باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کراچی میں بلڈنگ گرنے کے واقعہ کے بعد میئر کراچی وسیم اختر نے کہا کہ عمارت سے اب تک 3لاشیں نکالی جاچکی ہیں،22 زخمیوں کو عباسی شہید اسپتال منتقل کردیاگیا،زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی جارہی ہے،متاثرہ بلڈنگ میں آپریشن مکمل ہونے تک تمام متعلقہ عملہ ڈیوٹی پر موجود رہے گا،
ایڈیشنل ڈائریکٹر ایس بی سی اے کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں تعینات سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے متعقلہ افسران کی غفلت ہے،چھوٹی رہائشی 399مربع گز تک کےپلاٹوں پر گراؤنڈ پلس ٹو کی تعمیرات کی اجازت ہے،یہ پرانی بلڈنگ تھی جس پر 4،5ماہ پہلے مزید تعمیرات کی گئیں،گولیمار نمبر 2 میں غیر قانونی تعمیرات کی گئی ہیں،گرنے والی عمارت سے متعلق تحقیقات کر رہے ہیں،اس کچی آبادی میں 40،40گز کے چھوٹے چھوٹےپلاٹ ہیں،چھوٹی رہائشی 399مربع گز تک کےپلاٹوں پر گراؤنڈ پلس ٹو کی تعمیرات کی اجازت ہے،پرانی بلڈنگ پر مزید تعمیرات کے نتیجے میں وزن بڑھا اور یہ برابر والی 2 بلڈنگ پر گری،کچی آبادی اور پورے شہر میں غیر قانونی تعمیرات ہورہی ہیں،بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی 3 غیرقانونی تعمیرات کو توڑتی ہے 10 بننا شروع ہوجاتی ہیں،بلڈنگ کنٹرول کے عملے کی ملی بھگت سے اس قسم کی تعمیرات ہوتی ہیں،شہر میں غیر قانونی تعمیرات وائرس کی طرح پھیل گئی ہیں،غیر قانونی تعمیرات کرنے والے آزاد گھوم رہے ہیں ان کیخلاف اقدام قتل کا مقدمہ ہونا چاہیے،بلڈنگ انسپکٹر کی ذمے داری ہے کہ وہ غیرقانونی تعمیرات کی انسپکشن اور اسےگرانے کی کارروائی کرے ،بلڈنگ کنٹرول کے متعلقہ افسران کو معطل اور انکے خلاف فوری طور پر ایف آئی آر درج کرائی جائے گی
واضح رہے کہ راچی کے علاقے رضویہ سوسائٹی میں رہائشی عمارت گر گئی جس کے ملبے تلے دب کر خاتون سمیت 3 افراد جاں بحق ہو گئے جبکہ زخمی ہونے والے 20 افراد کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے حادثے کا نوٹس لیتے ہوئے فوری رپورٹ طلب کر لی ہے، گورنر سندھ نے بھی واقعہ پر افسوس کا اظہار کیا ہے
ریسکیو حکام کے مطابق ملبے تلے دبے دیگر افراد کو نکالنے کیلئے ریسکیو آپریشن جاری ہے، حادثے میں زخمی ہونے والوں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ایک جاں بحق شخص کی غلام مصطفیٰ کے نام سےشناخت ہوئی، زخمیوں میں 42سالہ خرم، 18سالہ دانیال، 70سالہ خاتون شامل ہیں جبکہ 8 سالہ حماد، 35 سالہ عارفہ اور 28سالہ اویس بھی زخمی ہوئے۔ عمارت 3 سال پہلے تعمیر کی گئی تھی اور بلڈر چار منزلہ عمارت پر پانچویں منزل تعمیر کر رہا تھا۔
راولپنڈی:او آئی سی کے خصوصی وفد کا لائن آف کنٹرول کا دورہ،مقبوضہ کشمیر کی تازہ ترین صورت حال سے آگاہ کیا ،باغی ٹی وی کےمطابق سیکریٹری جنرل اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے خصوصی وفد نے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کا دورہ کیا اور صورتحال کا جائزہ لیا۔
انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے مطابق او آئی سی کے نمائندہ خصوصی برائے کشمیر یوسف الدوبے کی سربراہی میں 6 رکنی وفد نے لائن آف کنٹرول پر چکوٹھی سیکٹر کادورہ کیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق او آئی سی کے وفدکو ایل اوسی کی صورتحال اور بھارت کی جانب سے سیز فائر کی خلاف ورزیوں پربریفنگ دی گئی۔
گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان سے او آئی سی کے نمائندہ خصوصی اور وفد نے ملاقات کی اور مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی تھی۔ اس موقع پر وزیر اعظم نے او آئی سی وفد کو بھارت میں فاشسٹ ہندوتوا نظریے اور مسلمانوں پر مظالم سے آگاہ کیا اور عالمی برادری سے مقبوضہ کشمیر اور انڈیا میں مسلم کشی کے خلاف کردار ادا کرنےکا مطالبہ کیا۔
ملاقات سے متعلق وزیراعظم عمران خان کی معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ او آئی سی کے خصوصی نمائندے کا مقبوضہ کشمیر کے عوام کے حق میں بیان قابل تحسین ہے۔انہوں نے کہا کہ اوآئی سی کی مسئلہ کشمیر پر کشمیریوں اور پاکستان کی غیر متزلزل حمایت قابل ستائش ہے، یہ امت مسلمہ کے کشمیریوں کے لیے احساس ہے اور بھارتی انسانیت سوز مظالم کا بھی اعتراف ہے۔
وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں خصوصی اقتصادی زونز کے قیام کی منظوری
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیرِاعظم عمران خان نے کہا ہے کہ خصوصی اقتصادی زونز کے قیام کا مقصد سرمایہ کاروں اور کاروباری برادری کو ہر ممکنہ سہولت اور مراعات فراہم کرنا ہے، موجودہ حکومت کاروباری برادری کو ہر ممکنہ سہولت اور سازگار ماحول فراہم کرنے کے لئے پر عزم ہے۔
وزیراعظم آفس کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جو کہ خصوصی اقتصادی زونز کے قیام کے حوالے سے اپروول بورڈ کا پانچواں اجلاس تھا۔
اجلاس میں قائد ایوان سینیٹ شبلی فراز، وزیر توانائی عمر ایوب، وزیر منصوبہ بندی اسد عمر، مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، مشیر تجارت عبدالرزاق داود، وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان، وزیرِ اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمان، معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوش عاشق اعوان، معاون خصوصی ندیم افضل چن، چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ زبیر گیلانی، صوبائی وزیر خزانہ خیبر پختونخوا تیمور سلیم جھگڑا، صوبائی وزیر صنعت پنجاب میاں محمد اسلم اورمتعلقہ وفاقی و صوبائی محکموں کے سینئر افسران شریک تھے۔
اجلاس میں صوبہ بلوچستان، صوبہ سندھ، صوبہ خیبر پختونخوا اور صوبہ پنجاب میں مختلف خصوصی اقتصادی زونز کے قیام کی منظوری دی گئی ہے جس کے تحت بلوچستان میں بوستان خصوصی اقتصادی زون اور حب اقتصادی زون، صوبہ خیبر پختونخوا کے رشاکئی خصوصی اقتصادی زون، صوبہ سندھ میں نوشہرو فیروز اور بھولاری خصوصی اقتصادی زونز، صوبہ پنجاب میں بھلوال، بہاولپور، رحیم یار خان، وہاڑی اور علامہ اقبال خصوصی اقتصادی زونز کی منظوری بھی دی گئی۔
سیکرٹری سرمایہ کاری بورڈ نے اجلاس کو بتایا گیا کہ اب تک 13 خصوصی اقتصادی زونز نوٹیفائی کئے جا چکے ہیں، پبلک سیکٹر میں مزید 12 جبکہ پرائیویٹ سیکٹر میں چھ نئے زونز کے قیام پر کام جاری ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ 2012ءمیں خصوصی اقتصادی زونز کے قانون کے بعد 2018ءتک محض سات زونز کا قیام عمل میں آیا۔ موجودہ حکومت کے دورِ حکومت میں گذشتہ ایک سال میں چھ نئے زونز کو نوٹیفائی کیا گیا۔ موجودہ حکومت کے دور میں اقتصادی زونز میں سہولتوں اور مراعات میں اضافے کے حوالے سے متعلقہ قانون میں ترامیم کا کام تقریباً مکمل کر لیا گیا ہے۔
اجلاس میں صوبہ بلوچستان، صوبہ سندھ ، خیبر پختونخوا اور صوبہ پنجاب میں قائم ہونے والے خصوصی اقتصادی زونز سے متعلقہ معلومات (محل و قوع، رقبہ، قائم ہونے والی صنعتیں وغیرہ) پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
