Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • چیف جسٹس کے بغیر  جسٹس منیب اختر چمبر میں میٹنگ،منٹس منظر عام پر

    چیف جسٹس کے بغیر جسٹس منیب اختر چمبر میں میٹنگ،منٹس منظر عام پر

    جسٹس منصور علی شاہ جسٹس منیب اختر کی پریکٹس پروسیجر کمیٹی میٹنگ کے منٹس منظر عام پر آگئے

    دستاویز کے مطابق چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کے بغیر ججز میٹنگ جسٹس منیب اختر چمبر میں ہوئی، چیف جسٹس آفریدی نے مطلع کرنے کے باوجود کمیٹی کا اجلاس نہیں بلایا،معاملہ فوری نوعیت کا ہونے کیوجہ سے جسٹس منیب اختر چمبر میں کمیٹی کا اجلاس بلایا گیا،ججز کمیٹی اجلاس میں 26 آئینی کیخلاف درخواستیں 4 نومبر کو لگانے کا فیصلہ ہوا، 26 آئینی ترمیم کیخلاف درخواستوں پر فل کورٹ سماعت کریگا، کمیٹی نے درخواستوں پر اکثریت سے سماعت مقرر کرنے کا فیصلہ کیا،

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے 2 سینئر ترین ججز جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر نے 26 ویں آئینی ترمیم پر فل کورٹ بینچ کے لیے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کو خط لکھا تھا،سپریم کورٹ کے 2 سینئر ججز جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر نے چیف جسٹس کو مشترکہ خط لکھا خط میں کہا گیا کہ 31 اکتوبر کو آپ سے پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی اجلاس بلانے کی درخواست کی، اجلاس میں 26 آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں کو مقرر کرنے پر غور کرنا تھا، 4 نومبر کو آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں کی سماعت مقرر کرنے کا حکم دیا فیصلے سے متعلق رجسڑار آفس کو آگاہ کردیا گیا، جس پر عمل درآمد لازمی ہے، انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہا ہے فل کورٹ سماعت کی کازلسٹ جاری نہیں ہوئی، کمیٹی اجلاس کا فیصلہ اب بھی برقرار ہے، جس پر عمل درآمد لازمی ہے۔

  • قومی سلامتی ،عدالتی نظام میں بہتری کیلئے حکومت کے شانداراصلاحاتی فیصلے

    قومی سلامتی ،عدالتی نظام میں بہتری کیلئے حکومت کے شانداراصلاحاتی فیصلے

    قومی سلامتی اور عدالتی نظام میں بہتری: حکومت کے اصلاحاتی فیصلے قابلِ تحسین

    حکومت کی جانب سے آرمی ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے سروسز چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع ایک دانشمندانہ قدم ہے جو قومی سلامتی اور خطے میں استحکام کے لیے نہایت اہم ثابت ہوگا۔ کسی بھی سروسز چیف کو اپنی پالیسیوں کے موثر نفاذ اور پچھلی حکمت عملیوں کے نتائج کو جانچنے کے لیے مناسب وقت درکار ہوتا ہے۔ 3 سال کی مختصر مدت میں اہم پالیسیوں کو کامیابی سے آگے بڑھانا مشکل ہے۔ خاص طور پر خطے کی بگڑتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال اور پاکستان کو درپیش چیلنجز کے پیش نظر ضروری ہے کہ سروسز چیف کی مدت طویل ہو، تاکہ ملک کی اندرونی و بیرونی سیکیورٹی کو بہتر طریقے سے سنبھالا جا سکے۔

    اسی طرح، سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد کو 17 سے بڑھا کر 34 کرنے کا اقدام بھی قابلِ تحسین ہے۔ پاکستانی عدالتوں میں کیسز کی بھرمار ہے، اور ججز کی کم تعداد کی وجہ سے انصاف کی فراہمی میں غیر معمولی تاخیر ہو رہی ہے۔ ججز کی تعداد میں اضافہ انصاف کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرے گا، اور عام شہریوں کے لیے فوری انصاف کا حصول ممکن بنائے گا۔

    یہ دونوں اقدامات نہ صرف ملکی استحکام بلکہ عوامی فلاح اور قانونی نظام کی مضبوطی کے لیے اہم سنگِ میل ہیں۔ ان اقدامات سے پاکستان کی سیکیورٹی اور عدالتی نظام میں مثبت تبدیلیاں آئیں گی، اور ملکی ترقی کی راہ ہموار ہوگی

