باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرونا کے وار جاری ہیں، ملک بھرمیں 24گھنٹے میں کورونا کے1579کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ گزشتہ 24 گھنٹےمیں کورونا سےمزید 46 اموات ہوئی ہیں
ملک بھر میں کورونا مریضوں کی تعداد 2 لاکھ 63 ہزار 496 ہوگئی،ملک بھر میں 2لاکھ سے زائد افراد کورونا سے صحت یاب ہو چکے ہیں،ملک بھر میں کورونا سےاموات کی مجموعی تعداد 5568 ہو گئی ہے
این سی او سی کے مطابق 24گھنٹےکے دوران 22 ہزار 559 ٹیسٹ کیےگئے،سندھ میں 9270اور پنجاب میں 7831ٹیسٹ کئے گئے،خیبر پختونخوامیں 2046اور اسلام آباد میں 2634ٹیسٹ کئے گئے،
سندھ میں کورونا مریضوں کی تعداد ایک لاکھ 12 ہزار 238 ہو گئی، خیبرپختونخوامیں کورونا مریضوں کی تعداد 31890 ہوگئی،بلوچستان میں کورونامریضوں کی تعداد11424 ہو گئی، اسلام آباد میں کورونا سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 14576 ہے،آزاد جموں و کشمیر میں 1888 اورگلگت میں 1807 کورونا مریض ہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم الحاق پاکستان منا رہے ہیں
باغی ٹی وی : دنیا بھر میں کشمیری آج یوم الحاق پاکستان منا رہے ہیں، اس دن کو منانے کا مقصد اس عہد کی تجدید کرنا ہے کہ کشمیر پاکستان کا حصہ ہے اور اسکے پاکستان سے الحاق تک جدوجہد جاری رہے گی۔
مقبوضہ وادی میں کشمیری بھارتی ناجائز تسلط سے آزادی اور پاکستان کے ساتھ الحاق کے لئے برسرپیکار ہیں، انیس جولائی 1947 کو کشمیریوں نے نظریاتی طور پر پاکستان سے رشتہ جوڑ کر الحاق کا فیصلہ کیا، آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس کے اجلاس کے دوران کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کی قرارداد متفقہ طورپر منظور کی گئی۔
تاریخی قرارداد میں ریاست جموں وکشمیر کے پاکستان سے مذہبی، جغرافیائی، ثقافتی اور معاشی رشتوں کے تناظر میں پاکستان کے ساتھ الحاق پر زور دیا گیا۔
کشمیر ی اس دن اس عہد کی تجدید کرتے ہیں کہ پاکستان کے ساتھ الحاق تک تحریک جاری رکھی جائے گی۔ جذبہ آزادی سے سرشار کشمیریوں کا آج بھی یہی نعرہ ہے کہ کشمیر بنے گا پاکستان.انیس جولائی1947ء کو سری نگر میں کشمیری رہنماء سردار ابراہیم کے گھر جمع ہونے والے 60 کشمیری رہنماؤں نے متفقہ طور پر پاکستان میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا، وہ فیصلہ جو ہر کشمیری کے دل کی آواز تھا، وہ فیصلہ جو مذہبی، ثقافتی، جغرافیائی اور معاشی حقوق کے تحفظ کیلئے کیا گیا، وہ فیصلہ جو الحاق کے برطانوی فارمولے کے مطابق تو تھا، لیکن بھارتی عزائم سے کسی طور مطابقت نہیں رکھتا تھا۔
کشمیر کے ہندو ڈوگرا راج کے مہاراجہ ہری سنگھ کو مسلمانوں کا یہ فیصلہ ہضم نہ ہوا، ہری سنگھ نے اکثریتی آبادی کی خواہش کا احترام کیا اور نہ ہی بنیادی انسانی حقوق کا، اور چپکے سے بھارت نوازی کو قبول کرلیا، جس کے بعد پوری وادی میں ایسی بغاوت شروع ہوئی جو آج بھی جاری ہے۔
[advanced_iframe src=”//www.tinywebgallery.com/blog/advanced-iframe” width=”100%” height=”600″]
کابینہ ڈویژن نے وزیر اعظم کےمعاونین اورمشیروں کی شہریت کی تفصیلات جاری کر دیں۔ وزیر اعظم کے15 معاونین خصوصی میں سے 5 دوہری ہریت کے حامل ہیں۔
