Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع، سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کتنی مدت کے لئے توسیع کی؟

    آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع، سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کتنی مدت کے لئے توسیع کی؟

    آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع، سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کتنی مدت کے لئے توسیع کی؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالہ سے دوبارہ درخواست پر سماعت ہوئی،اٹارنی جنرل نے نئی سمری سپریم کورٹ میں پیش کردی جس کا عدالت نے جائزہ لیا، بعد ازاں فیصلہ لکھوایا،

    آرمی چیف کی مدت ملازمت میں6 ماہ کی مشروط توسیع کر دی گئی،عدالت نے کہا کہ آرمی چیف کی موجودہ تقرری 6 ماہ کیلئے ہوگی،

    سپریم کورٹ نے مختصر فیصلے میں کہا کہ آرمی چیف کی تقرری چیلنج کی گئی تھی،ہمارے سامنے آرمی چیف کی تقرری کا معاملہ آیا،آج مختصر فیصلہ سنارہے ہیں، تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کریں گے،حکومت نے ایک موقف سے دوسرا موقف اختیار کیا،حکومت آرمی چیف کو 28 نومبر سے توسیع دے رہی ہے، حکومت عدالت میں آرٹیکل 243 ون بی انحصار کررہی ہے،

    چیف جسٹس نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ عدالت نے آرٹیکل 243 بی کا جائزہ لیا،حکومت نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع آرٹیکل 243 فور بی کے تحت کی ہے،جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کا نوٹیفکیشن جمع کرایا گیا،ہمارے سامنے یہ سوال آیا کہ کیا توسیع دی جاسکتی ہے یا نہیں،آرمی ایکٹ اور اس کے رول کا جائزہ لیا،اٹارنی جنرل نے عدالتی سوالوں کا جواب دیا، دستاویزات کے مطابق پاک آرمی کا کنٹرول وفاقی حکومت سنبھالتی ہے،

    عدالت نے کہا کہ چیف آف آرمی اسٹاف کا تقرر صدر وزیراعظم کی مشاورت سے کرتا ہے،آرمی چیف کی دوبارہ تعیناتی کے حوالے سے قانون خاموش ہے،حکومت نے مسلح افواج سے متعلق قوانین میں ترامیم کیلئے6 ماہ کا وقت مانگا،ہم معاملہ پارلیمنٹ اور حکومت پر چھوڑتے ہیں،توسیع کےمعاملےکوقانون سازی مکمل ہونے کے بعد دیکھا جائے گا،

    سپریم کورٹ نے درخواست گزار حنیف راہی کی پٹیشن خارج کرتے ہوئے نمٹا دی.

    چیف جسٹس نے قانون میں کون کونسی ترامیم کا کہہ دیا؟ فروغ نسیم نے عدالت میں کیا کہا؟

    آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع، بحث کے بعد فیصلہ محفوظ، کب سنایا جائیگا؟

    آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع، ایک اور سمری کی تیاری جاری

    واضح رہے کہ آرمی چیف مدت ملازمت میں توسیع کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیتےہوئے کہا کہ آپ بوجھ خود اٹھائیں ہمارے کندھے کیوں استعمال کرتے ہیں، چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ”آپ نے کہا کہ قانون سازی میں تین ماہ چاہئیں‘۔ہم تین ماہ کیلئے اس میں توسیع کردیتے ہیں۔اگر 3 ماہ میں قوانین تیار ہوگئے تو پھر آرمی چیف کو 3 ماہ کی توسیع مل جائے گی۔

    چیف جسٹس نے کہا کیا ہم آپ کی بات پرلکھ دیں کہ 3 ماہ میں قوانین بنادیں گے،اٹارنی جنرل نے کہا قانون سازی کیلئے چھ ماہ کا وقت دیاجائے۔نیا قانون بنانے کے لیے وقت لگے گا جس پر چیف جسٹس نے کہا آپ سے 72 سال میں قانون نہیں بنا اتنی جلدی کیسے ہوگا۔ چیف جسٹس نے کہا جنہوں نے ملک کی خدمت کی ہمارے لئے ان کا بڑا احترام ہے۔لیکن ہم آئین اور قانون کا سب سے زیادہ احترام کرتے ہیں

    چیف جسٹس پاکستان نے کہا آج سے تعیناتی 28 نومبر سے کر دی، کیا آرمی چیف کا عہدہ آج خالی ہے، آج تو جنرل باجوہ پہلے ہی آرمی چیف ہیں، آرمی چیف کا عہدہ آئینی عہدہ ہے، جو عہدہ خالی ہی نہیں اس پر تعیناتی کیسے ہو سکتی ہے، عدالت کی ایڈوائس والا حصہ سمری سے نکالیں، صدر اگر ہماری ایڈوائس مانگیں تو وہ الگ بات ہے، آپ ادھر ادھر گھومتے رہے ہم نے کسی کو ایڈوائس نہیں کرنا، لگتا ہے اس بار کافی سوچ بچار کی گئی ہے۔

    اٹارنی جنرل نے کہا آرٹیکل 243 کے تحت آرمی چیف کی دوبارہ تعیناتی کر دی گئی ہے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا آج ہونے والی تعیناتی پہلے سے کیسے مختلف ہے ؟ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا نئی تعیناتی آرٹیکل 243 ون بی کے تحت کی گئی ہے۔ چیف جسٹس پاکستان نے کہا مطمئن کرنا ہوگا اب ہونیوالی تعیناتی درست کیسے ہے ؟ اس عہدے کو پُر کرنا ہے تو ضابطے کے تحت کیا جانا چاہیے۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا جو سمری پیش کی گئی اس میں تنخواہ اور مراعات کا ذکر نہیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا سمری میں اگر خلا رہ گیا ہے تو اسے بہتر کریں گے، بھارتی میڈیا نے سارے معاملے کو غلط انداز میں پیش کیا ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا آرمی چیف کی تعیناتی قانون کے مطابق ہونی چاہیے، قانون میں تعیناتی کی مدت کہیں نہیں لکھی ہوئی۔ چیف جسٹس پاکستان نے کہا آرمی ایکٹ اور ریگولیشنز کی کتاب آپ نے سینے سے لگا کر رکھی ہے۔

    چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ اگر زبردست جنرل مل گیا تو شاید مدت 30 سال لکھ دی جائے، ایک واضح نظام ہونا چاہیے جس کا سب کو علم ہو، تین سال تعیناتی اب ایک مثال بن جائے گی، ہو سکتا ہے اگلے آرمی چیف کو حکومت ایک سال رکھنا چاہتی ہو، کل آرمی ایکٹ کا جائزہ لیا تو بھارتی اور سی آئی اے ایجنٹ کہا گیا، ہمیں ففتھ جنریشن وار کا حصہ ٹھہرایا گیا، ہمارا حق ہے کہ سوال پوچھیں۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا واضح ہونا چاہیے جنرل کو پنشن ملتی ہے یا نہیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا مدت مکمل ہونے کے بعد جنرل ریٹائر ہو جاتا ہے۔ جسٹس منصور علی خان کل آپ کہہ رہے تھے جنرل ریٹائر نہیں ہوتا، پارلیمنٹ سے بہتر کوئی فورم نہیں جو سسٹم ٹھیک کر سکے۔ چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ پارلیمنٹ آرمی ایکٹ کو اپڈیٹ کرے تو نئے رولز بنیں گے۔

    اٹارنی جنرل نے کہا آئین میں 18 مختلف غلطیاں مجھے نظر آتی ہیں۔ جس پر چیف جسٹس پاکستان نے کہا غلطیوں کے باوجود آئین ہمیں بہت محترم ہے۔ جسٹس مظہر عالم نے کہا یہ بھی طے کر لیا جائے آئندہ توسیع ہو گی یا نئی تعیناتی۔ اٹارنی جنرل نے کہا آرمی ایکٹ کابینہ کے سامنے رکھ کر ضروری تبدیلیاں کریں گے۔ چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ حکومت پہلی بار آئین پر واپس آئی ہے، جب کام آئین کے مطابق ہو تو ہمارے ہاتھ بندھ جاتے ہیں۔

    چیف جسٹس آصف سعید نے کہا آرٹیکل 243 میں 3 سال تعیناتی کا ذکر نہیں، 3 سال کی تعیناتی کی مثال ہوگی لیکن یہ قانونی نہیں، عدالت نے توسیع کر دی تو یہ قانونی مثال بن جائے گی۔ اٹارنی جنرل نے کہا مدت کا ذکر نہ ہو تو حالات کے مطابق مدت مقرر ہوتی ہے۔

    اٹارنی جنرل نے کہا اس وقت میرے پاس کوئی بھی قانون نہیں سوائے ایک دستاویز کے، قانون بنانے کے لئے ہمیں 3 ماہ کا وقت چاہیے۔ چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ ابھی جا کر قانون بنا کرآئیں، جو قانون 72 سال میں نہیں بن سکا وہ اتنی جلدی نہیں بن سکتا۔

    چیف جسٹس پاکستان نے کہا آرمی چیف کو توسیع دینا آئینی روایت نہیں، گزشتہ 3 آرمی چیفس میں سے ایک کو توسیع ملی دو کو نہیں، اب تیسرے آرمی چیف کو توسیع ملنے جا رہی ہے، آرٹیکل 243 کے مطابق تعیناتی کرنی ہے تو مدت نکال دیں۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کم از کم آرٹیکل 243 پر تو مکمل عمل کریں۔ اٹارنی جنرل نے کہا غیر معینہ مدت کے لیے بھی تعیناتی نہیں ہو سکتی۔ چیف جسٹس پاکستان نے کہا پہلے بھی جنرل باجوہ کو غیر معینہ مدت کیلئے تعینات کیا گیا۔ اٹارنی جنرل نے کہا آرمی چیف سے متعلق الگ قانون بنایا جائے گا۔

    اٹارنی جنرل انور منصور خان نے عدالت کو بتایا کہ فروغ نسیم کا بھی مسئلہ حل ہوگیا۔ جس پر چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس  دیئے کہ عدالت کی مداخلت سے مسئلے حل ہو جائیں گے، ہمارے پاس ریاض راہی آئے، ہم نے جانے نہیں دیا، لوگ کہتے ہیں عدالت خود نوٹس لے، ہمیں جانا نہ پڑے، عدالت کے دروازے کھلے ہیں، کوئی آئے تو سہی۔

    چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ نے اٹارنی جنرل نے استفسار کیا قوانین 3 ماہ میں تیار کرلیں گے ؟ 3 ماہ میں قوانین تیار ہوگئے تو پھر آرمی چیف کو 3 ماہ کی توسیع مل جائے گی، کیا آپ کی بات پر لکھ دیں کہ 3 ماہ میں قوانین بنا دیں گے۔ اٹارنی جنرل نے کہا فیصلےمیں مدت کا تعین نہ لکھیں، وہ کام ہم کرلیں گے، قوانین بنانے کے بعد انہیں پارلیمنٹ میں بھی پیش کرنا ہے۔

  • آرمی چیف مدت ملازمت توسیع،وزیراعظم سے اہم شخصیات کی ملاقات، عمران خان نے کیا کہا؟