    آرمی ایکٹ بل، مختلف ممالک میں سروسز چیفس کی مدت ملازمت کا دورانیہ

    سروسز چیف کی مدت ملازمت تین سے پانچ سال بڑھانے کا خوش آئند فیصلہ

  • سروسز چیف کی مدت ملازمت  تین سے پانچ سال بڑھانے کا خوش آئند فیصلہ

    سروسز چیف کی مدت ملازمت تین سے پانچ سال بڑھانے کا خوش آئند فیصلہ

    آرمی ایکٹ میں ترمیم لا کر سروسز چیف کی مدت ملازمت کو تین سے پانچ سال بڑھانے کا خوش آئند فیصلہ ہے

    آرمی ایکٹ کے مطابق سروسز چیف کی مَدت ملازمت تین سال مقرر تھی جسکو قومی اسمبلی میں با ذریعہ ترمیمی بل تین سال سے بڑھا کر پانچ سال کر دیا گیا ہے یہ ایک انتہائی اہم اور خوش آئند فیصلہ ہے کیونکہ پالیسیوں کے تسلسل اور استحکام کی خاطر یہ قدم انتہائی ضروری تھا،سروسز میں اور نیشنل پالیسی لیول پر تین سال کے قلیل عرصے میں کسی بھی بڑی پالیسی فیصلہ سازی اور انیشییٹو کو منطقی انجام تک پہنچانا کافی مشکل کام تھا کیونکہ بڑے فیصلوں کی تکمیل وقت مانگتی ہے اور دوسری بات یہ ہے کے ایک پالیسی پر عمل داری کے درمیاں جب مُدت ملازمت ختم ہونے کے بعد نئی لیڈرشپ آتی ہے اُس سے جاری پالیسی بھی اثر انداز ہوتی ہے اور نئے سرے سے کام از سرے نو  شروع ہو جاتا ہے اور نتیجتاً سروس اور ملک دونوں اُس تبدیلی سے متاثر ہوتے ہیں اب سروسز چیف کی مُدت ملازمت پانچ سال ہو چکی ہے جس سے پالیسیوں کے تسلسل میں اور استحکام میں کافی فائدہ ہوگا

    واضح رہے کہ قومی اسمبلی نے آرمی ایکٹ میں اہم ترمیم کا بل منظور کر لیا ہے، جس کے تحت مسلح افواج کے سربراہان کی مدت ملازمت تین سال سے بڑھا کر پانچ سال کر دی گئی ہے۔وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے یہ بل قومی اسمبلی میں پیش کیا اور بتایا کہ اس کا مقصد عسکری قیادت کے تسلسل کو برقرار رکھنا اور قومی سلامتی کے چیلنجز کا موثر مقابلہ کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "سروسز چیفس کی مدت ملازمت میں توسیع سے فوج کی قیادت کو زیادہ استحکام ملے گا اور قومی سلامتی کے معاملات میں تسلسل کو یقینی بنایا جا سکے گا۔”

  • عالمی امن  کو خطرات اور چیلنجز  کا سامنا ہے،آرمی چیف

    عالمی امن کو خطرات اور چیلنجز کا سامنا ہے،آرمی چیف

    اسلام آباد: 28ویں سالانہ کانفرنس برائے بین الاقوامی امن قائم کرنے کی تربیتی مرکز ، پہلی بار پاکستان میں منعقد ہو رہی ہے۔ یہ تقریب 4 سے 8 نومبر 2024 تک نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے مرکز برائے بین الاقوامی امن و استحکام میں جاری ہے۔کانفرنس کا باقاعدہ آغاز آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کی جانب سے نئے CIPS عمارت کے افتتاح کے ساتھ ہوا۔ اس موقع پر اقوام متحدہ کے تحت سیکرٹری جنرل، امن آپریشنز کے محکمے کے جین پیئر لیکروا، اقوام متحدہ کے پولیس مشیر، قائم مقام فوجی مشیر، پاکستان کے خارجہ سیکرٹری اور نیشنل یونیورسٹی کے ریکٹر نے بھی بطور مہمان خاص شرکت کی

    اپنے کلیدی خطاب میں،آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے کہا کہ آج عالمی امن نئے خطرات اور چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ ا اگرچہ اقوام متحدہ اور دیگر تنظیموں کی جانب سے بہت سے امن قائم کرنے کے اقدامات جاری ہیں، لیکن بے گناہ کشمیریوں اور فلسطینیوں کی حالت زار اس بات کی یاد دہانی کراتی ہے کہ ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ مہمان خصوصی جین پیئر لیکروا نے پاکستان کی اقوام متحدہ کے امن قائم کرنے کی کارروائیوں میں شراکت کا اعتراف کیا اور پاکستان کے 28ویں IAPTC سالانہ کانفرنس کی میزبانی پر تعریف کی۔

