Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • جی ایچ کیو حملہ کیس،عمران خان پر فردجرم عائد نہ ہو سکی

    جی ایچ کیو حملہ کیس،عمران خان پر فردجرم عائد نہ ہو سکی

    جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت 16 نومبر تک ملتوی کر دی گئی

    شیخ رشید، راجہ بشارت، سمابیہ طاہر، کنول شوزب، راشد حفیظ انسداد دہشتگردی عدالت میں پیش ہوئے، عدالت نے ملزمان کو حاضری لگانے کے بعد جانے کی اجازت دے دی۔مقدمے میں 125 ملزمان میں سے 103 ملزمان کو چالان نقول کی کاپیاں تقسیم کر دی گئیں،مقدمے کے دیگر 22 ملزمان کو چالان نقول کی کاپیاں تاحال نہ مل سکیں ،شیخ رشید کی بریت کی درخواست پر عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا ،مقدمے میں وزیراعلی خیبر پختون سمیت زرتاج گل، عمر ایوب اور شبلی فراز بھی نامزد ہیں،ملزمان پر ہنگامہ آرائی، توڑ پھوڑ، جلاو گھیراو اور کار سرکار میں مداخلت کا الزام ہے،مقدمے کی سماعت انسداد دہشت گردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے کی

    انسداد دہشتگردی عدالت نے عمران خان کی حاضری بذریعہ ویڈیو لنک کروانے کا حکم دیا ہے،ذرائع کے مطابق اڈیالہ جیل انتظامیہ کو انسداد دہشتگردی عدالت کے احکامات موصول ہو گئے ہیں،وکیل محمد فیصل ملک نے کہا کہ تھانہ آر اے بازار میں درج مقدمے میں کل 125 ملزمان نامزد ہیں، بانی پی ٹی آئی سمیت 102 ملزمان کو چالان کی نقول فراہم کی جا چکی ہیں، شاہ محمود قریشی سمیت 23 ملزمان کو چالان کی نقول ابھی تک فراہم نہیں گئی،بعد ازاں عدالت نے جی ایچ کیو حملہ کیس میں فرد جرم کی کارروائی مؤخر کر دی۔

    جی ایچ کیو حملہ کیس میں سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کی بریت کی درخواست پر بحث مکمل ہو گئی، وکیل نے استدعا کی کہ پولیس چالان میں 94گواہان کے بیانات شامل ہیں کسی ایک گواہ نے بھی شیخ رشید کے ملوث ہونے کا الزام نہیں لگایا بری کیا جائے،عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا،

    جی ایچ کیو حملہ کیس کی چالان تفصیلات کے مطابق بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سمیت ملزمان پر مجموعی طور پر 27 سنگین دفعات عائد کی گئی ہیں،ملزمان نے سابق صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت قیادت میں جی ایچ کیو پر حملہ کیا، جی ایچ کیو گیٹ پر دھاوا بولا گیا اور گیٹ توڑ دیا، فوجی جوانوں نے منع کیا مگر باز نہیں آئے اور توڑ پھوڑ کرتے رہے،ملزمان نے حساس عسکری املاک توڑی اور آگ لگا دی، ڈنڈوں اور پتھروں سے حملہ کیا گیا، پیٹرول بم بھی مارا گیا، ملزمان جی ایچ کیو گیٹ توڑ کر اندر داخل ہوگئے اور فورسز سے بھرپور مزاحمت کی گئی، پاکستان میں بغاوت کا ساماں پیدا کیا گیا،جی ایچ کیو گیٹ پر پیٹرول بم ٹائر جلا کر آگ لگائی گئی اور بلڈنگ کے شیشے توڑے دیے گئے، پاک آرمی ساکھ کو نقصان پہنچایا گیا، عسکری ملازمین پر حملے کیے گئے، یہ جو دہشت گردی ہے اس کے پیچھے وردی کے نعرے اور خان نہیں تو پاکستان نہیں کے نعرے لگائے گئے،حساس دفاتر آئی ایس آئی اور جی ایچ کیو عمارات پر حملے کیے گئے، مظاہرہ اور احتجاج منظم سازش مجرمانہ کے تحت کیا گیا، موقع پر 6 ملزم گرفتار کیے ان کی نشاندہی پر مزید گرفتاریاں کی گئیں، چالان میں استدعا کی گئی کہ ملزمان کو سخت ترین عبرت ناک سزائیں دی جائیں

