانگ کانگ کی تمام ایکسپورٹ کا حصہ صرف امریکہ سے تھا جس کی مالیت 27 ملین امریکی ڈالر تھی، ایکسپورٹ کی بات آتی ہے تو ہانگ کانگ کے پاس چائنہ کے بعد سب سے بڑا ایکسپورٹر امریکہ ہے
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ اور ہانگ کانگ میں فارن ڈائریکٹ انویسمنٹ کو دیکھتے ہیں تو باقی ہانگ کانگ امریکہ سے حاصل ہونے والے فوائد حاصل ہونا شروع ہو جاتے ہیں، 2018 مین ہانگ کانگ نے امریکن سرمایہ کاری میں 82 بلین ڈالر کا اضافہ کیا ،ہانگ کانگ کی جو ڈائریکٹ انویسمنٹ امریکہ میں ہوئی وہ 14 سے 16 ارب تھی، یہ اندازہ لگانا مشکل نہین کہ امریکہ اور ہانگ کانگ کا تعلق ناقابل حد تک اہم ہے، اگر کوئی تبدیلی لانے کی عالمی سطح پر کوشش کی جاتی ہے تو دونوں متاثر ہوں گے
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ ناقابل یقین حد تک منافع بخش پارٹنر سے محروم ہو سکتا ہے، امریکہ کو سرمایہ کاری کے لئے دوسرے ممالک میں جانا پڑے گا جس سے ہانگ کانگ کی معیشت کو بھی سخت دھچکا لگے گا، چین امریکہ مین جو جنگ جاری ہے اس مین پھر چین ہانگ کانگ سے ایکسپورٹ نہیں کرے گا ،ا سے امریکہ کی ری ایکسپورٹ متاثر ہو گی، یہ اگر شروع ہوتی ہے تو اس کا فالو اپ انتہائی خوفناک ہو گا
اسلام آباد: پٹرول 25 روپے 58 پیسے مہنگا، قیمت ایک مرتبہ پھر سنچری کراس کر گئی،اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ریکارڈ 25 روپے 58 پیسے تک بڑھا دی گئی ہیں جس کے بعد ایک مرتبہ پھر پٹرول کی قیمت سنچری کراس کر گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت نے آئندہ ماہ جولائی کے لیے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھا دی ہیں، پٹرول کی قیمت میں 25روپے 58پیسے فی لٹر اضافے کے بعد 100 روپے 10 پیسے ہو گئی ہے۔
ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 21 روپے 31 پیسے فی لٹر اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد نئی قیمت 101روپے 46 پیسے ہو گئی ہے۔ مٹی کا تیل بھی 23روپے 50 پیسے مہنگا ہو گیا ہے جس کے بعد مٹی کے تیل کی نئی قیمت 59روپے 6 پیسے فی لٹر ہو گئی ہے۔
دوسری طرف لائٹ ڈیزل کی قیمت میں 17روپے 84 پیسے اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد لائٹ ڈیزل کی نئی قیمت 55 روپے 98 پیسے تک پہنچ گئی ہے۔پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے۔
عام طور پر پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا نفاذ ہر ماہ کی پہلی تاریخ سے ہوتا ہے تاہم نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات 12 بجے سے ہی ہوجائے گا۔
خیال رہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے عالمی منڈی میں تیل کی کھپت کم ہونے سے قیمتیں تاریخ کی کم تریں سطح پر پہنچ گئی تھیں جس کے بعد پاکستان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑی کمی کی گئی تھی۔