Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • خیبر پختونخوا میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں 24 دہشتگرد ہلاک

    خیبر پختونخوا میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں 24 دہشتگرد ہلاک

    خیبر پختونخوا میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں 24 دہشتگرد ہلاک ہو گئے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق 4 اور 5 فروری کو خیبرپختونخوا میں 2 الگ جھڑپیں ہوئیں جس میں بھارتی پراکسی فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 24 خوارج مارے گئے،ضلع اورکزئی میں خفیہ اطلاعات پر سکیورٹی فورسز نے آپریشن کیا، آپریشن کے دوران خوارج کے ٹھکانے کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا گیا، شدید فائرنگ کے تبادلے میں 14 خوارج ہلاک کر دیے گئے، ضلع خیبر میں سکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاعات پر ایک اور آپریشن کیا، ضلع خیبر میں فائرنگ کے تبادلے میں مزید 10 خوارج ہلاک کردیے گئے،علاقے میں دیگر بھارتی سرپرست خوارج کے خلاف سرچ آپریشن جاری ہیں، کلیئرنس آپریشنز کا مقصد باقی دہشت گرد عناصر کا مکمل خاتمہ ہے، انسداد دہشت گردی مہم وژن عزمِ استحکام کے تحت جاری ہے، بھارتی حمایت یافتہ دہشتگردی کے خلاف فورسز کا فیصلہ کن کریک ڈاؤن جاری ہے۔

  • بسنت کی پہلی رات، ایک شخص جاں بحق، بچوں سمیت 5 زخمی

    بسنت کی پہلی رات، ایک شخص جاں بحق، بچوں سمیت 5 زخمی

    لاہور میں بسنت کے موقع پر مختلف واقعات میں ایک شخص جاں بحق جبکہ 5 زخمی ہوگئے۔

    ریسکیو حکام کے مطابق باغبانپورہ میں سکھ نہر کےقریب 25 سالہ علی رشید کٹی پتنگ اتارنے کےلیے بجلی کےکھمبے پر چڑھا، اس دوران کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہوگیا،ڈیفنس فیز 5 میں پتنگ کی ڈورگردن پر پھرنے سے نوجوان رافع زخمی ہوگیا، اسی طرح گلشن راوی میں بھی پتنگ کی ڈور پھرنے سے 8 سالہ ارسا اور45سالہ شبیر زخمی ہوگئے، لوئر مال کے علاقے میں پتنگ لوٹتے ہوئے 12 سالہ عبد الواحد زخمی ہوا جبکہ گلشن راوی میں 14 سالہ سلمان درخت سے پتنگ اتار رہا تھا کہ اس دوران زخمی ہوگیا۔

    لاہورمیں بسنت کا تہوار جوش و خروش سے منایا جا رہا ہے، جہاں عورتیں، بچے اور بزرگ سب ہی رنگا رنگ پتنگوں کے ساتھ خوشیوں میں ڈوبے نظر آ رہے ہیں۔ کئی برسوں کے طویل وقفے کے بعد لاہور میں ایک بار پھر بسنت کی بہار لوٹ آئی ہے اور شہر کی گلیاں، کوچے اور سڑکیں پتنگوں سے سجی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں۔لاہور کے مختلف علاقوں میں چھتوں پر شہریوں کی بڑی تعداد موجود ہے جو پتنگ بازی میں مصروف ہے، جبکہ بازاروں میں پتنگ اور ڈور کی خریداری کا رش بھی دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اگرچہ پتنگ اور ڈور کی قیمتیں ماضی کے مقابلے میں خاصی زیادہ ہیں، اس کے باوجود شہر بھر میں یہ اشیاء نایاب ہوتی جا رہی ہیں، جس سے بسنت کے شوقین افراد کی دلچسپی اور جوش کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

