Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • مقبوضہ کشمیر میں کرونا کے مریضوں کی تفصیلات دی جائیں،پاکستان کا بھارت سے مطالبہ

    مقبوضہ کشمیر میں کرونا کے مریضوں کی تفصیلات دی جائیں،پاکستان کا بھارت سے مطالبہ

    مقبوضہ کشمیر میں کرونا کے مریضوں کی تفصیلات دی جائیں،پاکستان کا بھارت سے مطالبہ
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے بھارت سے مقبوضہ کشمیر میں کرونا وائرس کے حوالہ سے تفصیلات کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے، ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں کرونا کی صورت حال پر تشویش ہے، بھارتی حکومت تفصیلات فراہم کرے۔

    ترجمان دفتر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں ضروری سپلائی یقینی بنائے،بھارت کورونا پھیلاؤ کی وجہ سے مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈاون ختم کرے،مقبوضہ کشمیر میں کورونا کی وجہ سے سخت تشویش ہے،وزارت خارجہ میں کرونا کے سلسلے میں خصوصی سیل قائم ہے جو سفارت خانوں سے رابطے میں ہے، دفتر خارجہ میں چوبیس گھنٹے کی ہیلپ لائن بھی قائم کر دی گئی ہے، پاکستانی سفارت خانوں نے کمیونٹی کی رہنمائی کے لیے فوکل پرسنز بھی مقرر کر دیے ہیں.واک ان قونصلر سروسز وزارت خارجہ نے بند کردی ہیں،تمام شہریوں سے کہا گیا ہے کہ حفاظتی اقدامات پرعمل کریں،

    ترجمان دفتر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے وفاقی وزرا کے ہمراہ چین کا دورہ کیا، چین میں 2 معاہدوں پر دستخط ہوئے، چین اور پاکستان نے مشکل وقت میں ساتھ کھڑے ہونے کے عزم کا اظہار کیا، صدر اور وزیر خارجہ نے ووہان میں موجود طلبہ کے ساتھ بھی ویڈیو لنک پر رابطہ کیا۔

    واضح رہے کہ سرینگر مقبوضہ جموں و کشمیر میں کرونا وائرس کا ایک مریض سامنے آیا ہے جس کے بعد انتظامیہ نے کورونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر تمام امتحانات ملتوی کر دیے ہیں۔جنوبی ضلع اننت ناگ اور بارہمولہ میں دفعہ 144 نافذکردی گئی۔ پولیس نے ضلع کشتواڑ میں افواہ پھیلانے پر ایک شخص کوگرفتارکر لیا ۔جموں میں تمام مذہبی مقامات پر جمع ہونے پر پابندی لگا دی گئی ہے

    جموں اور لداخ کے بعد اب سرینگر میں بھی کورونا وائرس کے ایک مثبت کیس کی تصدیق ہوئی ہے۔جموں و کشمیر انتظامیہ کے پرنسپل سکریٹری روہت کونسل نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ سرینگر کے خانیار علاقے میں کورونا وائرس کا پہلا کیس مثبت پایا گیا۔ یہ شخص 16 مارچ کو بیرون ملک کا سفر کر کے آیا تھا جس کے بعد انہیں آئسولیشن واڈ میں رکھا گیا ۔سرینگر کے ضلعی مجسٹریٹ شاہد اقبال چودھری اور میئر جنید متو نے بھی ٹوئٹ کے ذریعے اس بات کی تصدیق کی ہے۔

    سرینگر کے میئر جنید متو نے لکھا ہے کہ میں تمام مقامی لوگوں سے گذارش کرتا ہوں کہ وہ کل صبح سے ہی اپنے گھروں میں رہیں ۔پونچھ میں بازار بند کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اور اس کے لیے تمام چوک چوراہوں پر باضابطہ مائک لگا کر اعلانات کرائے جارہے ہیں۔کشمیر یونیورسٹی میں حکام نے تمام انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ امتحانات جبکہ جے کے بورڈ آف اسکول ایجوکیشن نے دسویں اور بارہویں جماعت 31 مارچ تک ملتوی کردیئے ہیں۔

  • کرونا وائرس، دنیا بھر میں ہلاکتیں 9 ہزار کے قریب پہنچ گئیں

    کرونا وائرس، دنیا بھر میں ہلاکتیں 9 ہزار کے قریب پہنچ گئیں

    کرونا وائرس، دنیا بھر میں ہلاکتیں 9 ہزار کے قریب پہنچ گئیں

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کورونا وائرس نے دنیا کے 174 ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا

    دنیا بھر میں کورونا سے ہلاکتوں کی تعداد8ہزار968ہوگئی،چین میں3245،اٹلی2978اورایران میں1135ہلاکتیں ہوئی ہیں،اسپین میں 638، فرانس264،امریکہ155اوربرطانیہ میں 104ہلاکتیں ہوئی ہیں،جنوبی کوریا91،نیدرلینڈز58،جاپان 32اورسوئٹزرلینڈمیں33ہلاکتیں ہوئی ہیں.

    دنیا بھر میں کورونا وائرس سے85ہزار745مریض صحت یاب ہوئے ہیں،جرمنی 28، انڈونیشیا19 ،فلپائن17 ،بیلجیئم14 ،عراق 12اورسویڈن میں10ہلاکتیں ہوئی ہیں. پاکستان میں کرونا وائرس کے 2 مریض، بھارت میں 3 مریض ہلاک ہوئے ہیں،

    گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اٹلی میں مزید ساڑھے کئی ہزار سے زائد کیسز سامنے آئے، جس کے بعد متاثرہ افراد کی تعداد ساڑھے 35 ہزار 813 سے بھی تجاوز کرگئی۔خطرناک کورونا وائرس کی وجہ سے حکومت نے اٹلی کے 14 صوبوں کی ڈیڑھ کروڑ سے زائد آبادی کو لاک ڈاؤن کر دیا ہے جس کے بعد اٹلی کی سڑکیں اور سیاحتی مقامات ویران پڑے ہیں۔

    ادھر سعودی عرب نے کرونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورتحال کے پیش نظر جی ٹوئنٹی ممالک کا ہنگامی سربراہ اجلاس بلانے کا اعلان کر دیا ہے۔ سعودی حکومت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جی ٹوئنٹی کرونا کے خلاف جنگ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ سعودی عرب وبا کی روک تھام کے لیے عالمی سطح پر کی جانے والی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ تمام ارکان سے رابطے میں ہے۔ عالمی وبا کو کنٹرول کرنے کے لیے جی ٹوئنٹی ممالک کو متفقہ پالیسیاں اور اقدامات کرنا ہوں گے۔

     

