Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • سندھ میں کے پی اور پنجاب جیسا پولیس نظام لانا چاہتا ہوں، وزیر اعظم نے بھٹوکی نگری میں بھی تبدیلی کا اشارہ دے دیا

    سندھ میں کے پی اور پنجاب جیسا پولیس نظام لانا چاہتا ہوں، وزیر اعظم نے بھٹوکی نگری میں بھی تبدیلی کا اشارہ دے دیا

    کراچی: سندھ میں کے پی اور پنجاب جیسا پولیس نظام لانا چاہتا ہوں، وزیر اعظم نے بھٹوکی نگری میں بھی تبدیلی کا اشارہ دے دیا ،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سندھ میں حکومت نہ ہونے کے باوجود کراچی کی ترقی کے لیے بہت کچھ کرنا چاہتے ہیں، بلدیاتی اداروں کو خود مختار اور سندھ میں کے پی اور پنجاب جیسا پولیس نظام چاہتا ہوں، پنجاب کا آدھا بجٹ لاہور پر خرچ کرنے کی وجہ سے لاہور میں ترقی ہوئی۔

    وزیراعظم عمران خان نے کراچی کے ترقیاتی منصوبوں کے افتتاح کی گورنر ہاؤس میں تقریب سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔ افتتاحی تقریب میں گورنر سندھ عمران اسماعیل، میئر کراچی وسیم اختر، آئی جی سندھ مشتاق مہر، پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم کے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی اور دیگر نے شرکت کی۔

    عمران خان نے کہا کہ کراچی کی ترقی پاکستان کی ترقی ہے، کراچی پاکستان کی معاشی سرگرمیوں کا مرکز ہے، کراچی پاکستان کا وہ شہر ہے جس کے اوپر جانے سے ملک اوپر جائے گا، اگر کراچی پر برا وقت آتا ہے تو پورے پاکستان پر برا اثر پڑتا ہے، سندھ میں پی ٹی آئی کی حکومت نہ ہونے کے باوجود بھی کراچی میں ترقی چاہتے ہیں، یقین دلاتا ہوں کی کراچی سمیت پورے سندھ کی ترقی کے لیے پوری محنت کر رہے ہیں، ہماری حکومت کی پوری کوشش ہے کہ کراچی کے لیے جو بھی کچھ ہم کرسکتے ہیں وہ کریں۔

    وزیراعظم نے کہا کہ 18 ویں ترمیم کے بعد سارے فنڈز صوبوں کو چلے جاتے ہیں، صوبائی ڈیویلپمنٹ فنڈ سے بڑے شہروں کو ٹھیک کرنا ممکن نہیں، لاہور باقی شہروں سے اس لیے بہتر ہوا کہ وہاں پر پورے صوبے کے فنڈ کا 60 فیصد استعمال ہوا، نے پنجاب اور خیبر پختونخوا میں پولیس کو خود مختار بنایا، کوشش ہے کہ کسی قسم کی مداخلت نہ ہو، ہم چاہ رہے ہیں کہ وہی پولیس سسٹم سندھ میں نافذ ہوجائے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ کراچی کے لوگوں سے معذرت کرتا ہوں، موسم کی خرابی کے باعث کراچی نہ آسکا، کراچی آنے کا مقصد 3 فلائی اوور اور 2 اہم شاہراہوں کا افتتاح کرنا تھا۔ وزیر اعظم نے گورنر سندھ عمران اسماعیل کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ سندھ میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی تفصیل آپ عوام کو بتائیں، ہم جب ہم اقتدار میں آئے تو کراچی کے ان تین منصوبوں کو جاری رکھا۔

    عمران خان نے مزید کہا کہ دنیا میں بلدیاتی ادارے بااختیار ہیں، بلدیاتی سسٹم کو مضبوط بنائیں گے تاکہ وہ اپنی آمدنی اور وسائل خود وصول کریں، چاہتا ہوں پولیس سسٹم بھی دنیا کی طرح مقامی ہو، کے پی اور پنجاب جیسا پولیس نظام سندھ میں بھی چاہتا ہوں۔

    قبل ازیں گورنر سندھ عمران اسمٰعیل نے کراچی کے علاقے سخی حسن، فائیو اسٹار اور کے ڈی اے چورنگیوں پر تعمیر کیے گئے پلوں کا افتتاح کر دیا۔

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر سندھ عمران اسمٰعیل نے کہا ہے کہ ملک کے معاشی حب سمیت پورے صوبے کی تعمیر و ترقی وزیر اعظم کی ترجیحات میں شامل ہے تاکہ یہاں رہنے والے بھی تمام بنیادی سہولیات سے مستفید ہوسکیں جو ان کا حق ہے۔

    اس موقع پر پی ٹی آئی اور متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی، میئر کراچی وسیم اختر اور دیگر بھی موجود تھے۔

    گورنر سندھ کے پریس سیکریٹری کے مطابق ان منصوبوں کا اعلان ستمبر 2018 میں گورنر سندھ کی سربراہی میں قائم کراچی ٹرانسفارمیشن کمیٹی کی سفارش پر کیا گیا تھا، مکمل منصوبوں میں سرجانی سے لسبیلہ تک سگنل فری کوریڈور، جس میں چھ پل شامل ہیں۔

    عمران اسمٰعیل نے کہا کہ ان منصوبوں کو عوام کی سہولت کے لیے کھولا جارہا ہے جبکہ ان کے اردگرد اضافی تعمیراتی کام 6 سے 8 ہفتوں میں مکمل کرلیا جائے گا۔

  • ایسے بھی وزیر ہیں جو دفتر سے زیادہ اسلام آباد کی کوہسار مارکیٹ میں  بیٹھتے ہیں،وزیراعظم

    ایسے بھی وزیر ہیں جو دفتر سے زیادہ اسلام آباد کی کوہسار مارکیٹ میں بیٹھتے ہیں،وزیراعظم

    ایسے بھی وزیر ہیں جو دفتر سے زیادہ اسلام آباد کی کوہسار مارکیٹ میں بیٹھتے ہیں،وزیراعظم
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان سے پی ٹی آئی سوشل میڈیا ارکان کی ملاقات ہوئی ہے، ملاقات میں سوشل میڈیا پر منفی خبروں کے حوالہ سے بھی بات چیت ہوئی

    اس موقع پر وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ صبح موبائل دیکھتا ہوں تو پتا چل جاتا ہے آج کس بحران کا مقابلہ کرنا پڑے گا،ہر وقت بحرانوں کے لئے تیار رہتا ہوں،اپوزیشن کچھ نہ کرے تو کوئی وزیر ایسا بیان دے دیتا ہے کہ اس کو سنبھالنا مشکل ہو جاتا ہے، ایسے بھی وزیر ہیں جو دفتر سے زیادہ اسلام آباد کی کوہسار مارکیٹ میں بیٹھتےہیں،

    کپتان ہو تو ایسا،اپوزیشن کی سازشوں کے باوجود وزیراعظم عمران خان کو ملی اہم ترین کامیابیاں

    وزیراعظم اور ترک صدر کی ملاقات، کیا بات چیت ہوئی؟ اہم خبر

    ترک صدر کے پہنچنے سے قبل پارلیمنٹ میں ایسا کیا کام کیا گیا کہ وزیراعظم بھی حیران رہ گئے

    وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا کہ حکومت کے خلاف جان بوجھ کر جھوٹی خبریں پھیلائی جاتی ہیں،سوشل میڈیا پر مثبت تنقید بالکل ہونی چاہیے، مشکل سال گزار لیا، اب استحکام آئے گا، مہنگائی میں کمی لانے کی پوری کوشش کر رہے ہیں، غریب عوام کے لئے احساس پروگرام شروع کیا ہے، غریب عوام کو یوٹیلٹی سٹور سے کم قیمت پر راشن ملے گا، سوشل میڈیا ٹیم حکومت کے اچھے منصوبوں کو عوام کے سامنے لائے.

