Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • امریکا اورافغان طالبان کے درمیان طئے پانے والے معاہدے کے اہم نکات سامنے آگئے

    امریکا اورافغان طالبان کے درمیان طئے پانے والے معاہدے کے اہم نکات سامنے آگئے

    لاہور: خطے میں امن کے لیے پاکستانی کوششیں رنگ لے آئیں، دوحہ میں افغان طالبان اور امریکا کے درمیان معاہدے پر دستخط ہو گئے، امریکا اور اتحادی 14 ماہ میں افغانستان چھوڑ جائیں گے، فریقین کے درمیان 10 روز میں جنگی قیدی رہا کرنے پر بھی اتفاق ہو گیا، طالبان نے اپنی سر زمین امریکا اور اتحادیوں کے خلاف استعمال نہ کرنے کی یقین دہانی کرا دی۔

    ذرائع کے مطابق 19 سالہ طویل جنگ کاخاتمہ ہو گیا، امریکا اور طالبان کے درمیا ن قطر میں امن معاہدے پر ہو گیا، طالبان کی جانب سے ملا عبدالغنی برادراور امریکا کی طرف سے زلمے خلیل زاد نے امن معاہدے پر دستخط کیے۔دوحہ کے مقامی ہوٹل میں ہونے والی تقریب میں پاکستان کے، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سمیت 50 ملکوں کے نمائندے شریک ہوئے۔

    معاہدے کے تحت طالبان افغان سرزمین کو امریکا اور اتحادیوں کے خلاف استعمال نہ ہونے کی ضمانت دیں گے، عالمی مبصرین امن معاہدے کی پاسداری کے ضامن ہوں گے۔ طالبان 10 مارچ کو افغانستان کے اندر مختلف گروہوں کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کریں گے جہاں فریقین کے درمیان جنگ بندی کی تاریخ طے پائے گی

    امریکا اور اتحادی 14 ماہ میں تمام افواج، غیر سفارتی سویلینز، پرائیویٹ سیکورٹی کنٹریکٹرز اور ایڈوائزرز کا انخلایقینی بنایا جائے گا، معاہدہ کے 135 دن کے اندر 5 فوجی اڈوں سے فوجیوں کی تعداد 8600 تک کم کرے گا۔معاہدے کے تحت امریکا فریقین کے ساتھ مل کر سیاسی اور جنگی قیدیوں کی رہائی کے لئے منصوبہ بنائے گا، 10 مارچ تک طالبان کے 5 ہزار جبکہ طالبان کی جانب سے 1 ہزار قیدی رہا کئے جائیں گے۔

    امریکا27 اگست تک طالبان کے تمام ممبران سے پابندی ہٹائے گا جبکہ سلامتی کونسل کے ساتھ سفارتی کوششوں کے ذریعہ 29 مئی تک طالبان کے نمائندوں کے نام پابندیوں کی فہرست سے نکالے جائیں گے۔
    معاہدے کی رو سے طالبان امریکا اور اتحادیوں کے لئے خطرہ بننے والے افراد کو واضح پیغام پہنچانے کے پابند ہوں گے، طالبان امریکا اور اتحادیوں کی حفاظت کی خاطر افراد اور گروہوں کو بھرتیاں کرنے، تربیت کرنے اور فنڈ ریزنگ سے روکیں گے۔

    طالبان تمام پناہ گزینوں کے ساتھ بین الاقوامی ہجرت کے قانون اور اس معاہدے کے مطابق سلوک کریں گے تا کہ کوئی فرد امریکا کے لئے خطرہ نہ بنے۔طالبان افغانستا ن میں داخلے کے لئے ان لوگوں کو ویزہ، پاسپورٹ اوردیگر قانونی دستاویز جاری نہیں کریں گے جو امریکا اورا تحادیوں کے لئے خطرہ ہوں۔

    معاہدے میں طے پایا کہ امریکا معاہدہ کی توثیق کے لئے سلامتی کونسل سے درخواست کرے گا، بین الافغان مذاکرات کے بعد قا ئم ہونے والی اسلامی حکومت کے ساتھ امریکا کے مثبت تعلقات ہونگے۔امریکا مذاکرات کے بعد قائم ہونے والی افغان حکومت کے ساتھ تعمیر وترقی کے لئے معاشی تعاون کرے گا، معاہدے کے تحت امریکا افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرے گا۔

  • امریکا طالبان معاہدہ دہائیوں پر محیط جنگ کے خاتمے کا آغاز ہے: میں شروع دن سے اس جنگ کے خلاف تھا ، وزیر اعظم عمران خان

    امریکا طالبان معاہدہ دہائیوں پر محیط جنگ کے خاتمے کا آغاز ہے: میں شروع دن سے اس جنگ کے خلاف تھا ، وزیر اعظم عمران خان

    اسلام آباد :امریکا طالبان معاہدہ دہائیوں پر محیط جنگ کے خاتمے کا آغاز ہے: میں شروع دن سے اس جنگ کے خلاف تھا ، وزیر اعظم عمران خان،اطلاعات کےمطابق وزیراعظم عمران خان نے امریکا اور طالبان کے درمیان امن معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان معاہدے کی کامیابی کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔ان کا کہنا ہے کہ فریقین اس بات کو یقینی بنائیں کہ معاہدے کو سبوتاژ کرنے کےخواہاں عناصر کو کوئی موقع نہ مل سکے۔

