مقبوضہ کشمیر میں انٹرنیٹ پابندی ،بھارتی سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جموں کشمیر میں انٹرنیٹ خدمات اور مواصلاتی نظام پر عائد پابندیوں سے متعلق درخواستوں پر بھارتی سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا ہے۔ سپریم کورٹ کی تین رکنی بینچ نے کہا ہے کہ سیاسی معاملات پر کورٹ فیصلہ نہیں کر سکتی ۔ جینے کے حق کی حفاظت کی جانی چاہیے۔
بھارتی سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح انداز میں کہا کہ انٹرنیٹ پر پابندی لگانا مناسب نہیں ہے۔ یہ جمہوری ملک ہے، یہاں ہم کسی کو اس طرح نہیں رکھ سکتے۔ انٹرنیٹ پر پابندی اظہار رائے پر پابندی لگانے کے مترادف ہے۔ لوگوں کے حقوق نہیں چھینے جانے چاہیے۔ سات دنوں کے اندر دفعہ 144 پر جائزہ لیا جانا چاہیے۔ حکومتی دلائل کو سپریم کورٹ نے رد کر دیا۔ کہیں بھی دفعہ144 لگائی جائے تو اسے غیرمعینہ نہیں کیا جاسکتا۔ غیر معمولی حالات میں ہی اس کا نفاذ کیا جاسکتا ہے۔اس دفعہ کا استعمال بار بار نہیں کیا جانا چاہیے۔ حکومت کو اس پر واضح موقف پیش کرنا چاہیے۔
مودی سرکار کی جانب سے جموں و کشمیر سے آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد سے وادی میں مسلسل انٹرنیٹ سروسز متاثر ہیں ۔ بھارتی سپریم کورٹ میں متعدد افراد نے درخواست دائر کی تھی کہ جموں و کشمیر میں عائد پابندیوں سے متعلق سپریم کورٹ مداخلت کرے اور جلد از جلد وادی کے باشندوں کو پریشانیوں سے نجات دلائے۔
بھارتی حکومت نے 5 اگست 2019 کو پارلیمنٹ میں بل پاس کرکے اس کی خصوصی ریاست کا درجہ دلانے والی دفعہ 370 کو منسوخ کردیا تھا۔ جس کے بعد سے وہاں انٹرنیٹ سروسزمتاثر ہیں۔سپریم کورٹ مرکزی حکومت کی جانب سے جموں و کشمیر سے آرٹیکل 370 کے بیشتر دفعات کوغیر موثر کرنے کے بعد مواصلات سمیت مختلف سروسز پر لگائی گئی پابندیوں کے خلاف دائر درخواستوں پر بھارتی سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا.
جسٹس این وی رمن، جسٹس بی آر گوئی اور جسٹس سبھاش ریڈی کی تین رکنی بینچ نے تمام فریقوں کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔ بھارت کی مرکزی حکومت کی جانب سے پیش سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے دلائل پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ ریاست میں امن کی بحالی کے لیے پابندیاں لگائی گئی تھیں۔
5 اگست 2019: آرٹیکل 370 کو کالعدم کردیا گیا تھا،10 اگست 2019: انورادھا بھاسن نے میڈیا پر پابندیوں کو چیلنج کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ،12 ستمبر 2019: غلام نبی آزاد نے کشمیر میں عائد پابندیوں کو چیلنج کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں درخواست دی،5 نومبر 2019: سپریم کورٹ نے درخواستوں میں سماعت شروع کردی ،27 نومبر 2019: سپریم کورٹ نے فیصلہ محفوظ کیا تھا