    طویل عرصے بعد بسنت منانے کے موقع پر وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت فضا خوشگوار ہے اور کوئی کسی کو تنگ نہیں کر رہا، ہر شخص اپنی مستی اور خوشی میں مگن ہے۔ انہوں نے دعا کی کہ یہ خوشیاں تین دن تک برقرار رہیں اور کسی کی نظر نہ لگے۔واضح رہے کہ پنجاب بھر میں بسنت کے باعث آج اور کل عام تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے، جس کے باعث شہریوں کو تہوار منانے کا بھرپور موقع میسر آیا ہے ،تاہم خوشیوں کے اس موقع پر بعض ناخوشگوار واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔ لاہور میں بسنت کے دوران مختلف حادثات میں ایک شخص جاں بحق جبکہ پانچ افراد زخمی ہو گئے۔ زخمیوں کو طبی امداد کے لیے قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جبکہ متعلقہ اداروں کی جانب سے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور حفاظتی قوانین پر عمل کرنے کی ہدایت کی جا رہی ہے۔بسنت کی بحالی نے جہاں شہریوں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیر دی ہیں، وہیں انتظامیہ کے لیے یہ ایک چیلنج بھی ہے کہ خوشیوں کے اس تہوار کو محفوظ بنایا جائے تاکہ کسی قیمتی جان کا ضیاع نہ ہو اور عوام بلا خوف و خطر اس تہوار سے لطف اندوز ہو سکیں۔

  • معرکہ حق سے کشمیر کاز پوری دنیا میں دوبارہ پوری قوت سےزندہ ہوا، وزیراعظم

    معرکہ حق سے کشمیر کاز پوری دنیا میں دوبارہ پوری قوت سےزندہ ہوا، وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہےکہ فیلڈ مارشل کی قیادت میں بھارت کو ایسی شکست دی کہ ان کی نسلیں بھی بھول نہ پائیں گی لہٰذا بھارت جس زبان میں بات کرے گا اسی میں جواب دیں گے۔

    یوم یکجہتی کشمیر پر آزاد جموں کشمیر قانون ساز اسمبلی کے خصوصی اجلاس سے خطاب میں وزیراعظم شہباز شریف نےکہا کہ آج ہم اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ یکجہتی کے لیے جمع ہوئے ہیں، پاکستان کی جانب سے اظہار یکجہتی کے لیے یہاں حاضر ہوا ہوں،قائداعظم محمد علی جناح نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا اور کشمیری ہر روز نعرہ لگاتے ہیں کہ کشمیر کبھی بھارت کا حصہ تھا اور نہ کبھی ہوگا، کشمیری دنیا کو ہر روز سچائی کا آئینہ دکھا رہے ہیں، کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، آزاد کشمیر میں کوئی بھی حکومت ہو ، میرا فرض ہے آگے بڑھ کر تعاون کروں اور ہمارے تعاون میں کسی قسم کی کمی نہیں آئے گی،کشمیریوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، میں تحریک آزادی کے شہید کارکنوں کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں، تاریخ گواہ ہے کہ کشمیری اپنے بچوں کو قربان کرسکتے ہیں لیکن اپنی آزادی قربان کرنےکو تیار نہیں،بھارت کی جانب سے دہشتگردی کا سلسلہ جاری ہے مگر بھارت جو فرنٹ کھولے گا اسی محاذ پر کبھی نہ بھولنے والا جواب دیں گے، معرکہ حق میں بھارتی گھمنڈ خاک میں ملا دیا، معرکہ حق میں ذلت آمیز شکست کے بعد بھارت اپنی پراکسیز کے ذریعے دہشتگردی تیز کررہا ہے مگر سفارتی محاذ پر بھی بھارتی بیانیہ دفن ہوگیا ہے، بھارت کے پاس اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں کہ وہ کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت دے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ فیلڈ مارشل کی قیادت میں بھارت کو ایسی شکست دی کہ ان کی نسلیں بھی بھول نہ پائیں گی، بھارت جس زبان میں بات کرے گا اسی میں جواب دیں گے، معرکہ حق میں پاکستان کی فتح اصل میں کشمیریوں کی بھی فتح ہے، معرکہ حق سے کشمیر کاز پوری دنیا میں دوبارہ پوری قوت سےزندہ ہوا، ہمیں اتحاد اور اتفاق سے دشمن کے عزائم ناکارہ بنانے ہیں، بھارت کے جارحانہ، توسیع پسندانہ عزائم اور ناپاک سازشیں ترک کرنے تک خطے میں امن ممکن نہیں، ہم امن چاہتےہیں لیکن امن برابری اور انصاف کی بنیاد پر قائم ہوسکتا ہے۔

