Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • اشتہاری مراد سعید بھی شرپسندوں کے ہمراہ اسلام آباد آئے، انکشاف

    اشتہاری مراد سعید بھی شرپسندوں کے ہمراہ اسلام آباد آئے، انکشاف

    اسلام آباد: وزارت داخلہ نے اسلام آباد میں پی ٹی آئی احتجاج کے حوالے سے رپورٹ جاری کی ہے-

    باغی ٹی وی : 21 نومبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت کو امن و امان ہر قیمت پر قائم رکھنے کی ہدایت کی،ہائی کورٹ نے وزیر داخلہ کو ہدایت کی کہ وہ امن و امان کے حوالے سے پی ٹی ائی قیادت سے رابطہ کریں بیلاروس کے صدر اور اعلی سطحی چینی وفد کے دورے کے پیش نظر پی ٹی آئی کومتعدد بار احتجاج موخر کرنے کا کہا گیا،پی ٹی آئی کے احتجاج جاری رکھنے کی ضد پر انہیں سنگجانی مقام کی تجویز دی گئی۔

    مظاہرین نے سنگجانی کے بجائے اسلام آباد کے ریڈ زون میں داخل ہو کر قانون کی خلاف ورزی کی، پر تشدد مظاہرین نے پشاور تا ریڈ زون تک مارچ کے دوران ڈیوٹی پر مامور اہلکاروں کو نشانہ بنایا،مظاہرین نے اسلحہ بشمول سٹیل سلنگ شاٹس، سٹین گرنیڈ، آنسو گیس شیل اور کیل جڑی لاٹھیوں وغیرہ کا استعمال کیا۔پر تشدد احتجاج میں خیبر پختونخواہ حکومت کے وسائل کا بھرپور استعمال کیا گیا۔

    پی ٹی آئی کے پرتشدد احتجاج میں تربیت یافتہ شر پسند اور غیر قانونی افغان شہری بھی شامل تھےیہ سخت گیر 1500 شرپسند براہ راست مفرور اشتہاری مراد سعید کے ماتحت سرگرم تھےجو خود بھی ہمراہ تھااس گروہ نے عسکریت پسندانہ حکمت عملی کا استعمال کرتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر حملہ کیا قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے پر تشدد مظاہرین کے ساتھ انتہائی تحمل کا مظاہرہ کیا۔

    اسلام آباد میں چیک پوسٹ پر ڈیوٹی پر متعین تین رینجرز اہلکاروں کو گاڑی چڑھا کر شہید کیا گیا پر تشدد مظاہرین نے ایک پولیس اہلکار کو بھی شہید کیا شر پسندوں کے ہاتھوں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 232 اہلکار بھی زخمی ہوئے۔پرتشدد مظاہرین نے سکیورٹی فورسز پر حملہ کیا اور پولیس کی متعدد گاڑیوں کو بھی آگ لگائی، آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت اسلام آباد میں پاک فوج کو تعینات کیا گیا

    پاک فوج کی تعییناتی کا مقصد اہم تنصیبات کو محفوظ اور غیر ملکی سفارت کاروں کی حفاظت اور دورے پر آئے اہم وفود کے لیے محفوظ ماحول کو یقینی بنانا تھا پولیس اور رینجرز نے اس پرتشدد ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے Live Ammunition کا استعمال نہیں کیا –

    واضح رہے کہ پاک فوج کا اس تشدد ہجوم سے براہ راست کوئی ٹکراؤ نہیں ہوا اور نہ ہی وہ Riot control پر تعینات تھی منتشر کرنے کے عمل کے دوران قیادت کے ہمراہ مسلح گارڈز اور مظاہرین کے مسلح شر پسندوں نے اندھا دھند فائرنگ کی، ان خود ساختہ پر تشدد حالات میں پی ٹی آئی قیادت نے صورتحال سنبھالنے کے بجائے راہ فرار اختیار کیا۔

    مظاہرین کے علاقے سے فرار کے فوری بعد وفاقی وزرائے داخلہ اور اطلاعات نے متاثرہ علاقے کا دورہ بھی کیا اور پریس ٹاک کی، پی ٹی آئی نے سوشل میڈیا پر ایک منظم پراپیگینڈہ شروع کر دیا ہے،پراپیگنڈہ میں مبینہ ہلاکتوں کی ذمہ داری قانون نافذ کرنے والے اداروں پر ڈالنےکی مذموم کوشش کی جا رہی ہے۔

    وفاقی دارالحکومت کے بڑے ہسپتالوں کی انتظامیہ نے ہلاکتوں کی رپورٹ کی تردید بھی کی، من گھڑت سوشل میڈیا مہم کے دوران پرانے اور AI سے تیار کردہ جھوٹے کلپس کا استعمال بھی کیا جا رہا ہے بد قسمتی سے غیر ملکی میڈیا کے بعض عناصر بھی اس پروپیگنڈہ کا شکار ہو گئے ہیں۔

    وزراء، حکومتی اہلکار، پولیس آفیشلز اور کمشنر اسلام آباد نے بار بار مصدقہ ثبوت کے ساتھ اصل صورتحال کی وضاحت کی، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر پاکستانی شہریوں کی حفاظت کی، پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا مہم پاکستان میں انتشار بدامنی اور تفرقہ بازی کو فروغ دے رہی ہے، اندرون اور بیرون ملک ایسے عناصر کا متعلقہ قوانین کے تحت احتساب کیا جائے گا۔

    وزیراعلی خیبر پختونخواہ نے صوبائی اسمبلی کو اداروں کے خلاف بے بنیاد اور اشتعال انگیز بیانات کے لیے استعمال کیا، پرتشدد مظاہرین سے 18 خودکار ہتھیاروں سمیت 39 مہلک ہتھیار برآمد ہوئے ہیں، پکڑے گئے شر پسندوں میں تین درجن سے زائد غیر ملکی اجرتی شامل ہیں،جیل وینز کو آگ لگانے کے ساتھ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی 11 گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا،پرتشدد مظاہروں کے دوران ابتدائی اندازوں کے مطابق سینکڑوں ملین کا نقصان ہوا ہے۔

