وزیراعظم ایک بار پھر غصے میں، کتنی وزارتوں کو بھجوا دیا "ریڈ لیٹر”
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر وفاقی وزارتوں کو ایک بار پھر ریڈ لیٹر جاری کر دیا گیا
وفاقی کابینہ کے فیصلوں پر عمل درآمد کے معاملے پر وزیر اعظم کی ہدایت پر 16 وزارتوں کو ریڈ لیٹر جاری کر دیا گیا ہے،وزیراعظم آفس کے مطابق کابینہ نے متعلقہ وزارتوں سے متعلق 8 فیصلے کیے، وزارتوں نے کابینہ کے 5 فیصلوں پر مقررہ وقت میں عمل نہیں کیا، 16 وزارتوں کو مزید 21 دنوں کی مہلت دی گئی ہے۔
وزیر اعظم عمران خان نے 21 دنوں میں رپورٹ تیار کرنے کی ہدایت کی ہے، ڈلیوری یونٹ وفاقی کابینہ کو رپورٹ پیش کرے گا۔
وزیراعظم آفس کے مطابق ریڈ لیٹر پر عملدرآمد میں کوتاہی وزارتوں کی کارکردگی رپورٹ میں شامل ہو گا، وزیر اعظم نے وزارتوں کی کارکردگی رپورٹ بھی طلب کر رکھی ہے، وزارتوں کو مقررہ وقت میں خالی آسامیوں کا ڈیٹا ایف پی ایس سی کو بھجوانا تھا،
وزارتوں کو تمام خالی آسامیوں کے لئے قوائد و ضوابط بنانے کا حکم دیا گیا تھا، سرکاری ملازمین کے سنیارٹی مسائل کو حل کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔
وزیراعظم آفس کے مطابق ریڈ لیٹر وزارتوں کی کارکردگی رپورٹ پر اثر ڈالے گا، پروموشن کے اہل ہونے کے باوجود پروموشن نہ ملنے والے افسران کی تفصیل فراہم کی جائے، جن سرکاری ملازمین کے خلاف انضباطی کارروائی تین ماہ سے زیر التوا ہے انکی تفصیلات بھی فراہم کی جائیں، وزارتوں کے پاس موجود متروکہ شدہ گاڑیوں، مشینری اور دیگر سازو سامان کی تفصیلات بھی دی جائیں۔
کرونا وائرس،24 گھنٹوں میں پاکستان میں35 اموات،مریضوں میں بھی اضافہ
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرونا کے مریضوں میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، پاکستان میں مریضوں کی تعداد 25 ہزار 837 ہو گئی ہے جبکہ اموات کو تعداد 594 ہو گئی ہے
کرونا وائرس کے حوالہ سے بنائے گئے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس کے 1764 نئے مریض سامنے آئے، کرونا کے پنجاب میں 10033، سندھ میں 9093، خیبر پختونخوا میں 3956، بلوچستان میں 1725، گلگت بلتستان میں 394، اسلام آباد میں 558 جبکہ آزاد کشمیر میں 78 مریض ہیں.
پاکستان میں اب تک کرونا کے 2 لاکھ 57 ہزار 247 افراد کے ٹیسٹ کئے گئے، گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 11 ہزار 993 نئے ٹیسٹ کئے گئے، اب تک 7 ہزار 530 مریض صحتیاب ہوچکے ہیں جبکہ کئی مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔
پاکستان میں کورونا سے گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں 35 اموات ہو چکی ہیں جس کے بعد وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 594 ہوگئی۔ سندھ میں 171، پنجاب میں 183، خیبر پختونخوا میں 209، گلگت بلتستان میں 3، بلوچستان میں 24 اور اسلام آباد میں 4 مریض جان کی بازی ہار چکے ہیں.
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ کئی مہینوں کے لاک ڈاؤن، انسانی زندگیوں کے کے المناک نقصان اور عالمی معیشت کے بند رہنے کے بعد اس غیر یقینی صورتحال کے بعد کیا بیان کیا جا سکتا ہے ہر شخص یہ سوچ رہا ہے کہ کیا دوبارہ کاروبار کھلیں گے، کیا دوبارہ ملازمتیں ملیں گی کیا دوبارہ سفر کریں گے،یا اس سے بھی بد تر صورتحال کا سامنا کرنا پڑے گا.دنیا کی سٹاک مارکیٹ یکدم زمین بوس ہو گئی، تیل کی قیمتوں میں اتنی کمی آئی کہ کئی ممالک کی انرجی انڈسٹری تباہ ہو گئی
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ کروڑوں لوگ بے روزگار ہو گئے، سیاحت کی انڈسٹری تباہ، ایئر لائن بند، لوگ گھروں میں محصور ہو گئے، دنیا کی اکانومی بیٹھ گئی، ہم اس سے نکلیں گے کیسے ،معاشی بحران کیسے ختم ہو گا، دنیا نے بڑے بڑے بحرانوں کا مقابلہ کیا مگر اس جیسا بحران دنیا کے سامنے نہیں آٰیا، 2001 میں واقعہ پیش آیا جس نے اکانومی اور ایئر لائن انڈسٹری کو تباہ کر دیا،2007 میں ریئل اسٹیٹ انڈسٹری میں بحران آیا، اب ایک نئی صورتحال کا سامنا ہے.
