Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • بھارتی  نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر اجیت ڈوول کا آج مختصردورہ افغانستان متوقع

    بھارتی نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر اجیت ڈوول کا آج مختصردورہ افغانستان متوقع

    بھارتی نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر اجیت ڈوول کے افغانستان کا دورہ کررہے ہیں۔

    بھارتی انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق اجیت ڈوول آج (23 فروری 2026) کسی وقت کابل پہنچ رہے ہیں۔ یہ دورہ انتہائی خفیہ نوعیت کا ہے۔کل رات 22 فروری کو طالبان کے عبوری وزیر داخلہ اور حقانی نیٹ ورک کے سربراہ سراج الدین حقانی نے اجیت ڈوول سے فون پر بات کی۔ یہ رابطہ پاکستان-افغانستان کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں اہم سمجھا جا رہا ہے، جہاں پاکستان نے حال ہی میں افغان سرحد پر دہشت گرد کیمپوں پر فضائی حملے کیے، جن میں پاکستان کا دعویٰ ہے کہ 80 سے زائد دہشت گرد ہلاک ہوئے، جبکہ افغان طالبان نے اسے شہریوں پر حملہ قرار دیتے ہوئے شہری ہلاکتوں کا الزام لگایا اور جواب دینے کی دھمکی دی۔

    ذرائع کے مطابق ملاقات میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور پاکستان کی حالیہ کارروائیوں کا جائزہ لیا جائے گا، سیکیورٹی تعاون اور انٹیلی جنس شیئرنگ کے امکانات ہیںَ افغانستان میں پاکستان کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کے حکمت عملی پر بات چیت ہو گی، پاکستان کے خلاف مستقبل کا مشترکہ لائحہ عمل تیار کیا جائے گا،اس کے علاوہ اجیت ڈوول کے ملا عمر کے بیٹے اور عبوری وزیر دفاع ملا محمد یعقوب اور طالبان کے عبوری وزیر خارجہ امیر خان متقی سے ملاقات کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

    یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان نے ٹی ٹی پی اور دیگر گروہوں کے خلاف کارروائی کی، جنہیں وہ افغان سرزمین سے آپریٹ ہونے والا قرار دیتا ہے۔ بھارت نے ان پاکستانی حملوں کی شدید مذمت کی اور انہیں افغان خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا۔ اس تناظر میں بھارت کا طالبان قیادت سے براہ راست رابطہ علاقائی طاقت کے توازن کو متاثر کرنے والا ہو سکتا ہے۔

  • دہشتگرد سلیم بلوچ کی ہلاکت، لاپتہ افراد کا بیانیہ بے نقاب

    دہشتگرد سلیم بلوچ کی ہلاکت، لاپتہ افراد کا بیانیہ بے نقاب

    دہشتگرد سلیم بلوچ کی ہلاکت، لاپتہ افراد کے بیانیے کے پیچھے چھپی فتنہ الہندوستان کی دہشت گردی بے نقاب ہو گئی

    31جنوری کو بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کے بزدلانہ حملوں میں لاپتہ افراد کی فہرست میں شامل سلیم بلوچ بھی ملوث تھا ،فتنہ الہندوستان اور را سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے سلیم بلوچ کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے ،فتنہ الہندوستان کا سرغنہ سلیم بلوچ بلوچستان میں حالیہ دہشت گردی کے حملوں میں سیکیورٹی فورسز سے لڑتے ہوئے تربت میں جہنم واصل ہوا ، بلوچ یکجہتی کمیٹی کی ماہرنگ لانگو اور نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے دہشتگرد سلیم بلوچ کو لاپتہ قرار دیگر پروپیگنڈا کیا جاتا رہا ہے ،یہ پہلا موقع نہیں جب کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی ، ماہ رنگ لانگو اور دیگر نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیمیں لاپتہ افراد کا پروپیگنڈا کرتی رہی ہیں،اس سے قبل بھی فتنہ الہندوستان کے مارے جانے والے متعدد دہشتگرد لاپتہ افراد کی فہرست میں شامل رہے ہیں