     

    قطر میں امریکا اور افغان طالبان کے درمیان 18 سالہ طویل جنگ کے خاتمے کے لیے تاریخی امن معاہدے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے ٹوئٹر پر اپنے بیان میں کہا کہ یہ معاہدہ امن اور مفاہمت کے ذریعے دہائیوں پر محیط جنگ کے خاتمے کا آغاز ہے۔وزیراعظم کا کہنا ہے کہ ان کا ہمیشہ سے یہ مؤقف ہےکہ کتنی ہی پیچیدہ صورتحال کیوں نہ ہو، امن کا قیام سیاسی حل ہی کے ذریعے ممکن ہے۔

    وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ان کی دعائیں افغان عوام کے ساتھ ہیں جو 4 دہائیوں تک قتل و غارت گری کی آگ میں جلتے رہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان افغانستان میں قیام امن کے لیے اس معاہدے کی بقاء و کامیابی میں اپنا حصہ ڈالنے کے لیے مکمل پرعزم اور تیار ہے۔

    معاہدے پر افغان طالبان کی جانب سے ملا عبدالغنی برادر اور امریکاکی جانب سے نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمتی عمل زلمے خلیل زاد نے دستخط کیے۔دوحہ معاہدے کے تحت افغانستان سے امریکی اور نیٹو افواج کا انخلا آئندہ 14 ماہ کے دوران ہوگا جب کہ اس کے جواب میں طالبان کو ضمانت دینی ہے کہ افغان سرزمین القاعدہ سمیت دہشت گرد تنظیموں کے زیر استعمال نہیں آنے دیں گے۔

  • پی آئی اے کے پائیلٹوں کی نااہلی ، یورپ میں آوارہ پھرتے رہے،یورپ کی فضائیہ حرکت میں رہی،اہلیت پرسوال اٹھ گئے

    پی آئی اے کے پائیلٹوں کی نااہلی ، یورپ میں آوارہ پھرتے رہے،یورپ کی فضائیہ حرکت میں رہی،اہلیت پرسوال اٹھ گئے

    اسلام آباد: باکمال لوگوں کی لاجواب سروس کے بے کمال امورنے رہی سہی کسربھی نکال دی ، باغی ٹی وی کےمطابق پی آئی اے کے پائیلٹس کی نااہلیت کے یورپ میں بھی چرچے ہونے لگے ، اطلاعات کےمطابق لندن سے اسلام آباد پہنچنے والی پروازپی کے 786 کا پائیلٹ ایئرٹریفک کنٹرول سے رابطہ ہی نہ پایا ،اس بات کا انکشاف مشرقی یورپ سے ایک رپورٹ میں کیا گیا ہے

    باغی ٹی وی کےمطابق پی آئی اے کی پروازپی کے 786 جب مشرقی یورپ سے گزررہی تھی تواس وقت پی آئی اے کا پائیلٹ ایئرٹریفک کنٹرول سے رابطہ نہ کرسکا ، ذرائع کے مطابق عین اسی وقت ایک اورپرواز جوکہ لندن ہیتھرو سے اسلام آباد کی طرف آرہی تھی وہ بھی 50 منٹ ایئرٹریفک کنٹرول سے گم رہی اوررابطہ نہ کرسکی

    باغی ٹی وی کےمطابق پی کے 786 کی پرواز کا اس وقت رابطہ منقطع ہوا جب وہ جرمنی کی فضاوں پرسے گزررہی تھی ،ہیرالڈ ایوی ایشن کی طرف سے جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ Czech کی فضاوں میں جب پاکستانی مسافرطیارہ پی کے 777 پہنچا تواس وقت ایئرٹریفک کنٹرول کی طرف سے بار بار رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن پاکستانی پائیلٹ کی طرف سے کوئی پیغام موصول نہ ہوا

    جرمن ایوی ایشن ذرائع کا کہنا ہےکہ اسی اثنا میں ایک اورپاکستانی طیارہ جوکہ انہیں فضائی حدود سے گزرنے والا تھا جرمن حکام نے رابطہ منقطع ہونے کی وجہ سے اس کوجرمنی کی فضائی حدود میں آنے سے روکنا چاہا ،جرمن حکام کا کہنا ہے کہ ایسے ہی پاکستانی طیارہ ہنگری کی حدود میں داخل ہوگیا اوراس وقت بھی پاکستانی پائیلٹ کسی سے رابطہ نہ کرپایا

    ادھر ذرائع کےمطابق ہنگری کی ایئرفورس کے جنگی طیارے اس کا گھیرا کرنے کرنے لگے ، مزے کی بات یہ ہے کہ اس قدر خطرے کے باوجود پاکستانی پائیلٹ نے کسی سے رابطہ نہ کیا اورآگے گزرگیا ،