    آرمی چیف مدت ملازمت توسیع،وزیراعظم سے اہم شخصیات کی ملاقات، عمران خان نے کیا کہا؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان سے اٹارنی جنرل انور منصور خان اور سابق وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم کی ملاقات ہوئی ہے، اٹارنی جنرل نے وزیراعظم کو سپریم کورٹ کی کاروائی سے متعلق تفصیلی طور پر آگاہ کیا، وزیراعظم عمران خان نے اٹارنی جنرل کو سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں سمری تیار کرنے کی ہدایت کی . اس حوالہ سے اٹارنی جنرل اور فروغ نسیم نے وزیراعظم عمران خان سے مشاورت بھی کی.اٹارنی جنرل نے وزیراعظم عمران خان کو سپریم کورٹ کے ریمارکس کے بارے میں بھی بریف کیا،

    چیف جسٹس نے قانون میں کون کونسی ترامیم کا کہہ دیا؟ فروغ نسیم نے عدالت میں کیا کہا؟

    آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع، بحث کے بعد فیصلہ محفوظ، کب سنایا جائیگا؟

    آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع، ایک اور سمری کی تیاری جاری

    وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں نئی سمری بنائی جائے جس میں غلطیاں نہیں ہونی چاہئے. جو قانونی تقاضے ہیں وہ پورے کئے جائیں ، حکومت اپنے فیصلے پر مکمل طور پر قائم ہیں، سیکورٹی صورتحال کی وجہ سے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کی تھی، اپنے فیصلے پر قائم ہیں.

    واضح رہے کہ آرمی چیف مدت ملازمت میں توسیع کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیتےہوئے کہا کہ آپ بوجھ خود اٹھائیں ہمارے کندھے کیوں استعمال کرتے ہیں، چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ”آپ نے کہا کہ قانون سازی میں تین ماہ چاہئیں‘۔ہم تین ماہ کیلئے اس میں توسیع کردیتے ہیں۔اگر 3 ماہ میں قوانین تیار ہوگئے تو پھر آرمی چیف کو 3 ماہ کی توسیع مل جائے گی۔ چیف جسٹس نے کہا کیا ہم آپ کی بات پرلکھ دیں کہ 3 ماہ میں قوانین بنادیں گے،اٹارنی جنرل نے کہا قانون سازی کیلئے چھ ماہ کا وقت دیاجائے۔نیا قانون بنانے کے لیے وقت لگے گا جس پر چیف جسٹس نے کہا آپ سے 72 سال میں قانون نہیں بنا اتنی جلدی کیسے ہوگا۔ چیف جسٹس نے کہا جنہوں نے ملک کی خدمت کی ہمارے لئے ان کا بڑا احترام ہے۔لیکن ہم آئین اور قانون کا سب سے زیادہ احترام کرتے ہیں

  • آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع، بحث کے بعد فیصلہ محفوظ، کب سنایا جائیگا؟

    آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع، بحث کے بعد فیصلہ محفوظ، کب سنایا جائیگا؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابقسپریم کورٹ نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا۔عدالت مختصر فیصلہ آج سنائے گی چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ کی سبراہی میں 3 رکنی بینج آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ چیف جسٹس نے کہا اٹارنی جنرل کہتے ہیں کہ جنرل ریٹائرڈ نہیں ہوتا، جنرل ریٹائرڈ نہیں ہوتا تو پنشن بھی نہیں مل سکتی۔

    وقفے کے بعد جب دوبارہ سماعت شروع ہوئی تو چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ سمری میں تو عدالتی کارروائی کا بھی ذکر کر دیا گیا ہے، آپ بوجھ خود اٹھائیں ہمارے کندھے کیوں استعمال کرتے ہیں، اپنا کام خود کریں، ہمیں درمیان میں کیوں لاتے ہیں، عدالت کا نام استعمال کیا گیا تاکہ ہم غلط بھی نہ کہہ سکیں، سمری میں سے عدالت کا نام نکالیں، تعیناتی قانونی ہے یا نہیں وہ جائزہ لیں گے۔

    چیف جسٹس پاکستان نے کہا آج سے تعیناتی 28 نومبر سے کر دی، کیا آرمی چیف کا عہدہ آج خالی ہے، آج تو جنرل باجوہ پہلے ہی آرمی چیف ہیں، آرمی چیف کا عہدہ آئینی عہدہ ہے، جو عہدہ خالی ہی نہیں اس پر تعیناتی کیسے ہو سکتی ہے، عدالت کی ایڈوائس والا حصہ سمری سے نکالیں، صدر اگر ہماری ایڈوائس مانگیں تو وہ الگ بات ہے، آپ ادھر ادھر گھومتے رہے ہم نے کسی کو ایڈوائس نہیں کرنا، لگتا ہے اس بار کافی سوچ بچار کی گئی ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا 3 سال کی مدت کا ذکر تو قانون میں کہیں نہیں ہے۔

    اٹارنی جنرل نے کہا آرٹیکل 243 کے تحت آرمی چیف کی دوبارہ تعیناتی کر دی گئی ہے۔ چیف جسٹس پاکستان نے کہا مطمئن کرنا ہوگا اب ہونیوالی تعیناتی درست کیسے ہے ؟ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا پیش کی گئی سمری میں تنخواہ اور مراعات کا ذکر نہیں، جس پر اٹارنی جنرل نے کہا سمری میں اگر خلا رہ گیا ہے تو اسے بہتر کریں گے، بھارتی میڈیا نے سارے معاملے کوغلط انداز میں پیش کیا۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا آرمی چیف کی تعیناتی قانون کے مطابق ہونی چاہیئے، قانون میں تعیناتی کی مدت کہیں نہیں لکھی۔

    چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ نے کہا آپ نے آرمی ایکٹ اور ریگولیشنز کی کتاب سینے سے لگا رکھی ہے، نوٹیفکیشن میں مدت 3 سال لکھی گئی، اگر زبردست جنرل مل گیا تو شاید مدت 30 سال لکھ دی جائے، ایک واضح نظام ہونا چاہیئے جس کا سب کو علم ہو۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت کی ایڈوائس والا حصہ سمری سے نکالیں صدر اگر ہماری ایڈوائس مانگیں تو وہ الگ بات ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ 3سال کی مدت کا ذکر تو قانون میں کہیں نہیں ،اتنے بڑے آفس کی تعیناتی ہورہی ہے قواعد پرعمل کرنا ہوگا،چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے سمری میں 3 سال کا لفظ لکھا ہے،اب ہرکوئی مستقبل میں ایسا ہی لکھے گا، جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ پہلے جو سمریاں جاری کی گئی تھیں ان میں مدت ملازمت لکھی ہوتی تھی، جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ کے معاملے پرکل آپ واضح نہیں تھے؟

    چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ اس معاملے پرابہام دور کرنے کا فورم کون سا ہے؟جس پر اٹارنی جنرل انور منصور خان نے کہا کہ ابہام دور کرنے کا فورم وفاقی حکومت ہے،اگر مدت مقرر نہ کریں تو تاحکم ثانی آرمی چیف تعینات ہو گا،چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے آرمی ایکٹ اور ریگولیشنز کی کتاب سینے سے لگا کر رکھی ہے،آرمی رولز کی کتاب پر لکھا ہے غیر متعلقہ شخص نہ پڑھے،آئین کی کتاب ہمارے لیے بہت محترم ہے،اسی کتاب سے ہم مسائل کا حل ڈھونڈتے ہیں،جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ آئین کی کتاب ملک کیلئےبائبل کی حیثیت رکھتی ہے،سمری میں تنخواہ،مراعات اورمدت ملازمت واضح کردیں گے،

    چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ پہلے توسیع ہوتی رہی اور کسی نے جائزہ نہیں لیا،کوئی دیکھ نہیں رہاکہ کنٹونمنٹ میں کیا ہو رہا ہے،کام کس قانون کے تحت ہو رہا ہے،اب آئینی ادارہ اس مسئلے کا جائزہ لے رہا ہے،آئینی عہدے پر تعیناتی کا طریقہ کار واضح لکھا ہونا چاہیے،آپ نے پہلی بارکوشش کی ہے کہ آئین پرواپس آئیں،اس معاملے میں سپریم کورٹ کے فیصلوں کا حوالہ نہیں دینا چاہیے،سپریم کورٹ کے فیصلوں کا حوالہ دے کر ایسا لگتا ہے کہ ہمارا کندھا استعمال کیا جارہا ہے،ہم کبھی بھی مشکل میں نہیں رہے،ہمیشہ آئین اور قانون کی پابندی کرنے والے رہے ہیں،آرٹیکل 243کےتحت جوسمری آپ نے بنائی ہے اس میں 3 سال مدت ملازمت لکھ دی ہے

    چیف جسٹس نے کہا کہ کل آرمی ایکٹ کا جائزہ لیا تو بھارتی اور سی آئی اے ایجنٹ کہا گیا،جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہماری بحث کا بھارت میں بہت فائدہ اٹھایا گیا،چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں 5th جنریشن وار کا حصہ ٹھہرایا گیا ہماراحق ہے کہ سوال پوچھیں،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اٹارنی جنرل نے بھی کل پہلی بار آرمی قوانین پڑھیں ہوں گے،آپ تجویز کریں آرمی قوانین کو کیسے درست کریں؟ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہمارے پاس الجہاد ٹرسٹ کی مثال موجود ہے،اس کیس میں اس کا حوالہ دینا ضروری ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ پارلیمنٹ سے بہترکوئی فورم نہیں جو نظام کو ٹھیک کرسکے،واضح ہونا چاہیے جنرل کو پنشن ملتی ہے یا نہیں؟ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ مدت مکمل ہونے کے بعد جنرل ریٹائر ہو جاتا ہے،

    چیف جسٹس نے کہا کہ پارلیمنٹ آرمی ایکٹ کو اپڈیٹ کرے تو نئے رولز بنیں گے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ آئین میں 18 مختلف غلطیاں نظر آتی ہیں،چیف جسٹس نے کہا کہ غلطیوں کے باوجود آئین ہمیں بہت محترم ہے،جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرمی ایکٹ کابینہ کے سامنے رکھ کر ضروری تبدیلیاں کریں گے،چیف جسٹس نے کہا کہ ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ ابھی قانون بنا کرآئیں،جوقانون 72 سال میں نہیں بن سکا وہ اتنی جلدی نہیں بن سکتا،اٹارنی جنرل نے کہا کہ کوشش کررہے ہیں کہ اس معاملے پر کوئی قانون بنائیں،قانون بنانے کیلئے3 ماہ کا وقت چاہیے

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب کوئی کام آئین کے مطابق ہو جائے تو ہمارے ہاتھ بندھ جاتے ہیں،عدالت کاکندھا استعمال نہ کریں آئندہ بھی سپریم کورٹ کا نام استعمال ہو گا،آرٹیکل 243میں 3 سال تعیناتی کا ذکر نہیں،3سال کی تعیناتی کی مثال ہوگی لیکن یہ قانونی نہیں،عدالت نے توسیع کر دی تو یہ قانونی مثال بن جائے گی،لگتا ہے تعیناتی کےوقت حکومت نے آرٹیکل 243 پڑھتے ہوئے اس میں اضافہ کر دیا،جو دستاویزات صبح منگوائی تھیں وہ آئی ہیں؟ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ جی ایچ کیو میں کہہ دیا ہے ،کچھ دیر میں آجائیں گی، چیف جسٹس نے کہا کہ ہمارے پاس کوئی بھی نہیں آتا پہلی بار ریاض حنیف راہی آیا ہے اس کوچھوڑیں گے نہیں،سب کہتے ہیں عدالت ازخود نوٹس لے

    چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا تین ماہ میں قوانین تیار کر لیں گے،اگر 3 ماہ میں قوانین تیار ہوگئے تو پھر آرمی چیف کو 3 ماہ کی توسیع مل جائے گی،جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ آپ اپنے فیصلے میں مدت کا تعین نہ کریں وہ ہم کرلیں گے،قوانین بنانے کے بعد انہیں پارلیمنٹ میں بھی پیش کرنا ہے