    واضح رہے کہ پی ٹی آئی چیئرمین کی گرفتاری کے بعد 9 مئی کو مظاہرین کی جانب سے جی ایچ کیو سمیت سرکاری املاک، فوجی چوکیوں اور تنصیبات کو توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ کا نشانہ بنایا گیا تھا۔عمران خان اب اڈیالہ جیل میں ہیں تا ہم پی ٹی آئی کے باقی رہنما ضمانتوں پر ہیں، نومئی کے مقدمات کی سماعت تاخیر کا شکار ہو رہی ہے، ڈیڑھ برس ہو چکا ہے ابھی تک فیصلے نہیں ہوئے

    بانی پی ٹی آئی عمران خان 9 مئی جی ایچ کیو کے سامنے پر امن اختجاج کے بیان پر قائم ہیں،29 جولائی کو اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں عمران خان نے وضاحت کے ساتھ دوبارہ اعتراف کرلیا،عمران خان کا کہنا تھا کہ میں نے کوئی اعتراف نہیں کیا،میرے جی ایچ کے او کے باہر پرامن احتجاج کے بیان کو اعتراف اور اقبال جرم بنا کر پیش کیا گیا،میں نے کوئی اعتراف یا اقبال جرم نہیں کیا۔ 9 مئی کے بعد میرے 3 وی لاگز بھی موجود ہیں، میں 9 مئی مقدمات کی تفتیش میں بھی کہہ چکا ہوں پر امن اختجاج کریں گے، 9 مئی واقعات کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں ہماری بے گناہی چھپی ہے،

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    اکرم چوہدری نجی ٹی وی کا عثمان بزدار ثابت،دیہاڑیاں،ہراسانی کے بھی واقعات

    اکرم چوہدری کا نجی ٹی وی کے نام پر دورہ یوکے،ذاتی فائدے،ادارے کو نقصان

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    سما ٹی وی بحران کا شکار،نجم سیٹھی” پریشان”،اکرم چودھری کی پالیسیاں لے ڈوبیں

    انتہائی نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکرمناہل نے مانگی معافی

    مناہل ملک کی لیک”نازیبا "ویڈیو اصلی،مفتی قوی بھی میدان میں آ گئے

  • عدالت کا عمران خان کی دی گئی فہرست کے مطابق ملاقات کا حکم

    عدالت کا عمران خان کی دی گئی فہرست کے مطابق ملاقات کا حکم

    اسلام آباد ہائیکورٹ ،عدالتی حکم کے باوجود بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نا کرانے پر توہین عدالت درخواست پر سماعت ہوئی

    جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے بانی پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت کی،بانی پی ٹی آئی کے وکیل فیصل فرید چوہدری عدالت کے سامنے پیش ہوئے،سپریڈنٹ اڈیالہ جیل عبد الغفور انجم عدالت کے سامنے پیش ہوئے،ایڈووکیٹ جنرل ایاز شوکت عدالت کے سامنے پیش ہوئے، عمرا ن خان کے وکیل نے کہا کہ گزشتہ روز میٹنگ کا شیڈول تھا لیکن میٹنگ نہیں کرائی گئی ،مجھے بتایا گیا ہے کہ گزشتہ روز اڈیالہ روڈ بلاک تھی جس سے عام لوگ بھی متاثر ہوتے ہیں ، اسد قیصر ، شبلی فراز ان کو بھی اڈیالہ جیل کے باہر روکا گیا ، ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا کہ ہم نے اس توہین عدالت کے کیس میں جواب جمع کرایا ہے ، اپنے جواب میں واضح کیا ہے کہ عدالتی حکم کے مطابق 3 کوآرڈی نیٹرز ہیں، ہمیں کوئی لسٹ نہیں دی گئی کہ یہ 6 لوگ ملنا چاہتے ہیں،عمران خان کے وکیل نے کہا کہ انتظار پنجوتھا کوآرڈینیٹر تھے جو لاپتہ ہوئے تھے، ہم نے لسٹ دی تھی۔

    عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل سے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں لسٹ نہیں دی، یہ کہہ رہے ہیں لسٹ دی ہے، آپ یہ بتائیں ان کی میٹنگ کب کرائیں گے؟ یہ لسٹ آپ کو ابھی دیتے ہیں، سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے کہا کہ ہمارے ڈاکٹر دن میں 3 مرتبہ عمران خان کا چیک اپ کرتے ہیں،عدالت نے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل سے سوال کیا کہ آپ یہ بتائیں کل کیوں ملاقات نہیں کرا سکتے؟سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے عدالت میں کہا کہ ان کی ملاقات منگل اور جمعرات کو طے ہے، ان دنوں کے علاوہ ہمیں ہائی پروفائل ہونے کی وجہ سے سیکیورٹی انتظامات کرنا ہوتے ہیں، ہم تو ہمیشہ عدالتی احکامات پر عمل کرتے ہیں، فیصل چوہدری صاحب تو روزانہ 8 گھنٹے ملتے ہیں، یہ پھر بھی شکایت کر رہے ہیں۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کی فہرست پر منگل کو ملاقاتوں کا حکم دے دیا، جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے کہا کہ "میرا اس سے کوئی لینا دینا نہیں کہ وہ کیا کھاتے ہیں کیا کرتے ہیں آپ مجھے بس یہ بتائیں کہ کیا آپ ان کی ملاقات کروائیں گے یا نہیں؟ "- اسلام آباد ہائیکورٹ نےجیل حکام کو حکم دیا کہہ عمران خان خود لسٹ بنا کر سپریڈنٹ اڈیالہ جیل کو دیں گے وہ ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد اور پی ٹی آئی سیکرٹری سلمان اکرم راجہ کو بھیجیں گے آئندہ سے اسی لسٹ کے مطابق منگل اور جمعرات کو عمران خان سے فیملی ممبران وکلا و دیگر ملاقات کر سکیں گے۔

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    تمباکو سے پاک پاکستان…اک امید

    تمباکو سے پاک پاکستان، آئیے،سگریٹ نوشی ترک کریں

    تمباکو نشہ نہیں موت کی گولی، بس میں ہوتا تو پابندی لگا دیتا، مرتضیٰ سولنگی

    ماہرین صحت اور سماجی کارکنوں کا ماڈرن تمباکو مصنوعات پر پابندی کا مطالبہ

  • جنوبی وزیرستان، 5 خوارج جہنم واصل،چار جوان شہید

    جنوبی وزیرستان، 5 خوارج جہنم واصل،چار جوان شہید

    جنوبی وزیرستان ،سکیورٹی فورسز سے فائرنگ کے تبادلے میں 5 خوارج جہنم واصل ہوئے ہیں جبکہ کارروائی کے دوران 4 جوانوں نے جام شہادت نوش کیا ہے

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق جنوبی وزیرستان کے علاقے کڑمہ میں سکیورٹی فورسز اور خوارج کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس میں 5 خوارج جہنم واصل ہوئے،جبکہ مقابلے میں وطن کے چار بہادر جوانوں نے جام شہادت نوش کیا،شہید ہونے والوں میں نائب صوبیدار طیب شاہ، لانس نائیک گلاب زمان، لانس نائیک مزمل محمود اور لانس نائیک حبیب اللہ شامل ہیں،علاقے میں پائے جانے والے کسی اور خارجی کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشن کیا جا رہا ہے، پاکستان کی سکیورٹی فورسز دہشت گردی کی لعنت کو ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں ہمارے بہادر سپاہیوں کی ایسی قربانیاں ہمارے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔

