Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • افغان فورسز کاباجوڑ میں سول آبادی پر گولہ باری، چار بھائی شہید، ایک شخص شدید زخمی

    افغان فورسز کاباجوڑ میں سول آبادی پر گولہ باری، چار بھائی شہید، ایک شخص شدید زخمی

    باجوڑ کی تحصیل سلارزئی، پاک۔افغان سرحدی علاقے لیٹی (تاری پشہ) میں افغان فورسز کی جانب سے مارٹر گولہ باری کے نتیجے میں چار افراد شہید جبکہ ایک شخص شدید زخمی ہو گیا،

    مقامی ذرائع کے مطابق گولہ باری سرحد پار سے کی گئی اور ایک مارٹر گولہ ایک رہائشی مکان پر آ کر گرا، جس کے نتیجے میں گھر میں موجود چار افراد موقع پر ہی شہید ہو گئے۔ شہید ہونے والوں میں ساجد، ایاز، ریاض اور معاذ شامل ہیں، جو آپس میں سگے بھائی تھے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان طالبان کی جانب سے فائر کیے گئے مارٹر گولے باجوڑ کے سرحدی علاقے سلارزئی اور گرد و نواح میں گرے، جس سے شہری آبادی کو نشانہ بنایا گیا۔ واقعے میں ایک شخص شدید زخمی بھی ہوا جسے فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں اس کا علاج جاری ہے۔

    صدر باجوڑ پریس کلب حسبان اللہ کا کہنا ہے کہ آج باجوڑ کی تحصیل سالارزئی میں ایک نہایت افسوسناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا، جہاں افغانستان کی جانب سے فائر کیا گیا ایک مارٹر گولہ ایک مقامی گھر پر آ گرا۔ اس المناک واقعے کے نتیجے میں چار بھائی شہید جبکہ ایک شخص زخمی ہو گیا۔ ہم اس بزدلانہ اور دردناک سانحے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور شہداء کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور گہری تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔ہم حکومتِ پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ اس سانحے پر فوری طور پر اپنا مؤقف پیش کیا اور تعزیتی بیان جاری کیا۔ تاہم یہ انتہائی افسوسناک امر ہے کہ خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت کی جانب سے اب تک کوئی باضابطہ تعزیتی بیان سامنے نہیں آیا، جو نہ صرف قابلِ تشویش بلکہ باعثِ افسوس بھی ہے۔باجوڑ پریس کلب کی جانب سے ہم واضح طور پر یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ہم اپنی بہادر افواجِ پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ افواجِ پاکستان ہمارے ان بے گناہ بھائیوں کے خون کا حساب ضرور لے گی اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اور ٹھوس اقدامات کیے جائیں گے۔اللہ تعالیٰ شہداء کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور زخمیوں کو جلد از جلد مکمل صحت یابی نصیب فرمائے۔ آمین۔

    شہید افراد کی نماز جنازہ میں سابق سینیٹر مولانا عبدالرشید نےجذباتی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کے بعض علماء کی طرف سے جاری کئے گئے جہادی فتوی کیوجہ سے آج معصوم لوگ شہید ہورہے ہیں

  • قندھار میں طالبان کے ٹھکانے نشانہ، گیارہ تزویراتی مراکز مکمل طور پر تباہ

    قندھار میں طالبان کے ٹھکانے نشانہ، گیارہ تزویراتی مراکز مکمل طور پر تباہ

    پاکستان کی جانب سے دشمن کے خلاف بڑی کارروائی کی گئی ہے جس میں قندھار سے سرحدی علاقوں تک طالبان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا یا گیا ہے۔ پاک فضائیہ کے شاہینوں اور بھاری توپ خانے نے کارروائی کرتے ہوئے دشمن کی اشتعال انگیزی کا سخت جواب دیا۔