اسلام آباد:مشرق وسطیٰ کشیدگی، وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا چار اہم ممالک کے دورے کا اعلان،اطلاعات کےمطابق وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہاہے کہ مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کو کم یا ختم کرنے کے لیے جلد ایران، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور امریکا کے دورے کروں گا۔
نجی ٹی وی کے پروگرام کے میزبان ارشد شریف کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان کی کوشش ہے کہ مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کم کرنے کے لیے اقدامات کرے، وزیراعظم نےخواہش کا اظہارکیا، اب کشیدگی کم کرنےکے لیے قدم اٹھاؤں گا اور مختلف ممالک کے دورے کروں گا۔
شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ میری مختلف ممالک کے حکام سے گفتگو ہوئی اور سب نے کشیدگی کم کرنے پر زور دیا کیونکہ یہ خطہ مزید کشیدگی کا متحمل نہیں ہوسکتا، ایران، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور امریکا کے دورے کروں گا۔
اُن کا کہنا تھا کہ امریکی صدرکے گزشتہ روز دیے جانے والے بیان سےمثبت اشارےملےہیں، ایران کی جانب سےبھی کشیدگی کم کرنےکےاشارےملےہیں، دونوں ممالک کے خراب تعلقات اور جنگی ماحول خطے سمیت پوری دنیا کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
اسلام آباد:سب سے پہلے دینی مدارس میں اعلیٰ معیارکے 70 ٹیکنیکل سینٹرزقائم کیئے جائیں،مجھے دینی مدارس اوران میںزیرتعلیم بچوں سے بڑی محبت ہے ،میں چاہتا ہوں کہ ان مدارس کے فارغ التحصیل طالبعلم لیڈربنیں ، دین کے ساتھ جب دنیا کی تعلیم سے بہرہ مند ہوں گے تو ان کے لیے دعوت دین اورآسان ہوجائے گی ، ان خیالات کا اظہاروزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئےکیا
وزیراعظم نے دینی مدارس میں اعلیٰ معیار کے ٹیکنیکل سینٹرزقائم کرنے کےحوالےسے حکم دیتے ہوئے کہاکہ سب سے پہلے دینی مدارس میں یہ سینٹرزقائم کیئے جائیں ،وزیراعظم نے مزید کہاکہ مجھے روزانہ کی بنیاد پردینی مدارس کے طلبا کےلیے کئے گئے اقدامات کےحوالے سے آگاہ کیا جائے ،
یاد رہےکہ چند دن قبل ایک اہم اجلاس میں اپنی دلی خواہش کا اظہارکرچکے ہیں کہ وہ دینی مدارس کے طلبا کو سی ایس پی آفیسرز، بیوروکریٹس،ججز،ڈاکٹرز اورانجنیئرزدیکھا چاہتے ہیں ، اس اجلاس میں وزیراعظم نے متعلقہ حکام کویہ حکم دیا کہ اس سلسلے میں جو بھی اقدامات کیے جانے مقصود ہوںاوراس ضمن میں جو کچھ بھی درکارہومجھے بتایا جائے میں ہر حال میں بہترانتظام کرکے دوں گا
اسلام آباد: سعودی عرب اورایران کے درمیان اختلاف سے امت میں اختلافات،پاکستان کے نوجوان ذمہ داریاں نبھانے کے لیے تیاررہیں، سعودی عرب اورایران کے درمیان بھائی چارہ اوراخوت چاہتے ہیں اوراس کےلیے خلوص دل دے کوشاں ہیں، اطلاعات کےمطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پوری کوشش ہے کہ سعودی عرب اور ایران میں دوستی کرائیں۔
