Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • کروناسے لڑنے کی بجائے چین اورامریکہ آپس میں لڑپڑے،3 امریکی اداروں کے صحافیوں کو چین سے نکل جانے کا حکم ،معاملات کے بگڑنے کا خدشہ

    کروناسے لڑنے کی بجائے چین اورامریکہ آپس میں لڑپڑے،3 امریکی اداروں کے صحافیوں کو چین سے نکل جانے کا حکم ،معاملات کے بگڑنے کا خدشہ

    بیجنگ :کروناسے لڑنے کی بجائے چین اورامریکہ آپس میں لڑپڑے،چین نے 3 امریکی اداروں کے صحافیوں پر پابندی لگادی،اطلاعات کےمطابق کورونا وائرس کے پھیلاؤ اور آزادی صحافت پر امریکا اور چین کی جنگ شدت اختیار کر گئی ہے اور امریکا میں 3 چینی اداروں پر پابندیوں کے بعد بدھ کو چین نے بھی 3 امریکی اداروں کے صحافیوں کو اپنے ملک میں کام کرنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا ہے۔

    ذرائع کےمطابق اس نازک موقع پر یہ اقدام ایک ایسے موقع پر اٹھایا گیا ہے جب گزشتہ ماہ اخبار کے کالم میں چین پر کڑی تنقید کے بعد چین نے وال اسٹریٹ جرنل کے 2 امریکی اور ایک آسٹریلین صحافی کو بے دخل کردیا تھا۔چین نے اس کالم کو نسل پرستانہ قرار دیا تھا اور اخبار کی جانب سے معافی مانگنے سے انکار کے بعد تینوں صحافیوں کے ویزے ختم کر دیے گئے تھے۔

    یاد رہے کہ ادارے کے ایک رپورٹر کو اس وقت چین سے جانا پڑا تھا جب ان کے ویزے کی میعاد بڑھانے سے انکار کردیا گیا تھا۔پھر رواں ماہ مارچ کے اوائل میں ہی امریکا نے اپنے ملک میں چین کے 4 ریاستی میڈیا اداروں میں کام کرنے والے افراد کی تعداد 160 سے کم کرتے ہوئے صرف 100 کو کام کرنے کی اجازت دی تھی۔

    ذرائع کےمطابق اسی اقدام کے ردعمل کے طور پر بدھ کو بیجنگ نے نیویارک ٹائمز، وال اسٹریٹ جرنل اور واشنگٹن پوسٹ کے صحافیوں کو امریکی سرزمین پر کام کرنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔ان اداروں کے افراد کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ آئندہ 10دن کے اندر اپنے پریس کارڈ واپس کریں تاہم یہ بات واضح نہیں کہ اس حکم نامے کے نتیجے میں کتنے افراد متاثر ہوں گے۔

    اس کے ساتھ حکم میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان تینوں اخبارات کی چین کی شاخوں، وائس آف امریکا اور ٹائم میگزین کو چین میں اپنے عملے، مالی معاملات، آپریشن اور ریئل اسٹیٹ کی تمام تر معلومات تحریری طور پر فراہم کرنا ہوں گی۔چین نے کہا کہ وہ امریکا کی جانب سے چین کے صحافیوں پر عائد پابندیوں کے جواب میں یہ پابندیاں لگا رہے ہیں۔

    چین کے فیصلے میں اہم بات یہ ہے کہ اس نے اپنی نیم خودمختار ریاستوں ہانگ کانگ اور مکاؤ میں بھی امریکی صحافیوں کو کام سے روک دیا ہے حالانکہ ماضی میں چین میں پابندیوں کا سامنا کرنے والے صحافیوں کو ہانگ کانگ میں کام کی اجازت ہوتی تھی۔

    کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹ کے ایشیا پروگرام کے کوآرڈینیٹر اسٹیون بٹلر نے کہا کہ اس بات کی کوئی مثال نہیں ملتی کہ چین اس کا فیصلہ کرے کہ ہانگ کانگ میں کون صحافی کام کرے یا کون نہیں۔کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے بعد چین اور امریکا کے درمیان لفظی جنگ شروع ہو چکی ہے جہاں چین سے جنم لینے والے اس وائرس سے اب تک 7ہزار 400افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

    امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ مائک پومپیو نے بدھ کو اپنے بیان میں کہا کہ امریکا کا یہ اقدام کورونا وارئس کے اس حد تک چیلنجنگ اوات میں دنیا اور چین کے عوام کو معلوما سے محروم رکھنے کے مترادف ہے۔ان کا کہنا تھا کہ میں چین کی جانب سے آزادانہ صحافت کی دنیا کی کاوشوں پر پابندی کے فیصلے پر افسوس کا اظہار کرتا ہوں، یہ بدقسمتی ہے لیکن مجھے امید ہے کہ وہ اپنے فیصلے پر غور کریں گے۔

    واشنگٹن پوسٹ کے ایگزیکٹؤ ایڈیٹر مارٹن بیرن نے اپنے بیان میں کہاکہ ہم امریکی رپورٹرز کو نکالنے کے چین کے فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہیں، چینی حکومت کا فیصلہ اس لیے بھی افسوسناک ہے کہ یہ ایک عالمی بحران کے دوران سامنے آیا ۔وال اسٹریٹ جرنل اور نیویارک ٹائمز کے صحافیوں کی جانب سے بھی اس فیصلے کی شدید مذمت کی گئی ہے۔

  • پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو آفیسرارشد ملک ہی کام جاری رکھیں گے،امید ہے بہتری آئے گی ،سپریم کورٹ نے فیصلہ دے دیا

    پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو آفیسرارشد ملک ہی کام جاری رکھیں گے،امید ہے بہتری آئے گی ،سپریم کورٹ نے فیصلہ دے دیا

    اسلام آباد:پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو آفیسرارشد ملک ہی کام جاری رکھیں گے،امید ہے بہتری آئے گی ،سپریم کورٹ نے فیصلہ دے دیا ،اطلاعات کےمطابق آج سپریم کورٹ نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) ارشد ملک کو فرائض جاری رکھنے کی اجازت دے دی۔عدالت نے اس موقع پرتوقع ظاہرکی کہ ارشد ملک پی آئی اے کوضرور سنبھالا دیں گے

    عدالت عظمیٰ میں چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سماعت کی۔سپریم کورٹ میں ہونے والے پی آئی اے کے اہم کیس سے متعلق اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ایئرمارشل ارشد ملک اچھے اور قابل انسان ہیں، 9 برسوں میں پی آئی اے کے 12سربراہ تبدیل ہو چکے ہیں، اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پی آئی اے کے بارے میں کوئی ایک چیز بتائیں جو اچھی ہو، پی آئی اے لوگوں کی زندگیوں کے ساتھ کھیل رہا ہے کیا اس کو بند کریں؟پچھلی حکومتوں نے تواداروں کوبرباد کردیا تھا ،

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کراچی ایئرپورٹ پر خستہ اور خراب حالات میں جہاز کھڑے ہوئے ہیں، اگر خدانخواستہ حادثہ ہو گیا تو لوگوں کا کیا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ایئرپورٹ کی طرف گند نظر آتا ہے، ہر خراب چیز ایئرپورٹ پر نظر آتی ہے، پی آئی اے، اے ایس ایف اور کسٹمز والے لوگوں کو سہولیات فراہم کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں۔

    سماعت کے دوران چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ پی آئی اے میں کوئی پروفیشنلزم نظر نہیں آتا، ساتھ ہی جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ہمیں ادارے کا مستقل 3 سال کے لیے سربراہ چاہیے جو ادارے کو بہتر کرسکے۔جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ اس ادارے میں ایک حکومت اپنے بندے بھرتی کرتی ہے اور دوسری آکر نکال دیتی ہے، نکالے جانے والے بعد میں ترقی اور رقوم کا دعوی کرتے ہیں، ان کو پھر تیسری حکومت لاکھوں روپے دے دیتی ہے۔

    اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہم اپنے گھر میں ایک ملازم اپنی بساط سے زیادہ نہیں رکھتے، اگر گھر کا ملازم ایک گلاس پانی دیر سے پہنچاتا ہے تو اس کو نکال دیتے ہیں، پی آئی اے تو ہمارا ادارہ ہے اس کے ساتھ نازیبا سلوک کیا گیا۔