    ذرائع کا کہنا ہے کہ جب پاکستانی طیارہ رومانیہ کی فضائی حدود میں داخل ہوا تو پھر جاکراس کے ایئرٹریف کنٹرولر سے رابطہ ہوسکا ، ہیرالڈ ایوایشن ذرائع نے انکشاف کیا ہےکہ یوں پاکستانی طیارہ Czech.Slovakia اورہنگری کی فضاوں میں 50 منٹ تک خطرات میں گھرا مگربے پروارہا کسی سے رابطہ تک نہ کیا گیا ، ذرائع کا کہنا ہے کہ ایسے ہی پی آئی اے کی پروازپی کے 786 کا حال رہا جس سے ایئرٹریفک کنٹرول نے کئی باررابطہ کیا مگرکوئی جواب تک موصول نہ ہوا

    ہیرالڈ ایوی ایشن نے انکشاف کیا ہے کہ یہ پرواز بھی جب سلوواکیہ کی طرف پرواز کررہی تھی تواس کے رابطے بھی منقطع ہوگئے ، جس کی وجہ سے ان ممالک کی فضائی حدود میں اس وقت سخت ریسپانس کا ڈر تھا ،اس رپورٹ میں یہ انکشاف کیا گیا ہےکہ ایئرٹریفک کنٹرول نے فروکینسی بدل کررابطہ کرنے کی کوشش کی توپھرجاکرپاکستانی پائیلٹ سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن اس وقت پاکستانی مسافر طیارہ خطرناک کئی مراحل طئے کرچکا تھا ،

    ہیرالڈ ایوی ایشن نے اس سارے خطرناک سفرکا تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا ہےکہ ایئرٹریفک کنٹرول کی طرف سے مختلف ذرائع سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن پاکستانی پائیلٹ اس پیغام کو نہ سمجھ سکے اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانی پائیلٹوں کو ایئرٹریفک سگنلز کے بارے میں کوئی خاص علم نہیں ہے

    پاکستانی طیاروں کی اس قدربے علمی اورنااہلی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہےکہ ان حالات میں جب ان ممالک کے ایئرٹریفک کنٹرول سسٹم بار بار رابطہ کرنے کی کوشش کررہے تھے اورپاکستانی پائیلٹس کویہ سگنلز موصول ہورہے تھے لیکن ان کا جواب نہ دے کربہت بڑی غلطی کی ، ان تمام ممالک کی فضائیہ الرٹ ہوگئی اورکسی بھی وقت وہ ان پاکستانی طیاروں کو مارکرگراسکتے تھے ،

    ادھر یورپ میں پی آئی اے کے پائیلٹوں کے نااہلی کی تردید تو نہیں ، لیکن البتہ یورپ کی فضائیہ کے گھیرے میں‌آنے کی تردید ضرور کی ہے ، اس حوالے سے پی آئی اے کے ترجمان نے پھیلائی جانے والی رپورٹس کہ پی آئی اے کے طیارے کو چیک ائیرفورس کی حفاظتی تحویل والے واقعات کی تردید کی ہے۔

    پی کے 786 لندن تا سلام آباد 27 فروری کو کسی فائیٹر جہاز نے گھیرے میں نہیں لیاپی کے 786 ہنگری ائیر ٹریفک کنٹرولر کے ساتھ سلوکیا کی فضائی حدود تک مسلسل رابطے میں رہا ہنگری ائیرٹریفک کنٹرولر نے فضائی ٹریفک کے پیش نظر ڈائریکٹ روٹ دیا تھا جس کی تصدیق رومانیہ اور چیک حکام نے طیارہ سے کی

    پائلٹ کی طرف سے اجازت بتانے پر انہوں نے ڈاریکٹ راستہ برقرار رکھنے کی اجازت دے دی ایسے واقعات یا خلاف ورزی کی اطلاع فوری طور پر مطعلقہ ملک کو کی جاتی ہے۔ پی آئی اے کو کسی طرف سے بھی کوئی رپورٹ نہیں موصول ہوئی پائلٹ کی رپوٹ نے بھی کوئی غیرمعمولی واقع کی نشاندہی نہیں کی۔

  • پاکستان میں مزید 2 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق، تعداد 4 ہوگئی

    پاکستان میں مزید 2 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق، تعداد 4 ہوگئی

    اسلام آباد:پاکستان میں مزید 2 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق، تعداد 4 ہوگئی،اطلاعات کےمطابق کراچی اور اسلام آباد میں مزید 2 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوگئی جس کے بعد ملک میں متاثرہ افراد کی تعداد 4 ہوگئی۔

    ملک میں کرونا وائرس کی تازہ صورت حال سے آگاہ کرتے ہوئے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے پریس کانفرنس کے دوران ملک میں مزید 2 نئے کیسز سامنے آنے کی تصدیق کی۔انہوں نے کہا کہ نئے کیسز بھی سندھ اور وفاقی علاقے میں رپورٹ ہوئے ہیں جس کے بعد انہیں قرنطینہ میں منتقل کردیا ہے۔

    گزشتہ کیسز کے حوالے سے معاون خصوصی نے بتایا کہ دونوں مریض صحتیاب ہورہے ہیں جن میں سے ایک مریض کو جلد ہی اسپتال سے فارغ کردیا جائے گا۔زائرین کے حوالے سے ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا تھا کہ منصوبہ بندی کرلی ہے کہ تفتان میں زائرین کو کیسے واپس لانا ہے، اب ہم بتدریج ایران سے زائرین کو واپس لا رہے ہیں۔

  • امریکا نے شکست تسلیم کرلی،افغان طالبان سے امن معاہدے پردستخط ، 14 ماہ میں تمام امریکی افواج افغانستان سےنکل جائیں گی