    مستونگ میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کی نام نہاد لاپتہ افرادکی فہرست میں شامل فتنہ الہندوستان کے دہشتگرد برہان بلوچ اور حفیظ بلوچ بھی جہنم واصل ہوئے تھے.بلوچ یکجہتی کمیٹی کی لاپتہ افراد کی فہرست میں دہشگرد عبدالحمیداور راشد بلوچ بھی شامل تھے جنہیں جہنم واصل کیا گیا ،2025 میں قلات میں آپریشن کے دوران ہلاک دہشتگردصہیب لانگو اور مارچ 2024 کو گوادر حملے میں مارے جانے والا دہشتگرد کریم جان بھی بلوچ یکجہتی کمیٹی کی لاپتہ افراد کی لسٹ میں شامل تھے ، نیول بیس حملے میں مارے جانے والا دہشتگرد عبدالودود بھی نام نہاد لاپتہ افراد کی فہرست میں شامل تھا

    سلیم بلوچ اور اس جیسے دیگر دہشت گردوں کی ہلاکت اس بات کی تصدیق ہے کہ ;نام نہاد لاپتہ افراد کا بیانیہ دہشتگردوں کی کارروائیوں کو جواز فراہم کر نے کی سازش ہے ،بلوچ یکجہتی کمیٹی نوجوانوں کو احساس محرومی کے گمراہ کن بیانیہ میں الجھا کر بالآخر فتنہ الہندوستان کے حوالے کردیتی ہے،فتنہ الہندوستان ان بلوچ نوجوانوں کے جذبات کو بھڑکا کر انہیں مسلح بغاوت اور دہشتگردی کیلئے استعمال کرتی ہے

    ماہرین کی رائے میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کا سافٹ چہرہ فتنہ الہندوستان کی دہشتگرد کارروائیوں کو لاپتہ افراد کے بیانیے سے تحفظ دیتا ہے،بلوچ یکجہتی کمیٹی کو ’’را‘‘ اور نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیموں کی سرپرستی حاصل ہے، نام نہادلاپتہ افراد کی فہرست میں شامل دہشتگردوں کی ہلاکت سے بلوچ یکجہتی کمیٹی کا بے بنیاد پروپیگنڈا زمین بوس ہو چکا ہے,

  • افغان طالبان رجیم کے سیکیورٹی دعووں کا پردہ چاک،سرمایہ کار ،مزدور نشانے پر

    افغان طالبان رجیم کے سیکیورٹی دعووں کا پردہ چاک،سرمایہ کار ،مزدور نشانے پر

    افغان طالبان رجیم کے سیکیورٹی دعووں کا پردہ چاک؛ چینی سرمایہ کار اور مزدور شدت پسندوں کے نشانے پر ہیں

    افغان طالبان رجیم دہشتگرد گروہوں کیخلاف غیر ملکی افراد کو سیکیورٹی فراہم کرنے میں مکمل ناکام ہو چکے ہیں، افغان طالبان رجیم کی ناکامی بے نقاب، سیکیورٹی کے دعوے کھوکھلے ثابت،چینی سرمایہ کاری کے منصوبے اور کارکن شدت پسند گروہوں کی زد میں ہیں،امریکہ کی اسٹمسن انسٹی ٹیوٹ کی محقق سارہ گوڈاک کے مطابق افغان طالبان رجیم چینی کارکنان کو مقامی شدت پسندوں کے حملوں سے محفوظ رکھنے میں مکمل ناکام ہوچکی ہے ،طالبان رجیم کی نااہلی نے افغانستان-تاجکستان بارڈر پر موجود سونے کی کانوں کو چینی مزدوروں کیلئے مہلک محاذ بنادیا ہے،ستمبر 2024 سے 2026 کے آغاز تک، افغانستان-تاجکستان سرحدی علاقے میں کم از کم سات حملے ہوئے، جس میں نو چینی شہری ہلاک اور 10 زخمی ہوئے،بھاری منافع کے عوض چینی سرمایہ کاری کے منصوبوں کی حفاظت طالبان رجیم نے سنبھالی ہے، مگر چینی کارکن اب بھی شدت پسند گروہوں کے آسان ہدف پر ہیں،

