Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • جی ایچ کیو حملہ کیس، عمران خان و دیگر پر فردجرم کی کاروائی چھٹی بار مؤخر

    جی ایچ کیو حملہ کیس، عمران خان و دیگر پر فردجرم کی کاروائی چھٹی بار مؤخر

    راولپنڈی: 9 مئی جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت 5 دسمبر تک ملتوی کر دی گئی

    بانی پی ٹی آئی سمیت دیگر ملزمان پر فرد جرم عائد نہ ہوسکی.ملزمان کے وکلاء نے انسداد دہشتگردی کی دفعات چیلنج کردی.وکلاء صفائی کی درخواست پر کل سماعت ہوگی.9 مئی جی ایچ کیوگیٹ حملہ کیس،وکلا صفائی نے کہا کہ مقدمہ کی سماعت انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے دائرہ اختیار میں نہیں،مقدمہ متعلقہ عدالت کو بھجوایا جائے، مقدمہ میں دہشت گردی کی دفعہ کا اطلاق نہیں ہوتا ،جی ایچ کیو حملہ کیس میں فرد جرم کی کارروائی آج چھٹی دفعہ ملتوی کی گئی، سماعت 5 دسمبر کو ہوگی، اڈیالہ جیل میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے سماعت کی۔

    قلات میں دہشت گردوں کا حملہ، 7 سیکیورٹی اہلکار شہید

    برطانیہ سے آئے شخص کے قتل میں بیوی ملوث نکلی

    جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت کے لیے شاہ محمود کو عدالت پہنچا دیا گیا

    جی ایچ کیو حملہ کیس کی چالان تفصیلات کے مطابق بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سمیت ملزمان پر مجموعی طور پر 27 سنگین دفعات عائد کی گئی ہیں،ملزمان نے سابق صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت قیادت میں جی ایچ کیو پر حملہ کیا، جی ایچ کیو گیٹ پر دھاوا بولا گیا اور گیٹ توڑ دیا، فوجی جوانوں نے منع کیا مگر باز نہیں آئے اور توڑ پھوڑ کرتے رہے،ملزمان نے حساس عسکری املاک توڑی اور آگ لگا دی، ڈنڈوں اور پتھروں سے حملہ کیا گیا، پیٹرول بم بھی مارا گیا، ملزمان جی ایچ کیو گیٹ توڑ کر اندر داخل ہوگئے اور فورسز سے بھرپور مزاحمت کی گئی، پاکستان میں بغاوت کا ساماں پیدا کیا گیا،جی ایچ کیو گیٹ پر پیٹرول بم ٹائر جلا کر آگ لگائی گئی اور بلڈنگ کے شیشے توڑے دیے گئے، پاک آرمی ساکھ کو نقصان پہنچایا گیا، عسکری ملازمین پر حملے کیے گئے، یہ جو دہشت گردی ہے اس کے پیچھے وردی کے نعرے اور خان نہیں تو پاکستان نہیں کے نعرے لگائے گئے،حساس دفاتر آئی ایس آئی اور جی ایچ کیو عمارات پر حملے کیے گئے، مظاہرہ اور احتجاج منظم سازش مجرمانہ کے تحت کیا گیا، موقع پر 6 ملزم گرفتار کیے ان کی نشاندہی پر مزید گرفتاریاں کی گئیں، چالان میں استدعا کی گئی کہ ملزمان کو سخت ترین عبرت ناک سزائیں دی جائیں

    واضح رہے کہ پی ٹی آئی چیئرمین کی گرفتاری کے بعد 9 مئی کو مظاہرین کی جانب سے جی ایچ کیو سمیت سرکاری املاک، فوجی چوکیوں اور تنصیبات کو توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ کا نشانہ بنایا گیا تھا۔عمران خان اب اڈیالہ جیل میں ہیں تا ہم پی ٹی آئی کے باقی رہنما ضمانتوں پر ہیں، نومئی کے مقدمات کی سماعت تاخیر کا شکار ہو رہی ہے، ڈیڑھ برس ہو چکا ہے ابھی تک فیصلے نہیں ہوئے

    بانی پی ٹی آئی عمران خان 9 مئی جی ایچ کیو کے سامنے پر امن اختجاج کے بیان پر قائم ہیں،29 جولائی کو اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں عمران خان نے وضاحت کے ساتھ دوبارہ اعتراف کرلیا،عمران خان کا کہنا تھا کہ میں نے کوئی اعتراف نہیں کیا،میرے جی ایچ کے او کے باہر پرامن احتجاج کے بیان کو اعتراف اور اقبال جرم بنا کر پیش کیا گیا،میں نے کوئی اعتراف یا اقبال جرم نہیں کیا۔ 9 مئی کے بعد میرے 3 وی لاگز بھی موجود ہیں، میں 9 مئی مقدمات کی تفتیش میں بھی کہہ چکا ہوں پر امن اختجاج کریں گے، 9 مئی واقعات کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں ہماری بے گناہی چھپی ہے،