    دوران سماعت اٹارنی جنرل نے بتایا کہ پی آئی اے کے ملازمین نے ایک سابق سربراہ کو واش روم میں بند کردیا، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہم بھی ایک ادارہ ہیں، لوگوں کے مسائل حل کرنا ہمارا کام ہے، پی آئی اے کو کس طرح چلانا ہے ہمیں پتہ ہے، پی آئی اے کے علاوہ بھی کمپنیاں اچھا کام کررہی ہیں تاہم اگر کوئی بھی ادارہ یونین کے ہاتھوں میں دیں گے تو وہ ادارہ بند ہی ہوجائے گا، ان سب کا ذمہ دار پھر کون ہوگا۔

    ساتھ ہی جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ کچھ لوگ آتے ہیں تو سہولیات لے کر غائب ہوجاتے ہیں، اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ اسٹیل مل کے حالات ہمارے سامنے ہیں، جس کی حالت خراب ہے، پی آئی اے ایک قومی ادارہ ہے، پورے پاکستان کو اس پر فخر ہے۔

    اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ بد قسمتی سے کچھ لوگوں کے خراب ہونے سے ادارہ خراب ہو گیا ہے، ادارے میں ایسے ملازمین بھی ہیں جو ایمانداری سے کام کررہے ہیں، ایک خاتون جیکولین کینیڈی نے پی آئی اے سے سفر کیا تو پھر ایئر لائن کی تعریف کی۔اٹارنی جنرل کی بات پر چیف جسٹس نے کہا کہ سابق وزیر اعظم لندن گئے تو پی آئی اے کا جہاز وہاں کھڑا رہا، انہیں کس نے ایسا کرنے کی اجازت دی، لندن میں طیارہ کس کے خرچ پر کھڑا رہا۔

    چیف جسٹس نے ملک کے سابق حکمران خاندان کے بارےمیں ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جس نے گلگت گھومنا ہو تو وہ خاندان کے ساتھ جہاز لے کر چلا جاتا ہے، جس نے کہیں اور جانا ہو وہ جہاز کا رخ بدلوا دیتا ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی ای او ایئر مارشل ارشد ملک کو فرائض جاری رکھنے کی اجازت دے دی۔

    عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ عدالت کو بتایا گیا کہ وفاق نے قانونی طریقے سے ارشد ملک کو مقرر کیا جبکہ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ان کو کام کرنے کی اجازت دی جائے۔حکم میں کہا گیا کہ اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ادارہ وینٹیلیٹر پر ہے اس لیے ارشد ملک کو کام کرنے دیا جائے جبکہ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ ارشد ملک قابل آدمی ہیں، وہ نتائج دیں گے۔

  • پاکستان الرٹ :کورونا وائرس کے حملے جاری ،کورونا وائرس: پنجاب، سندھ اور آزاد کشمیر میں مزید کیسز کی تصدیق، ملک میں تعداد 272 ہو گئی

    پاکستان الرٹ :کورونا وائرس کے حملے جاری ،کورونا وائرس: پنجاب، سندھ اور آزاد کشمیر میں مزید کیسز کی تصدیق، ملک میں تعداد 272 ہو گئی

    اسلام آباد:پاکستان الرٹ :کورونا وائرس کے حملے جاری ، سندھ میں تعداد 189 ہوگئی، اطلاعات کےمطابق کورونا وائرس: پنجاب، سندھ اور آزاد کشمیر میں مزید کیسز کی تصدیق، ملک میں تعداد 272 ہو گئی

    کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سندھ حکومت کے ترجمان مرتضیٰ وہاب نے بتایا کہ سکھر میں موجود زائرین میں سے 50 فیصد میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد صوبے میں مجموعی تعداد 189 ہوگئی ہے، جن لوگوں کے ٹیسٹ مثبت آئے ان تمام افراد کو قرنطینہ میں شفٹ کردیا گیا ہے۔