معاون خصوصی سیاسی روابط شہباز گل امریکی گرین کارڈہولڈرنکلے۔معاون خصوصی اورسیز پاکستانی ذلفی بخاری
بھی دوہری شہریت کے حامل. ذلفی بخاری مستقل برطانوی شہریت رکھتے ہیں۔معاون خصوصی ڈیجیٹل پاکستان تانیہ آئدروس
کےپاس کینیڈا،سنگاپورکی شہریت۔ وزیر
اعظم کے معاون خصوصی پٹرولیم ندیم بابرامریکی شہریت کےحامل ہیں۔وزیراعظم کے معاون خصوصی معید یوسف کی امریکا کی رہائش ہے۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ پچھلے پروگرام میں ہم نے بات کی تھی قربانی سنت ہے یا واجب، مفتی عبدالقوی اور آصف حمید صاحب میرے ساتھ ہی تھے
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ میں آپ کو بتاؤں دین اسلام ایک لفظ میں آ سکتا ہے اگر سمجھ آ جائے اور وہ ہے والعصر، یہ ایک لفظ، آیت ، پورے فیتھ کا مرکب ہے، کیونکہ آپ کو پتہ نہیں آپ کتنے خسارے ، نقصان میں ہیں، ایک تو وہ قسمیں ہیں جو لوگ مذہب میں آسانی پیدا کرتے ہیں،لیکن مذہب میں ایک بات کلیئر ہے کہ آپ کو کرنا ہے یا نہیں کرنا، یا تو آپ مومنین کے ساتھ ہیں یا آپ کفار کے ساتھ، وہ ایک الگ بات ہے، نماز پڑھنی ہے، روزہ رکھنا ہے اس میں کوئی دو رائے نہیں، سود لیتے ہیں تو اس پر تاویل نہیں کر سکتے، آپ خسارہ کر رہے ہیں
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اب لوگوں نے جدتیں پیدا کرنا شروع کر دی ہیں،میں اشتہار دیکھ رہا ہوں کہ آن لائن قربانی ہو رہی ہے، علما دین سے پوچھتا ہوں وہ کہتے ہیں کہ بالکل صحیح ہے کیونکہ انکی کمائی کا سلسلہ بھی چل رہا ہے،لیکن قربانی کے بڑے اصول اور ضوابط ہیں، کر سکتے ہیں یا نہیں یہ الگ بات ہے لیکن ایسے جانور کی قربانی جس کے ساتھ انسنیت نہیں دیکھا نہیں وہ میرے ناقص علم کے مطابق شاید صدقہ میں تو آ جائے،خیرات میں تو آ جائے لیکن شاید قربانی نہیں
آصف حمید کا اس پر کہنا تھا کہ جانور پالا ہوا ہو، انسیت بھی ہو، پھر آپ خود ذبح کرتے ہیں،مطلب آپ محبت کے ساتھ جانور کو ذبح کر رہے ہیں، مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جب لوگ حج کے لئے جاتے تھے تو جانور ساتھ لے کر جاتے تھے قربانی کے لئے جو انہوں نے پالا ہوتا تھا، آصف حمید کا کہنا تھا کہ قربانی کے لئے استطاعت ہو، اور کمائی حلال کی ہو، ہونا کیا چاہئے کہ خود ذبح کریں اگر وہ نہیں ہے تو اسکا مطلب یہ نہیں کہ وہ ضائع، آپ کا مال لگا، خرید کر اللہ کی راہ میں دیا، اگر تقویٰ نہیں ہے تو فائدہ نہیں، کمائی حلال نہیں تو فائدہ نہیں، ہم کہہ دیں کہ اگر اس طرح نہیں کیا تو وہ قربانی نہیں یا سنت ابراہیمی نہیں
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اس پر کوئی اجتہاد نہین ہوا، یا تو آپ لوگ اجتہاد کریں اور مجھے قائل کریں جس پر آصف حمید کا کہنا تھا کہ تعامل یہ نہیں ہوا کہ علما یا کسی اہل دین نے یہ کہا ہو کہ جانور کو جب تک خود نہیں ذبح کروگے تو نہیں کر سکتے جس پر مبشر لقمان نے کہا کہ میں کسی دوست کو مکے ، ریاض میں پیسے بھیج دیتا ہوں اور اسے کہتا ہوں کہ وہ حرم شریف میں میری قربانی کر دے، جس پر آصف حمید کا کہنا تھا کہ ایک علاقہ ہے پاکستان پسماندہ علاقہ ہے، یہاں غریب لوگ ہیں، دوست ہیں انہوں نے کہا کہ ہم قربانی پسماندہ علاقے میں قربانی کریں گے تاکہ اسکا جو مقصد ہے گوشت غریبوں تک پہنچے اور کھال بھی وہیں استعمال ہو