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ یہ بحران دوسرے بحرانوں سے مختلف ہے، معاشی ماہرین کو پتہ ہے کہ صحت کا مسئلہ ہے اس کو آرام سے فکس نہیں کیا جا سکتا، دنیا کشمکش میں مبتلا ہے کہ معیشت بچائیں یا لوگوں کی جان ، معاشی ماہرین نہ صرف عظیم کساد بازاری بلکہ عظیم معاشی بحران سے تعبیر کر رہے ہیں کیونکہ اس سے ہر شعبہ ہائے زندگی کا طبقہ متاثر ہوا ہے،اور پریشان ہے، ریسٹورینٹ کے ملازم ہوں یا کوئی بھی، لوگوں کی نوکریاں چلی گئین، بھارت کی بات کی جائے تو ایک سو تیس کروڑ آبادی کا ملک جہاں لاک ڈاؤن کی وجہ سے 80 فیصد ورک فورس اپنے گھر میں بیٹھی ہے،جو کہ کاروبار یا ڈیلی ویجز پر کام کر تے ہیں، 12 کروڑ بھارتی جو دور دراز علاقوں میں کام کرتے ہیں وہ بے روزگار ہو چکے ہیں، ساؤتھ افریقہ میں چھ کروڑ لوگوں کو گھروں میں رکھنے کے لئے پولیس پٹرولنگ کرتی ہے وہاں وبا سے پہلے بے روزگاری کی شرح 30 فیصد تھی لیکن اب وہاں آدھی آبادی دو وقت کی روٹی کو ترس رہی ہے.
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ یہ صرف بھارت اور افریقہ کا مسئلہ نہیں اتنی بڑی بے روزگاری کو کیسے ختم کیا جا سکتا ہے پاکستان سمیت دنیا بھر کے ممالک میں لوگ متاثر ہیں، پاکستان میں اس وبا سے دو کروڑ لوگوں کا روزگار بند ہونے کا خطرہ ہے،فیکٹریاں بند ہیں،لوگوں نے خریداری کرنا روک دی ہے، چائنہ نے 25 فیصد پروڈکشن بند کر دی ہے، اگر چاینہ پروڈکشن شروع کر دیتا ہے تو سب سے بڑی مارکیٹ یورپ اس قابل نہیں کہ وہ ڈیمانڈ کر سکے، اس حوالے سے ایک بڑا جھٹکا لگنے والا ہے
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اب دنیا بھر کے سنٹرل بینکس منی اور کیش کو یقینی بنانے کے لئے اربوں ڈالر بینکوں میں جھونک رہے ہیں تا کہ لوگوں کا قرض فریز نہ ہو اور دنیا کے کاروبار چلانے والے ڈالرز کم نہ پڑیں،اس سے معاملے میں دنیا کے بڑے ممالک اور لیڈرز بھی آگے بڑھ رہے ہیں انڈیا نے 22.6 ملین ڈالر،سنگا پور نے 48 ارب ڈالر، یوکے نے بھی 435 ارب ڈالر معیشت میں ڈال دیئے لیکن دیگر ممالک کے پاس اتنے وسائل موجود نہین غریب ممالک پہلے ہی معاشی کا بحران شکار ہیں اور آئی ایم ایف کی ننگی تلوار ان کے سروں پر لٹکتی رہتی ہے،اقوام متحدہ نے ان ممالک میں آمدنی کم ہونے کے حوالہ سے پیشنگوئی کی ہے،کہ اس وبا کی وجہ سے ترقی پذیر ممالک کے لوگوں کی آمدنی میں 220 ارب ڈالر کی کمی ہو سکتی ہے،اور اس بحران سے نمٹنے کے لئے زیادہ تگ و دو جن ممالک کو کرنی پڑے گی وہ ترقی پذیر ممالک ہوں گے جہاں پہلے ہی معاشی صورتحال اور صحت کا نظام درست نہیں
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ان حالات میں مزید خرابی کے متحمل نہیں ہو سکتے،معاشی ماہرین اس حوالہ سے پر امید ہیں کہ وہ حالات کو ٹھیک کر لیں گے، انسان کو ہر مشکل کچھ نہ کچھ سکھا کر جاتی ہے، اسمیں کوئی نہ کوئی سبق ہوتا ہے، ہمیں اپنے ملک کے ہیلتھ سسٹم کے بارے میں سوچنا ہے ، یہ سوچنا ہے کہ اکانومی اتنی مضبوط ہے کہ بحران کا مقابلہ کر سکے اگر نہیں تو اسے مضبوط بنانا ہو گا،کیا ہم خوراک کا سسٹم اتنا مضبوط بنائیں کہ اگر دوبارہ بحران آئے تو غریبوں کی دو وقت کی بھوک مٹا سکیں، دنیا کے عالمی لیڈروں کے پاس ان سوالوں کے جواب ہیں، امیر لوگ اس وقت تک محفوظ ہیں جب تک غریب لوگ انکے بنائے گئے قوانین کی پابندی کر رہے ہیں،اور یہ اسی وقت ممکن ہے کہ عوام کو بنیادی سہولیات اور دو وقت کی روٹی کا بندوبست کیا جائے.