    مرتضیٰ وہاب نے بتایا کہ سکھر کے علاوہ سندھ میں 38 مریض ہیں، ان میں سے 2 صحت یاب ہونے کے بعد گھروں کو چلے گئے ہیں اور 36 مریض کو مختلف آئسولیشن وارڈ میں شفٹ کردیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سکھر میں کل 143 اور باقی سندھ میں 38 کیسز سامنے آئے جس سے مجموعی تعداد 189 بنتی ہے، ہر شخص کو آئسولیشن میں رکھ دیا گیا ہے اور سندھ حکومت ہر پیشرفت شیئر کرے گی۔

    پنجاب میں اب تک 34 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہو چکی ہے جب کہ بلوچستان میں 16، خیبرپختونخوا میں 16، اسلام آباد میں 4 اور گلگت بلتستان میں تین افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔گزشتہ روز پنجاب میں کورونا وائرس سے مبینہ ہلاکت سامنے آئی تھی تاہم صوبائی وزیر برائے صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے اس بات کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ میو اسپتال میں زیر علاج شخص جگر کے عارضے میں مبتلا تھا۔

    خیال رہے کہ دنیا بھر میں کورونا وائرس سے اب تک 8 ہزار کے قریب اموات ہو چکی ہیں جب کہ متاثرہ افراد کی تعداد 2 لاکھ سے تجاوزکر گئی ہے۔

  • دنیا بھر میں کرونا وائرس کے مریضوں‌کی تعداد دو لاکھ سے تجاوز کر گئی

    دنیا بھر میں کرونا وائرس کے مریضوں‌کی تعداد دو لاکھ سے تجاوز کر گئی

    دنیا بھر میں کرونا وائرس کے مریضوں‌کی تعداد دو لاکھ سے تجاوز کر گئی

    باغی ٹی وی :دنیا بھر میں کرونا وائرس کے مریضوں‌کی تعداد دو لاکھ سے تجاوز کر گئی، ویب سائٹ سپیکٹیٹر نے حالیہ اعدادو شمار جاری کیے ہیں. کورونا وائرس سے دنیا بھر میں ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے اور اب تک وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 7 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ دو لاکھ زائد افراد وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں.
    کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اٹلی،اسپین ،فرانس اور ملائیشیا میں لاک ڈاؤن کردیا گیا ہے جب کہ برطانیہ میں بھی حکام اس حوالے سے غور کر رہے ہیں۔ترکی اور متحدہ عرب امارات میں باجماعت نماز پر پابندی لگادی گئی ہے جب کہ ایران اور عراق میں نماز جمعہ کی ادائیگی بھی روک دی گئی ہے۔

    چینی حکام کے مطابق کورونا وائرس کے 21 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جس میں سے ایک کورونا وائرس کے مرکز صوبہ ہوبے میں جب کہ دیگر کیسز کی تصدیق بیرون ملک سے آنے والوں میں ہوئی ہے۔ 24 گھنٹوں میں چین میں 13 نئی ہلاکتیں سامنے آئی ہیں جس کے بعد اموات کی تعداد3 ہزار226 ہوگئی ہیں۔

    چین بھر میں مریضوں کی تعداد 80 ہزار 800 سے بڑھ گئی ہیں ،جس میں سے اب تک 68 ہزار 679 مریض صحت یاب ہو گئے اور 8 ہزار 976 افراد کا چین کے اسپتالوں میں علاج جاری ہے۔چین کے بعد اٹلی کورونا سے متاثر ہونے والا دوسرا بڑا ملک ہے، اٹلی میں اب تک 28 ہزار سے زائد افراد کورونا سے متاثر ہوچکے ہیں جن میں سے 2 ہزار 158 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ ایران میں کورونا وائرس سے مزید 135 افراد انتقال کر گئے ہیں جس کے بعد ایران میں اموات کی تعداد 988 ہوگئی ہے۔

    ترجمان ایرانی وزارت صحت کیانوش جہانپور کے مطابق ایران میں آج کورونا کے ایک ہزار 178 نئے کیسز ریکارڈ ہوئے ہیں جس کے بعد ایران میں کورونا متاثرین کی تعداد 16ہزار 169ہوگئی ہے۔ اسپین میں کورونا وائرس سے مزید 168 افراد ہلاک ہوئے ہیں جس کے بعد ملک میں ہلاکتوں کی تعداد 510 ہوچکی ہے۔

    ہسپانوی وزارت صحت کے مطابق اسپین میں کورونا سے متاثرہ تقریباً 1500 نئے کیسز ریکارڈ ہونے کے بعد اسپین میں کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد 11 ہزار سے تجاوز ہوچکی ہے۔رپورٹس کے مطابق کورونا سے اسپین کے دارالحکومت میڈرڈ کے شہری سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں.