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ آٹا چینی بحران کی رپورٹ پبلک کی جائے گی اور ذمہ داروں کے خلاف کاروائی ہو گی،

    تحریک انصاف کی سوشل میڈیا ٹیم نے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے کشمیر کا کیس شاندار انداز میں لڑنے، بھارتی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کرنے، امت مسلمہ کے اتحاد ، افغان طالبان امریکہ امن معاہدے میں اہم کردار ادا کرنے پر خراج تحسین پیش کیا

  • ایران میں کورونا وائرس سے خاتون رکن پارلیمنٹ جاں بحق

    ایران میں کورونا وائرس سے خاتون رکن پارلیمنٹ جاں بحق

    تہران: کورونا وائرس میں خاتون رکن پارلیمنٹ کی بھی جان لے لی۔،اطلاعات کےمطابق ایران میں کرونا وائرس کی تباہیاں جاری ہیں اورتازہ اطلاعات کےمطابق خاتون رکن پارلیمنٹ بھی کرونا وائرس کے حملے میں جاں بحق ہوگئی‌ہیں اوراس بات کی تصدیق ایرانی حکام نےکردی ہے

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ کی رکن فاطمی رہبر چند روز سے کورونا وائرس میں مبتلا تھیں جن کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ایرانی میڈیا کی جانب سے بھی کی گئی ہے۔ایران میں کورونا وائرس سے جاں بحق ہونے والی یہ دوسری سرکاری شخصیت ہیں، اس سے قبل ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای کے مشیر بھی کورونا وائرس سے جاں بحق ہوئے۔

    خبر رساں ایجنسی کے مطابق ممبر پارلیمنٹ کی ہلاکت اس بات کو ظاہر کرتی ہےکہ ایران میں کورونا وائرس تیزی سے سرکاری اداروں میں بھی پھیل رہا ہے۔ایران میں اب تک کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 4500 سے تجاوز کرگئی ہے جب کہ 124 افراد جان سے جاچکے ہیں۔ایران کے ڈپٹی وزیر صحت نے کہا ہے کہ انہوں نے وائرس کو کافی حد تک قابو کرلیا ہے۔

  • دہلی فسادات،مسلمان جی رہے ہیں خوف کے سائے میں، مذہبی شناخت چھپانے پر مجبور،خواتین نے حجاب اتار دیا

    دہلی فسادات،مسلمان جی رہے ہیں خوف کے سائے میں، مذہبی شناخت چھپانے پر مجبور،خواتین نے حجاب اتار دیا

    دہلی فسادات،مسلمان جی رہے ہیں خوف کے سائے میں، مذہبی شناخت چھپانے پر مجبور،خواتین نے حجاب اتار دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ بھارت کے دوران دہلی میں ہونے والے مسلم کش فسادات کے بعد بھارت میں مسلمان اپنی مذہبی شناخت چھپانے پر مجبور ہو گئے ہیں، کئی مسلمانوں نے اپنے نام بدل لئے، خواتین نے برقعہ اتار دیا،ملتے وقت السلام علیکم کہنا چھوڑ دیا

    دہلی فسادات کے بعد مسلمان خوف کی کیفیت میں رہ رہے ہیں، انہیں ابھی تک اس بات کا خدشہ ہے کہ کسی بھی وقت ہندو انتہا پسند ان پر حملہ کر سکتے ہیں ، ہندو غنڈوں سے بچنے کے لئے مسلمانوں نے اپنی مذہبی شناخت چھپانا شروع کر دی ہے، بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایک شہری شاہین باغ کی طرف میٹرو پر سفر کر رہا تھا کہ ایک 50 سالہ شخص نے ان سے پوچھا کہ کیا یہ میٹرو شاہین باغ کی طرف جارہی ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ جی ہاں تین اسٹیشن کے بعد شاہین باغ آتا ہے۔ شہباز نے اس شخص کے چہرے پر اضطرابی کیفیت دیکھی اور وہ پورے سفر میں پریشان نظر آرہا تھا۔ جب وہ شخص ٹرین سے اترا تو اس نے اپنی جیب سے ٹوپی نکالی اور اسے پہن لیا۔

    میٹرو بس میں سفر کرنے والے اس شخص کے بارے میں ایک شہری کا کہنا تھا کہ اس شخص کو دیکھنے کے بعد مجھے بہت تکلیف ہوئی۔ وہ ضعیف آدمی تھا اور صوم و صلوٰۃ کا پابند نظر آتا تھا۔ اس نے اپنی شناخت چھپانے کیلئے ٹوپی ترک کردی اور اپنا لہجہ بھی بدل کر بات کیا۔ اب دہلی مسلمانوں کیلئے عذاب بنتی جارہا ہے۔ مسلمانوں کے اندر ایک خوف سا پیدا ہوگیا ہے۔

    ہندو انتہا پسند تنظیموں سے مسلمانوں کی زندگیوں کو خطرہ ہے اس بات کو لے کر سبھی پریشان ہیں، جامعہ ملیہ اسلامیہ میں تعلیم حاصل کرنے والی ایک لڑکی جو باحجاب رہا کرتی تھی اب اس نے حجاب ترک کردیا ہے۔ اس کا کہنا ہے عوام مجھ سے خوش دلی سے بات کرتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ مجھے مشورہ دیتے ہیں کہ اگر تم مسلمان ہو تو اپنے گھر تک رہو۔ اگر حجاب کرکے باہر نکلوگی تو تمہاری زندگی کو خطرہ ہے، زندہ رہنے کے لئے حجاب ترک کرنا پڑے گا۔

    مہرین فاطمہ نامی مسلم پی ایچ ڈی اسکالر ہیں وہ کہتی ہیں کہ وہ ہمیشہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ اللہ حافظ یا السلام علیکم کہتی تھی لیکن اب یہ کہنا بند کردیا ہے۔ میٹرو ٹرین میں سفر کے دوران میں خود کو انجلی بتاتی ہوں اور گھر میں میرا نام ادیبہ ہے لیکن ہندو فرقہ پرستوں کے ڈر سے میں نے اپنا نام تبدیل کردیا ہے۔

    دہلی فسادات کو ایک ہفتہ ہو چکا، ابھی تک وہاں کے مسلمانوں میں خوف کم نہیں ہو سکا،کئی خاندان علاقہ چھوڑ گئے تھے اب واپس آنے کے لئے راضی نہیں ہو رہے، کیجریوال سرکار مسلمانوں کو سیکورٹی بھی نہیں دے رہی،کئی مسلمان خاندان پناہ گزینوں کے کیمپ میں مقیم ہو گئے ہیں.اس کیمپ میں 15 سو کے قریب افراد موجود ہیں جنہوں نے فسادات کے وقت گھر چھوڑا تھا.