  • کورونا وائرس سے خیبرپختونخوا میں 2 افراد جاں بحق،باقاعدہ تصدیق کردی گئی

    کورونا وائرس سے خیبرپختونخوا میں 2 افراد جاں بحق،باقاعدہ تصدیق کردی گئی

    پشاور:کورونا وائرس سے خیبرپختونخوا میں 2 افراد جاں بحق،باقاعدہ تصدیق کردی گئی،اطلاعات کےمطابق پاکستان میں کرونا کے حوالے سے غمگین کردینے والی خبریں آنا شروع ہوگئی ہیں ، ادھر کے پی صوبے میں کورونا وائرس سے پہلی ہلاکت ضلع مردان میں ہوئی جہاں 50 سالہ سعادت خان وفات پا گیا۔ جاں بحق شہری مردان میڈیکل کمپلیکس میں زیرعلاج تھا اور چند روز قبل ہی عمرے کی ادائیگی کے بعد سعودی عرب سے پاکستان پہنچا تھا۔

     

    وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے موت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ وفات والے شخص کو بخار، کھانسی اور سانس لینے میں تکلیف ہوئی تھی اور کورونا وائرس کی بھی تصدیق ہوئی تھی۔انہوں نے کہا کہ وفات پانے والے شہری سے رابطے میں رہنے والوں کی اسکریننگ جاری ہے اور ان کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کرتے ہیں۔

    ادھر کرونا سے جاں بحق ہونے والے شخص کے بارے میں صوبائی وزیرصحت تیمور جھگڑا کے مطابق جاں بحق مریض 8 مارچ کو سعودی عرب سے آیا تھا اور جس میں آج کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی۔جبکہ دوسری موت کورونا وائرس کے باعث لیڈی ریڈنگ اسپتال پشاور میں ہوئی جہاں زیرعلاج ہنگو کا 36 سالہ رہائشی جاں بحق ہوگیا۔

     

    لیڈی ریڈنگ اسپتال کے ترجمان کے مطابق مریض عبد الفتح کو گزشتہ رات تشویشناک حالت میں لیڈی ریڈنگ اسپتال لایا گیا جہاں مریض میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ترجمان نے بتایا کہ جاں بحق شہری عبدالفتح چند روز قبل دبئی سے وطن واپس آیا تھا۔

    خیال رہے کہ خیبرپختونخوا میں اب تک 19 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جبکہ ملک بھر میں مجموعی تعداد 304 ہوگئی ہے۔سندھ سے 208، پنجاب سے 33، بلوچستان میں 23، خیبرپختونخوا میں 19، گلگت میں 13، اسلام آباد میں 7 اور آزاد کشمیر میں ایک کیس رپورٹ ہوا ہے۔

  • کرونا وائرس 168ممالک میں پھیل گیا، خطرناک وبا سے 8160 افراد جاں بحق ، لاکھوں متاثر

    کرونا وائرس 168ممالک میں پھیل گیا، خطرناک وبا سے 8160 افراد جاں بحق ، لاکھوں متاثر

    تہران:کرونا وائرس 168ممالک میں پھیل گیا، خطرناک وبا سے 8160 افراد جاں بحق ، لاکھوں متاثر،اطلاعات کےمطابق کرونا کی وجہ سےاس وقت دنیا کی زندگی خطرے میں پڑگئی ہے، ادھرتازہ ترین اطلاعات کےمطابق کرونا وائرس ایک سو اڑسٹھ ممالک میں پھیل گیا۔ خطرناک وبا سے 8160 کی اموات، دو لاکھ سے زائد افراد متاثر ہو کر رہ گئے۔

    ایران میں 147 جبکہ سپین میں مزید 65 افراد جان کی بازی ہار گئے۔ خطرناک وبا سے مرنے والوں کی کل تعداد 1135 ہو گئی۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران انڈونیشیا میں 12، چین میں 11، امریکا میں 7 ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں۔ جنوبی کوریا اور فلپائن میں 3،3 جبکہ برازیل، پرتگال، ناروے اور آسٹریلیا میں 1،1 ہلاکت سامنے آئی۔

    یورپ میں کرونا وائرس نے ہلاکتوں کی تعداد میں پہلی بار ایشیا کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ یورپ میں اب تک کرونا سے 3 ہزار 421 ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں جبکہ ایشیا میں مرنے والوں کی تعداد 3 ہزار 384 ہو چکی ہے۔

    ادھر سعودی عرب نے کرونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورتحال کے پیش نظر جی ٹوئنٹی ممالک کا ہنگامی سربراہ اجلاس بلانے کا اعلان کر دیا ہے۔ سعودی حکومت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جی ٹوئنٹی کرونا کے خلاف جنگ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ سعودی عرب وبا کی روک تھام کے لیے عالمی سطح پر کی جانے والی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ تمام ارکان سے رابطے میں ہے۔ عالمی وبا کو کنٹرول کرنے کے لیے جی ٹوئنٹی ممالک کو متفقہ پالیسیاں اور اقدامات کرنا ہوں گے۔

    دوسری جانب امریکی شہر سیٹل میں کرونا وائرس کی ویکسین کی آزمائش شروع کر دی گئی ہے۔ واشنگٹن میں خاتون رضاکار کو پہلا انجکشن لگایا گیا ہے جبکہ 45 مزید افراد نے خود کو تحقیق کےلیے پیش کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ بھی دنیا بھر میں 35 کمپنیاں اور ادارے ویکسین کی تیاری میں مصروف ہیں۔

    تجرباتی ویکسین کا پہلا انجکشن لگوانے والی 43 سالہ جینیفر ہیلر دو بچوں کی ماں ہیں۔ دیگر رضا کاروں کو ایک ماہ کے وقفے سے دو انجکشن لگائے جائیں گے۔رضاکاروں کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس سے چھٹکارا پانے کے لیے وہ کچھ بھی کرنے کو تیار ہیں۔ ابتدائی دوا کو نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ اور میساچوسیٹس کی بائیو ٹیکنالوجی کمپنی ماڈرنا نے تیار کیا ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ جن لوگوں کو انجکشن لگائے جا رہے ہیں، انہیں کوئی خطرہ نہیں کیونکہ ویکسین میں کرونا وائرس شامل نہیں کیا گیا۔ تاہم بارہ سے اٹھارہ ماہ تک کوئی بھی ویکسین بازار میں آ سکتی ہے۔

    دنیا بھر میں 35 کمپنیاں اور ادارے ویکسین کی تیاری میں مصروف ہیں۔ برطانیہ میں آئندہ ماہ ویکسین کا ٹیسٹ کیا جائے گا۔ جرمنی میں بھی ریسرچر کرونا کی ویکسین کی تیاری میں مصروف ہیں۔ چین اور جنوبی کوریا میں کرونا کی ویکسین کی تیاری کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق لداخ سکاوٹ کے جوان میں کورونا وائرس کی علامت دیکھے جانے کے بعد اس کی جانچ کرائی گئی جو مثبت آئی۔ بھارتی فوجی کو جہاں ہسپتال بھیج دیا گیا ہے وہیں اس کی بہن اور اہلیہ کو بھی آئیسولیٹ کر دیا گیا ہے۔