    ان پر تشدد مظاہروں کی وجہ سے معیشت کو بالواسطہ نقصانات کا تخمینہ 192 ارب روپے یومیہ ہے، پاکستان بشمول خیبر پختونخواہ کے قابل فخر عوام اس قسم کی پرتشدد سیاست کو مسترد کرتے ہیں، عوام بے بنیاد الزامات اور بد نیتی پر مبنی پروپیگنڈہ کو بھی مسترد کرتے ہیں۔۔۔پوری پاکستانی قوم ملک میں امن و استحکام کی خواہش کے لئے اپنے اداروں کیساتھ یکجا کھڑی ہے۔

  • سیاسی استحکام یا تو بات چیت سے یا لاٹھی سے لانا پڑے گا ، بلاول

    سیاسی استحکام یا تو بات چیت سے یا لاٹھی سے لانا پڑے گا ، بلاول

    سکھر: پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ مسلم امہ میں شہید بی بی کی قیادت کو سب نے قبول کیا، پاکستانی تاریخ میں تمام سیاستدان ایک طرف اور محترمہ کی سیاسی تاریخ ایک طرف ہے۔

    باغی ٹی وی : سکھر میں پیپلز پارٹی کے 57ویں یوم تاسیس کے حوالے سے منعقدہ جلسے میں کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے بلا و ل بھٹو نے کہا کہ پی پی کے یوم تاسیس پر بیک وقت پاکستان کے 150 علاقوں سے مخاطب ہوں، تمام اضلاع، چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سے بھی براہ راست خطاب کررہا ہوں، پیپلز پارٹی کی پوری جدوجہد عوام کے سامنے ہے، ہمارا سفر ذوالفقارعلی بھٹو سے شروع ہوا، ذوالفقار علی بھٹو نے ملک میں جمہوریت کی بنیاد رکھی، قائدِ عوام ذوالفقار بھٹو نے ملک کو آئین دیا، ذوالفقار بھٹو نے روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ لگایا، ذوالفقار بھٹو نے پاکستان کو ایٹمی پروگرام دلوایا۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ بے نظیر بھٹو نے تمام تر سازشوں کا مقابلہ کیا، بےنظیر بھٹو عوام کے تعاون سے پہلی خاتون وزیراعظم بنیں، بےنظیر بھٹو پاکستان کے غریب عوام کی نمائندہ تھیں، بےنظیر کی پالیسیوں سے غریب عوام کو فائدہ ہوتا تھا، مشہور تھا کہ بےنظیر آئے گی روزگار لائے گی، بےنظیر بھٹو نے ایک نہیں دو آمروں کا مقابلہ کیا، بےنظیر بھٹو نے بہادری سے آمریت کا مقابلہ کیا، بےنظیر دہشت گردوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر للکارتی تھیں، بےنظیر بھٹو دہشتگردوں سے ڈر کر بھاگ سکتی تھیں، لیکن شہید بےنظیر بھٹو ایک حملے کے باوجود عوام کے درمیان رہیں، اگر محترمہ شہید نہ ہوتیں تو وہ تیسری مرتبہ بھی وزیر اعظم ہوتیں، محترمہ بے نظیر بھٹو نے ہمیشہ روزگار کی اور عوام کی بات کی، مسلم امہ میں شہید بی بی کی قیادت کو سب نے قبول کیا، پاکستانی تاریخ میں تمام سیاستدان ایک طرف اور محترمہ کی سیاسی تاریخ ایک طرف ہے۔

    انہوں نے کہا کہ کچھ لوگوں کی سوچ تھی کہ بے نظیر کی شہادت کے بعد پیپلزپارٹی ختم ہوجائے گی مگر پھر صدر زرداری کی قیادت میں پیپلزپارٹی متحد ہوئی اور پھر ہم نے وہ کامیابیاں حاصل کیں جو ماضی میں نہیں کرسکے تھے، اٹھارہویں ترمیم منظور کروا کے ہم نے بے نظیر کی دیرینہ خواہش پوری کی اور وعدہ پورا کیا، صوبوں کو حقوق دیے، این ایف سی ایوارڈ قائم کیا، یہ سارے خواب زرداری کی صدارت کے دوران ہوئے، زرداری نے پاکستان کو سی پیک جیسا تحفہ دیا، انہوں نے سرحد کو پختونخوا کا پروگرام دلوایا، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام شروع کر کے روٹی کپڑے اور مکان کے وعدے کو پورا کیا جس سے غربت کا مقابلہ کیا جارہا ہے جبکہ وسیلہ روزگار سے نوجوانوں کو روزگار فراہم کیا‘۔

    انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو توڑنے کے لئے کئی بار حملے کیے گئے، پی ٹی آئی کو جگہ دینے کیلئے پیپلز پارٹی کو توڑا گیا، پیپلز پارٹی کو سیاست سے دور کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن پیپلز پارٹی قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اب اہم ذمہ داریاں نبھا رہی ہے، غربت کا خاتمہ پیپلز پارٹی کی ترجیح ہے، پیپلز پارٹی نے ہر موقع پرعوام اور ملک کا سوچ کر فیصلے کیے، ہم ملک میں امن و امان اور بڑھتا ہوا روزگار دیکھنا چاہتے ہیں، ملک میں سب سے بڑا مسئلہ سیاسی عدم استحکام ہے، دہشتگردی اور معاشی بحران کے مقابلے کیلئے سیاسی استحکام ضروری ہے، لیکن سیاسی استحکام میں سب سے بڑی رکاوٹ اپوزیشن ہے، وہ نہ جمہوری اور نہ سیاسی اپوزیشن کررہے ہیں، کچھ جماعتیں سیاست کے دائرے میں رہ کرسیاست نہیں کررہیں، ملک میں سیاسی استحکام ضروری ہے، چاہے اس کے لیے حکومت اور اپوزیشن بات چیت کرے یا پھر لاٹھی کا استعمال کرنا ہو، 9 مئی کا حملہ سیاست کے دائرے میں نہیں آتا، اسلام آباد میں جو کچھ ہوا وہ سیاست کے دائرے میں نہیں آتا، ہمیں بطور سیاستدان سیاست کے دائرے میں آنا پڑے گا، سیاسی استحکام پیدا کرنا اور ریاست کو چلانا حکومت کی ذمہ داری ہے، حکومت کے ساتھ ساتھ اپوزیشن بھی ذمہ دار ہوتی ہے، غیرجمہوری اپوزیشن کرنے والے جمہوری کردار اپنائیں، غیر سیاسی اپوزیشن غیرجمہوری کردار ادا کر رہی ہے، غیر سیاسی اپوزیشن سیاسی رویے کی امید کیسے رکھ سکتی ہے؟

