Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کا  آپریشن جاری، مزید 22 دہشت گرد ہلاک

    بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن جاری، مزید 22 دہشت گرد ہلاک

    بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کے خلاف سینیٹائزیشن آپریشن پوری شدت کے ساتھ جاری ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق گزشتہ رات کیے گئے مؤثر اور مربوط تعاقبی آپریشنز کے دوران مزید 22 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا، جس کے بعد گزشتہ تین روز میں مارے جانے والے دہشت گردوں کی مجموعی تعداد 177 تک جا پہنچی ہے۔

    سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی گئیں، جن میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ آپریشنز کے دوران دہشت گردوں کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی گئی اور فرار کے تمام ممکنہ راستوں کو بند کر دیا گیا، جس کے نتیجے میں سیکیورٹی فورسز کو نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئیں۔

    ذرائع کے مطابق سیکیورٹی فورسز، انٹیلی جنس ایجنسیز اور پولیس نے دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے گرد گھیرا مزید تنگ کر دیا ہے۔ مختلف علاقوں میں سرچ اور کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں، جبکہ مشتبہ افراد کی نگرانی اور گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیمیں متحرک ہیں۔سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ حالیہ کارروائیوں میں دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو شدید نقصان پہنچا ہے اور ان کے سہولت کاروں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ دہشت گردوں اور ان کے مددگاروں کی مزید ہلاکتوں اور نقصانات کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں، جن کی تصدیق کا عمل جاری ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز ملک دشمن عناصر کے مکمل خاتمے تک آپریشنز جاری رکھیں گی۔ عوام کے جان و مال کے تحفظ اور بلوچستان میں امن و استحکام کے قیام کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں، جبکہ شہریوں سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ مشتبہ سرگرمیوں کی اطلاع فوری طور پر متعلقہ اداروں کو دیں۔

  • وزیراعظم سے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی ملاقات

    وزیراعظم سے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی ملاقات

    وزیراعظم شہباز شریف سے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی ملاقات ختم ہو گئی۔

    وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی کی شہباز شریف سے ملاقات وزیراعظم آفس میں ہوئی،ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے درمیان ملاقات میں مشیر خزانہ کے پی کے مزمل اسلم بھی ملاقات میں شامل تھے جبکہ حکومت کی جانب سے وزیر داخلہ محسن نقوی، وفاقی وزیر امیر مقام اور رانا ثنااللہ بھی ملاقات میں موجود تھے،ذرائع پی ٹی آئی کا بتانا ہے کہ وزیر اعلیٰ کے پی نے ملاقات میں وادی تیراہ، امن جرگہ اور انسداد دہشتگردی کے معاملات پر بات کی، اس کے علاوہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے این ایف سی معاملات پر بھی وزیراعظم سے تبادلہ خیال کیا۔

    وفاقی و صوبائی حکومت دہشتگردی کے مکمل خاتمے کیلئے مشترکہ کاوشیں جاری رکھیں گی.وزیراعظم
    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کا وزیراعظم ہاؤس نے اعلامیہ جاری کر دیا ،جاری اعلامیہ کے مطابق ملاقات میں وزیرِ اعظم نے خیبر پختونخوا کے عوام کی ترقی و خوشحالی کیلئے وفاقی و صوبائی حکومت کے مابین تعاون کی ضرورت پر زور دیا.وزیرِ اعظم نے صوبے میں امن و امان کیلئے وفاقی و صوبائی حکومت کے تعاون کو ناگزیر قرار دیا. وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ امن وامان کے قیام کے لئے صوبائی حکومت کی کوششیں مزید بڑھانے کی ضرورت ہے.صوبائی حکومت انسداد دھشتگردی کیلئے صوبائی اداروں کو مضبوط کرے. وفاقی اور صوبائی حکومت دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لئے مشترکہ کاوشیں جاری رکھیں گی. خیبر پختونخوا میں امن و امان کے قیام اور عوامی فلاح کیلئے صوبائی حکومت کو اپنی آئینی ذمہ داری نبھانی چاہئیے. صوبائی حکومت با اختیار ہے، صحت و تعلیم کیلئے خیبر پختونخوا کے عوام کیلئے اقدامات کئے جائیں.وفاقی حکومت خیبر پختونخوا کے عوام کی بہتری کیلئے ہمیشہ سے کوشاں ہے. خیبر پختونخوا وفاق کی ایک اہم اکائی ہے، صوبے کی عوام کی خوشحالی کیلئے وفاقی حکومت اپنے دائرہ اختیار کے مطابق بھرپور کاوشیں جاری رکھے گی. قومی ترقی اور عوامی خدمت کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان قریبی روابط اور مؤثر رابطہ کاری ناگزیر ہے۔

