Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • بلوچستان میں بہادری کی نئی مثال،شہید کی اہلیہ لیڈی کانسٹیبل ملک ناز شہید

    بلوچستان میں بہادری کی نئی مثال،شہید کی اہلیہ لیڈی کانسٹیبل ملک ناز شہید

    ہمارے شہداء ،ہمارا افتخار، بلوچستان میں بہادری کی نئی مثال،بلوچستان کی بہادر بیٹی نےاپنا فرض نبھاتے ہوئے وطن عزیز پر جان قربان کر دی

    خضدار میں دہشت گردوں کے بزدلانہ حملے میں لیڈی کانسٹیبل ملک ناز نے جام شہادت نوش کیا،لیڈی کانسٹیبل ملک ناز 19اپریل 2026 کو خضدار کے علاقے بَجوئی میں دہشت گردوں کے بزدلانہ حملہ میں شہید ہوئیں،2011 میں ملک ناز کے شوہر عبدالغنی بھی لیویز فورس میں ٹارگٹ کلنگ کے نتیجے میں شہید ہوگئے تھے، شہید لیڈی کانسٹیبل ملک ناز کو 2013 میں شہید کوٹہ کے تحت لیویز فورس میں بھرتی کیا گیا تھا،شہید شوہر کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے ملک ناز نے بلوچستان کی پہلی شہید بیٹی ہونے کا اعزاز حاصل کر لیا ،شہید ملک ناز کے سوگواران میں ایک بیٹا اور دو بیٹیاں شامل ہیں ،وطن عزیز کی بقا اور سلامتی کیلئے جان کا نذرانہ پیش کرنے والے بہادر بیٹوں اور بیٹیوں کو قوم کا سلام ہو،

  • اسلام آباد مذاکرات،پاکستان ثالث کے طور پر فعال،میڈیابھی کرے ذمہ دارانہ کردار ادا

    اسلام آباد مذاکرات،پاکستان ثالث کے طور پر فعال،میڈیابھی کرے ذمہ دارانہ کردار ادا

    امریکا ،ایران جنگ بندی کے سلسلہ میں اسلام آباد ایک بار پھر میزبانی کرنے کو تیار ہے ،پاکستان واحدثالث ہے،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے تین روزہ دورہ ایران کیا اور ایرانی حکام سے ملاقاتیں کیں یہ دورہ مذاکرات کے پہلے دور کے بعد ہوا، اب دوسرے دور کا اعلان ہو چکا کہ مذاکرات ہونے ہیں، امریکی صدر ٹرمپ بھی کہ چکے کہ امریکی وفد اسلام آباد آج پہنچے گا ،امریکا ایران مذاکرات کے حوالہ سے ساری دنیا کی نظریں اسلام آباد پر ہیں ایسے میں پاکستانی میڈیا کو بھی اعتماد کی فضا بنانی ہو گی، مصدقہ خبر کو ہی نشر کرنا چاہئے نہ کہ افواہیں، تجزیوں کو خبر بنا کر پیش کیا جائے

    گزشتہ دورِ مذاکرات سے پہلے جس طرح دیکھا گیا تھا، اب بھی دوسرے مرحلے کے ہونے یا نہ ہونے کے حوالے سے میڈیا میں کافی ہائپ پیدا ہو رہی ہے۔ایران کی جانب سے مختلف رپورٹس سامنے آ رہی ہیں کہ ان کا وفد آئے گا یا نہیں۔اگر ماضی کودیکھا جائے تو یہ زیادہ امکان ہے کہ ایران کی طرف سے میڈیا میں اشارے اور سیاسی حکمتِ عملی کے تحت دباؤ بنایا جا رہا ہے تاکہ مذاکرات میں زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کیا جا سکے اور اندرونی سیاست کو بھی مدنظر رکھا جا سکے۔ایران کے وزیرِ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ “ابھی کوئی منصوبہ نہیں”۔ یہ اس بات کی واضح علامت ہے کہ وہ معاملے پر غور کر رہے ہیں لیکن حتمی فیصلہ نہیں ہوا،یہ ایک روایتی دباؤ کی حکمتِ عملی ہے۔ترجمان نے واضح کیا ہے کہ پاکستان اب بھی واحد ثالث کے طور پر کام کر رہا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام آباد اس کردار میں فعال ہے اور آئندہ دور بھی اسی جگہ ہونے کا امکان ہے۔