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ عبدالقوی صاحب، آن لائن قربانیاں کروا رہے ہین کیا آسانیاں پیدا کر لی ہیں آپ لوگوں نے،جس پر مفتی عبدالقوی کا کہنا تھا کہ میں ایک جملہ کہتا رہتا ہوں کہ ایک ہے سنت ،ایک ہے شریعت، سنت کے تو وہی آداب ہیں جو آپ کہہ رہے تھے کہ جانور ہو اسکو پالا جائے، ایک ہے آج کا آسان زمانہ، آپ حیران ہوں گے بلکہ خوش ہوں گے، میں 16 سال سے سعودی عرب میں دیکھ رہا ہوں کہ وہاں بچے بیٹھے ہوتے ہیں وہاں 290 ریال جمع کروا دو آپ کی قربانی ہو گئی،وہ پرچی آپ کو دے دیتے ہیں آن لائن قربانی کے حوالہ سے میں بات کروںگا کہ جن اداروں پر ہم اعتماد کر رہے ہیں،
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ سنت بھی ، شریعت بھی،طریقت کہان گئی جس پر مفی عبدالقوی کا کہنا تھا کہ طریقت کا تو علیحدہ مقام ہے،وہ روحانیت کے حوالہ سے ہے،
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ وہ بینک جو دنیا میں سب سے زیادہ سود لے رہا ہے وہ قربانی کروا رہا ہے،جس پر آصف حمید کا کہنا تھا کہ اس سے بھی آگے بڑھیں آپ اسوقت تک حج نہیں کر سکتے جب تک بینک کا سہارا نہ لیں، نظام ہی غلط ہے،مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ میں قربانی خود کر سکتا ہوں تو میں آن لائن یا بینک کے تھرو نہین کر سکتاکیونکہ مجھے سودی نظام کی ضرورت نہیں
مفتی عبدالقوی کا کہنا تھا کہ 1980 سے لے کر علم پڑھا، وہاں سے لے کر آج تک بڑی معذرت کے ساتھ برصغیر میں بڑے بڑے علماء، فقہا آئے جن کا نام لیا جائے تو میرا نام کچھ بھی نہیں، انہوں نے کوئی نظام دیا، اجتماعی قربانی ہو رہی ہے، کرونا وائرس کی وجہ سے اجتماعی قربانی کا مقصد پہلے مدرسے میں دس جانور ذبح ہوتے تھے اب یہ نہ کرو ہمارے پاس آ جاؤ اور اتنے بکروں کے پیسے جمع کروا جاؤ
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ قربانی سنت ابراہیمی ہے، میرے اوپر فرض تو نہیں،تو اگر میں اس رقم کے عوض کسی غریب بچی کی شادی کروا دوں تو وہ کار خیر نہیں جس پر مفتی عبدالقوی نے کہا کہ یہ دونوں علیحدہ عنوانات ہیں، ہمارا دین ایک تسلسل کا نام ہے، اس تسلسل میں دیکھتا ہوں کہ عثمان غنی ہر سال قربانی کرتے ہیں، مفتی عبدالقوی کے اندر یہ عمل ہونا چاہئے کہ قربانی کروں یہ سنت ہے فرض نہیں، دوسرا یہ کہ ساتھ مستحقین کی بھی مدد کروں ، ہمارے ہاں جو سب سے بڑا مسئلہ ہے ہم مولوی اور مسٹر صاحبان کو جب مکس کرتے ہیں تو معاملات میں خرابی آتی ہے، نماز مغرب ہم نے علیحدہ پڑھنی ہے، عشا علیحدہ پڑھنی ہے، قربانی الگ کرنی ہے اور یتیم بچی کی شادی کے لئے بندوبست الگ سے کرنا ہے