  • شیخ زید اسپتال کے آئسولیشن وارڈ میں زیرعلاج شخص کی موت واقع

    شیخ زید اسپتال کے آئسولیشن وارڈ میں زیرعلاج شخص کی موت واقع

    شیخ زید اسپتال کے آئسولیشن وارڈ میں زیرعلاج شخص کی موت واقع ہو گئی

    باغی ٹی وی : ایک اور مشتبہ شخص کی ہسپتال میں‌موت واقع ہوئی ہے . ایگزیکٹو ڈائریکٹر شیخ زید اسپتال ڈاکٹر عبدالغفار کے مطابق متوفی گزشتہ روز تفتان سے کوئٹہ پہنچا تھا جہاں اسے کورونا کے شبے میں آئسولیشن وارڈ میں رکھا گیا تھا۔

    ڈاکٹر عبدالغفار نے بتایا کہ انتقال کرنے والے شخص میں کوروناکی تصدیق نہیں ہوئی تھی۔دوسری جانب متوفی کی بیٹی نے الزام لگایا کہ میرےوالد کی حالت خراب تھی لیکن اسپتال میں کوئی ڈاکٹر اور عملہ موجود نہیں تھا جب کہ اسپتال میں انتظامات انتہائی ناقص تھے، پینے کا پانی بھی میسر نہیں تھا۔

    ملک میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے صوبہ سندھ میں172، پنجاب میں31 اور بلوچستان میں 16 کیسز سامنے آنے کے بعد ملک میں وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 246 ہوگئی۔
    واضح‌رہے کہ حکومت نے ایئر پورٹ پر کورونا کے مشتبہ افراد کی تشخیص کا اہتمام کر رکھا ہے . بڑے سرکاری ہسپتالوں کی او پی ڈیز 15 دن کیلئے بند کرنے کا فیصلہ،اطلاعات کےمطابق حکومت نے نے تمام بڑے سرکاری ہسپتالوں کی آؤٹ پیشنٹ ڈیپارٹمنٹس (اوپی ڈیز ) کو 15 دن کے لیے بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کا اطلاق بدھ سے ہو گا۔

    ادھر حکومت سندھ کے ترجمان کے مطابق تمام بڑے سرکاری اسپتالوں بشمول قومی ادارہ برائے امراض، سول اسپتال کراچی، جناح اسپتال، قومی ادارہ برائے امراض اطفال اور دیگر تمام ڈسٹرکٹ اسپتالوں میں او پی ڈیز کل(بدھ) سے 15 دن کے لیے بند کر دی گئی ہیں۔

  • صدرمملکت اورچینی صدرکی ملاقات،ہاتھ بھی ملایا،کرونا وائرس کی روک تھام پر گفتگو،چین کوپاکستان پرفخرہے، چینی صدرکا خراج تحسین

    صدرمملکت اورچینی صدرکی ملاقات،ہاتھ بھی ملایا،کرونا وائرس کی روک تھام پر گفتگو،چین کوپاکستان پرفخرہے، چینی صدرکا خراج تحسین

    بیجنگ:صدر مملکت اور چینی صدر کی ملاقات،ہاتھ بھی ملایا، کرونا وائرس کی روک تھام پر گفتگو،چین کی عوام کوپاکستان پرفخرہے، چینی صدرکا خراج تحسین،اطلاعات کےمطابق صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ہونے والی اس تاریخی ملاقات میں پاک چین دوستی کو نئی بلندیوں پر لے جانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

    تفصیل کے مطابق دورہ چین پر گئے پاکستانی صدر مملکت جناب ڈاکٹر عارف علوی کی ہم منصب شی جن پنگ کیساتھ اہم اور تاریخی ملاقات ہوئی جس میں دو طرفہ تعلقات کو نئی بلندیوں پر لے جانے کا عزم کیا گیا۔ اس ملاقات میں خطے کی صورتحال خصوصا کرونا وائرس کے پھیلاؤ اور اس کی روک تھام پر خصوصی بات چیت بھی کی گئی۔ اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان مختلف مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط بھی کیے گئے۔

