باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ میں دنیا کو بھارت کے فالس فلیگ آپریشن سے متعلق دنیا کو خبردارکررہاتھا،
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ دراندازی کے حالیہ الزامات بھارت کے خطرناک ایجنڈے کا حصہ ہیں،لائن آف کنٹرول پر دراندازی کے بھارتی الزامات بے بنیاد ہیں،کشمیریوں کی تحریک بھارت کے ظالمانہ اقدامات کےخلاف ہے
I have been warning the world about India's continuing efforts to find a pretext for a false flag operation targeting Pakistan. Latest baseless allegations by India of "infiltration" across LoC are a continuation of this dangerous agenda.The Indigenous Kashmiri resistance against
وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ آرایس ایس اوربی جے پی کی مشترکہ پالیسیاں سنگین خطرات پرمبنی ہیں،عالمی برادری کو بھارتی جارحیت سے پہلے نوٹس لینا ہوگا،بھارتی جارحیت خطے کے امن وسلامتی کوتباہ کرسکتی ہیں،
کرونا کو سندھ سے ہوا پیار، وزیراعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی بنے کرونا کا شکار
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی راشد ربانی کا کورنا وائرس ٹیسٹ مثبت آگیا
وزیراعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی وقار مہدی نے تصدیق کردی، راشد ربانی میں کرونا وائرس کی تشخیص کے بعد انہوں نے خود کو گھر میں قرنطینہ کر لیا ہے
واضح رہے کہ اس سے قبل سندھ کے صوبائی وزیر تعلیم سعید غنی میں بھی کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی وہ صحتیاب ہو چکے ہیں، گورنر سندھ عمران اسماعیل بھی کرونا کا شکار ہوئے وہ بھی قرنطینہ میں ہیں، جماعت اسلامی کے رکن سندھ اسمبلی عبدالرشید بھی خاندان کے 9 افراد کے ہمراہ کرونا کا شکار بنے
وزیراعلیٰ سندھ کے بہنوئی کی کرونا سے موت ہو چکی ہے، سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر بھی کرونا کا شکار بن چکے ہیں،
پیپلز پارٹی کے سندھ سے اقلیتی نشست پر رکن صوبائی اسمبلی میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے
اس حوالہ سے ڈپٹی کمشنر تھرپارکر ڈاکٹر شہزاد طاہر تھہیم نے تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ تھرپارکر سے سندھ اسمبلی کی خصوصی نشست پر منتخب پیپلز پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی رانا ہمیر سنگھ کی کرونا کی رپورٹ مثبت آئی ہے، انہوں نے کرونا کا ٹیسٹ کروایا تھا جس کی رپورٹ میں ان میں کرونا کی تشخیص ہوئی ہے
خیبر پختونخواہ سے رکن صوبائی اسمبلی عبدالسلام آفریدی میں بھی کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی وہ صحتیاب ہو چکے ہیں، جے یو آئی کے رکن قومی اسمبلی میں بھی کرونا وائرس کی تشخیص ہو چکی ہے
برہان وانی کے بعد حزب کا کمانڈر بننے والا ریاض نائیکو بھارتی فوج کے ساتھ جھڑپ میں شہید
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارتی فوج کے مقبوضہ کشمیر میں مظالم جاری ہیں، حالیہ جھڑپ میں بھارتی فوج نے حزب المجاہدین کے ٹاپ کمانڈر ریاض نائیکو کو شہید کر دیا
حزب المجاہدین کے اعلی کمانڈر ریاض نائکو کے ضلع پلوامہ کے بیگ پورہ گاوں میں آنے کی اطلاع ملنے کے بعد بھارتی سکیورٹی فورسز بشمول راشٹریہ رائفلز، سی آر پی ایف اور ایس او جی نے مشترکہ طور پر گاوں کے تمام داخلی اور خارجی راستوں کو بند کردیا تھا، ریاض نائکو کے آبائی گاوں میں بھارتی فوج نے منگل کی شام ایک بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کیا تھا،