    امریکا نے شکست تسلیم کرلی،افغان طالبان سے امن معاہدے پردستخط ، 14 ماہ میں تمام امریکی افواج افغانستان سےنکل جائیں گی

    دوحہ : امریکا نے افغانستان میں شکست تسلیم کرلی،افغان طالبان سے امن معاہدے پر دستخط ، 14 ماہ میں امریکی افواج مکمل انخلاء کریں گی،اطلاعات کےمطابق امریکا اور افغان طالبان کے درمیان 19 سالہ طویل جنگ کے خاتمے کے لیے تاریخی امن معاہدے پر دستخط ہوگئے۔

    قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہونے والی تقریب میں افغان طالبان کی جانب سے ملا عبدالغنی برادر اور امریکاکی جانب سے نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمتی عمل زلمے خلیل زاد نے معاہدے پر دستخط کیے۔

    دوحہ معاہدے کے تحت افغانستان سے امریکی اور نیٹو افواج کا انخلا آئندہ 14 ماہ کے دوران ہوگا جب کہ اس کے جواب میں طالبان کو ضمانت دینی ہے کہ افغان سرزمین القاعدہ سمیت دہشت گرد تنظیموں کے زیر استعمال نہیں آنے دیں گے۔

    امریکا اورافغان حکومت کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے کے مطابق افغانستان سے امریکی افواج 14 ماہ میں مکمل انخلاء کریں گی اور یہ منصوبہ طالبان کی جانب سےامن معاہدےکی پاسداری سےمشروط ہوگا۔

    امریکا اور افغان طالبان کے درمیان اس امن معاہدے کے بعد افغان حکومت اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات ہونے ہے جنہیں بین الافغان مذاکرات کہا جاتا ہے۔

    خیال رہے کہ نائن الیون واقعے کے چند ہفتے بعد امریکا نے ستمبر 2001 میں افغانستان پر حملہ کردیا تھا۔ اب تک اس جنگ میں 24 ہزار سے زائد امریکی فوجی مارے جاچکے ہیں۔

    اعداد و شمار کے مطابق افغانستان میں اس وقت تقریباً 14 ہزار کے قریب امریکی فوجی اور 39 ممالک کے دفاعی اتحاد نیٹو کے 17 ہزار کے قریب فوجی موجود ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عہدہ سنبھالنے کے بعد افغان جنگ ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

     

     

    دوحہ کے مقامی ہوٹل میں ہونے والی تقریب میں پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سمیت 50 ملکوں کے نمائندے شریک ہوئےتقریب سے خطاب میں امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا کہ امریکااورطالبان دہائیوں سےجاری تنازعات کوختم کررہےہیں۔

    امریکی وزیرخارجہ نے کہا کہ تاریخی مذاکرات کی میزبانی پر امیرِ قطر کے شکرگزار ہیں۔

    مائیک پومپیو نے مزید کہا کہ طالبان اور امریکا کے درمیان امن ڈیل سے افغانستان میں امن قائم ہوگا، اگر طالبان نے امن معاہدے کی پاسداری کی تو عالمی برادری کا رد عمل مثبت ہوگا۔

    تقریب سے خطاب میں افغان طالبان کے رہنما ملا عبدالغنی بردار نے کہا کہ اسلامی امارات امریکا کے ساتھ معاہدے پر عمل درآمد کا عزم کیے ہوئے ہے۔

    ملا عبدالغنی برادر نے کہا کہ ہم تمام ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات کے خواہاں ہیں، تمام افغان گروپس کو کہتا ہوں کہ ایک مکمل اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے اکٹھے ہوں۔

    قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکا اور طالبان کے درمیان طے پانے والا معاہدہ نہ صرف تاریخی بلکہ افغانستان میں امن، سلامتی اور خوشحالی کی جانب بہترین سنگ میل ثابت ہو گا۔

    دوحہ امن معاہدے سے نہ صرف امریکا اور طالبان کے درمیان انیس سالہ جنگ کا خاتمہ ہوگا بلکہ پاکستان سمیت خطے میں پائیدار امن کی راہ ہموار ہوگی۔

    دوحہ معاہدے کے تحت افغانستان میں مکمل جنگ بندی کو یقینی بنایا جائے گا، معاہدے کے فالو اپ میں طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مستقل قیام امن کے لیے مذاکرات ہوں گے۔

    امریکا اور طالبان کے درمیان 2018 سے جاری مذاکرات کے کئی کامباب اور ناکام ادوار ہوئے، ان مذاکرات کے نتیجے اور طرفین کی طرف سے امن کی خواہش کے نتیجے میں دوحہ میں افغان امن معاہدے پر امریکا اور طالبان کے دستخط در اصل معاہدے کے سہولت کار پاکستان کے بیانیے کی فتح ہے جس میں پاکستان کہہ چکا کہ افغان مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔

  • عدلیہ کی عزت مقصود ہے توفواد چوہدری کوسزادینی پڑے گی ، پشاورہائی کورٹ میں درخواست

    عدلیہ کی عزت مقصود ہے توفواد چوہدری کوسزادینی پڑے گی ، پشاورہائی کورٹ میں درخواست

