Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • بشیر  بلوچ خواتین کو اغوا کر کے زیادتی،خودکش حملوں میں استعمال کرتا تھا،گرفتار کمانڈرکا انکشاف

    بشیر بلوچ خواتین کو اغوا کر کے زیادتی،خودکش حملوں میں استعمال کرتا تھا،گرفتار کمانڈرکا انکشاف

    کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے گرفتار کمانڈر درزاد بلوچ نے تفتیش کے دوران ہوشربا انکشافات کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ تنظیم کا سرغنہ بشیر زیب بلوچ خواتین کو اغوا کر کے نہ صرف جنسی استحصال کا نشانہ بناتا تھا بلکہ انہیں خودکش کارروائیوں کے لیے بھی استعمال کیا جاتا رہا۔

    درزاد بلوچ کے مطابق بی ایل اے کی قیادت منظم انداز میں دیہی اور پسماندہ علاقوں سے کم عمر اور نوجوان لڑکیوں کو اغوا کر کے افغانستان منتقل کرتی رہی، جہاں انہیں ذہنی و جسمانی تشدد کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔بشیر زیب کے حکم پر 50 سے زائد لڑکیوں کو اغوا کر کے ذہنی و جسمانی استحصال، جبری مشقت اور عسکری تربیت دی گئی۔ وہ بشیر زیب کے حکم پر 50 سے زائد خواتین کو اغوا کر کے افغانستان منتقل کرتا تھا،اس نے 50 سے زائد لڑکیوں کو دیہی علاقوں سے اٹھایا، جہاں سے خبر نکلنے کا خطرہ کم تھا، اور انہیں برین واش کر کے میر آباد منتقل کیا جاتا۔ وہاں ان لڑکیوں پر کئی ماہ جنسی زیادتی کی جاتی، پھر گھریلو کام کروائے جاتے اور بالآخر خودکش حملوں کی تربیت دے کر گوریلا جنگ میں استعمال کیا جاتا۔ درزاد نے یہ بھی مانا کے یہ "دلالی” تھی اور بشیر زیب پر لعنت بھیج کر قوم سے معافی مانگی کی درخواست کی،

    سکیورٹی ذرائع کے مطابق گرفتار کمانڈر نے بیان دیا کہ اغوا کی جانے والی لڑکیوں کو شدت پسند نظریات کے زیرِ اثر لانے کے لیے شدید ذہنی دباؤ، دھمکیوں اور تشدد کا استعمال کیا جاتا تھا، جبکہ بعض خواتین کو زبردستی خودکش بمبار بنانے کی تربیت دی گئی۔ درزاد بلوچ نے کہا کہ یہ تمام کارروائیاں تنظیمی قیادت کی ہدایات پر کی جاتیں اور مخالفت کرنے والوں کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جاتیں۔

    تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ درزاد بلوچ کے اعترافی بیان نے بی ایل اے کے اندرونی ڈھانچے، فنڈنگ، تربیتی مراکز اور سرحد پار روابط سے متعلق کئی اہم پہلوؤں کو بے نقاب کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق خواتین کے اغوا اور استحصال کا نیٹ ورک ایک منظم چین کے تحت کام کرتا تھا، جس میں مقامی سہولت کاروں سے لے کر بیرونِ ملک موجود ہینڈلرز تک شامل تھے۔گرفتار کمانڈر نے اپنے بیان میں کہا کہ تنظیم کی نام نہاد جدوجہد دراصل معصوم لوگوں، خصوصاً خواتین، کے خون اور عزت سے کھیلی گئی۔ اس نے اعتراف کیا کہ شدت پسند قیادت نے بلوچ عوام کے نام پر ذاتی مفادات اور بیرونی ایجنڈوں کو فروغ دیا۔ درزاد بلوچ نے اپنے کیے پر ندامت کا اظہار کرتے ہوئے قوم سے معافی مانگی اور نوجوانوں کو شدت پسندی کے راستے سے دور رہنے کی اپیل کی۔

