Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • ایف اے ٹی ایف، آج ہو پاکستان بارے اہم فیصلہ، سب کو شدت سے انتظار

    ایف اے ٹی ایف، آج ہو پاکستان بارے اہم فیصلہ، سب کو شدت سے انتظار

    ایف اے ٹی ایف، آج ہو پاکستان بارے اہم فیصلہ، سب کو شدت سے انتظار

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ایف اے ٹی ایف آج پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھنے یا اس کی حیثیت بدلنے سے متعلق فیصلےکا اعلان کرےگا۔

    پیرس میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا اجلاس جاری ہے ، وفاقی وزیر برائے ریونیو حماد اظہر کی قیادت پانچ رکنی وفد اجلاس میں شریک ہیں، گرے لسٹ کے معاملے پر پاکستان کے بارےمیں اہم فیصلہ آج ہو گا۔

    بھارت کی ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کو بلیک لسٹ میں ڈالنے کی کوشش 2 بار ناکام ہوئی ہے،بھارت کی سازش کی کسی بھی ملک نے حمایت نہ کی، بھارت ایک بار پھر بری طرح ناکام ہوا، ایف اے ٹی ایف اراکین کا کہنا تھا کہ پاکستان موثر اقدامات کررہا ہے، کئی اقدامات لائق تحسین ہیں، پاکستان کو بلیک لسٹ میں ڈالنے کا بھارتی مطالبہ مسترد کر دیا گیا

    بھارت کی جانب سے مسعود اظہر کے معاملے کو بار بار اچھالنے کی کوشش کی گئی جس ارکان نے رائے دی ہے کہ پاکستان موثر اقدامات کررہا ہے اور اس کے کئی اقدامات لائق تحسین ہیں۔ارکان نے بھارتی وفد کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے مسعود اظہر کیخلاف جو بھی کیا وہ اس کی جمع کی گئی رپورٹ میں موجود ہے، رپورٹ کا مطالعہ کریں۔

    ذرائع کے مطابق پاکستان کے 27 میں سے 14 نکات پر مکمل عملدرآمد کی ہر سطح پر پزیرائی ہوئی ہے۔ارکان کی سفارشات کے مطابق پاکستان کو گرے لسٹ سے نکلنے کیلئے کچھ مزید اقدامات کرنا ہوں گے جس لئے اکتوبر تک مزید وقت دیئے جانے کا امکان ہے

    پیرس میں ایف اے ٹی ایف حکام پریس کانفرنس میں باقاعدہ لائحہ عمل کا اعلان کریں گے، ذرائع کے مطابق پاکستان ایف اے ٹی ایف کے بلیک لسٹ ہونے سے بچ گیا ،پاکستان کو ترکی، چین، ملائیشیا کے بعد سنگاپور، ہالینڈ، ہانگ کانگ، کینیڈا، امریکا، فرانس، جاپان، سعودی عرب اور برطانیہ کی حمایت بھی مل گئی تاہم پاکستان کو اکتوبر تک گرے لسٹ میں ہی رکھا جائیگا

    پاکستانی حکام نے ایف اے ٹی ایف اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ منی لانڈرنگ میں ملوث افراد پر جرمانہ دگنا کرنے کی قانون سازی آخری مراحل میں ہے جبکہ ستائیس اہداف میں سے چودہ پر واضح پیشرفت کی ہے۔

    دہشتگردوں تک فنڈنگ روکنے اور فنڈز کی روک تھام کے لیے مربوط حکمت عملی پر رکن ممالک اظہار اطمینان کیا۔ ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق مشکوک ٹرانزیکشن رپورٹ کا ڈیٹا پانچ سال کی بجائے دس سال تک رکھا جائے گا۔ منی لانڈرنگ میں ملوث افراد کی جائیداد چھ ماہ سے ایک سال تک ضبط کی جائیں گی

    پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کو جواب میں کہا ہے کہ دہشت گردوں تک رقوم پہنچانے کے 700 کیسز کی تحقیقات کیں، کالعدم تنظیموں تک رقوم پہنچانے والے 190 افراد کے خلاف کارروائی کی گئی، دہشت گردوں تک رقوم پہنچانے پر 170افراد زیر حراست ہیں، کالعدم تنظیموں کی ایک ہزار سے زائد جائیدادیں ضبط کیں

    8 کالعدم تنظیموں کے خلاف کاروائی ،کتنے مقدمات، کتنی گرفتاریاں اور کیا سزائیں دی گئیں؟ رپورٹ سامنے آ گئی

    پاکستان نے مالیاتی اداروں کا ڈیٹا خفیہ رکھنے کا ہدف پورا کیا، پاکستان نے 9 اہداف پر بڑی پیش رفت کی، بے نامی داروں کے خلاف کارروائی میں بھی بہتری کی گئی، رپورٹ میں منی لانڈرنگ کے خلاف اقدامات شامل کیے گئے۔

    وفاقی وزیر برائے ریونیو حماد اظہر نے کہا ہے کہ پاکستان 2020 میں گرے سے وائٹ لسٹ میں آجائے گا۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے حماد اظہر کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال بالخصوص  آخری 4 ماہ میں ہونے والی پیشرفت کا اعتراف کیا گیا، تاہم اس حوالے سے مزید کام کرنے کی ضرورت ہے، پاکستان کو دیا گیا ایکشن پلان کسی بھی ملک کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہے،

    ایف اے ٹی ایف کا ایک بار پھر ڈومور، کالعدم تنظیموں کیخلاف کیا کیا؟ رپورٹ طلب

    ایف اے ٹی ایف کا پاکستان کی کوششوں کا اعتراف، ڈومور بھی کہہ دیا

    ایف اے ٹی ایف،پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی،کن ممالک نے کی پاکستان کی حمایت؟

    حماد اظہر کا مزید کہنا تھا کہ تمام ریگولیٹری اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مل کر کوشش کر رہے ہیں، وفاقی اور صوبائی محکمے بھی مل کر کام کر رہے ہیں۔

    واضح رہے کہ پاکستان ایف اے ٹی ایف کی تمام شرائط مانتا جا رہا ہے،وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، پاکستان سے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لئے فنڈنگ کی روک تھام، ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے پاکستان کو نکالنے اور ذمہ دار ممالک کی صف میں لانے کے لئے بنائی جانے والی کو آرڈی نیشن کمیٹی کا چیئرمین حماد اظہر کو بنایا گیا ہے.

    واضح رہے ایف اے ٹی ایف منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے مالی معانت کی روک تھام کے لیے بنائی گئی عالمی تنظیم ہے۔اس تنظیم نے 18 اکتوبر کو 4 ماہ کی مہلت دہتے ہوئے پاکستان پر زور دیا تھا کہ فروری 2020 تک ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد کرے کیونکہ اس وقت تک پاکستان ’گرے لسٹ‘ میں ہی موجود رہے گا

  • وزیراعظم کو بتا دیں چھ ماہ میں یہ کام نہ ہوا تو توہین عدالت لگے گا، چیف جسٹس

    وزیراعظم کو بتا دیں چھ ماہ میں یہ کام نہ ہوا تو توہین عدالت لگے گا، چیف جسٹس

    وزیراعظم کو بتا دیں چھ ماہ میں یہ کام نہ ہوا تو توہین عدالت لگے گا، چیف جسٹس

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں سرکلر ریلوے کے حوالہ سے کیس کی سماعت ہوئی، دوران سماعت چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سرکلر ریلوے 6 ماہ میں نہ چلائی تو وزیراعظم، وزیراعلیٰ کو توہین عدالت کا نوٹس دیں گے، وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کو بتا دیں

    چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ ہم وزیراعلیٰ اور وزیراعظم کو طلب کر لیتے ہیں، ایڈوکیٹ جنرل سدھ نے سرکلر ریلوے کے حوالہ سے رپورٹ عدالت میں پیش کی، ایڈیوکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ اس حوالہ سے بڑی پیشرفت ہوئی، میں چاہ رہا تھا کہ مکمل پلان عدالت کے سامنے پیش کیا جائے،