    کانفرنس کے آغاز پر، آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا استقبال لیفٹیننٹ جنرل فیاض حسین شاہ نے کیا۔

  • پاک بحریہ کا  مقامی طور پر تیار کیے گئے بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ

    پاک بحریہ کا مقامی طور پر تیار کیے گئے بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ

    پاک بحریہ نے بحری جنگی جہاز سے مقامی طور پر تیار کیے گئے بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ کیا ہے

    350 کلومیٹر رینج والا میزائل سسٹم زمینی اور سمندری اہداف کو انتہائی درستگی کے ساتھ نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے،یہ نظام جدید ترین نیویگیشن سسٹم کے ساتھ اپنی سمت اور رفتار کو تبدیل کرنے کی خصوصیات سے لیس ہے،چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف، پاک بحریہ کے سینئر افسران ،سائنسدانوں اور انجینئرز نے تجربے کا مظاہرہ دیکھا،صدر پاکستان آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف،چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی اور سروسز چیفس نے کامیاب میزائل تجربے میں حصہ لینے والے یونٹس اور سائنسدانوں کو مبارکباد دی

  • سعودی عرب اور قطر دورہ انتہائی مفید رہا،وزیراعظم

    سعودی عرب اور قطر دورہ انتہائی مفید رہا،وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہبازشریف نے کابینہ اجلاس میں بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب اور قطر کا کامیاب دورہ مکمل کر کے آیا ہوں،

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے سعودی عرب اور قطر کے دوروں اور ملاقاتوں کو انتہائی مفید اور تعمیری قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب اور قطر پاکستان میں سرمایہ کاری کے خواہاں ہیں، پاکستانی وفد جلد سعودی عرب جائے گا، قطر انویسٹمنٹ اتھارٹی کے حکام رواں ماہ پاکستان کا دورہ کریں گے، سعودی عرب میں لاکھوں ہنرمند افرادی قوت کی ضرورت ہے۔ پیر کو وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب میں وزیراعظم نے وفاقی کابینہ کو اپنے سعودی عرب اور قطر کے دورہ کے حوالہ سے اعتماد میں لیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ حال ہی میں سعودی عرب اور قطر کے دورہ سے واپس لوٹے ہیں، سعودی عرب میں انہوں نے فیوچر انویسٹمنٹ انیشیٹو کے فورم سے خطاب کیا جہاں انہوں نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سمیت اہم شخصیات اور رہنمائوں سے ملاقاتیں کیں۔ وزیراعظم نے بتایا کہ سعودی ولی عہد نے ایک بار پھر پاکستان کیلئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور پاکستان کی ترقی اور سرمایہ کاری کے حوالہ سے ان سے مفید بات چیت ہوئی، سعودی ولی عہد سے عشائیہ پر بھی ملاقات ہوئی، اگلے روز انہوں نے اپنی ٹیم بھی بھجوائی، سعودی عرب کے سرمایہ کاری کے وزیر اور پاکستان کیلئے رائل کورٹ کے خصوصی نمائندہ کے ساتھ بھی ملاقاتیں ہوئیں جس میں سولر، مائنز اور منرلز، زراعت اور باہمی شراکت کے دیگر شعبوں کے حوالہ سے تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ اس موقع پر سعودی حکام کی بھی پریس کانفرنس بھی ہوئی جو بہت مفید تھی۔ وزیراعظم نے بتایا کہ ان ملاقاتوں اور دورہ کے نتیجہ میں پاکستان کا وفد بہت جلد سعودی عرب روانہ ہو گا۔ وزیراعظم نے بتایا کہ سعودی عرب کے بعد انہوں نے قطر کا دورہ بھی کیا، یہ دورہ بھی سعودی عرب کی طرح نہایت مفید اور تعمیری تھا، قطر کے امیر کے ساتھ ون آن ون اور وفود کی سطح پر بھی ملاقات ہوئی۔ امیر قطر کی ہمشیرہ کی طرف سے پاکستان کی تاریخ کے حوالہ سے ایک بہترین نمائش کا بھی اہتمام کیا گیا جس میں امیر قطر نے خود شرکت کی، انہوں نے ہمارے اعزاز میں ظہرانہ بھی دیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ امیر قطر نے ماضی میں تین ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے حوالہ سے جو وعدہ کیا تھا اس پر تیزی سے عملدرآمد کرنے کا فیصلہ کیا گیا، قطر انویسٹمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین اور ان کی ٹیم جلد پاکستان کے دورہ پر آئیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ سعودی عرب میں آئی ٹی سمیت مختلف شعبوں میں لاکھوں ہنرمندوں کی ضرورت ہے، سعودی ولی عہد نے پاکستان سے ہنرمند افرادی قوت بھجوانے کا کہا ہے، اسی طرح امیر قطر نے پاکستان میں آئی ٹی پارک لگانے کا عندیہ دیا ہے۔ وزیراعظم نے بتایا کہ سعودی عرب اور قطر کے دورے اور ملاقاتیں انتہائی مفید اور تعمیری رہیں، پاکستان کا وفد ایک دو روز میں سعودی عرب جائے گا، آذربائیجان کے صدر نے 2 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی بات کی تھی، ان کی طرف سے بھی پیغام آیا ہے کہ وہ ہمارے منتظر ہیں، جلد اس حوالہ سے میں اجلاس بلاؤں گا۔