راولپنڈی: بھارت باز نہ آیا، ایل او سی پر پھر گولہ باری، تین بچیوں سمیت 6 شہری زخمی،اطلاعات کے مطابق بھارتی فورسز کی جانب سے سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزیاں جاری ہیں۔ ایل او سی پر خود کار ہتھیاروں اور بھاری توپ خانے کا استعمال کیا گیا، فائرنگ سے 6 معصوم شہری زخمی ہو گئے۔
Indian Army troops initiated unprovoked Cease Fire Violation with heavy Mortars, Artillery and automatics in Nezapir and Rakhchikri Sectors along #LOC, deliberately targeting civilian population… (1/2)
ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنی ٹویٹ میں بتایا کہ بھارتی فوج کی ایل او سی پر اشتعال انگیزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ بھارتی فوج نے نیزا پیر اور رکھ چکری سیکٹرز میں شہری آبادی کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا۔
بھارتی فوج کی جانب سے بھاری توپ خانے اور خود کار ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا۔ بھارتی فائرنگ سے گاؤں میندر، کرنی اور ڈگوار کے 6 معصوم شہری زخمی ہوگئے۔ زخمیوں میں خاتون اور 3 بچیاں بھی شامل ہیں جنھیں طبی امداد کیلئے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
واشنگٹن :امریکہ نے سعودی عرب کومیزائل حملوں سے بچانے والا پیٹریاٹ سسٹم ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا،باغی ٹی وی کے مطابق سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان فاصلے مزید بڑھنے لگے ہیں اورتازہ ترین اطلاعات کے مطابق امریکہ نے سعودی عرب کو میزائل حملوں سے بچانے والا انٹی میزائل شکن پروگرام "پیٹریاٹ سسٹم ” کو سعودی عرب سے ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے
باغی ٹی وی کے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہےکہ یہ فیصلہ بظاہر امریکی حکومت نے کرونا وائرس کی وجہ سے معاشی مسائل کی وجہ سے کیا ہےلیکن حقائق کچھ اور ہی ہیں،
باغی ٹی وی کے مطابق سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان ویسے تو پچھلے 5 سال سے حالات کشیدہ ہونا شروع ہوگئے تھے جب روس کی طرف سے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کا اعلان کیاگیا ، دوسری طرف سعودی عرب بھی امریکہ کی بجائے اب دوسرے ممالک کی طرف جھکاررکھتا ہے
ذرائع کا کہنا ہےکہ اس سارے معاملے کو تیزی اس وقت لگی جب امریکہ نے سعودی عرب سے تیل کی قیمتوں کو کم نہ کرنے کی درخواست کی تھی .لیکن دوسری طرف سعودی عرب اورروس نے تیل کی قیمتیں کم کرکے امریکہ کے لیے جینا مشکل کردیا ہے ،
باغی ٹی وی کےمطابق یہ بھی ہوسکتا ہے کہ امریکہ یہ اعلان کرکے سعودی عرب سے تیل کی قیمتیوںمیں اضافہ اورمزید مراعات لینا چاہتا ہو، بہر کیف اس فیصلے سے مشرق وسطیٰ میں ایک زلزلہ برپا ہوگیا ہے اوردوسری طرف دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ پیٹریاٹ نظام ہٹا لیتا ہے تو سعودی عرب کے لیے مخالفین کی طرف سے میزائل حملوں سے بچنا بہت مشکل ہوسکتا ہے جس کا نتیجہ خطے میں بڑی بد امنی اورکسی بڑی جنگ کا پیش خیمہ بھی ہوسکتا ہے
راولپنڈی:پاک فوج کورونا وبا کیخلاف دیگر اداروں کی معاونت کا مشن جاری رکھی گی ، پاکستان بہت جلد کرونا سے پاک ہوجائے گا ، اطلاعات کے مطابق پاک فوج کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ نے ہدایت جاری کی ہیں کہ پاکستان آرمی کورونا وبا کے خلاف دیگر اداروں کی معاونت جاری رکھے۔ اس مشکل گھڑی میں متاثرہ افراد تک پہنچ کر انہیں سہولت دی جائے گی۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کوہاٹ کا دورہ کیا۔ وہ سی ایم ایچ پہنچے جہاں انہوں نے کورونا سنٹر میں انتظامات کا جائزہ لیا۔
#COAS visited Kohat. Laid floral wreath at Shuhada monument. Was briefed on operational preparedness, prevailing security situation including border security measures along Pak-Afg border, update on Army’s assistance against COVID-19. (1/3) pic.twitter.com/OIVSM4OFyH