    دہلی میں ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے متنازعہ شہریت بل کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین پر تشدد کیا گیا، مسلمانوں کے گھر جلائے گئے، مساجد کی بے حرمتی کی گئی اور ایک مسجد کو شہید کیا گیا.بھجن پورہ میں مزار کو نذر آتش کیا گیا، اشوک نگر میں مسجد کو آگ لگائی گئی اور مینار پر ہنومان کا جھنڈا بھی لہرا دیا گیا۔

    گجرات کا "قصائی” مودی دہلی میں مسلمانوں پر حملے کا ذمہ دار ،بھارت کے اندر سے آوازیں اٹھنے لگیں

    دہلی میں پولیس بھی ہندوانتہا پسندوں کی ساتھی، زخمی تڑپتے رہے، پولیس نے ایمبولینس نہ آنے دی

    دہلی جل رہا تھا ،کیجریوال سو رہا تھا، مودی سن لے،ظلم و تشدد ہمیں نہیں ہٹا سکتا، شاہین باغ سے خواتین کا اعلان

    دہلی میں ظلم کی انتہا، درندوں نے 19 سالہ نوجوان کے سر میں ڈرل مشین سے سوراخ کر دیا

    دہلی تشدد ، خاموشی پرطلبا نے کیا کیجریوال کے گھر کا گھیراؤ، پولیس تشدد ،طلبا گرفتار

    امریکا سمیت متعدد ممالک کی دہلی بارے سیکورٹی ایڈوائیزری جاری

    دہلی فسادات، 42 سالہ معذور پر بھی مسجد میں کیا گیا بہیمانہ تشدد

    دہلی فسادات کا ذمہ دار کون؟ جمعیت علماء ہند نے کی نشاندہی

    دہلی فسادات اور 2002 کے گجرات فسادات میں گہری مماثلت،ہندوؤں کی دکانیں ،گھر کیوں محفوظ رہے؟ سوال اٹھ گئے

    دہلی فسادات، کوریج کرنیوالے صحافیوں کی شناخت کیلیے اتروائی گئی انکی پینٹ

    دہلی، اجیت دوول کا دورہ مسلمانوں کو مہنگا پڑا، ایک اور نوجوان کو مار دیا گیا

    دہلی فسادات میں امت شاہ کی پرائیویٹ آرمی ملوث،یہ ہندوآبادی پر دھبہ ہیں، سوشل ایکٹوسٹ جاسمین

    ہندو انتہا پسندوں کے تشدد سے 53 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں جبکہ 400 سے زائد زخمی ہیں، پولیس بھی ہندو انتہا پسندوں کا ساتھ دیتی رہی، ہندو انتہا پسند مسلمانوں کے گھروں میں لوٹ مار بھی کرتے رہے اور انہیں تشدد کا نشانہ بھی بناتے رہے، اس دوران صحافیوں پر بھی حملے کئے گئے

  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ’عورت مارچ’ رکوانے کی درخواست خارج، اب راج کرے گا "عورت مارچ”

    اسلام آباد ہائیکورٹ: ’عورت مارچ’ رکوانے کی درخواست خارج، اب راج کرے گا "عورت مارچ”

    اسلام آباد:اسلام آباد ہائیکورٹ: ’عورت مارچ’ رکوانے کی درخواست خارج، اب راج کرے کا عورت مارچ،اطلاعات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ نے ’عورت مارچ‘ کو رکوانے کے خلاف دائر کی گئی اسلام آباد کے 8 شہریوں کی درخواست کو ناقابل سماعت قرار دے کر اسے خارج کردیا۔

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں قائم بینچ نے عمران جاوید عزیز، محمد ایوب انصاری، امیر زیب، قاری سہیل احمد فاروقی، محمد اجمل عباسی، عبدالوحید، بشیر احمد اور میر اویس خان کی جانب سے دائر کی گئی درخواست پر سماعت کی۔درخواست گزاروں کی جانب سے سہیل اکبر چوہدری، راجا شجاعت علی اور حافظ محمد مظہر سمیت دیگر وکلا عدالت میں پیش ہوئے۔

    درخواست گزاروں نے ایک روز قبل ہی پاکستانی آئین کی مختلف شقوں اور مذہب کا حوالہ دیتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ’عورت مارچ‘ کو رکوانے کی درخواست دائر کی تھی۔درخواست میں ’عورت مارچ‘ کو غیر قانونی اور غیر مذہبی قرار دیتے ہوئے عدالت سے استدعا کی گئی تھی کہ وہ اسے روکنے کا حکم سنائے۔

    درخواست میں وزارت داخلہ، چیف کمشنر اسلام آباد، پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کو فریق بنایا گیا تھا۔درخواست میں گزشتہ سال کے ’عورت مارچ‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ مارچ میں نامناسب بینرز اور نعروں سے فحاشی پھیلتی ہے اور مارچ غیر قانونی اور غیر مذہبی ہے۔

    عدالت کے مطابق ضروری ہے کہ عورت مارچ کو مثبت انداز میں دیکھا جائے — فائل فوٹو: ڈان نیوز
    عدالت نے درخواست کو سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے 6 مارچ کو سماعت کی جس میں درخواست گزاروں کے وکیل پیش ہوئے، جنہوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ درخواست گزار خواتین کے حقوق نہیں بلکہ ’عورت مارچ‘ کے خلاف ہیں۔

    درخواست گزاروں کے وکلا نے عدالت کو استدعا کی کہ وہ غیر قانونی طور پر ہونے والے عورت مارچ کو روکنے کا حکم دے۔درخواست گزاروں کے وکلا کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ’درخواست گزار قبل از وقت اس عدالت سے ریلیف مانگ رہے ہیں‘۔

    چیف جسٹس نے درخواست کو ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے اپنے فیصلے میں کہا کہ ’توقع ہے کہ عورت مارچ کے شرکا شائستگی برقرار رکھتے ہوئے آئینی حق استعمال کریں گے‘۔عدالت نے 8 صفحات پر مشتمل فیصلے میں مزید لکھا کہ خواتین کے عالمی دن کے موقع پر عورت مارچ کا اعلان کیا گیا ہے اور ’عورت مارچ کے شرکا ان کے ارادوں پر شک کرنے والوں کو اپنے عمل سے غلط ثابت کریں‘۔

    عدالت کی جانب سے فیصلہ سنائے جانے سے قبل عدالت نے فیصلہ محفوظ کیا تھا اور نماز جمعہ سے قبل ہونے والی سماعت کے دوران چیف جسٹس اطہر من اللہ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ہمارے معاشرے میں کئی دیگر اسلامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہو رہی ہے، عدالت امید کرتی ہے کہ درخواست گزار تمام اسلامی قوانین کے نفاذ کے لیے بھی عدالت سے رجوع کریں گے۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عورتوں کے نعرے وہی ہیں کہ ’جو اسلام نے انہیں حقوق دیے وہ دیے جائیں‘۔

    جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ خواتین نے کل پریس کانفرنس میں کہا کہ وہ اسلام میں دیے گئے اپنے حقوق مانگ رہی ہیں، جب پریس کانفرنس میں انہوں نے اپنی بات واضح کردی تو ہم کیسے مختلف تشریح کرسکتے ہیں اور ان کے نعروں کی کیا ہم اپنے طور پر تشریح کرسکتے ہیں؟چیف جسٹس نے درخواست گزاروں کے وکلا کو مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آج پورے میڈیا میں ان کی کل کی پریس کانفرنس شائع ہوئی ہے۔

    چیف جسٹس اطہر من اللہ نے اپنے ریمارکس میں مزید کہا کہ سب سے پہلے جس نے اسلام قبول کیا وہ خاتون تھیں۔سماعت کے دوران چیف جسٹس نے درخواست گزاروں کے وکلا سے استفسار کیا کہ بتائیں کہ ہم کتنی خواتین کو وراثتی حقوق دے رہے ہیں اور آپ اپنے طور پر ان کے سلوگنز کی تشریح کیسے کر سکتے ہیں؟

    جس پر درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ وہ نہ مارچ کے خلاف ہیں نہ عورتوں کے حقوق کے خلاف ہیں، عدالت حکم دے کہ مارچ میں جو کچھ ہو وہ آئین و قانون اور اسلام کے دائرے میں ہو۔وکیل کی وضاحت پر چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ضروری ہے کہ آپ اس عورت مارچ کو مثبت انداز میں دیکھیں۔