    پاکستان اور قطر کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور مذہبی روابط موجود ہیں،عطا تارڑ

    وزیر اعظم سے قطر بزنس مین ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات

    وزیراعظم شہباز شریف کی امیر قطر سے ملاقات انتہائی نتیجہ خیز قرار

    شہباز شریف نے قطر کے امیر عزت مآب شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے  ملاقات کی

     شہباز شریف اور قطر کے وزیراعظم عزت مآب شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی کے درمیان  ملاقات

  • عمران خان کا جیل میں طبی معائنہ،ذاتی معالج نے صحتمند قرار دے دیا

    عمران خان کا جیل میں طبی معائنہ،ذاتی معالج نے صحتمند قرار دے دیا

    بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کا اڈیالہ جیل میں طبی معائنہ کیا گیا۔

    عمران خان کے ذاتی معالج بھی عمران خان کا طبی معائنہ کرنے والے ڈاکٹروں کی میڈیکل ٹیم میں شامل تھے ،میڈیکل بورڈ کی تشکیل میں پمز اسپتال کے تین ڈاکٹروں اور عمران خان کے ذاتی معالج ڈاکٹر عاصم یوسف نے شرکت کی،چار ڈاکٹروں پر مشتمل میڈیکل بورڈ نے ایک گھنٹہ تک عمران خان کا طبی معائنہ کیا اور مختلف ٹیسٹ کیے۔عمران خان کے طبی معائنہ کے بعد عمران خان کے ذاتی معالج ڈاکٹر عاصم یوسف نے بتایا کہ عمران خان کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور میڈیکل بورڈ نے کچھ اضافی ٹیسٹ تجویز کیے ہیں، عمران خان کے طبی معائنے کی رپورٹ تیار کی جائے گی۔

    دوسری جانب اڈیالہ جیل کے باہر علیمہ خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے جو شوکت خان کے ڈاکٹر ہیں ان پمز ہسپتال کی ٹیم کے ساتھ گئے، انھوں نے بتایا کہ خان کی صحت ٹھیک ہےیہ صرف اس وجہ سے ہوا ہے انھوں نے جو 5 دن کمرے میں بند رکھا، آپ نے دیکھا کہ انتظار پنچھوتا کس طرح واپس آئے ہیں، انتظار کا قصور کیا تھا، آپ ایک بندے کو اٹھا کر لے گئے،بانی پی ٹی نے کہا کہ ضلِ شاہ کو بھی انھوں نے ٹارچر کیا تھا،

    یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کے طبی معائنے کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی ہدایت کی تھی، میڈیکل ٹیم عمران خان کے طبی معائنہ کی رپورٹ عدالت میں جمع کروائےگی

    شرجیل میمن نے 26ویں ترمیم کو بلاول بھٹو کا دور اندیش اقدام قرار دیا

    چاہتے ہیں کہ دعوے کم اور کام زیادہ کر کے دکھائیں،شرجیل میمن

    عمران خان اسرائیل ایجنٹ نہیں بلکہ اسرائیلی حکومت کا حصہ ہے، شرجیل میمن

    پی ٹی آئی ہمیشہ آمریت کی آلہ کار رہی ہے،شرجیل میمن

  • بشریٰ بی بی کمرہ عدالت میں رو پڑیں ،اپنے وکیلوں کو بھی کھری کھری سنا دیں

    بشریٰ بی بی کمرہ عدالت میں رو پڑیں ،اپنے وکیلوں کو بھی کھری کھری سنا دیں

    اسلام آباد ڈسٹرکٹ سیشن عدالت ،بانی پی ٹی آئی کی 6 اور بشری بی بی کے خلاف ایک مقدمہ پر درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی

    بشری بی بی ڈسٹرکٹ کمپلیکس اسلام آباد پہنچ گئیں،کیس کی سماعت ایڈیشنل سیشن جج محمد افضل مجوکہ نے کی،جج افضل مجوکہ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے ویڈیو لنک کے ذریعے پیش ہونا تھا،سینٹرل جیل حکام کو ہدایت کریں بانی پی ٹی آئی کو ویڈیو لنک کے زریعے حاضر کریں،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی حد تک عدالت سختی سے حکم دے تب بانی پی ٹی آئی کو ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کیا جائیگاجب تک بانی پی ٹی آئی پیش ہوتے ہیں میں بشری بی بی کے خلاف 442 پر دلائل دے دیتا ہوں،ڈیڑھ سال ہو گیا آپ سوچ رہے ہیں آج دلائل کیوں دے رہے ہیں کیونکہ تفتیش آج کمرہ عدالت میں ہوئی،

    جج نے استفسار کیا کہ اصل پراسیکیوٹر کدھر بھاگ گئے ہیں،پولیس کا تو الزام ہی مطمئن کرنے والا نہیں ہے،جج نے پراسیکیوٹر کو ہدایت کی کہ الیکشن کمیشن کو جو لیٹر لکھا اسکا جواب کیا آیا وہ لیکر آئیں،

    ہمارے وکلاء سمیت تمام وکلاء صرف وقت ضائع کرتے ہیں،بشریٰ بی بی
    بشری بی بی کمرہ عدالت میں رو پڑیں، بشریٰ بی بی نے عدالت میں کہا کہ میرا کمبل و دیگر سامان گاڑی میں ہے جب آپ کہیں گے میں جیل جانے کو تیار ہوں، 9 مہینوں سے ناانصافی ہو رہی ہے،پورے پاکستان میں بانی پی ٹی آئی اور مجھے ناانصافی پر سزا دی گئی،میں انصاف کے لئے نہیں آئی انصاف تو ہے ہی نہیں ،ہمارے وکلاء سمیت تمام وکلاء صرف وقت ضائع کرتے ہیں،جو اندر انسان بیٹھا ہے کیا وہ انسان نہیں ہے،کسی جج کو نظر نہیں آتا،میں اب اس عدالت میں نہیں آونگی،یہاں صرف ناانصافیاں ہوتی ہیں،

    سیشن عدالت نے عمران خان کی چھ اور بشری بی بی کی ایک درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ کرلیا

    بشریٰ بی بی کی ضمانت ،سپریم کورٹ میں چیلنج

    بشریٰ بی بی پیش نہ ہوئی،نیب پراسیکیوٹر کا وارنٹ جاری کرنے کی استدعا

    مؤکلوں کا رخ زمان پارک کی طرف،بشریٰ بی بی بھی پہنچ گئیں

    وکیلوں پر کبھی اعتبار نہیں کرنا چاہیے،عمران خان پھٹ پڑے

    شیر افضل مروت نے علی امین گنڈاپور کی سب”چالیں”عمران خان کو بتا دیں

  • پی ٹی آئی کارکنان کی جہالت،واقعی”فتنہ”،سعودی عرب میں جاہلانہ حرکتیں

    پی ٹی آئی کارکنان کی جہالت،واقعی”فتنہ”،سعودی عرب میں جاہلانہ حرکتیں

    تحریک انصاف کی جہالت،کارکنان کی غلطیاں، سعودی عرب میں پاکستانیوں کے لئے مشکلات کا باعث بننے لگیں