    وزیراعظم نے خیبر پختونخوا میں ترقیاتی منصوبوں، بنیادی ڈھانچے کی بہتری، تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے وفاقی دائرہ کار کے مطابق تعاون کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ وفاقی حکومت تمام صوبوں کو ساتھ لے کر چلنے اور یکساں ترقی کے وژن پر عمل پیرا ہے۔ باہمی مشاورت اور اشتراکِ عمل کے ذریعے قومی یکجہتی، استحکام اور خوشحالی کے اہداف کو مؤثر انداز میں حاصل کیا جا سکتا ہے،

  • بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کا فیصلہ کن آپریشن،48 گھنٹوں میں 108 دہشتگرد ہلاک

    بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کا فیصلہ کن آپریشن،48 گھنٹوں میں 108 دہشتگرد ہلاک

    بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کا فیصلہ کن آپریشن بی ایل اے کے 61 دہشتگرد ہلاک کردئے ۔ بی ایل اے کا ہیروف 2 مکمل طور پر فیل ہوگیا ۔ جب کہ 10 سیکیورٹی اہلکار شہید اور چند زخمی ہوئے۔ مجموعی طور پر گزشتہ 48 گھنٹوں میں مارے جانے والے عسکریت پسندوں کی تعداد 108 تک پہنچ گئی ہے۔

    ابتدائی حملہ کوئٹہ کی سریاب روڈ پر پولیس وین کو نشانہ بنانے سے شروع ہوا۔ چند ہی منٹ بعد نوشکی میں ایف سی ہیڈکوارٹر، دالبندین کے ایف سی کمپاؤنڈ، پسنی میں کوسٹ گارڈ چوکی اور گوادر کی لیبر کالونی سمیت بارہ مقامات پر فائر اور خودکش حملے کیے گئے۔ ہر مقام پر مؤثر جوابی فائر کے باعث دہشت گرد پسپا ہوئے اور کلیئرنس آپریشن بدستور جاری ہے۔سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ ’’ہیروف 2‘‘ بی ایل اے کی ایک نئی اصطلاح تھی جس کے ذریعے وہ بیک وقت زیادہ سے زیادہ شہرت حاصل کرنا چاہتے تھے، مگر منصوبہ پہلی ہی جھڑپ میں خاک میں مل گیا۔ حکام کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں متعدد عسکریت پسند افغانستان میں قائم محفوظ ٹھکانوں سے براہِ راست ہدایات لے رہے تھے، جب کہ حملوں کی منصوبہ بندی میں بھارتی خفیہ ایجنسی را کا ہاتھ بھی تھا۔