بیگ پورہ کے علاوہ گلزار پورہ گاوں کو بھی محاصرہ میں لیا گیا تھا اور ریاض نائیکو کی تلاشی کے لئے گھر گھر چھاپے مارے گئے ،بھارتی فوج نے سرچ آپریشن کے دوران ریاض نائیکو کو شہید کر دیا
8 جولائی 2016 کو اننت ناگ کے ضلع کوکرناگ علاقے میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں حزب المجاہدین تنظیم کے پوسٹر بوائے اور کمانڈر برہان وانی کے شہید ہونے کے بعد ریاض نائیکو نے حزب المجاہدین کے کمانڈر کا عہدہ سنبھالا تھا۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق نائکو کے سر پر 12 لاکھ روپے کا انعام ہے۔ عسکریت پسندوں کی صفوں میں شامل ہونے سے پہلے نائکو مقامی اسکول میں استاد تھے۔ وہ 33 سال کی عمر میں بندوق اٹھانے سے پہلے پینٹنگ کے شوقین تھے۔
بھارتی سکیورٹی فورسز نے نائکو کو حزب المجاہدین کے گروپ بندی ہونے کے بعد حزب کو متحد رکھنے کا ذمہ دار قرار دیا۔
قبل ازیں جموں کشمیر پولیس نے منگل کے روز ضلع ڈوڈہ میں حزب المجاہدین کے ایک رکن تنویر احمد ملک ولد مرحوم جمال الدین ملک ساکن تن تانہ ڈوڈہ اور پلوامہ میں جیش محمد کے ایک رکن کو گرفتار کرنے کا دعوی کیاہے۔
انسانیت کی خدمت کا جذبہ معاشرے کی اصل طاقت ہے، وزیراعظم
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان سے سینیٹر فیصل جاوید کی ملاقات ہوئی ہے
ملاقات میں مسلم ممالک کے مابین تہذیب و ثقافت کو فروغ دینے سے متعلق گفتگو کی گئی،وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ اسلامی تعلیمات اورمعاشروں کے خصائل کو اجاگر کرنے میں ذرائع ابلاغ کا اہم کردار ہے،موجودہ دورمیں انسانیت کے احترام اور احساس پر مبنی اقدار کو اجاگر کیا جائے،
وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارا مذہب ہمیں دکھی اور مشکل میں گھری ہوئی انسانیت کی مدد کرنے کا درس دیتا ہے ،دنیا کے کسی بھی کونے میں مقیم پاکستانی مشکل کی ہر گھڑی میں ساتھ ہوتے ہیں،انسانیت کی خدمت کا یہی جذبہ معاشرے کی اصل طاقت اور خوبی ہے،کورونا ریلیف فنڈ کے حوالے سے پاکستانیوں کا جذبہ قابل تحسین ہے،
واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے کرونا ریلیف فنڈ کا اعلان کیا تھا، وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ وباء کیخلاف قومی مدافعت میں معاونت کیلئے "وزیراعظم کا کرونا ریلیف فنڈ-2020” قائم کردیا گیا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ سب اس فنڈ میں اپنا حصہ ڈالیں تاکہ ان لوگوں کی دیکھ بھال ممکن ہوسکے جنہیں بندشوں (لاک ڈاؤن) نے افلاس کے کنارے لاکھڑا کیا ہے
وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ اپنے قابل ٹیکس عطیات نیشنل بنک آف پاکستان کی کراچی میں قائم مرکزی شاخ میں موجود اکاؤنٹ نمبر: "786 786 4162” پر بھجوائیں
کرونا وائرس، پاکستان میں ایک روز میں 40 اموات، مریضوں میں بھی اضافہ
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرونا کے مریضوں اور اموات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے مریضوںکی تعداد 22 ہزار 504 ہو گئی ہے جبکہ اموات 526 ہو گئی ہیں
گزشتہ 24 گھنٹوں میں پاکستان میں کرونا سے 40 اموات ہوئیں، جبکہ 1049 نئے مریض سامنے آئے، کرونا کے پنجاب میں 8420، سندھ میں 8189، خیبر پختونخوا میں 3499، بلوچستان میں 1495، گلگت بلتستان میں 386، اسلام آباد میں 485 جبکہ آزاد کشمیر میں 76 مریض ہیں
نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر کے مطابق پاکستان میں اب تک 2 لاکھ 32 ہزار 582 افراد کے ٹیسٹ کئے گئے، گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 10 ہزار 178 نئے ٹیسٹ کئے گئے، اب تک 6 ہزار 217 مریض صحتیاب ہوچکے ہیں .