    ماہرین کے مطابق افغان طالبان رجیم کو دہشت گردوں کی سرپرستی کے بجائے اپنے داخلی معاملات، سیکیورٹی اور عوامی تحفظ پر توجہ دینی چاہیے،چینی مزدوروں پر بار بار حملے واضح ثبوت ہیں کہ طالبان غیر ملکی کارکنان کو تحفظ فراہم کرنے میں مکمل ناکام ہیں،

  • پاکستان، سعودی عرب سمیت اسلامی ممالک کی اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر کے بیان کی شدید مذمت

    پاکستان، سعودی عرب سمیت اسلامی ممالک کی اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر کے بیان کی شدید مذمت

    پاکستان سمیت اسلامی اور عرب ممالک کے وزرائے خارجہ نے اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر کے حالیہ بیان کی شدید مذمت کی ہے-

    ایک مشترکہ اعلامیے پر اسلامی جمہوریہ پاکستان، عرب جمہوریہ مصر، ہاشمی مملکت اردن، متحدہ عرب امارات، جمہوریہ انڈونیشیا، جمہوریہ ترکیہ، مملکت سعودی عرب، ریاست قطر، ریاست کویت، سلطنت عمان، مملکت بحرین، لبنانی جمہوریہ، شامی عرب جمہوریہ اور ریاست فلسطین کے وزرائے خارجہ کے علاوہ تنظیمِ تعاونِ اسلامی (او آئی سی)، عرب لیگ (ایل اے ایس) اور خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کے سیکریٹریٹس نے بھی دستخط کیے۔

    اعلامیے میں امریکی سفیر کی جانب سے یہ کہنا کہ اسرائیل کے لیے عرب ریاستوں سے تعلق رکھنے والے علاقوں، بشمول مقبوضہ مغربی کنارے، پر کنٹرول قابلِ قبول ہو سکتا ہے، کو خطرناک اور اشتعال انگیز قرار دیا گیا ہے۔

    گھوٹکی ،رمضان المبارک کے پیش نظر اشیائے ضروریہ کی قیمتیں مقرر

    وزرائے خارجہ نے اس مؤقف کو دو ٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ بیانات بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے بنیادی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔

    اعلامیے میں کہا گیا کہ یہ بیانات امریکی صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ کی جانب سے پیش کردہ وژن اور غزہ تنازع کے خاتمے کے جامع منصوبے سے بھی متصادم ہیں، جو کشیدگی کم کرنے اور ایک ایسی سیاسی راہ ہموار کرنے پر مبنی ہے جس سے فلسطینی عوام کو اپنی آزاد ریاست حاصل ہو سکے یہ منصوبہ رواداری اور پُرامن بقائے باہمی کے فروغ پر مبنی ہے، جبکہ دوسروں کی سرزمین پر کنٹرول کو جائز قرار دینے والے بیانات امن کے بجائے اشتعال انگیزی کو فروغ دیتے ہیں۔

    اوکاڑہ،دھی رانی پروگرام،اجتماعی شادیوں کی چوتھی تقریب،90 بیٹیوں کی شادی

    مشترکہ بیان میں واضح کیا گیا کہ اسرائیل کو مقبوضہ فلسطینی علاقوں یا کسی بھی دیگر مقبوضہ عرب سرزمین پر کسی قسم کی خودمختاری حاصل نہیں وزرائے خارجہ نے مغربی کنارے کے الحاق یا اسے غزہ کی پٹی سے الگ کرنے کی کسی بھی کوشش کو سختی سے مسترد کیا اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں بستیوں کی توسیع کی شدید مخالفت کا اعادہ کیا۔