    پشاور:عدلیہ کی عزت مقصود ہے توفواد چوہدری کوسزادینی پڑے گی،پشاورہائی کورٹ میں 7 بڑوں کی نااہلی کی درخواست دائر کردی گئی،اطلاعات کے مطابق فواد چوہدری ججز اورعدالتوں کی توہین اورتضیحک کرنے کے عادی،عدلیہ کی عزت مقصود ہے توفواد چوہدری کوسزادینی پڑے گی ،پشاورہائی کورٹ میں درخواست،باغی ٹی وی کےمطابق پاکستان کے ایک ممتاز قانون دان سینیئروکیل عزیزالدین کاکا خیل نے آج پشاورہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی ہے جس میں فواد چوہدری کو عدالتی نظام کی توہین اورتضیحک کا ذمہ دارقراردے کرتوہین عدالت کی کاروائی کا کہا ہے،

    باغی ٹی وی کےمطابق پشاور ہائی کورٹ کے سینیئروکیل سید عزیزالدین کاکا خیل نے یہ درخواست پشاورہائی کورٹ میں دائر کی ہے جس میں انہوں نے بہت سے اہم نقات کا حوالہ دیتے ہوئے فواد چوہدری کی طرف سے عدالتوں کی توہین اورتضحیک پرسزاسنانے کی درخواست کی ہے ، اس درخواست میں وزیراعظم پاکستان عمران خان ،وفاقی وزیرقانون ڈاکٹرفروغ نسیم ،سابق اٹارنی جنرل انورمنصور،ڈاکٹرفردوس عاشق اعوان ،وزیراعظم کے معاون خصوصی شہزاد اکبر اورچیئرمین پیمرا کو بھی توہین عدالت کی سزا کے لیے نامزد کیا گیا ہے

    باغی ٹی وی کےمطابق پشاور ہائی کورٹ میں‌دائر اس درخواست میں کہا گیا ہےکہ یہ سارے لوگ سابق صدرجنرل پرویز مشرف کے معاملے میں عدالتی فیصلے کی بدنامی کے مرتکب ہوئے ، اس درخواست میں کہا گیا ہےکہ سابق صدرجنرل پرویز مشرف کی طرف سے آئین کومعطل کرنے کے خلاف سپریم کورٹ آف پاکستان نے فیصلہ سناتے ہوئے اسے غیرقانونی قراردیا تھا ،

    سید عزیزالدین کاکا خیل نے درخواست میں کہا ہےکہ عدالت عظمی کے لارجربینج کے حکم کےمطابق اوراس وقت کی وفاقی حکومت کی درخواست پرسابق صدرجنرل پرویز مشرف کے اس غیرقانونی اقدام کے خلاف مزید چھان بین کے لیے ایک خصوصی عدالت بھی قائم کی تھی


    سید عزیزالدین کی طرف سے کہا گیا ہےکہ 17 دسمبر2019 کو اس خصوصی عدالت نے اس عہد شکنی پرتفصیلی فیصلہ سناتے ہوئے سابق صدرجنرل پرویز مشرف کوسزائے موت کا فیصلہ سنا دیا اوریہ کیس اپنے اختتام کو پہنچ گیا ،

    اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ اس وقت خصوصی عدالت کے جج موجودہ پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہیں ، اس فیصلے کے خلاف دوجسٹس صاحبان نے اختلاف رائے بھی دیا تھا ،

    سید عزیزالدین کاکا خیل کہتے ہیں کہ اس فیصلے کے بعد معززجج کے خلاف ایک باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کردارکشی کی مہم شروع ہوگئی ، جس میں سرکاری ٹیلی ویژن سمیت اہم فورم بھی استعمال میں لائے گئے ،

    اس دوران ڈاکٹرفروغ نسیم جواس وقت سابق صدر کے وکیل تھے ان کیطرف سے بھی اس فیصلے کی وجہ سے معزز جج کی تضیک کی گئی ، ان کی کردارکشی کی گئی جوکہ سراسرایک توہین ہے

    سید عزیزالدین کاکاخیل نے اپنی درخواست میں عدالت سے کہا ہےکہ اس دوران جوخصوصی عدالت کے جج پشاورہائی کورٹ کی کردارکشی کرنے والے شخص تھے وہ موجودہ وفاقی وزیرفواد چوہدری ہیں جنہوں نے معزز جج ، عدالت اورقانون کی تضحیک کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی ،

    سید عزیزالدین کاکا خیل نے اپنی درخواست میں کہا ہےکہ صرف یہ نہیں کہ اپنی زبان سے کردارکشی کی بلکہ اس سے آگے بڑھ کرباقاعدہ ایک دستاویزی شکل میں ٹویٹرپرپیغام پوسٹ کرکے پاکستان کے عدالتی نظام کی دھجیاں بکھیردیں

    آئین طور پرفواد چوہدری وزیراعظم کو جواب دہ ہیں لیکن عدالت کی تضیک پروزیراعظم نے بھی کوئی نوٹس نہیں لیا