پاکستان میں کورونا سے ایک دن میں 40 افراد جاں بحق ہوگئے جس کے بعد وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 526 ہوگئی۔ سندھ میں 148، پنجاب میں 156، خیبر پختونخوا میں 194، گلگت بلتستان میں 3، بلوچستان میں 21 اور اسلام آباد میں 4 مریضوں کی موت ہوئی ہے۔
واضح رہے کہ کرونا کی وجہ سے پاکستان میں لاک ڈاؤن ہے، گزشتہ روز وفاقی کابینہ نے لاک ڈاؤن میں نرمی پر اتفاق کیا ہے تا ہم حتمی فیصلہ قومی رابطہ کمیٹی کرے گی جس کا آج اجلاس متوقع ہے
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں احساس پروگرام کی جانب سے 12 ہزار کی امداد وصول کرنے کا میسج ملا ہے
پنجاب کے ضلع نارووال سے مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی، سابق وزیر داخلہ اور جنرل احسن اقبال نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ احساس امداد کے نام پر فراڈ ہو رہے ہیں ۔ انداز کریں کیسے پیسے بانٹےجا رہے ہیں
احسن اقبال کو جس نمبر سے میسج موصول ہوا اس میں لکھا تھا کہ احساس امداد پروگرام کے تحت 12000 روپے وصول کریں، اگر انہوں نے پہلے وصول کر لئے ہیں تو یہ میسج ضائع کر دیں۔
اندازہ کریں کیسے پیسے بانٹے جارہے ہیں یا احساس امداد کے نام پر فراڈ ہو رہے ہیں- یہ میسج میرے فون پر آیا ہے- pic.twitter.com/AE7GzN5LGU
واضح رہے کہ کرونا وائرس کی وجہ سے پاکستان میں لاک ڈاؤن ہے اور لاک ڈاؤن کے دوران غریب شہریوں کی امداد کے لئے حکومت نے احساس پروگرام کے تحت 12 ہزار امداد دینے کا اعلان کیا اور ملک بھر میں سنٹر قائم کر کے امدادی رقوم کی تقسیم کی. احساس امداد پروگرام کے تحت جن افراد کو رقوم کی ادائیگی کرنا مقصود ہوتی ہے ان کو بذریعہ میسج آگاہ کر دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے قریبی احساس امداد سینٹر سے رقم وصول کر لیں
لاک ڈاؤن کے دوران دیہاڑی دار طبقے کو حکومت کی جانب سے 12 ہزار فی کس امداد بھی دی جا رہی ہے جو حکومت کی جانب سے بہت بڑا امدادی منصوبہ ہے جو انتہائی شفافیت کا حامل ہے اور وزیراعظم عمران خان نے اسکا بھی آڈٹ کروانے کا اعلان کیا ہے. وفاقی حکومت نے احساس پروگرام کے تحت 3 ہفتےمیں 81 ارب روپے تقسیم کیے
احساس ایمرجنسی کیش کے Category-2 کے صارفین جو بذریعہ8171 ایس ایم ایس سروس رجسٹر ہوئے ہیں انکو امدادی رقوم کی ادائیگی شروع کر دی گئی ہے۔احساس ایمرجنسی کیش پروگرام پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا امدادی پیکج ہے،
احساس امداد پروگرام کی جانب سے 8171 پر شناختی کارڈ نمبر میسج کرنے پر جوابی میسج ملتا ہے کہ آپ کو امداد ملے گی یا نہیں،لیکن احسن اقبال کو جو امداد کے لئے میسج آیا وہ 8171 سے نہیں آیا اور نہ ہی احسن اقبال نے امداد کے لئے اپلائی کیا بلکہ احسن اقبال کو یہ میسج کسی نے واٹس ایپ پر بھیجا ہے، واٹس ایپ پربھیجا جانے والا میسج فراڈ ہے اور اس ضمن میں احساس پروگرام کی انچارج ثانیہ نشتر متعدد بار کہہ چکی ہیں کہ امدادی رقوم کے لئے میسج صرف اور صرف 8171 سے آئے گا اسکے علاوہ جس بھی نمبر سے میسج آئے وہ فیک ہو گا
احسن اقبال مسلم لیگ ن کے سیکرٹری جنرل ہیں، سابق وزیرداخلہ بھی رہ چکے ہیں، وزیر اطلاعات بھی رہ چکے ہیں انکو جب کسی نے یہ میسج واٹس ایپ پر کیا تو انہوں نے احساس پروگرام کی شفافیت پر سوال اٹھا دیئے حالانکہ وہ یہ جانتے ہوں کہ یہ فراڈ میسج ہے،اسکے باوجود حکومت کے خلاف انہوں نے ٹویٹر پرمہم چلا دی.
