Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • جسمانی ریمانڈ کے لئے پیش کیا جائے گا حمزہ کو آج عدالت

    جسمانی ریمانڈ کے لئے پیش کیا جائے گا حمزہ کو آج عدالت

    پنجاب اسمبلی کے قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز کو آج احتساب عدالت میں پیش کیا جائے گا

    زرداری کے بعد حمزہ کی باری آ گئی، نیب نے احاطہ عدالت سے ہی گرفتار کر لیا

    حمزہ شہباز کی عبوری ضمانت مسترد،نیب نے گھیرے میں لے لیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حمزہ شہباز کو آج عدالت میں پیش کیا جائے گا اس حوالہ سے سیکورٹی کے سخت انتطامات کئے گئے ہیں، احتساب عدالت کے باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے، پولیس نے راستے بھی بند کر دئے ہیں ، ٹریفک کو متبادل روٹ پر منتقل کیا گیا ہے. نیب حمزہ شہباز کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کرے گا. نیب کے مطابق حمزہ شہبازپرمنی لانڈرنگ اورآمدن سے زائد اثاثوں کا الزام ہے ،حمزہ شہباز نے بیرون ملک سےآنےوالی رقم کا ثبوت نہیں دیا،حمزہ شہباز کے اکاؤنٹ میں 18 کروڑروپے کی ٹرانزیکشن ہوئی ہے،حمزہ شہبا ز18 کروڑ روپےکے حوالے سے ثبوت نہیں دے سکے،حمزہ شہباز 4 بار نیب میں پیش ہوئےبیرون ملک ترسیلات کا جواب نہیں دیانیب حکام نے حمزہ شہبازکوکل ضمانت میں توسیع نہ ملنے پرہائیکورٹ سے گرفتارکیا تھا ، نیب نے حمزہ شہباز کو گرفتار کر کے ٹھوکر نیاز بیگ منتقل کر دیا تھا ،اس موقع پر مسلم لیگ ن کے کارکنان نے شدید احتجاج بھی کیا تھا

     

    حمزہ ضمانت، سماعت 15 منٹ کے لئے ملتوی

    صرف اللہ کوجوابدہ ،کوئی کچھ بھی رائے رکھےانصاف کے مطابق فیصلہ دیں گے، عدالت کےحمزہ کیس میں ریمارکس

    حمزہ شہباز ضمانت کیس، عدالت نے بڑا حکم دے دیا

    زرداری کے بعد آج حمزہ شہباز کی ضمانت منسوخی متوقع، نیب بھی تیار

    حمزہ شہباز کدھر ہے؟ عدالت میں نعرے بازی جاری ہے، حمزہ ضمانت کیس میں عدالت برہم

    رمضان شوگر مل کیس، حمزہ شہباز کے بینچ پرعدم اعتماد کے بعد نیا بینچ تشکیل

    رمضان شوگر ملز کا چیف ایگزیکٹو کون؟ حمزہ شہباز ضمانت کیس میں عدالت کا استفسار

     

    حمزہ شہباز کے استعمال کی اشیاء بھی نیب آفس پہنچا دی گئی ہیں. حمزہ شہباز کو گھر سے کھانا منگوانے کی اجازت ہو گی ،حمزہ شہباز کے سامان میں کپڑے،پنکھا،کولر،آئس باکس ،شوگرچیک کرنےکی مشین ،ناک کی صفائی کی مشین اور شیونگ کٹ ،وہیٹ بسکٹ کے پیکٹ،دودھ کےڈبے،دانت صاف کرنے والاالیکٹرانک برش ،7پانی کی بوتلیں، پاوَں کی کریم اورٹشو پیپرز ،ڈونگے، گلاس، چمچ،پلیٹیں اور کانٹے ،7شلوار قیمض، ٹی شرٹس اور ٹراوَزر شامل ہیں