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    اکرم چوہدری نجی ٹی وی کا عثمان بزدار ثابت،دیہاڑیاں،ہراسانی کے بھی واقعات

    اکرم چوہدری کا نجی ٹی وی کے نام پر دورہ یوکے،ذاتی فائدے،ادارے کو نقصان

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    سما ٹی وی بحران کا شکار،نجم سیٹھی” پریشان”،اکرم چودھری کی پالیسیاں لے ڈوبیں

    انتہائی نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکرمناہل نے مانگی معافی

    مناہل ملک کی لیک”نازیبا "ویڈیو اصلی،مفتی قوی بھی میدان میں آ گئے

  • عافیہ صدیقی کیس، امریکا جانیوالے وفد کی مالی معاونت ،وزیراعظم نے دستخط کر دیئے

    عافیہ صدیقی کیس، امریکا جانیوالے وفد کی مالی معاونت ،وزیراعظم نے دستخط کر دیئے

    امریکا میں قید پاکستانی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی صحتیابی اور رہائی سے متعلق ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کی درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے عافیہ صدیقی کی رہائی سے متعلق کیس کی سماعت کی، ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور نمائندہ وزارت خارجہ عدالت میں پیش ہوئے،ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کے وکیل عمران شفیق اور عدالتی معاون زینب جنجوعہ بھی عدالت میں پیش ہوئیں،ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل نے اسلام آباد ہائیکورٹ کو آگاہ کیا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے عافیہ صدیقی کیس میں امریکا جانے والے وفد کی مالی معاونت کی سمری پر دستخط کر دیئے ہیں،نمائندہ وزارت خارجہ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ وفد کے ویزوں کی درخواست وزارت خارجہ نے بھیج دی، امید ہے ایک ہفتے تک منظوری ہو جائے گی،ہم ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کی ہر ممکن مدد کر رہے ہیں، ذاتی وجوہات پر سینیٹر عرفان صدیقی وفد کے ساتھ نہیں جا سکتے، حکومت کی جانب سے سینیٹر بشریٰ وفد کے ساتھ امریکا جائیں گی ،اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے متعلق کیس کی سماعت 13 جنوری تک ملتوی کر دی۔

    عافیہ صدیقی کی رہائی کیلئے امریکا کون کون جائے گا؟رپورٹ عدالت پیش

    ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کی چابی اسلام آباد میں بیٹھے حکمرانوں کے پاس ہے،مشتاق احمد

    عافیہ کی جان خطرے میں،حکومت واپسی کے اقدامات کرے،ڈاکٹر فوزیہ

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملاقات کروائی جائے، اہلخانہ عدالت پہنچ گئے

    نئی حکومت ڈاکٹرعافیہ صدیقی کو رہا کرائے،مولانا عبدالاکبر چترالی کا مطالبہ

     ایک ماہ کے بعد دوسری رپورٹ آئی ہے جو غیر تسلی بخش ہے ،

    عالمی یوم تعلیم امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے نام منسوب

    امریکی جیل میں ڈاکٹرعافیہ صدیقی پرحملہ:پاکستان نے امریکہ سے بڑا مطالبہ کردیا ،

    ڈاکٹرعافیہ کی رہائی کی چابی واشنگٹن نہیں اسلام آباد میں پڑی ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف سے امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کی ملاقات،ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کا مطالبہ

    عافیہ صدیقی کیلئے رحم کی اپیل کرتے ہوئے حکومت اتنا ڈر کیوں رہی ہے؟ عدالت

  • عمران خان مزید 7 مقدمات میں گرفتار

    عمران خان مزید 7 مقدمات میں گرفتار

    بانی چیئرمین پی ٹی آئی،سابق وزیراعظم عمران خان کو 28 ستمبر 4 اکتوبر اور 5 اکتوبر کے سات مقدمات میں گرفتار کر لیا گیا

    عمران خان کے مقدمات کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہو ئی، قبل ازیں پولیس نے عمران خان کو تھانہ نیو ٹاؤن کے مقدمے میں گرفتار کیا تھا اور عمران خان جسمانی ریمانڈ پر تھے،بانی پی ٹی آئی پر 28ستمبرکو جلائو گھیرائو سرکاری املاک پرنقصان پہنچانے کا مقدمہ درج تھا ،راولپنڈی پولیس نے تھانہ نیو ٹاؤن میں درج مقدمہ نمبر 2831 میں جسمانی ریمانڈ حاصل کرنے کے لیے پرچہ ریمانڈ عدالت میں پیش کیا تھا،

    عمران خان جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل
    بانی پی ٹی آئی عمران خان کا تھانہ نیو ٹاون کے مقدمہ میں جسمانی ریمانڈ مکمل ،بانی پی ٹی آئی کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا گیا،28ستمبر اور 5اکتوبر کےمزید چھے مقدمات میں بھی جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیاگیا،مقدمات پر جوڈیشل ریمانڈ کی استدعا کی گئی، سماعت اے ٹی سی جج امجد علی شاہ نے اڈیالہ جیل میں کی،عدالت نے پولیس کی جانب سے چھ مقدمات میں عمران خان کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کر دی،جن سات کیسز میں عمران خان کی گرفتاری کی گئی ان میں بھی عمران خان کو جوڈیشل ریمانڈ پر بھیج دیا گیا