احسن اقبال کو موصول ہونے والا میسج احساس کیش پروگرام کا میسج نہیں بلکہ انہیں کسی نے بے وقوف بنایا اور انہوں نے اسی میسج کو آگے شیئر کر دیا.بلکہ میڈیا نے بھی احسن اقبال کے ٹویٹ کو دیکھ کر خبریں چلا دیں اور احساس پروگرام کی شفافیت پر سوال اٹھا دیئے حالانکہ یہ سب فیک تھا اور احساس پروگرام پاکستان کی تاریخ کا شفاف ترین پروگرام ہے جس کے تحت صرف مستحقین کو امداد مل رہی ہے وزیراعظم عمران خان نے بھی احساس کیش پروگرام کا آڈٹ کروانے کا اعلان کیا ہے
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ جہاں اس وبا نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے، دنیا کے بہترین صحت کا نظام رکھنے والے بھی اس وبا سے متاثر ہوئے ہیں وہاں چند طبی ماہرین کے مطابق پاکستان میں کرونا وائرس اپنا اثر ناکام ہو چکا ہے اسلئے پاکستان میں اموات کی شرح کم ہے،اسکی وجہ یہ ہے کہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں موجودہ وبا شاید اس سے پہلے بھی آئی ہو،اور ہمیں دوسری بار اس کے حملے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی عوام کا کرونا وائرس کے خلاف دفاعی رد عمل اور مذاحمت کا مظاہرہ کرنا اتنی محدود اموات ایک متضاد ہے ، وائرس دنیا بھر میں پھیل چکا ہے اب تک اس طرح کے امراض جتنے بھی جسم میں داخل ہوتے ہیں تو اسکے خلاف ہیممینو گلوبلائن تیار کیا جاتا تھا،ایک یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر ایوب جدون جو پی ایچ ڈی سکالر بھی ہیں انہوں نے تازہ ترین ریسرچ شیئر کرتے ہوئے کہا کہ وبا کے دوسرے حملے کے دوران پہلے اینٹی باڈیز افراد کے اندر موجود تھے جو نئے وائرس سے جسم میں دفاع کرتے ہیں اور وائرس سے بچاتے ہیں
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے بھی ایک تحقیق آ چکی ہے کہ دنیا اسوقت تین قسم کے کرونا وائرس سے نبردآزما ہے،یعنی جنہیں اے بی اور سی میں تقسیم کیا گیا ہے، جو وائرس ایشیا میں ہے وہ کم نقصان دہ ہے، دنیا کے ماہرین اس بات پر بھی تحقیق کر رہے ہیں کہ وائرس نے وہ تباہی ایشیا میں کیوں نہیں مچائی ساؤتھ ایشیا میں سوائے ایران کے جو یورپ اور امریکہ میں مچا رہا ہے، ترقی پذیر دنیا میں اس سے بچاؤ کا کوئی مناسب نظام موجود نہیں تھا تشخیص کی کٹ یہاں نہیں تھیں کہ تشخیص کیسے ہوتی ہے،یعنی عام نزلہ کھانسی زکام کے وائرس میں تبدیلی ناممکن تھا،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ کرونا سے پہلے ہی سینکڑوں لوگ نمونیہ اور دیگر بیماریوں سے مر رہے تھے ،اور اس کی وجہ آلودگی اور سگریٹ نوشی ہیں، نمونیہ جیسے مسئلے کی وجہ سے بھی اموات ہو رہی تھیں جس کو کرونا کا وائرس نہیں سمجھا جاتا تھا،یہ کرونا شاید نیا نہیں ہے عام طور پر جانوروں ،پرندوں میں موجود ہوتا ہے، بلیوں اور کتوں میں کرونا وائرس موجود ہے، جانوروں اور پرندوں میں موجود کرونا وائرس انسانوں کو متاثر نہیں کر رہا، وائرس کا بدلاؤ اس کا ہمیشہ سے امکان رہتا ہے بدلاؤ کے بعد نئی کشیدگی انسانوں میں بیماری پیدا کرتی ہے، جب انسان نئے تغیر سے پیدا ہونے والے وائرس کا شکار ہوتے ہیں تو مدافعتی نظام جسم میں وائرس کو ختم کرنے اور اسکو ہلاک کرنے کے لئے ایکٹو ہوجاتا ہے