    چیف جسٹس نے درخواست پر فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے کہا کہ اگر 8 مارچ کو کچھ بھی خلاف قانون ہوتا ہے تو عدالت قانونی کارروائی کرے گی۔بعد ازاں عدالت نے مذکورہ فیصلہ سناتے ہوئے عورت مارچ کو رکوانے کی درخواست خارج کردی۔

    خیال رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ سے قبل لاہور ہائی کورٹ میں بھی عورت مارچ کو رکوانے کے لیے درخواست دائر کی گئی تھی جس پر عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا تھا کہ ’آئین و قانون کے مطابق عورت مارچ کو روکا نہیں جا سکتا‘۔ساتھ ہی عدالت نے ضلعی انتظامیہ، پولیس اور مارچ منتظمین کو ہدایت کی تھی کہ مارچ میں کسی طرح کے غیر اخلاقی سلوگن نہیں ہونے چاہیئیں۔

    خیال رہے کہ خواتین رہنماؤں نے لاہور سمیت اسلام آباد، کراچی، حیدرآباد، سکھر، راولپنڈی اور دیگر شہروں میں عالمی یوم خواتین کے موقع پر 8 مارچ کو عورت مارچ منعقد کرنے کا اعلان کر رکھا ہے اور پاکستان میں گزشتہ 2 سال سے ان مارچ کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔

    اس سال ’عورت مارچ‘ شروع ہونے سے قبل ہی اس پر بحث شروع ہوگئی ہے اور جہاں کئی افراد اس مارچ کی حمایت کر رہے ہیں، وہیں کچھ افراد اس کی مخالفت بھی کر رہے ہیں۔

    عورت مارچ کی حمایت کرنے والے افراد کا ماننا ہے کہ ’عورت مارچ‘ خواتین کی خودمختاری اور حقوق کے لیے اہم قدم ہے جب کہ اس کی مخالفت کرنے والے افراد کا مؤقف ہے کہ یہ مارچ معاشرے میں بگاڑ پیدا کرنے، خواتین کو بے راہ روی اختیار کرنے اور فحاشی پھیلانے کا سبب ہے۔

    گزشتہ سال پہلی مرتبہ پاکستان کے مختلف شہروں میں ’عورت مارچ‘ منعقد ہوا تھا جس میں بڑی تعداد میں خواتین شامل ہوئی تھیں اور ان مارچ میں شامل خواتین کی جانب سے اٹھائے گئے بینرز پر سخت تنقید کی گئی تھی۔

    کراچی سے لے کر لاہور اور اسلام آباد سے حیدرآباد تک ہونے والے عورت مارچ میں خواتین نے درجنوں منفرد نعروں کے بینر اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن میں کچھ بینرز پر مختلف طقبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے تنقید بھی کی تھی۔

  • کرونا وائرس،پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کرنیکا مطالبہ آ گیا

    کرونا وائرس،پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کرنیکا مطالبہ آ گیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر رحمان ملک نے کرونا وائرس کے مسئلے پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کا مطالبہ کردیا

    سینیٹر رحمان ملک کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں وزیراعظم خود بریفنگ دیں اور حکومت فوری کرونا وائرس سے نمٹنے کیلئے ٹاسک فورس تشکیل دے.

    واضح رہے کہ پاکستان میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 6 ہو گئی ہے،وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کی زیر صدارت ایمرجنسی کور گروپ کا اجلاس منعقد ہوا جس میں وفاقی سیکرٹری ہیلتھ ڈاکٹر سید توقیر حسین شاہ ‘ ایگزیکٹو ڈائریکٹر این آئی ایچ ‘ پاک فوج کے نمائندے اور دیگر ماہرین شامل تھے۔ اجلاس میں موجود صورتحال میں ملک میں کرونا وائرس سے بچاؤ کیلئے کئے گئے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔

    ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ اب تک 7 لاکھ 60 ہزار سے زائد مسافروں کی سکریننگ کی گئی ہے’ کورونا وائرس سے نمٹنے کے لئے ہر ممکن اقدامات کو یقینی بنایا جارہا ہے۔ کورونا وائرس سے بچاؤ کیلئے وفاق ‘صوبے اور تمام ادارے مکمل تیار ہیں۔ ہم سب کو ملکر عوام کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے بھر پور کردار ادا کرنا ہوگا۔

    ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ تمام زمینی راستوں اور ہوائی اڈوں پر سکریننگ کی جارہی ہے . گزشتہ روز 21 ہزار 360 مسافروں کی سکریننگ کی گئی جبکہ اب تک 7 لاکھ 60 ہزار سے زائد مسافروں کی سکریننگ ہوئی۔ کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے ہر ممکن اقدامات کو یقینی بنارہے ہیں، اس حوالے سے ہسپتالوں میں علیحدہ کمرے مختص کئے ہیں۔

    کرونا وائرس،پاکستان نے کی ایران کے ساتھ ریل سروس معطل، شیخ رشید کا بڑا اعلان

    پاکستان میں وائرس ایران سے آیا، کتنے مزید مشتبہ مریض ہیں؟ ڈاکٹر ظفر مرزا کی بریفنگ

    ایران میں پھنسے رشتے داروں کو واپس لانے کے لئے شہری عدالت پہنچ گیا،عدالت نے کیا کہا؟

    واضح‌رہے کہ پاکستان میں بھی کورونا وائرس کے مریض سامنے آئے ہیں.کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے وفاق نے حکمت عملی تیار کرلی، ایران سے آنیوالے 13 ہزار افراد کی فہرست صوبائی حکومتوں کو ارسال کر دی گئی ہے۔ فہرست میں شامل افراد کے شناختی کارڈ، رابطہ نمبرز اور دیگر معلومات بھی دی گئی ہیں۔ کرونا وائرس کے پیش نظر سندھ بھر میں تمام تعلیمی ادارے 13 مارچ تک بند ہیں، سکول کھولنے والوں کیخلاف حکام کا ایکشن بھی جاری ہے، کئی سکولوں کی رجسٹریشن بھی معطل کی گئی ہے

  • بریکنگ:”میرا جسم میری مرضی”فیس بک کی چیف آپریٹنگ آفیسر  بھی بڑےغصےکےساتھ میدان میں آگئیں،بہت بڑی بات کہہ دی

    بریکنگ:”میرا جسم میری مرضی”فیس بک کی چیف آپریٹنگ آفیسر بھی بڑےغصےکےساتھ میدان میں آگئیں،بہت بڑی بات کہہ دی

    نیویارک :”میرا جسم میری مرضی ” فیس بک کی چیف آپریٹنگ آفیسر بھی بڑے غصے کے ساتھ میدان میں آگئیں،بہت بڑی بات کہہ دی ،اطلاعات کےمطابق پچاس سال کی عمر میں حال ہی میں منگنی کرنے والی دنیا کی سب سے بڑی سوشل ویب سائٹ فیس بک کی چیف آپریٹنگ آفیسر(سی ای او) شیرل سینڈبرگ نے کہا ہے کہ ’جو خواتین خودمختاری اور آزادی کی بات کرتی ہیں وہ اس بات کا انتظار کیوں کرتی ہیں کہ ان کا مرد دوست انہیں شادی کی پیش کش کرے گا؟