    فائر فائٹ ختم ہوتے ہی صوبائی حکومت نے اسپتالوں میں طبی ایمرجنسی نافذ کر دی اور تمام ضلعی ہیڈکوارٹرز میں خون کے مراکز ہائی الرٹ پر ہیں۔ مواصلاتی نگرانی سخت کی جا چکی ہے جبکہ حساس اضلاع میں جزوی موبائل سروس معطل ہے تاکہ دہشت گردوں کی باہمی رابطہ کاری روکی جا سکے۔ حکام نے یقین دلایا ہے کہ شہری علاقوں میں معمولاتِ زندگی بحال ہو چکے ہیں اور قومی شاہراہیں کھولی جا چکی ہیں۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق 108 عسکریت پسندوں کا نقصان بی ایل اے کے فیلڈ نیٹ ورک، اسلحہ رسد اور مقامی سطح پر بھرتی کے ڈھانچے کے لیے بڑا دھچکا ہے۔ پچھلے سال کے دوران تنظیم کی سرگرمیوں میں افغان سرزمین اور غیر ملکی فنڈنگ کے تذکرے تواتر سے آ رہے ہیں، جنہیں پاکستان سختی سے اجاگر کرتا رہا ہے۔

  • ڈی جی آئی ایس پی آر کی یونیورسٹی آف گوادر میں اساتذہ اور طلباء کیساتھ خصوصی نشست

    ڈی جی آئی ایس پی آر کی یونیورسٹی آف گوادر میں اساتذہ اور طلباء کیساتھ خصوصی نشست

    ڈی جی آئی ایس پی آر کی یونیورسٹی آف گوادر میں اساتذہ اور طلباء کیساتھ خصوصی نشست ہوئی ہے

    ڈی جی آئی ایس پی آر کی یونیورسٹی آف گوادر آمد پر اساتذہ، فیکلٹی ممبران اور طلباء کی جانب سے شاندار استقبال کیا گیا،ڈی جی آئی ایس پی آر نے قومی اور علاقائی صورتحال کے حوالے سے طلباء اور اساتذہ کے ساتھ مفصل گفتگو کی ،ڈی جی آئی ایس پی آر نے سوشل میڈیا پر ریاست مخالف پروپیگنڈا کے حوالے سے طلباء کو مکمل آگاہی فراہم کی،اس موقع پر یونیورسٹی آف گوادر کے طلباء کا کہنا تھا کہ پاک فوج نے ہمیشہ ریاست، آئین اور قومی وقار کا دفاع کیا ہے،ڈی جی آئی ایس پی آر نے ہمارے ذہنوں میں موجود ابہام کو دور کیا ، ڈی جی آئی ایس پی آر نے شواہد کے ساتھ مس انفارمیشن کا تدارک کیا ہے ، ہماری ڈی جی آئی ایس پی آر کے ساتھ یہ ملاقات کافی معلوماتی رہی، طلباء نے ہر مشکل گھڑی میں قوم کیساتھ کھڑے رہنے پر پاک فوج کے غیر متزلزل عزم کو خراجِ تحسین پیش کیا

  • بلوچستان، 12 مقامات پر حملے ناکام،58 دہشتگرد جہنم واصل

    بلوچستان، 12 مقامات پر حملے ناکام،58 دہشتگرد جہنم واصل

    گذشتہ رات فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے بلوچستان کے 12 مختلف مقامات پر بزدلانہ حملے کیے۔

    سیکورٹی فورسز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے بروقت اور مؤثر کاروائی کے نتیجے میں یہ تمام حملے ناکام بنا دیئے گئے ہیں۔ سیکورٹی ذرائع کے مطابق ان دہشت گردانہ کارروائیوں میں اب تک۔ فتنہ الہندوستان کے 58 دہشتگرد جہنم واصل ہو چکے ہیں۔ اس دوران سیکورٹی اداروں اور پولیس کے 10 جوان اس دھرتی اور عوام کی حفاظت کیلئے لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔سیکورٹی فورسز کا مختلف لوکیشنز پر دہشتگردوں کا تعاقب اور engagement کا سلسلہ تا حال جاری ہے،ان کاروائیوں کے نتیجے میں مزید دہشتگردوں کی ہلاکتیں اور نقصانات کی بھی اطلاعات ہیں۔ سیکورٹی ذرائع