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اینٹی باڈیز کافی عرصے تک انسان کے خون میں موجود رہتی ہیں اور ویکسن کا کام کرتی ہیں جب بھی وائرس کا دوسرا حملہ ہو جائے تو یہ اینٹی باڈیز نمٹنے کے لئے موجود ہوتے ہیں، ویکسین کا بھی یہی کام ہوتا ہے جسم میں وائرس کے خلاف وہ مدافعت کرتی ہے،جب ایک شخص بیمار ہو کر صحتمند ہوتا ہے تو اسکا جسم اس بیماری کو شکست دینے کا طریقہ سیکھ لیتا ہے، یہ صرف وبا سے صحت یاب ہونے والے لوگوں کا پلازمہ لے کر انتہائی بزرگ لوگوں کو لگایا جاتا ہے،اور دنیا بھر میں انکی جان بچائی جا رہی ہے،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ تغیر پذیر کو انگلش میں میوٹیشن کہتے ہیں کہ ایک وائرس جو پہلے کئی بار انسان پر حملہ کر چکا وہ تبدیلی کرتا ہے اور ہر بار اس کو ہرانے کے لئے جسم میں نئی صلاحیت کی ضرورت ہوتی ہے اور جب یہ ہرانے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اسکے لئے عام نزلہ کھانسی کچھ نہیں ہوتا، کرونا وائرس اس سے قبل شائد چھ سات دفعہ آ چکا ہے اور اب اسکی نئی شکل ہے،کرونا وائرس کا مقابلہ کم ترقی یافتہ ممالک میں لوگوں کے دفاعی نطام کے ذریعے کیا گیا، کم ترقی یافتہ ممالک میں جن لوگوں میں وائرس کی علامات ظاہر ہونے کے باوجود صحتیاب ہو گئے اس کے برعکس امریکہ، یورپ ،اسرائیل بری طرح متاثر ہوئے ہیں، اس تبدیل شدہ وائرس کا پہلی بار وہ سامنا کر رہے ہیں، انکے جسم میں اینٹی باڈیز نہیں ہیں اسلئے انکا نقصان زیادہ ہے،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اسوقت دنیا میں لگ رہا ہے کہ معاشی فکر وبا کی فکر سے زیادہ ہو گئی ہے، ویکسین تیار ہو نہ ہو ، وبا ختم ہو نہ ہو ، معاشی نقصان ہونے کی وجہ سے پاکستان سمیت کئی ممالک آہستہ آہستہ لاک ڈاؤن ختم کرنے جا رہے ہیں،اور اس سلسلے کی پہلی کڑی پاکستان میں 10 مئی سے ریل کے سفر کا آغاز ہے ہو سکتا ہے کہ پنجاب حکومت بھی 9 مئی کو کچھ آسانیاں پیدا کر دے، اللہ کرے اس وبا سے پوری دنیا بالخصوص پاکستان کی نجات ہو اور ہمارا کاروبار زندگی پہلے کی طرح رواں دواں ہو، آمین
اسلام آباد :پمز اسپتال میں کورونا وائرس کا پھیلاؤبڑھنے لگا ، ڈاکٹرثروت بھی کرونا کی شکار، انتظامیہ پرناراضگی کی بھرمار،اطلاعات کے مطابق پمز اسپتال کی کورونا کی شکار ڈاکٹر انتظامیہ کے خلاف پھٹ پڑی اور کہا کوروناعلامات کے باوجود انتظامیہ نے ہمیں ڈیوٹی پر مجبور کیا، افسوس ہے ہماری وجہ سے دیگر لوگ وائرس کا شکارہوئے۔