    اطلاعات کے مطابق اس کارروائی کے دوران قندھار میں طالبان کے اہم تزویراتی مراکز کو نشانہ بنایا گیا بتایا گیا ہے کہ کارروائی کے نتیجے میں طالبان کے گیارہ تزویراتی مراکز مکمل طور پر تباہ ہو گئے اور وہ ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہو گئے۔ذرائع کے مطابق ان مراکز کو عسکری اہمیت حاصل تھی اور انہیں پاکستان مخالف سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا ذرائع کا کہنا ہے کہ کارروائی میں پاک فضائیہ کے طیاروں نے اہم کردار ادا کیا جبکہ بھاری توپ خانے کی مدد سے بھی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ اس مشترکہ کارروائی کے نتیجے میں قندھار سمیت سرحد کے قریب موجود متعدد ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق کارروائی کا مقصد دشمن کی جانب سے کی جانے والی اشتعال انگیزی کا مؤثر اور فوری جواب دینا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران انتہائی اہم مقامات کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں طالبان کے تزویراتی مراکز کو شدید نقصان پہنچا۔
    بتایا گیا ہے کہ کارروائی کے نتیجے میں قندھار میں موجود طالبان کے گیارہ مراکز مکمل طور پر تباہ ہو گئے اور ان کی عمارتیں ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہو گئیں۔ ذرائع کے مطابق یہ مراکز عسکری لحاظ سے اہم سمجھے جاتے تھے۔
    اس کارروائی کو ایک بڑا اور فیصلہ کن اقدام قرار دیا جا رہا ہے جس میں پاک فضائیہ کے شاہینوں اور بھاری توپ خانے نے مشترکہ طور پر حصہ لیا۔ اس کارروائی کو دشمن کی اشتعال انگیزی کے جواب میں کیا گیا جس میں پاکستان کی فضائی اور زمینی عسکری صلاحیتوں کا استعمال کیا گیا۔ اس دوران قندھار میں طالبان کے گیارہ تزویراتی مراکز تباہ ہو کر ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہو گئے۔

  • ڈرون حملوں کا بدلہ ، پاک افواج نےافغان طالبان کا 313 انٹیلیجنس بدری بریگیڈ ہیڈ کوارٹر تباہ کر دیا

    ڈرون حملوں کا بدلہ ، پاک افواج نےافغان طالبان کا 313 انٹیلیجنس بدری بریگیڈ ہیڈ کوارٹر تباہ کر دیا

    افغانستان کے شہر قندھار کے فضائی حدود میں پاک فضائیہ کے جنگی طیاروں کی نچلی پروازوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں جبکہ ذرائع کے مطابق شہر کے مختلف مقامات پر حملے بھی کیے گئے ہیں۔

    اطلاعات کے مطابق پاک فضائیہ کے جیٹ طیاروں نے قندھار کے اوپر نچلی پروازیں کیں، جس کے دوران علاقے میں فائرنگ کی تیز آوازیں بھی سنی گئیں عینی شاہدین کے مطابق گولیوں کی تڑتڑاہٹ سے فضا گونج اٹھی جس کے باعث مقامی آبادی میں تشویش کی فضا پیدا ہوگئی پاک فضائیہ کی جانب سے قندھار میں مختلف مقامات پر کارروائی کرتے ہوئے طالبان اور دہشتگردوں کے متعدد اہم اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق فضائی حملوں میں طالبان کی خفیہ ایجنسی جی ڈی آئی کے علاقائی ہیڈکوارٹر کو بھی نشانہ بنایا گیا، جسے دہشتگردوں کی منصوبہ بندی اور کارروائیوں کا ایک اہم مرکز قرار دیا جاتا ہے،علاوہ ازیں قندھار میں افواج پاکستان نے کل ہونے والے ڈرون حملوں کا بدلہ لے لیا، افغان طالبان کا 313 انٹیلیجنس بدری بریگیڈ ہیڈ کوارٹر تباہ کر دیا

    دوسری جانب افغانستان کے صوبہ تخار میں نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (NRF) کے جنگجوؤں نے ایک حملے میں بدخشاں کے پولیس چیف خارجی معراج الدین کو جہنم واصل کر دیا اطلاعات کے مطابق خارجی معراج الدین بدخشاں سے تخار جا رہا تھا کہ راستے میں نیشنل ریزسٹنس کے جنگجوؤں نے اس کی گاڑی کو گھات لگا کر مار ڈالا-

  • افغانستان: تخار میں حملہ، بدخشاں کے پولیس چیف معراج الدین ہلاک

    افغانستان: تخار میں حملہ، بدخشاں کے پولیس چیف معراج الدین ہلاک

    افغانستان کے صوبہ تخار میں نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (این آر ایف) کے جنگجوؤں نے ایک حملے میں بدخشاں کے پولیس چیف خارجی معراج الدین کو جہنم واصل کر دیا۔