    اس سے قبل صدر مملکت نے چین کے وزیراعظم لی کی چیانگ سے بھی ملاقات کی اور کرونا وائرس کے خلاف چین کے ساتھ مکمل یکجہتی اور پاکستان کی جانب سے حمایت کا اظہار کیا۔


    دونوں رہنمائوں کے درمیان ملاقات بیجنگ کے گریٹ ہال میں ہوئی۔ صدر مملکت نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان اور چین ہر آزمائش پر پورا اترنے والے دوست اور آہنی برادرز ہیں جو ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے تعلقات باہمی اعتماد اور مفید تعاون پر مبنی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان چین نے دنیا کو بتایا ہے کہ وہ بقائے باہمی اور عدم مداخلت پر یقین رکھتے ہیں۔ پاکستان نے ہمیشہ مشکل وقت میں چین کا ساتھ دیا ہے اور کرونا وائرس کی وبا سے نمٹنے کے چیلنج میں بھی اس کی حمایت جاری رکھے گا۔

    صدر مملکت کا کہنا تھا کہ چین نے کرونا وائرس کی روک تھام کے لئے موثر اقدامات کئے ہیں۔ اس موقع پر چینی وزیراعظم نے صدر مملکت اور ان کے وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ چین اور پاکستان کی دوستی وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ چین میں کرونا وائرس سے پیدا ہونے والی وبا پر وزیراعظم عمران خان اور پاکستان کی حکومت نے چین کے لئے اظہار ہمدردی کے پیغامات بھیجے اور وبا پھوٹنے کے فوری بعد پاکستان نے چین کو طبی امداد فراہم کی۔ ہم چین میں پاکستان کے خیر سگالی کے جذبے پر شکر گزار ہیں۔

    چینی وزیراعظم نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں بھی اب کرونا وائرس کے کچھ کیسز ظاہر ہوئے ہیں جن کے پیش نظر حکومت پاکستان اقدامات کر رہی ہے۔ ہمیں ایسے چیلنجز سے مشترکہ طور پر نمٹنے کے لئے اپنے تعاون کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔

    لی کی چیانگ نے کہا کہ ہم اس حوالے سے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں۔ انسانیت کو درپیش اس چیلنج کے پیش نظر بین الاقوامی تعاون بہت اہم ہے۔ اس موقع پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی واصلاحات اسد عمر، چین کے وزیر خارجہ، چین میں پاکستانی سفیر اور دیگر سینئر حکام بھی موجود تھے۔

  • کرونا وائرس بڑی تیزی سےپھیل رہا ہے،اللہ کی رحمت،قوم کی دعاوں اورکوششوں سے قابوپالیں گے،صبروتحمل سے کام لیں، وزیراعظم کا قوم سے خطاب

    کرونا وائرس بڑی تیزی سےپھیل رہا ہے،اللہ کی رحمت،قوم کی دعاوں اورکوششوں سے قابوپالیں گے،صبروتحمل سے کام لیں، وزیراعظم کا قوم سے خطاب

    اسلام آباد :کرونا وائرس بڑی تیزی سے پھیل رہا ہے، اللہ کی رحمت اورقوم کی دعاوں اورکوششوں سے قابوپالیں گے ،صبروتحمل سے کام لیں ، وزیراعظم کا قوم سے خطاب جاری ، اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کورونا وائرس کے حوالے سے حکومتی اقدامات پر قوم کو اعتماد میں لینے کے لیے خطاب کررہے ہیں