  • چوروں کو نہیں چھوڑوں گا، وزیراعظم عمران خان کا دبنگ اعلان

    چوروں کو نہیں چھوڑوں گا، وزیراعظم عمران خان کا دبنگ اعلان

    وزیراعظم عمران خان نے اعلان کیا ہے کہ جان بھی چلی جائے چوروں کو نہیں چھوڑوں گا، دس سال میں چوبیس ہزار ارب کہاں گئے، تحقیقات کے لئے کمیشن بنا دیا، نواز شریف نے بھی کرپشن کی وجہ سے آصف زرداری کو جیل میں‌ڈالا تھا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے رات گئے قوم سے خطاب میں کہا کہ میرے پاکستانیو آج تحریک انصاف نے پہلا بجٹ پیش کیا ہے ، میں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ یہ بجٹ نظریہ پاکستان کی عکاسی کرے گا ۔ انہوں نے کہا کہ میرا نیا پاکستان ریاست مدینہ کے اصولوں کی پیروی میں ایک عظیم ملک بنے گا ، یہ ایک عظیم ملک بننے جارہا ہے ، مدینہ کی ریاست ایک ماڈل ریاست تھی ، مجھے افسوس سے کہنا پڑتاہے کہ مدینہ کی ریاست کے اصول جو تھے ، وہ پاکستان میں نہیں ہیں بلکہ یورپی ممالک میں ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ تمام انسان قانون کے تابع ہیں ، ہمارا ملک ایک عظیم ملک بننے جارہاہے ، ریاست مدینہ کا بڑا اصول یہ ہے کہ حکمران عوام کو جوابدہ ہوتا ہے ۔ وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ ریاست مدینہ کوئی پہلے ہی دن ریاست مدینہ نہیں بن گئی تھی ، میں نے پاکستان میں وہ کام کیاہے جو کبھی کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ بڑے بڑے برج آج جیلوں میں ہیں، یہ ہے نیا پاکستان ، کوئی سوچ سکتا تھا کہ جو ججوں کو فون کرکے فیصلے کراتے تھے ، وہ جیلوں میں ہونگے ۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ اب عدلیہ آزاد ہے ، نیب کا چیئر مین عمران خان نے نہیں لگایا تھا ، ان دونوں جماعتوں نے ملکر لگایا تھا ۔ ان پر یہ جوکیسز ہیں یہ سب پرانے کیسز ہے ، ہم نے تو نہیں کیا ، مجھ پر یہ کیوں پہلے دن سے شور مچا رہے ہیں ، میری غلطی کیاہے ؟ میری غلطی یہ ہے کہ میں ان کی بلیک میلنگ میں آکر ان کو این آر او نہیں دے رہا جو یہ چاہتے ہیں۔

    واضح رہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے جب قوم سے خطاب شروع کیا تو ابھی ایک سے دو منٹ ہی ہوئے تھے کہ اچانک ان کا خطاب ختم ہوگیا جس پر سوشل میڈیا پر سوالات اٹھنے لگے کہ وزیر اعظم کا بیان پی ٹی وی پر کیوں نہیں چلنے دیا گیا؟۔ ابھی اس پر بحث جاری تھی کہ کچھ دیر بعد ہی وزیر اعظم دوبارہ سکرین پر آئے اور قوم سے خطاب مکمل کیا. وزیراعظم نے رات گئے قوم سے خطاب کیا.

  • بلاول بھٹو نے سپیکر قومی اسمبلی کے استعفیٰ کا مطالبہ کر دیا، اہم خبر آ گئی

    بلاول بھٹو نے سپیکر قومی اسمبلی کے استعفیٰ کا مطالبہ کر دیا، اہم خبر آ گئی

    چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے باضابطہ طور پراسپیکر قومی اسمبلی سے استعفیٰ‌ کا مطالبہ کر دیا او رکہا ہے کہ کٹھ پتلی حکومت حق حکمرانی کھوچکی ہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بلاول بھٹو نے کہاکہ اسپیکرقومی اسمبلی نےخواتین ارکان اسمبلی پرتشدد کا نوٹس نہیں لیا. ٹیکسوں کی بھرمارکی وجہ سےمہنگائی،بےروزگاری میں اضافہ ہوگا. ٹیکسوں کی بھرمارکی وجہ سےکاروباری ادارےتجارت نہیں کرسکتے.