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کہ اگر آپ نے اجتماعی قربانی کرنی ہے تو پھر بکرے کی ہی کیوں ؟ اونٹ اور گائے میں حصہ ڈالیں، وہ آسان ہو جائے گا لوگوں کو چلا جائے گا لیکن پھر بکرے کی ہی کیوں آپ کو مٹن چاہئے ناں جس کے بغیر آپ کو مزہ نہیں آتا جس پر آصف حمید کا کہنا تھا کہ اسکی وجہ یہ ہے کہ شاید کچھ ایسے خاندان ہیں جن کو مٹن کھانے کا موقع سال میں ایک بار ملتا ہے،قربانی سنت ہے اور اسکو کریں. مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ میں کہہ رہا ہوں کہ ہم لوگوں میں اس وقت کسی چیز کی کمی ہے تو اجتہاد کی کمی ہے، آن لائن قربانی جائز ہے یا نہیں اس پر اسلامی نظریاتی کونسل ، شریعت کونسل، علما کرام کو بیٹھنا چاہئے تھا اور اجتہاد کرنا چاہئے تھا،کنوینئس اور فرائض کا آپس میں کوئی تعلق نہیں
مفتی عبدالقوی کا کہنا تھا کہ مبشر صاحب میں تو کھلی بات کہوں، ہمارے علماء بڑی معذرت کے ساتھ فرقوں اور اپنے معاملات کے اندر میں ہیں وہ بھی انکا ایک میدان ہے جس پر مبشر لقمان نے کہا کہ وہ عالم تو نہ ہوئے،جس پر مفتی عبدالقوی نے کہا کہ میری اپنی برادری ہے میں انکو عالم کہہ دیتا ہوں، یہ کام آپ کے چینل کی برکت سے ہونا ہے، ہر زمانے میں اللہ کچھ افراد کا انتخاب کرتے ہیں، قرآن بھی یہی کہتا ہے کہ ایک جماعت ہوتی ہے، آپ کے چینل کو اللہ نے اعزاز دینا ہے کہ اجتہادی مسائل کو پہنچائیں گے، مدارس کے جتنے لوگ ہیں وہ کرونا وائرس کو بنیاد بنا کر اجتماعی قربانی کا مطلب یہ ہے کہ پہلے اگر میرے مدرسے میں دس جانور ہوتے تھے تو آن لائن کی وجہ سے بیس تیس ہو جائیں، آن لائن قربانی کیسے ہو ، سنت کے مطابق ، شریعت کے مطابق کیسے ہے، کونسی شرائط ہے ، کسی عالم کو اس پر گفتگو کرنے کی ضرورت نہیں
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ میں نے ذبح خانوں پر جا کر پروگرام کئے اور دیکھا جس طرح وہ چھری پھیر رہے ہوتے ہیں بلا مبالغہ کوئی تکبیر نہیں پڑھی جا رہی،سعودیہ،یو اے ای کے حوالہ سے کسی نے بتا یا کہ سپیکر پر تکبیر چل رہی ہوتی ہے اور وہ چھری پھیرے جا رہے ہوتے ہیں کیا مذاق بنا دیا ہے مذہب کو، حلال اور حرام کی تمیز ہی نہیں، اور علما اس پر چپ بیٹھے ہیں، جس پر آصف حمید کا کہنا تھا کہ ایشو کو اچھے انداز میں اٹھانا اور علماء کو اس پر غور کرنا چاہئے،اللہ نے دین میں آسانی رکھی ہے، سفر میں قصر نماز ہے، بیماری میں بیٹھ کر یا لیٹ کر نماز پڑھنے کی اجازت ہے، فرائض میں آسانی دی گئی ہے، جہاں تک آن لائن قربانی کی بات ہے اسکا تعلق قربانی کو حلال اور حرام کرنے کی جو مذبح خانے کا جو ایشو ہے وہ تکبیر یا غیر تکبیر یا کسی اور کا نام لینا، جو حرام کرتی ہے، اگر آن لائن ہے تو شرعی تقاضے پورے کئے جائیں، اگر میں جا کر قربانی نہین لے سکتا تو میں کم از کم کل خیر سے محروم تو نہ رہوں، تکبیر پڑھ کر ذبح ہونی چاہئے، ایشوز پر بات ہونی چاہئے، علماء آن لائن کو حرام یا حلال کرنے سے پہلے یہ سوچیں کہ اگر پروٹوکول پراپر کئے جا رہے ہیں تو وہ ٹھیک ہے
مفتی عبدالقوی کا کہنا تھا کہ جو بات مبشر صاحب کہہ رہے تھے وہ دونوں ٹھیک کہہ رہے ہین انکے کہنے کا مقصد کہ دین میں آسانی ہے اور خود دین نے ہی وضاحت کر دی ہے، جہاں اجتہادی مسائل ہیں وہاں اسلام نے آسانی پیدا کی؟ اگر آسانی پیدا کی تو اس میں شریعت کی اجازت نہیں، بحیثیت عالم ہمارا کردار کیا ہے