    یاد رہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے گزشتہ 48 گھنٹوں میں بلوچستان کے مختلف علاقوں میں اس کے علاوہ کارروائیوں کے دوران فتنہ الہندوستان کے 41 دہشت گرد پہلے ہی جہنم واصل کر چکے ہیں۔

    سیکورٹی فورسز اور پولیس کے 10 شہداء کے علاوہ فتنہ الہندوستان کے ان انسان نما بھیڑیوں نے گوادر میں خضدار سے تعلق رکھنے والے ایک بلوچ مزدور خاندان کے 5 افراد کو بھی شہید کر دیا ہے جنمیں ایک خاتون کے علاوہ تین بچے بھی شامل ہیں۔ سیکورٹی فورسز کی طرف سے مزید تعاقبی آپریشنز اور فضائی نگرانی جاری ہے۔ ان دہشت گردانہ کاروائیوں کے دوران ہندوستانی میڈیا اور سوشل میڈیا کی فتنہ الہندوستان کی مکمل سپورٹ دونوں کے گٹھ جوڑ کو مزید واضح کرتی ہے۔

  • بلوچستان، بی ایل اے اور بی ایل ایف کے دہشتگرد حملے ناکام

    بلوچستان، بی ایل اے اور بی ایل ایف کے دہشتگرد حملے ناکام

    کوئٹہ: بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کالعدم تنظیموں بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور بلوچ لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) کی جانب سے کیے جانے والے منظم اور مربوط دہشتگرد حملوں کی کوششوں کو پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے بروقت، پیشہ ورانہ اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے مکمل طور پر ناکام بنا دیا۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق نام نہاد آپریشن “ہیروف 2.0” کے تحت بی ایل اے اور بی ایل ایف کے دہشتگردوں نے صوبے کے مختلف اہم علاقوں میں بیک وقت حملوں کی منصوبہ بندی کی تھی۔ ان علاقوں میں کوئٹہ، نوشکی، دالبندین، قلات، پسنی، گوادر، تمپ، مستونگ اور خاران شامل ہیں۔ تاہم، سیکیورٹی فورسز کی پیشگی انٹیلی جنس معلومات اور فوری ردعمل کے باعث تمام حملے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مختلف مقامات پر ہونے والی جوابی کارروائیوں میں چار دہشتگرد ہلاک کر دیے گئے، جبکہ دو سے تین سیکیورٹی اہلکار معمولی زخمی ہوئے جن کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔ حملوں کے باوجود کسی بھی اسٹریٹجک یا حساس تنصیب کو نقصان نہیں پہنچا اور پورے صوبے میں سیکیورٹی صورتحال مکمل طور پر کنٹرول میں رہی۔

    سیکیورٹی حکام کے مطابق یہ حملے دراصل حالیہ انسدادِ دہشتگردی کارروائیوں میں 50 سے زائد دہشتگردوں کی ہلاکت کے بعد شدت پسند تنظیموں کی بوکھلاہٹ اور ناکام انتقامی کوشش تھے۔ ان کارروائیوں سے دہشتگرد نیٹ ورکس کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس کے بعد وہ دباؤ میں آ کر بے ترتیب اور غیر مؤثر حملوں پر اتر آئے ہیں۔انٹیلی جنس جائزوں میں انکشاف کیا گیا ہے کہ یہ گروہ اب سیکیورٹی فورسز کے بجائے شہری آبادی، مزدوروں کی کالونیوں اور نرم اہداف کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، جو ان کی مجرمانہ سوچ، ناکام حکمتِ عملی اور تنظیمی زوال کی واضح علامت ہے۔

    بی ایل اے اور بی ایل ایف پاکستان میں پہلے ہی کالعدم قرار دی جا چکی ہیں، جبکہ بی ایل اے کو امریکا بھی فارن ٹیررسٹ آرگنائزیشن قرار دے چکا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ان تنظیموں کی قیادت بیرونِ ملک محفوظ پناہ گاہوں میں بیٹھی ہے، جبکہ مقامی نوجوانوں کو گمراہ کر کے بے مقصد تشدد اور موت کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔

    حکام نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز بلوچستان کے عوام کے جان و مال کے تحفظ، صوبے میں امن کے قیام اور غیر ملکی سرپرستی یافتہ دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے پوری طرح پرعزم ہیں۔ کسی بھی قسم کی دہشتگرد سرگرمی کو آہنی ہاتھوں سے کچلا جائے گا۔پاکستان دہشتگردی کے خلاف متحد ہے اور قوم، ریاستی ادارے اور عوام مل کر اس ناسور کے مکمل خاتمے تک جدوجہد جاری رکھیں گے۔

  • دو روز میں بلوچستان کے مختلف علاقوں میں‌70 سے زائد دہشتگردجہنم واصل

    دو روز میں بلوچستان کے مختلف علاقوں میں‌70 سے زائد دہشتگردجہنم واصل

    بلوچستان کے مختلف علاقوں میں گزشتہ دو روز کے دوران سیکیورٹی فورسز کی بھرپور اور فیصلہ کن کارروائیوں کے نتیجے میں 70 سے زائد دہشت گرد مارے جا چکے ہیں۔

    یہ بات معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان شاہد رند نے ایک اہم بیان میں کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنے کی منظم کوششیں کی گئیں، تاہم سیکیورٹی اداروں نے بروقت اور مؤثر اقدامات کے ذریعے دہشت گردوں کے عزائم خاک میں ملا دیے۔شاہد رند کے مطابق دہشت گردوں کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا جس کے بعد انہوں نے صوبے کے چند حساس مقامات پر حملے کی ناکام کوششیں کیں۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس اور فرنٹیئر کور (ایف سی) نے فوری ردعمل دیتے ہوئے تمام حملوں کو ناکام بنایا اور کسی بڑے نقصان سے بچاؤ ممکن بنایا۔ ان کارروائیوں کے دوران متعدد دہشت گرد زخمی بھی ہوئے جبکہ کچھ عناصر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان نے واضح کیا کہ فرار ہونے والے دہشت گردوں کا تعاقب جاری ہے اور سیکیورٹی فورسز کو مکمل الرٹ رکھا گیا ہے۔ صوبے بھر میں انٹیلی جنس بنیادوں پر سرچ اور کلیئرنس آپریشنز تیز کر دیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کا بروقت سدباب کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست دشمن عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل جاری رہے گا۔

    شاہد رند کا مزید کہنا تھا کہ بلوچستان میں امن کے دشمنوں کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ سیکیورٹی اداروں کے ساتھ تعاون کریں اور مشکوک سرگرمیوں کی فوری اطلاع متعلقہ حکام کو دیں۔

  • پسنی میں پاکستان کوسٹ گارڈ کی چوکی پر دہشتگرد حملہ ناکام، خاتون سمیت 8 دہشتگرد ہلاک

    پسنی میں پاکستان کوسٹ گارڈ کی چوکی پر دہشتگرد حملہ ناکام، خاتون سمیت 8 دہشتگرد ہلاک

    گوادر کے ساحلی علاقے پسنی میں پاکستان کوسٹ گارڈ کی ایک چوکی پر دہشتگردوں نے حملہ کیا جسے سکیورٹی دستوں نے بروقت اور مؤثر کارروائی کے ذریعے ناکام بنا دیا۔