    سکیورٹی اداروں کے مطابق اعترافات کی روشنی میں مزید گرفتاریاں اور قانونی کارروائیاں متوقع ہیں، ریاست دہشت گردی اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رکھے گی۔سیاسی و سماجی حلقوں نے ان انکشافات کو نہایت تشویشناک قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ خواتین کے اغوا، جنسی استحصال اور خودکش کارروائیوں میں استعمال جیسے جرائم میں ملوث تمام کرداروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ مبصرین کے مطابق یہ اعترافات شدت پسند تنظیموں کے اصل چہرے کو بے نقاب کرتے ہیں اور نوجوان نسل کے لیے ایک واضح پیغام ہیں کہ تشدد اور انتہا پسندی کسی مسئلے کا حل نہیں۔

  • بلوچستان، تین روزہ آپریشن کے دوران فتنہ الہندوستان کے 197 دہشتگرد ہلاک

    بلوچستان، تین روزہ آپریشن کے دوران فتنہ الہندوستان کے 197 دہشتگرد ہلاک

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بلوچستان میں دہشتگردی کے خلاف گزشتہ تین دن سے جاری بھرپور اور فیصلہ کن آپریشنز کے دوران فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے 197 دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔

    سیکیورٹی فورسز نے ان کارروائیوں میں دشمن کے مذموم عزائم کو ناکام بناتے ہوئے متعدد علاقوں کو کلیئر کرا لیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشتگردوں کے خلاف ان کارروائیوں میں سیکیورٹی فورسز کے 22 بہادر جوانوں نے جامِ شہادت نوش کیا، جنہوں نے ملک و قوم کے تحفظ کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ شہداء کی قربانیوں کو قوم کی سلامتی کے لیے سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشتگردوں نے بزدلانہ کارروائیوں کے دوران 36 معصوم شہریوں کو بھی شہید کیا، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ دہشتگردوں کی جانب سے آبادیوں کو نشانہ بنانا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ان کا مقصد خوف و ہراس پھیلانا اور عام شہریوں کو نقصان پہنچانا ہے۔

    ذرائع نے بتایا کہ دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی گئیں، جن کے دوران دہشتگردوں کے ٹھکانے، اسلحہ کے ذخیرے اور مواصلاتی نیٹ ورک بھی تباہ کر دیے گئے۔ بڑی مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد برآمد کیا گیا ہے۔سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ دہشتگردی کے مکمل خاتمے تک آپریشنز جاری رہیں گے اور فتنہ الہندوستان سمیت تمام دہشتگرد گروہوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل کیا جا رہا ہے۔ قوم اور سیکیورٹی ادارے ایک صفحے پر ہیں اور ملک دشمن عناصر کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔شہداء کے لواحقین سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے سیکیورٹی ذرائع نے واضح کیا کہ ان قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا اور پاکستان کے امن، استحکام اور خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

  • بلوچستان میں دہشت گرد حملوں میں بھارتی اور غیر ملکی سہولت کاری بے نقاب

    بلوچستان میں دہشت گرد حملوں میں بھارتی اور غیر ملکی سہولت کاری بے نقاب

    کوئٹہ: بلوچستان میں حالیہ دہشت گرد حملوں کے دوران بھارتی اور غیر ملکی سہولت کاری کے واضح شواہد سامنے آ گئے ہیں۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں غیر ملکی ساختہ اسلحہ، جدید جنگی سازوسامان اور دیگر آلات برآمد ہوئے ہیں، جن کی مجموعی مالیت لاکھوں روپے بتائی جا رہی ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ دستیاب شواہد سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ہر دہشت گرد کو اوسطاً 20 سے 25 لاکھ روپے مالیت کے اسلحے اور ساز و سامان سے لیس کیا گیا تھا، جو کسی منظم بیرونی نیٹ ورک اور مالی معاونت کی نشاندہی کرتا ہے۔ برآمد ہونے والے اسلحے میں جدید امریکی ساختہ M16 اور M4 رائفلز، راکٹ لانچرز، ایمنگ لیزرز اور نائٹ ویژن گوگلز شامل ہیں، جو عام طور پر جدید عسکری فورسز کے زیرِ استعمال ہوتے ہیں۔سیکیورٹی حکام کے مطابق دہشت گرد بیرونی ساختہ بلٹ پروف جیکٹس اور جدید وائرلیس کمیونیکیشن سیٹس سے بھی لیس تھے، جس سے ان کے درمیان رابطہ اور حملوں کی منصوبہ بندی کی جا رہی تھی۔ اس کے علاوہ فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے بے حسی پیدا کرنے والی نشہ آور ادویات اور انجکشن بھی برآمد ہوئے ہیں، جنہیں مبینہ طور پر حملوں سے قبل استعمال کیا جاتا تھا تاکہ دہشت گرد خوف اور درد کے احساس سے بے نیاز ہو کر کارروائیاں انجام دے سکیں۔

    سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس بیسڈ اور تعاقبی آپریشنز کے دوران دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ حکام کے مطابق گزشتہ رات ہونے والے تعاقبی آپریشنز میں مزید 22 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا، جبکہ مجموعی طور پر گزشتہ تین روز کے دوران مختلف کارروائیوں میں 197 دہشت گرد مارے جا چکے ہیں۔

    سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ آپریشنز کے دوران دہشت گردوں کے ٹھکانوں، اسلحہ ڈپوؤں اور مواصلاتی نظام کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس سے ان کی آپریشنل صلاحیت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ بلوچستان میں امن و امان کو سبوتاژ کرنے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنایا جائے گا اور دہشت گردی میں ملوث عناصر، ان کے سہولت کاروں اور سرپرستوں کے خلاف کارروائیاں بلا امتیاز جاری رہیں گی۔سیکیورٹی اداروں نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ریاست دشمن عناصر اور بیرونی ایجنڈے پر کام کرنے والے گروہوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت آپریشنز جاری رکھے جائیں گے، تاکہ بلوچستان میں پائیدار امن قائم کیا جا سکے۔

  • قومی اسمبلی میں بلوچستان کی موجودہ صورتحال پر قرار داد متفقہ طور پر منظور

    قومی اسمبلی میں بلوچستان کی موجودہ صورتحال پر قرار داد متفقہ طور پر منظور

    قومی اسمبلی میں بلوچستان کی موجودہ صورتحال پر قرار داد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی۔ قرار داد میں دہشتگردی کیخلاف جنگ میں سیاست سے بالاتر ہوکر قومی اتحاد ناگزیر قرار دیا گیا ہے۔

    قومی اسمبلی میں منظور کی گئی قرار داد میں کہا گیا ہے کہ ایوان بلوچستان میں دہشتگردی کے واقعات کی مذمت کرتا ہے، دہشت گردوں نے گھناؤنے اور غیر انسانی ذرائع اختیار کیے۔متن میں کہا گیا ہے کہ ریاست دہشت گردوں کیخلاف فیصلہ کن کارروائی کرے، بیرونی اور اندرونی سہولت کاروں کیخلاف ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں۔

    دوسری جانب وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کیخلاف میدان میں بھی بھارت اور افغانستان کو شکست دیں گے، دشمن کے ساتھ وہی سلوک ہوگا جو دنیا میں ہوتا ہے۔وزیردفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں دہشت گرد 177 لاشیں چھوڑ کر بھاگے ہیں، ہم دہشتگردی کیخلاف میدان میں بھی بھارت اور افغانستان کو شکست دیں گے۔میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ دُنیا کو معلوم ہے بھارت دہشتگردی میں ملوث ہے، کلبھوشن یادیو بھارتی دہشت گردی کا منہ بولتا ثبوت ہے، دشمنوں کے ساتھ وہی سلوک ہوگا جو دُنیا میں ہوتا ہے۔

  • بلوچستان حملوں کی عالمی مذمت،بھارت،فتنہ الہندوستان کا گٹھ جوڑ بے نقاب

    بلوچستان حملوں کی عالمی مذمت،بھارت،فتنہ الہندوستان کا گٹھ جوڑ بے نقاب

    بلوچستان میں دہشت گرد حملوں کی عالمی سطح پر مذمت،بھارت اور فتنہ الہندوستان کا گٹھ جوڑایک بار پھر بے نقاب ہو گیا