    جنرل (ر)کیانی اورراحیل شریف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق نوٹیفکیشن عدالت میں پیش کر دیا گیا،چیف جسٹس نے کہا کہ جنرل (ر)کیانی کےنوٹیفکیشن میں بھی نہیں لکھا کہ توسیع کس نے دی؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ نوٹیفکیشن سے پہلے سمری تیار کی جاتی ہے،چیف جسٹس نے کہا کہ نوٹیفکیشن تو وہ دستاویز ہوتی ہے جو غلطیوں سے پاک ہونی چاہیے،جن جن لوگوں نے ملک کی خدمت کی وہ ہمارے لیے محترم ہیں،آئین اورقانون سب سے مقدم ہے،گزشتہ 3 آرمی چیفس میں سے ایک کو توسیع ملی دوسرے کو نہیں،اب تیسرے آرمی چیف کو توسیع ملنے جا رہی ہے،آرٹیکل 243 کے مطابق تعیناتی کرنی ہے تو مدت نکال دیں،پہلے بھی جنرل باجوہ کو غیر معینہ مدت کے لیے تعینات کیا گیا،

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئین و قانون کو کیا دیکھا ہمارے خلاف پراپیگنڈہ شروع ہوگیا،کہہ دیا گیا کہ تینوں ججز سی آئی اے کے ایجنٹ ہیں،آئینی اداروں کے بارے میں ایسا نہیں ہونا چاہیے،جس پر اٹارنی جنرل انور منصور خان نے کہا کہ سوشل میڈیا کسی کے کنڑول میں نہیں،چیف جسٹس نے کہا کہ آپ تین سال کے لیے توسیع دے رہے ہیں،جسٹس مظہر عالم نے کہا کہ پہلے تو کسی کو ایک سال کسی کو دو سال کی توسیع دی گئی، چیف جسٹس نے کہا کہ آپ رولز میں ترمیم کرتے رہے ہیں، پھر ہم نے ایڈوائزری کردار لکھ دیا،اٹارنی جنرل نے کہا کہ فروغ نسیم کا بھی مسئلہ حل ہو گیا ہے،جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت کی مداخلت سے مسئلے حل ہو جائیں گے،عدالت کے دروازے کھلے ہیں کوئی آئے تو سہی،آرمی چیف کے حوالے سے تیار کی گئی سمری میں ہمارا ذکر بالکل نہ کریں،یہ کام وزارت دفاع کا ہے،وزارت دفاع کی جانب سے جو سمری آئی ہے اس میں سپریم کورٹ کا ذکر ہے،ہمارا ان سمریوں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے

  • آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق کیس کی آج تیسری سماعت

    آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق کیس کی آج تیسری سماعت

    آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق کیس کی آج تیسری سماعت

    سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق کیس کی آج تیسری سماعت ہورہی ہے۔

    اس اہم کیس پر سب کی نظریں ہیں کیونکہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت آج رات ختم ہورہی ہے اور حکومت کے پاس یہ آخری موقع ہے کہ وہ ان کی مدت ملازمت میں توسیع کے اقدام پر عدالت کو مطمئن کرے۔

    عدالت عظمیٰ میں چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس مظہر عالم پر مشتمل 3 رکنی بینچ، جیورسٹ فاؤنڈیشن کے وکیل ریاض حنیف راہی کی جانب سے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے خلاف درخواست پر سماعت کر رہا ہے۔سماعت کے آغاز میں ہی سپریم کورٹ نے جنرل (ر) اشفاق پرویز کیانی کی مدت ملازمت میں توسیع کا نوٹیفکیشن طلب کرلیا۔
    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم دیکھنا چاہتے ہیں کہ جنرل (ر) پرویز کیانی کی ریٹائرمنٹ کے بعد انہیں کیا پینشن ملی تھیں۔
    ساتھ ہی سپریم کورٹ نے 15 منٹ کا وقفہ کردیا۔حکومت کی جانب سے اٹارنی جنرل انور منصور خان دلائل دیں گے جبکہ سابق وزیرقانون فروغ نسیم بھی عدالت میں موجود ہیں۔

    اس اہم کیس کی گزشتہ روز کی سماعت میں عدالت عظمیٰ نے کہا تھا کہ ہمارے سامنے 3 اہم نکات ہیں جسے ہم دیکھیں گے اور قانون کے مطابق فیصلہ کریں گے۔پہلا معاملہ قانونی ہے، دوسرا طریقہ کار سے متعلق ہے جبکہ تیسرا معاملہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کی وجوہات کے بارے میں ہے۔
    اس سے پہلے جب سماعت شروع ہوئی تو درخواست گزار ریاض حنیف راہی عدالت میں پیش ہوئے، ان سے چیف جسٹس نے پوچھا کہ آپ کہاں رہ گئے تھے؟ آپ کی درخواست عدالت نے زندہ رکھی۔

    ریاض راہی نے کہا کہ حالات مختلف پیدا ہو گئے ہیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہم انہی حالات میں آگے بڑھ رہے ہیں۔

  • وزیراعظم عمران خان نے پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس طلب کر لیا

    اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس آج طلب کر لیا۔پارلیمانی پارٹی کا اجلاس جمعرات کی شام پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوگا جس کی صدارت وزیراعظم عمران خان کریں گے۔

    ائیرانڈیاکسی بھی وقت بندہوسکتی ہے،وزیرہوابازی حردیپ سنگھ کا راجیاسبھا میں اعلان

    وزیراعظم عمران خان نے یہ میٹنگ ملکی حالات کے پیش نظر بلائی ہے اور امید ہے کہ کل اعتماد میں لے کر بہت سے اہم فیصلے ہوں‌ گے ، یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ حکومت نے فیصلہ کیا ہےکہ وہ عدالتی بحران کو حل کرنے کے بعد اپوزیشن کو پھر آڑے ہاتھوں‌لے