  • بلوچستان میں آپریشن رد الفتنہ ون کامیابی سے مکمل ،216 دہشتگرد جہنم واصل

    بلوچستان میں آپریشن رد الفتنہ ون کامیابی سے مکمل ،216 دہشتگرد جہنم واصل

    سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان میں آپریشن رد الفتنہ ون کامیابی سے مکمل کیا ہے جس کے تحت خواتین اور بچوں سمیت معصوم شہریوں کو نشانہ بنا کر امن و ترقی میں خلل ڈالنے والے بھارتی سپانسر شدہ دہشت گرد عناصر کے خلاف مربوط، تیز اور انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق 29 جنوری 2026 کو پنجگور اور ضلع ہرنائی کے مضافات میں آپریشن شروع کیا گیا جب مصدقہ اور تصدیق شدہ انٹیلی جنس نے دہشت گرد عناصر کی موجودگی کی تصدیق کی جو مقامی عوام کے لیے ایک خطرہ ہیں اس مرحلے کے دوران، سیکورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے شناخت شدہ ٹھکانوں کے خلاف کارروائیاں کیں، جس کے نتیجے میں ہندوستانی پراکسی نیٹ ورکس سے وابستہ 41 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا۔

    سیکورٹی فورسز کے جارحانہ اور ثابت قدم جوابات نے بلوچستان کے امن کو غیر مستحکم کرنے کے لیے فتنہ الہندستان کے مذموم حملوں کو مؤثر طریقے سے ناکام بنا دیا ان کے نتیجے میں انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیوں کا ایک وسیع سلسلہ متعدد علاقوں میں شروع کیا گیا تاکہ مسلسل کومبنگ اور سینیٹائزیشن آپریشنز کے ذریعے دہشت گردوں کے سلیپر سیلز کو ختم کیا جا سکے۔

    پیچیدہ منصوبہ بندی، قابل عمل انٹیلی جنس، اور بغیر کسی رکاوٹ کے مشترکہ عمل کے ذریعے پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں نے آپریشن ردالفتنہ-1 کے تحت انٹیلی جنس ایجنسیوں کے تعاون سے درستگی اور عزم کے ساتھ جواب دیا۔ ان اچھی طرح سے مربوط مصروفیات اور بعد ازاں کلیئرنس آپریشنز کے نتیجے میں، 216 دہشت گردوں کو جہنم میں بھیج دیا گیا ہے، جو دہشت گرد نیٹ ورکس کی قیادت، کمانڈ اینڈ کنٹرول ڈھانچے اور آپریشنل صلاحیتوں کو نمایاں طور پر تباہ کر رہے ہیں۔

    کارروائی کے دوران غیر ملکی ہتھیاروں، گولہ بارود، دھماکہ خیز مواد اور آلات کا کافی ذخیرہ بھی برآمد کیا گیا ہے ابتدائی تجزیہ ان انتہا پسند پراکسیوں کو منظم بیرونی سہولت اور لاجسٹک سپورٹ کی نشاندہی کرتا ہےان آپریشنز کے دوران خواتین اور بچوں سمیت 36 بے گناہ شہریوں نے شہادت کو گلے لگایا جب کہ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 22 بہادر جوانوں نے پاکستان کی علاقائی سالمیت اور اس کے شہریوں کے تحفظ کے لیے لازوال قربانیاں دیں ان کی ہمت، پیشہ ورانہ مہارت اور غیر متزلزل عزم خدمت کی اعلیٰ روایات کی عکاسی کرتے ہیں۔ قوم ان کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتی ہے اور تمام شہداء کے خاندانوں کے ساتھ یکجہتی کے لیے کھڑی ہے۔

    پاکستان کی مسلح افواج حکومت پاکستان کے قومی ایکشن پلان کے دائرہ کار میں دہشت گردی کی تمام شکلوں اور مظاہر سے نمٹنے کے اپنے عزم پر ثابت قدم ہیں اور دہشت گردی کے خطرات کے مکمل خاتمے تک انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں پورے عزم کے ساتھ جاری رہیں گی،آپریشن ردالفتنہ 1 پاکستان اور خصوصاً بلوچستان کے قابل فخر لوگوں کے ہمیشہ تشدد پر امن، تقسیم پر اتحاد اور تشدد پر ترقی کو ترجیح دینے کے غیر متزلزل عزم کا ثبوت ہے۔