    امریکا، چین،روس، برطانیہ، سعودی عرب، ترکیہ، متحدہ عرب امارات سمیت دیگر ممالک کی جانب سے واقعہ کی شدید مذمت کی گئی،امریکہ کی چارج ڈی افیئرز ناتالی بیکر نے کہا کہ امریکا بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کے حملوں کی ناصرف شدید مذمت کرتا ہے بلکہ پاکستان کیساتھ یکجہتی میں شریک ہے،چین کی جانب سے بھی بلوچستان میں حالیہ دہشت گردانہ واقعات کی شدید مذمت کے ساتھ ساتھ قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ کا اظہار اور لواحقین سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا گیا،چین نے واضح کیا کہ:چائنا ہر قسم کی دہشت گردی کی مخالفت کرتے ہوئے امن، استحکام اور عوام کے تحفظ کیلئے پاکستان کی مکمل حمایت جاری رکھے گا،روس کی جانب سے بھی بلوچستان میں حالیہ دہشت گرد حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی،سعودی عرب سمیت دیگر خلیجی ممالک نے بھی بلوچستان میں دہشتگردی کے واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی،برطانوی ہائی کمیشن کا کہنا تھا کہ وہ دہشت گرد حملوں کی مذمت کرتے ہوئے امن و سلامتی کیلئے پاکستان کے ساتھ ہے

    دوسری جانب بھارتی میڈیا اور را سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر بلوچستان واقعہ کے فوراََ بعد منظم اور گمراہ کن پروپیگنڈا شروع کیا گیا،بھارتی ریاست کی سرپرستی میں دہشت گردوں کو مظلوم ظاہر کرنے کی مذموم کوششیں بے نقاب ہوچکی ہیں

    ماہرین کے مطابق بھارتی پروپیگنڈا دہشت گردی کے فروغ کیلئے جاری ایک منظم ڈس انفارمیشن اور نفسیاتی جنگ کا حصہ ہے،بھارت خطے میں بدامنی اور عدم استحکام کیلئے دہشت گرد تنظیموں کی مسلسل پشت پناہی کر رہا ہے ، بھارتی پراکسی نیٹ ورکس کا مقصد بلوچستان میں امن، ترقی اور عوامی فلاحی منصوبوں کو نقصان پہنچانا ہے

  • 
فیلڈ مارشل عاصم منیر سے لیبیا کے کمانڈر اِن چیف خلیفہ ابو القاسم حفتر کی ملاقات

    
فیلڈ مارشل عاصم منیر سے لیبیا کے کمانڈر اِن چیف خلیفہ ابو القاسم حفتر کی ملاقات

    
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق لیبیا کے کمانڈر اِن چیف فیلڈ مارشل خلیفہ ابو القاسم حفتر اور ان کے ہمراہ ڈپٹی کمانڈر اِن چیف لیفٹیننٹ جنرل صدام خلیفہ حفتر نے جنرل ہیڈکوارٹر (جی ایچ کیو) راولپنڈی کا دورہ کیا۔
    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے مہمانوں کا خیرمقدم کیا اور ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور بالخصوص خطوں کی سکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں فریقوں نے پیشہ ورانہ تعاون، پاکستان اور لیبیا کی مسلح افواج کے درمیان مستقل روابط اور تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔
    ‎آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے لیبیا میں امن، استحکام اور ادارہ جاتی ترقی کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا۔ ملاقات خوشگوار اور تعمیری ماحول میں ہوئی، جو دونوں ممالک کے دیرینہ دوستانہ تعلقات کی عکاس ہے۔
    ‎قبل ازیں نور خان ائیر بیس آمد پر مہمانوں کا استقبال کیا گیا اور معزز مہمان نے شہدا کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے جی ایچ کیو میں یادگارِ شہدا پر پھول رکھے۔