    انہوں نے کہاکہ بجٹ تقریرکی نقول اپوزیشن کومہیا نہیں کی گئیں. اگربجٹ عوام دوست ہوتاتومیں حکومت کی حوصلہ افزائی کیلئےتیارتھا.
    حکومت کی جانب سےخوف پھیلانے کے باوجود بجٹ کوتوجہ سےسننےکا فیصلہ کیا. بجٹ سےتوجہ ہٹانےکیلئےاحتساب کےنام پراپوزیشن رہنماؤں کو گرفتارکیاگیا. یاد رہے کہ اپوزیشن جماعتوں‌کی طرف سے بجٹ کو مسترد کرتے ہوئے سخت تنقید کی جارہی ہے. متحدہ اپوزیشن نے حالیہ بجٹ کو غریبوں‌ کا خون چوسنے والا بجٹ قرار دیا ہے.

  • قومی اسمبلی میں‌ 7022 ارب روپے کا بجٹ پیش، گھی، چینی، تیل اورمشروبات سمیت بیشتراشیاء مہنگی

    قومی اسمبلی میں‌ 7022 ارب روپے کا بجٹ پیش، گھی، چینی، تیل اورمشروبات سمیت بیشتراشیاء مہنگی

    تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے مالی سال 2019-20 کے پیش کردہ بجٹ کا مجموعی حجم 7 ہزار 22 ارب روپے ہے جو کہ گزشتہ بجٹ سے 30 فیصد زائد بتایا جارہا ہے۔ حالیہ بجٹ میں‌ چینی، تیل، گھی، سی این جی، مشروبات، سگریٹ، خشک دودھ اور دیگر کی اشیاء مہنگی کر دی گئی ہیں جبکہ اس دوران بتایا گیا کہ حکومت کے اخراجات 460 ارب روپے سے کم کرکے 437 ارب روپے کردیے گئے ہیں. بہت سے پیسے والے لوگ ٹیکس نہیں دیتے. اکتیس لاکھ کمرشل صارفین میں سے 14 لاکھ ٹیکس دیتے ہیں. تجارتی خسارہ 22 ارب ڈالرہے، ہم ماہانہ گردشی قرضہ 38ارب روپےسے کم کرکے26ارب روپےتک لے آئے ہیں.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیرصدارت ہونے والے بجٹ اجلاس میں وزیراعظم عمران خان بھی موجود تھے. اس موقع پر وزیرمملکت برائے ریونیو حماد اظہرنے بجٹ پیش کیا جبکہ اپوزیشن ارکان نے احتجاج کرتے ہوئے شدید نعرے بازی کی جس سے ایوان مچھلی منڈی کا منظر پیش کرتا رہا. اپوزیشن اراکین کی طرف سے گونیازی گو کے نعرے بھی لگائے گئے. حماد اظہر کا کہنا تھا کہ پچھلے پانچ سال میں برآمدات میں کوئی اضافہ نہیں ہوا . بہت سے کمرشل قرضہ جات زیادہ شرح سود پر لیے گئے ہیں ۔ قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ پیچھے رہ جانے والے لوگوں کو آگے لانے کا وقت ہے۔ پاکستان کا مجموعی قرضہ اور ادائیگیاں 31 ہزار ارب روپے تھیں جن میں سے 97 ارب ڈالر بیرونی قرضہ جات تھے۔ پچھلے ادوار میں بعض کمرشل قرضے زیادہ سود پر لیے گئے۔ گزشتہ دو سال کے دوران سٹیٹ بینک کے ذخائر 18 ارب سے کم ہو کر 10 ارب ڈالر سے کم رہ گئے۔ عالمی سطح پر کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ بلند ترین سطح پر 20 ارب ڈالر اور تجارتی خسارہ 32 ارب ڈالر تک پہنچ چکا تھا۔ انہوں نے بتایاکہ بجٹ 20۔2019 کا مجموعی حجم 7 ہزار 22 ارب روپے ہے جو کہ گزشتہ بجٹ سے 30 فیصد زائد ہے. اسی طرح ٹیکس وصولیوں کا ہدف 5 ہزار 555 ارب روپے رکھا گیا ہے. جی ڈی پی میں ٹیکسوں کا تناسب 12 اعشاریہ 6 فیصد ہے. مالی خسارے کا تخمینہ 3 ہزار 137 ارب روپے ہے. حماد اظہر نے کہا کہ بجلی کے نظام کا گردشی قرضہ 1200 ارب روپے تک پہنچ گیا تھا جس پر 38 ارب روپے ماہانہ سود ادا کرنا پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم درآمدات کو 49ارب ڈالر سے کم کرکے45ارب ڈالر تک لے آئے ہیں. ایسٹس ڈکلیئریشن اسکیم پرعمل جاری ہے. انہوں نے کہاکہ احتساب کے نظام اور طرز حکمرانی بہتر بنانے کیلیے اقدامات کیے گئے ہیں. بجٹ میں‌بتیا گیا ہے کہ کولڈڈرنکس پرڈیوٹی 11.5سےبڑھاکر 13 فیصد جب کہ مشروبات پر ڈیوٹی 11.25سے بڑھا کر 14فیصد کردی گئی، چینی پرسیلزٹیکس 8سےبڑھاکر 13 فیصدکردیاگیا جس سے چینی کی قیمت ساڑھے 3 روپےفی کلوبڑھےگی، خوردنی تیل اور گھی پر بھی 14فیصد ڈیوٹی عائد کی گئی ہے، سونے، چاندی، ہیرے کے زیورات پرسیلزٹیکس بڑھانےکافیصلہ کیا گیا ہے۔ بجٹ میں سنگ مرمر کی صنعت پر 17 فیصد سیلز ٹیکس لگانے، سیمی پراسس اورپکے ہوئے چکن،مٹن، بیف اورمچھلی پر 17 فیصد سیلز ٹیکس لگانے کی تجویز دی گئی ہے۔