وزیرِاعظم عمران خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خصوصی اقتصادی زونز کے قیام کا مقصد سرمایہ کاروں اور کاروباری برادری کو ہر ممکنہ سہولت فراہم کرنا اور ان کو مراعات دینا ہے۔ موجودہ حکومت کاروباری برادری کو ہر ممکنہ سہولت اور سازگار ماحول فراہم کرنے کے لئے پر عزم ہے۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ خصوصی اقتصادی زونز کے حوالے سے تمام معاملات صوبائی حکومتوں کی سطح پر حل کئے جائیں گے۔ خصوصی اقتصادی زونز میں قائم ہونے والی صنعتوں کو توانائی کی پیداوار کے حوالے سے کیپٹیو پاور اور بجلی کی ترسیل کے حوالے سے ویلنگ کی سہولیات فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ کیپٹیو پاور اور ویلنگ کے حوالے سے نظام کو سہل اور آسان بنایا جائے اور اس عمل کے لئے منظوریوں کی مدت کا تعین کیا جائے۔
وزیرِ اعظم نے خصوصی اقتصادی زونز میں صنعتوں کے قیام اور ان کی سہولت کاری کیلئے متعلقہ قوانین اور قواعد وضوابط کو آسان بنانے کے لئے وزیرِ منصوبہ بندی، وزیرِ توانائی، مشیر تجارت، و دیگر متعلقین پر مشتمل ورکنگ گروپ کے قیام کی ہدایت کی۔ ورکنگ گروپ خصوصی اقتصادی زونز کے حوالے سے اپنی سفارشات وزیرِ اعظم کو پیش کرے گا۔ وزیرِ منصوبہ بندی اسد عمر نے بتایا کہ گلگت بلتستان کے حوالے سے اکنامک گروتھ سٹرٹیجی مرتب کرنے کا کام جاری ہے جس میں صنعتی شعبے کی ترقی بھی شامل ہے۔ وزیرِ اعظم نے گلگت بلتستان میں سیاحت کے مواقع کو بروئے کار لانے اور سیاحت کے حوالے سے خصوصی زونز کے قیام کی اہمیت پر زور دیا۔ (اے پی پی)
تہران :ایران میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں میں تیزی آگئی ،92 سے زائد جانبحق ،متاثرین 3ہزارسے زائد ہوگئے ایران کی حکومت نے کورونا وائرس سے ہلاکتوں میں اضافے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ متاثرین کی تعداد 3ہزارسے زائد ہوگئی ہے اور مجموعی طور پر 92 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
ایرانی حکام کے مطابق ایران کی وزارت صحت کے ترجمان کیانوش جہانپور نے ایک پریس کانفرنس میں ہلاکتوں کی تعداد 92 تک پہنچنے اور متاثرین کی تعداد میں بھی اضافے سے آگاہ کیا۔ایران میں متاثرین کی تعداد میں اضافے کے بعد خطے میں متاثرین کی تعداد 3 ہزار 140 تک پہنچ گئی ہے جبکہ خطے کے دیگر ممالک میں اب تک سامنے آنے والے کیسز میں اکثر ایران کا دورہ کرنے والے افراد شامل ہیں۔
کیانوش جہانپور کا کہنا تھا کہ ‘وائرس کے کوئی پر نہیں ہیں کہ اڑ جائے بلکہ ہم میں سے ایک دوسرے کو منتقل ہوجاتا ہے’۔رپورٹ کے مطابق ایران کے صدر حسن روحانی نے کابینہ کے اجلاس میں اعتراف کیا کہ وائرس سے ایران کے تمام 31 صوبے متاثر ہوگئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ‘وائرس ہر جگہ پھیل گیا ہے’ اور ایران کے تمام صوبوں تک پہنچ چکا ہے۔
ایرانی صدر نے کہا کہ ‘یہ وائرس تقریباً ہمارے تمام صوبوں میں پھیل گیا ہے اور عالمی سطح پر بھی کئی ممالک اس سے متاثر ہوچکے ہیں اور ہم سب کو جتنا ہو سکے جلدی مل کر اس مسئلے سے نمٹنا ہوگا’۔
خیال رہے کہ ایران میں دو ہفتے قبل کوروناوائرس کا پہلا کیس سامنے آیا تھا جس کے بعد متاثرین کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے جس کے پیش نظر ملک بھر میں اسکولوں اور جامعات سمیت اہم ثقافتی مراکز اور کھیلوں کے مقابلے بھی معطل کردیے گئے ہیں۔
ایران میں کورونا وائرس کے خلاف حفاظتی اقدامات کے تحت دفاتر میں کام کے اوقات میں بھی کمی کردی گئی ہے اور گزشتہ روز ایران کی ایمرجنسی سروس کے سربراہ بھی متاثر ہونے کی تصدیق کردی گئی تھی۔واضح رہے کہ گزشتہ روز ایران کے سپریم لیڈر کی مشاورتی کونسل کے 72 سالہ رکن محمد میر محمدی بھی کوروناوائرس سے ہلاک ہوئے تھے۔