    انہوں نے کہا کہ پاکستان کے مسائل کے حل کیلئے تمام جماعتوں کو مل بیٹھ کر سیاسی استحکام قائم کرنا ہوگا، چاہے اس کے لیے بات چیت کرنی پڑے یا لاٹھی کی ضرورت ہو تاکہ ریاست کی رٹ بحال ہو اور معاشی صورت حال بھی بہتر ہو ہم ہمیشہ مذاکرات اور بات چیت کی بات کرتے ہیں مگر اپوزیشن سیاست جماعتوں سے نہیں اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات چاہتی ہے، اگر یہی طرز سیاست رہا تو پی ٹی آئی اور ملک دونوں کو نقصان ہوگا۔

    انہوں نے واضح کیا کہ پیپلزپارٹی ہمیشہ ملک اور عوام کے مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلہ کرے گی۔ بلاول نے کہا کہ ملک میں دہشت گردی کا مسئلہ بہت سنجیدہ ہے اور ہمیشہ پیپلزپارٹی نے اس معاملے پر آواز بلند کی اور اپنے دور میں اسٹیٹ کی رٹ بحال کی من و امان کے مسئلے پر سیاست کی جارہی ہے، جب ماضی میں ہم دہشت گردوں کو شکست دے سکتے ہیں تو پھر ایک بار پھر متحد ہوکر ملک سے دہشت گردوں کو شکست دے سکتے ہیں، ملک کے عوام کو زندگی کا تحفظ ضروری ہے۔

    انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے حالات بہت سنگین ہیں، امن و امان کی وجہ سے ایمرجنسی بحران پیدا ہوتا جارہا ہے، پارا چنار کے حالات کو سوشل میڈیا اور عالمی میڈیا دکھا رہا ہے، صوبائی حکومت رٹ بحال کرنے کے بجائے وفاق پر چڑھائی کررہا ہے وزیراعلیٰ آج بھی اسمبلی میں کھڑے ہو کر وفاق پر گولی چلانے کی دھمکی دے رہا ہے، ہم کب تک یہ برداشت کریں کہ پاکستان کے اصل مسائل کچھ اور ہیں، پختونخوا میں 100 سے زیادہ لاشیں موجود ہیں اور یہ اسلام آباد میں اپنی 100 لاشیں تلاش کررہے ہیں تاریخ میں کبھی اتنی غیرذمہ دارانہ صوبائی حکومت نہیں دیکھی، یہ صوبائی حکومت ذمہ داری ادا کرنے کیلئے تیار ہی نہیں ہے، ان کا ایک ہی کام ہے کہ اپنے لیڈر کو جیل سے نکلوانا ہے، مجھے امید ہے صوبائی حکومت اپنی غلطی کو تسلیم کر کے اب عوامی مسائل پر توجہ دے گی اور اب ہر دوسرے دن احتجاج کے نام پر انتشار پھیلائیں گے، احتجاج کا پاکستانی کا حق ہے، مگر قانون ہاتھ میں لینا اور لشکر کشی کی اجازت کسی صورت نہیں ہے۔

    بلاول نے کہا کہ ہمیں پاکستان کے مسائل میں اضافہ نہیں کرنا چاہئے، اپوزیشن کی یہی سیاست رہی تو ان کا اور ملک کا نقصان ہوگا، سیاسی جماعتوں کا کردار مثبت ہو تو مسائل حل ہوسکتے ہیں، پیپلز پارٹی مثبت سیاست پر یقین رکھتی ہے، پیپلز پارٹی عوام کے مفاد کو سامنے رکھ کر فیصلے کرتی ہےدہشت گردی کاخاتمہ ہم سب کی ذمہ داری ہے، عوام کے جان و مال کا تحفظ ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

    بلاول نے کہا کہ مجھے امید ہے صوبائی حکومت اپنی غلطی کو تسلیم کرکے اب عوامی مسائل پر توجہ دے گی اور اب ہر دوسرے دن احتجاج کے نام پر انتشار نہیں پھیلائے گی، احتجاج کا پاکستانی کا حق ہے، مگر قانون ہاتھ میں لینا اور لشکر کشی کی اجازت کسی صورت نہیں ہے حکومت کبھی نہیں چاہتی کہ کسی واقعے میں کوئی شہری کی جان جائے، ہمیں امید ہے کہ وفاق اور صوبائی حکومت ملکی مفاد کیلئے اپنا کردار ادا کریں گے، ہمیں مل کر دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کیلئے نیشنل ایکشن پلان 2.0 لانا پڑے گا اور ایک متفقہ فیصلہ کرنا ہوگا۔