    پولیس چھاپے کے دوران چھت سے گرنے والے پی ٹی آئی کارکن کی موت

    احتجاج کی کال،پی ٹی آئی کی گرفتاریوں کی حقیقت فرمائشی گرفتاری نے کی بے نقاب

    دہشتگردی کی نئی لہر،ذمہ دار کون؟فیصلہ کن اقدامات کی ضرورت

    ضمانت تو مل گئی پر عمران کی رہائی کا دور دور تک امکان نہیں

  • بدعنوانی،اقرباپروری،غیرپیشہ ورانہ انتظامیہ پی آئی اے کی تنزلی کی وجوہات

    بدعنوانی،اقرباپروری،غیرپیشہ ورانہ انتظامیہ پی آئی اے کی تنزلی کی وجوہات

    پاکستان کی قومی ایئر لائن پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کی تنزلی اور ناکامی کی وجوہات پر طویل عرصے سے بات ہو رہی ہے، اور اس میں مشرق وسطیٰ کی ایئرلائنز جیسے ایمریٹس، قطر ایئرویز اور اتحاد ایئرویز کو الزام دیا جاتا رہا ہے۔ اس کی ابتداء 1980 کی دہائی سے ہوئی تھی، جب پی آئی اے کی کارکردگی میں کمی آئی اور اس کی کامیابی کے دن ختم ہوئے۔ پی آئی اے کی ناکامی کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہیں جن میں بدعنوانی، اقربا پروری اور غیر پیشہ ورانہ انتظامیہ شامل ہیں۔

    پی آئی اے کی بدحالی کا آغاز پیپلز پارٹی کی حکومت سے ہوا، جب اس ادارے کو سیاسی طور پر استعمال کیا جانے لگا۔ پی پی پی کے دور حکومت میں پی آئی اے کی انتظامیہ میں اقربا پروری اور بدعنوانی کے واقعات سامنے آئے، جس سے ادارہ مزید کمزور ہو گیا۔ سیاسی اثر و رسوخ نے ایئر لائن کی صلاحیتوں کو متاثر کیا، اور اس کے نتیجے میں ملازمین کی بھرتی اور دیگر اہم فیصلے ذاتی مفادات کے تحت ہونے لگے۔

    پی آئی اے کی ناکامی کے بعد مشرق وسطیٰ کی ایئرلائنز، جیسے ایمریٹس، قطر ایئرویز اور اتحاد ایئرویز نے اس خلا کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔ یہ ایئرلائنز اپنی خدمات، معیار اور جدید طیاروں کے ساتھ پی آئی اے سے کہیں آگے نکل گئیں۔ یہ ایئرلائنز نہ صرف بین الاقوامی پروازوں کے لیے ترجیح بن گئیں بلکہ انہوں نے پاکستانی مسافروں کے لیے بھی بہترین خدمات فراہم کرنا شروع کر دیں۔ ان ایئرلائنز نے اپنے نیٹ ورک، پائیداری اور وقت کی پابندی کے ذریعے پی آئی اے کے مقابلے میں اپنی ساکھ بنائی۔

    پی آئی اے کی سروسز، نیٹ ورک اور وقت کی پابندی میں کمی کا شکار ہوئیں۔ صارفین کو ایسے ایئر لائن کے ساتھ سفر کرنے کا کیا فائدہ ہو سکتا تھا جو نہ صرف غیر مستحکم ہو بلکہ جس کے طیارے بھی پرانے اور غیر محفوظ ہوں؟ وقت کے ساتھ ساتھ پی آئی اے کے طیاروں کی حالت خراب ہوئی اور اس کی فضائی سروسز نے عالمی معیار کو برقرار رکھنے میں ناکامی کی۔ اس کے نتیجے میں مسافر دیگر ایئرلائنز کو ترجیح دینے لگے۔

    پی آئی اے کی زبوں حالی میں ایک اور سنگین موڑ اس وقت آیا جب پی ٹی آئی دور حکومت میں غلام سرور خان وفاقی وزیر ہوابازی تھے اور انہوں نے کراچی میں پی آئی اے جہاز کے حادثے کے بعد پارلیمنٹ میں پائلٹ کے جعلی لائسنس کے حوالے سے بیان دیا، اس کے بعد پی آئی اے کو شدید نقصان پہنچا۔پی ٹی آئی دور حکومت کی پالیسیوں اور فیصلوں نے نہ صرف پی آئی اے کی مالی حالت کو مزید بگاڑ دیا بلکہ ایئر لائن کے ادارتی ڈھانچے میں بھی بے ترتیبی پیدا کی۔ ان کے فیصلوں نے ایک طرف جہاں ادارے کی کارکردگی کو متاثر کیا، وہیں دوسری طرف پی آئی اے کی ساکھ اور شہرت بھی مزید خراب ہوئی۔