ایران کے نائب وزیرصحت بھی کورنا وائرس سے متاثر ہوئے تھے جنہیں کھانسی کی شکایت پر ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا اور اسی دوران ٹیسٹ کیا گیا جو مثبت آیا تھا اس سے قبل انہوں نے 25 فروری کو پریس کانفرنس کے دوران انہیں تکلیف ہوئی تھی۔
خیال رہے کہ چین سے پھیلنے والا یہ وائرس اب دنیا کے کئی ممالک تک پھیل چکا ہے اور ایران میں چین کے بعد سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں اور متاثرین مین جنوبی کوریا دوسرے نمبر پر ہے تاہم ہلاکتیں ایران سے کم ہوئی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق اب دنیا بھر میں 90 ہزار سے زائد متاثرین رپورٹ ہوئے ہیں اور 3 ہزار 100 سے زائد ہلاک ہوچکے ہیں۔چین میں نئے کورونا وائرس سے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 38 ہلاکتیں ہوئیں تاہم نئے کیسز کی تعداد مسلسل تیسرے روز بھی کم رہی۔
اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق چین میں قومی سطح پر ہلاکتوں کی تعداد 2 ہزار 981 ہوگئی اور کُل 80 ہزار 200 افراد اس سے متاثر ہوئے ہیں۔چین میں وائرس کے مرکز صوبہ ہوبے میں کُل 115 نئے کیسز سامنے آئے جبکہ دیگر حصوں میں 4 کیسز سامنے آئے۔حالیہ ہفتوں میں چین میں قرنطینہ کرنے کے اقدامات کی وجہ سے اعداد و شمار میں کمی آئی ہے تاہم دیگر ممالک سے چین میں وائرس کے واپس آنے کی تشویش بھی بڑھ رہی ہے۔
قربانی کا جذبہ اور حب الوطنی مشکلات سے نمٹنے کا حوصلہ دیتی ہے، آرمی چیف
باغی ٹی وی : آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ قربانی کا جذبہ اور حب الوطنی مشکلات سے نمٹنے کی طاقت دیتی ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کھاریاں کے قریب ٹریننگ ایریا کا دورہ کیا۔ انہوں نے پاک آرمی ٹیم سپرٹ مقابلوں کا معائنہ کیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق مقابلوں میں کراچی کور کی ٹیم بہترین قرار پائی جبکہ بین الاقوامی ٹیموں میں ترکی نے گولڈ میڈل حاصل کیا۔ آرمی چیف کا کہنا تھا کہ مختلف ممالک کے شرکا کو ایک دوسرے کے تجربات سے استفادے کا موقع ملا۔
مقابلوں میں پاک فوج کی 7 ٹیموں اور پاک فضائیہ کی ٹیم سمیت دیگر ممالک کی ٹیمیں شریک تھیں۔ مقابلوں میں جسمانی اور ذہنی صلاحیتوں سمیت جنگی حربوں کا مظاہرہ کیا گیا۔ مقابلوں کا مقصد انسداد دہشتگردی سے متعلق ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کرنا تھا۔
اس موقع پر اپنے خطاب میں آرمی چیف نے کہا کہ تربیت اور ٹیم ورک جوانوں کا طرہ امتیاز ہے۔ چیلنجز کا سامنا کرنے کیلئے اعلیٰ معیار اور ذہانت کی ضرورت ہے۔ قربانی کا جذبہ اور حب الوطنی مشکلات سے نمٹنے کی طاقت دیتی ہے۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ سے بھی زینب الرٹ بل منظور کر لیا گیا ہے
سینیٹ کا اجلاس چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیر صدارت ہوا، قائمہ کمیٹی سے ترامیم کے بعد منظور ہونے والے زینب الرٹ بل کو سینیٹ میں پیش کیا گیا جسے منظور کر لیا گیا,سینیٹ میں زینب الرٹ بل سینیٹر اعظم سواتی نے پیش کیا
سینیٹر جاوید عباسی نے زینب الرٹ بل پر اعتراض کیا،کہا زینب الرٹ بل پر کچھ تحفظات ہیں،بل پیش کرتے ہوئے وزیر برائے انسانی حقوق بھی موجود نہیں،
سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ ایسے درندوں کو الٹا لٹکانا اور پھانسی دینی چاہیے،ترامیم آتی رہیں گی بل کو منظور کروانا ناگزیر ہے،
قائمہ کمیٹی انسانی حقوق نے قتل اورزیادتی کے مجرموں کے لیے 10سے14سال قید کی سزا تجویز کی،قائمہ کمیٹی کی رپورٹ میں جرمانہ کی سزا بھی ختم کردی گئی.