  • نوشکی، سیکیورٹی فورسز کا کلیئرنس آپریشن، 7 دہشتگرد ہلاک، ایک گرفتار

    نوشکی، سیکیورٹی فورسز کا کلیئرنس آپریشن، 7 دہشتگرد ہلاک، ایک گرفتار

    نوشکی میں سیکیورٹی فورسز نے ڈی سی کمپلیکس اور اس کے اطراف میں جاری کلیئرنس آپریشن کے دوران بڑی کارروائی کرتے ہوئے فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے مزید 7 دہشتگردوں کو ہلاک جبکہ ایک دہشتگرد کو زندہ گرفتار کر لیا۔ کارروائی کے دوران دہشتگردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں جدید اسلحہ، بارود اور حساس آلات برآمد کیے گئے۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر ڈی سی کمپلیکس میں موجود مشتبہ عناصر کے خلاف کلیئرنس آپریشن شروع کیا گیا۔ فورسز نے علاقے کو مکمل طور پر گھیرے میں لے کر مرحلہ وار پیش قدمی کی، جس دوران دہشتگردوں کی جانب سے شدید فائرنگ کی گئی۔ سیکیورٹی اہلکاروں نے پیشہ ورانہ مہارت اور مؤثر حکمتِ عملی کے تحت جوابی کارروائی کرتے ہوئے تمام خطرات کو ناکام بنایا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ آپریشن کے دوران ہلاک ہونے والے دہشتگردوں کے قبضے سے 9 عدد ایس ایم جیز، 16 میگزین اور 415 راؤنڈز،2 عدد ایم-16 رائفلیں، 15 میگزین اور 352 راؤنڈز،2 عدد چینی ایل ایم جیز اور 110 راؤنڈز،1 عدد ڈریگنوف اسنائپر رائفل بمعہ 10 میگزین،1 عدد 14.5 ایم ایم اینٹی ایئرکرافٹ مشین گن اور 284 راؤنڈز،1 عدد آر پی جی اور 12 راؤنڈز،1 عدد یو بی جی ایل گرنیڈ،8 دستی بم،5 ٹرانزامین انجیکشن بمعہ سوئیاں،3 واکی ٹاکیز، 4 موبائل فونز اور 1 نائٹ ویژن ڈیوائس برآمد ہوئیں،

    گرفتار دہشتگرد سے تفتیش جاری ہے، جس سے نیٹ ورک، سہولت کاروں اور ممکنہ اہداف سے متعلق اہم معلومات حاصل ہونے کی توقع ہے،علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے جبکہ سرچ اور کلیئرنس آپریشن مکمل ہونے تک مشتبہ مقامات کی کڑی نگرانی جاری رہے گی۔ سیکیورٹی فورسز نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ملک دشمن عناصر کے خلاف کارروائیاں بلا امتیاز جاری رہیں گی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔

  • وزیراعظم سے ڈائریکٹر جنرل یونیسکو کی ملاقات

    وزیراعظم سے ڈائریکٹر جنرل یونیسکو کی ملاقات

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف سے اقوام متحدہ کی تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی تنظیم (UNESCO) کے ڈائیریکٹر جنرل ڈاکٹر خالد الاینانی نے آج اسلام آباد میں ملاقات کی۔ ملاقات میں وفاقی وزیر برائے تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، وزیر سائنس و ٹیکنالوجی خالد حسین مگسی، وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب کھچی اور اعلی حکام نے بھی شرکت کی۔

    ڈاکٹر الاینانی کو بطور ڈائریکٹر جنرل یونیسکو منتخب ہونے پر مبارکباد دیتے ہوئے، وزیراعظم نے جامع اور معیاری تعلیم کے فروغ، ثقافتی ورثے کے تحفظ اور عالمی چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کیلئے لائحہ عمل کو مضبوط بنانے کے حوالے سے یونیسکو کی بنیادی اقدار کی پاسداری کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ وزیرِ اعظم نے یونیسکو کے کلیدی کردار کو سراہتے ہوئے ڈاکٹر الاینانی کی قابل قیادت میں تنظیم کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کی پاکستان کی خواہش کا اظہار کیا۔ وزیر اعظم نے تعلیم کے فروغ کے لیے حکومت پاکستان کی جانب سے کیے جانے والے مختلف اقدامات، بالخصوص "ایجوکیشن ایمرجنسی” جس کا مقصد اسکول جانے کی عمر کے بچوں کے داخلوں میں اضافے جیسے اقدام پر روشنی ڈالی. وزیرِ اعظم نے بطور وزیر اعلیٰ پنجاب اپنے دور میں تعلیم کے شعبے میں حاصل کیے گئے تجربات، بہترین طریقوں اور کامیابیوں کا بھی ذکر کیا۔ ملاقات کے دوران وزیراعظم نے پاکستان میں ثقافتی ورثے کے 6 مقامات کے تحفظ اور اس امر میں یونیسکو کے تعاون پر بھی اطمینان کا اظہار کیا اور یونیسکو کو کھیوڑہ سالٹ مائنز جیسی مزید جگہوں کو تقافتی ورثے میں شامل کرنے کی دعوت دی۔