    لانس نائیک گلاب زمان شہید کی عمر 30 سال تھی ان کا تعلق ضلع کرک سے ہے۔ شہید نے 9 سال تک وطن عزیز کی حفاظت کا فریضہ سرانجام دیا،لانس نائیک حبیب اللّٰہ شہید کا تعلق ضلع اورکزئی سے ہے۔ 28 سالہ لانس نائیک حبیب اللّٰہ شہید نے 7 سال تک پاکستان کے دفاع کی جنگ لڑی،ضلع کرک کے رہائشی لانس نائیک مزمل محمود شہید کی عمر 37 سال تھی، انہوں نے7 سال تک دفاع وطن کا مقدس فریضہ سرانجام دیا۔

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے جنوبی وزیرستان کے علاقے کڑمہ میں فتنہ الخوارج کے 5 دہشتگردوں کو جہنم واصل کرنے پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا ہے،وزیراعظم نےا فائرنگ کے تبادلے میں سیکیورٹی فورسز کے جوانوں نائب صوبیدار طیب شاہ، لانس نائیک گلاب زمان، لانس نائیک مزمل محمود اور لانس نائیک حبیب اللہ کی شہادت پر رنج و الم کا اظہار کیا ہے،وزیراعظم نے شہداء کے لیے دعائے مغفرت اور ان کے اہل خانہ کے لیے صبر و استقامت کی دعا کی ہے اور کہا ہے کہ ہمارے نڈر جوانوں کی قربانیاں ہرگز رائیگاں نہیں جائیں گی،ملک سے دہشتگردی کے مکمل خاتمے تک ہماری دہشتگردوں سے جنگ جاری رہے گی،

    حکومت بچوں کو سگریٹ نوشی سے بچانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے، شارق خان

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    تمباکو سے پاک پاکستان…اک امید

    تمباکو سے پاک پاکستان، آئیے،سگریٹ نوشی ترک کریں

    تمباکو نشہ نہیں موت کی گولی، بس میں ہوتا تو پابندی لگا دیتا، مرتضیٰ سولنگی

    ماہرین صحت اور سماجی کارکنوں کا ماڈرن تمباکو مصنوعات پر پابندی کا مطالبہ

  • چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا انسداد دہشتگردی عدالتوں میں زیر التوا کیسز پر تشویش کا اظہار

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا انسداد دہشتگردی عدالتوں میں زیر التوا کیسز پر تشویش کا اظہار

    انسداد دہشت گردی عدالتوں کے ججز کا چیف جسٹس یحیی آفریدی کی سربراہی میں اجلاس ہوا،جس کا سپریم کورٹ نے اعلامیہ جاری کر دیا ،اجلاس میں انصاف کی جلد فراہمی کے لائحہ عمل پر غور کیا گیا ،اجلاس میں عدالتی نظام کے موجودہ وسائل اور مواقع کا جائزہ لیا گیا،مجوزہ عدالتی اصلاحات کے تحت کمزور طبقوں کے مقدمات کو ترجیح دینے پر زور دیا گیا،