بلاول بھٹو کی سربراہی میں قومی اسمبلی کی کمیٹی برائے انسانی حقوق نے زینب الرٹ بل کو کافی عرصے تک طول دیا ,قائمہ کمیٹی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے 9 اکتوبر 2019 کو ’زینب الرٹ بل‘ کی منظوری دے دی تھی۔ کمیٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا تھا کہ یہ بل صرف اسلام آباد میں لاگو ہوگا۔ اسے ملک بھر میں نافذ کرنے کیلئے چاروں صوبائی اسمبلیوں کو بھی ’زینب الرٹ بل‘ پاس کرنا چاہیے تاکہ بچوں کو محفوظ بنایا جا سکے
زینب الرٹ بل قصور کی ننھی بچی زینب کے ساتھ زیادتی اور قتل کے بعد وقافی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے پیش کیا تھا۔ بل کا مقصد 18 سال سے کم عمر لاپتہ اور اغوا شدہ بچوں کے تحفظ کے لیے قوانین واضع کرنا ہے۔ بل کے مطابق اسلام آباد میں ’چلڈرن پروٹیکشن ایکٹ 2018‘ کے تحت ادارہ قائم کیا جائے گا جبکہ لاپتہ بچوں کی فوری بازیابی کیلئے ’زارا‘ یعنی زینب الرٹ رسپانس اینڈ ریکوری ایجنسی کا قیام بھی بل کا حصہ ہے۔
زیب الرٹ بل کے تحت بچوں سے متعلق معلومات کے لیے پی ٹی اے، سوشل میڈیا اور دیگر اداروں کے تعاون سے ہیلپ لائن اور ایس ایم ایس سروس بھی شروع کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ڈائریکٹر جنرل قومی کمیشن برائے حقوق طفل متعلقہ ڈویژن کی مشاورت سے سپرنٹنڈنٹ پولیس کی سربراہی میں خصوصی ٹیمیں بھی تشکیل دے گا
اس بل کے تحت گمشدہ بچوں کے حوالے سے ڈیٹا فراہم کرنے میں تاخیر پر سرکاری افسروں کو ایک سال تک قید کی سزا بھی ہو سکے گی۔
اب آپ ہمارے شہری ہیں، وزیراعظم کا ڈیرن سیمی سے ملاقات میں مکالمہ ،مزید کیا کہا؟
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان سے پشاور زلمی کے چیئرمین جاوید آفریدی اور کپتان ڈیرن سیمی کی ملاقات ہوئی ہے
ملاقات میں پشاور زلمی کے ہیڈکوچ محمد اکرم اور بیٹنگ مینٹور ہاشم آملہ بھی موجود تھے،وزیراعظم عمران خان نے پاکستان کی اعزازی شہریت ملنے پر ڈیرن سیمی کومبارک باد دی، وزیراعظم نے ڈیرن سیمی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اب آپ ہمارے شہری بھی ہیں، پاکستان میں عالمی کرکٹ کی بحالی میں آپ کا کردار یادرکھا جائےگا
وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا کہ جاویدآفریدی نےہمیشہ ڈیرن سیمی کی پاکستان میں کرکٹ کی خدمات کو سراہنے پر زور دیا،جاویدآفریدی نےڈیرن سیمی کےساتھ مل کرکرکٹ کی خدمت کی ہے،پاکستان میں عالمی کرکٹ کی بحال، ڈیرن سیمی کا کردار یادرکھا جائےگا
وزیراعظم عمران خان نے ہاشم آملہ کو بھی خوش آمدید کہا، وزیراعظم کا کہنا تھا کہ خوشی ہے کہ پورا پی ایس ایل پاکستان میں ہورہا ہے، لوگ خوش ہیں،پی ایس ایل کے تمام میچز میں اسٹیڈیم بھرے ہوئے ہیں
او آئی سی کا وفد پہنچا لائن آف کنٹرول،کرے گا بھارتی دہشت گردی کو بے نقاب
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق او آئی سی کا 6 رکنی وفد لائن آف کنٹرول پہنچ گیا،او آئی سی سیکریٹری جنرل کے خصوصی ایلچی وفد کی قیادت کررہے ہیں
وفد کو بھارتی سیز فائر کی خلاف ورزیوں سے متعلق بریفنگ دی جائے گی،وفد کو لائن آف کنٹرول کی موجودہ صورتحال پر بریفنگ دی جائے گی،اوآئی سی کاوفد بھارتی جارحیت سے متاثرہ افراد سے ملاقات بھی کرے گا.