اسلام آباد سے ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے ہنر مند پاکستان منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اب پاکستان کبھی کسی کی جنگ میں شرکت نہیں کرے گا، جنگ کوئی نہیں جیتتا جوجیتتا ہے وہ بھی ہار جاتا ہے۔عمران خان نے کہا کہ ہم پہلے کسی اورکی جنگوں میں شرکت کرتے رہے ہیں، پاکستان وہ ملک بنے گا جو دوسروں کے درمیان امن پیدا کرے، ٹرمپ سے بھی کہا تھا امریکہ اور ایران میں دوستی کرانے کو تیار ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ 2020 ملک کو اوپر لے جانے کا سال ہے، 2020 میں زیادہ تر پیسہ تعلیم اور ٹیکنیکل تعلیم پر خرچ کیا جائے گا، 30 ارب سے ہنر مند پاکستان پروگرام میں 5 لاکھ نوجوانوں کو ہنر سکھایا جائے گا۔
عمران خان نے کہا کہ نوجوانوں پر خرچ کرکے ملک کو سپر پاور بناسکتے ہیں، نوجوانوں پر خرچ کرنے کے لیے ہنرمند پاکستان پروگرام پہلا قدم ہے، پہلے فیز میں ایک لاکھ 70 ہزار نوجوانوں کو ہنر سکھایا جائے گا، ہنر مند پاکستان پروگرام میں 500 ٹیکنیکل ٹریننگ سینٹر کھولے جائیں گے۔
وزیراعظم نے کہا کہ خوشی ہے پہلے فیز میں 70 ٹیکنیکل ٹریننگ سینٹر مدرسوں میں کھولے جائیں گے، سب سے پہلے مدرسوں کے بچوں کو مین اسٹریم میں لے کر آئیں گے، اسمارٹ ٹیکنیکل سینٹر کے ذریعے نوجوانوں کے ہنر کو عالمی سطح پر اجاگر کیا جائے گا۔
وزیراعظم نے کہا کہ دنیا کی دوسری بڑی نوجوانوں کی آبادی پاکستان میں ہے، حکومت ایسی فضا بناسکتی ہے جس میں نوجوانوں کو نوکریاں مل سکیں، پاکستان کا سب سے بڑا اثاثہ نوجوان ہیں۔ قوموں کی زندگی میں برا وقت آتا ہے تاکہ اپنی اصلاح کی جائے، پاکستان مشکل وقت سے نکل رہا ہے اور استحکام کی جانب گامزن ہے۔
رات گئے بغداد میں امریکی سفارتخانے پرایک بار پھر بڑا حملہ
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بغداد میں امریکی سفارتخانے کے قریب راکٹ حملوں کی اطلاع ہے، خبررساں ادارے کے مطابق عراقی دارلحکومت بغداد میں امریکی سفارتخانے پر راکٹ حملہ کیا گیا ہے تا ہم راکٹ گرین زون میں گرے امریکی سفارتخانے کو راکٹ حملوں سے کوئی نقصان پہنچا، خبررساں ادارے کا کہنا تھا کہ دو راکٹ فائر کئے گئے جس کے بعد علاقے میں سیکورٹی فورسز پہنچ گئیں اور علاقے کوگھیرے میں لے لیا.
راکٹ حملے کے بعد امریکی سفارت خانے میں سائرن بجنے لگے۔ ایک خبر رساں ادارے نے عراقی سیکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ راکٹوں میں سے ایک راکٹ وزیر برائے کونسل کی زیر تعمیر عمارت اور دوسرا امریکی سفارتخانے کے قریب ایک جھیل کے درمیان گر گیا.
گرین زون بغداد میں بین الاقوامی کوارٹر کا مشترکہ نام ہے ، اور یہ 2003 میں عراق پر حملہ کرنے والی بین الاقوامی اتحادی فوجوں کے ذریعہ قائم کیا گیا تھا۔ گرین زون کا رقبہ لگ بھگ 10 کلومیٹر ہے ، اور یہ عراق کے ایک انتہائی محفوظ فوجی مقامات میں سے ایک ہے۔ گرین زون میں امریکی سفارت خانے کے صدر دفتر اور سرکاری و غیر ملکی تنظیموں اور ایجنسیوں کے صدر مقامات کے علاوہ حکومت اور فوج کے دفاتر ہیں.
ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کے امریکی حملے میں ہلاکت کے بعد ایران کی جانب سے بغداد میں عین الاسد اور اربیل امریکی ہوائی اڈوں پر میزائل حملے کیے گئے۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے آپریشنز ہیڈ کوارٹر آکر کارروائی کی سربراہی کی۔ ایرانی میڈیا کے مطابق عراق میں امریکی ایئربیس پر 30 میزائل داغے گئے۔
پنٹاگون نے عراق میں امریکی فوج کے اڈے پر حملے کی تصدیق کر دی۔ امریکی محکمہ دفاع کے مطابق حملہ مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے 5 بجے ایران سے کیا گیا
ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ متناسب جواب دے دیا، اسی فوجی اڈے کو نشانہ بنایا جہاں سے ایرانی جنرل کو ہدف بنایا گیا تھا۔ اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت سیلف ڈیفنس میں کارروائی کی۔
واضح رہے کہ بغداد ایئر پورٹ پر امریکی فضائی حملے میں ایرانی جنرل سمیت 9 افراد ہلاک ہو گئے، فضائی حملے میں ہلاک جنرل قاسم سلیمانی القدس فورس کے سربراہ تھے، عراقی میڈیا کا کہنا ہے کہ دیگر ہلاک شدگان میں ایران نواز ملیشیا الحشد الشعبی کا رہنما بھی شامل ہے۔
بغداد میں امریکی حملے پر ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنرل سلیمانی پر حملہ عالمی دہشت گردی ہے، امریکا کو اس حرکت کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔ ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے اس حملے کو عالمی دہشت گردی قرار دیا ہے۔ ایران نے انتقام لینے کا اعلان کیا ہے، عراق نے بھی امریکا کی فوج کے انخلا کی قرار داد منظور کر لی ہے جس پر امریکہ نے عراق کو بھی دھمکی دی ہے، پاکستان نے خطے میں امن کے لئے بات چیت سے معاملہ حل کرنے کا کہا ہے، دیگر ممالک نے بھی بات چیت پر زور دیا ہے،
امریکا کے ایرانی جنرل قاسم سلیمانی پر حملے میں ہلاکت کے بعد مشرق وسطیٰ کے حالات کشیدہ ہیں، ایران نے انتقام لینے کی دھمکی دی ہے، امریکی صدر ٹرمپ بھی دھمکی آمیز بیانات دے رہے ہیں، امریکی وزیر خارجہ نے پاکستان اور سعودی عرب سے رابطہ کیا ہے، چین ،پاکستان نے دونوں ممالک کو پرامن رہنے کی اپیل کی ہے اور بات چیت سے معاملہ حل کرنے کا کہا ہے،اسرائیل بھی ہائی الرٹ ہے،
فواد چودھری کی بدتمیزی، مبشر لقمان نے کیا اہم اعلان،ثاقب کھرل نے معافی کیوں مانگی؟ انکشاف کر دیا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے فواد چودھری کی جانب سے بد تمیزی پر خاموشی توڑ دی، اپنے ویڈیو پیغام میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ میں تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین سے گلے مل کر پیچھے ہو رہا تھا تو فواد چوہدری نے پیچھے سے آ کر اوئے کر کے آواز دی ،اس کے بعد انہوں نے اپنا ہاتھ گھما یا ۔فواد چوہدری کے ساتھ دو تین لوگ تھے سفید کپڑوں میں جنہوں نے آکر مجھے پکڑ لیااور دھکے دینے شروع ہو گئے تاکہ میں کوئی جواب نہ دے سکوں ۔
مبشر لقمان نے مزید کہا کہ وہاں پر عثمان بزدا ر بھی موجود تھے ،میں نے جا کر انہیں شکایت کی جس پرانہوں نے جواب دیاکہ ہم اس معاملے کو مکمل طور پر دیکھ کر تحقیق کرتے ہیں ،میں نے عثمان بزدار سے کہا تحقیق کیا کرنی ہے ،آپ بھی اس ہال میں موجود ہیں ،گورنر پنجاب اور محسن لغاری بھی ہیں ۔اس معاملے پر وزیراعظم سے بات ہوئی ہے ،انہیں ساری بات بتائی ہے جس پر وزیراعظم کا ایک جواب بھی آیا ہے جو کہ ان کی امانت ہے ،میں نجی پیغام کو لوگوں کے سامنے بیان نہیں کرسکتا ۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ میں نے فوری طور پر پولیس کو رپورٹ کی ہے لیکن ابھی تک ایف آئی آر درج نہیں ہوئی،ہم قانونی طریقے سے دیکھیں گے کہ تھوڑے دنوں تک ایف آئی آر ہوتی ہے یا نہیں ا ور اگر ایف آئی آر درج نہیں ہوتی تو عدالت سے رجوع کریں گے ۔