    بھارتی فوج میں یہ پہلا کیس سامنے آیا ہے، لیہہ کے چوہوٹ گاوں کا رہنے والا یہ بھارتی فوجی اپنے والد کے رابطہ میں آیا جو پہلے سے ہی انفیکشن کا شکار ہو چکے تھے۔ ان کے والد 20 فروری کو ایران سے تیرتھ یاترا پر لوٹے تھے اور 29 فروری سے لداخ ہارٹ فاونڈیشن میں آئسولیشن میں ہیں۔

  • کرونا وائرس سے پاکستان میں پہلے مریض کی موت کی تصدیق ہوگئی ، جاں بحق ہونےوالا شخص عرب امارات سے پہنچا تھا

    کرونا وائرس سے پاکستان میں پہلے مریض کی موت کی تصدیق ہوگئی ، جاں بحق ہونےوالا شخص عرب امارات سے پہنچا تھا

    پشاور:کرونا وائرس سے پاکستان میں پہلے مریض کی موت کی تصدیق ہوگئی ، جاں بحق ہونےوالا شخص عرب امارات سے پہنچا تھا ،باغی ٹی وی کےمطابق پاکستان میں کرونا سے جاں بحق ہونے والے پہلے پاکستانی کی تصدیق ہوگئی ہے، یہ شخص کل ہی عرب امارات سے پاکستان پہنچا تھا

    باغی ٹی وی کےمطابق ڈی سی بونیر محمد خالد خان کا کہنا ہے کہ ضلع بونیر میں کورونا وائرس کا پہلا کیس سامنے آیا ہے۔محمد خالد خان کا بتانا ہے کہ کورونا وائرس کی تصدیق کے بعد متاثرہ شخص کو ڈگر اسپتال آئسولیشن وارڈ منتقل کر دیا گیا ہے، متاثرہ شخص ایک ہفتہ قبل متحدہ عرب امارات سے آیا تھا۔

    پاکستان میں آج کورونا وائرس کے مزید 67 کیسز سامنے آنے کے بعد ملک بھر میں متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 304 ہو گئی ہے،جبکہ خیبر پختونخوا میں کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد 19 ہو گئی

  • 2020 میں جنگوں، فتنوں اورکرونا سے تباہیوں سے متعلق فرانسیسی نجومی نوسٹراڈیمس کی خوفناک پیش گوئیاں،6سوسال بعد حرف بہ حرف پوری ہونے لگیں‌

    2020 میں جنگوں، فتنوں اورکرونا سے تباہیوں سے متعلق فرانسیسی نجومی نوسٹراڈیمس کی خوفناک پیش گوئیاں،6سوسال بعد حرف بہ حرف پوری ہونے لگیں‌

    پیرس : 2020 سے متعلق فرانسیسی نجومی نوسٹراڈیمس کی خوفناک پیش گوئیاں،کرونا سے متعلق بھی پشین گوئی ،حرف بہ حرف پوری ہوتی نظرآرہی ہیں ،مورخین کے مطابق مشہور فرانسیسی نجومی نوسٹرا ڈیمس نے امریکی صدر ٹرمپ کے بارے میں کیا پیش گوئیاں کی تھیں، بہت کچھ ویسا ہی ہو گیا اور اب آگے کیا ہونیوالا ہے؟ چونکا دینے والے انکشافات،ذرائع کےمطابق مشہور فرانسیسی کاہن نوسٹراڈیمس جس کی موت 1566ء میں ہوئی مگر اس نے مستقبل کے بارے میں جو ہزاروں پیشگوئیاں کیں وہ آج تک لوگوں کے لئے حیرت کا باعث بن رہی ہیں۔

    نوسٹرا ڈیمس کی یہ پیشگوئیاں چار سطری نظموں کی صورت میں ہیں جنہیں لیس پرافرٹیز کے نام سے 10 مجموعوں میں شائع کیا گیا ہے۔اس کے تیسرے مجموعے کی 81 ویں نظم کو بہت سے لوگوں نے امریکہ کے 2016ء میں ہونے والے انتخابات اور اس کے نتائج کی جانب واضح اشارہ قرار دیا ہے۔

    نوسٹرا ڈیمس نے اس پیش گوئی میں کہا کہایک عظیم بے شرم، بے باک جھگڑالو شخص آئے گا اور فوجوں کا حاکم مقرر ہوگا، اس کے جھگڑے ایسے شدید ہوں گے کہ قومیں اور ملک اس کی وجہ سے کٹ جائیں گے اور خوف کے باعث لوگوں کے رابطے منقطع ہوجائیں گے۔ تجزیہ کاروں کا اس پیشگوئی کے بارے میں کہنا ہے کہ اس کو جس زاویے سے بھی دیکھا جائے یہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر بننے کے بارے میں ہے جو کہ امریکہ افواج کے کمانڈر ان چیف بھی ہیں۔

    نوسٹرا ڈیمس کی پیشگوئی کے مطابق ایک بے شرم، بے باک اور جھگڑالو شخص دنیا کی سب سے بڑی فوج کا حاکم بن چکا ہے اور اس کے جھگڑے بھی دنیا بھر میں شروع ہو چکے ہیں۔ اگر فرانسیسی کاہن نوسٹراڈیمس کی بات پر یقین کر لیا جائے تو پھر دنیا کو تیار ہو جانا چاہیے کہ آنے والے وقت میں ٹرمپ کے ہاتھوں اس دنیا کا برا حال ہونے والا ہے۔

    کئی لوگ تو امریکہ روس مخاصمت اور چین کے ساتھ بحیرہ جنوبی چین کے سمندری علاقے پر جھگڑے کو پہلے ہی تیسری عالمی جنگ کا پیش خیمہ قرار دے رہے ہیں۔ اس نے مستقبل کے بارے میں جو ہزاروں پیشگوئیاں کیں وہ آج تک لوگوں کے لئے حیرت کا باعث بن رہی ہیں۔ نوسٹرا ڈیمس کی یہ پیشگوئیاں چار سطری نظموں کی صورت میں ہیں جنہیں لیس پرافرٹیز کے نام سے 10 مجموعوں میں شائع کیا گیا ہے۔2020 سے متعلق فرانسیسی نجومی نوسٹراڈیمس کی خوفناک پیش گوئیاں،جوحرف بہ حرف پوری ہوتی نظرآرہی ہیں

    ہمارے ایک پڑوسی کافی توہم پرست ہیں۔ بلّی کی خرخراہٹ‘ پہیوں کی چرچراہٹ‘موزہ الٹا ہونے اور کتا بھونکنے سے اندازہ لگاتے ہیں کہ مستقبل میں کوئی آفت آنے والی ہے یا خوش خبری۔حالیہ دسمبر کے آخری ہفتے ان سے ملاقات ہوئی تو گھبرائے سے لگے۔ بولے ’’میاں ‘ نیا سال شروع ہو رہا ہے۔ خدا خیر کرے۔‘‘ چونک کر پوچھا ’’انکل کیا ہوا؟ خیریت تو ہے؟‘‘