    اگر پی آئی اے کی موجودہ حالت میں کوئی بہتری لانا ہے تو حکومت کو اس کی اصلاح کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنے ہوں گے۔ بدعنوانی اور اقربا پروری کی روک تھام اور پیشہ ورانہ معیار کو دوبارہ قائم کرنا ایک لازمی ضرورت ہے تاکہ پی آئی اے ایک مرتبہ پھر اپنی ساکھ بحال کر سکے۔

    پی آئی اے پروازوں کی بحالی پاکستان کے لئے بڑی کامیابی ہے،سحر کامران

    پی آئی اے پر پابندی اٹھنے سے پی آئی اے کی ساکھ مستحکم ہوگی،وزیراعظم

    چندہ ڈالیں گے لیکن پی آئی اے خریدیں گے، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

    بشریٰ کا رونا اچھی حکمت عملی،گنڈا پور”نمونہ” پی آئی اے نہیں خرید رہے،عظمیٰ بخاری

    پی آئی اے کی بجائے اپنے فلیٹس بیچیں، شیخ رشید

    اسلام آباد ایئر پورٹ نواز شریف کے قریبی دوست کو دیا جا رہا، مبشر لقمان

    پی آئی اے نجکاری،صرف 10 ارب کی بولی، کیوں؟سعد نذیر کا کھرا سچ میں جواب

    پی آئی اے کی یورپ کے لیے پروازوں پر پابندی ختم

  • پی ٹی آئی اسلام آباد احتجاج ، علی محمد خان کی آڈیو لیک

    پی ٹی آئی اسلام آباد احتجاج ، علی محمد خان کی آڈیو لیک

    اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے 26 نومبر کے احتجاج کے معاملے پر رہنما تحریک انصاف علی محمد خان کی آڈیو لیک ہوگئی۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق علی محمد خان نے رابطہ کرنے پر آڈیو اپنی ہونے کی تصدیق کی ہے۔لیک آڈیو میں علی محمد خان کہہ رہے ہیں کہ پی ٹی آئی سیاسی پارٹی ہے، احتجاج کا اعلان علیمہ خان کے بجائے بیرسٹر گوہر کو کرنا چاہیے تھا۔ عمران خان نے تو کہا کہ تھا ہماری پارٹی میں موروثیت کی کوئی جگہ نہیں ہے، علیمہ خان نے خود کیوں احتجاج کی کال دی؟ واضح رہے کہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں رہنماؤں نے عمران خان کے حکم پر سنگجانی جانے کے بجائے ڈی چوک جانے پر سوالات اٹھائے۔ علی محمد خان کے مطابق میں نے بانی چیئرمین سے بھی شکایت کی کہ اعلانات پارٹی کی طرف سے ہونے چاہئیں اور انہوں نے بھی کہا کہ آئندہ کال پارٹی لیڈر شپ دے گی۔بانی چیئرمین نے ڈی چوک آنے کا کہا ہی نہیں تھا، بانی چیئرمین نے صرف اسلام آباد آنےکا کہا تھا، انہوں نے کہا تھا کہ اسلام آباد میں کارکنان کی آمد کے بعد جگہ بتائی جائےگی، جب بانی چیئرمین نے سنگجانی کا کہا تھا تو پھر کس کے کہنے پر ڈی چوک گئے؟علی محمد خان کے مطابق بانی چیئرمین نے بیرسٹر گوہر، فیصل چوہدری اور دیگر کے سامنےکہا تھا۔ ہمارا مقصد احتجاج کے ذریعے مذاکرات کرنا تھا۔ سندھ اور پنجاب میں الگ الگ احتجاج کرنے کی بھی بانی چیئرمین نے مخالفت کی تھی۔ بانی چیئرمین نے سنگجانی میں بیٹھنےکا کہا تھا اور مذاکرات کرنےکا بھی حکم دیا تھا۔علی محمد خان کا کہنا تھا کہ بشریٰ بی بی کی احتجاج میں شمولیت کا بھی بانی چیئرمین کو نہیں پتا تھا۔ بیرسٹر گوہر نے بانی چیئرمین کو بتایا کہ بشریٰ بی بی احتجاج میں آئی ہیں۔چیئرمین پی ٹی آئی اور سیکرٹری جنرل کو سنگجانی میں بیٹھنے کا اعلان کرنا چاہیے تھا، وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور بھی سنگجانی پر متفق ہوگئے تھے۔ جب بانی چیئرمین نے سنگجانی بیٹھنےکا کہا تو پھر آگے سب کیوں گئے؟علی محمد خان کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنے لیڈر کے حکم پر عمل کرنا چاہیے تھا، ہمیں سنگجانی میں رکنا چاہیے تھا۔ بشریٰ بی بی سمیت کسی کے پاس حق نہیں ہے کہ بانی چیئرمین کےفیصلے کے اوپر فیصلہ دے۔ بیرسٹر سیف نے جب بانی چیئرمین کا پیغام پہنچایا تو اس پر عمل کرنا چاہیے تھا۔