    ذرائع کے مطابق حملے میں شامل خاتون سمیت 8 دہشتگرد ہلاک ہو گئے، جبکہ سکیورٹی فورسز کو کوئی جانی نقصان نہیں پہنچا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشتگردوں نے رات گئے پاکستان کوسٹ گارڈ کی چوکی کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، تاہم چوکی پر تعینات اہلکاروں نے مشکوک سرگرمی کو بروقت بھانپتے ہوئے فوری جوابی کارروائی شروع کر دی۔ شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد دہشتگردوں کو پسپا ہونا پڑا اور کارروائی کے دوران ایک خاتون سمیت آٹھ دہشتگرد مارے گئے۔سکیورٹی فورسز کے مطابق کارروائی مکمل کر کے علاقے کو کلیئر کر دیا گیا ہے اور کسی بھی ممکنہ خطرے کے پیشِ نظر سرچ اینڈ کلیئرنس آپریشن جاری رکھا گیا۔ ہلاک دہشتگردوں کے قبضے سے اسلحہ اور دیگر مشتبہ مواد بھی برآمد ہونے کی اطلاعات ہیں، جن کی مزید جانچ کی جا رہی ہے۔

    ذرائع کے مطابق حملے کا مقصد ساحلی تنصیبات اور سکیورٹی چوکی کو نقصان پہنچانا تھا، تاہم اہلکاروں کی مستعدی اور پیشہ ورانہ مہارت کے باعث یہ منصوبہ ناکام بنا دیا گیا۔ واقعے کے بعد قریبی علاقوں میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے اور داخلی و خارجی راستوں پر ناکہ بندی کر کے نگرانی بڑھا دی گئی ہے۔حکام نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ساحلی علاقوں میں امن و امان برقرار رکھنے اور دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رہیں گے۔ سکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ ملک دشمن عناصر کے خلاف کارروائیاں بلا تفریق جاری رکھی جائیں گی اور کسی کو بھی پاکستان کے امن کو سبوتاژ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

  • کوئٹہ، سی ٹی ڈی کی بڑی کارروائی،   4  دہشت گرد ہلاک

    کوئٹہ، سی ٹی ڈی کی بڑی کارروائی، 4 دہشت گرد ہلاک

    کوئٹہ کے علاقے سریاب میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے چار دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔

    ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق کارروائی ایک ایسے کمپاؤنڈ میں کی گئی جو مبینہ طور پر دہشت گرد عناصر کے زیرِ استعمال تھا، جہاں سے بھاری مقدار میں اسلحہ، دستی بم اور کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والا لٹریچر بھی برآمد ہوا ہے۔سی ٹی ڈی حکام کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران جیسے ہی سیکیورٹی اہلکاروں نے کمپاؤنڈ کو گھیرے میں لیا تو اندر موجود مسلح افراد نے فائرنگ شروع کر دی، جس پر اہلکاروں نے جوابی کارروائی کی۔ فائرنگ کے اس تبادلے میں چار مبینہ دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔ واقعے کے فوراً بعد علاقے کو مکمل طور پر سیل کر کے سرچ آپریشن شروع کیا گیا اور کمپاؤنڈ کو کلیئر کر لیا گیا۔

    ترجمان کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد کے قبضے سے خودکار اسلحہ، دستی بم اور دیگر دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا، جب کہ جائے وقوعہ سے ملنے والا لٹریچر ایک کالعدم تنظیم سے وابستگی کی نشاندہی کرتا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ برآمد شدہ مواد کو فرانزک جانچ کے لیے متعلقہ لیبارٹری بھیج دیا گیا ہے تاکہ مزید شواہد اکٹھے کیے جا سکیں۔ قریبی علاقوں میں سرچ اینڈ کومبنگ آپریشن بھی جاری ہے تاکہ کسی ممکنہ سہولت کار یا ساتھی کو گرفتار کیا جا سکے۔ہلاک ہونے والے دہشت گرد شہر میں بڑی تخریبی کارروائیوں کی منصوبہ بندی میں ملوث تھے، جسے سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ناکام بنا دیا

    حکام نے بتایا کہ اس کارروائی کا مقصد شہر میں دہشت گردی کے کسی بھی ممکنہ منصوبے کو ناکام بنانا تھا۔ سی ٹی ڈی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے بلوچستان بھر میں امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے خفیہ معلومات کی بنیاد پر کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

  • سانحہ بھاٹی گیٹ،5 ملزمان گرفتار،خاتون کے والد سے سادہ کاغذ پر انگوٹھا لگوانے پر وضاحت