    سعودی عرب میں قوانین کی پابندی پر سختی سے عمل کروایا جاتا ہے اور عمل نہ کرنے والوں کو گرفتار و قانون کے مطابق سزا ہوتی ہے، چند روز قبل پی ٹی آئی رکن اسمبلی شیر افضل مروت نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک ٹویٹ میں کہا گیا تھاکہ انکے اسمبلی دفتر کے افسر کو سعودی عرب میں عمران خان کی تصویر لہرانے پر گرفتار کیا گیا ہے، شیر افضل مروت نے سعودی حکومت سے اپیل کی تھی کہ سعودی حکومت اس بندے کو رہا کرے ، تاہم یہ پہلا اور آخری واقعہ نہیں ہے، پی ٹی آئی کارکنان سعودی عرب ،عمرہ یا ملازمت کے لئے جاتے ہیں تو وہاں پی ٹی آئی پرچم، یا عمران خان کی تصویریں لہراتے ہیں جس پر انکے خلاف کاروائی ہوتی ہے، اسی وجہ سے سعودی عرب پاکستانیوں پر سختی کرتا ہے تو دیگر پاکستانی شہری بھی سعودی عرب میں مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں

    اب ایک تازہ ترین ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں ایک پی ٹی آئی کارکن پرچم لئے دوڑ رہا ہے،کارکن نے احرام بھی پہنا ہوا ہے اور ساتھ چلنے والے دیگر افراد بھی احرام میں ہیں، پی ٹی آئی کارکن کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے،ایک اور ویڈیو بھی سامنے آئی ہے جس میں پی ٹی آئی کارکنا ن نے غار حرا کے داخلی راستے پر ایک پتھر پر پی ٹی آئی اور گونواز گو لکھ دیا ہے

    پاکستان میں سیاسی جماعتیں کارکنان کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال تو کرتی ہیں تا ہم اتنی جاہلانہ حرکات کے لئے پی ٹی آئی ہی اپنے کارکنان کو استعمال کر رہی ہے اور جب پی ٹی آئی کارکنان کسی مشکل میں آتے ہیں تو قیادت انکو لاوارث چھوڑدیتی ہے.انہی حرکات کی وجہ سے پی ٹی آئی کو "فتنہ” بھی کہا جاتا ہے،پاکستان میں تقریباً 150 سیاسی جماعتیں ہیں، مگر تحریک انصاف کی نوعیت ایسی ہے کہ اس کے حامیوں اور کارکنان کی حرکات نہ صرف اندرون ملک بلکہ بیرون ملک بھی پاکستان کی بدنامی کا باعث بن رہی ہیں، سعودی عرب میں پی ٹی آئی کارکنان جو حرکتیں کر رہے ہیں، کوئی بھی دوسری جماعت ایسی حرکتیں کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتی،

    سعودی عرب میں پی ٹی آئی کارکنان کی جانب سے پی ٹی آئی پرچم لہرانا، جہالت اور قانون کی خلاف ورزی قرار ہے، سعودی عرب میں عمرہ و ملازمت کے لئے جانے والے افراد کی جانب سے سیاسی سرگرمیاں اور غیر ملکی سیاسی جماعتوں کے علامتوں کا استعمال عموماً ممنوع ہے۔ اگر کسی نے یہ کام کیا تو یہ نہ صرف مقامی قوانین کی خلاف ورزی ہوسکتی ہے، بلکہ اس کے نتیجے میں قانونی کارروائی بھی ہوسکتی ہے۔ اس طرح کے واقعات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ لوگوں کو مقامی قوانین کے بارے میں آگاہی ہونی چاہئے اور انہیں ان کا احترام کرنا چاہئے۔

    سعودی عرب میں پی ٹی آئی کارکنان کی جانب سے پرچم لہرانے کی وجہ سے گرفتاریاں بھی ہوئی تھیں، چند ماہ قبل پی ٹی آئی کے رہنما اور سابق ایم این اے فہیم خان کو سعودی عرب میں خانہ کعبہ پر 9 مئی کے جھوٹے بیانیے پر حلف لیتے ہوئے ویڈیو بنانے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔ بعد ازاں انکی رہائی ہوئی تھی،

    اسلام آباد ایئر پورٹ نواز شریف کے قریبی دوست کو دیا جا رہا، مبشر لقمان

    پی آئی اے نجکاری،صرف 10 ارب کی بولی، کیوں؟سعد نذیر کا کھرا سچ میں جواب

    پی آئی اے نجکاری،خیبر پختونخوا حکومت کی بولی کا حصہ بننے کی خواہش

    پی آئی اےکی نجکاری کیلئے 6کمپنیوں نے پری کوالیفائی کرلیا

    پی آئی اے کا خسارہ 830 ارب روپے ہے، نجکاری ہی واحد راستہ ہے، علیم خان

  • میری ذمہ داری پی آئی اے ٹھیک کرنا نہیں، بیچنے آیا ہوں، علیم خان

    میری ذمہ داری پی آئی اے ٹھیک کرنا نہیں، بیچنے آیا ہوں، علیم خان

    لاہور: وفاقی وزیر نجکاری عبدالعلیم خان نے کہا ہے کہ میرا کام پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کو ٹھیک کرنا نہیں بلکہ اسے فروخت کرنا ہے۔