مبشر لقمان نے مزید کہا کہ جب فواد چوہدری نے شادی میں میرے ساتھ بد تمیزی کی تو اِس کے بعد میری ٹیم نے میرے گھر بیٹھ کر جواب دینے کی پلاننگ شروع کی جہاں ثاقب کھرل بھی تھے ،اتنی دیر میں ثاقب کھرل میرے گھر سے اٹھ کر فواد چوہدری کے گھر گئے جو میرے گھر سے تین منٹ کی دوری پر ہے۔اس دوران میرے ایک پرڈیوسر نے ثاقب کھرل کو فون کر کے ملنے کا کہا تو ثاقب کھرل فواد چوہدری کے گھر سے اٹھ کر میرے پروڈیوسر سے ملے ،ثاقب کھرل نے میرے پروڈیوسر سے کہا کہ مجھ پر بہت دباؤ ہے ،میری بیوی نے فون کر کے کہا ہے کہ اگر فواد چوہدری سے معاملات ٹھیک نہیں کیے تو میں تمہیں طلاق دے دوں گی کیونکہ فواد چوہدری اور ثاقب کھرل کی بیویاں سہیلیاں ہیں ۔اس کے بعد ثاقب کھرل نے ٹوئٹ کر کے فواد چوہدری سے معافی مانگی ۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ یہ لڑائی کوئی آج شروع نہیں ہوئی اس کو سات مہینے ہوئے ہیں اور آج تک مجھے پتہ چلا کہ ایک لوگوں نے کہا کہ آپ نے فواد چودھری یا اس کے پی اے کو کال کر کے غلط زبان استعمال کی جس پر میں نے کہا کہ ایک دو دن یا ایک ہفتے کو چھوڑ کر پچھلے سات مہینے میں کوئی کال دکھائیں جو میں نے انکو کی ہو، آپ کے پاس کال کا ریکارڈ نہیں ہو گا تو کال آنے کا ریکارڈ تو ہو گا، وہ تو ٹیلی فون کمپنی دے دی گی کہ اس نمبر سے کال آئی اور اسکا وقت کیا تھا ،یہ کوئی مشکل نہیں.
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ بہانہ بنایا جا رہا ہے ایک انٹرویو کا جو میں نے ایک صحافی کا کیا نیو ٹی وی کے اینکر کا،اور یوٹیوب پر کیا، جس میں انہوں نے بڑے بڑے کلیم کئے ،وہ ان کے اپنے کلیم ہیں ، خود ساختہ کلیم ہیں کیونکہ میں نہیں کہہ رہا،وہ ان دو لڑکیوں کے جن کا آج کل بڑا چرچا ہے حریم اور صندل ،ان دونوں کے بہت قریب ہیں،وہ ان کی بات سنتی ہیں، باتیں ایکسچینج کرتی ہیں ،یہ انہوں نے مجھے کہا ،میں نہیں کہہ رہا،دیکھیں اس میں ایک مسئلہ سمجھنے کی کوشش کریں .خواتین سے مسئلہ چار مہینے پہلے شروع ہوا اور فواد چودھری سے سات مہینے پہلے،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ فواد چودھری سے جتنی میری دوستی رہی وہ بھی اوپن ہے میں نے کبھی چھپایا نہیں، ایک ٹائم آ یا کہ وزیر بننے کے بعد میرے اور فواد چودھری کے راستے جدا ہو گئے اسکی کئی وجوہات ہیں،بڑی وجہ یہ تھی کہ جب فواد چودھری نے مخالفت شروع کر دی جب انہوں نے ایم ڈی پی ٹی وی ارشد خان کی، ارشد خان کو عمران خان نے خود ایم ڈی پی ٹی وی لگایا تھا ،فواد چودھری نے یونین کو اکسایا اورکہا کہ پی ٹی وی پر قبضہ کر لو،ارشد خان کو نہ آنے دو جس پر میں نے چینل پر کئی پروگرام کئے اور ان پر تنقید کی ، آڑے ہاتھوں لیا، موصوف کی اطلاعات و نشریات کی پالیسیز پر کڑی تنقید کی،فواد چودھری نے آتے ہی کہہ دیا تھا کہ نیوز چینل تو غلط ہیں، ہمیں انکی ضرورت ہی نہیں، ہمیں فلمی چینل شروع کرنے ہیں، پی ٹی آئی وہ پارٹی ہے جو میڈیا اور سوشل میڈیا کی وجہ سے اقتدار میں آئی انہیں سمجھ ہی نہیں آئی کہ پورے کا پورا میڈیا اور سوشل میڈیا ان کے خلاف کیوں ہو گیا.