    حماد اظہر نے بجٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ جب ہماری حکومت آئی تو مالیاتی خسارہ 2260ارب روپے تک پہنچ گیا تھا، جاری کھاتوں کا خسارہ 20ارب ڈالر تک پہنچ گیا تھا، تجارتی خسارہ 32ارب ڈالر تک پہنچ گیا تھا، مجموعی قرضے 31ہزار ارب روپے تک پہنچ چکے تھے، ہم نے تجارتی خسارہ چار ارب ڈالر کم کیا اور اب بجلی کے گردشی قرضوں میں12 ارب روپے کی کمی آئی ہے. بجٹ میں ایک ہزار ایک سی سی سے 2 ہزار سی سی تک گاڑیوں پر پانچ فیصد جب کہ 2 ہزار سی سی سے زائد کی گاڑی پر ڈیوٹی ساڑھے سات فیصد عائد کی گئی ہے۔ بجٹ اجلاس میں بتایا گیا کہ وفاقی حکومت نے کم ازکم تنخواہ 17 ہزار 500 مقرر کرتے ہوئے بتایا کہ اضافہ 2017 سے جاری تنخواہ پر ہوگا۔ بجٹ میں تنخواہ دار اورغیر تنخواہ دارافراد کے لیے ٹیکس شرح میں اضافہ اور تنخواہ دار ملازمین کیلئے قابل ٹیکس آمدنی کی حد 12لاکھ سے کم کرکے 6 لاکھ روپے کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے جب کہ غیر تنخواہ دار انفرادی ٹیکس دہندگان کیلئے قابل ٹیکس آمدنی کہ حد کم کرکے چار لاکھ روپے کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے، غیر تنخواہ دار طبقے کو سالانہ چار لاکھ آمدن پر ٹیکس دینا ہو گا۔

    قومی اسمبلی میں‌ پیش کردہ بجٹ دستاویز میں کہا گیا ہے کہ دفاعی اخراجات ، سروسز پر 1152 ارب 50 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، سول اورعسکری حکام نےبجٹ میں مثالی کمی کی. باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت نے رواں مالی سال کے دوران ملک کے عسکری بجٹ میں اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر نے قومی اسمبلی میں بجٹ تقریرکے دوران بتایا کہ پاکستان کے فوجی بجٹ میں کوئی اضافہ نہیں کیا جارہا اور یہ گزشتہ سال کے 1150 ارب روپے پر مستحکم رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ فوجی بجٹ کے حوالے سے وہ وزیر اعظم عمران خان اور عسکری قیادت کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی خود مختاری ہر شے پر مقدم ہے. حکومت یہ بات یقینی بنائے گی کہ پاک فوج کی صلاحیت میں کمی نہ آئے۔ بجٹ تقریر کے مطابق قومی ترقیاتی پروگرام کیلیے1800 ارب روپے رکھے گئے ہیں، جب کہ نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 894 ارب 50 کروڑ روپے رکھا گیا ہے، بیرونی ذرائع سے حاصل ہونیوالی وصولیوں کا ہدف 1828 ارب 80کروڑ روپے جب کہ نجکاری پروگرام سے 150ارب روپے حاصل ہونے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، اس طرح کل دستیاب وسائل کا تخمینہ 7036ارب 30 کروڑ روپے رکھا گیا ہے۔