    انہوں نے کہا کہ ہمیں دہشت گردوں یا ناراض لوگوں کو انگیج کرنے کے لیے بھی پالیسی بنانی ہوگی، ہمیشہ منصوبہ بندی کے ذریعے ہی دہشت گردی کو شکست دی جاسکتی ہے کسانوں کا معاشی قتل عوام کے معاشی قتل کے مترادف ہوگا، زراعت کی ترقی سے ملک ترقی کرتا ہے، ہم زراعت کے ذریعے ملکی برآمدات میں اضافہ کریں گے، زراعت کے زریعے ملک میں معاشی انقلاب لایا جاسکتا ہے پانی کے معاملے پر عوام کا ردعمل بہت زور سے آئے گا، پانی کی غیرمنصفانہ تقسیم سے مسائل بڑھیں گےملک میں آئی ٹی کا شعبہ بھی بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے، پوری دنیا کا مستقبل آئی ٹی شعبے سے جڑا ہوا ہے، حکومت کو آئی ٹی سے متعلق پالیسی پر نظرثانی کرنی چاہئیے۔

  • سیکیورٹی اہلکاروں پر بے رحمانہ تشدد کرنے والوں کو نہیں چھوڑیں گے،مریم نواز

    سیکیورٹی اہلکاروں پر بے رحمانہ تشدد کرنے والوں کو نہیں چھوڑیں گے،مریم نواز

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی اہلکاروں پر بے رحمانہ تشدد کرنے والوں کو نہیں چھوڑیں گے۔

    باغی ٹی وی : وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے ایم ایچ راولپنڈی کا دورہ کیا ، وزیرا علیٰ پنجاب نے پرتشدد احتجاج میں رینجرز اور پولیس کے زخمی اہلکاروں کی عیادت کی اور ان کی فرض شناسی کی تعریف بھی کی، وزیراعلیٰ پنجاب کو زخمی اہلکاروں نے احتجاج کے دوران تشدد کے بارے میں بتایا-

    ایک زخمی اہلکار نے کہا کہ مظاہرین کے تشدد سے بیشتر پولیس اہلکاروں کی ہڈیاں ٹوٹ گئیں،مظاہرین کے بے رحمانہ تشدد سے اہلکار کی کھوپڑی بھی بری طرح متاثر ہوئی ،مظاہرین نے کیل والے ڈنڈوں سے تشدد کا نشانہ بنایا۔

    https://x.com/PTVNewsOfficial/status/1862840678159360429

    اس موقع پر مریم نواز نے کہا کہ شرپسند جماعت پی ٹی آئی نے ملک کی ترقی روکنے کیلئے انتشار کا راستہ اپنایا، رینجرز اور پولیس اہلکار قوم کے بیٹے ہیں، ہمیں ان پر فخر ہے،ریاستی اداروں، املاک اور سیکیورٹی اہلکاروں پرحملے قابل مذمت ہیں، سیکیورٹی اہلکاروں پر بے رحمانہ تشدد کرنے والوں کو نہیں چھوڑیں گے۔

  • ہمیں دو ہزار  دے کر یہاں باندھ دیا، خود بھاگ گئے،افغان شرپسندوں کا اعتراف جرم

    ہمیں دو ہزار دے کر یہاں باندھ دیا، خود بھاگ گئے،افغان شرپسندوں کا اعتراف جرم

    پی ٹی آئی کے اجرت یافتہ غیر قانونی افغانیوں نےاعتراف جرم کر لیا

    پی ٹی آئی کے احتجاج کے دوران غیر قانونی افغانیوں کی موجودگی کے شواہد سامنے آگئے ،غیر قانونی افغان باشندوں کو پیسے دے کر احتجاج میں شرانگیزی کے لئے لایا گیا،گرفتار شدہ غیر قانونی افغان شرپسند وں کے بیان سامنے آ گئے، شرپسند بیت اللہ کا کہنا تھا کہ میرا تعلق افغانستان سے ہے ہمارے لوگ پولیس اور رینجرز کے اہلکاروں پر فائرنگ کر رہے تھے،ابرار الحق کا کہنا تھا کہ میرا تعلق افغانستان سے ہے، علی امین گنڈا پور دو تین ہزار کی لالچ دیکر لایا اور فائرنگ کروائی،ہماری فائرنگ سے اسلام آباد پولیس کے اہلکار زخمی ہوئے،میری ڈیوٹی ایک گاڑی کیساتھ تھی جس میں اسلحہ پہنچایا جارہا تھا،شرپسند امان خان کا کہنا تھا کہ میرا تعلق افغانستان کے صوبے قندھار سے ہے،میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ پی ٹی آئی کے کارکن فائرنگ کررہے تھے،پرویز خان کا کہنا تھا کہ ہمیں دو ہزار روپے دے کر یہاں باندھ دیا اور خود بھاگ گئے،یا اللہ ہمارے پردے رکھ، میں غریب اور عاجز ہوں،
    پرویز خان ،

    شرپسند فضل حق کا کہنا تھا کہ میرا تعلق افغانستان کے صوبے قندوز سے ہے، میری ڈیوٹی ایک گاڑی کے ساتھ تھی،درحقیقت اس میں پی ٹی آئی کے کارکن اسلحہ لیکر جا رہے تھے،اس گاڑی سے 25 سے 30 کلاشنکوفیں لوگوں میں تقسیم کی گئیں،

  • صاحبزادہ حامد رضا نے استعفیٰ کیوں دیا؟کھرا سچ میں اہم انکشافات

    صاحبزادہ حامد رضا نے استعفیٰ کیوں دیا؟کھرا سچ میں اہم انکشافات

    سنی اتحاد کونسل کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا نے کہا ہے کہ میرا ایک بیٹا ہے اسکو مشورہ ہو گا کہ وہ سیاست سے دور رہے میں بھگت رہا ہوں

    نجی ٹی وی 365 نیوز کے پروگرام کھرا سچ میں اینکر پرسن مبشر لقمان نے سنی اتحاد کونسل کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ دل پر ہاتھ رکھ کر آپ نے سچ بولنا ہے آج سیاستدان کے طور پر نہیں، ایک خانقاہ کے حساب سے سچ بولنا ہے، یہ تو نہیں ہو سکتا کہ آپ کے والد کو جیل میں ڈالا ہو اور آپ احتجاج میں نہ ہوں، بشریٰ ، عمران کے بچے احتجاج میں نہیں آتے، کبھی تو آپ سوچتے ہوں گے کہ یہ کیا ہو رہا ہے