    ڈائریکٹر جنرل یونیسکو نے پرتپاک استقبال پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ انہوں نے اپنے مختصر دورے میں مختلف اسکولوں اور ثقافتی مقامات کا دورہ کیا۔ انہوں نے تعلیم کے شعبے میں پاکستان کی کامیابیوں کو سراہا اور تعلیم، سائنس اور ثقافت کے شعبوں میں پاکستان کی کوششوں کی حمایت کے لیے اپنے مسلسل عزم پر زور دیا۔

  • بات چیت کا وقت یا جنگ کا؟ بلوچستان کو درحقیقت کس چیز کی ضرورت ہے

    بات چیت کا وقت یا جنگ کا؟ بلوچستان کو درحقیقت کس چیز کی ضرورت ہے

    حالیہ برسوں کی سب سے منظم اور تباہ کن کارروائیوں میں سے ایک کے بعد، وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے ایک واضح اور بے لاگ پیغام دیا، صوبے کے مسائل کی جڑ سیاست میں نہیں بلکہ ان کے حل کے لیے مضبوط اور فیصلہ کن عسکری ردِعمل درکار ہے۔

    ان کا یہ بیان کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کی جانب سے مختلف شہروں میں بیک وقت کیے گئے حملوں کے بعد سامنے آیا، جن میں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور بدامنی پھیلانے کی کوشش کی گئی۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس پرتشدد لہر میں کم از کم 31 معصوم شہری اور 17 بہادر سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے۔ تاہم، پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے غیر معمولی عزم کے ساتھ جواب دیا اور صرف 40 گھنٹوں کی شدید کارروائیوں میں 145 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ برآمد ہونے والی لاشیں تحویل میں ہیں، جن میں سے بعض کی شناخت افغان شہریوں کے طور پر ہوئی ہے، جو اس خطرے کی سرحد پار جہت کو نمایاں کرتی ہے۔

    وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے شدت پسندوں کی تعداد سے متعلق پھیلائی جانے والی مبالغہ آمیز خبروں کو دوٹوک انداز میں مسترد کر دیا۔ ایک سے دو ہزار حملہ آوروں کی اطلاعات؟ سراسر غلط۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کی تعداد 200 سے 250 سے زیادہ نہ تھی، اور ان میں سے اکثر کو یا تو پسپا کر دیا گیا یا ہلاک کر دیا گیا۔ یہ بی ایل اے کی حکمتِ عملی کو بے نقاب کرتا ہے کہ اپنی طاقت کو پروپیگنڈے کے ذریعے بڑھا چڑھا کر پیش کرنا اور شہری علاقوں میں عام لوگوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنا،ایک بزدلانہ طریقہ جو انہی لوگوں کی جان خطرے میں ڈالتا ہے جن کی نمائندگی کا وہ دعویٰ کرتے ہیں۔

    وزیراعلیٰ کی تشخیص بھی اتنی ہی دو ٹوک ہے، وہ منظم عسکریت پسندی کے دوبارہ ابھرنے کو براہِ راست 2018 کے بعد اختیار کی گئی مصالحتی پالیسی سے جوڑتے ہیں۔ اس سے قبل شدت پسند مسلسل دفاعی پوزیشن میں تھے۔ فرنٹیئر کور کی چوکیاں شاہراہوں پر قائم تھیں، سیکیورٹی کی موجودگی نمایاں اور مؤثر تھی، اور عسکریت پسندوں کے لیے دوبارہ منظم ہونا مشکل تھا۔ 2018 کے بعد کی “نرم” پالیسی نے انہیں سانس لینے کا موقع دیا۔ 2021 تک وہ دوبارہ منظم ہو چکے تھے، اور 2023–2024 میں مزید دلیر اور منظم ہو گئے۔ 2024 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد بگٹی حکومت نے ایک دیانت دارانہ جائزہ لیا،“ہم کیا کر رہے تھے؟ ہم انہیں کھلی چھوٹ کیوں دے رہے تھے؟” اسی احتساب نے پالیسی میں فیصلہ کن اصلاح کی راہ ہموار کی، جس میں مفاہمت کے بجائے دہشت گرد نیٹ ورکس کے خاتمے کو ترجیح دی گئی۔