    شیرل سینڈبرگ نے کہا کہ برابری اور خودمختاری کی بات ہے تو خواتین کو اپنے مرد دوست کو شادی کی پیش کش کرنے میں پہلی کرنی چاہیے۔شیرل سینڈبرگ نے یہ بات منگنی کرنے کے 3 ہفتوں بعد کہی، انہوں نے گزشتہ ماہ فروری کے آغاز میں صحافی اور میڈیا مارکیٹنگ پلانر ٹام برنتھال سے منگنی کی تھی۔شیرل سینڈبرگ اور ٹام برنتھال نے طویل تعلقات کے بعد منگنی کی ہے اور انہوں نے جلد ہی شادی کا اعلان کر رکھا ہے، اگر دونوں نے شادی کرلی تو دونوں کی یہ دوسری شادی ہوگی۔

     

    https://www.instagram.com/p/B8HS8YPns-S/

    شیرل سینڈبرگ کی پہلے شوہر 2015 میں اچانک طبعی موت میں چل بسے تھے، انہیں پہلے شوہر سے 2 بچے بھی ہیں جب کہ ٹام برنتھال کی پہلی شادی طلاق پر ختم ہوئی اور انہیں پہلی شادی سے تین بچے ہیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ شیرل سینڈبرگ نے حالیہ انٹرویو میں اعتراف کیا کہ انہوں نے منگنی کے لیے ٹام برناتھ کو پیش کش نہیں کی تھی تاہم دونوں نے مشترکہ طور پر فیصلہ کیا مگر انہوں نے دوسری خواتین کو مشورہ دیا کہ وہ مرد حضرات کو پیش کش کریں۔

    این بی سی کے پوڈکاسٹ پروگرام میں بات کرتے ہوئے 50 سالہ شیرل سینڈبرگ نے کہا کہ وہ اب بھی پڑھی لکھی یا خودمختاری اور برابری کی بات کرنے والی خواتین کو اس بات کا انتظا کرتے دیکھتی ہیں کہ انہیں مرد ہی شادی کی پیش کش کرے گا تو انہیں عجیب لگتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ جب برابری اور خودمختاری کی بات کرنے والی خواتین تعلقات بھی اپنی مرضی سے استوار کرتی ہیں تو وہ شادی کی پیش کش کے لیے مرد حضرات کا انتظار کیوں کرتی ہیں؟انہوں نے ایسی خواتین کو مشورہ دیا کہ انہیں چاہیے کہ وہ مرد حضرات کا انتظار نہ کریں بلکہ وہ خود ہی انہیں شادی کی پیش کش کرڈالیں اور ایسے ہی خواتین کو تعلقات بنانے کے لیے بھی کرنا چاہیے۔

    انٹرویو میں انہوں نے فیس بک کی پالیسیوں سمیت خواتین کی خودمختاری کے حوالے سے بھی بات کی اور انہوں نے اس بات پر بھی حیرانگی کا اظہار کیا کہ اب تک خواتین کی شادی کئی سال پرانے طریقوں سے ہی ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ کتنا عجیب ہے کہ مرد حضرات شادی کے لیے اب بھی خاتون کے والد یا اہل خانہ سے بات کرتے ہیں، اب اس سلسلے کو تبدیل ہونا چاہیے۔انہوں نے واضح انداز میں کہا کہ ’تعلقات اور شادی‘ جیسے معاملات میں اب بھی مساوات کی کمی ہے اور ایسے معاملات میں اب بھی خواتین چاہتی ہیں کہ مرد پہلے کریں جب کہ دوسری جانب خواتین برابری اور خود مختاری کی بھی بات کرتی ہیں۔

    انٹرویو کے دوران انہوں نے اپنے پہلے شوہر کی اچانک موت پر بھی بات کی اور بتایا کہ کس طرح وہ وقت ان کے لیے مشکل تھا۔انٹرویو کے دوران شیرل سینڈبرگ نے جہاں فیس بک بانی مارک زکربرگ کی صلاحیتوں کی تعریف کی، وہیں انہوں نے اپنی بھی تعریف کی اور کہا کہ وہ نہ صرف اچھی سربراہ ہیں بلکہ وہ سخت محنت پر بھی یقین رکھتی ہیں۔

    خیال رہے کہ شیرل سینڈبرگ فیس بک میں ملازمت سے قبل یاہو اور ایمازون جیسی کمپنیوں میں بھی کام کر چکی ہیں اور ان کا شمار ٹیکنالوجی ویب سائٹ انڈسٹری کی اہم شخصیات میں ہوتا ہے اور ساتھ ہی وہ دنیا کی امیر ترین خواتین میں سے بھی ایک ہیں۔

  • خلیل الرحمان قمر vs ماروی سرمد | مبشر لقمان بھی میدان میں آگئے۔

    خلیل الرحمان قمر vs ماروی سرمد | مبشر لقمان بھی میدان میں آگئے۔

    خلیل الرحمان قمر vs ماروی سرمد | مبشر لقمان بھی میدان میں آگئے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ گزشتہ دو روز سے میڈیا اور سوشل میڈیا پر ایک ہنگامہ برپا ہے، ایک ٹی وی شو سے شروع ہونے والے ڈرامہ ٹویٹر ، فیس بک تک جا پہنچا ہے اور صارفین دو دھڑوں میں بٹے نظر آ رہے ہیں،کوئی کہہ رہا ہے گالی کیوں نہیں نکالی کوئی کہتا ہے کہ اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جاتا ہے، کوئی کہہ رہا ہے میرا جسم میری مرضی کوئی کہہ رہا ہے میری زبان میری مرضی،

    مبشر لقمان نے مزید کہا کہ یہ اچانک شروع نہیں ہوا، ہمارے ملک میں کچھ لوگوں کو سکون راس ہی نہیں آتا نہ خود سکون سے رہتے ہیں نہ کسی کو رہنے دیتے ہیں، اصل بات یہ ہے کہ سیاسی ماحول ٹھنڈا ہے، پی ایس ایل چل رہا ہے، لوگ ڈپریشن سے باہر آ رہے ہیں بھارتی مظالم کے خلاف آوازیں اٹھ رہی ہیں لیکن کچھ لوگ چاہتے ہی نہیں کہ سکون سے رہیں، اب خلیل الرحمان قمر نے جو کیا اسے کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، انہیں تھوڑے عرصے کے لئے ٹی وی پر پابندی لگانی چاہئے، کم از کم تین ماہ کی پابندی لگنی چاہئے، رائیٹر کے پاس اسلحہ اس کے الفاظ ہیں، سخت الفاظ میں بات ہو تو لوگ بات کرتے ہیں، جو ادیب ہو، ادب سے تعلق ہو، الفاظ کا ذخیرہ ہوتا ہے وہ الفاظ کی حرمت کا پاس نہ کریں تو بہت غلط ہے، لیکن بدقسمتی کیا ہے، بدقسمتی سے عورت مارچ کو بھی معاشرے میں مردوں سے بغاوت اور نفرت کا سمبل بنا دیا گیا ہے، ہر معاشرے میں اچھے مرد بھی ہوتے ہیں.اگر آپ ایک بری مثال اٹھا کر معاشرے کے تمام مردوں پر لگا دیں تو یہ ٍغلط بات ہے،

    مبشر لقمان نے مزید کہا کہ خواتین بھی بہت زیادہ اچھی ہیں، شاید چند ایک ہوں‌جن پر بات کر سکیں، لیکن بات نہیں کرنی چاہئے، یہ دیکھیں عورت ایک ماں بھی ہے ،بہن بھی ،بیٹی بھی اس کی ہر مرد عزت کرتا ہے،احترام کرتا ہے اور اس کے پیروں کے نیچے جنت تلاش کرتا ہت، اس کا تحفظ کرتا ہے، اس کی ضروریات پوری کرنے کے لئے اپنی زندگی وقف کر دیتا ہے جبکہ عورت جس کے ہاتھ میں قوم کا مستقبل ہوتا ہے، نسل کی پرورش کرتی ہے تا کہ بڑا ہو کر اچھا بھائی، خاوند، بیٹا بنے، اگر عورت مارچ میں اس طرح کے بینر ہوں کہ اپنا ٹائم آ گیا اور اس طرح کے عجیب قسم کے نشان بنے ہوں ، ہاتھوں کے سگریٹ بنے ہوں اس کا کیا مطلب ہے، سگریٹ نوشی سب کے لئے مضر ہے، مجھے حق ہونا چاہئے کہ جو تنخواہ مردوں کو ملتی ہے وہ خواتین کو ملیں لیکن سگریٹ نوشی کی اجازت کیوں؟ سگریٹ نہ مرد کو دیکھتا ہے نہ عورت کو دیکھتا ہے، جو سب سے زیادہ سگریٹ پینے والے لوگ ہیں ان کی زندگی کو کھوکھلا کر دیتا ہے.