    کہنے لگے: ’’لو تمہیں کچھ پتا ہی نہیں۔ ارے نوسٹراڈیمس کی خوفناک پیشن گوئی پڑھو۔ 2020ء جنگ و تباہی کا سال ہے۔ اسی برس تیسری جنگ عظیم شروع ہو گی۔ میں تو جنگ کے لیے تیار ہوں۔ تم اپنی خیر مناؤ۔‘‘ یہ کہہ کر وہ چلتے بنے اور ہمیں حیران پریشان چھوڑ گئے۔

    ماضی میں معلومات کاسب سے بڑا ماخذ کتابیں تھیں تو اب نیٹ بھی بڑا ذریعہ بن چکا۔ مارے تجسس کے ہم نے گوگل پر نوسٹراڈیمس لکھا تاکہ جان سکیں، اس مغربی نجومی نے آخر سال رواں کے متعلق کیا پیش گوئیاں فرمائی ہیں۔ آخر ہر انسان مستقبل کی پنہائیوں میں جھانکنے کا شوق رکھتا ہے۔ لیجیے میاں گوگل واقعی 2020ء کے بارے میں نوسٹرا ڈیمس کی خوفناک پیش گوئیاں سامنے لے آئے۔ انہیں پڑھتے ہوئے محسوس ہوا کہ خدانخواستہ سال رواں ہماری زندگی کا آخری برس ہو سکتا ہے۔ ہائے‘ ابھی تو ہم صحیح طرح دنیا کی بہاروں سے بھی لطف اندوز نہیں ہوئے!

    فرانسیسی نجومی نوسٹراڈیمس کون تھے ، اس حوالے سے نوسٹراڈیمس کے بارے میں جان لیجیے۔ وہ دسمبر 1503ء میں فرانس میں پیدا ہوا۔ باپ یہودی تھا مگر بعدازاں کیتھولک عیسائی بن گیا ۔ غلے کا تاجر اور بنیا تھا۔ سود پر رقم دیتا۔ نوسٹراڈیمس چودہ سال کا تھا کہ تعلیم کی خاطر یونیورسٹی اوینیون میں داخلہ لیا۔ مگر طاعون کے حملے نے ایک سال بعد ہی درسگاہ کو بند کر ڈالا۔ حیرت انگیز بات یہ کہ وہ پھر گھر جانے کے بجائے دیہات میں گھومنے پھرنے لگا۔ موصوف نے اپنی تحریروں میں دعوی کیا ہے کہ وہ جڑی بوٹیوں پر تحقیق کرتا تھا۔اس نے پھر جڑی بوٹیوں سے ادویہ بنائیں اور گھوم پھر کر انھیں فروخت کرنے لگا۔

    2020 کے متعلق پشین گوئیاں کرنے والے فرانسیسی نجومی نوسٹراڈیمس کی زندگی کے اہم پہلو

    1529ء میں نوسٹراڈیمس نے ڈاکٹر بننے کے لیے یونیورسٹی مونٹی پلر میں داخلہ لیا۔ تاہم جلد اساتذہ کو پتا چل گیا کہ وہ دوا فروش رہا ہے۔تب دوا فروش یونیورسٹی میں داخلہ نہیں لے سکتے تھے۔ اسی بنا پر اسے یونیورسٹی سے نکال دیا گیا۔ وہ پھر دوا فروشی کر کے گزر بسر کرنے لگا۔ دور جدید میں اس کے معتقد مگر اسے’’ڈاکٹر‘‘ ہی کہتے ہیں۔

    اس جعلی ڈاکٹر نے گلاب کی پتیوں سے طاعون کا علاج کرنے کے لیے ایک گولی بنائی تھی۔ مگر وہ 1534ء میں اپنی بیگم اور دو بچوں کو طاعون سے محفوظ نہ رکھ سکا۔اہل خانہ کی موت نے اسے دل شکستہ کر دیا۔ وہ پھر اٹلی چلا گیا اور وہاں دس گیارہ سال مقیم رہا۔ اٹلی میں قیام کے دوران ہی نوسٹراڈیمس شاید اپنا غم غلط کرنے کے لیے روحانیت اور پراسرار علوم میں دلچسپی لینے لگا۔ وہ نجومیوں‘ کاہنوں‘ دست شناسوں ‘ پیروں وغیرہ کے ساتھ اٹھا بیٹھا اور خود بھی ’’روحانی عالم‘‘ بن بیٹھا۔ اس کا دعویٰ ہے کہ اسے خوابوں میں مستقبل کے حالات اور واقعات دکھائی دینے لگے۔1574ء میں نوسٹراڈیمس نے ایک امیر بیوہ سے شادی کر لی۔ فکر معاش سے آزاد ہو کر اب اس کا بیشتر وقت روحانی دنیا میں گزرنے لگا۔

    اس زمانے میں توہم پرستی کا دور دورہ تھا۔لوگ نجومیوں سے مشورے کر کے اہم منصوبے بناتے تھے۔ اس لیے نوسٹراڈیمس کو کئی پیروکار مل گئے۔ وہ اس سے اپنی قسمت یا مستقبل کا حال پوچھنے آتے۔ چند بار اتفاقیہ طور پر اس کی پیش گوئیاں درست ثابت ہو گئیں۔ بس پھر کیا تھا‘ وہ ایک ماہر نجوم کی حیثیت سے مشہور ہو گیا۔ رفتہ رفتہ اسے احساس ہوا کہ اپنی شہرت سے مالی فائدہ حاصل کرنا چاہیے۔ چنانچہ وہ 1550ء سے ایک سالانہ کتاب (المانک ) شائع کرنے لگا۔اس میں زائچوں ‘ آپ کے ستارے کیا کہتے ہیں‘ موسمی حالات وغیرہ کے علاوہ مستقبل کی پیش گوئیاں کا بھی ذکر موجود ہوتا۔

    اس دور میں جادوگری کو کفر سمجھا جاتا تھا۔ کیتھولک کلیسا جادوگروں کو واجب القتل قرار دے چکا تھا۔ ٹوسٹراڈیمس کو خطرہ تھا کہ پیش گوئیاں کرنے پر کہیں اسے بھی جادوگر نہ سمجھ لیا جائے۔ اس واسطے اس نے شاعرانہ انداز اپنایا اور رباعی میں ایک پیش گوئی بیان کرنے لگا۔ ہر رباعی میں فرانسیسی کے علاوہ لاطینی‘ یونانی اور مقامی بولیوں کے الفاظ بھی شامل ہوئے۔ تلمیحیں ‘ استعارے اور اصطلاحیں بھی برتی گئیں۔ دیومالا اور تاریخی واقعات کا حوالہ بھی ملتا ہے۔ اس ساری چکر بازی کا مقصد یہ تھا کہ کلیسا کی مذہبی پولیس رباعیوں میں پوشیدہ پیش گوئیوں کو آسانی سے دریافت نہیں کر سکے۔یوں وہ جادوگر قرار نہ پاتا۔

    فرانس میں نوسٹراڈیمس کی مرتب کردہ سالانہ کتب کو کافی پذیرائی ملی ا ور وہ اس کی موت تک شائع ہوتی رہیں ۔ ماہرین کی رو سے ان کتب میں کم ازکم 6338پیش گوئیاں محفوظ ہیں۔ 1555ء میں اس نے پیش گوئیوں کی باقاعدہ کتاب شائع کرائی جس کا نام ’’لے پروفیٹی‘‘(Les Propheties) ہے۔