    سیکرٹری ریلوے نے کہا کہ روزانہ کی بنیاد پر کام شروع کر دیا ہے، سرکلر ریلوے کے 24 گیٹ بحال کرنا مشکل ہے، عدالت نے کہا کہ پہلے آپ کہاں تھے ، پہلے آپ نے ایسا کیوں کہا؟

    عدالت نے کہا کہ آپ اہل ہی نہیں کہ سرکلر ریلوے چلائی جس پر سیکرٹری ریلوے نے کہا کہ ہم سرکلر ریلوے چلا دیں گے، چیف جسٹس نے کہا کہ افسران آرام سے کمروں میں بیٹھے ہوتے ہیں کسی کو کراچی کے عوام کی فکر نہیں، تھوڑے عرصے میں موقف بدل لیا جاتا ہے، اگلی سماعت پر آپ نیا نقشہ لے کر آ جائیں گے

    ہمارے سامنے ماسٹر نہ بنیں، کسی کے لاڈلے ہونگے،ہمارے نہیں،چیف جسٹس کے ریمارکس

    سپریم کورٹ نے دیا شہر قائد میں پارک کی زمین پر بنائے گئے فلیٹ گرانے کا حکم

    ماضی میں توجہ نہیں ملی،اب ہم یہ کام کریں گے، زرتاج گل کا حیرت انگیز دعویٰ

    عمران خان مایوس کریں گے یا نہیں؟ زرتاج گل نے کیا حیرت انگیز دعویٰ

    نہر کنارے درخت کاٹ کر ان کے ساتھ دہشت گردی کی گئی، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

    ملزم نے دو شادیاں کر رکھی ہیں،وکیل کے بیان پر چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے کیا ریمارکس دیئے؟

    سرکلرریلوے کی بحالی ،چیف جسٹس نے کی سماعت،سندھ حکومت نے دیا جواب

    اتنے بے بس ہیں تو میئر بننے کی کیا ضرورت تھی، جائیں اور یہ کام کریں، عدالت کا میئر کراچی کو بڑا حکم

    اربوں کی ریلوے کی زمین کروڑوں میں دینے پر چیف جسٹس نے کیا جواب طلب

    عمارت میں ہسپتال کیسے بند ہو گیا؟ کیسے معاملات ہمارے سامنے آ رہے ہیں؟ چیف جسٹس کے ریمارکس

    سپریم کورٹ نے دیا کرپٹ اور نااہل افسران کو فارغ کرنے کا حکم

    انگریزی بول کر ہمارا کچھ نہیں کر سکتے،غیرقانونی تعمیرات گرائیں، چیف جسٹس کا بڑا حکم

    مزار قائد کے سامنے فلائی اوور کیسے بن گیا؟ شاہراہ قائدین کا نام کچھ اور رکھیں، چیف جسٹس کا حکم

    کراچی کو مسائل کا گڑھ بنا دیا گیا،سرکاری زمین پر قبضہ قبول نہیں،کلیئر کرائیں، چیف جسٹس

    سپریم کورٹ کا کراچی کا دوبارہ ڈیزائن بنانے کا حکم،کہا آگاہی مہم چلائی جائے

    جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ آپ پندرہ ، بیس سال سے حکومت میں ہیں، آپ نے اپنے اداروں کے لئے بھی زمین نہیں چھوڑی، آپ کی حکومت کیا کر رہی ہے، سپریم کورٹ کے حکم سے پہلے کیا کر رہے تھے، جب قبضے ہو رہے تھے تو آپ کہاں تھے،عدالت نے سیکرٹری پر شدید برہمی کا اظہار کیا، چیف جسٹس نے کہا کہ زمین پر تو جگہ ہی نہیں بچی،

  • موجودہ بھارتی حکومت سے کوئی توقع نہیں، مسئلہ کشمیر کب حل ہو گا؟ وزیراعظم عمران خان بول پڑے

    موجودہ بھارتی حکومت سے کوئی توقع نہیں، مسئلہ کشمیر کب حل ہو گا؟ وزیراعظم عمران خان بول پڑے

    موجودہ بھارتی حکومت سے کوئی توقع نہیں، مسئلہ کشمیر کب حل ہو گا؟ وزیراعظم عمران خان بول پڑے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بھارتی قیادت آرایس ایس کے نازی نظریے پر عمل پیرا ہے، اقلیتوں پر مظالم کے ساتھ مقبوضہ کشمیر میں بھی انسانی حقوق کی مسلسل پامالی کی جا رہی ہے۔

    وزیراعظم عمران خان نے بیلجیم کے خبر رساں ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ بھارت میں انتہا پسند قابض ہیں، موجودہ بھارتی حکومت سے کوئی امید نہیں، مستقبل کی مضبوط لیڈر شپ کے ساتھ مسئلہ کشمیر حل ہوگا۔ بھارت کا انتہا پسندانہ نظریہ نازیوں اور ہٹلر سے متاثر ہے۔

    ترک صدر نے کیا کشمیر ، ایف اے ٹی ایف بارے اہم اعلان، کہا وفا کے پیکر پاکستانیوں کو کبھی نہیں بھول سکتے

    اقوام متحدہ مداخلت کرے، تقریر سے کچھ نہ ہوا تو دنیا کو پتہ چل جائے گا کشمیر میں کیا ہو رہا ہے، وزیراعظم

    اسلامی ممالک کو کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی دکھانی ہوگی، وزیراعظم

    کپتان ہو تو ایسا،اپوزیشن کی سازشوں کے باوجود وزیراعظم عمران خان کو ملی اہم ترین کامیابیاں

    وزیراعظم اور ترک صدر کی ملاقات، کیا بات چیت ہوئی؟ اہم خبر

    ترک صدر کے پہنچنے سے قبل پارلیمنٹ میں ایسا کیا کام کیا گیا کہ وزیراعظم بھی حیران رہ گئے

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں 70 ہزار پاکستانی شہید ہوئے، نائن الیون کے بعد 2019 پاکستان میں محفوظ ترین سال رہا۔ جب سے میری حکومت آئی ہے، افغانستان میں امن لانے کے لیے ہر ممکن کام کیا، پہلی بار ہم درست سمت جا رہے ہیں، امریکا اور طالبان نے ایک دوسرے سے مذاکرات میں رضا مندی ظاہر کی، اگلا مرحلہ سیز فائر کا ہوگا۔

    صحافیوں نے کیا پنجاب اسمبلی سمیت دیگر سرکاری تقریبات کے بائیکاٹ کا اعلان

    بلاول کا آزادی صحافت کا نعرہ، سندھ میں 50 سے زائد صحافیوں پر سنگین دفعات کے تحت مقدمات درج

    فردوس عاشق اعوان نے سنائی صحافیوں کو بڑی خوشخبری جس کے وہ 19 برس سے تھے منتظر

    2020 میڈیا ورکرز کی آسانیوں کا سال، فردوس عاشق اعوان نے سنائی بڑی خوشخبری،کیا قانون لایا جا رہا ہے؟ بتا دیا

    پی ٹی وی میں اچھے لوگوں کو پیچھے اور کچرے کو آگے کر دیا جاتا ہے، ایسا کیوں؟ قائمہ کمیٹی

    بسکٹ آسانی سے ہضم ہو جاتا ہے اس کے اشتہار میں ڈانس کیوں؟ اراکین پارلیمنٹ نے کیا سوال

    میرے پاس کوئی اختیار نہیں، قائمہ کمیٹی اجلاس میں چیئرمین پیمرا نے کیا بے بسی کا اظہار

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ سال 2019 پاکستان کے لیے ایک مشکل سال رہا، ایک سال میں معیشت میں بہتری لانے کی کوشش کی،

    وزیراعظم ہاؤس میں یونیورسٹی بارے اہم اجلاس،کتنے ڈیپارٹمنٹ ہوں گے، کتنی رقم درکار؟ فیصلہ ہو گیا