    وزیراعظم عمران خان نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ‘میرے پاکستانیو! آج میں آپ سے کورونا وائرس کے حوالے سے بات کروں گا کیونکہ مجھے خوف ہے کہ اس سے ملک میں افراتفری پھیلے گی’۔انہوں نے کہا کہ 97 فیصد مریض اس سے صحت یاب ہورہے ہیں جن میں سے بہت معمولی شکایات ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے 15 جنوری سے اقدامات شروع کیے تھے اور اب تک ایئرپورٹس پر 9 لاکھ افراد کی اسکریننگ کی ہے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے شہروں کو بھی بند کرنے کی تجویز آئی لیکن ہمارے پاکستان کے حالات وہ نہیں ہیں جو یورپ میں ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ہاں معاشی طور پر حالات مشکل ہیں اور ہم نے سوچا کہ جب شہروں کو بند کریں گے تو ایک طرف سے کورونا وائرس سے متاثر ہوں گے اور دوسری طرف لوگ بھوک سے مریں گے۔حکومتی اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہم نے کھیلوں اور دیگر ایونٹس کے علاوہ اسکولوں کو بند کیا اور پھر قومی رابطہ کمیٹی تشکیل دی۔

    وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے وینٹی لیٹرز کے لیے آرڈرز دیے ہیں جو اس حوالے سے ضروری تھے اس کے ساتھ ساتھ میڈیکل کی ٹیم تشکیل دی ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا میں کورونا وائرس نمٹنے کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں، اٹلی اور برطانیہ میں مختلف اقدامات کیے ہیں اور ہم ان سے سیکھ رہے ہیں کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ صدر عارف علوی چین گئے ہوئے ہیں اور ہم ان سے بھی سیکھیں گے اور پھر مزید اقدامات کریں گے۔

    وزیراعظم کا کہنا ہے کہ ہم بحیثیت قوم اس مشکل وقت میں مل کرمقابلہ کریں گے، انہوں نے مزید کہا کہ ہرپاکستانی دوسرے کے لیے سہارا بنے ، مشکل وقت میں کام آئے ، اللہ کے فضل وکرم سے ضرور سرخروع ہوں گے ،

  • دنیا کرونا سے لڑرہی ہے ، اوربھارت پاکستان سے :ایل او سی پر بھارتی فوج کی بلا اشتعال فائرنگ سے پاک فوج کا سپاہی شہید

    دنیا کرونا سے لڑرہی ہے ، اوربھارت پاکستان سے :ایل او سی پر بھارتی فوج کی بلا اشتعال فائرنگ سے پاک فوج کا سپاہی شہید

    راولپنڈی :دنیا کرونا سے لڑرہی ہے ، اوربھارت پاکستان سے :ایل او سی پر بھارتی فوج کی بلا اشتعال فائرنگ سے پاک فوج کا سپاہی شہید،اطلاعات کے مطابق لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کی بلا اشتعال فائرنگ سے پاک فوج کا ایک سپاہی شہید ہو گیا جب کہ پاک فوج کی جوابی کارروائی میں بھارتی فورسز کو بھی بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق بھارتی فوج کی ایل او سی کے شاہ کوٹ سیکٹر پر بھاری ہتھیاروں سے بلا اشتعال فائرنگ کے نتیجے میں سپاہی واجد علی شہید ہو گیا، شہید سپاہی کا تعلق ضلع دادو سے تھا۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ پاک فوج نے بھارتی فائرنگ کا مؤثر جواب دیا اور فائر کرنے والی بھارتی چوکیوں کو نشانہ بنایا۔آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ پاک فوج کی جوابی کارروائی میں بھارتی فورسز کا بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔

  • میو ہسپتال میں مرنے والے شخص میں کورونا وائرس نہیں تھا، وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار

    میو ہسپتال میں مرنے والے شخص میں کورونا وائرس نہیں تھا، وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار

    میو ہسپتال میں مرنے والے شخص میں کورونا وائرس نہیں تھا، وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار

    باغی ٹی وی :وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے تصدیق کی ہے کہ لاہور کے میو ہسپتال میں مرنے والے شخص میں کورونا وائرس نہیں تھا۔

    سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک ٹوئٹ میں انہوں نے بتایا کہ ہمیں اس مریض کی ٹیسٹ رپورٹس موصول ہوگئی ہیں جو میو ہسپتال میں اپنی زندگی کی بازی ہار گیا تاہم اس موت کی وجہ کووڈ 19 (کوروناوائرس) نہیں تھی۔انہوں نے تمام افراد پر زور دیا کہ یہ ٹیسٹ کا وقت ہے تو ہم سب کو ذمہ داری کا مظاہر کرنا چاہیے۔قبل ازیں یہ اطلاعات تھیں کہ صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں کورونا وائرس کا پہلے مشتبہ مریض جاں بحق ہوا۔