    انسداد دہشت گردی کی عدالتوں کے انتظامی ججوں کا ایک اہم اجلاس آج سپریم کورٹ آف پاکستان میں منعقد ہوا جس کی صدارت عزت مآب چیف جسٹس آف پاکستان، جناب جسٹس یحییٰ آفریدی نے کی۔ اجلاس میں انسداد دہشت گردی کے مقدمات کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور ان مقدمات میں انصاف کی تیز فراہمی کے لیے اہم اقدامات پر غور کیا گیا۔اجلاس میں سپریم کورٹ کے مانیٹرنگ ججز، جسٹس جمال خان مندوخیل (ویڈیو لنک کے ذریعے)، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس مسرت ہلالی، اور جسٹس ملک شہزاد احمد خان نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ، اے ٹی سی عدالتوں کے مانیٹرنگ ججز اور صوبوں و آئی سی ٹی کے پراسیکیوٹر جنرلز بھی موجود تھے۔ اجلاس میں رجسٹرار سپریم کورٹ اور سیکرٹری لاء اینڈ جسٹس کمیشن نے بھی اہم شرکت کی۔چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے اجلاس کا آغاز کرتے ہوئے شرکاء کو خوش آمدید کہا اور اجلاس کے مقصد کی وضاحت کی، جس کا مقصد اے ٹی سی کیسز کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے انصاف کی فراہمی میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا تھا۔ انہوں نے تمام ججز پر زور دیا کہ وہ قانون کی پاسداری کریں اور غیر جانبداری سے فیصلے کریں۔

    اجلاس میں یہ انکشاف کیا گیا کہ پاکستان میں اس وقت 2,273 اے ٹی سی مقدمات زیر التواء ہیں، جن میں سے 1,372 مقدمات صرف سندھ میں زیر سماعت ہیں۔ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے ان مقدمات میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا اور انصاف کی فوری فراہمی کے لیے اضافی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔انسداد دہشت گردی عدالتوں کو درپیش چیلنجز پر تفصیل سے بات کی گئی جن میں گواہوں کے تحفظ کے لیے مناسب سیکیورٹی فراہم کرنا، گواہوں کی آن لائن پیشی کو ممکن بنانا، اور فارنزک سائنٹفک لیبارٹریز (FSL) کا قیام شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، مقدمات کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے اضافی اے ٹی سی عدالتوں کے قیام کی ضرورت پر بھی بات کی گئی۔چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے سندھ اور بلوچستان میں فارنزک سائنٹفک لیبارٹریز ے قیام اور ان کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے خصوصی ہدایات جاری کیں۔ انہوں نے اے ٹی سی ججوں کی تربیت کے لیے غیر ملکی مواقع فراہم کرنے کی تجویز بھی دی۔ چیف جسٹس یحییٰٰ آفریدی نے اٹارنی جنرل پاکستان سمیت دیگر متعلقہ حکام کو اس معاملے پر فوری طور پر کارروائی کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ اے ٹی سی عدالتوں کے بنیادی ڈھانچے اور وسائل کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کریں تاکہ مقدمات کی بروقت اور منصفانہ سماعت ممکن ہو سکے۔اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ حکومتیں انسداد دہشت گردی کی عدالتوں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے فوری اور موثر اقدامات کریں تاکہ عوام کو انصاف کی فراہمی میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ ہو۔ اعلامیہ میں کہا گیا کہ عدالتی اصلاحات کو حتمی شکل دینے سے قبل عوامی مباحثہ کرایا جائے گا،

    یہ ایک بہت اہم قدم ہے جس سے پاکستان کے عدالتی نظام میں اصلاحات کی ضرورت کو تسلیم کیا گیا ہے۔ انصاف کی فراہمی میں تاخیر نہ صرف عوام کا اعتماد کم کرتی ہے بلکہ معیشت اور سماج پر بھی منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔ چیف جسٹس کا یہ اقدام اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ عدالتیں اپنی ذمہ داریوں کو بہتر طریقے سے ادا کرنے کے لیے عملی اقدامات اٹھانے کو تیار ہیں۔ اس طرح کے منصوبے عوامی سطح پر تبادلہ خیال کے ذریعے انقلابی تبدیلیاں لا سکتے ہیں، لیکن اس میں تمام اداروں اور افراد کی مشاورت اور تعاون ضروری ہوگا۔