    سید عزیزالدین کاکا خیل نے درخواست میں عدالتی نظام کی حقانیت کے بارے میں اہم تاریخی حوالوں کا بھی ذکرکیا اورکہا کہ خلیفہ وقت حضرت علی اپنے ماتحت کام کرنے والے قاضی کے خلیفہ وقت کے خلاف فیصلے پرسرتسلیم خم کردیتے ہیں ، برطانوی وزیراعظم چرچل جنگ کے دوران بھی عدالتوں کے احترام کا اعلان کرتا ہے توپھریہ کون ہوتے ہیں عدالتوں کی توہین کرنے والے

    سید عزیزالدین کاکا خیل نے عدالت سے درخواست میں کہا ہےکہ چونکہ یہ تمام افراد عدالتی فیصلے کی توہین کے مرتکب ٹھہرے ہیں لہٰذا ان تمام افراد کو ان کے عہدوں سے برطرف کرکے آئین کی توہین کی سزادی جائے

    سید عزی

  • دہلی فسادات، وزیراعظم عمران خان نے دنیا کو مودی کا موذی چہرہ دکھا دیا

    دہلی فسادات، وزیراعظم عمران خان نے دنیا کو مودی کا موذی چہرہ دکھا دیا

    ریاستی سرپرستی میں مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا،حالات خطے کیلیے تباہ کن ہوں گے، وزیراعظم

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ دہلی میں مسلمانوں کا قتل عام ریاستی سرپرستی میں کیاگیا،پولیس اورآرایس ایس کے غنڈوں کی طرف سےقتل عام کیاگیا،

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ قتل عام 20کروڑبھارتی مسلمانوں کوشدت پسندی کی طرف لے جارہا ہے،بھارت نے ایسے ہی مظالم سے کشمیری نوجوان نسل کوشدت پسندی کی طرف دھکیلا،ایک لاکھ کشمیریوں کو بھارتی قابض افواج موت کی نیند سلا چکی ہے ،عالمی برادری کو مداخلت کےلیے مسلسل کہتا رہا ہوں،بھارت میں پیش آنے والے واقعات خطے کیلیے تباہ کن ہوں گے،

    https://twitter.com/ImranKhanPTI/status/1233692018901123072

    دہلی میں ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے متنازعہ شہریت بل کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین پر تشدد کیا گیا، مسلمانوں کے گھر جلائے گئے، مساجد کی بے حرمتی کی گئی اور ایک مسجد کو شہید کیا گیا.بھجن پورہ میں مزار کو نذر آتش کیا گیا، اشوک نگر میں مسجد کو آگ لگائی گئی اور مینار پر ہنومان کا جھنڈا بھی لہرا دیا گیا۔

    گجرات کا "قصائی” مودی دہلی میں مسلمانوں پر حملے کا ذمہ دار ،بھارت کے اندر سے آوازیں اٹھنے لگیں

    دہلی میں پولیس بھی ہندوانتہا پسندوں کی ساتھی، زخمی تڑپتے رہے، پولیس نے ایمبولینس نہ آنے دی

    دہلی جل رہا تھا ،کیجریوال سو رہا تھا، مودی سن لے،ظلم و تشدد ہمیں نہیں ہٹا سکتا، شاہین باغ سے خواتین کا اعلان

    دہلی میں ظلم کی انتہا، درندوں نے 19 سالہ نوجوان کے سر میں ڈرل مشین سے سوراخ کر دیا

    دہلی تشدد ، خاموشی پرطلبا نے کیا کیجریوال کے گھر کا گھیراؤ، پولیس تشدد ،طلبا گرفتار

    امریکا سمیت متعدد ممالک کی دہلی بارے سیکورٹی ایڈوائیزری جاری

    دہلی فسادات، 42 سالہ معذور پر بھی مسجد میں کیا گیا بہیمانہ تشدد

    دہلی فسادات کا ذمہ دار کون؟ جمعیت علماء ہند نے کی نشاندہی

    دہلی فسادات اور 2002 کے گجرات فسادات میں گہری مماثلت،ہندوؤں کی دکانیں ،گھر کیوں محفوظ رہے؟ سوال اٹھ گئے

    دہلی فسادات، کوریج کرنیوالے صحافیوں کی شناخت کیلیے اتروائی گئی انکی پینٹ

    دہلی، اجیت دوول کا دورہ مسلمانوں کو مہنگا پڑا، ایک اور نوجوان کو مار دیا گیا

    دہلی فسادات میں امت شاہ کی پرائیویٹ آرمی ملوث،یہ ہندوآبادی پر دھبہ ہیں، سوشل ایکٹوسٹ جاسمین

    ہندو انتہا پسندوں کے تشدد سے 43 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں جبکہ 400 سے زائد زخمی ہیں، پولیس بھی ہندو انتہا پسندوں کا ساتھ دیتی رہی، ہندو انتہا پسند مسلمانوں کے گھروں میں لوٹ مار بھی کرتے رہے اور انہیں تشدد کا نشانہ بھی بناتے رہے، اس دوران صحافیوں پر بھی حملے کئے گئے

  • بھٹو سلیکٹڈ وزیراعظم تھے، ثابت کروں گا، شیخ رشید کا چیلنج

    بھٹو سلیکٹڈ وزیراعظم تھے، ثابت کروں گا، شیخ رشید کا چیلنج

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے بھٹو کو سلیکٹڈ وزیراعظم قرار دے دیا