    صاحبزادہ حامد رضا کا کہنا تھا کہ میں دل پر ہاتھ رکھ کر ایمانداری سے کہہ رہا ہوں بہت سارے سیاستدان پاکستان میں ایسے ہیں جن کے بچے سیاست میں نہیں، میں نے ایسا کبھی نہیں سوچا، میرا اپنا بیٹا سیاست میں آنا نہیں چاہتا، میں جہاں پھنس بیٹھا ہوں میں نے آگے چلنا ہے،ہم چار بھائی تھے، میں اب خمیازہ بھگت رہا ہوں، میرا ایک بیٹا ہے اسکو مشورہ ہو گا کہ وہ دور رہے میں بھگت رہا ہوں، میرا بیٹا لندن نہیں جائے گا،میں کسی اور کے بارے میں جواب دہ نہیں ہوں ،خان کی بیوی نہیں آ رہی تھی تو ایشو تھا وہ آ گئیں تو ایشو، خان کی بہنوں نے،بیوی نے جیل کاٹ لی،ہم ایسی قوم ہیں جو کسی بات پر راضی نہیں ہوتیں، مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ وہ دونوں جھوٹ بول رہی ہیں، سچ بولیں تو ہم راضی ہیں.

    مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ آپ پی ٹی آئی کے نہیں تو جوابدہ نہیں، اگلی احتجاج کی کوئی کال آ رہی، جس پر حامد رضا کا کہنا تھا کہ ابھی تک نہیں لیکن حکمت عملی پر بات ہوئی ہے، اگلے چند دنوں میں پرپوزل کی خان سے لی جائے گی، مبشر لقمان نے سوال کیا کہ بانی گنڈا پور سے ناراض ہیں ہو سکتا ہے کہ وزیراعلیٰ کسی اور کو بنایا جائے جس پر حامد رضا کا کہنا تھا کہ میری آخری ملاقات ہوئی اس وقت تو عمران گنڈا پور پر مطمئن تھے،

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پنجاب سے لوگ کیوں نہیں نکلے، جس پر حامد رضا کا کہنا تھا کہ پنجاب میں اراکین کے ساتھ جو سلوک کیا گیا، بہت ساروں کی تو فیملیاں بھی سائیکو پیشنٹ بن گئیں، واش روم کے بیسن تک توڑ دیئے گئے پورا پنجاب بلاک تھا، 24 تاریخ کو شدید شیلنگ ہم پر کی گئی، میں بھی جلوس لے کر نکلا تھا، میں‌27 گھنٹوں میں اسلام آباد پہنچا، راستے بند تھے،ہم مختلف راستوں سے گئے،ہمارے ساتھ فیصل آباد کے تمام ایم این ایز تھے، مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ علی امین 12 ضلعے کراس کر کے پہنچا تھا آپ نے تو زیادہ کر لئے، آپ کی بات پر مجھے اعتبار ہے، علی امین کی بات پر اعتبار نہیں، مجھے نہیں آدھی سے زیادہ تحریک انصاف کو گنڈا پور پر اعتبار نہیں، حامد رضا کا کہنا تھاکہ کچھ چیزیں ایسی ہوئی ہیں جو نہیں ہونی چاہئے تھی، میں نے زندگی میں اتنا برا سفر نہیں کیا جتنا اس دن کیا،مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ آپ نے حماد اظہر سےپوچھنا تھا وہ آرام سے ہشاش بشاش آتا ہے اور چلا جاتا ہے،

    حامد رضا کا کہنا تھا کہ سیٹ میں نے عمران خان کے ساتھ جیتی وہ امانت ہے،میں اس وقت ضمانتیں کروا رہا ہوں، مختلف مقدمے 24 کو درج ہوئے، ریاست ہمیں دہشت گرد یا غدار ثابت کرنا چاہتی ہے جن مقدموں کا پتہ چلتا ہے ضمانتوں میں مصروف ہو جاتے ہیں،میرا استعفیٰ سیاسی اور کور کمیٹی کا ہے،میں نے سیدھی سادھی بات، سیاست کی ہے، تنقید کی جا رہی تھی کہ پنجاب سے لوگ نہیں نکلے، ہم اسلام آباد پہنچے پھر بھی تنقید کی گئی میں نے سوچا سب کا احتساب ہونا چاہئے اسلیے استعفیٰ دیا، گروپنگ پارٹیوں میں ہوتی ہے، میں پی ٹی آئی کا اتحادی ہوں، قومی اسمبلی کا استعفیٰ عمران خان کو دوں گا، جس طرح حکومت نے 24 تاریخ کو سلوک کیا، مارا گیا، سیٹ میں نے عمران کی وجہ سے جیتی وہ قبول کرتے ہیں یا نہیں دیکھتے ہیں،مبشر لقمان کا کہنا تھاکہ پی ٹی آئی حکومت نے تحریک لبیک کے لوگوں کو مارا تھا اور ان کو را کا ایجنٹ کہا تھا اس وقت میں نے کہا تھا کہ انکو کہیں ایسا نہ کریں یہ کبھی نہ کبھی اللہ ان کو دکھا دے گا، جس پر حامد رضا کا کہنا تھا کہ میں اس وقت پی ٹی آئی کے ساتھ نہیں تھا، میں ایمان اور مذہب کے بارے میں بڑا کلیئر ہوں، میں نے ہی اس وقت سہولت کاری کی تھی،

  • 9مئی ،سازش زمان پارک میں تیار کی گئی،عمران کی ضمانت مسترد،تحریری فیصلہ

    9مئی ،سازش زمان پارک میں تیار کی گئی،عمران کی ضمانت مسترد،تحریری فیصلہ

    انسداد دہشتگری عدالت لاہور ،بانی پی ٹی آئی کی نو مئی کے آٹھ مقدمات میں ضمانتیں مسترد کرنے کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا گیا