    اعلامیے میں خبردار کیا گیا کہ اسرائیل کی توسیع پسندانہ پالیسیوں اور غیر قانونی اقدامات کا تسلسل خطے میں تشدد اور تصادم کو مزید ہوا دے گا اور امن کی امیدوں کو نقصان پہنچائے گا ایسے اشتعال انگیز بیانات کا سلسلہ فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا وزرائے خارجہ نے فلسطینی عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت اور 4 جون 1967ء کی سرحدوں کے مطابق آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے تمام عرب علاقوں سے قبضے کے خاتمے پر زور دیا۔

    گیمبر پریس کلب اوکاڑہ کینٹ کی23 ویں تقریب حلف برداری

    ادھر سعودی وزارت خارجہ نے ایک الگ بیان میں اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر کے حالیہ بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔

    وزارتِ خارجہ کے مطابق امریکی سفیر نے اپنے بیان میں غیر ذمہ دارانہ انداز میں یہ تاثر دیا کہ پورے مشرقِ وسطیٰ پر اسرائیل کا کنٹرول قابلِ قبول ہو سکتا ہے، جو نہ صرف اشتعال انگیز بلکہ خطے کے امن و استحکام کیلئے خطرناک ہے۔

    عالمی ٹیرف کو کالعدم قرار دینےپر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا سخت ردعمل

    سعودی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایسے خیالات بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کے چارٹر اور ریاستوں کی خودمختاری کے بنیادی اصولوں کے منافی ہیں شرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کا واحد راستہ انصاف، بین الاقوامی قانون اور متعلقہ قراردادوں کی پاسداری سے ہی ممکن ہےسعودی عرب نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ خطے میں کشیدگی بڑھانے والے بیانات سے اجتناب کرے اور امن و استحکام کے فروغ کیلئے تعمیری کردار ادا کرے۔

  • ڈی آئی خان، خاتون خود کش حملہ آور گرفتار،دہشتگردی کا بڑا منصوبہ ناکام

    ڈی آئی خان، خاتون خود کش حملہ آور گرفتار،دہشتگردی کا بڑا منصوبہ ناکام

    محکمہ انسداد دہشتگردی (سی ٹی ڈی) خیبر پختونخواہ، نے ڈیرہ اسماعیل خان شیخ یوسف خیمہ بستی سے خاتون خودکش حملہ آور کو گرفتارکرلیا،

    نوجوان خودکش حملہ آور خاتون کی شناخت مسماۃ (ز) کے نام سے ہوئی، جو وزیرستان کی رہائشی ہے، گرفتار خودکش حملہ آور خاتون ہلاک خارجی شاہ ولی عرف طارق کی دست راست رہی اور اس سے تربیت حاصل کرتی رہی،خودکش حملے کے لیے سامان اور ٹارگٹ خارجی کمانڈر عاصم فراہم کرنے والے تھے،خودکش حملہ آور خاتون نے اعترافی بیان بھی دیا، گرفتار خاتون خودکش حملہ آور کے قبضے سے 30 بور پستول بمعہ کارتوس، موبائل فونز، ٹیبلٹ اور حملے میں استعمال ہونے والا دیگر سامان برآمد ہوا،خاتون کے موبائل فونز سے کالعدم ٹی ٹی پی سے رابطے اور خودکش حملے کے لیے رضامندی جیسی معلومات حاصل ہوئیں.

  • بنوں،سکیورٹی فورسز کے قافلے پر فتنہ الخوارج کا حملہ،لیفٹیننٹ کرنل سمیت دو جوان شہید

    بنوں،سکیورٹی فورسز کے قافلے پر فتنہ الخوارج کا حملہ،لیفٹیننٹ کرنل سمیت دو جوان شہید