آصف حمید کا کہنا تھا کہ سواری پر بیٹھ کر دعا پڑھنی ہے اونٹ ہو یا کار،جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کہ قربانی قربانی سمجھ کر لوگ گھر کا سامان بیچ کر کر رہے ہوتے ہیں یہ زیادتی ہے، یہ سنت ابراہیمی ہے، جس پر مفتی عبدالقوی کا کہنا تھا کہ جس گھر میں سنت ابراہیمی نہ ہو تو لوگ مذاق اڑاتے ہیں،
آصف حمید کا کہنا تھا کہ آسانی اور قربانی، سنت ابراہیمی ،آج سے کچھ عرصہ قبل جو سود کھاتا تھا اس سے لوگ نفرت کرتے تھے، میں خؤد گواہ ہوں کہ ایک ایسے شخص کے بارے میں معلوم ہوا جس سے نفرت کی جاتی تھی، علما کو ببانگ دہل اعلان کرنا چاہئے کہ سود کے خلاف نکلیں، ہماری مثال ایسے ہے چھان مچھر رہےہیں اور نگل اونٹ رہے ہیں، ہمارا معاشی نظام غلط ہے جس پر ہم بات ہی نہیں کر رہے
اسلام آباد:قوم کا عمران خان پراعتماد بڑھ گیا :معاونین خصوصی کے اثاثوں کی تفصیل جاری کرکے حکومت نے وعدہ پورا کردیا ،اطلاعات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی وفاقی حکومت نے اپنا ایک اوروعدہ پورا کرتے ہوئے معاونین خصوصی کے اثاثوں کی تفصیل جاری کر دی ہے۔ 5 معاونین خصوصی دوہری شہریت حامل ہیں۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعظم کے 15 معاونین خصوصی کے اثاثوں کی تفصیلات جاری کر دی گئی ہیں، 5 دوہری شہریت کے حامل ہیں معاون خصوصی شہباز گل امریکی گرین کارڈ ہولڈرہیں۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے ڈیجیٹل پاکستان تانیہ ایدروس کے پاس کینیڈا اور سنگاپور کی شہریت ہے، معاون خصوصی نیشنل سیکورٹی ڈویژن معید یوسف کی امریکہ کی رہائش ہے۔ معاون خصوصی پٹرولیم ندیم بابر امریکی شہریت کے حامل ہیں جن کے اثاثوں کی مالیت 2 ارب 75 کروڑ 28 لاکھ ہے۔
Govt of Pakistan has placed the assets of all SAPM’s , Advisers on the website of Cabinet division as instructed by PM Imran khan.https://t.co/TUf2FoeLZW
کابینہ ڈویژن کے مطابق معاون خصوصی پارلیمانی کوآرڈینشن ندیم افضل چن کی بھی دوہری شہریت نکلی، ان کے پاس کینڈین شہریت ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق معاون خصوصی اوورسیز زلفی بخاری بھی دوہری شہریت رکھتے ہیں، زلفی بخاری مستقل برطانوی شہریت رکھتے ہیں۔ پاکستان میں 1300 کنال سے زائد اراضی کے مالک ہیں، اسلام آباد میں 34 کنال اراضی پر مشتمل پلاٹس ہیں، لندن میں 48 لاکھ 50 ہزار پاونڈ کی جائیداد کے بھی مالک ہیں، بیرون ملک 5 کمپنیوں کے شیئرز ہیں۔
زلفی بخاری کی اہلیہ کے پاس 5 لاکھ پاونڈ ملکیت کا سونا ہے اور انکی اہلیہ کے پاکستان میں 24 لاکھ روپے بینکوں میں موجود ہیں، زلفی بخاری کی بیرون ملک بینکوں میں 17 لاکھ پاونڈ رقم موجود ہے
چیئر مین سی پیک اتھارٹی اور معاون خصوصی عاصم سلیم باجوہ کے اثاثوں کی مالیت 16 کروڑ 10 لاکھ سے زائد ہے۔ معاون خصوصی شہزاد اکبر کے اثاثوں کی مالیت 7 کروڑ 23 لاکھ سے زائد ہے۔