    اے ٹی سی جج منظر علی گل نے 6 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کر دیا ، تحریری فیصلہ میں عدالت نے کہا کہ زمان پارک میں تیار کی گئی سازش کی گواہان کے بیانات بھی ریکارڈ پر موجود ہیں، پراسکیوشن کے پاس بانی پی ٹی آئی کی اشتعال انگیزی کے ہدایات کے آڈیو اور بصری ثبوت موجود ہیں،بانی پی ٹی آئی پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنی ممکنہ گرفتاری کے حوالے سے ایک سازش تیار کی، الزام کے مطابق، سازش تیار کی گئی کہ گرفتاری کی صورت میں دیگر قیادت ریاستی مشینری کو جام کردے،بانی پی ٹی آئی کے وکیل نے دلائل دیے کہ وقوعے کے وقت بانی پی ٹی آئی گرفتار تھے، پراسیکیوشن کیس ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے گرفتاری سے قبل سازش تیار کی، وکیل بانی پی ٹی آئی کی دلیل میں وزن نہیں کہ بانی پی ٹی آئی وقوعے کے وقت گرفتار تھے، وکیل بانی پی ٹی آئی نے دلائل دیے کہ بانی پی ٹی آئی کے مختلف کیسسز میں ضمانتیں بعد از گرفتاری ہو چکی ہیں، ہر کیس کا فیصلہ ُاس کیس کے اپنے میرٹس پر ہونا چاہیے، موجودہ کیس سازش یا اشتعال انگیزی پر اکسانے کا کوئی معمولی کیس نہیں ہے، پراسکیوشن کا کیس ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے ملٹری تنصیبات پر حملوں کی ہدایت کی اور سازش تیار کی،بانی پی ٹی آئی کی ہدایت پر ناصرف لیڈران بلکہ ان کے کارکنان اور حمایتیوں نے سختی سے عمل کیا،لاہور ہائیکورٹ نے اعجاز چودھری کی ضمانت کے فیصلے میں سازش کے حوالے سے بانی پی ٹی آئی کے کردار پر بحث کی ہے، وکیل بانی پی ٹی آئی نے اعتراض اٹھایا کہ مبینہ سازش کی کوئی تاریخ، وقت اور جگہ متعین نہیں،پراسیکیوشن کے مطابق، زمان پارک میں 7 مئی اور 9 مئی کو اس سازش کو تیار کیا گیا، پراسکیوشن کے مطابق، خفیہ پولیس اہلکاروں نے خود کو پی ٹی آئی ورکرز ظاہر کرتے ہوئے اس سازش کو سنا تھا، انسداد دہشتگری عدالت لاہور بانی پی ٹی آئی کو قصور وار قرار پاتی ہے، بانی پی ٹی آئی کوئی معمولی آدمی نہیں، ان کی ہدایات اور بیانات کی ان کے حامیوں کی نظر میں ایک قدر ہے، پی ٹی آئی کی دیگر قیادت نے بانی پی ٹی آئی کی ہدایات کو مسترد کرنے کا سوچا تک نہیں، پولیس کے مطابق، 11 مئی کو پولیس اہلکار پر تشدد سمیت ایسے بہت سے واقعات رونما ہوئے،پولیس کے مطابق، تمام واقعات میں ملٹری تنصیبات، سرکاری اداروں اور پولیس اہلکاروں پر حملے کیے گئے،بانی پی ٹی آئی کی ضمانتیں خارج کی جاتیں ہیں،

  • وفاق میں ہمت ہےتو  گورنر راج لگا کر دکھائے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا

    وفاق میں ہمت ہےتو گورنر راج لگا کر دکھائے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے کہا ہے کہ وہ وفاق کی جانب سے صوبے میں گورنر راج لگائے جانے سے ڈرتے نہیں ہیں، وفاق میں ہمت ہے تو لگا کر دکھائے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کرسی نہیں عزت اور خودداری چاہیے، اپنے حق کےلئے پرامن طریقے سے جدوجہد کرتے رہیں گے۔ ہمت ہے تو خیبر پختونخوا میں گورنر راج لگا کر دکھائیں، ہم گورنر راج سے نہیں ڈرتے۔واضح رہے کہ علی امین گنڈاپور کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کہ کچھ دیر قبل وزیراعظم کے مشیر برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک نے کہا تھا کہ حکومت سمجھتی ہے کہ گورنر راج لگانا مناسب اقدام ہوگا اور کچھ عرصے کے لیے خیبرپختونخوا میں گورنر راج لگانے پر غور کیا جا رہا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف خیبر پختونخوا میں گورنر راج پر کلیئر ہیں، وفاقی کابینہ کے اراکین کی اکثریت گورنر راج کی حامی ہے۔بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ کچھ عرصے کے لیے گورنر راج لگانے پر غور کر رہے ہیں، پہلی کوشش ہے کہ صوبائی اسمبلی میں قرارداد لائی جائے۔ہ اسمبلی میں قرارداد نہیں آتی تو دوسرا راستہ بھی ہے، وزیراعظم کی ایڈوائس پر صدر گورنر راج لگاسکتے ہیں اور یہ معاملہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں لایا جاسکتا ہے۔وزیراعظم کے مشیر برائے قانون نے مزید کہا کہ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 10 روز میں بلایا جا سکتا ہے۔واضح رہے کہ 5 اکتوبر کو گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے صوبے میں گورنر راج لگائے جانے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ معاملات حد سے بڑھ گئے تو گورنر راج لگانے میں کوئی قباحت نہیں ہے۔جو چیز آئین میں موجود ہو (گورنر رول) اس کا آپشن ضرور موجود ہوتا ہے، گورنر رول ماضی میں لگائے گئے ہیں، جب مرض لاعلاج ہوجاتا ہے تو نہ چاہتے ہوئے بھی فیصلہ کرنا پڑتا ہے۔یاد رہے کہ 24 نومبر کو سابق وزیر اعظم عمران خان کی رہائی اور دیگر مطالبات کی منظوری کے لیے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا مرکزی قافلہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں اسلام آباد جانے کے لیے نکلا تھا۔تاہم، 26 نومبر کو رات گئے رینجرز اور پولیس نے اسلام آباد کے ڈی چوک سے جناح ایونیو تک کے علاقے کو پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) کے کارکنوں سے مکمل طور پر خالی کرالیا تھا اور متعدد مظاہرین کو گرفتار کرلیا تھا۔اگلے روز وزیراعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ ملک میں انتشار پھیلانے کے لیے اسلام آباد پر لشکر کشی کی گئی، اس کا مقصد ملکی استحکام کو تباہ کرنا تھا۔شہباز شریف نے مزید کہا تھا کہ اسلام آباد پر لشکر کشی کرنے والے شرپسند ٹولے کے خلاف فوری قانونی چارہ جوئی کی جائے، استغاثہ کے نظام میں مزید بہتری لاکر شرپسند عناصر کی فوری شناخت کی جائے اور انہیں قرار واقعی سزا دلوائی جائے۔آج وزیر اعظم شہباز شریف نے مستقبل میں شرپسندوں کی اسلام آباد میں آمد کو روکنے، گزشتہ دنوں وفاقی دارالحکومت میں انتشار و فساد پھیلانے والوں کی نشاندہی، ان کے خلاف مؤثر کارروائی کے لیے وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی سربراہی میں ٹاسک فورس قائم کر دی ہے۔