    شہید کیپٹن ذوہیب ،شہید سپاہی افتخار کی نماز جنازہ ادا، وزیر اعظم، اعلی عسکری قیادت شریک

    صرف200 کے عوض پاکستانی جاسوس بننے والا گرفتار ،بھارتی مضحکہ خیز دعویٰ

    بچی سے زیادتی کی کوشش، مجرم کو 12 سال قید

  • شرپسند عناصر کا قائد مراد سعید وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں روپوش ہے، عطا تارڑ

    شرپسند عناصر کا قائد مراد سعید وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں روپوش ہے، عطا تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات نے کہا ہے کہ مسلح افغان شہریوں اور شرپسند عناصر کی قیادت کرنے والا مراد سعید وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں روپوش ہے۔

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عطاتارڑ نے بتایا کہ مراد سعید وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں روپوش ہے، وہ نہ صرف اس احتجاج میں شریک تھے بلکہ انہوں نے تربیت یافتہ جھتے بھیجے تھے جن کو مظاہرے کے دوران لاشیں گرانے کی احکامات دیئے گئے تھے۔یہ کس طرح کی سیاست ہے، مراد سعید یہ کام پہلے بھی کرتے رہے ہیں، انہوں نے باقاعدہ منصوبہ بندی کی، ریڈ زون میں جانے کا مقصد ریاستی رٹ کو ختم کرنا تھا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اسلحہ انتشاریوں کے پاس تھا، بین الاقوامی میڈیا پر بھی پراپیگنڈا کیا جارہا ہے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے فائرنگ کی ایک ویڈیو نہیں آئی، لاشوں کے حوالے سے پراپیگنڈا کیا جارہا ہے، پمز اور پولی کلینک ہسپتال نے اپنی پریس ریلیز میں واضح کیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی فائرنگ سے ہلاکت نہیں ہوئی۔عطاتارڑ کا کہنا تھا کہ اگر فائرنگ کی گئی تو وہ احتجاجی مظاہرین میں سے کی گئی، کرم میں کہرام مچا ہوا ہے مگر تمام تر توجہ سیاست کے اوپر ہے، اگر احتجاج کا فیصلہ کیا تھا تو پھر موقعے سے بھاگے کیوں؟ مظاہروں کی وجہ سے ملکی معیشت کو یومیہ 192 ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔ خیبرپختونخوا کی عوام کو سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے یہ کال مسترد کی اور ان کے پاس آخر میں تقریباً 2 ہزار لوگ رہ گئے، خیبرپختونخوا کی عوام تعلیم اور صحت مانگتے ہیں، وہاں کی عوام انتشار کی سیاست نہیں چاہتے۔ ان کو اصل مایوسی سیاسی طور پر لاشیں گرانے میں ناکامی پر ہورہی ہے، ان کے پاس براہ راست فائرنگ کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔عطاتارڑ نے کہا کہ مراد سعید اس سازش میں شامل تھے، جتنے لوگ فرنٹ لائن سے پکڑے گئے ایک سازش کے تحت لائے گئے تھے، سیاسی ناکامی کو چھپانے کے لیے جھوٹا بیانیہ چلے گا نہیں، یہ ایک غیر قانونی پرتشدد احتجاج تھا، اس میں غیر قانونی طور پر اسلحہ لایا گیا تھا اور بلااشتعال فائرنگ کی گئی۔ گزشتہ کئی دنوں سے میڈیا اور سوشل میڈیا چینلز پر احتجاج کی ناکامی کو چھپانے کے لیے جھوٹا بیانیہ بنایا جارہا ہے ،پاکستانی عوام کے سامنے تمام تر حقائق رکھنا ضروری ہیں۔کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کا امن تباہ کرنے کی کوشش کی گئی۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی مظاہروں میں تربیت یافتہ جرائم پیشہ اور افغانی موجود تھے، تمام لوگ اسلحہ بخوبی چلانا جانتے تھے لیکن اس دفعہ کے احتجاج میں آخری کال کے نام سے سنسنی پھیلائی گئی۔ یہ سارے احتجاج غیر ملکی مہمان کی آمد کے موقع پر ہی کیوں کیے جاتے ہیں، ریاست گھٹنے نہیں ٹیکتی، ریاست کا کام رٹ کو بحال کرنا اور امن و امان، شہریوں کے حقوق اور حفاظت کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔عطا تارڑ نے کہا ہمارے پاس انٹیلی جنس رپورٹس دی تھی کہ فائنل کال میں کوشش کی جائے گی کہ خون بہایا جائے اور لاشیں گرائی جائیں، ٹیکس پیئر کے پیسوں سے اگر کسی بھی صوبائی حکومت کو وسائل دیئے جاتے ہیں تو اس کامقصد غیر قانونی احتجاج پر کڑوڑوں روپے خرچ کرنا نہیں ہوتا۔اس موقع پر سیکریٹری داخلہ خرم علی آغا کا کہنا تھا کہ ان سے کہا درخواست دیں کہ کہاں جلسہ کرنا ہے لیکن نہیں دی، غیرملکی وفد کی آمد پر ہمیں سیکیورٹی پلان تشکیل دینا پڑا، سیکیورٹی اداروں نے بہت ہمت دکھائی اور صابر رہے، انہوں نے کسی قسم کا اسلحہ استعمال نہیں کیا، پی ٹی آئی (پاکستان تحریک انصاف) کے کارکنان نے ہر قسم کا ہتھیار استعمال کیا اور تشدد کیا، املاک کو نقصان پہنچایا،فوج کو صرف ریڈ زون میں تعینات کیا گیا تھا۔پریس کانفرنس کے دوران احتجاج سے حراست میں لیے گئے ملزمان کی ویڈیو اور ان کے اعترافی بیان بھی دکھائے گئے۔عطاتارڑ کا کہنا تھا کہ احتجاج کے دوران بلا اشتعال فائرنگ کے ثبوت دکھائیں گئے ہیں، کسی ایک اہلکار کی جانب سے فائرنگ کا ثبوت نہیں، اموات کا جھوٹا پراپیگنڈا اپنی موت مرے گا، اب خیبرپختونخوا کی عوام کی خدمت کرنے کا موقع ہے، احتجاج سے گرفتار ملزمان نے بھی کہا کہ پی ٹی آئی رہنما ہمیں چھوڑ کر بھاگ گئے۔انہوں نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بطور سیاست دان یہ نہیں چاہتا کہ کوئی ایسا ایکشن ہو جس سے لوگوں کے مینڈیٹ کی توہین ہو، ہم سیاسی لوگ ہیں، ہم نے فیک خبروں کو اچھی طرح بے نقاب کیا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ جب جھوٹ ہر طرف سے آئے گا تو ہمارے پاس ایک ہی آپشن رہ جاتا ہے، وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی ایک ٹاس فورس بنائی جاتے اور اس کے تحت جو جھوٹا الزام لگائے اس کو اسے ثابت کرنے کے لیے بلایا جائے، ریاست کمزور نہیں ہوتی، وہ صرف اپنے شہریوں کا خیال کرتی ہیں۔