    بجٹ اجلاس میں کی گئی تقریر میں کہا گیا کہ کراچی کے ترقیاتی بجٹ کے لیے45.5ارب روپے رکھے جارہے ہیں، جب کہ بلوچستان کی ترقی کے لیے 10.4ارب روپے رکھے جارہے ہیں. سکھر ،ملتان سیکشن کے لیے 19ارب روپے مختص کیے گئے ہیں. توانائی کے لیے 80ارب روپے اور انسانی ترقی کے لیے 60 ارب روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ اسی طرح‌بتایا گیا کہ آبی وسائل کیلیے70 ارب روپے مختص کیے جارہےہیں،غیر ترقیاتی اخراجات کا حجم 6192ارب 90 کروڑ روپے رکھا گیا ہے، پنشن کی مد میں اخراجات کا تخمینہ 421ارب روپے رکھا گیا ہے،سود کی ادائیگیوں کے لیے2891ارب 40 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں اور آیندہ سال کے دوران سبسڈی کیلیے271ارب 50 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

    وزیرمملکت برائے ریونیو حماد اظہر کا کہنا تھاکہ حکومت نے بجلی چوری کے خلاف منظم مہم شروع کر رکھی ہے، بجلی اور گیس کے لیے 40ارب روپے کی سبسڈی دی جارہی ہے جب کہ گیس کا گردشی قرضہ 150ارب روپے ہےاور اگلے 24ماہ میں گردشی قرضوں کو ختم کرنے کی کوشش کریں گے۔

    حماد اظہر کی جانب سے بجٹ اجلاس میں بتایا گیا کہ وفاقی کابینہ کی گریڈ 1 تا16سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں10فیصد اضافےکی منظوری دے دی ہے. اسی طرح ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں 10 فیصد اضافے کی منظوری دی گئی ہے. باغی ٹی وی کی رپورٹ‌ کے مطابق گریڈ 21 اور 22 کے ملازمین کی تنخواہوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا. وفاقی کابینہ کی گریڈ 17 تا 20 سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 5 فیصد اضافے کی منظوری دی گئی ہے.

    بجٹ اجلاس کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے گریڈ 21 اور 22 کے ملاز مین کی تنخواہوں میں کسی قسم کا اضافہ نہیں کیا گیا۔ قومی اسمبلی میں بجٹ اجلاس کے دوران اپنی تقریر میں انہوں نے کہاکہ وفاقی کابینہ کی گریڈ 1 تا 16سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں10فیصد اضافےکی منظوری دی گئی ہے جبکہ گریڈ 17 سے 20 تک پانچ فیصد اضافہ کی منظوری دی گئی ہے. اسی طرح ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں 10 فیصد اضافے کی منظوری دی گئی ہے. ان کا کہنا تھا کہ گریڈ 21 اور 22 کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیا گیا کیونکہ انہوں نے وطن عزیز پاکستان کی معاشی صورتحال کے پیش نظر تنخواہوں میں‌ اضافہ نہ کئے جانے کی قربانی دینے کا فیصلہ کیا ہے.