او آئی سی کا وفد بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزیوں پر جائزہ رپورٹ مرتب کرے گا.گزشتہ روز شاہ محمود قریشی، فخر امام اور علی امین گنڈا پور سے بھی وفد نے الگ الگ ملاقاتیں کی ہیں
قبل ازیں گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان سے او آئی سی کے سیکرٹری جنرل کے نمائندہ خصوصی برائے جموں و کشمیر یوسف ایم الدوبے نے ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ ملاقات کی جس میں کشمیر کاز کے حوالے سے آئندہ کے لائحہ عمل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم عمران خان نے او آئی سی کے وفد کے بروقت دورہ پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر کا خیرمقدم کرتے ہوئے 5 اگست 2019ءکو بھارتی یکطرفہ فیصلے کے تناظر میں او آئی سی کی جانب سے جموں کشمیر کے عوام کی غیر متزلزل حمایت کو سراہا
او آئی سی کے سیکرٹری جنرل کے نمائندہ خصوصی برائے جموں و کشمیریوسف ایم الدوبے نے گذشتہ سال مکہ مکرمہ اجلاس میں شرکت پر وزیر اعظم کا شکریہ ادا کیا۔ کشمیر کاز سے اپنی وابستگی کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ او آئی سی کے ایجنڈے میں مسئلہ کشمیر اور مسئلہ فلسطین سرفہرست آئٹم رہے ، یہ باضابطہ طور پر وزرائے خارجہ کی مجلس عاملہ (سی ایف ایم) اور اجلاسوں میں مضبوط قراردادوں کے ذریعہ کارروائی کا حصہ ہیں ۔
پشاورآ رہا ہوں، مبشرلقمان کا محمود خان کو چیلنج،کی صوبائی حکومت کی بڑی نااہلی بے نقاب
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے خیبر پختونخواہ کے وزیراعلیٰ محمود خان کو چیلنج کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان میں ہمت ہے تو بی آرٹی منصوبے پر سوالات کے جوابات دیں، میں پشاور آ رہا ہوں، بی آرٹی کی تاریخ پر تاریخ مل رہی ہے لیکن مکمل نہیں ہو رہا، یہ حکومت کی نااہلی اور پشاور کی عوام کے ساتھ ترقی کے نام پر گھناؤنا مذاق ہے.
سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا کہ کچھ دن پہلے ایک ویڈیو وائرل ہوئی، شاید ٹی وی پر بھی کسی پر چلی، محمود خان بیٹھے اور اسکے ساتھ کچھ وزرا بیٹھے ہیں، وہ بڑی داد دے رہے کہ بڑا اچھا کام کیا،مبشر لقمان کے ساتھ یہ کیا، وہ کیا،تو لوگوں نے مجھے کہا کہ یہ تو پورا گینگ ہے، تمہاری تو بڑی ہمت ہے کہ تم ان کے سامنے کھڑے ہو، میں ان کے سامنے نہیں ہر پاکستان میں غلط کام کرنے والے کے ساتھ کھڑا ہوں،اور یہ ہمیں قیمت چکانا پڑتی ہے،یہ پہلی دفعہ نہیں ہوا کہ ہمارے اوپر مقدمے بنیں، فائرنگ ہو، نوکریوں سے نکلوایا جائے، ناجائز ہتھکنڈے استعمال کیے جائیں، اصل میں جب ایک صوبے کا وزیراعلیٰ غیر قانونی کام کی داد دے رہا ہوتا ہے تو وہ یہ کہہ رہا ہوتا ہے کہ بھیا جو کرنا ہے کر لو ، قانون گیا بھاڑ میں، قانون غریب لوگوں کے لئے ہے، ہمارے لئے نہیں.
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ محمود خان کے ساتھ مسئلہ کیا ہے محمود خان میرے جیسے اور دیگر صحافیوں کے خلاف کیوں ہیں،محمود خان آپ جو مرضی کریں ہم نے آپ کی کرپشن، نالائقی کو سامنے لانا ہے،ہم ایکسپوز کرتے رہیں گے، محمود خان اور شوکت یوسفزئی کو مجھ سے تکلیف کیا ہے وہ بتا دیتا ہوں، اس تکلیف کا نام ہے بی آر ٹی، گزشتہ حکومت نے جو کرنا تھا کر لیا، کوئی ان کی تعریف نہیں کر رہا،اب انکی حکومت کو بھی دو سال ہونے والے ہیں پہلے تو کم از کم تاریخیں دے دیتے تھے کہ چھ مہینے، سال، سوا سال میں مکمل ہو جائے گا اب تو تاریخ دینا بھی بند کر دی، میں محمود خان کو یاد کروا دوں کہ لاہور کی میٹرو بس گیارہ مہینے میں بنی، اور منصوبہ مکمل ہوا، اب محمود خان بتانا پسند کریں گے کہ ان کے بی آرٹی منصوبے کو کتنا عرصہ ہو گیا،انکی حکومت کی نااہلی اور نکمے پن کی تصویر بی آر ٹی بن چکی ہے، یہ 2017 میں منصوبہ شروع کیا گیا تھا اور اسے چھ مہینے میں مکمل کرنے کی یقین دہانی کروائی گئی تھی،لیکن ڈھائی سال گزرنے کے باوجود مکمل نہیں ہو سکا، لاگت بڑھ چکی ہے، یہ منصوبہ شروع دن سے ہی تاخیر شروع ہو چکی ہے.