    میڈیا کو دونوں انتہاؤں سے گریز کرنا چاہیے؛ نہ یہ کہنا درست ہے کہ مذاکرات مکمل طور پر ناکام ہو گئے ہیں اور نہ ہی یہ کہ معاہدہ طے پا چکا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ عمل جاری ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ دونوں وفود اسلام آباد کا دورہ کریں گے، کیونکہ دونوں فریقین معاہدے تک پہنچنے کے لیے مثبت سوچ رکھتے ہیں، تاہم ابھی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔

  • مذاکرات میں رکاوٹ،فیلڈ مارشل عاصم منیر کا ٹرمپ سے رابطہ کی خبر کی حقیقت

    مذاکرات میں رکاوٹ،فیلڈ مارشل عاصم منیر کا ٹرمپ سے رابطہ کی خبر کی حقیقت

    بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے درمیان ایک اہم ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے، جس میں خطے کی موجودہ کشیدہ صورتحال اور خاص طور پر آبنائے ہرمز میں ممکنہ ناکہ بندی کے خدشات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے امریکی صدر کو موجودہ صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز کی بندش مذاکرات میں بڑی رکاوٹ ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عاصم منیر کو یقین دلایا کہ وہ اس مشورے پر غور کریں گے،

    آبنائے ہرمز کو عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے لیے ایک انتہائی اہم اور حساس سمندری راستہ سمجھا جاتا ہے، اور اس کی بندش یا کشیدگی عالمی منڈیوں پر بھی براہِ راست اثر ڈال سکتی ہے۔

    پاکستانی ذرائع نے اس خبر کی سختی سے تردید کر دی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ایران کی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ اسلام آباد میں ممکنہ امن مذاکرات آگے بڑھ سکیں۔ پاکستانی ذرائع نے ان دعوؤں کو مکمل طور پر بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی سیکیورٹی ذریعے نے کسی خبر ایجنسی، بشمول رائٹرز، کو ایسی کوئی معلومات فراہم نہیں کیں۔ذرائع کے مطابق یہ ایک منظم غلط معلوماتی مہم اور جعلی رپورٹنگ ہے، جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔

  • ایران کا امریکا سے مذاکرات جاری رکھنے کا فیصلہ،ریڈلائنز بھی بتا دیں

    ایران کا امریکا سے مذاکرات جاری رکھنے کا فیصلہ،ریڈلائنز بھی بتا دیں

    ایران نے امریکا سے مذاکرات جاری رکھنے کا فیصلہ کرلیا ساتھ ہی اپنی ریڈ لائنز بھی بتادیں۔

    ایرانی نیشنل سیکیورٹی کمیشن کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے الجزیرہ ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے دوٹوک کہا کہ مذاکرات کا مطلب یہ نہیں کہ ایران کسی بھی قیمت پر بات چیت کرے، اسلام آباد مذاکرات میں شرکت کا دارومدار امریکی مذاکرات کاروں اور مثبت پیغامات پر ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ایران نے جو حدود واضح کی ہیں اُن کا احترام لازمی ہے، لبنان جنگ بندی اور منجمد اثاثوں کی بحالی بنیادی شرائط میں سے ہیں، سابقہ وعدوں کی پاسداری نہ کی گئی تو سمجھیں گے ایرانی شرائط کو تسلیم نہیں کیا گیا۔

    ایرانی نائب صدر محمد رضا عارف بھی کہہ چکے ہیں کہ بات چیت تب ہی کریں گے جب دوبارہ حملے نہ ہونے کی یقین دہانی ہو۔محمد رضا عارف کا کہنا تھا آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد دشمن اب مذاکرات کی بھیک مانگ رہا ہے۔

    دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد میں امریکی سفیر نیٹلی بیکر سے ملاقات کی، جس میں اسلام آباد مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ کیلئے سیکیورٹی انتظامات سمیت دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔محسن نقوی اور نیٹلی بیکر کے درمیان ملاقات میں پاک امریکا تعلقات کے فروغ، خطے کی صورتحال پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ امریکی سفیر نے خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئے پاکستان کے مخلصانہ کردار کو سراہا۔وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ تمام خاص مہمانوں کیلئے سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے ہیں، اسلام آباد مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ کی کامیابی کیلئے دعاگو ہیں۔محسن نقوی نے مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ کیلئے سیکیورٹی انتظامات سے آگاہ کیا۔