کوہاٹ پہنچنے پر کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود نے آرمی چیف کا استقبال کیا۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید نے مادر وطن کے دفاع میں جان کا نظرانہ پیش کرنے والے شہدا کی یادگار پر حاضری دی اور پھول چڑھائے۔
آرمی چیف نے کورونا کے ریلیف پروگرام میں مصروف جوانوں اور افسروں سے ملاقات کی اور ان کے بلند حوصلے کو سراہا۔ جنرل قمر جاوید باجوہ کو علاقے میں کورونا کی صورتحال، آپریشنل تیاریوں اور پاک افغان سرحد پر سیکیورٹی صورتحال پر بھی بریفنگ دی گئی۔
COAS interacted with troops busy in relief efforts against COVID-19, appreciated officers & men for operational readiness, continuous vigilance and high morale. COAS also visited COVID-19 facility at CMH Kohat. (2/3) pic.twitter.com/SMzhat1iNU
آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ہدایت دی کہ کورونا سے متاثرہ تمام علاقوں تک پہنچا جائے۔ پاکستان آرمی اس وبا کے خلاف دیگر اداروں کی معاونت جاری رکھے۔ انہوں نے کہا کہ اس مشکل گھڑی میں متاثرہ افراد تک پہنچ کر انہیں سہولت دی جائے گی۔
باغی ٹی وی : وزیراعظم عمران خان نے لاک ڈاؤن بتدریج ہفتے سے کھولنے کا اعلان کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن مرحلہ وار ہفتے سے کھلے گا۔
وزیراعظم عمران خان نے کورونا کی صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا 26 فروری کو ملک میں کورونا کا پہلا کیس سامنے آیا، ساری دنیا کی طرح پاکستان نے بھی لاک ڈاؤن کیا، کورونا وائرس بڑی تیزی سے پھیلتا ہے، خوف تھا لاک ڈاؤن سے دیہاڑی دار طبقہ متاثر ہوگا، لاک ڈاؤن سے عوام کو مشکلات درپیش تھیں، دنیا میں ایک دن میں ہزاروں لوگ مر رہے تھے، اللہ کا کرم ہے پاکستان پر دیگر ممالک کی طرح دباؤ نہیں پڑا، ہم نے اب آسانیاں پیدا کرنی ہیں۔
ان کا کہنا تھا اموات میں اضافہ ہو رہا ہے جس کا علم تھا، خدشہ تھا ہسپتالوں میں جگہ نہ کم پڑ جائے، ابھی یہ نہیں کہہ سکتے وائرس کب زیادہ پھیل سکتا ہے، مزدور، دیہاڑی دار، سفید پوش مشکل میں ہیں، اس وقت تمام شعبے مشکل میں ہیں، جرمن چانسلر نے کہا ان کے عوام نے ذمہ داری لی ہے، سب کو حکومت سے مل کر کام کرنا پڑے گا، کیا لوگوں کو پکڑ پکڑ کر جیلوں میں ڈالیں گے ؟ وائرس تیزی سے پھیلا تو دوبارہ لاک ڈاؤن کرنا پڑے گا۔
اس سلسے میں وزیراعظم نے مزید کہا لاک ڈاؤن کے اثرات سے بچنے کیلئے ایس او پیز پر عمل کرنا ہوگا، ایک قوم بن کر اگلے فیز میں جائیں گے۔ انہوں نے کہا صوبوں کو پبلک ٹرانسپورٹ کھولنے پر تحفظات ہیں، میرے خیال میں پبلک ٹرانسپورٹ چلنی چاہیئے، میں سمجھتا ہوں پبلک ٹرانسپورٹ سے عام آدمی کو فائدہ ہوگا، کوئی بھی فیصلہ صوبوں کے بغیر نہیں ہوگا، پبلک ٹرانسپورٹ ایس او پیز کے تحت کھولنی چاہیئے، لوگوں کو سیلف کورنٹائن کی طرف جانا ہوگا۔
اقتصادی ربطہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعطم عمران خان نے کہا کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے خوف تھا کہ ہمارا بہت بڑا طبقہ دیہاڑی دار اور چھابڑی والے ہیں، اس کی اکثریت 80 فیصد ہے، خوف تھا جب سب بند کر دیا تو جو لوگ روز کماتے ہیں ان کیا بنے گا۔
ان کا کہنا تھا فخر ہے ہمارے ملک میں کورونا کی اس طرح پیک نہیں آئی جس طرح یورپ کے حالات ہیں، اللہ کا کرم ہے پاکستان پر ایسا پریشر نہ پڑا جیسا یورپ میں تھا، ہم سوچتے رہے کہ کونسا وقت ہو کہ ہم لاک ڈائون کو کم کریں۔
عمران خان کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس تیزی سے پھیلتا ہے لیکن سماجی فاصلے سے وائرس کا پھیلنا رک جاتا ہے، وائرس سے ہمارا گراف ابھی اوپر جا رہا ہے، ہمیں خدشہ تھا کہ کہیں تیزی سے وائرس نہ پھیلے۔
لاک ڈاؤن ، وزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس شروع، اہم فیصلے متوقع
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت قومی رابطہ کمیٹی کا اجلاس شروع ہو گیا
اجلاس میں لاک ڈاوَن میں نرمی سے متعلق معاملات پر غور کیا جائے گا،اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزراء اعلیٰ اور وفاقی وزرا، مشیر شریک ییں.