    وفاقی وزیر نجکاری، سرمایہ کاری بورڈ اور مواصلات عبدالعلیم خان نے کہا ہے کہ پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائن ہم سب کا قومی اثاثہ ہے جسے بہتر پالیسیوں اور مناسب سرمایہ کاری کے ساتھ آج بھی منافع بخش بنایا جا سکتا ہے اور ہم اسے کسی طور بھی اونے پونے داموں نہیں بیچ سکتے، کے پی کے، پنجاب یا کسی اور صوبے کی حکومت اگر پی آئی اے کی نجکاری میں حصہ لینا چاہتی ہے تو ہم اُن کا خیر مقدم کریں گے۔وفاقی وزیر عبدالعلیم خان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری کا ڈھانچہ میری چھ ماہ کی وزارت سے پہلے ہی شروع ہو چکا تھا،میرے پاس اُس فریم ورک میں تبدیلی کا کوئی اختیار نہیں تھا اور نہ ہی میری ذمہ داری پی آئی اے کو ٹھیک کرنے کی تھی، میرا کام پی آئی اے کو بیچنا ہے اس کے علاوہ کچھ نہیں لیکن قوم بخوبی جانتی ہے کہ پی آئی اے کو اس حال تک پہنچانے میں ہر حکومت نے بلا تفریق اپنا حصہ ڈالا۔ میں بطور وفاقی وزیر نجکاری اُن قوانین و ضوابط کا پابند ہوں جن کے تحت مجھے نجکاری کے عمل کو آگے بڑھانا ہے اور پی آئی اے کی نجکاری ضرور کریں گے اور بہتر انداز میں کریں گے۔۔عبدالعلیم خان نے کہا کہ جہاں تک میری وزارت کا تعلق ہے میں نے مواصلات کے شعبے میں پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی سرکاری ادارے کی طرف سے 50ارب روپے کے ریونیو کا اضافہ کیا ہے۔ جس کے لئے میں نے نہ تو کوئی تشہیری مہم چلائی، اشتہارات دیے اور نہ ہی اداریے لکھوائے، یہ میرا قومی فریضہ ہے کہ میں اس ملک کی بہتری اور غریب عوام کے پیسے کو بچانے کے لئے اپنے فرائض سر انجام دوں۔

    عبدالعلیم خان نے گزشتہ دنوں پی آئی اے کی نجکاری کے حوالے سے سامنے آنے والے موقف پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایسے لوگ بھی مجھ پر تنقید کرتے ہوئے نصیحتیں کر رہے ہیں جو خود لمبا عرصہ پرائیویٹائزیشن کے محکمے کے وزیر رہے،اگر وہ اپنے دور میں اس مسئلے کو حل کر لیتے تو آج یہ معاملہ مجھ تک نہ پہنچتا۔انہوں نے کہا کہ بطور وفاقی وزیر پاکستان پوسٹ کے محکمے سے ایسی 3500 آسامیاں ختم کرائی ہیں جو قومی خزانے پر 2.8ارب روپے کا بوجھ تھیں حالانکہ نوکریاں کسی بھی سیاسی رہنما کیلئے بنیادی ضرورت ہوتی ہیں لیکن میں نے ملکی مفاد کو اپنی سیاست پر ترجیح دی۔

    میڈیا کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے عبدالعلیم خان نے کہا کہ افسوس اس بات کا ہے کہ خود حالات بگاڑنے والے آج مجھ سے سوال کر رہے ہیں حالانکہ اس پی آئی اے کو یہاں تک پہنچانے میں بلا تفریق ہر حکومت نے اپنا حصہ ڈالا۔انہوں نے کہا کہ یہ عہدہ ہمارے پاس امانت ہے، وزارت پر اللہ تعالیٰ اور اس قوم کو جوابدہ ہوں، میں نے آج تک حکومت سے ایک روپیہ بھی تنخواہ، ٹی اے ڈی اے یا کسی اور مد میں وصول نہیں کیا، میں نے سرکاری گاڑی نہیں لی اور نہ ہی کوئی سرکاری ملازم رکھے ہیں، میرے کویت، روس،چین اور دیگر ملکوں کے دورے اپنے خرچ پر تھے اور جہاں تک پی آئی اے کی نجکاری کا تعلق ہے میں اُس دن بھی سرکاری دورے پر سعودی عرب کے وزیر نجکاری کے ساتھ پاکستانی سفارتخانے ریاض میں اجلاس میں تھا جبکہ اُس سے پہلے پرائیویٹائزیشن کمیشن بورڈ اور سی سی او پی کے اجلاس میں بھی میں نے شمولیت کی۔ انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری کا تعلق ہے ہمارے پاس مزید آپشن موجود ہیں، اس ادارے کی باقی ماندہ 200ارب روپے کے واجبات کو بھی حکومت نکال کر "کلین پی آئی اے”دے سکتی ہے۔