تفصیلات کے مطابق انتظامی نااہلی کےباعث پمز اسپتال میں کورونا وائرس پھیلنے لگا، پمز اسپتال کی کوروناپازیٹیو ڈاکٹر ثروت انتظامیہ کے خلاف پھٹ پڑی اور کہا میں بطور ٹرینی ڈاکٹر پمزشعبہ زچہ بچہ میں تعینات ہوں، تین روز قبل زچہ بچہ سینٹر کی ڈاکٹر میں کوروناکی تصدیق ہوئی ،متاثرہ ڈاکٹر ایم سی ایچ میں دیگر اسٹاف کےہمراہ کر رہی تھیں، ساتھی ڈاکٹر کےبعدمجھ میں کورونا کی علامات ظاہر ہوئیں۔
ڈاکٹر ثروت کا کہنا تھا کہ آج صبح میری کوروناٹیسٹ کی رپورٹ مثبت آئی ہے، پمزاسپتال انتظامیہ کی نا اہلی سےکوروناوائرس پھیل رہاہے، کورونا کیس آنے پر انتظامیہ کو زچہ بچہ سنٹر بند کرنے کا کہاتھا۔ انھوں نے کہا کہ انتظامیہ کی غفلت سے کورونادیگرلوگوں کومنتقل ہورہاہے، پمزانتظامیہ کوزچہ بچہ سینٹر بندکرکے عملے کی اسکریننگ کا کہا تھا لیکن کورونا علامات کے باوجود انتظامیہ نے ہمیں ڈیوٹی پرمجبور کیا، افسوس ہے ہماری وجہ سے دیگر لوگ وائرس کا شکار ہوئے۔
پمز اسپتال کی ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ کوروناٹیسٹ پازیٹیو ہونے پرچھوٹے کمرےمیں بند کر دیا گیا ، انتظامیہ نے جس کمرے میں بند کیا وہ چھوٹا اور گندگی سے اٹا ہوا ہے ، انتظامیہ نےآج دباؤ میں آکر ایم سی ایچ سینٹر کو سیل کیا ، واش روم سمیت کوئی سہولت دستیاب نہیں۔
ڈاکٹر ثروت نے بتایا کہ میں صبح سےمنت سماجت کررہی ہوں کہ خداراکمرہ دےدیں،کوئی نہیں سن رہا، سربراہ پمز اسپتال سے متعدد رابطوں کے باوجود کچھ نہ ہوا، افسوس ہے پمز کے ڈاکٹر کے لیے الگ کمرہ دستیاب نہیں، ڈاکٹر اپنی جان پرکھیل کر مریضوں کاعلاج کررہےہیں۔
نو مئی سے پنجاب میں لاک ڈاؤن میں مزید نرمی کا امکان۔
باغی ٹی وی ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت نے لاک ڈاؤن میں نرمی کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ اس سے متعلق 8 مئی کو باقاعدہ اعلان کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی سربراہی میں پنجاب حکومت کا اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا۔ پائپ، اسٹیلز، اسپیئر پارٹس اور مشینری، بجلی کے سامان کی دکانیں کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ٹیکسٹائل انڈسٹری، کنسٹریکشن انڈسٹری اور گلاس مینوفیکچرز کی دکانیں بھی کھولی جائیں گی۔
پنجاب میں کپڑے کی دکانیں 15 رمضان سے 6 گھنٹے کے لئے کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پارکس کو بھی کھولا جائے گا تاہم لیکن پارکس میں لگے جھولے بند رہیں گے۔ تمام دکانیں مقررہ وقت پر کھولی جائیں گی جس کے لیے وقت مختص ہوگا۔ جس چیز کو بھی کھولا جائے گا اس کے لیے پہلے ایس او پیز پر عملدآمد کرنا ضروری ہوگا۔ ایس او پیز پر عملدآمد کرنا سب کے لئے لازم ہو گا
وفاقی کابینہ اجلاس، قادیانیوں کی اقلیتی کمیشن میں شمولیت ہو گی یا نہیں ؟ حتمی فیصلہ ہو گیا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ختم ہو گیا