معاون خصوصی برائے سیاسی روابط شہباز گل 11 کروڑ 85 لاکھ روپے کے مالک ہیں۔ شہباز گل کے ذمے 2 کروڑ 42 لاکھ کے واجبات ہیں۔ موجودہ اثاثوں کی مالیت 9 کروڑ 44 لاکھ روپے ہے۔ پاکستان میں ایک پلاٹ، فارم ہاؤس اور بیرون ملک ایک گھر کے مالک ہیں۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق وزیراعظم کے 5 مشیروں میں سے کسی کے پاس دوہری شہریت نہیں، مشیر موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم نے اہلیہ کے نام پر 50 لاکھ کی سرمایہ کاری شئیرز کی مد میں کررکھی ہے، اہلیہ کے نام پر92 لاکھ روپے کی۔ تین گاڑیاں ہیں، ایک لاکھ روپے کے زرعی آلات جبکہ ڈیڑھ لاکھ روپے فرنیچر کے بھی مالک ہیں۔
ملک امین اسلم نے ایک کروڑ 47 لاکھ روپے کا بینک بیلنس بھی اثاثہ جات میں ظاہر کیا ہے، مشیر موسمیاتی تبدیلی نے اہلیہ کے نام پر 10 لاکھ 75 ہزار روپے کی جائیداد بھی ظاہر کی ہے، ملک امین اسلم وراثتی طور پر حاصل کی گئی 15 جائیدادوں کے مالک ہیں۔
معاون خصوصی صحت ظفر مرزا 5 کرو 70 لاکھ روپے کے مالک ہیں، معاون خصوصی کے پاس 2 کروڑ روپے مالیت کا گھر اور 3 کروڑ کے پلاٹس بھی ہیں، اہلیہ کے پاس 20 لاکھ روپے مالیت کے زیورات بھی ہیں۔
معاون خصوصی برائے امور نوجوانان عثمان ڈار نے اثاثوں کی مالیت 6 کروڑ روپے ظاہر کی ہے، عثمان ڈار نے سیالکوٹ میں زرعی اراضی اور کارروبار کی مالیت ظاہر نہیں کی۔
پاکستانی علاقوں پر بار بار فائرنگ اور معصوم لوگوں کو سیدھی گولیوں کا نشانہ بنانے والے بھارتی حکمرانوں نے پاکستان پر الزام دیتے ہوئے نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے ناظم الامور سید حیدر شاہ کو ہفتہ کے روز دفتر خارجہ میں طلب کیا اور پاکستان پر 17 جولائی کو مقبوضہ کشمیرمیں کنٹرول لائین پرواقعہ کرشنا گھاٹی سیکٹر میں فائرنگ کرکے ایک بچے سمیت تین عام شہریوں کو ہلاک کرنے کے مضحکہ خیز الزامات لگاتے ہوئے احتجاجی مراسلہ تھما دیا۔
کراچی :کراچی میں دہشتگردی کا بڑا منصوبہ ناکام، ‘را’ سے وابستہ تنظیم کے 6 دہشت گرد گرفتار،اطلاعات کے مطابق کراچی پولیس نے دہشت گردی کا بڑا منصبوبہ ناکام بناتے ہوئے بھارتی خفیہ ایجنسی ‘را’ سے وابستہ 6 ملزمان گرفتار کرلیے۔
سینیئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ( ایس ایس پی) غربی فدا حسین جانوری نے کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ گرفتار 6 ملزمان انڈین خفیہ ایجنسی کی حمایت یافتہ کالعدم علیحدگی پسند تنظیم ‘براس’ سے تعلق رکھتے ہیں۔
ایس ایس پی فدا حسین کے مطابق ملزمان میں شیر خان، کریم بخش عرف بگل، دلشاد، موران خان عرف مولو، درخان اور ناری اور امیر بخش عرف نری شامل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ملزمان کے قبضے سے آوان لانچر، 5 دستی بم، 6 آوان بمب، تین کلاشنکوف، ایک ہزار گولیاں برآمد ہوئی ہیں جب کہ چھاپے کے دوران 3 نائن ایم ایم پستول کی گولیاں اور دھماکہ خیز مواد بھی پکڑا گیا ہے۔
ایس ایس پی کے مطابق گرفتار ملزمان نے کراچی میں بڑے حملے کی منصوبہ بندی کا انکشاف کیا ہے جب کہ وہ بلوچستان کے علاقوں میں آرمی، فرنٹیئر کانسٹیبلری اور لیویز کے قافلوں پر حملوں میں ملوث رہے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ کالعدم علیحدگی پسند تنظیم کو بھارتی خفیہ ایجنسی را کی حمایت حاصل ہے وہی ان کی تربیت اور فنڈنگ کرتی ہے اور ملزمان کا مضبوط نیٹ ورک افغانستان سے چلایا جا رہا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثما ن بزدار نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت جب اقتدار میں آئی تو اس وقت صرف 3 سپیشل اکنامک زون تھے۔ وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں قلیل مدت میں 13 سپیشل اکنامک زونز پر کام شروع کیا ہے۔ وفاقی حکومت نے 7 سپیشل اکنامک زونز کے نوٹیفکیشن جاری کر دیئے ہیں۔ پنجاب میں آج دوسرے سپیشل اکنامک زون ”قائداعظم بزنس پارک“ کے منصوبے پر آغاز کر دیا گیا ہے جبکہ اس سے قبل فیصل آباد میں سپیشل اکنامک زون شروع کیا گیا۔ انشاء اللہ ہم بہت جلد بہاولپور میں بھی سپیشل اکنامک زون بنائیں گے جو جنوبی پنجاب کا پہلا سپیشل اکنامک زون ہوگا۔ وہ آج وزیراعلیٰ آفس میں قائداعظم بزنس پارک کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ قائداعظم بزنس پارک 1536 ایکڑ اراضی پر مشتمل ہوگا اور 5 لاکھ سے زائد افراد کیلئے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ 200 ایکڑ اراضی پر صنعتی کارکنوں کیلئے رہائش کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ نیشنل ہائی وے اور موٹر وے کے قریب ہونے کی وجہ سے قائداعظم بزنس پارک کا منصوبہ خصوصی اہمیت اختیار کر گیا ہے اور اس سے سامان کی نقل و حمل میں آسانی ہوگی۔ قائداعظم بزنس پارک میں 653 صنعتی یونٹس قائم ہوں گے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ کورونا کے باعث دنیا بھر کو معاشی مشکلات کا سامنا ہے لیکن وزیراعظم عمران خان ملک کو معاشی ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کیلئے پرعزم ہیں۔ پنجاب میں کورونا کی وجہ سے متاثرہ کاروباری طبقے کو ریلیف دینے کیلئے 56 ارب روپے کا ٹیکس ریلیف دیا گیا جو کہ ایک تاریخ ہے۔ کاروبار میں آسانیاں پیدا کرنے کے تحت متعدد چھوٹے ٹیکس ختم کئے۔ پنجاب سمال انڈسٹریز کارپویشن نے نوجوانوں کو قرضوں کی فراہمی کیلئے 12 ارب روپے مختص کئے ہیں۔ اس سکیم کے تحت نوجوانوں کو 25 ہزار سے 50 لاکھ روپے تک آسان شرائط پر قرضہ دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ 121سال کے بعد پنجاب کے دوسرے بڑے آبپاشی منصوبے جلالپور کینال پراجیکٹ کاآغاز کیاگیا۔ پنجاب میں گریٹر تھل کینال کے منصوبے پر کام بھی شروع ہوچکا ہے۔ کس عمر خان کینال کا منصوبہ بھی جلد شروع کردیا جائے گا۔ خانکی بیراج کا بھی افتتاح ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کے ویژن اوررہنمائی میں پنجاب ترقی کے سفر پر گامزن ہے۔ اپوزیشن سر توڑ کوشش کے باوجود موجودہ حکومت کا ایک بھی سکینڈل سامنے نہیں لاسکی۔ وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں ہر سطح پر شفافیت کو یقینی بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہت جلد پنجاب میں مزید میگا پراجیکس بھی آئیں گے۔ وزیراعظم عمران خان کے ویژن،رہنمائی اور پالیسیوں کے مطابق معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا اور عوام میں بھی خوشحالی آئے گی۔