    حالیہ حملوں کے بعد تیز رفتار، انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیاں اس نئے عزم کے نتائج ظاہر کرتی ہیں۔ غیر ملکی مداخلت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ بگٹی نے بی ایل اے کے سینئر کمانڈر بشیر زیب کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ دستیاب انٹیلی جنس کا 99.99 فیصد حصہ اسے افغانستان میں موجود قرار دیتا ہے۔ افغان سرزمین بدستور پاکستان کے خلاف کارروائیوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ اور لانچ پیڈ بنی ہوئی ہے۔ حکام کے مطابق بی ایل اے جسے “فتنہ الہندوستان” قرار دیا گیا ہے،ملکی عدم استحکام کے لیے بیرونی سرپرستی حاصل کر رہی ہے۔ یہ الزامات بے بنیاد نہیں بلکہ متعدد انٹیلی جنس جائزوں اور سرحد پار عسکری نقل و حرکت کے مشاہدہ شدہ نمونوں سے مطابقت رکھتے ہیں۔

    اہم بات یہ ہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے واضح کیا کہ بی ایل اے کوئی جائز سیاسی جماعت نہیں۔ “کیا بی ایل اے کوئی رجسٹرڈ پارٹی ہے جس سے مذاکرات کیے جائیں؟” انہوں نے معنی خیز سوال اٹھایا۔ یہ گروہ بیلٹ کے بجائے بندوق کے ذریعے اپنی سوچ مسلط کرنا چاہتا ہے۔ مذاکرات کی پیشکش تشدد کو انعام دینے اور قومی سالمیت سے دستبرداری کے مترادف ہوگی۔ بگٹی نے اعلان کیا، “پاکستان ایک لمحے کے لیے بھی جھکنے والا نہیں۔ وہ عدم استحکام پیدا کر سکتے ہیں، مگر ہمارے ملک کا ایک انچ بھی نہیں لے سکتے۔”

    سب سے زیادہ اطمینان بخش ان کا عوامی رائے سے متعلق جائزہ ہے۔ بلوچستان کے عوام کی بھاری اکثریت ریاست کے ساتھ کھڑی ہے۔ باغیوں کے لیے ہمدردی محدود ہے،عموماً 1 سے 3 فیصد،جو دنیا بھر میں کسی بھی شورش میں دیکھا جاتا ہے۔ یہی وسیع عوامی حمایت کامیاب انسدادِ دہشت گردی کی بنیاد بنتی ہے۔ جب شہری دہشت گردی کو مسترد کریں اور سیکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑے ہوں تو شدت پسند اپنی سانس کھو دیتے ہیں۔

    حالیہ کارروائیاں ایک اہم موڑ کی نشاندہی کرتی ہیں۔ قلیل عرصے میں 145 دہشت گردوں کا خاتمہ اس تنازعے کی دہائیوں میں لگنے والے شدید ترین ضربوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ ایک طاقتور پیغام ہے، پاکستان کے پاس اپنے شہریوں اور سرزمین کے تحفظ کی صلاحیت بھی ہے اور عزم بھی۔ وزیراعلیٰ بگٹی کے مؤقف کی تائید کا مطلب حقیقت کو رومانوی بیانیوں پر ترجیح دینا ہے۔ دہشت گردی کو خوشامد سے قابو نہیں کیا جا سکتا؛ اسے فیصلہ کن انداز میں للکارنا پڑتا ہے۔ جہاں حقیقی سیاسی شکایات ہوں، وہاں مکالمہ ضروری ہے،مگر اس قیمت پر نہیں کہ شہریوں، اسکولوں، بینکوں، اسپتالوں اور سیکیورٹی تنصیبات کے خلاف مسلح تشدد کو برداشت کیا جائے۔