    سابق ایم این اے علی حسن گیلانی حادثے میں جاں بحق

    گنڈا پور کا امن و امان کی صورتحال بہتر کرنے کا دعوی

    مریم نواز نےسندھی ثقافت کی تعریف کر دی

  • قومی برج ٹرائلز، شیخ عطا میموریل کے نتائج، باغی ٹی وی ٹیم سیمی فائنل میں

    قومی برج ٹرائلز، شیخ عطا میموریل کے نتائج، باغی ٹی وی ٹیم سیمی فائنل میں

    پاکستان کے قومی برج ٹرائلز، جو کہ شیخ عطا میموریل ٹرائلز کے نام سے معروف ہیں، ایک شاندار اختتام کو پہنچے۔

    ان ٹرائلز میں راؤنڈ رابن مرحلوں کے دوران چار بہترین ٹیموں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ ان مقابلوں نے کھلاڑیوں کی مہارت اور لگن کو نمایاں کیا اور ملک کی بہترین برج ٹیموں کے درمیان سخت مقابلہ دیکھنے کو ملا۔گیارہ سخت اور چیلنجنگ راؤنڈز کے بعد، ٹیم بلال اور ٹیم تحسین نے بہترین حکمت عملی اور ٹیم ورک کا مظاہرہ کرتے ہوئے سرفہرست مقام حاصل کیا۔

    اس کے علاوہ، ٹیمز ایلیمینٹری اور باغی ٹی وی نے سیمی فائنلز کے لیے کوالیفائی کیا، جو ان کی زبردست محنت اور مہارت کو ظاہر کرتا ہے۔ٹیم باغی ٹی وی، جس کی قیادت معروف صحافی واینکر پرسن مبشر لقمان کر رہے ہیں، جنہیں اس وقت پاکستان برج فیڈریشن کا صدر اور برِج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ کا نائب صدر ہونے کا اعزاز حاصل ہے، نے ٹرائلز میں اپنی بہترین مہارت کا مظاہرہ کیا۔

    ان ٹرائلز کے فاتحین کو 2025 میں دبئی میں ہونے والے بیفیم ایونٹ میں پاکستان کی نمائندگی کرنے کا اعزاز حاصل ہوگا، اور اس کے بعد وہ ڈنمارک میں ہونے والے برمودا باؤل میں بھی شرکت کریں گے، جو عالمی سطح پر ایک نمایاں ایونٹ ہے۔ٹرائلز میں مجموعی طور پر چار مختلف کیٹیگریز شامل تھیں، مگر یہاں پیش کردہ نتائج خاص طور پر اوپن ٹیمز پر مرکوز ہیں، جو اس سال کے ٹرائلز میں اعلیٰ سطح کے مقابلے اور عزم کو اجاگر کرتے ہیں۔