وفاقی وزیرغلام سرور،شفقت محمود،شبلی فراز ،اسد عمر،شاہ محمود قریشی شریک ہیں،خسرو بختیار،حماد اظہر ،فخر امام اور شیخ رشید بھی اجلاس میں شریک ہیں،مشیر عبدالرزاق داؤد،ڈاکٹر حفیظ شیخ بھی اجلاس میں موجود ہیں،ثانیہ نشتر،ذولفی بخاری،لیفیٹنٹ جنرل (ر) عاصم باجوہ اور دیگر بھی اجلاس میں شریک ہیں
قومی رابطہ کمیٹی لاک ڈاؤن میں نرمی کے ساتھ ایس او پیز کی منظوری بھی دے گی۔ ذرائع کے مطابق ملک بھر میں تجارتی مراکز 10 مئی سے کھولے جانے کا امکان ہے جبکہ اجلاس میں اندرون ملک پروازیں کھولنے بارے بھی فیصلہ متوقع ہے۔ وزیراعظم عمران خان این سی سی کے فیصلوں پر قوم کو اعتماد میں لیں گے۔
قبل ازیں نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر نے ملک بھر میں 11 مئی سے لاک ڈاؤن میں نرمی، چھوٹی دکانیں، عید کی خرید و فروخت سے متعلق دکانیں، مقامی ٹرانسپورٹ اور اندرون ملک پروازیں کھولنے کی تجاویز منظور کرلی ہیں، تاہم این سی او سی نے تجویز دی کہ سکولز، شادی ہال، ہوٹل اور بڑے شاپنگ مالز بند رکھے جائیں اور ریلوے سروس بھی فی الحال بحال نہ کی جائے۔
رمضان المبارک کے آخری پندرہ روز میں مذہبی اجتماعات کے لئے قواعد وضوابط میں تبدیلی نہ کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر نے سفارش کی کہ اتوار کو مکمل لاک ڈاؤن کیا جائے، جلسے، جلوسوں کی اجازت نہ دی جائے
اجلاس میں ہفتہ اوراتوار کو لاک ڈاؤن برقراررکھنے کی بھی تجویز دی گئی اور ملک میں شاپنگ مالزبند رکھنے سے متعلق غورہوا جبکہ یکم جون سےتعلیمی ادارےکھولنے پرسندھ اور پنجاب مخالفت کرچکے ہیں۔ وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرورخان کے مطابق این سی او سی اجلاس میں اندرون ملک پروازیں چلانےکا فیصلہ ہوگیا ہے، ابتدائی طور پرکراچی، اسلام آباد، لاہور اور کوئٹہ کے ایئرپورٹس سےپروازیں شروع کرنےکا منصوبہ ہے۔
وفاقی کابینہ پہلےہی لاک ڈاؤن میں نرمی کی منظوری دے چکی ہے ، پنجاب حکومت لاک ڈاؤن میں نرمی کےحق میں ہے اور بلوچستان نےلاک ڈاؤن میں 19 مئی تک توسیع کردی جبکہ سندھ حکومت لاک ڈاؤن میں نرمی کے لیے وفاق کےفیصلے کی منتظر ہیں۔
اس سے قبل وفاقی حکومت نے لاک ڈاؤن میں نرمی کا فیصلہ کیا تھا، وزیراعظم عمران خان نے لاک ڈاؤن میں بتدریج کمی کا اعلان کرتے ہوئے پی ٹی آئی ارکان اسمبلی سے گفتگو میں کہا تھا کہ معاشی صورتحال،زمینی حقائق مدنظررکھتے ہیں اہم فیصلےکرنےجارہے ہیں۔
گزشتہ روز بھی قومی رابطہ کمیٹی کا اجلاس اسد عمر کی زیر صدارت ہوا تھا، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا اجلاس میں کہنا تھا کہ عوام کو سہولت دینے کے ساتھ کورونا وائرس کی وباء سے بچانا ہے، لاک ڈائون سے فائدہ ہوا ہے، اموات کی شرح اور نئے کیسز بڑھ رہے ہیں،وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے عید کے لئے بھی ایس او پی بنانے کی بات کی،
واضح رہے کہ کرونا وائرس کی وجہ سے ملک بھر مین 9 مئی تک لاک ڈاؤن نافذ ہے ،تاجر تنظیموں، ٹرانسپورٹر نے لاک ڈاؤن میں نرمی اور کاروبار کھولنے کا مطالبہ کیا تھا، آج کے اجلاس میں لاک ڈاؤن میں نرمی کے حوالہ سے اہم فیصلے ہوں گے.
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرونا نے سپیڈ پکڑ لی،پاکستان میں کرونا مریضوں کی تعداد 24 ہزار 73 ہو گئی ہے جبکہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں38 اموات ہونے کے بعد مجموعی تعداد 564 ہو گئی ہے
کرونا وائرس کے حوالہ سے بنائے گئے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے جاری کئے گئے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 1523 نئے کیسز رپورٹ ہوئے، پنجاب میں سب سے زیادہ 9077، سندھ میں 8640، خیبر پختونخوا میں 3712، بلوچستان میں 1495، گلگت بلتستان میں 388، اسلام آباد میں 521 جبکہ آزاد کشمیر میں 76 مریض ہیں
پاکستان میں کرونا کے اب تک 2 لاکھ 44 ہزار 778 افراد کے ٹیسٹ کئے گئے، گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 12 ہزار 196 نئے ٹیسٹ کئے گئے، اب تک 6 ہزار 464 مریض صحتیاب ہوچکے ہیں
پاکستان میں کورونا سے ایک دن میں 38 افراد جاں بحق ہوگئے جس کے بعد کرونا سے جان کی بازی ہارنے والوں کی مجموعی تعداد 564 ہوگئی۔ سندھ میں 157، پنجاب میں 175، خیبر پختونخوا میں 203، گلگت بلتستان میں 3، بلوچستان میں 22 اور اسلام آباد میں 4 مریض جان جان کی بازی ہا رگئے.