    اطلاعات کے مطابق خارجی معراج الدین بدخشاں سے تخار جا رہا تھا کہ راستے میں نیشنل ریزسٹنس کے جنگجوؤں نے اس کی گاڑی کو گھات لگا کر مار ڈالا، جنگجوؤں نے اچانک فائرنگ کر کے گاڑی کو نشانہ بنایا اور بعد ازاں موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔حملہ انتہائی منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا،حملے میں گاڑی کو شدید نقصان پہنچا جبکہ ان کے ساتھ موجود دیگر افراد کے بارے میں فوری طور پر واضح معلومات سامنے نہیں آ سکیں۔

  • افغان رجیم کے  پاکستان کی چوکیوں پر قبضے اور نقصان کے دعوے مسترد

    افغان رجیم کے پاکستان کی چوکیوں پر قبضے اور نقصان کے دعوے مسترد

    وزارت اطلاعات نے افغان رجیم کے وزارت دفاع کی جانب سے پاکستان کی چوکیوں پر قبضے اور نقصان کے دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ افغان عوام کو گمراہ کرنے کےلیے بنایا گیا ہے۔

    وزارت اطلاعات و نشریات نے افغان طالبان رجیم کے دعووں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد افغان وزارت دفاع کا پاکستان کی کچھ چوکیوں پر قبضے اور نقصان پہنچانے کا دعویٰ من گھڑت ہے، یہ جھوٹا دعویٰ افغان عوام کو گمراہ کرنے کےلیے بنایا گیا۔ افغان عوام خود ان دہشت گردوں کے باعث براہِ راست مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں،پاکستانی وزارت اطلاعات افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے نقصانات اور ہلاکتوں سے اپڈیٹ کرتی رہتی ہے،دہشت گردوں اور معاون ڈھانچے کے خلاف کارروائیوں سے متعلق معلومات کی فراہمی میں احتیاط برتی جارہی ہے، دہشت گردوں اور بھارتی میڈیا، سوشل میڈیا نیٹ ورکس کے دعووں میں کوئی صداقت نہیں، طالبان رجیم کے بےبنیاد دعووں کے حق میں کوئی قابلِ اعتماد اور قابلِ تصدیق ثبوت سامنے نہیں آیا، جب بھی ان دعووں کی جانچ پڑتال کی گئی ہے تو ہمیشہ غلط ثابت ہوئے۔

  • بچت عوامی ریلیف کے لیے ہی استعمال ہو گی۔وزیراعظم

    بچت عوامی ریلیف کے لیے ہی استعمال ہو گی۔وزیراعظم

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدا رت خطے میں صورتحال کے پیش نظر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر اثر اور حکومتی بچت اقدامات کے نفاذ کا جائزہ اجلاس ہوا

    اجلاس میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں استحکام کیلئے پالیسی اقدامات اور حکومت کی جانب سے بچت اقدامات کے نفاذ پر پیش رفت و انکے اثرات پر گفتگو ہوئی. اجلاس کو بتایا گیا کہ حکومتی بچت اقدامات سے حاصل شدہ رقوم کو موجودہ حالات میں عوامی ریلیف کیلئے استعمال کیا جائے گا. تمام کفایت شعاری کے اقدامات سے کی گئی بچت عوامی ریلیف کے لیے ہی استعمال ہو گی۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سرکاری ملازمین کی طرح State owned enterprises اور حکومتی سرپرستی میں خودمختار اداروں کے ملازمین کی تنخواہوں میں سے درجہ بہ درجہ 5 سے 30 فیصد تک کٹوتی ہوگی جسے عوامی ریلیف کے لیے استعمال کیا جائے گا۔اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ کارپوریشنز اور دیگر ادارے جن کے بورڈز میں حکومتی نمائندے موجود ہیں، وہ حکومتی نمائندے بورڈ میں شرکت کی فیس نہیں لیں گے اور اس فیس کو بچت کی رقم میں شامل کیا جائےگا.