    واضح رہے کہ خطے میں پائیدار امن کیلئے پاکستان پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا، امریکا ایران مذاکرات کا دوسرا دور اسلام آباد میں ہونے جارہا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ صدر خود بھی پاکستان جانے کا عندیہ دے چکے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ مذاکرات کے دوسرے دور کیلئے پُرامید دکھائی دیتے ہیں۔امریکی صدر کہتے ہیں معاہدہ ضرور ہوگا۔ تہران نے بھی واضح کیا ہے کہ مذاکرات کیلئے لبنان میں جنگ بندی اور منجمد اثاثوں کی بحالی بنیادی شرائط ہیں۔وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ بھی ہوا، مسائل کے حل کیلئے مذاکرات کو ناگزیر قرار دیا گیا۔

  • بلوچستان: دہشتگردوں کے خلاف کارروائی، صوبے کی پہلی خاتون اہلکار سمیت 3 شہید

    بلوچستان: دہشتگردوں کے خلاف کارروائی، صوبے کی پہلی خاتون اہلکار سمیت 3 شہید

    خضدار پولیس اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں ہیڈ کانسٹیبل اور صوبے کی پہلی خاتون کانسٹیبل شہید جبکہ ایڈیشنل ایس ایچ او اور ایک اہلکار زخمی ہوگئے۔

    پولیس کے مطابق گزشتہ روز سولر پلیٹوں کی چوری کے حوالے سے پولیس نے علاقے باجوئی میں چھاپہ مارا تو وہاں موجود دہشت گردوں سے فائرنگ کے تبادلے میں کانسٹیبل ملک ناز بی بی اور ہیڈ کانسٹیبل سمیع اللہ موقع پر شہید ہوگئے ، ایڈیشنل ایس ایچ او محمد ابراہیم اور کانسٹیبل نجیب الرحمن زخمی ہوئے ، مزید کارروائی پولیس کررہی ہے۔

    ادھر دشت میں سی ٹی ڈی اور پولیس کے دہشت گردوں کیخلاف ٹارگٹڈ آپریشن کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں ایک اہلکار شہید جبکہ سی ٹی ڈی کے سب انسپکٹر سمیت چھ جوان شدید زخمی ہو گئے،دہشت گردوں نے فورسز کو دیکھتے ہی شدید فائرنگ اور دستی بموں سے حملے کئے جس میں ہیڈ کانسٹیبل ایس پی سریاب کا ریڈر رحمت اللہ موقع پر ہی شہید جبکہ سی ٹی ڈی کا سب انسپکٹر جاوید گل، کانسٹیبل نیاز احمد ،سریاب پولیس کا اے ایس آئی وقار احمد ، ہیڈ کانسٹیبل نور اللہ، کانسٹیبل عبدالعلیم اور کانسٹیبل تاج محمد شدید زخمی ہو ہوئے۔

  • امریکی وفد کی آج پاکستان آمد متوقع،معاہدہ نا ہونے پر ٹرمپ کی ایران کو دھمکی

    امریکی وفد کی آج پاکستان آمد متوقع،معاہدہ نا ہونے پر ٹرمپ کی ایران کو دھمکی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں ہنگامی اجلاس کے بعد ایران کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس بار معاہدہ نہ ہو سکا تو ایران کے پاور پلانٹس اور پلوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔

    انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا پہلے ہی ایران کی بحری اور فضائی صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچا چکا ہے اور تہران اب مزید دباؤ ڈالنے کی پوزیشن میں نہیں، صدر ٹرمپ نے سخت مؤقف کے ساتھ ساتھ سفارتکاری کا راستہ بھی کھلا رکھا اور اعلان کیا کہ اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر پر مشتمل امریکی وفد پیر کی شام تک اسلام آباد پہنچ جائے گا، جہاں منگل اور بدھ کو مذاکرات متوقع ہیں۔ اگر مذاکرات کامیاب رہے تو وہ خود بھی پاکستان کا دورہ کر سکتے ہیں،امریکی صدر کے مطابق ایران کو امریکی محاصرے کے باعث اب تک تقریباً 500 ملین ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔

    دوسری طرف ایران کی جانب سے بھی سخت ردعمل سامنے آیا ہے، ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا ہے کہ ایرانی بحریہ کسی بھی ممکنہ جنگ کے لیے مکمل تیار ہے اور دشمن کو بھرپور جواب دیا جائے گا ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکی مطالبات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ ایران کے دفاعی فیصلوں کا تعین کرے۔

    ایرانی فوج کے سپاہ سالار امیر حاتمی نے بھی خبردار کیا کہ ایران کی افواج ہر وقت تیار ہیں اور آخری دم تک ملک کا دفاع کریں گی ایرانی خفیہ اداروں نے کرمن سے امریکا اور اسرائیل کے لیے مبینہ جاسوسی کرنے والے 51 افراد کی گرفتاری کا دعویٰ بھی کیا ہے۔

    اُدھر اسلام آباد میں مجوزہ مذاکرات کے لیے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور ریڈ زون کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے تاہم ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق تہران نے فی الحال مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت سے انکار کر دیا ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ امریکا کے مطالبات غیر معمولی حد تک سخت ہیں جبکہ اس کے بیانات میں تضاد پایا جاتا ہے۔

  • بی ایل ایف کی خاتون خود کش بمبارکےسہولت کارمنظوراحمدکی بیوی رحیمہ بی بی کے انکشافات

    بی ایل ایف کی خاتون خود کش بمبارکےسہولت کارمنظوراحمدکی بیوی رحیمہ بی بی کے انکشافات

    بی ایل ایف کی خاتون خود کش بمبارکےسہولت کارمنظوراحمدکی بیوی رحیمہ بی بی نے انکشافات کئے ہیں

    رحیمہ بی بی (دالبندین) کا کہنا ہے کہ شادی اپریل 2025 میں منظور احمد سے ہوئی۔ بعد میں گھر میں ایک نامعلوم خاتون (زرینہ) کی آمد، شوہر کا اس کے ساتھ مشکوک روابط اور موبائل فون کے استعمال پر شکوک پیدا ہوئے۔ خاتون کو کچھ دن بعد افغانستان لے جانے کا دعویٰ کیا گیا۔ نومبر-دسمبر 2025 میں شوہر افغانستان فرار ہو گئے اور مبینہ طور پر رابطے کے بعد گرفتاری بھی ہوئی۔ رحیمہ بی بی نے الزام لگایا کہ شوہر نے ذمہ داری سے انکار کیا اور والدین سے اپیل کی کہ رشتے سے پہلے مکمل جانچ پڑتال کی جائے،رحیمہ بی بی کے مطابق بعد میں معلوم ہوا کہ وہی عورت مبینہ طور پر ایک خودکش حملے سے جڑی تھی۔ ان کے شوہر پر سنگین الزامات اور تعلقات کے دعوے کیے گئے ہیں، جبکہ وہ شہریوں سے اپیل کرتی ہیں کہ رشتہ کرنے سے پہلے مکمل جانچ پڑتال کریں،بیان کے آخر میں وہ کہتی ہیں کہ ان کا شوہر بعد میں مکمل طور پر غائب ہو گیا اور مبینہ طور پر افغانستان چلا گیا، جبکہ وہ خود قانونی اور سماجی مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں۔ وہ والدین سے درخواست کرتی ہیں کہ شادی سے پہلے مکمل تصدیق اور احتیاط کو لازمی سمجھیں