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ آجکل بڑی بحث چل رہی میچ فکسنگ کی، ورلڈ کپ فکس ہو گیا پورا یہ نہیں سوچا تھا، بڑے بڑے الزام لگ گئے، الزام لگانے والوں پر الزام لگائے اور ہر آدمی کہتا ہے کہ ثابت ہو جائے تو پھانسی دے دو ،اس کی سزا پھانسی نہیں کچھ اور ہے لیکن ہوا کیا، کیوں کسی ایک خاص یا دو لوگوں کو ٹارگٹ کیا جاتا ہے،میچ ایک آدمی تو فکس نہیں کر سکتا، پانچ، چھ سات لوگ ملکر کرتے ہیں، آج میرے ساتھ پاکستان کے سٹار موجود ہیں، سلیم ملک اور عامر سہیل، ان سے بات کریں گے
مبشر لقمان کے سوال پر ایک آدمی تو میچ فکس نہیں کرتا اس پر جواب دیتے ہوئے عامر سہیل کا کہنا تھا کہ ہو ہی نہیں سکتا،پاکستان میں جو مسئلہ ہے یہ جوئے والا بار بار آپ کے سامنے اسلئے سامنے آتا ہے کہ آپ یہ نہیں کر سکتے ،ایک بندہ یہ نہیں کر سکتا، صاف جج کہہ رہا ہے کہ میں کچھ لوگوں کوبین نہیں کر سکتا جو میرے فیورٹ پلیر ہیں،اگر آپ سلیم ملک کا کیس لے لیں کہ انہوں نے ان پر میچ فکسنگ پر بین کیا اس میں ایک بندہ تو نہیں کر سکتا تو انہوں نے ساتھ دوسروں کو بھی فائل کیا، پاکستان نے گریٹ پلیئر ہیں سلیم ملک ان کے لیول کا پلیئر دنیا میں نہیں ہے، چلیں مان لیا کہ انہوں نے غلطی کی باقی سب کو چھوڑ دیں اور ان پر پابندی لگائیں یہ انصاف نہیں ہو سکتا،اور اسی وجہ سے یہ بار بار ہو رہا ہے،
عامر سہیل کا مزید کہنا تھا کہ میں نے یہ بات آج تک کسی کو نہیں بتائی جو آج کرنے جا رہا ہوں،عطاء الرحمان مجھے انگلینڈ میں ملا اور رو پڑا کہ میری زندگی برباد ہو گئی میں ٹیکسی چلا رہا ہوں میں بچوں کو کیا بتاؤں میں نے کچھ کیا ہی نہیں. ملک صاحب کی بیٹی کی شادی تھی،وسیم اکرم کو میں نے کہا کہ اب جو ہے آپ سارا کچھ ہپ ہپ نہیں کر سکتے اگر آپ نے اس چیز کو کلوز کرنا ہے تو جو لوگ باہر ہیں جنکو سزا ہوئی وہ کرکٹ بورڈ میں آئے ہوئے ہیں یہ معاملہ برابر ہو گا بصورت دیگر آپ کو خول کرے گا، میں نے اس سے درخواست کی کہ جس کو استعمال کیا اسکو ایڈجسٹ کرواؤ، زندگی میں چیزیں اگنور کرنی پڑیں گی اور اگر آپ انا میں رہے ایسا نہیں کیا تو ذلیل ہوں گے
مبشر لقمان نے سوال کیا کہ کیا واقعی یہ میچ سلیم ملک سے وسیم اکرم نے فکس کروایا جس پر عامر سہیل نے کہا کہ نہیں میں آپ کو بتاتا ہوں کہ جو ماحول سلیم ملک کی موجودگی میں پاکستانی ٹیم کا بنا ہوا تھا وہ ایک فیملی کی طرح تھے،کسی کو کوئی پریشر نہیں تھا، بڑا اچھا ماحول تھا ہر بندہ اپنا ٹیسٹ دے رہا تھا، پتہ نہیں کیا ہوا
عامر سہیل کا کہنا تھا کہ سلیکٹڈ انصاف کو برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ اس معاملے کو سنبھالنے میں ناکام رہا ہے۔ بدانتظامی کی وجہ سے پریشانیاں ہوتی ہیں، کرکٹ بورڈ دوہرے معیارات رکھتا ہے یہ سلیم ملک یا سلمان بٹ اور آصف کا معاملہ ہوسکتا ہے یا حال ہی میں عمر اکمل پر 3 سال کی پابندی عائد ہوسکتی ہے۔
سلیم ملک کا کہنا تھا کہ جب ہم گراؤنڈ میں گئے تھے تو اسوقت کہا گیا کہ وسیم فٹ نہیں ہے ہماری گراؤنڈ میں میٹنگ ہوئی تھی اور بات کی تھی کہ کیا کرنا چاہیے، اس میں ٹیم میں سینئر تھا میں نے گراؤنڈ میں کہا تھا کہ اگر وسیم فٹ نہیں ہیں تو بتا دیں ہم لڑکے تیار کر لیں اگر کل کہا تو پھر ٹیم گر جائے گا، تو وسیم نے کہا کہ میں فٹ ہوں اور انجکشن لگا کر کھیلوں گا، اسکے بعد پتہ چلا کہ عامر ٹاس کرنے جا رہے ہیں تو یہ ٹیم کے لیے اچھا نہیں تھا اسوقت جو بھی ہوا، کس نے اس کو کہا اس کا نہیں پتہ.