    اسلام آباد:ایک طرف آئینی گردوغبارتودوسری طرف مطلع جزوی طور پر ابرآلود

    ذرائع کے مطابق اجلاس میں ملک کی موجودہ سیاسی، معاشی اور سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔پارٹی کے تمام اراکین اسمبلی کو اجلاس میں حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔یاد رہے کہ قومی اسمبلی کا اجلاس 2 دسمبر بروز پیر کو طلب کیا گیا ہے۔

    ایرانی وزیرخارجہ افغان طالبان سے ملنے اچانک قطر کیوں پہنچے؟خبرنے تہلکہ مچادیا

  • جنرل ندیم رضا نے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ سنبھال لیا

    راولپنڈی: جنرل ندیم رضا نے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی ( سی جے سی ایس سی) کا عہدہ سنبھال لیا۔گزشتہ دنوں وزیراعظم عمران خان نے لیفٹیننٹ جنرل ندیم رضا کو جنرل زبیر محمود حیات کی مدت ملازمت مکمل ہونے کے بعد چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی بنانے کی منظوری دی تھی جس کے بعد آج انہوں نے عہدہ سنھبال لیا ہے۔

    پاک فوج کی خواتین نےدیارغیرمیں پاکستان کا نام روشن کردیا

    پاک فوج کےترجمان ادارے آئی ایس پی آر کی جانب سے سماجی رابطے کی سائٹ ٹوییٹرپرپیغام جاری کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کردی ہے کہ آج سے جنرل ندیم رضا چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کی حیثیت سے کام کام شروع کردیا ہے

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ(آئی ایس پی آر) کے مطابق جنرل ندیم رضا نے عہدے کا چارج آج جوائنٹ اسٹاف ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں سنبھالا۔یاد رہے کہ اس سے قبل جنرل ندیم رضا چیف آف جنرل اسٹاف کے عہدے پر کام کررہے تھے۔جنرل ندیم رضا کور کمانڈر راولپنڈی اور پاکستان ملٹری اکیڈمی (پی ایم اے) کاکول کے کمانڈنٹ بھی رہ چکے ہیں جب کہ انہیں ہلال امتیاز ملٹری بھی مل چکا ہے۔

    آرمی چیف کی توسیع سے متعلق سماعت پر بھارت میں جشن

  • آرمی چیف کے معاملے کا فیصلہ کب سنایا جائیگا؟ چیف جسٹس  کا اہم اعلان

    آرمی چیف کے معاملے کا فیصلہ کب سنایا جائیگا؟ چیف جسٹس کا اہم اعلان

    آرمی چیف کے معاملے کا فیصلہ کب سنایا جائیگا؟ چیف جسٹس نے بڑ ااعلان کردیا

    تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دئیے ہیں کہ ہمیں پاک فوج کا بہت احترام ہے ، پاک فوج کو معلوم تو ہو ان کا سربراہ کون ہوگا، آرمی چیف کو توسیع کی ضرورت ہی نہیں ، نوٹیفکیشن کے مطابق وہ ہمیشہ آرمی چیف رہیں گے،آرمی چیف کے وکیل بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا کہ پرسوں رات 12بجے آرمی چیف کی مدت ملازمت پوری ہو جائیگی،
    اٹارنی جنرل انور منصور خان نے موقف اپنایا کہ گزشتہ روز کے عدالتی حکم میں بعض غلطیاں ہیں، آرمی رولز کا حوالہ دیا تھا، عدالت نے حکم نامے میں قانون لکھا، عدالت نے کہا صرف 11 ارکان نے کابینہ میں توسیع کی منظوری دی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عدالتی فیصلے کی غلطیاں دور کر دی گئی ہیں۔ جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیئے کہ کابینہ کے ارکان نے مقررہ وقت تک جواب نہیں دیا تھا۔

    چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ اب تو حکومت اس کاروائی سے آگے جا چکی ہے، عدالت نے آپ کی دستاویزات کو دیکھ کر حکم دیا تھا، رول 19 میں وقت مقرر کرنے کی صورت میں ہی ہاں تصور کیا جاتا ہے۔