    یہ 942 رباعیوں پر مشتمل ہے۔اس کی تمام کتب میں اسی کتاب کو سب سے زیادہ شہرت ملی۔ 1555ء ہی میں فرانس کی ملکہ کیتھرائن نے اس سے اپنا اور اپنے بچوں کازائچہ بنوایا۔ شاہی دربار تک رسائی نے اسے مزید مشہور بنا دیا۔وہ جولائی 1566ء میں چل بسا۔ کہا جاتا ہے، اس نے اپنے ڈاکٹر کو موت سے ایک دن قبل ہی بتا دیا تھا کہ وہ اگلے روز کا سورج نہیں دیکھے گا۔اس کی پیش گوئیوں کا ’’گیرائی و گہرائی‘‘ سے مطالعہ کرنے والے مغربی ماہرین کا دعویٰ ہے کہ اس کی یہ پیش گوئیاں عملی جامہ پہن چکیں:۔فرانسیسی بادشاہ ہنری کی موت‘ لندن کی عظیم آگ‘ فرانسیسی انقلاب‘ نپولین بونا پارٹ کا عروج‘ ہٹلر کی آمد‘ پہلی اور دوسری جنگ عظیم‘ جاپانی شہروں پر ایٹم بم گرانا‘ چاند پر اپالو کا اترنا‘ شہزادی ڈائنا کی موت اور حادثہ نائن الیون۔

    دلچسپ بات یہ کہ نوسٹراڈیمس کو بطور غیب داں اور نجومی مشہور کرنے والے مغربی ماہرین کا وتیرہ یہ ہے کہ وہ پہلے اس کی رباعیوں میں کسی واقعے کے اشارے ڈھونڈتے ہیں۔ جب ایسی رباعی مل جائے تو اعلان کر دیتے ہیں کہ اس نے پہلے ہی واقعے کی پیش گوئی کر دی تھی۔ یہ سارا فراڈ بلکہ کھڑاگ اسی لیے اپنایا گیا تاکہ اس کی پیش گوئیوں پر مبنی کتب دنیا بھر میں فروخت ہو سکیں۔

    دور جدید میں سائنس و ٹیکنالوجی کا دور عروج پر ہے۔ مگر آج بھی دنیا بھر میں بظاہر تعلیم یافتہ لاکھوں لوگ اس کی پیش گوئیوں پر مبنی کتب خریدتے اور ان پر یقین بھی رکھتے ہیں۔ سچ ہے‘ تو ہم پرستی مرتے دم تک انسان کا پیچھا نہیں چھوڑتی۔

    درج بالا حقائق سے ظاہر ہے کہ کلیسا کی پولیس سے بچنے کے لیے نوسٹرا ڈیمس رباعیوں کی شکل میں اور الفاظ کے ہیرپھیر سے اپنی پیش گوئیاں بیان کرتا رہا۔ وہ عموماً ماضی کے واقعات کو مستقبل پر منطبق کردیتا۔ لیکن لاکھوں سادہ لوح اس کی پیش گوئیوں کو سچ جان کر ان پر اعتبار کرنے لگے۔

    اپنے اعتقاد کے باعث وہ یہ نہیں سمجھتے کہ اس کی کسی پیش گوئی کا پورا ہوجانا محض اتفاق ہے۔ حقیقت میں اس فرانسیسی نجومی نے انسان کی وہم پرستی سے فائدہ اٹھایا اور نام نہاد پیش گوئیوں کی کتابیں بیچ کر دولت، شہرت اور عزت پانے میں کامیاب رہا۔مضحکہ خیز بات یہ کہ اب دنیائے نیٹ میں اس کی جعلی پیش گوئیاں بھی زیر گردش ہیںمگر ہمارے پڑوسی انکل جیسے توہم پرست انھیں سچ مان کر خود پریشان ہوتے اور دوسروں کا سکون بھی برباد کرتے ہیں۔اب ’’عظیم‘‘غیب داں کی سال رواں میں تیسری عالمی جنگ چھڑ جانے کی پیش گوئی ہی کو دیکھئے جو دنیائے نیٹ میں بہت مشہور ہے۔ انگریزی میں وہ کچھ یوں ہے:

    “In the city of God, there will be a great thunder

    Two brothers torn apart by Chaos while the fortress endures

    The great leader will succumb

    The third big war will begin when the big city is burning.”

    (ترجمہ: خدا کے شہر میں زبردست کڑک پیدا ہوگی

    انتشار دو بھائیوں کو جدا کردے گا جب قلعہ حملہ سہے گا

    عظیم لیڈر شکست کھائے گا

    جب بڑا شہر جلے گا تو تیسری بڑی جنگ شروع ہوگی۔)

    اسی پیش گوئی کی بنیاد پر بہت سے توہم پرست پاکستانی سمجھتے ہیں کہ سال 2020ء میں تیسری عالمگیر جنگ چھڑسکتی ہے۔ دلچسپ بات یہ کہ درج بالا پیش گوئی نوسٹرا ڈیمس نے لکھی ہی نہیں، یہ تو بیسویں صدی کے ایک نوجوان طالب علم، نیل مارشل کی تخلیق ہے۔ یہ کینیڈا کی بروک یونیورسٹی کا طالب علم تھا، انسانوں کی توہم پرستی پر بہت کڑھتا تھا۔ خصوصاً اسے یہ دیکھ کر تاؤ آتا کہ لوگ نوسٹرا ڈیمس اور دیگر نجومیوں کی باتوں پر آنکھیں بند کرکے اعتبار کرلیتے ہیں۔

    1997ء میں نیل مارشل نے نوسٹراڈیمس پر ایک تنقیدی مضمون قلمبند کیا۔ اس میں نیل نے لکھا کہ کوئی بھی شخص نوسٹراڈیمس جیسی پیش گوئی لکھ سکتا ہے۔ توہم پرست رباعی کو نوسٹراڈیمس کی تخلیق ہی سمجھے گا۔تبھی اس نے درج بالا پیش گوئی لکھ ڈالی۔ نیل کا خیال تین سال بعد درست ثابت ہوا۔ ستمبر 2001ء میں نائن الیون حادثہ پیش آیا۔ جلد ہی دنیائے نیٹ میں نیل مارشل کی تخلیق کردہ رباعی نوسٹرا ڈیمس کی پیش گوئی بن کر مشہور ہوگئی۔ یہ کہا جانے لگا کہ ممتاز فرانسیسی نجومی نے پہلے ہی حادثہ نائن الیون کی پیش گوئی کردی تھی۔

    مزے دار بات یہ کہ نیل مارشل کی رباعی میں آخری سطر نہیں تھی۔بعد میں کسی انٹرنیٹئے نے رباعی میں شامل کردی۔ بس تب سے یہ رباعی تیسری جنگ عظیم کی آمد کا اعلان بن چکی۔ جب بھی نیا سال شروع ہو، تو نیٹ پر اس کا چرچا ہوتا ہے۔ چناں چہ ہمارے پڑوسی انکل کی طرح دنیا بھر میں لاکھوں کروڑوں توہم پرست سمجھتے ہیں کہ نئے برس میں تیسری جنگ عظیم دنیا تباہ کرسکتی ہے۔ کسی سیانے نے درست کہا ہے کہ سوجھ بوجھ اور عقل کی سب سے بڑی دشمن توہم پرستی ہے۔اسی طرح مشہور ہے کہ نوسٹراڈیمس نے درج ذیل رباعی میں جرمنی کے ایڈلف ہٹلر کے عروج کی پیش گوئی کی ہے۔

    ” The major battle shall be close by the Hister

    He shall cause the great one

    in an iron cage to be dragged

    while the Germans shall be looking at the infant Rhine.”