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بلوچستان میں آپریشن ردّ الفتنہ-1 کی کامیابی پر پاک فوج اور سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ فتنہ الہندوستان کے 216 دہشتگردوں کو جہنم واصل کرنے پر سیکیورٹی فورسز کو سلام پیش کیا جاتا ہے۔

    محسن نقوی نے سیکیورٹی فورسز کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں، عزم اور حوصلے کو سراہا اور کہا کہ ان کی شجاعت اور مؤثر کارروائیوں نے بلوچستان میں بدامنی کی سازش کو ناکام بنایا انہوں نے واضح کیا کہ فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کا انجام عبرتناک موت ہے اور دہشتگردانہ نیٹ ورک کی قیادت اور آپریشنل صلاحیت کو شدید نقصان پہنچایا گیا۔

    وفاقی وزیر داخلہ نے جام شہادت نوش کرنے والے سیکیورٹی اہلکاروں اور معصوم شہریوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہدا ہمارا فخر ہیں اور ان کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گاانہوں نے قوم کو یقین دہانی کرائی کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز دہشتگردی کے ہر خطرے کے خلاف بھرپور مؤثر کارروائیاں جاری رکھیں گی۔

  • ملک بھر میں آج یوم یکجہتی کشمیر منایا جا رہا ہے،صدر مملکت و وزیراعظم کے خصوصی پیغامات

    ملک بھر میں آج یوم یکجہتی کشمیر منایا جا رہا ہے،صدر مملکت و وزیراعظم کے خصوصی پیغامات

    آج ملک بھر میں کشمیریوں کی جدوجہدِ آزادی کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے یوم یکجہتی کشمیر منایا جا رہا ہے۔

    آج ملک بھر میں عام تعطیل ہے، مظفر آباد میں صبح نو اور دس بجے کے درمیان سائرن بجائے گئے اور ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی،آج پورے ملک میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے تقاریب کا انعقاد کیا جائے گا، آزاد کشمیر اور پاکستان کو ملانے والے راستوں پر انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنائی جائے گی۔

    گزشتہ سات دہائیوں میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں چھ لاکھ سے زائد کشمیری شہید کیے جا چکے ہیں۔ صرف حالیہ 34 برسوں میں 96 ہزار سے زائد کشمیری اپنی جانوں کا نذرانہ دے چکے، 7 ہزار سے زیادہ افراد دورانِ حراست شہید ہوئے اور ایک لاکھ سے زائد بچے شفقتِ پدری سے محروم کر دیے گئے 05 اگست 2019 کے بعد بھارتی مظالم میں مزید اضافہ ہوا، گزشتہ پانچ برسوں میں 966 کشمیری شہید، 25 ہزار سے زائد گرفتار اور ہزاروں کو عقوبت خانوں میں ظلم و تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ جنوری 2025 میں بھی ریاستی جبر کا سلسلہ نہ رکا اور مزید بے گناہ کشمیریوں کی جانیں لے لی گئیں۔

    آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کا خصوصی اجلاس بھی آج ہوگا، وزیراعظم شہباز شریف مظفر آباد جائیں گے یوم یکجہتی کشمیر پر صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے کشمیریوں کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

    صدر مملکت آصف زرداری نے اپنے پیغام میں کہا کہ یہ دن کشمیریوں سے غیر متزلزل حمایت کے عزم کی تجدید کا دن ہے، دنیا بھر میں پاکستانی کشمیری بھائیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو حق خودارادیت دینا ناگزیر ہےوزیراعظم نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا بھارتی اقدام غیر قانونی قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستانی قوم کشمیریوں کی حقِ خود ارادیت کی جدوجہد میں ان کے ساتھ ہے، کشمیری بھائیوں کی بے مثال جرات، استقامت اور قربانیوں کو سلام پیش کرتے ہیں، پاکستان کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے حق خودارادیت کی حمایت جاری رکھے گا۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ کشمیر کا تنازع اقوام متحدہ کے ایجنڈا پر موجود دیرینہ حل طلب تنازعات میں سے ایک ہے، بھارت کی ہٹ دھرمی کے باعث کشمیری عوام کو بنیادی حق سے محروم رکھا جا رہا ہے، وزیراعظم نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر جبر اور سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا گڑھ بنا ہوا ہے من مانی سیاسی نظربندیاں بھارت کے معمول کے ہتھکنڈے بن چکے ہیں، 5اگست 2019 کو بھارت نے غیر قانونی اور یکطرفہ انتظامی کا سلسلہ شروع کیا، ان اقدامات کا مقصد مقبوضہ جموں و کشمیر پر اپنے جبری تسلط کو مضبوط بنانا تھااقوام متحدہ سمیت ہر عالمی فورم پر کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی بھرپور وکالت کی، پاکستان کشمیری عوام کی آزادی کی جدوجہد میں بھرپور حمایت جاری رکھے گا۔