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ ‏کل بھی بتایا کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے نوٹیفکیشن پر متعدد وزرا کے جواب کا انتظار تھا، کابینہ اراکین کو وقت دیا گیا۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اگر کابینہ اراکین کا جواب نہ آئے تو کیا اسے ہاں سمجھا جاتا ہے ؟ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ قواعد کے مطابق ایسا ہی ہے۔ اٹارنی جنرل نے کابینہ کے گزشتہ روز کے فیصلوں کے بارے میں دستاویزعدالت میں جمع کرائیں
    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ماضی میں آرمی چیف 10، 10 سال تک توسیع لیتے رہے، آج یہ سوال سامنے آیا ہے، اس معاملے کو دیکھیں گے، تاکہ آئندہ کیلئے کوئی بہتری آئے، تاثر دیا گیا کہ آرمی کی چیف کی مدت 3 سال ہوتی ہے۔ آرمی ریگولیشنز کے مطابق ریٹائرمنٹ کر کے افسران کو سزا دی جا سکتی ہے، حال ہی میں 3 سینیئر افسران کی ریٹائرمنٹ معطل کر کے سزا دی گئی تھی۔ جو صفحات آپ نے دیئے وہ نوکری سے نکالنے کے حوالے سے ہیں، یہ نئی ریگولیشن کس قانون کے تحت بنی ہے۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے اٹارنی جنرل سے مکالمے کے دوران کہا کہ آپ نے آج بھی ہمیں آرمی ریگولیشنز کا مکمل مسودہ نہیں دیا، آرمی چیف کی مدت 3 سال کہاں مقرر کی گئی ہے، کیا 3 سال بعد آرمی چیف گھر چلا جاتا ہے ؟ چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں پوری کتاب کو دیکھنا ہے ایک مخصوص حصے کو نہیں، آرمی ریگولیشن رول 255 ریٹائرڈ افسرکو دوبارہ بحال کر کے سزا دینے سے متعلق ہے، ہمیں اس تناظر میں دیکھنا ہے کہ 3 سال بعد کیا ہونا ہے۔
    چیف جسٹس نے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ وقت بہت ہی کم ہے ، ،فیصلہ جلد کرنا ہوگا، چیف جسٹس نے مزید کہا کہ آپ نے ملک میں خوامخواہ کا ہیجان کیوں پیدا کیاگیا؟.فوج ہمارا ادارہ ہے،اس کی عزت کرتے ہیں.یہ تو پتہ ہونا چاہیے آئندہ سربراہ کون ہوگا اور کیسے بنے گا؟ سمری کے مطابق وزیراعظم نے توسیع کی سفارش ہی نہیں کی،سفارش نئی تقرری کی تھی لیکن نوٹیفکیشن توسیع کا ہے، چیف جسٹس نےکہا کہ آرٹیکل 243 کے تحت تعیناتی ہوتی ہے توسیع نہیں، کل ہی سمری گئی اور منظور بھی ہوگئی، کیا کسی نے سمری اور نوٹیفکشن پڑھنے کی بھی زحمت نہیں کی، لائل اور کیس پر بحث جاری تھی کہ عدالت نے سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی.،

  • عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں کرفیو پر خاموش کیوں ، وزیراعظم

    عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں کرفیو پر خاموش کیوں ، وزیراعظم

    مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکومت کی فسطائی ذہنیت نمایاں ہے، وزیراعظم

    وزیراعظم عمران خان نے کشمیر کے معاملے پر بھارت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکومت کی فسطائی ذہنیت نمایاں ہے۔

    اپنے ٹوئٹر پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ 100 دن سے جاری محاصرہ آر ایس ایس نظریے کی عکاسی کرتا ہے۔


    وزیراعظم نے کہا کہ کشمیریوں کو انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزی کا نشانہ بنایا جارہا ہے جبکہ طاقتور ممالک اپنے تجارتی مفادات کے تحت مظالم پرخاموش ہیں۔

    انہوں نے کہا بھارتی قونصل جنرل کے ناپاک عزائم کے بارے خبر بھی ٹوئٹ کی۔اس سے قبل امریکہ میں تعینات بھارتی قونصل جنرل سندیپ چکرورتی نے کہا تھا کہ بھارت ہندؤوں کی مقبوضہ کشمیر میں واپسی پر اسرائیلی طرز پر بستیوں کی تعمیر کرے گا۔
    پلان کے مطابق مقبوضہ وادی کے مسلم اکثریتی علاقے میں ہندو بستیاں آباد کی جائیں گی۔نہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کرفیو کو 100 سے زائد دن ہو چکے ہیں، مظلوم کشمیریوں کے خلاف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں جاری ہیں لیکن بڑی طاقتیں اپنے تجارتی مفادات کے باعث خاموش ہیں۔

  • آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق نئی سمری سپریم کورٹ میں پیش

    آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق نئی سمری سپریم کورٹ میں پیش

    آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق نئی سمری سپریم کورٹ میں پیش کردی

    تفصیلات کےمطابق آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق کیس میں اٹارنی جنرل نے نئی سمری سپریم کورٹ میں پیش کر دی۔ چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق کیس کی سماعت کر رہا ہے۔
    چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ نے درخواستگزار ریاض راہی سے پوچھا کہ آپ کل کہاں تھے ؟ ہم کیس آپ کی درخواست پر ہی سن رہے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا جن غلطیوں کی نشاندہی کی حکومت نے انہیں درست کرلیا، خامیاں تسلیم کرنے کے بعد ان کی تصحیح کی گئی، جس پر اٹارنی جنرل نے کہا ہم نے ان غلطیوں کو تسلیم نہیں کیا۔ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا خامیاں تسلیم نہیں کی گئیں تو تصحیح کیوں کی گئی ؟ کل کیے گئے اقدامات سے متعلق بتایا جائے۔

    اٹارنی جنرل نے کابینہ فیصلوں سے متعلق تفصیلات سپریم کورٹ میں جمع کرا دیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا توسیع سے متعلق قانون نہ ہونے کا تاثر غلط ہے۔ چیف جسٹس نے کہا فیصلہ کل پیش کی گئی دستاویز کے مطابق ہی لکھوایا تھا، ٹھیک ہے پھر ہم کل والی صورتحال پر ہی فیصلہ دے دیتے ہیں۔ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا عدالت پہلے مجھے تفصیل کے ساتھ سن لے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کیا ریٹائرڈ جنرل بھی آرمی چیف بن سکتا ہے ؟ اٹارنی جنرل نے کہا آرمی ایکٹ کے سیکشن 176 کے تحت ترمیم کی، دستاویز میں غیر حاضر کابینہ ارکان کے سامنے انتظار لکھا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا عدالت نے آپ کی دستاویز کو دیکھ کر حکم لکھا تھا۔
    آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے خلاف درخواست جیورسٹ فاؤنڈیشن کی جانب سے دائر کی گئی تھی جس میں سیکریٹری دفاع اور دیگر کو فریق بنایا گیا تھا۔

    واضح رہے کہ رواں سال 19 اگست کو جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں تین سال کی توسیع کی گئی تھی۔
    وزیراعظم آفس سے جاری نوٹی فکیشن کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے موجودہ مدت مکمل ہونے کے بعد سے جنرل قمر جاوید باجوہ کو مزید 3 سال کے لیے آرمی چیف مقرر کردیا۔نوٹیفکیشن میں کہا گیا آرمی چیف کی مدت میں توسیع کا فیصلہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال کے تناظر میں کیا گیا۔سپریم کورٹ میں سماعت جاری ہے اور اس اب وقفہ جاری کریا گیا ہے، ایک بجے پھر سماعت ہو گی.