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ خیبر پختونخواہ میں حکومت بدل گئی لیکن نہ بدلی تو وہاں کے عوام کی قسمت نہ بدلی، جن کے مقدر میں ترقی کے نام پر بی آر ٹی ڈالی گئی، اسکے لئے تاریخ پر تاریخ دی جاتی ہے، محمود خان کی نااہلی کی وجہ سے پشاور کے عوام کے لئے ڈراؤنا خواب بن چکا ہے، یہ مذاق بن چکا ہے،حکومت کے گلے کی ہڈی بن چکا ہے،یہ منصوبہ پہلے دن سے پی تنازعات کا شکار رہا، وقت گزر رہا ہے ، ایک کے بعد دوسرا نقص سامنے آ رہا ہے، کبھی پلوں کی اونچائی، کبھی بسوں کی چوڑائی، کبھی کوئی مسئلہ نظر آ جاتا ہے، یہ صوبائی حکومت کے ماتھے پر ایسا نشان ہے جو آسانی سے دھلنے والا نہیں
مبشر لقمان نے مزید کہا کہ میں ذاتی طور پر محمود خان کے خلاف نہیں ہوں، محمود خان کی ٹیم نے جب کہا کہ ہم کرپشن کی نشاندہی کریں گے تو انہیں وزارتوں سے ہٹا دیا گیا،الزام لگا کر ہٹایا گیا، تحریک انصاف میں پی ٹی آئی مراد سعید، عاطف خان، علی محمد ہیں، کرپشن کو سامنے لانے کا کہا گیا تو وزرا کی چھٹی کروا دی گئی،ایک ہوتی ہے کوتاہی اورر ایک بدقسمتی، صوبائی حکومت پر یہ دونوں آئے، ابھی بی آرٹی کے تکمیل کا کوئی پتہ نہیں، پشاور پائیکورٹ نے بی آر ٹی کے حوالہ سے فیصلہ پر سوال اٹھائے اور انکوائری کا حکم دیا، عدالت کی جانب سے سخت الفاظ کا استعمال کیا گیا، محمود خان چیف ایگزیکٹو ہیں، پھر انہوں نے تحقیقات رکوانے کے لئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ، وہ منصوبہ جو چھ ماہ میں مکمل ہونا تھا ڈھائی سال میں مکمل نہ ہو سکا، یہ ماتھے پر لگنے والے کلنک کا ذمہ دار کون ہے، کس کی غلطی ہے،منصوبے کا ڈیزائنر کون ہے، یہ کب مکمل ہونا ہے، یہ سوال محمود خان کا پیچھا نہیں چھوڑ سکتے،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ میں محمود خان کو چیلنج کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور جواب دیں ،یا پھر ایک ویڈیو ہی جاری کر دیں ، یا ویڈیو بنوا لیں جو لیک ہو جائے، بی آر ٹی پشاور کے لئے صوبائی حکومت آٹھویں بار ڈیڈ لائن دے چکی ہے،جب حکومت بار بار ڈیڈ لائن دے اور مکمل نہ ہو تو اس سے حکومت کی اہلیت کا پتہ چلتا ہے، شوکت یوسفزئی اپریل میں مکمل ہونے کا بول رہے ہیں، وزیر ٹرانسپورٹ جون میں کہہ رہے ہیں، کس کی مانیں، ایشین ڈیولپمنٹ بنک کہہ رہا ہے کہ 2021 سے پہلے مکمل نہیں ہونا، اس کا ذمہ دار کون ہے، پشاور ہائیکورٹ نے حکم دیا تو سپریم کورٹ چلے گئے، عدالت عظمیٰ نے آپ کی درخواست پر انکوائری رکوا دی، لاہور میٹرو 29 ارب میں مکمل ہوئی، اسکا ٹریک 27 کلو میٹر ہے، بی آرٹی کا منصوبہ بھی اتنا ہی ہے، پھر یہ دعویٰ کیسے کہ لاہور میٹرو سے سستا پروجیکٹ ہے، میں شہباز شریف کے منصوبے کی تعریف نہیں کر رہا، اس میں کئی سوالیہ نشان ہیں، اس پر تحقیقات ہو چکی ہیں اور کوئی کرپشن مانتا ہی نہیں، تو پشاور میٹرو کی تحقیقات محمود خان کیوں نہیں ہونے دے رہے،کیوں رکارٹ بننا چاہ رہے ہیں، سامنے آئیں، سابقہ حکومت کے منصوبے پر تنقید ہوتی رہی لیکن اپنے منصوبے پر رکاوٹیں، احتساب کرنا ہے تو گھر سے کریں،میں آپ کے جواب کا انتظار کروں گا اور بہت جلد پشاور آ رہا ہوں اور عوام سے رائے لوں گا کہ عوام کیا کہتی ہے،
گھر سب کے لئے،وزیراعظم نے کئے چیک تقسیم ،اسلام آباد میں ہاؤسنگ سکیم کا افتتاح کب ہو گا ؟ بتا دیا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کم آمدن ہاﺅسنگ سکیم کے تحت 8 مستحق افراد میں چیک تقسیم کئے۔