    سانحہ بھاٹی گیٹ،5 ملزمان گرفتار،خاتون کے والد سے سادہ کاغذ پر انگوٹھا لگوانے پر وضاحت

    ڈی آئی جی انویسٹی گیشن سید ذیشان رضا نےداتا دربار کے علاقہ میں ماں اور بیٹی کے جاں بحق ہونے کے جائے وقوعہ کا دورہ کیا،

    ڈی آئی جی انویسٹی گیشن سید ذیشان رضا کا کہنا تھا کہ 5 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے ۔لواحقین کو مکمل طور انصاف فراہم کیا جائے گا، وزیر اعلی پنجاب کی طرف سے ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی تیز اور میرٹ پر کرنے کا حکم ہے ۔

    بھاٹی گیٹ ماں بچی کے گٹر میں گرنے کا افسوسناک واقعہ ،ڈی آئی جی آپریشنز کی خاوند کو حراست میں لینے، تشدد کی اطلاعات پر ایس ایچ او، ڈی ایس پی کے خلاف کاروائی،ایس ایچ او بھاٹی گیٹ زین عباس معطل، ڈی ایس پی کو اظہار وجوہ کانوٹس جاری کر دیا گیا تھا،ایس پی سٹی، متعلقہ پولیس کے رسپانس کا تعین کے لیے اعلی سطحی تحقیقات ہوں گی،ڈی آئی جی آپریشنز نے آئی اے بی کو آزادانہ انکوائری کے لیے خط لکھ دیا،انکوائری میں خاوند اور دیور کو حراست میں لینے کی محرکات کا تعین ہو گا،پولیس نے ریسکیو کال پر گرفتاری کیوں کی اس کی بھی جانچ ہو گی،وزیر اعلی پنجاب کی ہدایت کے مطابق اے آئی بی کو جلد از جلد تحقیقات مکمل کرنے کی سفارش کی گئی ہے،ریسیکو آپریشن کے دوران پولیس ایکشن کیوں ہوا اس کا بھی تعین ہو گا،تحقیقات کی روشنی میں افسوسناک رویے میں ملوث تمام افسران کے خلاف سخت ایکشن ہو گا

    بھاٹی گیٹ، متوفی خاتون کے والد سے سادہ کاغذ پر انگوٹھا لگوانے کا معاملہ،ترجمان لاہور پولیس، آپریشنز ونگ کا کہنا ہے کہ متوفی خاندان کے والد کا انگوٹھا کسی کو ریلیف دینے کے لئے نہیں لگوایا گیا،ڈیڈ ہاوس میں والد کا انگوٹھا درخواست مقدمہ میں تصحیح کے لیے لگوایا گیا،والد کی درخواست مقدمہ میں سیفٹی آفیسر محمد دانیال کا ذکر تھا،گرفتار کرنے پر پتہ چلا سیفٹی آفیسر کا نام محمد حنزلہ تھا،درخواست مقدمہ کی درستگی کے لیے انگوٹھا لگوا کر درخواست دوبارہ دی گئی،انگوٹھا لگاتے وقت تمام خاندان متوفی کی لاش کے ساتھ ڈیڈ ہاوس میں تھا،انوسٹی گیشن ونگ کی درخواست پر انگوٹھا لگوا کر تصیح کی کاروائی کی گئی،ڈیڈ ہاوس سے نکلتے ہوئے وقت کی قلت کے باعث انگوٹھے لگوا کر کاروائی کی گئی،درست کوائف کے ساتھ نئی درخواست کے مطابق مقدمہ درج کیا جا چکا ہے،ڈی ایس پی انوسٹی گیشن اس معاملے کی وضاحت دے چکے ہیں،پولیس دکھی خاندان کے غم میں برابر کی شریک ہے،واقعہ کے ذمہ داران کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جا رہی ہے،ایس ایچ او معطل، اعلی سطحی انکوائری جاری ہے