  • کنٹرول لائن پر بھارتی فوج کی فائرنگ سے پاک فوج کا جوان شہید،پاک فوج کے جوابی وارسے بھارتی فوج کا بڑے پیمانے پرجانی نقصان

    کنٹرول لائن پر بھارتی فوج کی فائرنگ سے پاک فوج کا جوان شہید،پاک فوج کے جوابی وارسے بھارتی فوج کا بڑے پیمانے پرجانی نقصان

    مظفر آباد:کنٹرول لائن پر بھارتی فوج کی فائرنگ سے پاک فوج کا جوان شہید،اطلاعات کےمطابق بھارتی فوج نے آج پھرپاکستانی افواج پرگولہ باری کردی،آئی ایس پی آر کےمطابق لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کی فائرنگ سے پاک فوج کا جوان شہید ہوگیا۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق بھارتی فوج کی ایک مرتبہ پھر سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کی ہےاور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے شہری آبادی کو نشانہ بنایا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی فوج نے ایل او سی پر وادی لیپا کے کیانی سیکٹر پر فائرنگ کی، پاک فوج کے جوانوں نے بھارتی فوج کی چوکیوں کو نشانہ بناتے ہوئے بھارتی فائرنگ کا موثر جواب دیا، فائرنگ کے تبادلے کے دوران سپاہی امتیاز علی شہید ہوگئے۔

    سپاہی امتیاز علی کی عمر 30 سال تھی اور ان کا تعلق ضلع نوشہرہ سے تھا، سپاہی امتیاز علی بہادری سے مادر وطن کا دفاع کرتے ہوئے شہید ہوئے۔

  • وزیراعظم ہاؤس میں یونیورسٹی بارے اہم اجلاس،کتنے ڈیپارٹمنٹ ہوں گے، کتنی رقم درکار؟ فیصلہ ہو گیا

    وزیراعظم ہاؤس میں یونیورسٹی بارے اہم اجلاس،کتنے ڈیپارٹمنٹ ہوں گے، کتنی رقم درکار؟ فیصلہ ہو گیا

    وزیراعظم ہاؤس میں یونیورسٹی بارے اہم اجلاس،کتنے ڈیپارٹمنٹ ہوں گے، کتنی رقم درکار؟ فیصلہ ہو گیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم ہاؤس میں یونیورسٹی کے قیام کے حوالہ سے اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں پاکستان سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ٹاسک فورس کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر عطاء الرحمن، ممبر سائنس و ٹیکنالوجی ڈاکٹر حسین عابدی اور ایچ ای سی کے سینئر عہدیداروں نے شرکت کی۔

    پروفیسر ڈاکٹر عطاء الرحمن نے شرکاء کو وزیراعظم ہاؤس میں یونیورسٹی کے قیام میں پیشرفت سے آگاہ کیا۔ وزراء کو بتایا گیا کہ منصوبہ کے تحت وزیراعظم ہاؤس میں یونیورسٹی میں 3 سنٹر آف ایکسیلینس اور 8 ڈیپارٹمنٹ ہوں گے جن میں جدید ٹیکنالوجی کی ترقی پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ یونیورسٹی میں 1000 سے زیادہ پی ایچ ڈی اور پوسٹ ڈاکٹریٹ فیلو اور 200 فیکلٹی ممبران کی جگہ ہو گی۔

    انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ابتدائی فزیبلٹی سٹڈی کیلئے 200 ملین روپے درکار ہیں۔

    اس موقع پر وفاقی وزیر اسد عمر نے وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کو ہدایت کی کہ یونیورسٹی سے متعلقہ ٹیکنالوجی پر فوکس کرنے کیلئے ایک خصوصی کمیٹی بنائی جائے جو پاکستان میں مینوفیکچرنگ انڈسٹری کی مدد کر سکے۔ منصوبہ بندی کے وزیر کو یونیورسٹی میں پیش کئے جانے والے وظائف کے بارے میں بھی بتایا گیا۔

    ترک صدر نے کیا کشمیر ، ایف اے ٹی ایف بارے اہم اعلان، کہا وفا کے پیکر پاکستانیوں کو کبھی نہیں بھول سکتے

    اقوام متحدہ مداخلت کرے، تقریر سے کچھ نہ ہوا تو دنیا کو پتہ چل جائے گا کشمیر میں کیا ہو رہا ہے، وزیراعظم

    اسلامی ممالک کو کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی دکھانی ہوگی، وزیراعظم

    کپتان ہو تو ایسا،اپوزیشن کی سازشوں کے باوجود وزیراعظم عمران خان کو ملی اہم ترین کامیابیاں

    وزیراعظم اور ترک صدر کی ملاقات، کیا بات چیت ہوئی؟ اہم خبر

    ترک صدر کے پہنچنے سے قبل پارلیمنٹ میں ایسا کیا کام کیا گیا کہ وزیراعظم بھی حیران رہ گئے

    وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی ترقی، اصلاحات و خصوصی اقدامات اسد عمر نے کہا ہے کہ پاکستان میں مینوفیکچرنگ کے شعبہ کو مسابقتی بنانے کیلئے جدید ٹیکنالوجی سے روشناس کرنے کی ضرورت ہے، وزیراعظم ہائوس میں یونیورسٹی کے قیام میں تاخیر نہیں ہونی چاہئے کیونکہ یہ ایک اعلیٰ ترجیحی منصوبہ ہے۔

    صحافیوں نے کیا پنجاب اسمبلی سمیت دیگر سرکاری تقریبات کے بائیکاٹ کا اعلان

    بلاول کا آزادی صحافت کا نعرہ، سندھ میں 50 سے زائد صحافیوں پر سنگین دفعات کے تحت مقدمات درج

    فردوس عاشق اعوان نے سنائی صحافیوں کو بڑی خوشخبری جس کے وہ 19 برس سے تھے منتظر

    2020 میڈیا ورکرز کی آسانیوں کا سال، فردوس عاشق اعوان نے سنائی بڑی خوشخبری،کیا قانون لایا جا رہا ہے؟ بتا دیا

    پی ٹی وی میں اچھے لوگوں کو پیچھے اور کچرے کو آگے کر دیا جاتا ہے، ایسا کیوں؟ قائمہ کمیٹی

    بسکٹ آسانی سے ہضم ہو جاتا ہے اس کے اشتہار میں ڈانس کیوں؟ اراکین پارلیمنٹ نے کیا سوال

    میرے پاس کوئی اختیار نہیں، قائمہ کمیٹی اجلاس میں چیئرمین پیمرا نے کیا بے بسی کا اظہار

    قبل ازیں گزشتہ روز قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں ممبر ٹاسک فورس برائے نالج اکانومی ڈاکٹر شعیب نے کہا کہ نالج اکانومی کے حوالے سے کل 27 منصوبے ہیں 6سانئس اینڈ ٹیکنالوجی کے منصوبے نالج اکانومی ٹاسک فورس نے بنائے ہیں وزیراعظم ہاوس کو یونیورسٹی بنانا بھی ایک منصوبہ ہے۔ جس میں بائیو ٹیکنالوجی، مائیکرو ٹیکنالوجی، آرٹیفیشل ٹیکنالوجی پر توجہ دیں گے اورماسٹر اور پی ایچ ڈی کے طلب علموں کو داخلہ دیں گے۔ وزیر اعظم ہاوس کے عقب میں سائنس اینڈ انجینئرنگ یونیورسٹی بنائی جائے گی اور اس کا راستہ قائداعظم یونیورسٹی کی طرف سے ہوگا۔سنٹر آف ایکسیلنس بنارہے ہیں۔ ملک بھر میں اس طرح کوئی یونیورسٹی نہیں ہے پاکستان میں جامعات کی تعداد ابھی بھی کم ہیں ۔سی ڈی ڈبلیو پی ہوچکی ہے جیسے ہی منظوری ہوجائے تو کرایے کی عمارت میں یونیورسٹی شروع کریں گے۔