ٹک ٹاک سٹار حریم شاہ کے ساتھ فواد چوھدری کی ویڈیو آنے کے ممکنہ انکشاف کے بعد فواد چوھدری نے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان پر ایک نجی تقریب میں اپنے غنڈوں کے ساتھ تشدد کیا جس پر مقامی تھانے میں اندراج مقدمہ کی درخواست دے دی گئی ہے تا ہم فواد چودھری اس دوران جھوٹ بولتے نظر آئے.
سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ فواد چودھری کو وزارت سے ہٹایا جائے، صحافتی تنظیموں نے بھی اس واقعہ پر احتجاج ریکارڈ کروایا ہے اور فواد چوھدری کے خلاف احتجاج کا اعلان بھی کیا ہے،
ایک صارف نے لکھا کہ مبشر لقمان نے ایٹ لیسٹ یہ سچ قوم کے سامنے لاکر بہت بڑا جھاد کیا ھے اسپر پوری قوم کو مبشر کا شکرگزار بھی ھونا چاھئیے اور فواد چودھری کی غنڈہ گردی کے خلاف اوز بھی اٹھانی چاہئیے
ایک اور صارف نے لکھا کہ فواد چودھری کو اینکرز پرغصہ دیکھانے کی بجائے اپنے اعمال پرنظرثانی کرنی چاہئیے، اگر کردار مضبوط ہوگا توکوئی انگلی نہیں اُٹھائیگا،PTIکو بدکردارلڑکی نے نشانہ بنایا ہے جو مریم نواز کی بھی دوست ہے،مریم نواز تو بھارتی کالی دیوی ہےاس سے رقم لےکر بدنام کیاگیا ہے،ویڈیوزکا ذکرمریم نےبھی کیاتھا.
مختلف پارٹیاں بدلنے والے فواد چودھری جب سے حکومت میں آئے ہیں صحافیوں اور اپوزیشن کے خلاف بیانات ان کا وطیرہ بن چکا ہے یہاں تک کہ ایک نجی تقریب میں انہوں نے سینئر صحافی و اینکر پرسن سمیع ابراہیم کو تھپڑ مار دیا تھا,سمیع ابراہیم نے کہا تھا کہ ججز یکجہتی کے حوالہ سے تحریک شروع ہو رہی ہے جو حقیقت میں پاکستان اور پاک فوج کے خلاف ہے، اس تحریک کو انڈیا و امریکہ کی مدد حاصل ہو گی، اپوزیشن جماعتیں وکلاء کے ساتھ تحریک میں حصہہ لیں گی. ،سمیع ابراہیم نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ تحریک انصاف کے اندر سے لوگ تحریک انصاف کو چھوڑ دیں گے انہوں نے فواد چوہدری کے بارے میں کہا تھا کہ وہ پیپلز پارٹی سے رابطے میں ہیں اور وہ تحریک انصاف چھوڑنے والوں کی قیادت کریں گے.
سینئر صحافی و واینکر پرسن سمیع ابراہیم کو فواد چودھری کی جانب سے تھپڑ مارے جانے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے سمیع ابراہیم سے رابطہ کیا تھا
راولپنڈی:پاکستان خطے میں جنگ ٹال سکتا ہے، حسب روایت اپنا کرداراداکرے،امریکی سیکرٹری دفاع کاآرمی چیف کوفون،باغی ٹی وی کےمطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ خطے میں امن کے لیے ہر قسم کی کاوش کی حمایت کریں گے۔
COAS received telephone call from US Secretary of Defence Mr Dr. Mark T. Esper. Both discussed ongoing security situation in the Middle East.The Secretary expressed that US doesn’t want to seek conflict, but will respond forcefully if necessary. (1/3).