    شیخ رشید نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان منتخب وزیراعظم ہیں، میں چیلنج کرتا ہوں بھٹو سلیکٹڈ وزیراعظم تھا، ذوالفقار علی بھٹو جنرل ایوب کو ڈیڈی کہتےتھے،سندھ والے تاریخ پڑھیں، بھٹو سلیکٹڈ وزیراعظم تھا کوئی بھی مجھ سے مناظرہ کرلے،میں ثابت کروں گا

    شیخ رشید نے مزید کہا کہ کرونا وائرس کی وجہ سے اب نواز شریف ،شہباز شریف واپس نہیں آئیں‌گے،نوازشریف واپس نہیں آئیں گے،مریم نواز ملک سے نہیں جائیں گی،مریم چلی گئیں تو پورا ٹبر ہی باہر چلا جائے گا،نواز شریف کے علاج پر پنجاب حکومت سیاست نہیں کر رہی

    70 آدمیوں کے جلنے کا حساب آپ سے کیوں نہ لیا جائے، چیف جسٹس کا شیخ رشید سے مکالمہ کہا آپ کو تو استعفیٰ دینا چاہئے تھا

    شیخ رشید نے عدالت سے مانگی مہلت،چیف جسٹس نے کہا لوگ آپکی باتیں سنتے ہیں لیکن ادارہ نااہل

    اسد عمر حاضر ہو، شیخ رشید کے بعد سپریم کورٹ نے اسد عمر کو بھی طلب کر لیا

    سانحہ تیزگام بارے کیا کرنے جا رہے ہیں؟ آڈٹ رپورٹ کس کی عدالت پیش کی گئی؟ شیخ رشید نے بتا دیا

    واضح رہے کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری وزیراعظمم عمران خان کو سلیکٹڈ وزیراعظم کہتے ہیں اور ان پر کڑی تنقید کرتے ہیں ،ن لیگ بھی سلیکٹڈ وزیراعظم کہتی ہے،تا ہم آج لاہور میں ہونے والی پریس کانفرنس میں شیخ رشید نے کہا کہ عمران خان الیکٹڈ اور بھٹو سلیکٹڈ تھے.

    شیخ رشید کا کراچی سے پشاور تک کراسنگ پوائنٹ ختم کرنے کا اعلان

  • رات گئے پاکستان میں نئے امریکی سفیر ولیم ایڈورڈ ٹوڈ  کی نامزدگی بہت اہم قراردی جانے لگی

    رات گئے پاکستان میں نئے امریکی سفیر ولیم ایڈورڈ ٹوڈ کی نامزدگی بہت اہم قراردی جانے لگی

    اسلام آباد:رات گئے پاکستان میں نئے امریکی سفیر ولیم ایڈورڈ ٹوڈ کی نامزدگی بہت اہم قراردی جانے لگی ،اطلاعات کےمطابق امریکا کے ڈپٹی انڈر سیکرٹری فار منیجمنٹ ولیم ایڈورڈ ٹوڈ کو پاکستان کے لیے امریکا کا نیا سفیر نامزد کردیا گیا۔

    ولیم ای ٹوڈ نے حالیہ دنوں میں امریکا کے جنوب اور وسطی ایشائی امور کے قائم مقام اسسٹنٹ سیکرٹری کے طور پر کام کیا اور وہ فروری 2018 میں ڈپٹی انڈر سیکرٹری برائے منیجمنٹ مقرر کیے گئے۔دوسری طرف اہم حلقے قطرمیں افغان طالبان اورامریکہ کے درمیان ہونے والے معاہدے سے ایک دن قبل امریکی سفیر کی نامزدگی کواہم قراردے رہے ہیں

    ولیم ای ٹوڈ جون 2017 سے مئی 2019 تک قائم مقام انڈر سیکرٹری فار منیجمنٹ رہے اور جون 2017 سے جنوری 2019 تک فارن سروس کے قائم مقام ڈائریکٹر جنرل کے طور پر بھی کام کیا۔ولیم ای ٹوڈ کمبوڈیا اور برونائی میں امریکا کے سفیر رہ چکے ہیں جبکہ ای ٹوڈ نے کابل میں امریکی سفارت خانے اور امریکی محکمہ خارجہ میں بھی ذمہ داریاں نبھائی ہیں۔

  • دہلی میں ایسا فساد ہوا جیسے جرمن نازی یہودیوں کیخلاف کیا کرتے تھے،وزیراعظم

    دہلی میں ایسا فساد ہوا جیسے جرمن نازی یہودیوں کیخلاف کیا کرتے تھے،وزیراعظم

    دہلی میں ایسا فساد ہوا جیسے جرمن نازی یہودیوں کیخلاف کیا کرتے تھے،وزیراعظم

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق دہلی میں ہونے والے فسادات کے حوالہ سے پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی دارالحکومت نئی دہلی سے تصاویر آ رہی ہیں جہاں پر مسلمانوں کے گھروں اور دکانوں سمیت دیگر بزنس کو جلایا جا رہا ہے۔ مسلمانوں پر بدترین تشدد اور انہیں ہلاک کیا جا رہا ہے، قبرستانوں کو جلایا جا رہا ہے، یہ بالکل ایسی ہی کارروائیاں ہیں جو جرمن نازی یہودیوں کیخلاف کیا کرتے تھے۔

    وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا کہ کہ عالمی برادری بھارتی وزیراعظم کے مظالم اور نسل پرستی کو روکنے کے لئے اقدامات کرے، میں بار بار دنیا کو آگاہ کرتا رہا ہوں کہ بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کا نظریہ جرمن نازیوں جیسا ہے، ہٹلر نے 1930ء کے دوران یہودیوں کو جس طرح نشانہ بنایا مودی اسی طرح مسلمانوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ 2002ء کے دوران نریندر مودی جب گجرات کے وزیراعلیٰ تھے تو انہوں نے فسادات کے دوران مسلمانوں کو شہید کروایا تھا۔ نئی دہلی میں مسلمانوں کا منظم قتل عام نازی جرمنی کے مظالم طرزعمل پر جاری ہے

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر عمران خان نے ایک ویڈیو شیئر کی یہ ویڈیو برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی پریا گوپال کی تھی، جس میں پروفیسر بتا رہی ہیں کہ بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں مسلمانوں پر حملوں کے ساتھ ساتھ ان کے گھروں، عبادتگاہوں پر حملے کیے جا رہے ہیں، یہ حملے بالکل اسی طرح کیے جا رہے ہیں جب 1938ء کے دوران جرمن نازیوں نے یہودیوں پر کیے تھے۔ اس وقت جرمن نازیوں نے یہودیوں پر حملے کیے اور ان کے گھر اور کاروبار کو جلایا تھا۔

    دہلی میں ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے متنازعہ شہریت بل کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین پر تشدد کیا گیا، مسلمانوں کے گھر جلائے گئے، مساجد کی بے حرمتی کی گئی اور ایک مسجد کو شہید کیا گیا.بھجن پورہ میں مزار کو نذر آتش کیا گیا، اشوک نگر میں مسجد کو آگ لگائی گئی اور مینار پر ہنومان کا جھنڈا بھی لہرا دیا گیا۔

    گجرات کا "قصائی” مودی دہلی میں مسلمانوں پر حملے کا ذمہ دار ،بھارت کے اندر سے آوازیں اٹھنے لگیں

    دہلی میں پولیس بھی ہندوانتہا پسندوں کی ساتھی، زخمی تڑپتے رہے، پولیس نے ایمبولینس نہ آنے دی

    دہلی جل رہا تھا ،کیجریوال سو رہا تھا، مودی سن لے،ظلم و تشدد ہمیں نہیں ہٹا سکتا، شاہین باغ سے خواتین کا اعلان

    دہلی میں ظلم کی انتہا، درندوں نے 19 سالہ نوجوان کے سر میں ڈرل مشین سے سوراخ کر دیا

    دہلی تشدد ، خاموشی پرطلبا نے کیا کیجریوال کے گھر کا گھیراؤ، پولیس تشدد ،طلبا گرفتار

    دہلی میں ایک ماہ کیلئے دفعہ 144 نافذ،مسلمانوں‌ کو گھروں سے نہ نکلنے کی ہدایت

    مسلمانوں کے قتل عام پر خاموش،گھر کا گھیراؤ ہونے پرکیجریوال نے کی فوج طلب،مودی نے کیا انکار

    سوشل میڈیا پر وائرل اپنی تصویر دیکھنے کی ہمت نہیں،ہندو انتہا پسندوں کے تشدد سے زخمی نوجوان کی گفتگو

    دہلی ، سکول، گاڑیاں ،گھر سب جلا دیئے گئے، تصاویر باغی ٹی وی پر

    دہلی تشدد، کی گئی منصوبہ بندی، واٹس ایپ گروپ بنا کر دیئے گئے ٹارگٹ، پتھراؤ، گھر جلانے کی ڈیوٹیاں لگیں

    دہلی، فسادات کے دوران مسلمان لڑکی کو اغوا کیے جانے کا خدشہ،لواحقین پر قیامت کی گھڑی

    امریکا سمیت متعدد ممالک کی دہلی بارے سیکورٹی ایڈوائیزری جاری

    دہلی فسادات، 42 سالہ معذور پر بھی مسجد میں کیا گیا بہیمانہ تشدد

    دہلی فسادات کا ذمہ دار کون؟ جمعیت علماء ہند نے کی نشاندہی

    دہلی فسادات اور 2002 کے گجرات فسادات میں گہری مماثلت،ہندوؤں کی دکانیں ،گھر کیوں محفوظ رہے؟ سوال اٹھ گئے

    دہلی فسادات، کوریج کرنیوالے صحافیوں کی شناخت کیلیے اتروائی گئی انکی پینٹ

    دہلی، اجیت دوول کا دورہ مسلمانوں کو مہنگا پڑا، ایک اور نوجوان کو مار دیا گیا

    دہلی فسادات میں امت شاہ کی پرائیویٹ آرمی ملوث،یہ ہندوآبادی پر دھبہ ہیں، سوشل ایکٹوسٹ جاسمین

    ہندو انتہا پسندوں کے تشدد سے 43 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں جبکہ 400 سے زائد زخمی ہیں، پولیس بھی ہندو انتہا پسندوں کا ساتھ دیتی رہی، ہندو انتہا پسند مسلمانوں کے گھروں میں لوٹ مار بھی کرتے رہے اور انہیں تشدد کا نشانہ بھی بناتے رہے، اس دوران صحافیوں پر بھی حملے کئے گئے