    واضح رہے کہ وزیر مملکت برائے ریو نیو حماد اظہر کی قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر کے دوران اپوزیشن اراکین کی جانب سے شدید ہنگامہ آرائی کی گئی اور ایوان مچھلی منڈی کا منظر پیش کرتا رہا. اس دوران اپوزیشن ممبران گو عمران گو، مک گیا تیرا شو نیازی اور گو نیازی گو کے نعرے لگاتے رہے.وزیر مملکت کے خطاب کے موقع پر اپوزیشن کے شورشرابا پر کان پڑی آواز سنائی نہیں‌ دے رہی تھی. حماد اظہر کے تقریر کا آغاز کرتے ہوئی اپوزیشن اراکین اپنی نشستوں سے کھڑے ہو گئے اور احتجاجی نعرے بازی شروع کردی. اپوزیشن ارکان بجٹ تقریر کے دوران شور شرابا کرتے ہوئے سپیکر ڈائس کے سامنے آ کر کھڑے ہو گئے جس پر حکومتی ارکان اپنی نشستوں سے اٹھے اور وزیر اعظم کے آگے ڈھال بن کر کھڑے ہو گئے تاکہ کسی بھی ممکنہ بد مزگی سے بچا جا سکے ۔

    بعض اپوزیشن اراکین نے بازوؤں‌ پر سیاہ پٹیاں بھی باندھ رکھی تھیں اور ہاتھوں میں‌ پلے کارڈ بھی اٹھا رکھے تھے. اپوزیشن اراکین نے بجٹ کی کاپیاں بھی پھاڑ دیں تاہم اس شور شرابا او رہنگامہ آرائی کے دوران وزیر مملکت حماد اظہر نے بجٹ پیش کیا اور کسی قسم کے دباؤ کا شکار نہیں‌ ہوئے.

  • بجٹ غریبوں‌ کا سانس لینا دشوار بنا دے گا، یہ نااہل حکومت کا سیاہ کارنامہ ہے. مریم نواز

    بجٹ غریبوں‌ کا سانس لینا دشوار بنا دے گا، یہ نااہل حکومت کا سیاہ کارنامہ ہے. مریم نواز

    وفاقی حکومت کی طرف سے قومی اسمبلی میں‌ پیش کردہ بجٹ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کی نائب صدرمریم نواز نے کہا ہے کہ یہ بجٹ نہیں، ملکی نااہلوں اورعالمی ساہوکاروں کا تیارکردہ عوام کاخون چوسنے کا نسخہ ہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مریم نواز نے اپنے ردعمل میں‌ کہاکہ مہنگائی، بےروزگاری، غربت کی یہ کالی دستاویز نا اہل حکومت کا ایک اور سیاہ کارنامہ ہے، یہ بجٹ پاکستان کو کئی سال پیچھے دھکیل دے گا اور غریب کا سانس لینا دشوار بنا دے گا، ان کا کہنا تھا کہ
    مہنگائی،بےروزگاری، غربت کی یہ کالی دستاویز نا اہل حکومت کا ایک اور سیاہ کارنامہ ہے.

    یاد رہے کہ حالیہ بجٹ پر اپوزیشن اراکین کی جانب سے شدید تنقید کی جارہی ہے.

  • سندھ حکومت گرانے کی سازش کی جا رہی ہے، گورنر راج لگا تو دیکھنا عوام کیا حشر کرتی ہے. بلاول بھٹو کی دھمکی

    سندھ حکومت گرانے کی سازش کی جا رہی ہے، گورنر راج لگا تو دیکھنا عوام کیا حشر کرتی ہے. بلاول بھٹو کی دھمکی

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت سازش کرکےسندھ حکومت گرانےکی کوشش کررہی ہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بلاول بھٹو نے کہاکہ وفاقی حکومت سندھ میں گورنرراج لگانےکاخواب پوراکرلے، پھردیکھیں گےکہ عوام آپ کا کیا حشرکرتےہیں، ان کا کہنا تھاکہ جےآئی ٹی رپورٹ مکمل نہیں ہوئی تھی توسندھ حکومت گرانےکی باتیں ہورہی تھیں.
    سندھ حکومت کےخلاف روزاول سےسازش ہورہی ہے. یاد رہے کہ سابق آصف علی زرداری کی گرفتاری کے بعد پیپلز پارٹی نے مزید سخت رویہ اختیار کیا ہے اور حکومت کے خلاف سخت تنقید کی جارہی ہے.