    مبشر لقمان نے مزید کہا کہ میرا جسم میری مرضی کا کہا جا رہے کہ مطلب غلط لیا جا رہا ہے،بچوں کی تعداد پر عورتوں کی مرضی ہونی چاہئے،یہ شوہر ،بیوی دونوں کا آپس کا فیصلہ ہے ،لیکن اگر کوئی ایک فیصلہ کر لے تو دوسرے کو بھی اعتراض نہیں ہونا چاہئے، لیکن اگر پلے کارڈ پر یہ لکھ دیں کہ …میں الفاظ استعمال نہیں کرنا چاہتا، جو تصاویر ہیں وہ بھی کسی صورت قابل برداشت نہیں، بے حیائی کو کوئی معاشرہ برادشت نہیں کرتا، دنیا کے کسی ملک میں چلے جائیں جہاں ہر قسم کی آزادی ہے وہاں ان کی روایات ہوں گی اس کے مطابق وہ چلیں گے، مادرپدر آزادی نہیں ہوتی

    مبشر لقمان نے مزید کہا کہ عورت مارچ میں ایک اور پلے کارڈ سامنے آیا تھا کہ کھانا گرم کر دوں گی لیکن…میں پورا بولنا نہیں چاہتا کیوں کہ بچے بھی دیکھ رہتے ہیں، اس کا مطلب کیا ہے ،عورتوں کی برابری کا مطلب یہ نہیں کہ انکو اسلحہ دے کر بارڈر پر بھیج دیا جائے، ان سے ڈھائی من کی آٹے اور سیمنٹ کی بوریاں اٹھوائی جائیں کہ مرد اپنے کام گھر میں خود کر رہا ہے، روزگار کی ٹینشن اب عورت خود لے گی، نہیں ایسا نہیں ہے، دین اسلام سے زیادہ عورت کو حق کسی نے نہیں دیا ، اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں عورتوں کے حقوق بتائے،

    مبشر لقمان نے مزید کہا کہ پلے کارڈ سے تو یوں لگتا ہے کہ عورت مارچ کا مقصد کچھ اور ہے، ایک شوشہ چھوڑا گیا،پھر عوام کو ہیجان میں مبتلا کرنے کے لئے شوز کرنا شروع کر دئے گئے، شو میں ایک ایسے متنازعہ شخص کو بلایا گیا جو خود عجیب و غریب مخمصے کا شکار ہے، میں اس پر کم ہی بات کروں تو اچھا ہے، بی بی سی اور ٹی وی پر متنازعہ بیان دے کر خود ساختہ دانشور بھی بن گئے، اب وہی خلیل الرحمان قمر عورتوں اور مردوں کے حقوق کا علمبردار بن کر سامنے آ گیا، اب عوام سے ویڈیو میں دعا کی درخواست کر رہے ہیں کہ میرے لئے دعا کرے کہ میں مشن میں کامیاب ہو جاؤں اور بے حیائی کا خاتمہ ہو، یہ عوام کا مسئلہ ہے ہی نہیں اس کو اس میں ایسے ہی لایا جا رہا ہے،عوام کو تقسیم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ایک طر مارچ کا شوشہ چھوڑا جا رہا ہے، دوسری طرف خلیل صاحب بے حیائی کو روکنے کے لئے میدان میں نکل پڑے ہیں. جن باتوں کو خلیل صاحب جائز سمجھتے ہیں ہو سکتا ہے لوگ ان کو بھی بے حیائی سمجھتے ہیں،میں بہت سے ایسے لوگوں کو جانتا ہوں میرے رشتے داروں کے گھر میں بھی ٹی وی دیکھنا منع ہے اور فلم دیکھنا اس کو تو بہت بڑا عیب سمجھا جاتا ہے،خلیل کہتے ہیں فلم لکھی ،اچھی لکھتا ہوں.

    مبشر لقمان نے مزید کہا کہ قانون سوسائٹی کے لئے بنا ہوتا ہے کسی ایک شخص کے لئے نہیں، یہ ایک سازش ہے عوام کو ایسے الجھا دیا گیا جو عوام کا مسئلہ ہی نہیں، دوسری طرف عورت مارچ کے نعرے دیکھ لیں، طلاق یافتہ لیکن خوش، ان نعروں کی اخلاقیات اجازت نہیں دیتی، عورت مارچ والوں سے پوچھا جائے کہ ان کے مقاصد کیا ہیں، فنڈڈ این جی اوز، پیسہ لے کر میرا جسم میری مرضی کا نعرہ لگا کر اس ملک کی عورتوں کو بے وقوف بنانے کی کوشش ہے، یہ نہ تو سماجی مسائل، نہ معاشی مسائل کا حل ہے،وہ خواتین جو ڈرائیور کے بغیر گھر سے نہیں نکلتی، انہیں یہ معلوم نہیں کہ دوران زچگی کتنی خواتین مر جاتی ہیں اب وہ خواتین کے حقوق مانگ رہی ہیں،میں دیکھتا ہوں کہ ابھینندن پکڑا جاتا ہے ،کلبھوشن پکڑا جاتا ہے توچند خؤاتین پلے کارڈ لے کر آ جاتی ہیں اور ان کے حق میں احتجاج کرتی ہیں،لیکن جب کشمیر میں 18 ہزار بچیوں کی عصمت دری ہوئی تو ان پر تو کوئی آواز نہیں اٹھائی گئی، عورت مارچ والوں نے کوئی احتجاج نہیں کیا،اب بھارت میں جو ہو رہا ہے، دہلی میں شاہین باغ میں جس طرح عورتوں کی بے حرمتی کی گئی اس پر کیوں نہیں بولتے، ہم محدود کیوں ہو گئے ،کیا وہ عورتیں نہیں ، کیا ان کے حقوق نہیں، پاکستان ان ممالک میں ہے جہاں عورت کو چیف ایگزیکٹو بنا یا گیا ، پاکستان میں عورت کو وہ مسائل نہیں جو دیگر ممالک میں ہیں، یہاں ورکنگ وومین کے مسائل کا کسی کو پتہ نہیں، خواتین کے اصل مسائل کے حل میں رکاوٹ یہ خود ہیں، گزشتہ برس عورت مارچ کو دیکھئے کہ یہ عورت کو بنانا کیا چاہتے ہیں، ایسے مارچ کرنا خواتین کی بھی تذلیل ہے، جن کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے، تیزاب پھینکا جاتا ہے کیا ان کے لئے آواز نہیں اٹھانی چاہئے،