    یومِ یکجہتی کشمیر کے موقع پر افواجِ پاکستان نے کشمیری عوام کے ساتھ غیرمتزلزل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ان کی جدوجہدِ آزادی کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔

    فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق فیلڈ مارشل، نیول چیف اور ایئر چیف نے اپنے مشترکہ پیغام میں کہا ہے کہ افواجِ پاکستان کشمیری عوام کے شانہ بشانہ کھڑی ہیں اور ان کے بنیادی حقوق کی حمایت جاری رکھیں گی۔

    آئی ایس پی آر کے بیان میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے بیان میں بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں جاری ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیوں اور آبادی کے تناسب میں تبدیلی جیسے اقدامات کو ناقابلِ قبول قرار دیا گیا ہے۔

    افواجِ پاکستان نے ان اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کے اقدامات نہ صرف انسانی اقدار کے خلاف ہیں بلکہ خطے میں عدم استحکام کو بھی بڑھا رہے ہیں مسئلہ کشمیر کا حل اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ناگزیر ہےمسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے بغیر جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا قیام ممکن نہیں ہو سکتا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق اس تناظر میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ کشمیری عوام کی تکالیف کم کرنے کے لیے عملی اور مؤثر اقدامات کرے۔
    افواجِ پاکستان نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا ہے کہ وہ پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے پوری طرح پرعزم ہیں، کشمیری عوام کی جدوجہد کو جائز حق سمجھتے ہوئے افواجِ پاکستان ان کے ساتھ ہر سطح پر کھڑی رہیں گی۔

  • زاید ایوارڈ برائے انسانی اخوت کے سیکریٹری جنرل کی  آصفہ بھٹو  سے ملاقات

    زاید ایوارڈ برائے انسانی اخوت کے سیکریٹری جنرل کی آصفہ بھٹو سے ملاقات

    زاید ایوارڈ برائے انسانی اخوت کے سیکریٹری جنرل، جج محمد عبدالسلام نے ابوظبی میں اپنے سرکاری مصروفیات کے دوران اسلامی جمہوریہ پاکستان کی خاتونِ اول بی بی آصفہ بھٹو زرداری سے ملاقات کی۔

    ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان انسانی اخوت، ہمدردی، باہمی احترام، پُرامن بقائے باہمی اور مکالمے کے فروغ پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا، جنہیں عالمی سطح پر مشترکہ انسانی اقدار قرار دیا گیا۔ جج محمد عبدالسلام نے خاتونِ اول کو زاید ایوارڈ برائے انسانی اخوت کے وژن، دائرۂ کار اور اس کی آزاد و غیر جانبدار حیثیت سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ ایوارڈ دنیا بھر میں اُن افراد اور اداروں کو تسلیم کرتا ہے جو امن، رواداری، انسانی وقار اور ہم آہنگی کے فروغ کے لیے نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔

    آصفہ بھٹو زرداری نے متحدہ عرب امارات کی قیادت کی بصیرت کو سراہتے ہوئے کہا کہ انسانی اخوت کو عالمی انسانی و فلاحی مکالمے کا بنیادی ستون بنانا ایک دوراندیش قدم ہے۔ انہوں نے زاید ایوارڈ برائے انسانی اخوت کو ایک معتبر اور مؤثر عالمی پلیٹ فارم قرار دیا جو اقدار پر مبنی اور شمولیتی طرزِ فکر کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔خاتونِ اول نے اس موقع پر پاکستان کے سماجی انصاف، بین المذاہب ہم آہنگی اور شمولیتی ترقی کے عزم کو اجاگر کیا۔ انہوں نے بالخصوص خواتین کو بااختیار بنانے، کمیونٹی کی سطح پر فلاحی اقدامات اور عوام دوست سماجی تحفظ کے نظام پر زور دیا، جن کا مقصد کمزور اور محروم طبقات کی زندگیوں میں بہتری لانا ہے۔