    اس بارے میں محکمہ صحت پنجاب کے سیکریٹری قیصر شریف نے بتایا تھا کہ مریض کو پیر کی رات کو میو ہسپتال کے آئیسولیشن وارڈ میں داخل کیا گیا۔25 سا لہ غلام عمران کی کروناوائرس ٹیسٹ کی رپورٹ نیگیٹو آئی ہے.
    کروناوائرس کا مشتبہ 25 سالہ مریض عمران حافظ آباد کا رہائشی ہے جسے رات گئے عملے کی جانب سے میو ہسپتال لایا گیا

  • کورونا وائرس: ڈیرہ غازی خان میں 780 مشتبہ مریضوں کی موجودگی کا انکشاف،خوف کی فضا قائم

    کورونا وائرس: ڈیرہ غازی خان میں 780 مشتبہ مریضوں کی موجودگی کا انکشاف،خوف کی فضا قائم

    اسلام آباد: کورونا وائرس: ڈیرہ غازی خان میں 780 مشتبہ مریضوں کی موجودگی کا انکشاف،خوف کی فضا قائم،اطلاعات کےمطابق صوبہ پنجاب میں کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد بڑھنے کا اندیشہ ہے کیونکہ ڈیرہ غازی خان کی یونیورسٹی میں 780 مشتبہ افراد کو قرنطینہ میں رکھا گیا تھا اور ان میں سے اکثر میں کورونا کی علامات ظاہر ہوئی ہیں۔

    روزنامہ ڈان نے اس حوالے سے خبربریک کرتے ہوئے اپنے نمائندے کے حوالے سے کہا ہے کہ مشتبہ مریض (جو تمام ایران سے آنے والے زائرین ہیں) جن میں خواتین بھی شامل ہیں، دراصل تفتان بارڈر کے ذریعے ایران سے پاکستان میں داخل ہوئے اور ان سب کو نزلہ، زکام اور کھانسی کی شکایت ہے۔ذرائع کے مطابق ڈیرہ غازی خان میں ان سب کو 2 روز قبل منتقل کیا گیا تھا جہاں انہیں قرنطینہ کی سہولت فراہم کی گئی۔

    ادھر ذرائع کے مطابق حکام کی طرف سے ڈیرہ غازی خان میں انتباہ جاری کردیا گیا ہے جبکہ مریضوں کی نقل و حرکت محدود کرنے کے لیے محکمہ صحت کی متعدد ٹیمیں روانہ ہو چکی ہیں۔

    حکومتی عہدیدار نے انکشاف کیا کہ ایرانی حکام نے وائرس سے متاثرہ ان تمام مشتبہ مریضوں کو ایک ہی جگہ رکھا جو عالمی ادارہ صحت کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کی صریحاً خلاف ورزی ہے اور اس کی وجہ سے ان کے وائرس سے متاثر ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا۔

    ڈان کے مطابق انہوں نے کچھ مریضوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کورونا وائرس کی علامات انتہائی واضح ہونے کے باوجود ایران میں اپنے قیام کے دوران یہ لوگ مصافحہ کرتے رہے، ایک دوسرے سے گلے ملے اور حتیٰ کہ اپنے تولیے اور باورچی خانے کی اشیا کا بھی تبادلہ کیا۔

    انہوں نے کہا کہ یہ 780 مشتبہ مریض پنجاب کے مختلف شہروں سے تعلق رکھتے ہیں، محکمہ صحت کے حکام نے ان میں سے 50 افراد کے نمونے لیے ہیں اور انہیں تجزیے کے لیے اسلام آباد کے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ بھیج دیا گیا ہے۔

    انہوں نے ان مریضوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹرز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان میں سے اکثر کے ٹیسٹ مثبت آنے کے قوی امکانات ہیں۔عہدیدار نے کہا کہ محکمہ صحت کی ٹیمیں دیگر کے نمونے بیچز کی شکل میں نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ بھیجیں گی اور مرض کی جانچ کے عمل کو 24 گھنٹے میں مکمل کر لیا جائے گا۔