    وزیراعظم ہاؤس کی بجائے یونیورسٹی کہاں بنے گی؟ فیصلہ ہو گیا، اہم اجلاس طلب

  • ایف اے ٹی ایف اجلاس میں بھارت کی رسوائی، حتمی فیصلے میں پاکستان سے مزید ڈومور کا امکان

    ایف اے ٹی ایف اجلاس میں بھارت کی رسوائی، حتمی فیصلے میں پاکستان سے مزید ڈومور کا امکان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے ایف اے ٹی ایف سے مذاکرات مکمل ہو گئے ۔

    نجی ٹی وی کے مطابق وزارت خزانہ کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ پاکستان کا بلیک لسٹ میں جانے کا خطرہ ٹل گیا ہے۔ باضابطہ اعلامیہ جمعہ کو جاری کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق وزارت خزانہ کا کہنا 13 کارکردگی اہداف پر جون 2020 میں دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔

    جبکہ حتمی جائزہ ستمبر 2020 تک مکمل کرنے کی ڈیڈ لائن دی جائے گی۔ پیرس میں جاری اجلاس کے دوران پاکستان کی جانب سے پیش کردہ رپورٹ کا جائزہ لیا گیا۔ پاکستانی حکام نے اجلاس کے شرکا کو دہشتگردوں کی مالی معاونت کرنے والوں کے خلاف کی گئی کارروائی سے آگاہ کیا اور بتایا کہ فنڈنگ روکنے کے لیے تمام اہداف پر پیشرفت کی گئی ہے۔

    بھارت کی ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کو بلیک لسٹ میں ڈالنے کی کوشش 2 بار ناکام ہوئی ہے،بھارت کی سازش کی کسی بھی ملک نے حمایت نہ کی، بھارت ایک بار پھر بری طرح ناکام ہوا، ایف اے ٹی ایف اراکین کا کہنا تھا کہ پاکستان موثر اقدامات کررہا ہے، کئی اقدامات لائق تحسین ہیں، پاکستان کو بلیک لسٹ میں ڈالنے کا بھارتی مطالبہ مسترد کر دیا گیا

    بھارت کی جانب سے مسعود اظہر کے معاملے کو بار بار اچھالنے کی کوشش کی گئی جس ارکان نے رائے دی ہے کہ پاکستان موثر اقدامات کررہا ہے اور اس کے کئی اقدامات لائق تحسین ہیں۔ارکان نے بھارتی وفد کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے مسعود اظہر کیخلاف جو بھی کیا وہ اس کی جمع کی گئی رپورٹ میں موجود ہے، رپورٹ کا مطالعہ کریں۔

    ذرائع کے مطابق پاکستان کے 27 میں سے 14 نکات پر مکمل عملدرآمد کی ہر سطح پر پزیرائی ہوئی ہے۔ارکان کی سفارشات کے مطابق پاکستان کو گرے لسٹ سے نکلنے کیلئے کچھ مزید اقدامات کرنا ہوں گے جس لئے اکتوبر تک مزید وقت دیئے جانے کا امکان ہے

    پیرس میں ایف اے ٹی ایف حکام پریس کانفرنس میں باقاعدہ لائحہ عمل کا اعلان کریں گے، ذرائع کے مطابق پاکستان ایف اے ٹی ایف کے بلیک لسٹ ہونے سے بچ گیا ،پاکستان کو ترکی، چین، ملائیشیا کے بعد سنگاپور، ہالینڈ، ہانگ کانگ، کینیڈا، امریکا، فرانس، جاپان، سعودی عرب اور برطانیہ کی حمایت بھی مل گئی تاہم پاکستان کو اکتوبر تک گرے لسٹ میں ہی رکھا جائیگا

    پاکستانی حکام نے ایف اے ٹی ایف اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ منی لانڈرنگ میں ملوث افراد پر جرمانہ دگنا کرنے کی قانون سازی آخری مراحل میں ہے جبکہ ستائیس اہداف میں سے چودہ پر واضح پیشرفت کی ہے۔

    دہشتگردوں تک فنڈنگ روکنے اور فنڈز کی روک تھام کے لیے مربوط حکمت عملی پر رکن ممالک اظہار اطمینان کیا۔ ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق مشکوک ٹرانزیکشن رپورٹ کا ڈیٹا پانچ سال کی بجائے دس سال تک رکھا جائے گا۔ منی لانڈرنگ میں ملوث افراد کی جائیداد چھ ماہ سے ایک سال تک ضبط کی جائیں گی

    فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے پاکستان کی جانب سے منی لانڈرنگ اورٹیرر فنانسنگ کے خلاف کیے گئے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ مذاکرات کے دوران پاکستان نےایف اے ٹی ایف حکام کو گزشتہ ساڑھے چار ماہ کی پیش رفت سے آگاہ کیا۔

    وفاقی وزیر حماد اظہر نے بریفنگ میں بتایا کہ کالعدم تنظیموں پر پابندیاں عائد کی جا چکی ہیں، منی لانڈرنگ روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے گئے، ٹیرر فنانسنگ کے حوالے سے کیس رجسٹریشن 451 فی صد اضافے کے ساتھ 827 ہو گئی، اس حوالے سے گرفتاریوں کی تعداد 1104 رہی، جو چھ سو ستتر فی صد زیادہ ہے۔

    پاکستان نے بتایا کہ ٹیرر فنانسنگ کیسز میں سزائیں دینے کے عمل میں 403 فی صد کا اضافہ ہوا جب کہ 196 سزائیں ہوئیں، ٹیرر فنانسنگ کے کیسز میں اکتیس کروڑ بیالیس لاکھ کی برآمدگی ہوئی اور خیبر پختون خوا میں 387 کیسز رجسٹرڈ ہوئے، ذرائع کے مطابق ایف اے ٹی ایف حکام نے پاکستان کی رپورٹ پر اظہار اطمینان کیا۔

    پاکستان 650 صفحات پر مشتمل رپورٹ پہلے ہی ایف اے ٹی ایف کو بھجوا چکا ہے، یہ رپورٹ 16 فروری سے شروع ہونے والے پیرس اجلاس میں زیر غور لائی جائے گی۔ پیرس اجلاس میں پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے کے حوالے سے ووٹنگ ہو سکتی ہے۔

    پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کو بھجوائے جانے والے جوابی رپورٹ میں منی لانڈرنگ کے خلاف اقدامات، دہشت گردوں تک رقوم روکنے کے طریقہ کار، دہشت گردوں تک اثاثوں اور زیورات کی منتقلی روکنے کے اقدامات کے حوالہ سے بتایا گیا ہے.

    پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کو جواب میں کہا ہے کہ دہشت گردوں تک رقوم پہنچانے کے 700 کیسز کی تحقیقات کیں، کالعدم تنظیموں تک رقوم پہنچانے والے 190 افراد کے خلاف کارروائی کی گئی، دہشت گردوں تک رقوم پہنچانے پر 170افراد زیر حراست ہیں، کالعدم تنظیموں کی ایک ہزار سے زائد جائیدادیں ضبط کیں

    پاکستان کوایف اے ٹی ایف نے 150سوالات پرمشتمل سوال نامہ بھیجا تھا،سوال نامے میں مدارس سے متعلق کیے گئے قانونی اقدامات کی تفصیلات پوچھی گئیں، ایف اے ٹی ایف کی جانب سے کالعدم تنظیموں کے خلاف درج مقدمات کی نقول مانگی گئی ہیں،ایف اےٹی ایف نے پاکستان سے کالعدم تنظیموں سے منسلک افراد کوسزادلوانے کا مطالبہ بھی کیا ہے،

    8 کالعدم تنظیموں کے خلاف کاروائی ،کتنے مقدمات، کتنی گرفتاریاں اور کیا سزائیں دی گئیں؟ رپورٹ سامنے آ گئی

    پاکستان نے مالیاتی اداروں کا ڈیٹا خفیہ رکھنے کا ہدف پورا کیا، پاکستان نے 9 اہداف پر بڑی پیش رفت کی، بے نامی داروں کے خلاف کارروائی میں بھی بہتری کی گئی، رپورٹ میں منی لانڈرنگ کے خلاف اقدامات شامل کیے گئے۔