    پی ٹی آئی شرپسندوں کا پولیس سے زبردستی نعرے لگوانے کا قابل مذمت واقعہ

    انڈونیشیا اور ملائیشیا میں سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ، 30 افراد جاں بحق

    پی ٹی آئی پر پابندی ،قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع

    الیکشن ایکٹ ،لاپتہ افراد ،آئی پی پیز ،قرضے معافی ،درخواستیں سماعت کیلیے مقرر

    پیپلزپارٹی گورنر راج ،پارٹی پر پابندی کے حق میں نہیں، وزیراعلیٰ سندھ

  • الیکشن ایکٹ ،لاپتہ افراد ،آئی پی پیز ،قرضے معافی ،درخواستیں سماعت کیلیے مقرر

    الیکشن ایکٹ ،لاپتہ افراد ،آئی پی پیز ،قرضے معافی ،درخواستیں سماعت کیلیے مقرر

    سپریم کورٹ میں الیکشن ایکٹ 2024 میں ترمیم، لاپتہ افراد کی بازیابی، آئی پی پیز معاہدے اور قرضوں کی معافی کے خلاف دائر درخواستیں آئینی بینچ میں سماعت کے لیے مقرر کردی گئیں۔

    باغی ٹی وی کے مطابق سپریم کورٹ میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر، رکن پاکستان بار اشتیاق احمد کی جانب سے مخصوص نشستوں کی الاٹمنٹ کے طریقہ کار میں تبدیلی کے معاملے پر الیکشن ایکٹ 2024 میں ترمیم کے خلاف دائر کی گئی ہیں اور مذکورہ درخواستیں 4 دسمبر کو سماعت کے لیے مقرر کردی گئی ہیں۔جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا چھ رکنی آئینی بنچ ان درخواستوں پر سماعت کرے گا، بینچ میں جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس نعیم اختر افغان شامل ہیں۔سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس نے مذکورہ درخواستوں پر اعتراضات عائد کر رکھے ہیں تاہم آئینی بینچ نے درخواستیں اور اعتراضات کے خلاف اپیلیں ایک ساتھ سماعت کے لیے مقرر کر دی ہیں ۔یاد رہے کہ الیکشن ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں مخصوص نشستوں کی الاٹمنٹ کا طریقہ کار تبدیل کردیا گیا تھا۔الیکشن ترمیمی ایکٹ کے تحت ترجیحی فہرستیں جمع کرانے اور سیاسی وابستگی برقرار رکھنے والے ہی مخصوص نشستوں کے حق دار ہیں۔پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے حکومتی اتحاد کی جانب سے کی گئی اس ترمیم کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کردی تھی۔دوسری جانب آئینی بینچ نے پی ٹی آئی کی تارکین وطن کو ووٹ کو حق دینے کی درخواست سماعت کے لیے مقرر کردی، جسٹس امین الدین خان سربراہی میں چھ رکنی آئینی بینچ دو دسمبر کو سماعت کرے گا۔ رجسٹرار آفس نے فریقین کو نوٹسز جاری کردیے گئے،اسی طرح سپریم کورٹ میں آڈیوز لیک کیس دو دسمبر کو آئینی بینچ میں سماعت کے لیے مقرر کردیا گیا، جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں چھ رکنی آئینی بینچ 2 دسمبر کو سماعت کرے گا، رجسٹرار آفس نے بانی تحریک انصاف اور دیگر فریقین کو نوٹسز جاری کردیئے۔

    کنٹینر سے گرنے والاشخص زندہ ، پی ٹی آئی پروپیگنڈا بے نقاب، ماں کے انکشافات

    عالمی برادری فلسطینیوں کی نسل کشی روکنے کیلئے اقدامات کرے، آصف زرداری

    شرجیل میمن کا یوم تاسیس پر پیپلز پارٹی کی قربانیوں کا اعتراف
    سڑکوں ،موٹرویز کی بندش کیخلاف درخواست نمٹا دی گئی