    بلوچستان میں سیکیورٹی اداروں کی جانب سے ایک خاتون کی گرفتاری کے بعد اہم پریس کانفرنس میں ایسے انکشافات سامنے آئے ہیں جنہوں نے دہشت گرد تنظیموں کے طریقہ کار، خواتین کے استحصال اور خطے میں دہشت گردی کے نیٹ ورک سے متعلق کئی سوالات کو اجاگر کر دیا ہے۔پریس بریفنگ میں بتایا گیا کہ بعض شدت پسند عناصر خواتین کو سماجی، نفسیاتی اور جنسی استحصال کا نشانہ بنا کر اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ حکام کے مطابق خواتین کو کمزور طبقہ سمجھ کر ان پر ذہنی دباؤ ڈالا جاتا ہے، انہیں مخصوص بیانیے کے تحت متاثر کیا جاتا ہے اور پھر دہشت گرد سرگرمیوں میں جھونک دیا جاتا ہے۔پریس کانفرنس میں ایک اہم انکشاف یہ بھی کیا گیا کہ ایک شخص نے اپنی اہلیہ رحیمہ کا موبائل نمبر جان بوجھ کر دہشت گرد تنظیموں اور ایک خاتون خودکش بمبار سے رابطوں کے لیے استعمال کیا۔ حکام کے مطابق یہ اقدام نہ صرف اعتماد کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ شدت پسند نیٹ ورک بی ایل اے اور بی ایل ایف اپنے قریبی رشتوں تک کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرنے سے گریز نہیں کرتے۔حکام کے مطابق زرینہ رفیق نامی خاتون کچھ عرصہ مذکورہ افراد کے گھر میں مقیم رہی، جس کے بعد اسے افغانستان میں موجود تربیتی کیمپ بھیجا گیا۔ بریفنگ میں کہا گیا کہ یہ واقعہ اس تاثر کی نفی کرتا ہے کہ خواتین ہمیشہ گھروں تک محدود رہتی ہیں، جبکہ بعض عناصر اس حقیقت کے برعکس مخصوص سیاسی بیانیہ تشکیل دے کر ریاست اور حکومت کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔

    پریس کانفرنس میں ایک بار پھر یہ مؤقف دہرایا گیا کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ حکام نے کہا کہ سرحد پار موجود تربیتی مراکز اور سہولت کار پاکستان کے امن کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں، جس کے شواہد مختلف کارروائیوں میں سامنے آتے رہے ہیں۔حکام نے خواتین کو دہشت گردی میں استعمال کرنے کے ایک منظم ماڈل کی بھی نشاندہی کی، جس کے مطابق پہلے مرحلے میں ذہنی گمراہی، نفرت انگیز سوچ، انتہا پسندی اور نظریاتی تربیت کی جاتی ہے۔دوسرے مرحلے میں بھرتی، عملی تربیت اور کارروائی کے لیے تیاری مکمل کی جاتی ہے۔اگر کارروائی کامیاب ہو جائے تو خاتون کو مزاحمت کی علامت بنا کر مزید بھرتی اور پروپیگنڈے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔اگر کارروائی ناکام ہو جائے یا گرفتاری عمل میں آ جائے تو تنظیمیں لاتعلقی اختیار کر لیتی ہیں اور ذمہ داری دوسروں پر ڈال دی جاتی ہے۔

    پریس بریفنگ میں کہا گیا کہ خواتین کو خودکش حملوں یا دہشت گرد سرگرمیوں میں استعمال کرنا بلوچ ثقافت، قبائلی روایات اور مذہبی تعلیمات کے منافی ہے۔ حکام کے مطابق بلوچ معاشرہ خواتین کے احترام، عزت اور تحفظ کا داعی رہا ہے، جبکہ مذہب بھی بے گناہ جانوں کے قتل اور فساد کی اجازت نہیں دیتا۔حکام نے کہا کہ سیکیورٹی ادارے ایسے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں جاری رکھیں گے اور خواتین سمیت نوجوانوں کو گمراہ کرنے والے عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ عوام سے بھی اپیل کی گئی کہ مشکوک سرگرمیوں کی فوری اطلاع دیں تاکہ دہشت گردی کے خطرات کو بروقت ناکام بنایا جا سکے۔

    پریس کانفرنس کے بعد مختلف حلقوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ خواتین اور نوجوانوں کو شدت پسند بیانیوں سے بچانے کے لیے آگاہی مہم چلائی جائے، تعلیمی و سماجی اداروں کو فعال کردار دیا جائے اور متاثرہ علاقوں میں روزگار و تعلیم کے مواقع بڑھائے جائیں تاکہ انتہا پسند عناصر کو جگہ نہ مل سکے۔