    وفاقی وزیر برائے ریونیو حماد اظہر نے کہا ہے کہ پاکستان 2020 میں گرے سے وائٹ لسٹ میں آجائے گا۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے حماد اظہر کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال بالخصوص  آخری 4 ماہ میں ہونے والی پیشرفت کا اعتراف کیا گیا، تاہم اس حوالے سے مزید کام کرنے کی ضرورت ہے، پاکستان کو دیا گیا ایکشن پلان کسی بھی ملک کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہے،

    ایف اے ٹی ایف کا ایک بار پھر ڈومور، کالعدم تنظیموں کیخلاف کیا کیا؟ رپورٹ طلب

    ایف اے ٹی ایف کا پاکستان کی کوششوں کا اعتراف، ڈومور بھی کہہ دیا

    ایف اے ٹی ایف،پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی،کن ممالک نے کی پاکستان کی حمایت؟

    حماد اظہر کا مزید کہنا تھا کہ تمام ریگولیٹری اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مل کر کوشش کر رہے ہیں، وفاقی اور صوبائی محکمے بھی مل کر کام کر رہے ہیں۔

    واضح رہے کہ پاکستان ایف اے ٹی ایف کی تمام شرائط مانتا جا رہا ہے،وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، پاکستان سے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لئے فنڈنگ کی روک تھام، ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے پاکستان کو نکالنے اور ذمہ دار ممالک کی صف میں لانے کے لئے بنائی جانے والی کو آرڈی نیشن کمیٹی کا چیئرمین حماد اظہر کو بنایا گیا ہے.

    واضح رہے ایف اے ٹی ایف منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے مالی معانت کی روک تھام کے لیے بنائی گئی عالمی تنظیم ہے۔اس تنظیم نے 18 اکتوبر کو 4 ماہ کی مہلت دہتے ہوئے پاکستان پر زور دیا تھا کہ فروری 2020 تک ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد کرے کیونکہ اس وقت تک پاکستان ’گرے لسٹ‘ میں ہی موجود رہے گا

  • عدلیہ کے خلاف بیان بازی برداشت نہیں، وزیراعظم، اٹارنی جنرل سے استعفیٰ مانگا گیا تھا، وزارت قانون

    عدلیہ کے خلاف بیان بازی برداشت نہیں، وزیراعظم، اٹارنی جنرل سے استعفیٰ مانگا گیا تھا، وزارت قانون

    عدلیہ کے خلاف بیان بازی برداشت نہیں، وزیراعظم، اٹارنی جنرل سے استعفیٰ مانگا گیا تھا، وزارت قانون

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے پارٹی ترجمانوں کو سخت ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا عدلیہ کا احترام سب سے مقدم ہے، کسی بھی قسم کی بیان بازی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی، ڈسپلن کی خلاف وزری پر سخت کارروائی ہوگی۔

    دوسری جانب وزیراعظم عمران خان سے قانونی ٹیم کے ارکان نے ملاقات کی جس میں وزیر قانون فروغ نسیم، سابق وزیر قانون بابر اعوان، بیرسٹر علی ظفر اور شہزاد اکبر شامل تھے، ملاقات میں مختلف قانونی امور پر مشاورت کی گئی۔

    اٹارنی جنرل انور منصور کی جانب سے استعفیٰ دیے جانے کے دعوے پر وفاقی وزارت قانون کا ردعمل بھی آگیا۔ وزارت قانون کا کہنا ہے کہ انور مقصود نے استعفیٰ دیا نہیں ہے بلکہ ان سے ستعفیٰ لیاگیا تھا۔

    وزارت قانون کے مطابق انور منصور کا رویہ نامناسب تھا اس لئے استعفیٰ مانگا گیاتھااوراب انور منصور اٹارنی جنرل کے عہدہ پر کام نہیں کریں گے۔ اس حؤالہ سے وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے کہا تھا کہ انورمنصور سے کہا گیا تھا کہ وہ استعفیٰ دے دیں تو بہتر ہوگا۔

    دوسری جانب وفاقی حکومت نے اٹارنی جنرل انور منصور خان کے بیان سے لاتعلقی کااعلان کردیا،وفاقی حکومت نے متفرق درخواست سپریم کورٹ میں جمع کرادی

    میڈیارپورٹس کے مطابق 2صفحات پر مشتمل متفرق درخواست صدارتی ریفرنس کیس میں دائر کی گئی ہے ،درخواست میں کہاگیا ہے کہ انور منصور خان نے 18 فروری کو غیر ضروری زبانی بیان دیا،وفاقی حکومت اٹارنی جنرل کے بیان پر لاتعلقی کا اعلان کرتی ہے، درخواست میں مزیدکہاگیاہے کہ وفاقی حکومت عدلیہ کا بہت احترام کرتی ہے،حکومت ملک میں قانون کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے۔

    اٹارنی جنرل انور منصور اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے، انہوں نے اپنا استعفی صدر مملکت عارف علوی کو بھجوا دیا۔

    صدر مملکت کو بجھوائے گئے استعفے کے متن میں انور منصور نے کہا ہے کہ پاکستان بار کونسل نے تعیناتی پر سوال اٹھائے تھے، پاکستان بار کونسل نے استعفے کا مطالبہ کیا تھا، سپریم کورٹ، سندھ اور کراچی بار کا تاحیات رکن ہوں، اس صورتحال کی روشنی میں عہدے سے مستعفیٰ ہو رہا ہوں

    انور منصور کے عدالتی دلائل کے بعد وفاقی حکومت نے مستفی ہونے کا کہا تھا، وفاقی حکومت نے انور منصور کے قاضی فائز عیسی کیس میں دلائل سے لاتعلقی ظاہر کر دی۔ وفاقی حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ میں متفرق درخواست بھی دائر کر دی گئی۔

    وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے کہا ہے کہ عدالتوں کا احترام کرتے ہیں، حکومت نے انور منصور سے استعفیٰ طلب کیا تھا، حکومت کی طرف سے ایک جواب سپریم کورٹ میں جمع کرایا گیا، انور منصور نے بغیر اجازت سپریم کورٹ میں بیان دیا، انور منصور سے کہا گیا خود استعفیٰ دے دیں تو اچھا ہے۔

  • ارشد ملک ایئرفورس یا پی آئی اے، ایک کا انتخاب کریں،سابق وزیراعظم نے پی آئی اے کے ساتھ کیا سلوک کیا؟ چیف جسٹس کے اہم ریمارکس

    ارشد ملک ایئرفورس یا پی آئی اے، ایک کا انتخاب کریں،سابق وزیراعظم نے پی آئی اے کے ساتھ کیا سلوک کیا؟ چیف جسٹس کے اہم ریمارکس

    ارشد ملک ایئرفورس یا پی آئی اے، ایک کا انتخاب کریں،سابق وزیراعظم نے پی آئی اے کے ساتھ کیا سلوک کیا؟ چیف جسٹس کے اہم ریمارکس
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ میں طیارہ گمشدگی کیس کے حوالہ سے سماعت ہوئی،عدالت نے طیارہ گمشدگی سے متعلق پی آئی اے کی رپورٹ مستردکردی،

    عدالت نے پی آئی اے کے سربراہ کی تعیناتی سے متعلق کیس میں ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ارشدملک ایئرفورس یا پی آئی اے میں سے ایک کا انتخاب کریں ،قومی ایئر لائن کو عارضی نہیں مستقل سربراہ کی ضرورت ہے ،پی آئی اے میں عاضی تعیناتی حکومت کی غیر سنجیدگی ظاہر کرتا ہے ،پی آئی اے کو ایسا سربراہ چاہئے جو اسے عالمی معیار کی ایئرلائن بنائے ۔

    چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پی آئی اے کے طیارے افسران ذاتی استعمال میں لاتے رہے،ایک سابق وزیراعظم علاج کیلئے پی آئی اے کا جہاز ساتھ لے گئے ،جب تک وزیراعظم کا علاج ہوتا رہا طیارہ لندن ایئرپورٹ پر کھڑا رہا،عدالت کو سب معلوم ہے ہماراحافظہ کمزور نہیں ۔

    چیف جسٹس گلزار احمد کا مزید کہنا تھا کہ ہم ٹکٹ لینے جائیں تو کہا جاتا ہے نہ جہاز ہے نہ ٹکٹ ،ٹکٹ نہ ملے تو بذریعہ سڑک ہی ہم لاہور چلے جاتے ہیں ،وفاقی حکومت کے تمام اداروں کے سربرای عارضی ہیں۔

    قبل ازیں دوران سماعت چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ گمشدہ جہاز کے حوالے سے پی آئی اے کی رپورٹ پڑھی ہے،وکیل نیب نے کہا کہ پی آئی اے بورڈ نے عدالت کومکمل حقائق نہیں بتائے ،تحقیقات جاری ہیں ،عدالت مزید وقت دے ۔

    چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ نیب کو صرف وقت ہی چاہئے ہوتا ہے نیب اپنی تحقیقات جاری رکھے ،جسٹس اعجازالاحسن نے استفسار کیا کہ جہازفروخت کرنے کافیصلہ کب اورکہاں ہوا؟وکیل پی آئی اے بورڈ نے کہا کہ جرمن سی ای او نے جہازفروخت کرنے کافیصلہ کیا ۔

    چیف جسٹس گلزاراحمد نے کہا کہ فیصلہ یہ ہواتھا کہ جہاز کمرشل مقاصد کیلئے استعمال نہیں ہوگا،سلمان اکرم راجہ نے کہاکہ جہازمالٹا میں شوٹنگ کیلئے استعمال ہوا ،جہازمالٹا میں فلم کی شوٹنگ کیلئے استعمال ہوااس کے بعدجرمنی گیا ۔وکیل پی آئی اے بورڈ نے کہا کہ شوٹنگ کی مد میں ادارے کو2 لاکھ 10 ہزاریوروملے۔

    چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ پی آئی اے کے لوگو کیساتھ کیا معلوم کونسی فلم شوٹ ہوئی ہو گی ،فلم بنانے والی کمپنی اسرائیلی ہونا بہت سنجیدہ بات ہے ،جہاز کی قیمت فروخت سے زیادہ لگتا ہے جرمنی پہنچانے کی ادائیگی کی گئی ،جہازجرمنی ایئرپورٹ پرپارک ہوا۔

    سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ جائزہ لیاجارہا ہےجہازاتناعرصہ جرمنی کیوں کھڑارہا،چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ نجی کمپنیاں ادارے سے متعلق ایک دن میں فیصلہ کرتی ہیں،جس پر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ جہازفروخت کرنے کا فیصلہ پی آئی اے بورڈکا نہیں تھا،

    چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ پی آئی اے نے اپنا ایک جہازہی بھجوا دیا، پی آئی اے نےمزید 4 جہازبھی گراؤنڈ کیے ہیں، باقی 3 جہازکہاں فروخت ہوئےکچھ معلوم نہیں،کیا 3 جہازکھول کرکباڑخانے میں تونہیں دے دیئے؟ کیا ایسے حالات میں موجودہ انتظامیہ کوکام کرنے دیں؟کھلی عدالت میں مزید کچھ نہیں کہناچاہتا، پی آئی اے والےصرف کاغذی کارروائی کرکے آتے ہیں،

    قبل ازیں گزشتہ روز طیارہ گمشدگی کیس میں پی آئی اے نے سپریم کورٹ میں جواب جمع کروا دیا جواب میں کہا گیا کہ پی آئی اے کا جہاز گم نہیں ہوا فروخت کیا گیا۔

    پی آئی اے کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کرائے جانے والے جواب میں کہا گیا کہ طیارہ اپنی عمر 2016 میں پوری کر چکا تھا، سول ایوی ایشن کے اجازت سے جہاز گراؤنڈ ہونے کیلئے جرمنی بھیجا گیا، جہاز کو فلم کی شوٹنگ کیلئے بھی استعمال کیا گیا، شوٹنگ کی مد میں پی آئی اے کو 2 لاکھ دس ہزار یورو ملے، جہاز ایک لاکھ تین ہزار، دو انجن تیرہ لاکھ ڈالر میں فروخت ہوئے۔

    جواب میں مزید کہا گیا کہ موجودہ انتظامیہ نے چارج سنبھالا تو نیب اور ایف آئی اے تحیقیقات کر رہے تھے، پی آئی اے انتظامیہ تحیقیقات میں بھرپور تعاون کر رہی ہے۔ جواب میں ایئر مارشل ارشد ملک کا پاکستان ایئر فورس سے جاری این او سی بھی جمع کرا دیا گیا۔

    دوسری جانب وفاقی حکومت نے سی ای او پی آئی اے تقرری کیس میں سندھ ہائیکورٹ میں درخواست کو بدنیتی قراردیتے ہوئے سپریم کورٹ میں جواب جمع کروا دیا

    وفاقی حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کروائے گئے جواب میں کہا گیا ہے کہ ارشد محمود کی تعیناتی کی منظوری وفاقی کابینہ نے دی تھی ،ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد سی ای او پی آئی اے نے غیرقانونی کاموں کیخلاف سخت ایکشن لیا، ارشدمحمود ملک نے جعلی ڈگری اورغیرقانونی تقرریوں والوں کیخلاف بھی ایکشن لیا،سی ای او کی تعیناتی کے بعد پی آئی اے کے ریونیو میں 44 فیصداضافہ ہوا اور75 فیصد آپریشنل لاسز میں کمی آئی ۔

    وفاقی حکومت کے جواب میں مزید کہا گیا کہ ارشد محمود ملک نے بطورڈپٹی چیئرمین کامرہ میں ریکارڈ16 تھنڈر طیارے بنائے،بطور چیئرمین جے ایف تھنڈربلاک 3 بھی بنایا۔

    قبل ازیں آڈیٹر جنرل نے قومی ایئر لائن کے سی ای او کو ہٹانے کی سفارش کردی،آڈیٹر جنرل نے اپنی سفارشات میں کہا کہ ایئرمارشل ارشد ملک کو سی ای او کے عہدے سے برطرف کیا جائے،ایئرمارشل ارشد ملک کی پی آئی اے میں تقرری غیر قانونی ہے،ارشد ملک کی غیر قانونی تقرری کی تحقیقات غیرجانبدار ادارے سے کرائی جائے،ارشد ملک نے تقرری کے 8 ماہ کے دوران 30 لاکھ روپے الاؤنس وصول کیا،سی ای او پی آئی اے سے تمام الاوَنس واپس لئے جائیں،بورڈ آف ڈائریکٹر نےغیرملکی سی ای او کی طرح اس تقرری میں بھی غلطی کی،

    رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ اگر قواعد و ضوابط کے مطابق ائیر مارشل ارشد ملک انٹرویو بورڈ میں پیش ہوتے تو انہیں پاک فضائیہ سے مستعفی ہونا پڑتا۔ پی آئی اے نے آڈیٹر جنرل کے عملے سے تعاون نہیں کیا اس لیے نہیں بتایا جاسکتا کہ ارشد ملک نے کتنا مالی فائدہ ناجائز طور پر اٹھایا تاہم ایک تخمینے کے مطابق 8 ماہ کے دوران یہ فائدہ تقریباً 30 لاکھ روپے ہے۔

    رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ قواعد کے مطابق پی آئی اے میں چیف ایگزیکٹو آفیسر کی مدت ملازمت ختم ہونے سے تین ماہ قبل اخبارات میں اس عہدے کے لیے درخواستیں طلب کی جانی چاہییں لیکن ائیر مارشل ارشد ملک کے کیس میں بالکل الٹ کیا گیا۔