وزیراعظم آفس میں وزیراعظم عمران خان نے وزیراعظم کم آمدن ہاﺅسنگ سکیم کے تحت اخوت اسلامک مائیکرو فنانس کے اشتراک سے یہ چیک تقسیم کئے۔ انہوں نے آفاق علی خان کو پانچ لاکھ، افتخار خان کو چار لاکھ، مصعب علی شاہ کو ساڑھے تین لاکھ، محمد ریاض کو پانچ لاکھ، محمد سجاد کو پانچ لاکھ، خدیجہ بی بی ساڑھے چار لاکھ، ثناءمیر کو پانچ لاکھ اور نصرت صدیق کو پانچ لاکھ روپے کا چیک دیا
اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اخوت اور ڈاکٹر امجد کے مستحق اور غریب طبقہ کی مدد کیلئے مائیکرو فنانس کے اس پروگرام کو سراہتا ہوں، اس سے معاشرہ کے کمزور طبقات کو اپنے گھر بنانے کا موقع میسر آئے گا۔ ”اخوت“ کا کام قابل تعریف ہے، میں نے ان کے کام کا مشاہدہ کیا ہے، میں نے خود اس شعبہ میں کام کیا ہے اس لئے میں اس شعبہ میں مختلف اداروں کی کارکردگی سے بخوبی واقف ہوں۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ جب میں نے شوکت خانم ہسپتال بنانا چاہا تو مجھے بتایا گیا کہ یہ بہت مشکل کام ہے اور اس کیلئے بہت پیسہ درکار ہو گا، عوام نے 70 کروڑ روپے کی خطیر رقم ہسپتال بنانے کیلئے فراہم کی، شوکت خانم میں75 فیصد کینسر کے مریضوں کا مفت علاج ہونے کے باعث سالانہ خسارہ 10 ارب ہوتا ہے لیکن لوگ ہر سال پہلے سے زیادہ پیسے مہیا کرتے ہیں، دراصل یہ لوگ آخرت کیلئے سرمایہ کاری کرتے ہیں۔
وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ کم آمدن والے تنخواہ دار طبقہ کیلئے ہے جن کے پاس گھر بنانے کیلئے کیش نہیں ہے۔ برصغیر میں دنیا کے مقابلہ میں گھر بنانے کیلئے بینکوں کی طرف سے قرضے دینے کی شرح بہت ہی کم ہے اور پاکستان میں یہ شرح اور بھی کم ہے، بھارت میں 10 فیصد، ملائیشیا میں 30 فیصد اور یورپی ممالک اور انگلینڈ میں 80 فیصد ہاﺅسنگ فنانسنگ ہوتی ہے جبکہ پاکستان میں یہ شرح محض 0.2 فیصد ہے کیونکہ ہمارے یہاں ضروری قوانین نہیں ہیں، ہمیں اس حوالہ سے عدالت کے فیصلے کا انتظار ہے، اس سلسلہ میں قانون سازی سے تنخواہ دار طبقہ کیلئے گھر بنانا آسان ہو گا۔
وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا کہ دیہات کے غریب عوام کیلئے بھی روزگار کے مواقع، فنانسنگ اور وسائل مہیا کئے جائیں گے، ہماری ساری توجہ کمزور اور نچلے طبقات کی فلاح و بہبود پر مرکوز ہے، حکومتی نظام کے سست رفتار ہونے کے باعث ان منصوبوں میں وقت لگا، اب ان منصوبوں پر کام کی رفتار کو تیز کیا جائے گا، 11 مارچ کو اسلام آباد میں ہاﺅسنگ کے منصوبہ کا افتتاح کروں گا، اسلام آباد میں تین بڑے منصوبوں کا آغاز کیا جا رہا ہے تاکہ حکومت کو عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کرنے کیلئے زیادہ پیسہ میسر ہو، بلیو ایریا میں شروع کئے جانے والے بڑے منصوبہ سے جتنا پیسہ حاصل ہو گا وہ کچی بستیوں کے رہائشیوں کو ملکیتی بنیادوں پر ہاﺅسنگ کی سہولت فراہم کرنے پر خرچ کیا جائے گا۔
وزیراعظم نے ہدایت کی ہاﺅسنگ بالخصوص کم آمدن اور تنخواہ دار طبقہ کیلئے منصوبوں پر تیزی سے کام کیا جائے، ہاﺅسنگ کے منصوبوں سے 30 سے 40 صنعتوں میں روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ 2020 نوکریاں دینے اور شرح نمو کی ترقی کا سال ہے، پہلا سال استحکام کے حصول کا سال تھا۔ :اے پی پی