    بنوں میں سکیورٹی فورسز کے قافلے پر فتنہ الخوارج کے حملے میں پاک فوج کے لیفٹیننٹ کرنل اور ایک سپاہی شہید ہوگئے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسزکو خودکش بمبارکی گاڑی کی اطلاع ملی تھی اور خفیہ اطلاع پر سکیورٹی فورسز علاقے میں آپریشن کررہی تھیں، بنوں میں آپریشن کے دوران خوارج کا سراغ لگا گیا، ایک گاڑی میں سوار خودکش بمبار کو اگلے دستے نے بروقت روک لیا جس پر خوارج نے مایوسی میں بارود سے بھری گاڑی اگلے دستے کی ایک گاڑی سے ٹکرائی، اس کے نتیجے میں لیفٹیننٹ کرنل شہزادہ گلفراز اور سپاہی کرامت شاہ شہید ہوگئے، اس دوران فورسز کے آپریشن میں 5 خوارج بھی مارے گئے اور سکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی سے بنوں کو ایک بڑے سانحہ سے بچا لیا گیا، دہشتگردوں کے بنوں شہر میں معصوم شہریوں اور اہلکاروں کا نشانہ بنانے کے ناپاک عزائم ناکام بنا دیے گئے۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہےکہ ماہ مقدس میں بھی خوارج کی افغانستان سے پاکستان میں دہشتگردانہ سرگرمیاں جاری ہیں، دہشتگردوں کے ماہ رمضان کے تقدس کے پامال سے واضح ہے ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، طالبان حکومت افغان سرزمین کوپاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال سے روکنے میں ناکام ہے پاکستان خوارج کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری رکھے گا، سکیورٹی فورسز کی ’عزمِ استحکام‘ کے تحت انسدادِ دہشتگردی مہم پوری قوت سے جاری رہے گی، بہادر سپاہیوں کی ایسی قربانیاں ہمارے غیرمتزلزل عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔

  • ایل او سی پر بھارتی فوج کی جنگ بندی کی خلاف ورزی

    ایل او سی پر بھارتی فوج کی جنگ بندی کی خلاف ورزی

    لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے نوگام،منڈل سیکٹر میں بھارتی فوج کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی مبینہ خلاف ورزی کے بعد پاک بھارت افواج کے درمیان شدید فائرنگ اور گولہ باری کا تبادلہ ہوا ہے۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق آج بھارتی فوج نے بلااشتعال مارٹر گولوں سے فائرنگ کا آغاز کیا، جس کا پاک فوج نے فوری اور مؤثر جواب دیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی فورسز نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے منڈل سیکٹر میں متعدد بھارتی چوکیوں کو نشانہ بنایا، جبکہ کمار ٹاپ پوسٹ کو تباہ کرنے کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق پاکستانی جواب کے بعد بھارتی توپیں خاموش ہو گئیں اور دوسری جانب جانی نقصان کی بھی غیر مصدقہ اطلاعات سامنے آئی ہیں، تاہم بھارتی حکام کی جانب سے تاحال اس حوالے سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔

    عسکری ذرائع کے مطابق پاکستانی افواج نے واضح کیا ہے کہ بھارتی فوج کی کسی بھی جارحیت کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ سرحدی علاقوں میں شہری آبادی کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں اور صورتحال پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔

    دفاعی مبصرین کے مطابق ایل او سی پر کشیدگی میں حالیہ اضافہ خطے کے امن کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات عموماً اس وقت سامنے آتے ہیں جب مقبوضہ کشمیر میں سیکیورٹی صورتحال خراب ہو رہی ہو۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ ان اشتعال انگیزیوں کا مقصدمقبوضہ کشمیر میں بگڑتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال سے توجہ ہٹانا ہے۔

  • پاکستان میں دہشتگردی میں افغان سرزمین کااستعمال، ناقابل تردیدشواہدمنظرعام پر

    پاکستان میں دہشتگردی میں افغان سرزمین کااستعمال، ناقابل تردیدشواہدمنظرعام پر

    پاکستان میں دہشتگردی میں افغان سرزمین کااستعمال، ناقابل تردیدشواہدمنظرعام پر آ گئے