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف سے امریکی سیکریٹری دفاع ڈاکٹر مارک ایسپر نے ٹیلیفونک رابطہ کیا جس میں مشرق وسطیٰ کی سیکیورٹی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا،ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا ہےکہ امریکی سیکرٹری دفاع سے بات کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ حالات مزید کشیدہ نہ ہوں، خطے میں امن کے لیے ہر قسم کی کاوش کی حمایت کریں گے۔
“We would like situation to de-escalate & shall support all initiatives which bring peace in the region.We call upon all concerned to avoid rhetoric in favour of diplomatic engagement. We all have worked a lot to bring peace in the region by fighting against terrorism”,COAS.(2/3)
آرمی چیف نے کہا کہ ہم ہہ چاہتے ہیں کہ فریقین بیان بازی سے گریز کریں، نئی محاذ آرائی کی طرف بڑھنے کے بجائے خطے میں کشیدگی کا خاتمہ کیا جائے۔آرمی چیف نے کہا کہ ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کرکے خطے میں امن کے لیے اقدامات کیے، پاکستان افغان امن عمل میں اپنا بھرپور کردار ادا کرتا رہے گا۔آئی ایس پی آر کے مطابق امریکی سیکریٹری دفاع کا کہنا تھا کہ امریکا جنگ نہیں چاہتا لیکن ضرورت پڑی تو جارحیت کا جواب دیں گے۔
واضح رہے کہ چند روز قبل آرمی چیف سے امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے ٹیلیفونک رابطہ کیا تھا، جس میں علاقائی صورت حال بالخصوص مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر بات چیت کی گئی تھی۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ ہر ممکن طور پر تحمل کا مظاہرہ کیا جانا چاہئے، خطے میں امن و استحکام کے لیے سب تعمیری کردار ادا کریں۔امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کا کہنا تھا کہ ایران خطے میں صورت حال کو کشیدہ کررہا ہے، خطے میں امریکی مفادات کا تحفظ کررہے ہیں، امریکی مفادات، اہلکاروں، تنصیبات اور شراکت داروں کا تحفظ کریں گے۔
راولپنڈی:آرمی چیف سے چین اور ایران کے سفیر کی ملاقات،جنگ روکنے لیے پاکستان کوکرداراداکرنے کی درخواستآرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے چین اور ایران کے سفیر نے الگ الگ ملاقاتیں کیں جس میں خطے کی سیکیورٹی صورت حال اور امریکا ایران کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
H.E Mr Yao Jing Ambassador of China to Pakistan and H.E Mr Seyyed Mohammad Ali Hosseini, Iranian Ambassador to Pakistan separately called on COAS at GHQ. Regional security situation including US-Iran stand off was discussed. pic.twitter.com/ai1sYsrSmw
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق چین کے سفیر یاؤ جنگ نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی، جس میں خطے کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ایرانی سفیر مہدی ہنر دوست نے بھی اہم ملاقات کی، جس میں امریکا، ایران سمیت مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ حالات مزید کشیدہ نہ ہوں، خطے میں امن کے لیے ہر قسم کی کاوش کی حمایت کریں گے۔جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا تھا کہ سفارتی تعلقات کی بحالی کے لیے چاہتے ہیں کہ فریقین بیان بازی سے گریز کریں، نئی محاذ آرائی کی طرف بڑھنے کے بجائے خطے میں کشیدگی کا خاتمہ کیا جائے۔آئی ایس پی آر کے مطابق امریکی سیکریٹری دفاع کا کہنا تھا کہ امریکا جنگ نہیں چاہتا لیکن ضرورت پڑی تو جارحیت کا جواب دیں گے۔