  • باغی سپیشل،اپنے شہداء کو نہ بھولنے والی قوم شہداء سلالہ کو بھول گئی

    باغی سپیشل،اپنے شہداء کو نہ بھولنے والی قوم شہداء سلالہ کو بھول گئی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اپنے شہداء کو نہ بھولنے والی قوم شہداء سلالہ کو بھول گئی، سلالہ چیک پوسٹ پر نیٹو حملے کو آٹھ برس بیت گئے، کسی تنظیم یا ادارے نے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے کا کوئی بیان دیا نہ کوئی تقریب ہوئی ، سلالہ شہدا کا یوم شہادت خاموشی سے گذر گیا،

    کشمیریوں کے ساتھ کھڑے تھے ،ہیں اور رہیں گے، پاک فوج کا کشمیریوں‌ کو پیغام

    ‏اسرائیل کو تسلیم کرنے سے متعلق باتیں پروپیگنڈا ہے. ڈی جی آئی ایس پی آر

    یہ سوچ بھی کیسے سکتے ہیں کہ کشمیر پر کسی قسم کی کوئی ڈیل ہوئی، ڈی جی آئی ایس پی آر

    وفاقی کابینہ کا اجلاس بھی وزیراعظم عمران خان کی صدارت دن میں دو مرتبہ ہوا لیکن اجلاس میں شہداء اسلالہ کے حوالہ سے کوئی بات نہ کی گئی، اپوزیشن جماعتوں کی اے پی سے بھی مولانا فضل الرحمان کی صدارت میں ہوئی لیکن وہ الیکشن کروانے کا سب ملکر مطالبہ کرتے رہے شہداء سلالہ کے لئے ایک لفظ اپوزیشن رہنماؤں کے منہ سے نہ نکلا.

    پاکستان میں مختلف این جی اوز،اداراے مختلف ایام مناتے ہیں ،خواتین پر تشدد کا دن تو ہر سال منانا یاد رہتا ہے،ملالہ پر حملے سے تو ساری دنیا نے اسے مظلوم بنا دیا،ماؤں کا عالمی دن منایا جا سکتا ہے،اساتذہ کا بھی منایا جا سکتا ہے،مزدور ڈے پر بھی لوگ نکلتے ہیں،غرضیکہ کہ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جسدن کوئی عالمی دن نہ منایا جائے۔لیکن اس وطن کے لئے قربانیاں دینے والوں کے لئے ،اس ملک پر اپنی جان نچھاور کرنے والوں کے لئے،پاکستان کی حفاظت کے لئے ہر وقت دشمن سے مقابلہ کے لئے تیار رہنے والوں کو ہم کیوں بھول جاتے ہیں؟

    بھارتی آرمی چیف کا جھوٹ ایک بار پھر بے نقاب،بھارت نے کی راہ فرار اختیار

    بھارت کی ایک اور جھوٹی کہانی بے نقاب، ڈی جی آئی ایس پی آر نے کی باغی ٹی وی کی خبر کی تصدیق

    بھارت ایک اور ڈرامہ رچانے میں مصروف، 26/11 طرز کے حملے کا الرٹ جاری

    ہمیں وہ عظیم لوگ کیوں یاد نہیں رہتے جنہوں نے اس ملک کی حفاظت کے لئے اپنا خون دیا۔جو خود تو کٹ گئے مگر اس ملک پر آنچ نہیں دی،جو امریکی گولوں کا نشانہ بنے۔ ان آٹھ برسوں میں کوئی ایک ایسی این جی او نظر نہیں آتی جس نے اس ملک کے لئے سلالہ چیک پوسٹ پر قربان ہونے والے کے گھروں میں جا کر انکے لواحقین کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا ہو؟انکے دکھوں کا مداوا کیا ہو؟کوئی نہیں ملے گا،انڈین فلموں میں کام کرنے والے اداکاروں کے نام تو ہمارے ہر نوجوان کو یاد ہوں گے مگر وطن عزیز کے لئے قربانیاں دینے والوں کے نام نہیں،

    واضح رہے کہ مہمند ایجنسی کی تحصیل بازئی میں قائم پاکستان فوج کی چیک پوسٹ سلالہ پر نیٹو حملے کے آٹھ سال مکمل ہوگئے ، 2011 میں نیٹو افواج کے ہیلی کاپٹروں نے پاک افغان بارڈر پر قائم پاکستانی چیک پوسٹ پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں میجر مجاہد، کیپٹن عثمان سمیت 24اہل کاروں نے جام شہادت نوش کیا تھا اور 12فوجی زخمی ہوئے تھے

    باغی ٹی وی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے متحدہ جمعیت اہلحدیث کے رہنما شیخ نعیم بادشاہ کا کہنا تھا کہ ملک کا دفاع اور نیٹو فورسز کی دہشت گردی روکنے کیلئے عملی اقدامات نہیں کئے گئے جس کے باعث پاکستان کی مشکلات میں خطرناک حد تک اضافہ ہو گیا۔ حکمران امریکہ کی غلامی سے نکل آئیں۔ امریکہ سے ہماری کھلی جنگ ہے پاکستان سے امریکی جارحیت ختم ہونے تک قوم سے چین سے نہیں بیٹھے گی۔ سلالہ حملہ محب وطن حلقوں کی یادوں سے محو نہیں ہو سکتا نہ ہی زندہ قومیں قومی سانحات کو نظرانداز کرتی ہیں۔ افسوس کہ ہم اپنے شہدا کو بھول گئے،