سلیم ملک کا کہنا تھاکہ میرے اوپر الزام لگایا جاتا ہے کہ میں نے یہ کیا، کیا کوئی ایک میچ اکیلا بندہ فکس کر سکتا ہے،میرا موقف رہا ہے کہ جسٹس قیوم کی اور اس بات پر لوگ لڑتے ہیں، میرا مشن یہ تھا کہ جسٹس قیوم کی رپورٹ لوگ پڑھیں کیوں نہیں پڑھتے اس کو ، اب لوگوں نے پڑھنا شروع کی تو نام لینا شروع ہوئے، آج تک کسی بندے نے اس رپورٹ کو نہیں پڑھا،سپورٹس جرنلسٹ کے بڑے نام ہیں انہوں نے بھی اس رپورٹ کو نہیں پڑھا، اب ان کو پتہ چل رہا ہے کہ اس میں تو مشتاق، وقار،وسیم کا نام بھی آ رہا ہے، بات یہ ہے کہ کوئی رپورٹ پڑھے تو پتہ چلے، اگر ان سب پر الزامات لگے ہیں میں تو عدالت سے کلیئر ہوا ہوں، آٹھ سال عدالت میں لڑا ہوں،
سلیم ملک کا کہنا تھا کہ ساؤتھ افریقہ میں اتنی لڑائیاں تھیں آپس میں کہ بتا نہیں سکتے، لوگ کہتے ہین کہ میں شاید بات بنا رہا ہوں، ماسٹر مائینڈ کوئی اور تھا اور ایک گروپ تھا،وہ ٹیم کا حصہ ہیں اور ابھی بھی چوھدری بنتے ہیں میں بتا چکا تھا کہ میں کیا کروں، انکی روز لڑائیاں ہوتی تھی،ہر ایک کی کوئی نہ کوئی لڑائی ہوتی تھی، مجھے کپتان بنا دیا گیا اسکے باوجود میں نے پاکستان کو جتوایا،یہ جو بھی کرتے ہیں میری ٹیم جیت رہی ہے، میں ان سے کام لے رہا ہوں، میں کیا کروں، ایک کو ڈانتتا ہوں تو دوسرا شروع ہو جاتا ہے.
عامر سہیل کا کہنا تھا کہ کچھ لوگ اپنی پراپرٹیز کو بچانے کے لیے وہ آپ کے پاکستان کے بڑے بڑے آفسز جاتے تھے اور وہ یہ نہیں ہونے دے رہے تھے کہ اگر ان کو سزا ہو گئی تو آئی سی سی پاکستان کرکٹ کو بین کر دے گی، جسٹس قیوم کا فیصلہ سب نے سنا،اگر آپ پھر بھی نہ سمجھیں تو یہی ہو گا، مجھے غصہ چڑھتا ہے ہم بڑھاپے میں آ گئے ایک دوسرے کی عزت کروانی ہے لیکن ایک دوسرے کے خلاف آ گئے ہیں
سلیم ملک کا کہنا تھا کہ فکسنگ میں 9 لوگ شامل تھے رپورٹ کو پڑھنا چاہئے، لوگوں کے نام آئے ہیں، ہر ایک کا نام آ رہا ہے،اسی طرح آپ کو بہت سے لوگ جانیں بچانے کے لئے اپنے نام لیں گے، عامر یہ ضرور سوال کرتا تھا کہ یہ کیا ہورہا ہے، جنہوں نے داڑھیاں رکھی ہین انکے نام بھی ہیں ، مشتاق کا نام ہے اسکا نام کوئی نہین لیتا ، وسیم کا نام ہے، ہر بندے کی ہر زبان پر نام ہے جن جن کا رپورٹ میں نام ہے.