    مبشر لقمان نے مزید کہا کہ عورت مارچ والوں سے سوال پوچھنا چاہئے کہ لبرلز ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ میں اپنی زبان کو بد زبان کر لوں،میں کپڑے اتار کر شو کرنا شروع کر دوں ،کہ میں لبرل ہوں جو دل میں آئے کروں، یہ آزادی کی بات نہیں، رضیہ سلطانہ جیسی عورت کا کیا جس نے خود کو بغیر آوارہ کہے پورے برصغیر پر حکومت کی،فاطمہ جناح جنہوں نے مردوں کے شانہ بشانہ کام کیا، پاکستان بنانے میں مردوں سے زیادہ خواتین کی محنت تھی، محنت کر کے جو خواتین چولہا جلاتی ہیں ان کے مسائل کا ذکر سامنے نہیں آیا، کیا یہ سازش ہے؟ اس کو ختم کرنا ہو گا، ہمیں برداشت کا مادہ ہاتھ سے نہیں چھوڑنا، مرد ہے جو خواتین کی عزت بناتا ہے اور عورت مرد کی طاقت بناتی ہے یہی خوبصورتی ہے، جن الفاظ کا چناؤ خلیل الرحمان قمر نے کیا اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، اس تقسیم کی ایک اور بڑی وجہ ہے ماروی سرمد اور خلیل الرحمان قمر کی ٹویٹس دیکھیں، انہوں نے جو ٹاک شو پر بات کی یہ ظلم ہو گیا، اس کو نہیں ہونا چاہئے، ناشائستہ گفتگو کی معاشرے میں اجازت نہیں ہو سکتی.

  • کراچی: گولیمار میں تین رہائشی عمارتیں گر گئیں، جاں بحق افراد کی تعداد 11 ہوگئی ،پاک فوج کے جوان بھی امدادی سرگرمیوں کے لیے ہمہ تن گوش

    کراچی: گولیمار میں تین رہائشی عمارتیں گر گئیں، جاں بحق افراد کی تعداد 11 ہوگئی ،پاک فوج کے جوان بھی امدادی سرگرمیوں کے لیے ہمہ تن گوش

    کراچی:کراچی: گولیمار میں تین رہائشی عمارتیں گر گئیں، جاں بحق افراد کی تعداد 11 ہوگئی ،پاک فوج کے جوان بھی امدادی سرگرمیوں کے لیے ہمہ تن گوش رضویہ سوسائٹی کے قریب گولیمار نمبر 2 میں تین رہائشی عمارتیں گرنے سے 11 افراد جاں بحق اور18 زخمی ہوگئے۔

    ایک عمارت مکمل اور دو عمارتوں کا بیشتر حصہ گرا جس کے بعد قریب موجود چوتھی عمارت کو بھی مخدوش قرار دے دیا گیا۔ پاک فوج کے جوان اور دیگر ادارے ریسکیو آپریشن میں مصروف ہیں جبکہ تنگ گلیوں کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔پولیس سرجن کراچی ڈاکٹر کرار عباسی کے مطابق شام ساڑھے 6 بجے تک عباسی شہید اسپتال میں 7 خواتین اور 3 بچوں سمیت 11 افراد کی لاشیں پہنچائی جا چکی تھیں جبکہ 18 زخمی زیرعلاج ہیں۔

    ڈاکٹر کرار عباسی کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں 16سالہ حرا رشید اس کی چھوٹی بہن سارا رشید، 9 ماہ کا شیر خوار بچہ حیدر خرم اور اس کا بڑا بھائی تین سال کا یحییٰ خرم، شہلا، زبیدہ زوجہ محمد علی، غلام مصطفی اور سب سے پہلے لائی جانے والی نامعلوم خاتون شامل ہیں۔عباسی شہید اسپتال کے میڈیکو لیگل آفیسر (ایم ایل او) سہیل یار خان کے مطابق واقعے کے کئی گھنٹے بعد بھی لاشیں لانے کا سلسلہ جاری ہے۔

    ایس ایس پی سینٹرل راؤ ایف اسلم کے مطابق امدادی کام جاری ہے اس سلسلے میں امدادی ٹیموں کو بہت احتیاط سے کام کرنا پڑ رہا ہے۔ عارف اسلم راؤ کے مطابق ابھی بھی ملبے تلے لوگوں کے زندہ ہونے کی امید ہے، ایک اور اہم مسئلہ یہ ہے کہ ملبہ اٹھانے میں عجلت کی بنا پر دوسری عمارتوں کے گرنے کا بھی خدشہ ہے۔

    عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ پہلے 5 منزلہ عمارت زمین میں دھنسی جس کا ملبہ گرنےسے دو مزید عمارتیں متاثر ہوئیں۔گرنے والی عمارت پر مزید ایک فلور ڈالا جارہا تھا، علاقہ مکینوں نے مالک کو منع بھی کیا تھا لیکن اس نے ایک نہ سنی۔عمارت میں گراؤنڈ فلور پر کلینک تھا اور ملبے میں کلینک میں آئے مریضوں کے بھی دبے ہونے کا خدشہ ہے۔

    واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو اہلکار موقع پر پہنچ گئے اور امدادی کارروائیاں شروع کردیں جب کہ علاقہ مکینوں نے بھی امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا اور سریے کاٹ کر ملبے کو ہٹایا گیا۔اس کے علاوہ ریسکیو آپریشن کے لیے بھاری مشینری بھی طلب کی گئی ہے جب کہ پاک آرمی کے جوانوں نے بھی ریسکیو آپریشن میں حصہ لیا۔

    سینئر ڈائریکٹر ہیلتھ کےایم سی ڈاکٹرسلمیٰ کوثر نے عباسی شہید اسپتال میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ گولیمار میں عمارت اور فیڈرل بی ایریا میں گیلری گرنے کے دونوں واقعات میں 25 زخمی افراد کو اسپتال لایا گیا جن میں بچے، خواتین اوربزرگ شہری بھی شامل ہیں، 6 افراد کو حالت تشویشناک ہونے پر آئی سی یو میں منتقل کردیا گیا ہے۔ڈاکٹر سلمیٰ کوثر نے کہا کہ دونوں واقعات میں خاتون سمیت 4 افراد جاں بحق ہوئے، گولیمارمیں 3 اور ایف بی ایریا میں ایک شخص جاں بحق ہوا۔

    ریسکیو حکام نے بتایا کہ عمارت پھول والی گلی میں گری اور اس عمارت کو فاطمہ بلڈنگ کے نام سے جانا جاتا ہے، عمارت کے پشتے کمزور تھے جو عمارت کے گرنے کی وجہ بتائی جارہی ہے، عمارت گرنے سے برابر والی دو عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا اور ان کا بھی کچھ حصہ گر گیا جب کہ ساتھ ہی چوتھی عمارت کو حفاظتی انتظامات کے تحت خالی کرالیا گیا۔ریسکیو اہلکاروں کو گلی تنگ ہونے کہ وجہ سے امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور ایمبولینسز کو بھی پچھلی گلی سے لایا گیا۔

    علاقہ مکینوں کا کہنا ہےکہ بلڈنگ زیادہ پرانی نہیں، اسے 3 سے 4 سال پہلے ہی تعمیر کیا گیا تھا اور اس میں چار خاندان رہائش پذیر تھے جس کے باعث کئی افراد ملبے تلے دب گئے جب کہ عمارت کے پاس کھڑی کئی گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بھی ملبے میں دب گئیں۔

    ایڈیشنل ڈائریکٹر ایس بی سی اے آشکار داور کا کہنا ہے کہ پرانی عمارت پر 4،5 ماہ پہلے مزید تعمیرات کی گئیں جس کے نتیجے میں وزن بڑھا اور عمارت برابر والی 2 عمارتوں پر آگری۔
    انہوں نے کہا کہ کچی آبادی میں 40،40گز کے چھوٹے چھوٹےپلاٹ ہیں، عمارت غیرقانونی طور پر تعمیر کی گئی تھی، واقعہ علاقے میں تعینات سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے متعقلہ افسران کی غفلت کے باعث پیش آیا، ملوث متعلقہ افسران کو معطل کردیا گیا ہے، ان کے خلاف مقدمہ درج کرایا جائےگا۔