    ملاقات کے اختتام پر پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے مابین اس مشترکہ عزم کا اعادہ کیا گیا کہ دونوں ممالک آئندہ بھی ایسے اقدامات کی حمایت جاری رکھیں گے جو اقوام اور معاشروں کے درمیان باہمی احترام، پُرامن بقائے باہمی اور عالمی یکجہتی کو فروغ دیں۔

  • 
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کوئٹہ دورہ، دہشت گردی کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کا عزم

    
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کوئٹہ دورہ، دہشت گردی کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کا عزم

    
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے آج کوئٹہ کا دورہ کیا، جہاں انہیں بلوچستان کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال اور جاری اندرونی سیکیورٹی آپریشنز پر جامع بریفنگ دی گئی۔
    بریفنگ میں بھارت کے حمایت یافتہ، بین الاقوامی طور پر نامزد دہشت گرد گروہ فتنہ الہندوستان کی جانب سے حالیہ دہشت گرد حملوں اور سیکیورٹی فورسز کے فوری اور مؤثر ردعمل پر تفصیل سے آگاہ کیا گیا، جس کے باعث بلوچستان میں امن، استحکام اور ترقی کو نقصان پہنچانے کی کوششیں ناکام بنائی گئیں۔
    ‎ریاست کی رِٹ کو مضبوط بنانے، عوام اور حساس تنصیبات کے تحفظ کے لیے کیے گئے اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے واضح کیا کہ کسی بھی دہشت گرد اور اس کے سہولت کار کو نہیں بخشا جائے گا اور تشدد و دہشت گردی کو کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران اور جوانوں کی پیشہ ورانہ صلاحیت، بہادری اور قربانیوں کو سراہا۔
    ‎بعد ازاں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے وزیراعلیٰ بلوچستان کے ہمراہ سی ایم ایچ کوئٹہ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے پاک فوج، ایف سی بلوچستان اور پولیس کے زخمی اہلکاروں سے ملاقات کی اور مادرِ وطن کے دفاع میں ان کے بلند حوصلے، جرات اور استقامت کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

  • 
9ویں انٹرنیشنل پاکستان آرمی ٹیم اسپرٹ مقابلوں کا آغاز، 19 ممالک کی شرکت

    
9ویں انٹرنیشنل پاکستان آرمی ٹیم اسپرٹ مقابلوں کا آغاز، 19 ممالک کی شرکت

    
9ویں انٹرنیشنل پاکستان آرمی ٹیم اسپرٹ مقابلوں کی افتتاحی تقریب کے ساتھ 60 گھنٹے پر مشتمل پیٹرولنگ ایکسرسائز کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے۔
    ‎پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق مقابلوں میں 19 دوست ممالک کی 24 ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں جبکہ متعدد ممالک کے عسکری مبصرین بھی مشق کا حصہ ہیں۔ بحرین، بنگلا دیش، بیلاروس اور مصر کی ٹیمیں مقابلوں میں شریک ہیں، جبکہ انڈونیشیا، میانمار اور تھائی لینڈ بطور مبصر شامل ہیں۔
    ‎آئی ایس پی آر کے مطابق عراق، اردن، سعودی عرب، ملائیشیا، مالدیپ اور مراکش کی ٹیمیں بھی مشق میں حصہ لے رہی ہیں۔ پاکستان آرمی اور پاکستان نیوی کی 16 ملکی ٹیمیں جبکہ پاکستان ایئر فورس کے مبصرین بھی اس بین الاقوامی مشق میں شامل ہیں۔
    ‎مشق کے دوران اعلیٰ جسمانی فٹنس، ذہنی مضبوطی اور پیشہ ورانہ عسکری مہارتوں کا عملی مظاہرہ کیا جاتا ہے۔ ٹیم اسپرٹ کے ذریعے استقامت، باہمی تعاون اور بنیادی عسکری صلاحیتوں کو نکھارنا اس مشق کا بنیادی مقصد ہے۔
    ‎تقریب کا مقصد دوست ممالک کی افواج کے درمیان ملٹری ٹو ملٹری تعاون کو فروغ دینا اور پیشہ ورانہ تجربات کا تبادلہ کرنا ہے۔