  • امریکا پر اعتماد شکرنی،ایران کا دوبارہ آبنائے ہرمز بند کرنے کا فیصلہ

    امریکا پر اعتماد شکرنی،ایران کا دوبارہ آبنائے ہرمز بند کرنے کا فیصلہ

    ایران کی فوج نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی آمدورفت پر پابندیاں دوبارہ نافذ کی جا رہی ہیں۔ ایرانی حکام نے اس اقدام کی وجہ امریکا کی جانب سے جنگ بندی کے باوجود بار بار اعتماد شکنی اور وعدہ خلافی کو قرار دیا ہے۔

    ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی مسلح افواج نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر مکمل نگرانی قائم کر دی گئی ہے اور اگر مبینہ بحری ناکہ بندی جاری رہی تو اس راستے سے گزرنے والی بحری نقل و حرکت کو غیر مؤثر تصور کیا جائے گا۔

    اس سے قبل ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا تھا کہ آبنائے ہرمز ٹریفک کے لیے کھلی ہے، تاہم چند گھنٹوں بعد سرکاری میڈیا نے نئی پابندیوں کی تصدیق کر دی۔دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ ایرانی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک تہران کے ساتھ مکمل معاہدہ نہیں ہو جاتا۔

    دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں ناکام ہونے کے بعد یہ واضح نہیں کہ آئندہ مذاکرات کب اور کہاں ہوں گے۔

    ایرانی فوج کے ترجمان نے کہا کہ تہران نے محدود تعداد میں آئل ٹینکرز اور تجارتی جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی تھی، لیکن امریکا مبینہ طور پر ناکہ بندی کے نام پر بحری قزاقی اور جہازوں کی غیر قانونی روک تھام جاری رکھے ہوئے ہے۔ترجمان کے مطابق جب تک امریکا ایرانی بندرگاہوں سے آنے اور جانے والے جہازوں کی ناکہ بندی ختم نہیں کرتا، آبنائے ہرمز ایرانی افواج کے سخت کنٹرول میں رہے گی۔

  • امریکا اور ایران مذاکرات کا دوسرا دور پیر کو پاکستان میں ہونے کا دعویٰ

    امریکا اور ایران مذاکرات کا دوسرا دور پیر کو پاکستان میں ہونے کا دعویٰ

    امریکی ٹی وی نے ایرانی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور پیر کے روز پاکستان میں ہوگا۔

    امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق واشنگٹن نے تاحال ایران کے ساتھ مذاکرات کے نئے شیڈول کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔یاد رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور اسلام آباد میں منعقد ہوا تھا، جہاں اہم علاقائی اور باہمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔پہلے مذاکراتی دور میں امریکی وفد کی قیادت جے ڈی وینس نے کی تھی،اسلام آباد میں ہونے والے پہلے مذاکرات کے بعد دونوں وفود نے بعض امور پر پیش رفت کا اظہار کرتے ہوئے آئندہ ملاقات پر آمادگی ظاہر کی تھی۔

  • فیلڈ مارشل سید عاصم منیرکا ایران کا تین روزہ دورہ مکمل،وطن واپس پہنچ گئے

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیرکا ایران کا تین روزہ دورہ مکمل،وطن واپس پہنچ گئے

    فیلڈ مارشل، آرمی چیف عاصم منیر کا ایران کا تین روزہ دورہ مکمل ہوگیا، اس دوران انہوں نے ایرانی صدر اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر، وزیر داخلہ محسن نقوی کا ایران کا 3 روزہ سرکاری دورہ مکمل کرکے وطن واپس پہنچ گئے۔ترجمان پاک فوج کے مطابق دورے کے دوران فیلڈ مارشل نے ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی، انہوں نے ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی سے بھی الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ ایرانی قیادت سے اعلیٰ سطح ملاقاتوں میں‌ امن و استحکام پر زور دیا گیا،خطے میں پائیدار امن کیلئے مشترکہ حکمت عملی پر گفتگو کی گئی، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نےمکالمے اور کشیدگی میں کمی پر زور دیا،دوسری جانب ایران کی جانب سے پرتپاک مہمان نوازی پر اظہار تشکرکیا گیا،ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان نے ایران کے ساتھ برادرانہ تعلقات مزید مضبوط بنانے کا اعادہ کیا،مشرق وسطیٰ تنازع کے حل کیلئے پاکستان کے کردار کا اعادہ کیا گیا، ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق دورہ ایران، خطے میں امن اور استحکام کیلئے پاکستان کے عزم کی عکاسی کرتا ہے