    اس پیش گوئی میں جرمنی، جنگ اور ہسٹر کا ذکر ہے جو ہٹلر سے ملتا جلتا نام ہے۔ مگر یہ کسی شخصیت کا نام نہیں بلکہ فرانسیسی میں دریائے ڈینوب کا ایک حصہ ہسٹر کہلاتا ہے۔ لیکن نوسٹراڈیمس کی پیش گوئیوں سے بیسویں صدی میں مالی فوائد حاصل کرنے والے جعلی دانش وروں نے اسے ہٹلر سے تشبیہ دے دی۔

    حقیقت یہ ہے کہ اس کی ایک بھی ایسی پیش گوئی نہیں جس کی بنیاد کوئی دانشور یہ اعلان کرسکے کہ مستقبل میں اس میں بیان کردہ واقعہ ظہور پذیر ہو گا۔ جیسا کہ بتایا گیا، جب کوئی نمایاں واقعہ جنم لے، تو نوسٹرا ڈیمس کی پیش گوئیوں سے منسلک دانشور کسی پیش گوئی کو اس سے جوڑ دیتے ہیں۔ اکثر اوقات وہ پیش گوئی کی تشریح کرتے ہوئے دور کی کوڑی لاتے اور بے سروپا باتیں کرتے ہیں۔

  • پاکستان الرٹ :کورونا وائرس کے حملے جاری : کورونا وائرس سے پاکستان میں مریضوں کی تعداد 300 کے قریب پہنچ گئی

    پاکستان الرٹ :کورونا وائرس کے حملے جاری : کورونا وائرس سے پاکستان میں مریضوں کی تعداد 300 کے قریب پہنچ گئی

    اسلام آباد :پاکستان الرٹ :کورونا وائرس کے حملے جاری : کورونا وائرس سے پاکستان میں مریضوں کی تعداد 300 کے قریب پہنچ گئی ،اطلاعات کےمطابق سندھ، پنجاب، خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر میں مزید کیسز سامنے آنے کے بعد ملک بھر میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 297 ہو گئی ہے جبکہ پاکستان میں کورونا وائرس سے پہلی ہلاکت گلگت بلتستان میں ہوئی ہے۔

    ترجمان گلگت بلتستان حکومت فیض اللہ فراق نے تصدیق کی ہے کہ کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والے مریض کی عمر 90سال تھی اور انتقال کرنےوالےشخص کا تعلق چلاس سے تھا۔انہوں نے بتایا کہ انتقال کرجانے والا شخص 4دن سے سی ایم ایچ گلگت میں زیر علاج تھا، اور اس کی کوئی ٹریول ہسٹری نہیں تھی۔ مزید پڑھیں۔۔۔

    کرونا وائرس سے سندھ میں مجموعی تعداد 208 ہوگئی،ادھروزیراعلیٰ سندھ کے ترجمان مرتضیٰ وہاب کے مطابق سندھ میں کورونا وائرس کے مزید 19 کیسز سامنے آئے ہیں جس کے بعد صوبے میں متاثرہ افراد کی تعداد 208 ہوگئی ہے۔

    ترجمان سندھ حکومت کے مطابق سکھر میں موجود زائرین میں سے 50 فیصد میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے اور وہاں کورونا سے متاثرہ 151 افراد موجود ہیں۔سکھر کے قرنطینہ مرکز کے علاوہ کراچی سمیت سندھ میں کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد 57 ہوگئی ہے جن میں سے 56 کا تعلق کراچی اور ایک مریض حیدرآباد سے ہے۔ کراچی سے تعلق رکھنے والے 2 افراد صحت یاب بھی ہوچکے ہیں۔

    حکام کی جانب سے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ سندھ کے سرکاری ہسپتالوں میں 1874 مشتبہ افراد کے ٹیسٹ کیے گئے ہیں جب کہ نجی ہسپتالوں میں 702مشتبہ افراد کے ٹیسٹ کیے گئے،سکھر سے 303 نمونے ٹیسٹ کے لئے بھیجے گئے تھے جن میں سے میں سے 151 افراد کے ٹیسٹ کلیئر اور 151 میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جب کہ ایک مریض کی رپورٹ آنا باقی ہے۔

    بریفنگ کے موقع پر وزیراعلیٰ سندھ نے ہدایت کی کہ ٹیسٹنگ کی گنجائش ایک ہفتے میں 800 تک بڑھائیں جس پر انڈس اسپتال حکام نے یقین دہانی کرائی کہ ہفتے کے اندر گنجائش بڑھادی جائے گی۔وزیر اعلیٰ سندھ نے حکام کو ہدایت کی کہ تفتان سے آنے والی بسوں کو جراثیم کش اسپرے کر کے واپس بھیجاجائے۔

    ادھر ذرائع کےمطابق کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی پنجاب میں تعداد 33 ہوگئی.ڈی سی مظفر گڑھ امجید شعیب نے رجب طیب اردگان اسپتال میں زیر علاج 7 مریضوں میں کورونا وائرس کی تصدیق کی اور بتایا کہ یہ اسپتال میں کورونا متاثرہ افراد کے لیے 62 بیڈز مختص ہے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا کہنا ہے کہ صوبے میں تین اسپتال کورونا سے متعلق مختص کردیے ہیں، تفتان میں کیمپ بنانے یا بلوچستان حکومت کو سہولت دینے پر بات کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کےسرکاری دفاتر میں ملازمین کی تعدادکم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جب کہ صوبے میں دکانیں رات 10 بجے بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ،شاپنگ مالزاور ریسٹورنٹ بھی رات 10 بجے بند کر دیے جائیں گے تاہم دواؤں کی دکانیں کھلی رہیں گی ۔

    جبکہ خیبر پختونخوا میں کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد 19 ہو گئی ،ڈی سی بونیر محمد خالد خان کا کہنا ہے کہ ضلع بونیر میں کورونا وائرس کا پہلا کیس سامنے آیا ہے۔محمد خالد خان کا بتانا ہے کہ کورونا وائرس کی تصدیق کے بعد متاثرہ شخص کو ڈگر اسپتال آئسولیشن وارڈ منتقل کر دیا گیا ہے، متاثرہ شخص ایک ہفتہ قبل متحدہ عرب امارات سے آیا تھا۔