    وزیرِ اعظم نےدنیا بھر میں موجود تمام پاکستانی سفارتخانوں کو 23 مارچ کی تقریبات کو انتہائی سادگی سے منانے کی ہدایت کی،اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ایف بی آر پر ہفتہ وار چار دنوں کا اطلاق نہیں ہوگا، بلکہ وہ اپنے پرانے طریقہ کار کے مطابق فرائض سرانجام دیں گے.آئندہ دو ماہ تمام محکموں کی سرکاری گاڑیوں کو ملنے والے تیل میں 50 فیصد کٹوتی اور سرکاری گاڑیوں کے 60 فیصد گراؤنڈ کئے جانے کے فیصلے کے حوالے سے 3rd party audit کروایا جائے گا۔ اجلاس کو حکومت کی جانب سے نئی گاڑیوں کی خریداری پر مکمل پابندی اور باقی تمام سرکاری خریداریوں پر پابندی پر عملدرآمد پر بھی بریفنگ دی گئی.اجلاس کو بتایا گیا کہ آئندہ دو ماہ کیلئے کابینہ ارکان، وزراء مشیران اور معاون خصوصی کی تنخواہیں کو بھی بچت کے طور پر عوامی فلاح کے لیے استعمال کیا جائے گا۔وزراء، مشیران اور معاونین خصوصی کے بیرونی دوروں پر بھی مکمل پابندی اور ٹیلی کانفرنسنگ اور آن لائن میٹنگز کو ترجیح دینے کے فیصلے کے اطلاق پر بھی اجلاس کو آگاہی دی گئی.

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سرکاری افسران، وزراء، وزرا مملکت اور معاون خصوصی کے بیرونی دوروں پر مکمل پابندی پر عائد رہے گی. ان تمام سادگی اور کفایت شعاری کے احکامات و اقدامات پر عمل درآمد اور نگرانی متعلقہ سیکریٹریز خود کریں گے اور روزانہ کی بنیاد پر جائزہ کمیٹی کو رپورٹ پیش کریں گے.اجلاس میں وفاقی وزراء عطاء اللہ تارڑ، محمد اورنگزیب، علی پرویز ملک، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، چیئرمین ایف بی آر اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی.

  • آپریشن غضب للحق ، قندھارمیں ایئر فیلڈ آئل سٹوریج سائٹس  تباہ

    آپریشن غضب للحق ، قندھارمیں ایئر فیلڈ آئل سٹوریج سائٹس تباہ

    آپریشن غضب للحق جاری ،12/13 مارچ کی شب قندھار ایئر فیلڈ کی آئل ڈمپ سائٹس پر پاک فوج کے مؤثر حملوں کی ویڈیو جاری کر دی گئی

    ویڈیو میں حملوں سے پہلے اور بعد کے مناظر واضح نظر آ رہے ہیں سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج نے قندھار ایئر فیلڈ آئل سٹوریج سائٹس کو مؤثر انداز میں نشانہ بناتے ہوئے تباہ کر دیا، آئل اسٹوریج سائٹس افغان طالبان اور دہشتگرد تنظیمیں اپنی مذموم کارروائیوں کیلئے استعمال کر رہی تھیں،پاک فوج مؤثر اور طاقتور کارروائیوں کے ذریعے افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے دہشتگرد ٹھکانوں اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنا رہی ہے،آپریشن غضب للحق کے تحت کارروائیاں اہداف کے حصول تک جاری رہیں گی،

  • افغان طالبان نے ڈرون حملے کیے ،ہدف پر پہنچنے سے پہلے مار گرایا،ڈی جی آئی ایس پی آر

    افغان طالبان نے ڈرون حملے کیے ،ہدف پر پہنچنے سے پہلے مار گرایا،ڈی جی آئی ایس پی آر

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کا کہنا ہے کہ 13 مارچ کو افغان طالبان نے پاکستان پر ڈرون حملے کیے، ڈرونز کو ہدف تک پہنچنے سے پہلے مار گرایا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق تباہ شدہ ڈرون کے ملبے سے کوئٹہ میں دو بچے زخمی ہوئے جبکہ کوہاٹ اور راولپنڈی میں ایک ایک شخص زخمی ہوا،حملے عوام میں خوف پھیلانے کی افغان طالبان کی ناپاک کوشش ہے، عوام اور مسلح افواج افغانستان پر قابض کرائے کی دہشتگرد ملیشیا کی حقیقت جانتے ہیں،افغان سرزمین سے دہشتگردوں کے خاتمے تک آپریشن غضب للحق جاری رہے گا،افغان سرزمین سے ہونے والی دہشتگردی ناقابل برداشت اور ناقابل قبول ہے،افواج دہشتگردی اور اس کی تمام شکلوں کے خلاف ثابت قدمی سے لڑتی رہیں گی۔

  • سکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی ،فتنہ الخوارج کے دو ڈرون مار گرائے ، وزارت اطلاعات

    سکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی ،فتنہ الخوارج کے دو ڈرون مار گرائے ، وزارت اطلاعات

    وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے بروقت اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے فتنہ الخوارج کے دو ڈرون کامیابی کے ساتھ مار گرائے ہیں، جس کے نتیجے میں کسی فوجی تنصیب یا اہم بنیادی ڈھانچے کو نقصان نہیں پہنچا۔

    وزارت اطلاعات کی جانب سے جاری بیان کے مطابق دہشت گرد تنظیم کی جانب سے استعمال کیے جانے والے دو ڈرون پاکستانی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے، تاہم سکیورٹی فورسز نے جدید ٹیکنالوجی اور الیکٹرانک کاؤنٹر میژرز استعمال کرتے ہوئے انہیں ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی ناکارہ بنا دیا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں ڈرونز کو مؤثر کارروائی کے بعد مار گرایا گیا، جس کے باعث کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ تاہم گرنے والے ملبے کی وجہ سے قریبی علاقے میں معمولی نقصان ہوا، جسے فوری طور پر کنٹرول کر لیا گیا۔ اس دہشت گرد تنظیم کو افغان طالبان حکومت کی سرپرستی حاصل ہے۔ افغان طالبان رجیم خطے میں سرگرم مختلف دہشت گرد تنظیموں کو پناہ اور معاونت فراہم کر رہی ہے، جن میں بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان بھی شامل ہیں۔

    وزارت اطلاعات کے مطابق افغان حکومت کی جانب سے اس معاملے پر کیے جانے والے دعوؤں کے ساتھ ہمیشہ کی طرح کوئی قابلِ تصدیق ثبوت موجود نہیں۔ افغان وزارت دفاع اور رجیم سے وابستہ دیگر سوشل میڈیا اکاؤنٹس جھوٹی خبروں اور پروپیگنڈے کے پھیلاؤ کے حوالے سے بدنام ہیں۔حالیہ دنوں میں انہی اکاؤنٹس کی جانب سے پاکستان کا ایک طیارہ مار گرانے کا دعویٰ کیا گیا تھا، جبکہ پائلٹوں کی گرفتاری سے متعلق بھی بے بنیاد اطلاعات پھیلائی گئیں۔ بعد ازاں افغان رجیم سے منسلک اکاؤنٹس نے خاموشی سے یہ دعوے حذف کر دیے۔ جھوٹے پروپیگنڈے کے باوجود حقیقت سامنے آ کر رہتی ہے اور سچ ہمیشہ جھوٹ پر غالب آتا ہے۔ حکام نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کی سکیورٹی فورسز ملک کی سرحدوں اور عوام کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام جاری رکھیں گی اور کسی بھی دہشت گرد خطرے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

  • ایران کے کلسٹر ہتھیار اسرائیلی فضائی دفاع کے لیے نیا چیلنج

    ایران کے کلسٹر ہتھیار اسرائیلی فضائی دفاع کے لیے نیا چیلنج

    ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ میں ایک نئی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ایران اب اپنے بعض بیلسٹک میزائلوں میں کلسٹر میونیشنز (Cluster Munitions) نصب کر رہا ہے، جس سے اسرائیل کے جدید فضائی دفاعی نظام کے لیے حملوں کو روکنا مزید مشکل ہو گیا ہے۔

    رات کے وقت اسرائیلی آسمان پر نارنجی روشنی کے چھوٹے چھوٹے ذرات تیزی سے زمین کی طرف گرتے دکھائی دیتے ہیں جبکہ فضا میں خطرے کے سائرن گونج رہے ہوتے ہیں۔ دراصل یہ روشنی کے ذرات چھوٹے بم ہوتے ہیں جو ایک بیلسٹک میزائل کے سرے سے بلند فضا میں چھوڑے جاتے ہیں اور پھر وسیع علاقے میں بکھر کر زمین پر گرتے ہیں۔ماہرین کے مطابق ایران کے بیشتر بیلسٹک میزائل تقریباً 24 چھوٹے بم (بومبلٹس) لے جا سکتے ہیں جبکہ ایران کا ایک میزائل خرمشہر (Khorramshahr) 80 تک بومبلٹس لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ہر بومبلٹ میں تقریباً 11 پاؤنڈ دھماکہ خیز مواد موجود ہوتا ہے جو زمین پر گرنے کے بعد شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔تحقیقی جائزوں کے مطابق ایران کے دو حملوں میں یہ بومبلٹس 7 سے 8 میل تک پھیلے علاقے میں گرے۔ ان میں گھروں، کاروباری مراکز، سڑکوں اور پارکوں سمیت مختلف شہری علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔اسرائیل میں میزائل حملوں سے پہلے وارننگ سسٹم اور بنکرز کی موجودگی شہریوں کو کسی حد تک تحفظ فراہم کرتی ہے، تاہم گزشتہ ہفتے تل ابیب کے مضافات میں ایک بومبلٹ گرنے سے دو تعمیراتی مزدور ہلاک اور کئی افراد زخمی ہو گئے۔ رپورٹ کے مطابق دونوں مزدور حملے کے وقت کسی محفوظ مقام پر موجود نہیں تھے۔