    انہیں 26 اپریل 2019 کو پہلے ایک حکم نامے کے ذریعے تین سال کی مدت کے لیے چیف ایگزیکٹو آفیسر مقرر کیا گیا اور اس کے بعد اخبار میں جو اشتہار دیا گیا اس میں وار کورس، شپنگ، نیول ایوی ایشن اور ملٹری آپریشنز یا ایسے ہی کسی متعلقہ تجربے کو شامل کیا گیا تاکہ دیگر امیدواروں کے مقابلے میں ائیر مارشل ارشد ملک کو ناجائز فائدہ پہنچایا جاسکے۔

    واضح رہےکہ پاکستان کی سب سے بڑی عدالت بھی ارشد ملک کو بحال کرنے کی استدعا مسترد کر چکی،سپریم کورٹ میں سی ای او پی آئی اے ارشد ملک کی کام پر بحالی سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی،چیف جسٹس گلزاراحمد کی سربراہی میں بنچ نے سماعت کی ۔

    چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چیئرمین پی آئی اے کو قانون کے مطابق آنا چاہئے،معلوم نہیں کوئی ایئر مارشل پی آئی اے کو کیسے چلائے گا؟ بہتر ہے ایئرمارشل پیک اپ کرلیں ۔چیف جسٹس نے حکومت کو طریقہ کار کے مطابق نیا پی آئی اے سربراہ تعینات کرنے کا حکم دے دیا۔

    چیف جسٹس گلزاراحمد نے کہا کہ ہمارا کوئی ذاتی مفاد نہیں یہ موصوف خود ڈیپوٹیشن پر آئے اور10 بندوںکو ساتھ لائے ،چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پی آئی اے پاکستان ایئر فورس کو ہی دے دیں حکومت کیوں چلا رہی ہے ؟،جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ جب سے یہ آئے ہیں 100 فیصد کرایہ بڑھا دیا ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ سی ای او کی تقرری کا اشتہاردیاگیا تھا ،

    جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ دیکھنا ہوگا اشتہارکو کوئی خاص ڈیزائن دے کر تو جاری نہیں کیا گیا،پرانے اشتہارات کا بھی جائزہ لیں گے ۔جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ اخبار میں خبر لگی ہے سی ای او نے کسی کموڈورکو 70 کروڑ کا بزنس دیا،جس کمپنی کو بزنس دیاگیا وہ 2 ماہ پہلے رجسٹرڈ ہوئی ۔

    چیف جسٹس گلزاراحمد نے کہا کہ عوام کے اثاثوں کے ساتھ کھلواڑنہیں ہوسکتا ،پی آئی اے قوم کا اثاثہ ہے اس کیساتھ کھلواڑ نہیں ہونے دیں گے ،سی ای او کو عارضی انتظامات کے تحت لایاگیا تھا،اٹارنی جنرل نے کہا کہ ارشد محمود کو طریقہ کار کے مطابق پی آئی اے میں سی ای او کنفرم کردیاگیاتھا،چیف جسٹس نے کہا کہ چیئرمین پی آئی اے کو قانون کے مطابق آناچاہئے،پی آئی اے کسی کی جاگیر نہیں قوم کا اثاثہ ہے

    عدالت نے سی ای او پی آئی اے ارشد محمود کو کام پر بحال کرنے کی استدعا مستردکردی،عدالت نے پی آئی اے کے بورڈآف ڈائریکٹرز کو کام کرنے کی اجازت دے دی،عدالت نے سندھ ہائیکورٹ سے مقدمے کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے سماعت 2 ہفتے کیلئے ملتوی کردی۔

    پی آئی اے کے ماہانہ خسارے میں کتنی کمی آئی، چیئرمین پی آئی اے کی وزیراعظم کو بریفنگ

    پی آئی اے نے 10 کروڑ 65 لاکھ روپے مالیت کا کھانا ضائع کردیا، یہ انکشاف آڈیٹرجنرل نے اپنی رپورٹ میں کیا ہے،

    پی آئی اے کا ایک اور کارنامہ، وزیراعظم سٹیزن پورٹل میں شکایت درج

    واضح رہے کہ سندھ ہائی کورٹ نے ایک درخواست کی سماعت کرتے ہوئے پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنز کے چیف ایگزیکٹو آفیسرائیرمارشل ارشد ملک کو کام کرنے سے روک دیا تھا، اس درخواست میں پی آئی اے کےاثاثوں کے حوالے سے بھی اہم اعتراضات اٹھائے گئے تھے، جس پرعدالت نے کہاکہ پی آئی اے میں خریدو فروخت پالیسی سازی اور ایک کروڑ سے زائد کے اثاثے بھی فروخت نہیں کرسکتے،یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ عدالت نے پی آئی اے میں نئی بھرتیوں،ملازمین کو نکالنے اورتبادلوں سے بھی روک دیا

    یاد رہے کہ ارشد ملک کے خلاف ساسا کے جنرل سیکٹری صفدر انجم نے عدالت سے رجوع کیا تھا،جس میں موقف اپنایا گیا تھا کہ ائیر مارشل ارشد ملک تعلیمی معیار پر پورا نہیں اترتے، درخواست گزارنے یہ بھی اعتراض کیا کہ ائیر مارشل ارشد ملک کا ائیر لائن سے متعلق کوئی تجربہ نہیں ہے

  • وزیراعظم کیخلاف توہین عدالت کی درخواست پر عدالت کا بڑا فیصلہ

    وزیراعظم کیخلاف توہین عدالت کی درخواست پر عدالت کا بڑا فیصلہ

    وزیراعظم کیخلاف توہین عدالت کی درخواست پر عدالت کا بڑا فیصلہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی درخواست قابل سماعت ہونے کے حوالہ سے فیصلہ سنا دیا

    لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مامون رشید شیخ نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی درخواست پر اعتراض ختم کرنے اور اسے قابل سماعت قرار دینے سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے رجسٹرار آفس کا اعتراض برقرار رکھتے ہوئے درخواست مسترد کردی۔

    ایڈووکیٹ محمد فیضان نصیر چوہان اور طاہر مقصود بٹ نے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ وزیراعظم نے 18 نومبر2019 کی تقریر میں اعلیٰ عدلیہ کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی۔ عمران خان کی مذکورہ تقریر توہین عدالت کے زمرے میں آتی ہے۔

    درخواست میں مزید کہا گیا تھا کہ عدالت سے قانون کے تقاضے پورے کرتے ہوئے کارروائی عمل میں لائی جائے۔ رجسٹرار آفس نے درخواست کو مصدقہ نقول لف نہ کرنے کا اعتراض کیا تھا۔

    وزیراعظم عمران خان کے خلاف توہین رسالت مقدمہ کے اندراج کے لئے درخواست دائر

    وزیراعظم کے خلاف توہین عدالت کی درخواست، عدالت نے فیصلہ سنا دیا، کیا فیصلہ آیا؟

    قبل ازیں اسی حوالہ سے ایک درخواست اسلام آباد ہائکورٹ نے بھی ماہ نومبر میں مسترد کر دی تھی، وزیراعظم عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی درخواست کے حوالہ سے اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ سنا دیا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے فیصلہ سنایا، عدالت نے درخواست مسترد کر دی،اور کہا کہ پٹیشن ناقابل سماعت ہے

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی درخواست کی سماعت کی۔ درخواست گزار سمیع اللہ خان ایڈووکیٹ نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے کی استدعا کی اور موقف اپنایا کہ وزیراعظم کی تقریر توہین عدالت کے زمرے میں آتی ہے، 18 نومبر کو عمران خان کی تقریر میں اعلی عدلیہ کو سکینڈلائز کرنے کی کوشش کی گئی، جبکہ تقریر کے متنازعہ حصہ کا ٹرانسکرپٹ درخواست کے ساتھ منسلک کر دیا گیا ہے۔