    پی ٹی آئی حکومت نے آج اپنا پہلا بجٹ پیش کیا ہے اس پر بھی بلاول بھٹو اور دیگر لیڈروں کی طرف سے سخت تنقید کی جارہی ہے.

  • بجٹ تقریر، عمران خان نے اپوزیشن اراکین کی جانب دیکھ کر ایسا کیا کیا کہ اراکین مسکرائے بغیر نہ رہ سکے

    بجٹ تقریر، عمران خان نے اپوزیشن اراکین کی جانب دیکھ کر ایسا کیا کیا کہ اراکین مسکرائے بغیر نہ رہ سکے

    وزیر اعظم عمران خان نے قومی اسمبلی میں‌ وزیر مملکت برائے داخلہ حماد اظہر کی جانب سے بجٹ پیش کیے جانے کے بعد اپوزیشن کی جانب فاتحانہ انداز میں ہاتھ اٹھا کر میوزک کمپوزر کی طرح اشارے کیے جس پر پی ٹی آئی حکومت کی طرح دیگر اراکین بھی مسکرائے بغیر نہ رہ سکے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بجٹ اجلاس کے دوران اپوزیشن کی جانب سے زبردست شورشرابا اور ہنگامہ آرائی کی گئی تاہم وزیر مملکت نے بغیر کسی دباؤ کے بجٹ پیش کیا. اس دوران جب ایوان مچھلی منڈی کا منظر پیش کر رہا تھا وزیراعظم عمران خان بھی ایوان میں موجود رہے اور مسلسل تسبیح‌ کرتے رہے. بجٹ پیش کئے جانے کے بعد جونہی اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے اجلاس ملتوی ہونے کے اعلان کیا گیا تو وزیر اعظم عمران خان مسکراتے ہوئے اپنی نشست سے کھڑے ہوئے اور اپوزیشن کے احتجاج کی طرف ایک میوزک کمپوزر کی طرح اپنے ہاتھوں سے اشارے کیے۔

    وزیراعظم عمران خان کے اس خوبصورت انداز پر ان کے اردگرد موجود اسمبلی ارکان بھی مسکراتے رہے جبکہ وزیراعظم اسمبلی سے باہر نکل گئے۔ یاد رہے کہ تحریک انصاف حکومت کی جانب سے گزشتہ روز پہلا بجٹ‌ پیش کیا گیا ہے. اپوزیشن کی طرف سے بجٹ پر سخت تنقید کی جارہی ہے جبکہ حکومتی اراکین اسے تاریخی بجٹ قرار دے رے ہیں.

  • سگریٹ نوشوں کیلئے بری خبر، پیکٹ اتنا مہنگا ہو گا کہ کئی لوگ توبہ پر مجبور ہو جائیں‌ گے

    سگریٹ نوشوں کیلئے بری خبر، پیکٹ اتنا مہنگا ہو گا کہ کئی لوگ توبہ پر مجبور ہو جائیں‌ گے

    وفاقی وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر نے بجٹ اجلاس کے دوران بتایا ہے کہ سگریٹ کاپیکٹ 10سے 14 روپےمہنگاہوجائےگا.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر کے دوران حماد اظہر نے بتایا کہ ایک ہزارسگریٹ پرپہلےٹیکس 4ہزار 500 روپےتھا جبکہ ایک ہزارسگریٹ پرٹیکس 5ہزار 200 روپےکردیاگیا ہے.

    ان کا کہنا تھا کہ اضافی ٹیکسوں سےسالانہ 147ارب روپےکی اضافی آمدن ہوگی. یاد رہے کہ عوامی سطح پر بعض حلقوں‌کی جانب سے پہلے سے مطالبہ کیا جارہا تھا کہ کھانے پینے کی بجائے سگریٹ جیسی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کیا جائے.