    گلگت بلتستان میں کورونا وائرس کے مزید 10 کیس سامنے آئے ہیں جس کے بعد وہاں متاثرہ افراد کی تعداد 13 ہوگئی ہے۔ اسلام آباد میں 3 نئے کیس سامنے آئے ہیں جس کے بعد وفاقی دارالحکومت میں کورونا کے کیسز کی تعداد 7 ہوگئی ہے۔ڈپٹی کمشنر میر پور آزاد کشمیر کا بتانا ہے کہ میر پور آئسولیشن وارڈ میں ایک شخص میں کورونا وائرس کی تصدیق ہو گئی ہے۔ڈی سی میر پور کا کہنا ہے کہ متاثرہ شخص 14 دن قبل ایران سے تفتان آیا تھا، متاثرہ شخص کو 4 دن سے میر پور آئسولیشن وارڈ میں رکھا ہواتھا۔

  • شمالی وزیرستان میں آپریشن، ایک افسر سمیت 4 جوان شہید، 7 دہشتگرد ہلاک

    شمالی وزیرستان میں آپریشن، ایک افسر سمیت 4 جوان شہید، 7 دہشتگرد ہلاک

    راولپنڈی:شمالی وزیرستان میں آپریشن، ایک افسر سمیت 4 جوان شہید، 7 دہشتگرد ہلاک ہوگئے ہیں ، اطلاعات کے مطابق سیکیورٹی فورسز کی جانب سے شمالی وزیرستان کے علاقے دتہ خیل میں خفیہ اطلاع پر آپریشن کیا گیا۔ آپریشن کے دوران فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لیا تو دہشتگردوں نے فائرنگ شروع کردی۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق شمالی وزیرستان کے علاقے دتہ خیل میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں ایک افسر سمیت 4 جوان شہید جبکہ 7 دہشتگرد ہلاک ہو گئے ہیں۔ فائرنگ کے تبادلے میں ایک جوان زخمی بھی ہوا۔

    سیکیورٹی فورسز نے یہ آپریشن دہشتگردوں کے خفیہ ٹھکانے پر کیا تھا۔ آپریشن کے دوران فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لیا تو دہشتگردوں نے فائرنگ شروع کردی۔آئی ایس پی آر لے مطابق شہید ہونے والوں میں لاہور کے رہائشی لیفٹیننٹ آغا مقدس علی خان، حوالدار قمر ندیم، سپاہی محمد قاسم اور سپاہی توصیف شامل ہیں۔

    آئی ایس پی آر ذرائع کےمطابق حوالدار قمرندیم نے سوگواران میں بیوی ، دوبیٹے اورایک بیٹی سپرد کی ہے

    ادھر ذرائع کے مطابق شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز نے کامیاب آپریشن کے دوران دہشتگردوں کے ٹھکانے سے بڑی تعداد میں بارودی سرنگیں، گولہ بارود اور اسلحہ برآمد کر لیا ہے۔

  • کروناسے لڑنے کی بجائے چین اورامریکہ آپس میں لڑپڑے،3 امریکی اداروں کے صحافیوں کو چین سے نکل جانے کا حکم ،معاملات کے بگڑنے کا خدشہ

    کروناسے لڑنے کی بجائے چین اورامریکہ آپس میں لڑپڑے،3 امریکی اداروں کے صحافیوں کو چین سے نکل جانے کا حکم ،معاملات کے بگڑنے کا خدشہ

    بیجنگ :کروناسے لڑنے کی بجائے چین اورامریکہ آپس میں لڑپڑے،چین نے 3 امریکی اداروں کے صحافیوں پر پابندی لگادی،اطلاعات کےمطابق کورونا وائرس کے پھیلاؤ اور آزادی صحافت پر امریکا اور چین کی جنگ شدت اختیار کر گئی ہے اور امریکا میں 3 چینی اداروں پر پابندیوں کے بعد بدھ کو چین نے بھی 3 امریکی اداروں کے صحافیوں کو اپنے ملک میں کام کرنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا ہے۔

    ذرائع کےمطابق اس نازک موقع پر یہ اقدام ایک ایسے موقع پر اٹھایا گیا ہے جب گزشتہ ماہ اخبار کے کالم میں چین پر کڑی تنقید کے بعد چین نے وال اسٹریٹ جرنل کے 2 امریکی اور ایک آسٹریلین صحافی کو بے دخل کردیا تھا۔چین نے اس کالم کو نسل پرستانہ قرار دیا تھا اور اخبار کی جانب سے معافی مانگنے سے انکار کے بعد تینوں صحافیوں کے ویزے ختم کر دیے گئے تھے۔

    یاد رہے کہ ادارے کے ایک رپورٹر کو اس وقت چین سے جانا پڑا تھا جب ان کے ویزے کی میعاد بڑھانے سے انکار کردیا گیا تھا۔پھر رواں ماہ مارچ کے اوائل میں ہی امریکا نے اپنے ملک میں چین کے 4 ریاستی میڈیا اداروں میں کام کرنے والے افراد کی تعداد 160 سے کم کرتے ہوئے صرف 100 کو کام کرنے کی اجازت دی تھی۔

    ذرائع کےمطابق اسی اقدام کے ردعمل کے طور پر بدھ کو بیجنگ نے نیویارک ٹائمز، وال اسٹریٹ جرنل اور واشنگٹن پوسٹ کے صحافیوں کو امریکی سرزمین پر کام کرنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔ان اداروں کے افراد کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ آئندہ 10دن کے اندر اپنے پریس کارڈ واپس کریں تاہم یہ بات واضح نہیں کہ اس حکم نامے کے نتیجے میں کتنے افراد متاثر ہوں گے۔

    اس کے ساتھ حکم میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان تینوں اخبارات کی چین کی شاخوں، وائس آف امریکا اور ٹائم میگزین کو چین میں اپنے عملے، مالی معاملات، آپریشن اور ریئل اسٹیٹ کی تمام تر معلومات تحریری طور پر فراہم کرنا ہوں گی۔چین نے کہا کہ وہ امریکا کی جانب سے چین کے صحافیوں پر عائد پابندیوں کے جواب میں یہ پابندیاں لگا رہے ہیں۔

    چین کے فیصلے میں اہم بات یہ ہے کہ اس نے اپنی نیم خودمختار ریاستوں ہانگ کانگ اور مکاؤ میں بھی امریکی صحافیوں کو کام سے روک دیا ہے حالانکہ ماضی میں چین میں پابندیوں کا سامنا کرنے والے صحافیوں کو ہانگ کانگ میں کام کی اجازت ہوتی تھی۔

    کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹ کے ایشیا پروگرام کے کوآرڈینیٹر اسٹیون بٹلر نے کہا کہ اس بات کی کوئی مثال نہیں ملتی کہ چین اس کا فیصلہ کرے کہ ہانگ کانگ میں کون صحافی کام کرے یا کون نہیں۔کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے بعد چین اور امریکا کے درمیان لفظی جنگ شروع ہو چکی ہے جہاں چین سے جنم لینے والے اس وائرس سے اب تک 7ہزار 400افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

    امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ مائک پومپیو نے بدھ کو اپنے بیان میں کہا کہ امریکا کا یہ اقدام کورونا وارئس کے اس حد تک چیلنجنگ اوات میں دنیا اور چین کے عوام کو معلوما سے محروم رکھنے کے مترادف ہے۔ان کا کہنا تھا کہ میں چین کی جانب سے آزادانہ صحافت کی دنیا کی کاوشوں پر پابندی کے فیصلے پر افسوس کا اظہار کرتا ہوں، یہ بدقسمتی ہے لیکن مجھے امید ہے کہ وہ اپنے فیصلے پر غور کریں گے۔

    واشنگٹن پوسٹ کے ایگزیکٹؤ ایڈیٹر مارٹن بیرن نے اپنے بیان میں کہاکہ ہم امریکی رپورٹرز کو نکالنے کے چین کے فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہیں، چینی حکومت کا فیصلہ اس لیے بھی افسوسناک ہے کہ یہ ایک عالمی بحران کے دوران سامنے آیا ۔وال اسٹریٹ جرنل اور نیویارک ٹائمز کے صحافیوں کی جانب سے بھی اس فیصلے کی شدید مذمت کی گئی ہے۔

  • پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو آفیسرارشد ملک ہی کام جاری رکھیں گے،امید ہے بہتری آئے گی ،سپریم کورٹ نے فیصلہ دے دیا

    پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو آفیسرارشد ملک ہی کام جاری رکھیں گے،امید ہے بہتری آئے گی ،سپریم کورٹ نے فیصلہ دے دیا

    اسلام آباد:پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو آفیسرارشد ملک ہی کام جاری رکھیں گے،امید ہے بہتری آئے گی ،سپریم کورٹ نے فیصلہ دے دیا ،اطلاعات کےمطابق آج سپریم کورٹ نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) ارشد ملک کو فرائض جاری رکھنے کی اجازت دے دی۔عدالت نے اس موقع پرتوقع ظاہرکی کہ ارشد ملک پی آئی اے کوضرور سنبھالا دیں گے

    عدالت عظمیٰ میں چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سماعت کی۔سپریم کورٹ میں ہونے والے پی آئی اے کے اہم کیس سے متعلق اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ایئرمارشل ارشد ملک اچھے اور قابل انسان ہیں، 9 برسوں میں پی آئی اے کے 12سربراہ تبدیل ہو چکے ہیں، اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پی آئی اے کے بارے میں کوئی ایک چیز بتائیں جو اچھی ہو، پی آئی اے لوگوں کی زندگیوں کے ساتھ کھیل رہا ہے کیا اس کو بند کریں؟پچھلی حکومتوں نے تواداروں کوبرباد کردیا تھا ،

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کراچی ایئرپورٹ پر خستہ اور خراب حالات میں جہاز کھڑے ہوئے ہیں، اگر خدانخواستہ حادثہ ہو گیا تو لوگوں کا کیا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ایئرپورٹ کی طرف گند نظر آتا ہے، ہر خراب چیز ایئرپورٹ پر نظر آتی ہے، پی آئی اے، اے ایس ایف اور کسٹمز والے لوگوں کو سہولیات فراہم کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں۔

    سماعت کے دوران چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ پی آئی اے میں کوئی پروفیشنلزم نظر نہیں آتا، ساتھ ہی جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ہمیں ادارے کا مستقل 3 سال کے لیے سربراہ چاہیے جو ادارے کو بہتر کرسکے۔جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ اس ادارے میں ایک حکومت اپنے بندے بھرتی کرتی ہے اور دوسری آکر نکال دیتی ہے، نکالے جانے والے بعد میں ترقی اور رقوم کا دعوی کرتے ہیں، ان کو پھر تیسری حکومت لاکھوں روپے دے دیتی ہے۔

    اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہم اپنے گھر میں ایک ملازم اپنی بساط سے زیادہ نہیں رکھتے، اگر گھر کا ملازم ایک گلاس پانی دیر سے پہنچاتا ہے تو اس کو نکال دیتے ہیں، پی آئی اے تو ہمارا ادارہ ہے اس کے ساتھ نازیبا سلوک کیا گیا۔

    دوران سماعت اٹارنی جنرل نے بتایا کہ پی آئی اے کے ملازمین نے ایک سابق سربراہ کو واش روم میں بند کردیا، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہم بھی ایک ادارہ ہیں، لوگوں کے مسائل حل کرنا ہمارا کام ہے، پی آئی اے کو کس طرح چلانا ہے ہمیں پتہ ہے، پی آئی اے کے علاوہ بھی کمپنیاں اچھا کام کررہی ہیں تاہم اگر کوئی بھی ادارہ یونین کے ہاتھوں میں دیں گے تو وہ ادارہ بند ہی ہوجائے گا، ان سب کا ذمہ دار پھر کون ہوگا۔

    ساتھ ہی جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ کچھ لوگ آتے ہیں تو سہولیات لے کر غائب ہوجاتے ہیں، اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ اسٹیل مل کے حالات ہمارے سامنے ہیں، جس کی حالت خراب ہے، پی آئی اے ایک قومی ادارہ ہے، پورے پاکستان کو اس پر فخر ہے۔

    اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ بد قسمتی سے کچھ لوگوں کے خراب ہونے سے ادارہ خراب ہو گیا ہے، ادارے میں ایسے ملازمین بھی ہیں جو ایمانداری سے کام کررہے ہیں، ایک خاتون جیکولین کینیڈی نے پی آئی اے سے سفر کیا تو پھر ایئر لائن کی تعریف کی۔اٹارنی جنرل کی بات پر چیف جسٹس نے کہا کہ سابق وزیر اعظم لندن گئے تو پی آئی اے کا جہاز وہاں کھڑا رہا، انہیں کس نے ایسا کرنے کی اجازت دی، لندن میں طیارہ کس کے خرچ پر کھڑا رہا۔

    چیف جسٹس نے ملک کے سابق حکمران خاندان کے بارےمیں ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جس نے گلگت گھومنا ہو تو وہ خاندان کے ساتھ جہاز لے کر چلا جاتا ہے، جس نے کہیں اور جانا ہو وہ جہاز کا رخ بدلوا دیتا ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی ای او ایئر مارشل ارشد ملک کو فرائض جاری رکھنے کی اجازت دے دی۔

    عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ عدالت کو بتایا گیا کہ وفاق نے قانونی طریقے سے ارشد ملک کو مقرر کیا جبکہ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ان کو کام کرنے کی اجازت دی جائے۔حکم میں کہا گیا کہ اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ادارہ وینٹیلیٹر پر ہے اس لیے ارشد ملک کو کام کرنے دیا جائے جبکہ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ ارشد ملک قابل آدمی ہیں، وہ نتائج دیں گے۔