    چیف جسٹس اطہر من اللہ نے درخواست گزار کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ وزیراعظم کی تقریر سے آپ کیوں پریشان ہیں، کیا آپ منتخب وزیراعظم کا ٹرائل کرانا چاہتے ہیں ؟ کیا اپ اس کے نتائج سے آگاہ نہیں۔ کیا آپ نے کل کا ہمارا فیصلہ پڑھا ہے، جس میں توہین عدالت کے حوالے سے اصول طے کر دیئے ہیں، توہین عدالت کے حوالے سے پہلے آگاہی نہیں تھی اب آجائے گی، عدالتیں تنقید سننے کے لیے تیار ہیں۔

    چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دئیے کہ توہین عدالت فرد اور عدالت کے درمیان ہوتی ہے، عدالتیں تنقید کو ویلکم کرتی ہیں۔

    وزیراعظم کے خلاف توہین مذہب کی بنیاد پر نااہلی کی درخواست، عدالت نے سنایا بڑا فیصلہ

  • اللہ آپ کی مغفرت فرمائے ، درجات بلند کرے ،صحافی فصیح الرحمن کی وفات پرقومی رہنماوں کی تعزیت اورخدمات پرخراج عقیدت

    اللہ آپ کی مغفرت فرمائے ، درجات بلند کرے ،صحافی فصیح الرحمن کی وفات پرقومی رہنماوں کی تعزیت اورخدمات پرخراج عقیدت

    لاہور:اللہ آپ کی مغفرت فرمائے ، درجات بلند کرے ،صحافی فصیح الرحمن کی وفات پرقومی رہنماوں کی تعزیت اورخدمات پرخراج عقیدت ،باغی ٹی وی کے مطابق پاکستان کے معروف ،ہردلعزیز،ملنساراورخوش طبعیت کے حامل صحافی فصیح الرحمن کی وفات پرملک بھر کی قومی شخصیات کی طرف سے مرحوم کے لیے دعاوں کا سلسلہ جاری ہے،

    سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور ڈپٹی سپیکر قاسم خان سوری نے سینئر صحافی فصیح الرحمان خان کی وفات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ بدھ کو اپنے الگ الگ تعزیتی پیغامات میں انہوں نے سینئر صحافی فصیح الرحمان خان کی وفات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کی ناگہانی وفات کو اْن کے اہلخانہ کے لیے بڑا سانحہ قرار دیا۔ انہوں نے صحافت کے میدان میں فصیح الرحمان خان کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا۔ سپیکر اور ڈپٹی اسپیکر نے مرحوم کے روح کے ایصال ثواب اور پسماندگان کے صبر جمیل کی دعا کی۔

    وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے بھی فصیح الرحمان کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہارکیا ہے۔ اپنے پیغام میں معاون خصوصی نے کہا کہ ’شعبہ صحافت میں ان کی خدمات کو یاد رکھا جائے گا۔‘

    معروف صحافی محمد مالک نے صحافی فصیح الرحمن کی وفات پر تعزیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج ہم اپنے ایک بہت ہی اچھے ، خوش اخلاق اورنوجوان ساتھی سے محروم ہوگئے ہیں اللہ تعالیٰ‌ان کی مغفرت فرمائے ان کے درجات بلند کرے اوران کےگھروالوں کو صبر جمیل عطا فرمائے

    پاکستان کے ممتاز صحافی سینیئر اینکرمبشرلقمان نے خوش الحان ، خوش طیبعت اورمسکراہٹیں بکھیرنے والے صحافی فصیح الرحمن کی وفات پرگہرے دکھ اورغم کا اظہارکیا ہے ، مبشرلقمان فصیح الرحمن کی وفات پردرد بھرے الفاظ کے ساتھ اوردعاوں کے ساتھ رب جلیل کے سپرد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ آج فصیح کی موت ہمیں غمگین کرگئی ، اللہ سے دعا گوہوں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے بھائی فصیح الرحمن کی مغفرت فرمائے اورجنت الفردوس میں داخل فرمائے ، اللہ تعالیٰ ان کے خاندان بیوی بچوں کو صبر جمیل عطافرمائے

    مبشرلقمان فضیح الرحمن کو ان کی شاندار خدمات پرخراج تحسین بھی پیش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ تو بہت سی خوبیوں کے مالک تھے ،شریف النفس انسان تھے جن کی کمی شدت سے محسوس کی جائے گی ،ان کا غم کبھی بھول نہیں پائیں گے اور ان کا خلاکبھی پورا نہیں ہوگا

    سینیئرصحافی مطیع اللہ جان نے بھی فصیح الرحمن کی وفات پربہت گہرے دکھ اورغم کا اظہارکیا ہے، مطیع اللہ جان نے صحافی فصیح الرحمن کی مغفرت کی دعا کرتے ہوئے کہا ہےکہ سینیئر صحافی میرے فاضل دوست فصیح الرحمن دنیا فانی سے کوچ کرگئے ہیں ،اللہ ان کی مغفرت فرمائے ،

    مطیع اللہ جان صحافی فصیح الرحمن کی خدمات پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ فصیح الرحمن ایک منجہے ہوئے تجزیہ کار،تجربہ کاررپورٹراورپارلیمانی امورپربہت زیادہ دسترس رکھنے والے صحافی تھے ، ان کی کمی ہمیشہ محسوس رہے گی

    معروف تجزیہ نگاراویس توحید نے صحافی فصیح الرحمن کی وفات پر گہرے دکھ اورغم کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہےکہ وہ ایک بہت ہی اچھے انسان اوربہت بڑے صحافی تھے ان کی وفات کی خبرسن کر بہت رنجیدہ ہوا ہوں ، انہوں نے مختلف میڈیا گروپ میں کام کیا اور ہرجگہ عزت اور نام کمایا

    خوش الحان اورخوش طبیعت صحافی فصیح الرحمان کے انتقال کے واقع پر صدر ن لیگ شہبازشریف کی جانب سے بھی تعزیتی بیان جاری کیا گیا ہے اور کہا گیا کہ صحافی فصیح الرحمان کی خدمات قابل تعریف ہیں اور ایسے شخص کو تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

     

    مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب نے اپنے تعزیتی بیان کے بعد مجھ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں فصیح الرحمان وفات نے بے انتہا رنجیدہ کر دیا ہے۔’یہ خبر بہت دردناک ہے۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہی۔‘

    معروف صحافی نجم سیٹھی نے کا کہنا تھا کہ وہ حالت صدمہ میں ہیں۔ ’اس خبر پر یقین نہیں کر پا رہے۔ خدا انہیں غریق رحمت کرے۔نجم سیٹھی نے خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ فصیح الرحمان دراز قد، خوش گفتار اور ذہین انسان تھے

     

    صحافی عمرچیمہ، مرتضیٰ سولنگی اور مبشر زیدی نے بھی فصیح الرحمان کی اچانک موت کو انتہائی افسوس ناک خبر قرار دیا ۔ وفاقی دارالحکومت جہاں فصیح نے اپنا زیادہ تر کیریئر گزارا کا ہر صحافی آج سوگوار نظر آ رہا ہے ۔

     

    باغی ٹی وی کے مطابق قومی رہنماوں ، معروف صحافیوں ، تجزیہ نگاروں اوردیگراہم شخصیات کی طرف سے صحافی فصیح الرحمن کی وفات پرگہرے دکھ اوررنج کے اظہارکا سلسلہ جاری ہے اورساتھ ساتھ ان کی خدمات پران کو خراج تحسین بھی پیش کیا جارہا ہے

    گذشتہ شب لاہور سے تعلق رکھنے والے، بیروزگاری کے ہاتھوں تنگ ایک صحافی، فصیح الرحمان، دل کا دورہ پڑنے سے اسلام آباد میں پاگئے۔ تفصیلات کے مطابق فصیح الرحمان گھر کا واحد کفیل اور چار بچوں کا باپ تھا۔ فصیح الرحمان کا سب سے بڑا بیٹا سولہ جبکہ چھوٹا بیٹا تیرہ سال کا جبکہ دو بیٹیاں بالترتیب آٹھ اور سات سال کی ہیں۔