    چینی شہریوں پر حملہ، تفتیش کے لیے جے آئی ٹی تشکیل

  • کنٹینر سے گرنے والاشخص زندہ ، پی ٹی آئی پروپیگنڈا بے نقاب، ماں کے انکشافات

    کنٹینر سے گرنے والاشخص زندہ ، پی ٹی آئی پروپیگنڈا بے نقاب، ماں کے انکشافات

    کنٹینر سے گرنے والے شر پسند طاہر عباس سے متعلق پی ٹی آئی کا جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب ہوگیا۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا پر گردش کرتی ویڈیو کے ذریعے پی ٹی آئی نے بے بنیاد پروپیگنڈا شروع کیا،ویڈیو میں ایک شخص کو کنٹینر سے گرتا دیکھا جا سکتا ہے بعدازاں ویڈیو کو بنیاد بنا کرشرپسند شخص کی موت کا جعلی پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے،سیکیورٹی ذرائع کےمطابق مذکورہ شخص زندہ ہے جبکہ موت سے متعلق حقائق اس کے برعکس ہیں،کنٹینر سے گرنے والے شخص کی شناخت طاہر عباس کے نام سے کر لی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ 38 سالہ ٰطاہر عباس ولد فیض احمد تحصیل پھالیہ ضلع منڈی بہاؤالدین کا رہائشی ہے,طاہر عباس کے رشتہ داروں کےمطابق وہ زخمی ہے اور ہسپتال سے ابتدائی علاج کے بعد راولپنڈی میں بہنوئی کے گھرپرہےتکنیکی تحقیقات کے مطابق”طاہر عباس نے اپنا فون بند کر رکھا تھا اور اپنے موبائل فون میں کسی اور کا نمبر استعمال کر رہا تھا،موبائل کے آئی ایم ای آئی نمبر کو ٹریس کرنے پر معلوم ہوا کہ وہ اس وقت راولپنڈی میں ہے ۔طاہر عباس کاشتکار ی کے ساتھ ساتھ لوگوں کو بیرون ملک بھیجنے کے لئے بطور ایجنٹ کام کرتا ہے طاہر عباس ویزوں کی غرض سے 21نومبر 2024 کو اسلام آباد آیا،مذکورہ شخص بعدازاں اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے احتجاج میں شریک ہو گیا.تحقیقات سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ” مذکورہ شخص پی ٹی آئی کا کارکن اور پی پی 41سے پی ٹی آئی کی ایم پی اے بسمہ ریاض چوہدری سے وابستہ ہے۔طاہر عباس پہلے پیپلز پارٹی کا ورکر تھا لیکن بعد میں پی ٹی آئی کا حمایتی بن گیا۔طاہر عباس اس وقت راولپنڈی میں اپنے بہنوئی کے ساتھ رہائش پزیر ہے جس بارے میں پتہ چلایا جا رہا ہے۔دوسری جانب نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے طاہر عباس کی ماں کا کہنا تھا کہ بیٹے کو اسلام آباد جانے سے منع کیا لیکن وہ ضروری کام کا اصرار کرے چلا گیا جس کے بعد ایک دفعہ فون کرکے بتایا کہ میں خیریت سےہوں تھوڑی چوٹ لگی ہے جلدی ٹھیک ہو جاوں گا .

    سپریم کورٹ نے ہزاروں مقدمات نمٹا دیئے

    عالمی برادری فلسطینیوں کی نسل کشی روکنے کیلئے اقدامات کرے، آصف زرداری

    چینی شہریوں پر حملہ، تفتیش کے لیے جے آئی ٹی تشکیل

  • عالمی برادری فلسطینیوں کی نسل کشی روکنے کیلئے  اقدامات کرے، آصف زرداری

    عالمی برادری فلسطینیوں کی نسل کشی روکنے کیلئے اقدامات کرے، آصف زرداری

    صدر مملکت آصف علی زرداری نے فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کے عالمی دن پر پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری فلسطینیوں کی نسل کشی روکنے کیلئے فیصلہ کن اقدامات کرے۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابق صدر مملکت نے کہا کہ فلسطینیوں کے حق ِخودارادیت کیلئے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اظہار کرتے ہیں،پاکستان 1967ء سے قبل کی سرحدوں کے مطابق آزاد، پائیدار اور متصل فلسطینی ریاست کے قیام کا حامی ہے ،آزادی، وقار اور انصاف کیلئے فلسطینی عوام کی جائز جدوجہد میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں،عالمی ضمیر فلسطین میں لاکھوں لوگوں کی حالت زار نظر انداز نہیں کر سکتا ۔ صدر مملکت نے کہا کہ اسرائیلی قبضہ ، عالمی قوانین کی مسلسل بے توقیری خطے میں قیام ِامن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے،عالمی برادری اور سلامتی کونسل غزہ میں فوری اور غیر مشروط جنگ بندی کیلئے اقدامات کرے،عالمی برادری اسرائیل کو اس کے اقدامات پر جوابدہ ٹھہرائے، اسرائیلی اقدامات کو عالمی عدالت انصاف نے بجا طور پر قرین ِقیاس نسل کشی قرار دیا ۔ اسرائیل اور اس کی قیادت کے احتساب کے تمام اقدامات کا خیرمقدم کرتے ہیں ، اسرائیلی فوجی مہم مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں نسل کشی، بنیادی ڈھانچے اور رہائشی علاقوں کی تباہی، نقل مکانی کا باعث ہے، گزشتہ سال میں اسرائیلی اقدامات کی وجہ سے بچوں اور خواتین سمیت 45 ہزار سے زائد فلسطینی اپنی جانیں کھو چکے ۔اسرائیل اقوامِ متحدہ اور دیگر امدادی ایجنسیوں کے کام میں رکاوٹیں ڈال رہا ہے،اسرائیل جان بوجھ کر لاکھوں فلسطینیوں کو ضروری انسانی امداد سے محروم کر رہا ہے،اسرائیلی دیدہ دلیری ، خطے کے ممالک کے خلاف مسلسل جارحیت پورے خطے کے امن و استحکام کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اسرائیل کی جارحانہ کارروائیوں کی شدید مذمت کرتا ہے ، پاکستان فلسطینیوں کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت کے حصول کیلئے حمایت جاری رکھے گا۔

    چینی شہریوں پر حملہ، تفتیش کے لیے جے آئی ٹی تشکیل

    پیپلزپارٹی گورنر راج ،پارٹی پر پابندی کے حق میں نہیں، وزیراعلیٰ سندھ

    بشریٰ بی بی کی سیاسی انٹری نئی نہیں،عمران خان کی بہن پھٹ پڑی

    ڈالر کی قدر میں معمولی اضافہ