    کلسٹر ہتھیاروں کو بین الاقوامی سطح پر انتہائی متنازع سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ وسیع علاقے میں بغیر امتیاز کے تباہی پھیلاتے ہیں۔ اسی وجہ سے آباد علاقوں میں ان کا استعمال بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت ممنوع قرار دیا جاتا ہے۔انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی گزشتہ سال ایران کی جانب سے ایسے ہتھیاروں کے استعمال کو بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔ تاہم ایران نے اس معاملے پر باضابطہ ردعمل نہیں دیا۔

    اسرائیلی دفاعی نظام کے لیے مشکل
    اسرائیل کے میزائل دفاعی نظام نے اگرچہ اکثر بیلسٹک میزائلوں کو فضا میں تباہ کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے، لیکن چھوٹے بومبلٹس کو روکنا کہیں زیادہ مشکل ثابت ہو رہا ہے۔ ان کا سائز چھوٹا اور رفتار تیز ہونے کی وجہ سے انہیں بروقت نشانہ بنانا مشکل ہو جاتا ہے۔اسرائیلی میزائل ماہر تال انبار کے مطابق ایران کا مقصد فعال میزائل دفاعی نظام کو چکمہ دینا ہے۔ان کے مطابق بعض اوقات اسرائیلی دفاعی نظام میزائل کو فضا میں تباہ کر دیتا ہے لیکن اس کے باوجود بومبلٹس زمین پر گر جاتے ہیں، کیونکہ یا تو میزائل کو براہِ راست نشانہ نہیں بنایا جاتا یا وہ پہلے ہی بومبلٹس چھوڑ چکا ہوتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ کلسٹر ہتھیاروں کے استعمال کا ایک مقصد اسرائیل کو اپنے مہنگے انٹرسیپٹر میزائل زیادہ تعداد میں استعمال کرنے پر مجبور کرنا بھی ہو سکتا ہے۔ ایک میزائل کو روکنے کے لیے بعض اوقات کئی انٹرسیپٹر داغنے پڑ سکتے ہیں، جس سے دفاعی ذخائر تیزی سے کم ہو سکتے ہیں۔

    دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اب ممکنہ طور پر طویل المدتی تھکا دینے والی جنگ کی حکمت عملی اختیار کر رہا ہے۔ ایک میزائل بھی اسرائیل کے لاکھوں شہریوں کو بنکروں میں جانے پر مجبور کر دیتا ہے جبکہ اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کو مہنگے دفاعی وسائل استعمال کرنا پڑتے ہیں۔اسلحہ ماہر این آر جینزن جونز کے مطابق ایسے ہتھیاروں کا بنیادی مقصد صرف فوجی نقصان پہنچانا نہیں بلکہ شہری آبادی میں خوف اور نفسیاتی دباؤ پیدا کرنا بھی ہو سکتا ہے۔اسرائیلی فوج اور ہوم فرنٹ کمانڈ نے شہریوں کو ہدایت دی ہے کہ سائرن بند ہونے کے بعد بھی چند منٹ تک پناہ گاہوں میں رہیں کیونکہ بومبلٹس بعد میں بھی گر سکتے ہیں۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ غیر پھٹنے والے بومبلٹس کے قریب جانا انتہائی خطرناک ہو سکتا ہے کیونکہ ان کا دھماکہ ہینڈ گرینیڈ جیسی تباہی پھیلا سکتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران اسی حکمت عملی کو جاری رکھتا ہے تو یہ نہ صرف اسرائیل کے فضائی دفاع بلکہ پورے خطے کی سکیورٹی صورتحال کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