    پاکستان برج فیڈریشن تمام ٹیموں کو ان کی شاندار کارکردگی پر مبارکباد پیش کرتی ہے اور فائنلسٹ ٹیموں کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتی ہے جو بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کے لیے تیار ہو رہی ہیں۔

  • فوج کا پرتشدد ہجوم سے کوئی ٹکراؤ نہیں ہوا، وزارت داخلہ

    فوج کا پرتشدد ہجوم سے کوئی ٹکراؤ نہیں ہوا، وزارت داخلہ

    وزارتِ داخلہ کی جناب سے بتایا گیا کہ آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت اسلام آباد میں پاک فوج کو تعینات کیا گیا، پاک فوج کی تعییناتی کا مقصد اہم تنصیبات کو محفوظ اورغیرملکی سفارت کاروں کی حفاظت اور دورے پرآئے اہم وفود کے لیے محفوظ ماحول کو یقینی بنانا تھا۔

    اعلامیے میں کہا گیا کہ واضح رہے کہ پاک فوج کا اس تشدد ہجوم سے براہ راست کوئی ٹکراؤ نہیں ہوا اور نہ ہی وہ Riot control پر تعینات تھی۔ منتشرکرنے کے عمل کے دوران قیادت کے ہمراہ مسلح گارڈز اور مظاہرین کے مسلح شر پسندوں نے اندھا دھند فائرنگ کی۔ ان خود ساختہ پر تشدد حالات میں پی ٹی آئی قیادت نے صورتحال سنبھالنے کے بجائے راہ فرار اختیار کیا۔پولیس اور رینجرزنے اس پرتشدد ہجوم کو منتشرکرنے کے لیے Live Ammunition کا استعمال نہیں کیا۔ مظاہرین کےعلاقے سے فرارکے فوری بعد وفاقی وزرائے داخلہ اور اطلاعات نے متاثرہ علاقے کا دورہ بھی کیا اور پریس ٹاک کی۔ پی ٹی آئی نے سوشل میڈیا پر ایک منظم پراپیگینڈہ شروع کر دیا ہے۔ پراپیگنڈہ میں مبینہ ہلاکتوں کی ذمہ داری قانون نافذ کرنے والے اداروں پر ڈالنے کی مذموم کوشش کی جا رہی ہے۔وزارتِ داخلہ کا کہنا تھا کہ وفاقی دارالحکومت کے بڑے اسپتالوں کی انتظامیہ نے ہلاکتوں کی رپورٹ کی تردید بھی کی۔ من گھڑت سوشل میڈیا مہم کے دوران پرانے اور AI سے تیار کردہ جھوٹے کلپس کا استعمال بھی کیا جا رہا ہے۔ بد قسمتی سے غیرملکی میڈیا کے بعض عناصربھی اس پروپیگنڈہ کا شکار ہو گئے ہیں .اعلامیے کے مطابق پولیس آفیشلز اورکمشنر اسلام آباد نے باربار مصدقہ ثبوت کے ساتھ اصل صورتحال کی وضاحت کی۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر پاکستانی شہریوں کی حفاظت کی۔ پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا مہم پاکستان میں انتشار بدامنی اور تفرقہ بازی کو فروغ دے رہی ہے۔وزارتِ داخلہ نے اعلامیے میں کہا کہ اندرون اور بیرون ملک ایسے عناصر کا متعلقہ قوانین کے تحت احتساب کیا جائے گا۔ وزیراعلی خیبر پختونخوا نے صوبائی اسمبلی کو اداروں کے خلاف بے بنیاد اور اشتعال انگیز بیانات کے لیے استعمال کیا۔ پرتشدد مظاہرین سے 18 خودکار ہتھیاروں سمیت 39 مہلک ہتھیار برآمد ہوئے ہیں۔ پکڑے گئے شر پسندوں میں تین درجن سے زائد غیر ملکی اجرتی شامل ہیں۔جیل وینزکو آگ لگانے کے ساتھ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی 11 گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔ پرتشدد مظاہروں کے دوران ابتدائی اندازوں کے مطابق سیکڑوں ملین کا نقصان ہوا ہے۔ ان پر تشدد مظاہروں کی وجہ سے معیشت کو بالواسطہ نقصانات کا تخمینہ 192 ارب روپے یومیہ ہے۔پاکستان بشمول خیبر پختونخوا کے قابل فخرعوام اس قسم کی پرتشدد سیاست کو مسترد کرتے ہیں۔ عوام بے بنیاد الزامات اور بد نیتی پر مبنی پروپیگنڈہ کو بھی مسترد کرتے ہیں، پوری پاکستانی قوم ملک میں امن و استحکام کی خواہش کے ساتھ یکجا کھڑی ہے۔