وفاقی کابینہ اجلاس میں ملک میں کورونا کی صورتحال پر کابینہ کو بریفنگ دی گئی۔ نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے اعداد و شمار سے کابینہ کو آگاہ کیا گیا۔اجلاس میں کورونا سے متاثرہ معاشی صورتحال پر بھی گفتگو ہوئی۔ وفاقی کابینہ اجلاس میں لاک ڈاؤن میں نرمی سے متعلق مختلف تجاویز بھی پیش کی گئیں۔
وفاقی کابینہ نے قادیانیوں کو اقلیت کمیشن میں شامل کرنے کا فیصلہ واپس لے لیا،نئے فیصلہ کے مطابق قومی اقلیت کمیشن میں قادیانی شامل نہیں ہونگے.وفاقی کابینہ نے وزارت مذہبی امور کی نئی سمری منظور کرلی
واضح رہے کہ قادیانیوں کو اقلیتی کمیشن میں شمولیت کے حوالہ سے خبریں سامنے آنے پر حکومت کو شدید رد عمل کا سامنا کرنا پڑا تھا جس کے بعد حکومت نے اب یہ فیصلہ واپس لیا،
حکومت کی اتحادی جماعت مسلم لیگ ق نے بھی اس حوالہ سے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا، مسلم لیگ ق کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ موجودہ نازک حالات میں قادیانیت کا پینڈورا باکس کھولنا ناقابل فہم ہے ،اسپیکرپنجاب اسمبلی چودھری پرویزالٰہی کا کہنا تھا کہ قادیانی خود کو غیر مسلم اقلیت تسلیم کرتے ہیں نہ ہی آئین پاکستان کو مانتے ہیں
قادیانیوں کی اقلیتی کمیشن میں شمولیت کے حوالہ سے خبریں آنے کے بعد اس حکومتی فیصلے کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں بھی درخواست دائر کر دی گئی تھی، لاہور ہائیکورٹ میں آئینی درخواست شہری مسعود احمد ریحان نے کی جانب سے دائر کی گئی ، درخواست میں وزیراعظم، وفاقی وزارت مذہبی امور، امام بادشاہی مسجد مولانا عبدالخبیر آزاد اور قادیانی کمیونٹی کو فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ ختم نبوت پر یقین رکھنے والا شخص ہی مسلمان کہلا سکتا ہے، وفاقی آئین میں قادیانیوں کو متفقہ طور پر غیر مسلم قرار دیا گیا ہے تاہم وفاقی کابینہ نے قومی اقلیتی کمیشن کی تشکیل نو کرنے کی منظوری دی ہے۔ وفاقی کابینہ نے قادیانیوں کو بھی اس کمیشن کا ممبر مقرر کرنے کی منظوری دی ہے۔
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ کمیشن میں قادیانیوں کی شمولیت سے ملک میں انتشار اور افراتفری پھیلنے کا خدشہ ہے۔ قادیانی غیر آئینی طور پر شعائر اسلام کا استعمال کرتے ہیں، کمیشن میں شمولیت کے بعد قادیانی کھلم کھلا تبلیغ اور شعائر اسلام کا استعمال کرینگے جس کے بعد قادیانیوں کے شعائر اسلام کے استعمال اور تبلیغ سے ملک میں خانہ جنگی ہونے کا خطرہ ہے
قادیانیوں کو کمیشن میں شامل اقلیتوں کی طرح حقوق نہیں دیے جاسکتے ہیں۔ درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ مرزا قادیانی کے عقائد کی وجہ سے دیگر اقلیتوں کے مذہبی جذبات متاثر ہوں گے۔ اس لیے عدالت قومی اقلیتی کمیشن میں قادیانیوں کی شمولیت کالعدم قرار دی جائے۔