    ایڈیشنل ڈائریکٹر نے کہا کہ شہر میں غیر قانونی تعمیرات وائرس کی طرح پھیل رہی ہیں، نان ٹیکنیکل افراد تعمیرات کرکے انسانی جانوں سے کھیل رہے ہیں۔

  • احسن اقبال، شاہد خاقان عباسی اور خواجہ آصف کو ایف آئی اے نے طلب کر لیا، وجہ کیا؟ اہم خبر

    احسن اقبال، شاہد خاقان عباسی اور خواجہ آصف کو ایف آئی اے نے طلب کر لیا، وجہ کیا؟ اہم خبر

    احسن اقبال، شاہد خاقان عباسی اور خواجہ آصف کو ایف آئی اے نے طلب کر لیا، وجہ کیا؟ اہم خبر

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جج ویڈیو کیس میں ایف آئی اے نے ن لیگی رہنماؤں کو طلب کر لیا

    ایف آئی نے احسن اقبال، خواجہ آصف، شاہد خاقان عباسی کو طلب کیا ہے، خواجہ آصف کو 10 مارچ کو 3 بجے ،احسن اقبال کو 11 بجے اور شاہد خاقان عباسی کو 9 مارچ کو طلب کیا گیا ہے ، ن لیگی رہنماؤں کو ایف آئی اے اسلام آباد ہیڈ کوارٹر میں طلب کیا گیا ہے جہاں ان سے جج ویڈیو کیس کے حوالہ سے تحقیقات کی جائیں گی

    جج ویڈیو سیکنڈل میں پرویز رشید، عظمیٰ بخاری، عطاء اللہ تارڑ بھی ایف آئی اے میں پیش ہو چکے ہیں،

    واضح رہے کہ مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز نے جج ارشد ملک کی ویڈیو جاری کی تھی جس کے بعد احتساب عدالت کے جج کی خدمات دوبارہ لاہور ہائیکورٹ کے سپرد کر دی گئیں، جج ارشد ملک نے حلف نامے میں ویڈیو کو جعلی قرار دیا اور کہا کہ مجھے دھمکیاں دی گئیں اور بلیک میل کرنے کی کوشش کی.

    ویڈیو سیکنڈل ناصر جنجوعہ سمیت تین ملزمان کو بری کرنے کا حکم

    جج ویڈیو، مریم نواز سمیت سب کو ہو گی دس سال قید،نواز کی سزا میں ہو گا اضافہ

    جج ارشد ملک کی اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرائے گئے بیان حلفی میں کہا گیا ہے کہ دوران سماعت نمائندگان کے ذریعے بارہا رشوت کی پیش کش کی گئی اورتعاون نہ کرنے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی گئی۔ مجھے کہا گیا کہ نواز شریف منہ بولی قیمت دینے کو تیار ہے. بیان حلفی میں مزید کہا گیا کہ فروری 2018 میں مہر جیلانی اور ناصر جنجوعہ سے ملاقات ہوئی، ملاقات میری بطور جج احتساب عدالت تعیناتی کے کچھ عرصے بعد ہوئی، ناصر جنجوعہ نے بتایا کہ انھوں نے سفارش کر کے مجھے جج لگوایا، ناصر جنجوعہ نے اپنے ساتھ موجود شخص سے تصدیق کرائی کہ میں نے چند ہفتے قبل تعیناتی کی خبر نہیں دی، میں نے اس دعوے کے بارے میں زیادہ سوچ بچار نہیں کی۔ جج ارشد ملک نے اپنے بیان حلفی میں مزید کہا کہ 16 سال پہلے ملتان کی ایک ویڈیو مجھے دکھائی گئی، ویڈیو کے بعد کہا گیا وارن کرتے ہیں تعاون کریں، ویڈیو دکھانے کے بعد دھمکی دی گئی اور وہاں سے سلسلہ شروع ہوا، سماعت کے دوران ان کی ٹون دھمکی آمیز ہوگئی، مجھے رائے ونڈ بھی لے جایا گیا اور نواز شریف سے ملاقات کرائی گئی، نواز شریف نے کہا جو یہ لوگ کہہ رہے ہیں اس پر تعاون کریں، نواز شریف نے کہا ہم آپ کو مالا مال کر دیں گے

    ایف آئی اےکی انکوائری ٹیم نےشہبازشریف اورمریم نوازسے تفتیش کی ،شہباز شریف نے ایف آئی اے کو اپنے بیان میں کہا کہ جج مبینہ وڈیوسے متعلق پریس کانفرنس میں موجود تھا،ویڈیو کیسے ریکارڈ ہوئی علم نہیں،

    مریم نواز نے اپنے بیان میں کہا کہ جج ارشد ملک کی وڈیو ناصربٹ نے بنائی،جج کی وڈیو بنانے میں میرا کوئی کردار نہیں، مریم نواز نےکہاوڈیو ناصر بٹ نے فراہم کی تھی ،میں نے صرف وڈیو کو بنیاد بناکر پریس کانفرنس کی،مریم نواز نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ وڈیو پریس کانفرنس میں چلانےسے پہلے چیک کی،بیرون ملک سے فارنزک آڈٹ کرایا،

    العزیزیہ ریفرنس کیس،نواز شریف کے وکیل اور نیب کو ملیں بیان حلفی کی مصدقہ نقول

    نوازشریف و زرداری کو چھوڑنے کا اعلان، پاکستانی سیاست میں ہلچل مچ گئی

    ویڈیو سیکنڈل، ناصر جنجوعہ کے خلاف شواہد نہیں ملے، ایف آئی اے،جج کا کیس سننے سے معذرت

    احتساب عدالت کے سابق جج ارشد ملک کو لاہور ہائیکورٹ نے او ایس ڈی بنا دیا،او ایس ڈی بنانے کا نوٹفکیشن جاری کر دیا ہے، جج ارشد ملک کو او ایس ڈی بنانے کی منظوری لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے دیا. سپریم کورٹ کے حکم کے بعد جج ارشد ملک کی خدمات احتساب عدالت سے لاہور ہائیکورٹ کے سپرد کر دی گئی تھیں، لاہور ہائیکورٹ میں جج ارشد ملک کے خلاف انکوائری چل رہی ہے

    سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا تھا کہ ارشد ملک کے کردارسے ججوں کے سرشرم سے جھک گئے ، عجیب جج ہیں فیصلے کے بعد مجرمان کے گھر چلے جاتے ہیں،پھرمجرم کے بیٹے سے ملنے مدینہ منورہ جاتے ہیں،ارشد ملک کے کردارسے متعلق بہت سی باتیں دیکھنے والی ہیں،

    سپریم کورٹ نے مزید کہا کہ لاہور ہائیکورٹ جج ارشد ملک کے خلاف کاروائی کرے، جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ جنہوں نے کہانی بنائی انہوں نے جان چھڑا لی، چیف جسٹس نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کاروائی کر سکتی ہے.

    واضح رہے کہ اسلام آباد کی احتساب عدالت نمبر دو کے جج محمد ارشد ملک نے دونوں ریفرنسز پر فیصلے سنائے تھے اور العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں نواز شریف کو سات سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی تھی جبکہ فلیگ شپ ریفرنس میں عدم شواہد کی بناء پر بری کر دیا تھا۔

    نوازشریف و زرداری کو چھوڑنے کا اعلان، پاکستانی سیاست میں ہلچل مچ گئی

    تم کون ہوتے ہو میری ویڈیو بنانے والے؟ مریم نواز برہم