    بلوچستان امن، ترقی اور وقار کا مستحق ہے۔ یہ مستقبل اسی وقت ممکن ہے جب دہشت گرد نیٹ ورکس کو توڑا جائے، غیر ملکی پراکسیوں کو بے نقاب کیا جائے، اور ریاست بلا چیلنج اپنی عملداری قائم کرے۔ وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کی حقیقت پسند قیادت،جو ہتھیار ڈالنے سے انکار، سیکیورٹی کو ترجیح، اور عوام کو متحد کرتی ہے،قومی حمایت کی مستحق ہے۔ آگے کا راستہ مصالحت نہیں، عزم ہے۔ پاکستان متحد ہے، ہم اس جنگ کو اس وقت تک لڑیں گے جب تک ہماری سرزمین کا ہر انچ محفوظ نہ ہو جائے۔

  • بھارتی پروپیگنڈا بے نقاب، “آپریشن ہیروف 2” سے متعلق من گھڑت دعوے

    بھارتی پروپیگنڈا بے نقاب، “آپریشن ہیروف 2” سے متعلق من گھڑت دعوے

    بھارتی صحافی آدتیہ راج کول اور بعض بھارتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے دعویٰ کیا کہ نام نہاد “آپریشن ہیروف 2” کے دوران کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے 200 پاکستانی سیکیورٹی اہلکاروں کو شہید کیا جبکہ تنظیم کے 18 جنگجو مارے گئے، جن میں 11 مبینہ ’فدائین‘ خودکش بمبار شامل تھے۔

    حقیقت،یہ دعوے بے بنیاد، گمراہ کن اور منظم بھارتی پروپیگنڈا مہم کا حصہ ہیں۔ “آپریشن ہیروف 2” درحقیقت کالعدم بی ایل اے کی جانب سے بلوچستان کے متعدد اضلاع میں کیے گئے بزدلانہ دہشت گرد حملوں کی کوشش تھی، جس میں عام شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ معتبر اور تصدیق شدہ ذرائع کے مطابق، ان حملوں میں ملوث کم از کم 145 دہشت گرد (جن میں 3 خودکش عناصر بھی شامل تھے) کو پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے مؤثر کارروائیوں کے دوران ہلاک کیا، سیکیورٹی فورسز کے 17 اہلکاروں کی شہادتوں کی تصدیق ہوئی، جو بھارتی ذرائع کی جانب سے پھیلائے گئے 200 ہلاکتوں کے من گھڑت دعوے سے کہیں کم ہے۔ بی ایل اے کی جانب سے 18 جنگجوؤں (بشمول مبینہ ’فدائین‘) کی ہلاکت کا دعویٰ خودساختہ ہے، جس کی کوئی آزادانہ یا مستند تصدیق موجود نہیں۔

    بھارتی میڈیا اور سوشل پلیٹ فارمز پر پھیلائی جانے والی ویڈیوز اور بیانیے سیاق و سباق سے ہٹ کر، ایڈیٹ شدہ یا پرانی فوٹیج پر مشتمل تھے، جنہیں بی ایل اے کی طاقت بڑھا چڑھا کر دکھانے اور عوام کو گمراہ کرنے کے لیے استعمال کیا گیا، پاکستانی سیکیورٹی فورسز کے 40 گھنٹوں پر محیط تیز، مربوط اور پیشہ ورانہ ردِعمل کے نتیجے میں تمام ملوث دہشت گردوں کو مکمل طور پر غیر مؤثر بنایا گیا، شہریوں کا تحفظ یقینی بنایا گیا اور علاقے میں امن و امان بحال ہوا۔

    نتیجہ ،یہ فیکٹ چیک واضح کرتا ہے کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوے حقیقت کے برعکس ہیں اور ان کا مقصد دہشت گرد تنظیموں کی تشہیر اور پاکستان مخالف بیانیے کو تقویت دینا ہے، جبکہ زمینی حقائق پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی مؤثر کارروائیوں اور کامیابیوں کی تصدیق کرتے ہیں۔