    16فروری 2026کو باجوڑمیں ملنگی پوسٹ پر خودکش حملہ کرنے والا خارجی دہشتگرد بھی افغان شہری نکلا،خودکش حملہ آور کی شناخت خارجی احمدعرف قاری عبداللہ ابوذر کے نام سے ہوئی جو افغانستان کےصوبہ بلخ کارہائشی تھا ،خارجی احمدعرف قاری عبداللہ ابوذر طالبان کی اسپیشل فورسزکاحصہ بھی رہ چکاہے،اس خودکش حملہ میں 11 سیکیورٹی اہلکاروں سمیت دو معصوم شہری بھی شہید ہوئے ،پاکستان میں دہشتگردی میں افغان شہریوں کاملوث ہونا، طالبان رجیم کی دہشتگردوں کی مکمل سرپرستی اورسہولت کاری کا واضح ثبوت ہے،گزشتہ کئی عرصے سے پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی کے تانے بانے سرحد پار سے ملتے ہیں

    6فروری2026 کواسلام آبادترلائی میں خودکش حملہ کرنےوالےبمبار نےافغانستان سےدہشتگردی کی تربیت حاصل کی تھی،11نومبر2025کواسلام آبادجوڈیشل کمپلیکس اور24نومبرکوایف سی ہیڈکوارٹرزپشاورپرحملہ کرنےوالے دہشتگردوں کاتعلق بھی افغانستان سے تھا،گزشتہ سال10اکتوبرکوڈیرہ اسماعیل خان پولیس ٹریننگ سینٹراور10نومبرکوواناکیڈٹ کالج پردہشتگردحملوں میں بھی افغان شہری ملوث تھے ،19اکتوبر 2025کوجنوبی وزیرستان میں گرفتارہونے والا خودکش بمبارنعمت اللہ ولد موسی جان بھی افغان صوبہ قندھارکارہائشی تھا،4مارچ 2025کوبنوں کینٹ حملے کی منصوبہ بندی بھی افغانستان سے ہوئی جس میں افغان شہریوں کےملوث ہونےکی تصدیق بھی ہوئی ،11مارچ 2025 کوجعفر ایکسپریس حملے کے سہولت کار افغانستان میں چھپے خارجی نور ولی سے مسلسل رابطہ میں تھے ، 3ستمبر 2024 کوگرفتارہونے والے خودکش بمبار روح اللہ کےکا اعترافی بیان افغانستان سےسرحدپاردہشتگردی کاواضح ثبوت ہے

    ماہرین کے مطابق افغان طالبان رجیم کی جانب سےدہشتگرد تنظیموں کی پشت پناہی سے واضح ہے کہ دہشتگردوں کو افغانستان میں محفوظ پناہگاہیں میسر ہیں ،پاکستان میں دہشتگردی کے واقعات میں 70 فیصد سے زائد افغانی ملوث ہیں،افغان طالبان رجیم کے غیر منطقی طرزعمل اوردہشتگردوں کی پشت پناہی نے امن کی کوششوں کو ہمیشہ سبوتاژکیا

  • سپریم کورٹ،بانی پی ٹی آئی کی درخواست ،ہرجانہ کیس کاروائی روکنے کا حکم

    سپریم کورٹ،بانی پی ٹی آئی کی درخواست ،ہرجانہ کیس کاروائی روکنے کا حکم

    سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی درخواست پر ٹرائل کورٹ کو ہرجانہ کیس میں کارروائی سے روک دیا اور وزیراعظم شہباز شریف سے جواب طلب کر لیا۔

    شہباز شریف کے بانی پی ٹی آئی کے خلاف ہرجانہ کیس پر سپریم کورٹ میں بانی کی درخواست پر سماعت ہوئی، سپریم کورٹ نے وزیر اعظم شہباز شریف کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا، کیس کو جلد سماعت کیلئے مقرر کیا جائے گا،جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ دوسری طرف سے آج کوئی نہیں آیا، اس مقدمہ میں میرا اختلافی نوٹ ہے، دو جج صاحبان نے حق دفاع ختم کرنے کے فیصلے کو درست قرار دیا تھا، وکیل علی ظفر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی ٹانگ میں گولی لگی تھی، بانی پی ٹی آئی زخمی ہونے کے باعث کیس میں پیش نہ ہوسکے، ٹرائل کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی عدم پیروی پر حق دفاع ختم کردیا تھا، اب مقدمہ میں گواہان کا بیان ریکارڈ ہو رہے ہے۔