    سکیورٹی فورسز کی خیبرپختونخواہ میں کارروائیاں، 8 خارجی دہشتگرد ہلاک

    چین کا تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت کی امریکی منظوری پر شدید ردعمل

    کاکول میں کیڈٹس کی مشترکہ عسکری تربیت کا آغاز

    کرم کشیدگی پر جرگہ: امن وامان کے لیے ہر ایک کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا،گورنر خیبرپختونخوا

  • سکیورٹی فورسز کی خیبرپختونخواہ میں کارروائیاں، 8 خارجی دہشتگرد ہلاک

    سکیورٹی فورسز کی خیبرپختونخواہ میں کارروائیاں، 8 خارجی دہشتگرد ہلاک

    صوبہ خیبرپختونخواہ میں سکیورٹی فورسز کی 2 کارروائیوں میں 8 خارجی دہشتگرد ہلاک ہوگئے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر ) کے مطابق سکیورٹی فورسز نے صوبہ خیبر پختونخواہ میں دو مختلف کارروائیاں کی ہیں جس کے دوران 8 خارجی مارے گئے ہیں جب کہ 9 زخمی ہوئے، 2 خارجیوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔آرمی ترجمان نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے ایک آپریشن بنوں کے علاقے بکاخیل میں کیا، اس کارروائی میں 5 خارجی مارے گئے اور 9 زخمی ہوئے جب کہ سکیورٹی فورسز نے دوسری کارروائی خیبر کے علاقے شگنی میں کی جہاں 3 خارجی مارے گئے جب کہ 2 گو گرفتار کر لیا گیا، ہلاک تمام خارجی دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں میں ملوث تھے۔آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ علاقے میں ممکنہ خارجیوں کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشن کیا، سکیورٹی فورسز ملک سے دہشتگردی کے خاتمے کیلیے پُرعزم ہیں اور بہادر جوانوں کی قربانیاں ہمارے عزم کو مزید تقویت دیتی ہیں، ان آپریشنز کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں بنوں میں سپاہی افتخار حسین اور خیبر کے علاقے شگنی میں کیپٹن محمد ذوہیب الدین بہادری سے لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔بتایا گیا ہے کہ 26 سالہ کیپٹن محمد ذوہیب شہید کا تعلق لاہور سے ہے انہوں نے 3 سال سے زائد عرصے تک پاک فوج میں فرائض سر انجام دیئے جب کہ 29 سالہ سپاہی افتخار حسین شہید کا تعلق ضلع جھنگ سے ہے اور انہوں نے 8 سال تک پاک فوج میں دفاع وطن کی خدمات سر انجام دیں، سپاہی افتخار حسین شہید نے سوگواران میں اہلیہ، بیٹا اور بیٹی شامل ہیں۔

    چین کا تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت کی امریکی منظوری پر شدید ردعمل

    کاکول میں کیڈٹس کی مشترکہ عسکری تربیت کا آغاز

    پہلا ٹی ٹونٹی، پاکستان کا ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ

  • کاکول میں کیڈٹس کی مشترکہ عسکری تربیت کا آغاز

    کاکول میں کیڈٹس کی مشترکہ عسکری تربیت کا آغاز

    پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں آرمی، نیوی اورفضائیہ کے کیڈٹس کی مشترکہ عسکری تربیت کا آغازہوگیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق پی ایم اے پاکستان کی بری فوج کا اعلیٰ تربیتی ادارہ ہے جو پاکستان کی دفاعی قوت میں قابل اور پیشہ ور قیادت کا اضافہ کرتا ہے۔ پی ایم اے میں مسلح افواج کے کیڈٹس کی تربیت عسکری قیادت میں مشترکہ آپریشنز کے لیے ایک جامع نقطہ نظرپیش کرے گی۔ پاکستان ملٹری اکیڈمی میں 01 دسمبر 2024ء سے آرمی، نیوی اور فضائیہ کے کیڈٹس کی مشترکہ عسکری تربیت ہوگی، یہ تربیت پانچ ماہ پرمحیط ہوگی جس میں تینوں مسلح افواج کے کیڈٹس بنیادی عسکری تربیت حاصل کرینگے۔یہ تربیت ملکی دفاع کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ باہمی نظم و ضبط اور مستقبل کی جنگی ضروریات میں قیادت کو یقینی بنائے گی۔ کسی بھی جنگ میں بری، بحری اور فضائی افواج کا باہمی ربط اور تعاون فتح کو یقینی بناتا ہے۔مشترکہ تربیت مسلح افواج میں پیشہ ورانہ یکسانیت، قیادت، جرات اوراتحاد عمل پیدا کرنے میں معاون ثابت ہوگی، پاکستان کی مسلح افواج پیشہ ورانہ مہارت، جرات، نظم و ضبط اور بااعتماد قیادت کے باعث مایہ ناز تنظیمیں ہیں۔

    پہلا ٹی ٹونٹی، پاکستان کا ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