  • مئی 2020میں بھارت چین کا تصادم،بھارتی  اسٹریٹجک ناکامیا ں اور دفاعی کمزوریاں نمایاں

    مئی 2020میں بھارت چین کا تصادم،بھارتی اسٹریٹجک ناکامیا ں اور دفاعی کمزوریاں نمایاں

    دفاعی ماہرین اور اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ بھارت مشرقی لداخ میں اپریل اور مئی 2020 کے دوران چین کی تیز رفتار اور منظم فوجی پیش قدمی کا بروقت اندازہ لگانے میں ناکام رہا-

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی پارلیمنٹ میں ہونے والی حالیہ گرما گرم بحث نے 2020 میں لائن آف ایکچوئل کنٹرول (LAC) پر چین کے ساتھ پیش آنے والے فوجی تصادم کے دوران نئی دہلی کی اسٹریٹجک ناکامیوں اور دفاعی کمزوریوں کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہےدفاعی ماہرین اور اپوزیشن رہنماؤ ں کا کہنا ہے کہ بھارت مشرقی لداخ میں اپریل اور مئی 2020 کے دوران چین کی تیز رفتار اور منظم فوجی پیش قدمی کا بروقت اندازہ لگانے میں ناکام رہا، جس کے نتیجے میں پیپلز لبریشن آرمی (PLA) کو واضح تزویراتی برتری حاصل ہوئی۔

    یہ معاملہ اس وقت دوبارہ منظرِ عام پر آیا جب سابق بھارتی آرمی چیف جنرل (ر) ایم ایم نرواَنے کی غیر شائع شدہ کتاب “Four Stars of Destiny” کے اقتباسات ایک بھارتی جریدے میں رپورٹ ہوئے،کتاب کے مسودے کے مطابق چین نے تبت میں جاری فوجی مشقوں سے دستے اچانک ایل اے سی کے اگلے مورچوں پر منتقل کیے، جس نے بھارتی افواج کو ششدر کر دیا۔

    مولانا طاہر اشرفی کا کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی

    جنرل نرواَنے، جو دسمبر 2019 سے اپریل 2022 تک بھارتی فوج کے سربراہ رہے، اعتراف کرتے ہیں کہ بھارت چین کی فوجی نقل و حرکت کی رفتار اور پیمانے کا درست اندازہ لگانے میں ناکام رہا، اگرچہ بعد ازاں بھارتی فوج نے پوزیشنز مستحکم کر لیں، تاہم ابتدائی انٹیلی جنس خلا بھاری ثابت ہوایہ کشیدگی اپریل اور مئی 2020 میں جھڑپوں کی صورت میں بڑھی اور 15 جون 2020 کو گلوان وادی میں خونریز ہاتھا پائی پر منتج ہوئی، جس میں 45 برس بعد پہلی مرتبہ بھارت چین سرحد پر ہلاکتیں ہوئیں۔

    منگل کے روز پارلیمنٹ میں بحث کے دوران وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے اپوزیشن کی جانب سے کتاب کے حوالے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ تاحال شائع نہیں ہوئی تاہم قائد حزب اختلاف راہول گاندھی نے مسودے پر مبنی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے الزام لگایا کہ حکومت بحران سے متعلق حقائق کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔

    پنجاب پولیس: اصلاحات، قیادت اور تسلسل کی امید، تجزیہ : شہزاد قریشی

    سیکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق چین نے بالآخر ایل اے سی کے ساتھ 40 سے 50 ہزار فوجی تعینات کر دیے، جس کے جواب میں بھارت کو ہنگامی بنیادوں پر اضافی فوج، توپ خانہ، میزائل اور راکٹ سسٹمز تعینات کرنا پڑے۔

  • بشیر  بلوچ خواتین کو اغوا کر کے زیادتی،خودکش حملوں میں استعمال کرتا تھا،گرفتار کمانڈرکا انکشاف

    بشیر بلوچ خواتین کو اغوا کر کے زیادتی،خودکش حملوں میں استعمال کرتا تھا،گرفتار کمانڈرکا انکشاف

    کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے گرفتار کمانڈر درزاد بلوچ نے تفتیش کے دوران ہوشربا انکشافات کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ تنظیم کا سرغنہ بشیر زیب بلوچ خواتین کو اغوا کر کے نہ صرف جنسی استحصال کا نشانہ بناتا تھا بلکہ انہیں خودکش کارروائیوں کے لیے بھی استعمال کیا جاتا رہا۔

    درزاد بلوچ کے مطابق بی ایل اے کی قیادت منظم انداز میں دیہی اور پسماندہ علاقوں سے کم عمر اور نوجوان لڑکیوں کو اغوا کر کے افغانستان منتقل کرتی رہی، جہاں انہیں ذہنی و جسمانی تشدد کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔بشیر زیب کے حکم پر 50 سے زائد لڑکیوں کو اغوا کر کے ذہنی و جسمانی استحصال، جبری مشقت اور عسکری تربیت دی گئی۔ وہ بشیر زیب کے حکم پر 50 سے زائد خواتین کو اغوا کر کے افغانستان منتقل کرتا تھا،اس نے 50 سے زائد لڑکیوں کو دیہی علاقوں سے اٹھایا، جہاں سے خبر نکلنے کا خطرہ کم تھا، اور انہیں برین واش کر کے میر آباد منتقل کیا جاتا۔ وہاں ان لڑکیوں پر کئی ماہ جنسی زیادتی کی جاتی، پھر گھریلو کام کروائے جاتے اور بالآخر خودکش حملوں کی تربیت دے کر گوریلا جنگ میں استعمال کیا جاتا۔ درزاد نے یہ بھی مانا کے یہ "دلالی” تھی اور بشیر زیب پر لعنت بھیج کر قوم سے معافی مانگی کی درخواست کی،

    سکیورٹی ذرائع کے مطابق گرفتار کمانڈر نے بیان دیا کہ اغوا کی جانے والی لڑکیوں کو شدت پسند نظریات کے زیرِ اثر لانے کے لیے شدید ذہنی دباؤ، دھمکیوں اور تشدد کا استعمال کیا جاتا تھا، جبکہ بعض خواتین کو زبردستی خودکش بمبار بنانے کی تربیت دی گئی۔ درزاد بلوچ نے کہا کہ یہ تمام کارروائیاں تنظیمی قیادت کی ہدایات پر کی جاتیں اور مخالفت کرنے والوں کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جاتیں۔

    تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ درزاد بلوچ کے اعترافی بیان نے بی ایل اے کے اندرونی ڈھانچے، فنڈنگ، تربیتی مراکز اور سرحد پار روابط سے متعلق کئی اہم پہلوؤں کو بے نقاب کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق خواتین کے اغوا اور استحصال کا نیٹ ورک ایک منظم چین کے تحت کام کرتا تھا، جس میں مقامی سہولت کاروں سے لے کر بیرونِ ملک موجود ہینڈلرز تک شامل تھے۔گرفتار کمانڈر نے اپنے بیان میں کہا کہ تنظیم کی نام نہاد جدوجہد دراصل معصوم لوگوں، خصوصاً خواتین، کے خون اور عزت سے کھیلی گئی۔ اس نے اعتراف کیا کہ شدت پسند قیادت نے بلوچ عوام کے نام پر ذاتی مفادات اور بیرونی ایجنڈوں کو فروغ دیا۔ درزاد بلوچ نے اپنے کیے پر ندامت کا اظہار کرتے ہوئے قوم سے معافی مانگی اور نوجوانوں کو شدت پسندی کے راستے سے دور رہنے کی اپیل کی۔

    سکیورٹی اداروں کے مطابق اعترافات کی روشنی میں مزید گرفتاریاں اور قانونی کارروائیاں متوقع ہیں، ریاست دہشت گردی اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رکھے گی۔سیاسی و سماجی حلقوں نے ان انکشافات کو نہایت تشویشناک قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ خواتین کے اغوا، جنسی استحصال اور خودکش کارروائیوں میں استعمال جیسے جرائم میں ملوث تمام کرداروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ مبصرین کے مطابق یہ اعترافات شدت پسند تنظیموں کے اصل چہرے کو بے نقاب کرتے ہیں اور نوجوان نسل کے لیے ایک واضح پیغام ہیں کہ تشدد اور انتہا پسندی کسی مسئلے کا حل نہیں۔