    وفاقی وزیر عبدالعلیم خان نے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری کا عمل شفاف تھا، سب کچھ میڈیا کے کیمروں کے سامنے ہوا اور لائیو دکھایا گیا اب اُس کے نتائج کے حوالے سے قیاس آرائیاں کرنے کی بجائے ہم سب کو مل کر اس کا حل نکالنا ہے، ایک دوسرے کو الزام اور ماضی کو رونے کی بجائے ہمیں آگے بڑھنا ہے اس وقت پی آئی اے کے علاوہ9ڈسکوز کی نجکاری پائپ لائن میں ہے، جہاں تک سرمایہ کاری کا تعلق ہے صرف سعودی عرب سے ایم او یوزکی تعداد 34ہو چکی ہے اور 2.8ارب روپے کی سرمایہ کاری سے مختلف معاہدوں پر عملی پیشرفت کا آغاز ہو چکا ہے۔ روس اور چین سے سرمایہ کار آ رہے ہیں اور جہاں تک میرے محکموں کا تعلق ہے مواصلات کے شعبے میں سالانہ ریونیو آئندہ 5برسوں میں 500ارب تک لے جائیں گے، اسی طرح نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو میں انٹرنیشنل فرم دیکھنا چاہتا ہوں تاکہ وہ چین اور دیگر ملکوں کی طرح پاکستان سے باہر بھی جا کر ٹینڈر حاصل کریں اور اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوائے۔ ایک اور سوال کے جواب میں عبدالعلیم خان نے کہا کہ این ایچ اے میں سخت پالیسیاں متعارف کروائی ہیں، ایکسل لوڈ پر کوئی سمجھوتہ نہیں، موٹروے اور قومی شاہراہوں کی حفاظت میری ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری ضرور ہو گی اور اس کو پہلے سے بہتر انداز میں کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس حوالے سے مزید بہتر بنائے جا سکتے ہیں البتہ قیاس آرائیوں، تبصروں اور الزامات سے گریز کرنا چاہیے،پی آئی اے میں پوٹینشل موجود ہے،24کروڑ لوگوں کے پاس صرف ایک ائیر لائن جہاں سے وہ ڈائریکٹ فلائٹ کے ذریعے یورپ اور امریکہ جا سکتے ہیں اور ادارے میں بہتری لا کر آگے بڑھا جا سکتا ہے

    اسلام آباد ایئر پورٹ نواز شریف کے قریبی دوست کو دیا جا رہا، مبشر لقمان

    پی آئی اے نجکاری،صرف 10 ارب کی بولی، کیوں؟سعد نذیر کا کھرا سچ میں جواب

    پی آئی اے نجکاری،خیبر پختونخوا حکومت کی بولی کا حصہ بننے کی خواہش

    پی آئی اےکی نجکاری کیلئے 6کمپنیوں نے پری کوالیفائی کرلیا

    پی آئی اے کا خسارہ 830 ارب روپے ہے، نجکاری ہی واحد راستہ ہے، علیم خان

    پیشکشوں میں توسیع کا وقت ختم، نجکاری کمیشن پری کو آلیفیکیشن کریگا:عبدالعلیم خان

    پی آئی اے سمیت24اداروں کی نجکاری، شفافیت کیلئے ٹی وی پر دکھائینگے:وفاقی وزیر عبد العلیم

     پی آئی اے کی نجکاری کے حوالہ سے اہم پیشرف 

    پی آئی اے کسے اور کیوں بیچا جارہا،نجکاری پر بریفنگ دی جائے، خورشید شاہ

    پی آئی اےکی نجکاری کیلئے 6کمپنیوں نے پری کوالیفائی کرلیا

    اسٹیل مل کی نجکاری نہیں، چلائیں گے، شرجیل میمن