خطے میں جنگ کوروکنے کے لیے عمران خان متحرک ، وزیرخارجہ کو اہم ذمہ داریاں دے کرروانہ ہونے کا حکم دے دیا ہے،اطلاعات کے مطابق خطے میں منڈلاتے ہوئے جنگ کے بادل گہرے ہوتے جارہےہیں تودوسری طرف پاکستان نے خطے کوجنگ سے بچانے کےلیے پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے سفارتی کوششیں تیز کردی ہیں
باغی ٹی وی کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر کے ذریعے قوم کوحکومت کی سفارتی کوششوں سے آگاہ کرتے ہوئے کہا ہےکہ انہوں نے شاہ محمود قریشی کوسعودی عرب ، ایران اورامریکہ کے دورے پربھیج رہا ہوں
I have asked FM Qureshi to visit Iran, KSA & USA to meet with respective foreign ministers, Secretary of State; & COAS Gen Bajwa to contact relevant military leaders to convey a clear message: Pakistan is ready to play it's role for peace but it can never again be part of any war
وزیراعظم نے خطے کی بگڑتی ہوئی صورت حال کو سنبھالنے کی کوششوں کے سلسلے میںپاکستان کے کردار کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کسی بھی صورت خطے میں جنگ کوبھڑکنے نہیں دےگا، ، وزیراعظم نے مزید کہا کہ انہوں نے آرمی چیف جنرل باجوہ کوبھی کہا ہےکہ وہ ان ممالک کے فوجی سربراہان سے ر ابطہ کریں اورجنگ کوروکنے کی بھرپورکوششیں کریں
ذرائع کےمطابق عمران خان خود بھی عالمی رہنماوں سے رابطے میں ہیں اوران کوخطے میں جنگ روکنے کے حوالے سے اپنے ذرائع استعمال کرنے کی درخواست کی ہے، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ پاکستان کے وزیراعظم، آرمی چیف اوروزیرخارجہ اس وقت عالمی رہنماوں سے رابطے میں ہیں اور ان کو صبروتحمل سے کام لینے کی درخواست بھی کررہےہیں اور باہمی چپکلش سے بھی روک رہےہیں
اسلام آباد :پاکستان خطے میں مزید کسی جنگ کا حصہ نہیں بنے گا، عالمی حالات پرنظرہے،وزیراعظم عمران خان نے عمانی وزیر مذہبی امور سے ملاقات میں مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال پر اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا جنگ کسی کے بھی مفاد میں نہیں ، پاکستان خطے میں مزید کسی جنگ کا حصہ نہیں بنے گا۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان سے عمانی وزیر مذہبی امور سلطان قبوس بن سید کی ملاقات کا اعلامیہ جاری کردیا گیا، وزیراعظم نے سلطان قبوس بن سید کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا پاکستان اورعمان مختلف شعبوں میں تعاون بڑھاسکتےہیں۔
وزیراعظم نے مسلمانوں سمیت اقلیتوں سےامتیازی سلوک کی بی جےپی پالیسیوں سےآگاہ کرتے ہوئے کہا عالمی برادری کو صورتحال سے نمٹنے کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے۔ملاقات میں وزیراعظم عمران خان نے مقبوضہ کشمیرمیں بدترین انسانی صورتحال سےعمانی وزیرکوآگاہ کیا اور کہا مقبوضہ کشمیر میں5 ماہ سے بدترین لاک ڈاؤن جاری ہے۔
اعلامیہ میں کہا گیا کہ ملاقات میں مشرق وسطیٰ کی تازہ صورتحال پر بھی بات چیت ہوئی اور وزیراعظم نے مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال پر اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا مزید کشیدگی سے بچنے کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جنگ کسی کے بھی مفاد میں نہیں، خطے میں تنازع سےپاکستان کو بہت نقصان ہوا ہے، پاکستان خطے میں مزید کسی جنگ کا حصہ نہیں بنے گا۔
عمانی وزیر سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ایران امریکاکشیدگی کم کرنے کی کوشش کی، ایران اورسعودی عرب تنازعات ختم کرنےکیلئےبھی کوششیں کی، پاکستان ہمیشہ امن کا پارٹنر بنے گا اورامن کےفروغ،تنازعات کے خاتمے کیلئےکردار ادا کرے گا۔