    جسٹس عائشہ ملک نے استفسار کیا کہ کتنے ارب ہرجانے کا دعوی ہے ؟ علی ظفر نے بتایا کہ دس ارب روپے کا دعویٰ کیا گیا، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے حق دفاع ختم کرنے سے پہلے دو تاریخوں پر بانی کا زخمی ہونا تسلیم کیا، زخمی ہونا تسلیم کرنے کے بعد حق دفاع کیسے ختم کیا جا سکتا ہے ؟ ہم مقدمہ میں دوسرے فریق کو نوٹس کررہے ہیں، شہباز شریف نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف دس ارب روپے کے ہرجانے کا دعویٰ کیا ہوا ہے جس میں ٹرائل کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کا عدم پیروی پر دفاع کا حق ختم کردیا تھا

  • وزیرِ اعظم سے چیف ایگزیکٹیو آفیسر  انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ فنانس کارپوریشن کی ملاقات

    وزیرِ اعظم سے چیف ایگزیکٹیو آفیسر انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ فنانس کارپوریشن کی ملاقات

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف سے یونائیٹڈ اسٹیٹس انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ فنانس کارپوریشن (ڈی ایف سی) کے سی ای او بینجمن بلیک نے آج واشنگٹن میں ملاقات کی۔ ان کے ساتھ ڈی ایف سی کے سرمایہ کاری کے سربراہ کونر کولمین اور ایجنسی کی سینئر قیادت بھی موجود تھی۔

    وزیر اعظم نے پاکستان اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی معاشی شراکت داری کے فروغ اور دونوں ممالک کے نجی اداروں کے درمیان مشترکہ منصوبوں کو متحرک کرنے میں ڈی ایف سی کے کلیدی کردار کی تعریف کی، جو کہ روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ کے لیے ضروری ہے۔ پاکستان کی معیشت کو بہتر کرنے والے میکرو اکنامک بنیادی اصولوں، ساختی اصلاحات اور سرمایہ کاری کے لیے پرکشش ماحول کے لیے حکومت کے عزم کو اجاگر کرتے ہوئے، وزیراعظم نے ڈی ایف سی کو دعوت دی کہ وہ توانائی، کان کنی و معدنیات، زراعت اور آئی ٹی کے شعبوں میں منصوبوں کے لیے اپنی فنانسنگ میں اضافہ کرے۔ انہوں نے DFC کے 1 بلین ڈالر سے زیادہ کے پورٹ فولیو کو سراہا اور دونوں ممالک کی اقتصادی ترجیحات کے درمیان ہم آہنگی پر روشنی ڈالی، جو کاروباری تعاون (B2B) کے فروغ کے لیے باہمی طور پر فائدہ مند مواقع ہیں۔ وزیراعظم نے ڈی ایف سی کو اپریل میں اسلام آباد میں منعقد ہونے والی آئندہ معدنیات کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی۔

    بینجمن بلیک نے وزیراعظم کو DFC کے اسٹریٹجک اقدامات، ترجیحات اور پاکستان میں متوقع پراجیکٹس کے بارے میں آگاہ کیا اور پاکستان میں ڈی ایف سی کی سرمایہ کاری میں اضافے میں دلچسپی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ DFC شراکت دار ممالک میں اقتصادی ترقی کی حمایت کیلئے تیار ہے۔ وزیر اعظم نے بنجمن بلیک کو پاکستان میں مشترکہ دلچسپی کے مختلف شعبوں میں باہمی طور پر مفید سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے کے لیے جلد از جلد پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت دی۔