سلیم ملک نے کہا کہ بیس سال پرانی بات کر رہے ہیں میں یہ کہہ رہاتھا کہ نہیں ہو سکتا، عامر کو بھی کہتا تھا آپ کو بھی کہتا تھا، بحث اسی بات پر ہوئی تھی کہ میں نے کہا تھا کہ مجھے ایسا نہیں لگتا،جب سے دنیا بنی ہے تب سے الزام لگ رہے ہیں، شارجہ میں جب سے الزامات لگ رہے ہیں وہان پاکستان کبھی ہارا نہین، میری کپتانی میں بھی سب سے زیادہ جیتا ہوں اور سب سے زیادہ سکور کیا،
عامر سہیل کا کہنا تھا کہ ہم اس عمر کے اس حصے میں ہیں جہاں عزت دی جاتی ہے لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ کی مس ہینڈلنگ ہے، آپ عامر کو کھلا رہے اور سلمان بٹ کو واپس لے لیتے ہیں ،آصف کو نہیں کھیلنے دیا، ایک پر تین سال کی اور ایک پر ڈیڑھ سال کی پابندی لگاتے ہیں، سب نے غلطی کی ہیں کرکٹ بورڈ سب کو بٹھاتا اور کہتا کہ ہم آپ سے کام لینا چاہتے ہیں لیکن ایسا نہین کیا گیا،مجھے تو شرم آتی ہے اس بات پر کرتے ہوئے،
سلیم ملک نے کہا کہ سب لوگوں کے نام رپورٹس میں آئے ہیں کہنے کی ضرورت نہیں، مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ دنیا صرف ملک کا نام لیتی ہے اگر دنیا کو سب کا پتہ ہوتا تو اس طرح نہ کرتی، ہم ایک دوسرے کو اسوقت سے جانتے ہیں جب ڈالر 25 روپے کا ملتا تھا،لیکن اسوقت وہ ختم نہیں ہوتے تھے، گولڈ لیف کا سگریٹ پچاس پیسے کا تھا، ہم اسوقت سے جانتے ہیں یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ 20 سال آپ سلیم ملک اپنے اوپر بوجھ لیتے رہے ہین اور دوسروں کا نام نہین لیا
سلیم ملک کا کہنا تھا کہ جب سے کیس چلا میں اسوقت سے شور کرتا آیا ہوں کسی نے آواز نہیں سنی، اسوقت سوشل میڈیا اتنا ایکٹونہیں تھا، میں پریس کانفرنس کرتا تھا تو چھوٹی سی خبر دی جاتی تھی کوئی یہ چاہتا ہی نہین تھا کہ میری خبر باہر آئے، اسوقت میں نے بہت چیخیں ماری تھیں، اب سوشل میڈیا پر کوئی میرا انٹرویو نہ کرے میں اپنی ویڈیو دوں گا ،ساری دنیا میں ویڈیو سنی جائے گی ، اب سوشل میڈیا ایکٹو ہے ، چھابڑی والا بھی سنتا ہے کہ ہم نے کیا کیا، اسوقت ہم روتے تھے لیکن پھر بھی ہماری کوئی نہیں سنتا تھا
سلیم ملک نے اپنی بے گناہی کو ثابت کرنے کی کوشش میں لمبا سفر طے کیا ہے۔ جب اصل مجرموں کو نہ بولنے پر انکوائری کی گئی تو اس نے طاقتور مافیا کے سامنے اپنی بے بسی کا مظاہرہ کیا۔ کامیاب کپتان اور 103 ٹیسٹ میچوں کے تجربہ کار کو انصاف کے برابر مواقع نہیں دئے گئے جو ملک کے کسی بھی آزاد شہری کا حق ہے
دونوں سینئر کھلاڑیوں کا کہنا تھا پاکستانی ٹیم میں اختلافات ہوتے ہیں ، اور گروپ بندی ہمیشہ موجود ہے اور بدعنوانی بھی ہے، پاکستان کے 1994 کے دورہ جنوبی افریقہ ، 1996 ورلڈ کپ کے کوارٹر فائنل اور فائنل کے سلسلے میں بہت سارے سوالات اٹھائے گئے تھے۔
مبشر لقمان نے کہا کہ میں بھی کرکٹ کا فین ہوں ،ایک کو سزا ملی تو باقیوں کو بھی سزا ملنی چاہئے،اب زندگی کے بیس سال کون دے گا، تمام متعلقہ افراد کو مل بیٹھ کر اس طرح کے تمام مسائل کا حل تلاش کرنے کے لئے سنجیدہ بات کرنے کی ضرورت ہے اور اس برائی کو ختم کرنا ہے۔
آگے بڑھنے کا راستہ کھلاڑیوں کے ساتھ منصفانہ اور بلا تعصب سلوک کے لئے حکمت عملی وضع کرنے میں کرکٹ بورڈ کا ایماندار اور واضح موقف ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ ذاتی ایجنڈے کو پس پشت ڈالیں ، پاکستان کرکٹ کے مستقبل کو صحیح سمت میں گامزن کریں۔ اگر صحیح طریقے سے سنبھالا نہیں گیا تو یہ پاکستان کرکٹ کے لئے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے سوشل میڈیا طاقتور ہوتا جارہا ہے اور اب کسی خاص فرد کو الگ تھلگ رکھنا یا کونے میں رکھنا ممکن نہیں ہے۔جن کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے ان کو موقع ہے کہ وہ عوام میں اپنا نقطہ نظر لائیں اور عوام کو فیصلہ کرنے دیں۔اب پننڈورا باکس کھلا ہوا ہے ، عوام سوالات پوچھیں گے کہ اگر جسٹس قیوم کی رپورٹ اتنی مکمل ہے تو پھر کچھ کھلاڑیوں کو کیوں نرمی دی گئی جبکہ کچھ کی سرزنش ہوئی؟