  • بجٹ اجلاس میں شدید ہنگامہ آرائی اور نعرے بازی، حکومتی اراکین عمران خان کے سامنے ڈھال بن گئے

    وزیر مملکت برائے ریو نیو حماد اظہر کی قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر کے دوران اپوزیشن اراکین کی جانب سے شدید ہنگامہ آرائی کی گئی اور ایوان مچھلی منڈی کا منظر پیش کرتا رہا. اس دوران اپوزیشن ممبران گو عمران گو، مک گیا تیرا شو نیازی اور گو نیازی گو کے نعرے لگاتے رہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی میں بجٹ اجلاس کے دوران وزیر مملکت کے خطاب کے موقع پر اپوزیشن کے شورشرابا پر کان پڑی آواز سنائی نہیں‌ دے رہی تھی. حماد اظہر کے تقریر کا آغاز کرتے ہوئی اپوزیشن اراکین اپنی نشستوں سے کھڑے ہو گئے اور احتجاجی نعرے بازی شروع کردی. اپوزیشن ارکان بجٹ تقریر کے دوران شور شرابا کرتے ہوئے سپیکر ڈائس کے سامنے آ کر کھڑے ہو گئے جس پر حکومتی ارکان اپنی نشستوں سے اٹھے اور وزیر اعظم کے آگے ڈھال بن کر کھڑے ہو گئے تاکہ کسی بھی ممکنہ بد مزگی سے بچا جا سکے ۔

    بعض اپوزیشن اراکین نے بازوؤں‌ پر سیاہ پٹیاں بھی باندھ رکھی تھیں اور ہاتھوں میں‌ پلے کارڈ بھی اٹھا رکھے تھے. اپوزیشن اراکین نے بجٹ کی کاپیاں بھی پھاڑ دیں تاہم اس شور شرابا او رہنگامہ آرائی کے دوران وزیر مملکت حماد اظہر نے بجٹ پیش کیا اور کسی قسم کے دباؤ کا شکار نہیں‌ ہوئے.

  • بجٹ میں کابینہ ارکان کی تنخواہوں میں کتنی کمی کر دی گئی؟ سن کر آپ بھی حیران رہ جائیں گے

    بجٹ میں کابینہ ارکان کی تنخواہوں میں کتنی کمی کر دی گئی؟ سن کر آپ بھی حیران رہ جائیں گے

    وفاقی حکومت کی جانب سے حالیہ بجٹ میں نئی روایت قائم کرتے ہوئے کابینہ ارکان کی تنخواہوں میں کمی کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ کسی حکومت میں‌ کابینہ کے تمام وزراء کی تنخواہوں میں دس فیصد کمی کا فیصلہ کیا گیا ہے. بجٹ میں حکومت کی طرف سے کئے گئے اس فیصلہ کو اچھی نظر سے دیکھا جارہا ہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر کے دوران وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر نے بتایا کہ کابینہ ارکان کی تنخواہوں میں کمی کر دی گئی ہے. ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں ہمیشہ کابینہ اپنی تنخواہیں بڑھاتی تھی لیکن وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں کابینہ کے تمام وزرا نے اپنی تنخواہوں میں 10 فیصد کمی کا تاریخی فیصلہ کیا ہے۔ وفاقی حکومت نے وزرا ، وزرائے مملکت اور پارلیمانی سیکرٹریز کے ساتھ کام کرنے والے سپیشل پرائیویٹ سیکرٹریز کے سپیشل الاﺅنس میں 25 فیصد اضافہ کیا ہے۔

    وفاقی حکومت کی جانب سے گریڈ 21 اور 22 کے ملاز مین کی تنخواہوں میں کسی قسم کا اضافہ نہیں کیا گیا۔ وفاقی کابینہ کی گریڈ 1 تا 16سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں10فیصد اضافےکی منظوری دی گئی ہے جبکہ گریڈ 17 سے 20 تک پانچ فیصد اضافہ کی منظوری دی گئی ہے. اسی طرح ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں 10 فیصد اضافے کی منظوری دی گئی ہے.

    حماد اظہ کا کہنا تھا کہ گریڈ 21 اور 22 کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیا گیا کیونکہ انہوں نے وطن عزیز پاکستان کی معاشی صورتحال کے پیش نظر تنخواہوں میں‌ اضافہ نہ کئے جانے کی قربانی دینے کا فیصلہ کیا ہے.

    واضح رہے کہ وفاقی کابینہ کی جانب سے گریڈ 1 تا16سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں10فیصد اضافےکی منظوری دے دی ہے. اسی طرح ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں 10 فیصد اضافے کی منظوری دی گئی ہے.