وزیراعظم عمران خان نے لاہور میں راوی ریور فرنٹ اربن ڈویلپمنٹ منصوبہ کی سٹیرنگ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی۔ اس موقعہ پر چیف سیکرٹری پنجاب جواد رفیق ملک نے وزیراعظم کو منصوبہ پربریفنگ دی۔بریفنگ کے دوران وزیراعظم عمران خان نے منصوبے پر عملدرآمد کے دوران ماحولیاتی تحفظ اور واٹر کنزرویشن کے لئے سختی سے عملدرآمد کی خصوصی تاکید کی اور کہا کہ یہ منصوبہ پنجاب کی معیشت اور لاہور شہر کی رہائشی ضروریات پورا کرنے کے لیے نہایت اہم ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ کرونا سے پیدا ہونے والی مشکل معاشی صورتحال میں اس منصوبے سے لوگوں کو نوکریاں دینے میں مدد ملے گی۔ خصوصااس پراجیکٹ سے لاہور کے رہائشیوں کے لیے پانی کی کمی سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ حکومت ترقیاتی منصوبوں کےحوالے سے ہر رکاوٹ ترجیحی بنیادوں پر دور کرنے کے لئے پر عزم ہے۔ انپوں نے ہدایت کی کہ پراجیکٹ کی تکمیل کے دوران ماحولیاتی نظام پر منفی اثرات مرتب نہ ہوں اور واٹر کنزرویشن کا خاص خیال رکھا جائے۔
وزیر اعظم کی چیف سیکرٹری کو ہدایت کی کہ منصوبے میں زیادہ سے زیادہ مقامی طور پر تیار کیا جانے والے مٹیرئیل استعمال کیا جائے تاکہ مقامی صنعتوں کو ترقی ملے۔ انپوں نے کہا کہ اس منصوبے سے اسلام آباد کی طرز پر جدید اور ماڈرن سٹی کا قیام عمل میں آئے گا ۔ ٹائم لائنز کے تحت منصوبے کا جلد از جلد آغاز کیا جائے۔
اجلاس میں وزیر ہاؤسنگ پنجاب میاں محمود الرشید، وزیر خزانہ ہاشم جواں بخت، وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان، وائس چیئرمین لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی شیخ محمد عمران، مشیر وزیر اعلیٰ برائےخزانہ ڈاکٹر سلمان شاہ، چیف سیکرٹری پنجاب جواد رفیق ملک اور چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ حامد یعقوب شیخ نے شرکت کی۔
پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرنز کی سیکریٹری اطلاعات ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا ہے کہ وزیراعظم نے کلبھوشن معاملے کو پارلیمنٹ سے پوشیدہ رکھ کر خاموشی سے خفیہ انداز سے آرڈیننس جاری کروایا جو سوالیہ نشان ہے۔ عمران خان بادشاہ سلامت نہیں کہ پارلیمنٹ سے بالا بالا فیصلے کرکے پارلیمنٹ پر مسلط کریں۔ انہوںنے کہا کہ جس انداز سے کلبھوشن کے لئے صدارتی آرڈیننس جاری ہوا ایسا فیصلہ پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے صدر یا وزیراعظم کرتے تو انہیں ملک دشمن قرار دے کر سزا بھی دے دی جاتی۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان جس انداز سے من مانی کر رہے ہیں اس عمل سے ان کے لاڈلے ہونے کا تاثر مضبوط ہورہا ہے۔ ڈاکٹر نفیسہ شاہ اس خدشے کا اظہار کیا کہ ایک دن احسان اللہ احسان کی طرح کلبھوشن کو بھی فرار کرایا جائے گا۔ پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کی سیکریٹری اطلاعات نے ادویات کی قیمتوں کے اضافے کو مسترد کرتے ہوئے عوام پر ادویات کی قیمتوں کا بم گرانے کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پوری دنیا میں کورونا وباءکے دوران صحت کی سہولیات مہیا کی جا رہی ہیں مگر پاکستان میں وباءکے دوران ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کرکے عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا جا رہا ہے۔