  • ڈیرہ غازی خان: ٹیچنگ ہسپتال میں ملنے والے کٹے سر کا معمہ حل نہ ہوسکا، سیکیورٹی اہلکار کہاں لے گئے؟

    ڈیرہ غازی خان: ٹیچنگ ہسپتال میں ملنے والے کٹے سر کا معمہ حل نہ ہوسکا، سیکیورٹی اہلکار کہاں لے گئے؟

    ڈیرہ غازی خان(باغی ٹی وی رپورٹ) علامہ اقبال ٹیچنگ ہسپتال میں کٹا ہوا سر ملنے کا انوکھا واقعہ، شکوک و شبہات میں اضافہ،3 نومبر 2024 کو ڈیرہ غازی خان میں ایک ہولناک اور عجیب واقعہ سامنے آیا جب ریسکیو 1122 کنٹرول روم کو اطلاع ملی کہ علامہ اقبال ٹیچنگ ہسپتال کی نئی بلڈنگ میں ایک بچے کا کٹا ہوا سر پڑا ہے۔ اطلاع پر فوری ردعمل دیتے ہوئے ریسکیو کی ایک ٹیم اور ایمبولینس جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور پولیس کو بھی اطلاع دے دی گئی۔ موقع پر موجود عملے کو بغیر دھڑ کے ایک کٹا ہوا سر ملا جو نہایت پراسرار حالات میں وہاں موجود تھا۔ اس کے باوجود حیرت انگیز طور پر ہسپتال کے سکیورٹی عملے نے پولیس کا انتظار کیے بغیر سر کو اپنے قبضے میں لے لیا اور نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا، جس سے معاملے پر مزید سوالات اٹھ گئے۔

    بچے کا باقی جسم یا دھڑ کہاں ہے؟ کیا اسے کسی اور جگہ چھپا دیا گیا یا پھر اس کے ساتھ کسی مجرمانہ فعل کا ارتکاب کیا گیا؟یہ کٹا ہوا سر کس کا ہے؟ کیا اس کی شناخت یا عمر کا کوئی پتہ چلا ہے؟اس سوال کا جواب تلاش کرنا بھی ضروری ہے کہ کٹا ہوا سر ہسپتال کی نئی بلڈنگ میں کیسے پہنچا؟کیا بچہ مردہ حالت میں تھا یا اسے زندہ حالت میں کسی نے نقصان پہنچایا؟ اگر یہ سر گائنی وارڈ سے منسلک ہے تو زچہ کون تھی اور اس کا کیا کردار ہو سکتا ہے؟کیا بچے کے جسم کو آوارہ جانوروں نے کھا لیا یا وہ کہیں اور منتقل کر دیا گیا؟کہیں بچے کی باڈی کو غیرقانونی طورپر میڈیکل کے مقاصد کیلئے استعمال تو نہیں کیا گیا۔ اس امر پر بھی شکوک و شبہات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ کیا اس کٹے ہوئے سر کا پوسٹ مارٹم کیا گیا اور اگر کیا گیا تو اس کی رپورٹ کیا ہے؟ہسپتال انتظامیہ اور سکیورٹی عملے کے کردار پر سوالات ہیں کہ ہسپتال کے سکیورٹی عملے نے سر کو بغیر پولیس کے آنے کے کیوں اٹھایا؟ ہسپتال انتظامیہ اور خاص طور پر ایم ایس ڈاکٹر عبدالرحمن عامر قیصرانی کے کردار پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔

    اس واقعے کی سوشل میڈیا پر خبر پھیلتے ہی کمشنر اور ڈپٹی کمشنر نے رپورٹ طلب کر لی مگر تاحال کوئی پیش رفت یا رپورٹ سامنے نہیں آئی۔ ہسپتال انتظامیہ پر اس معاملے کو دبانے کی کوشش کرنے کا الزام بھی عائد کیا جا رہا ہے،اس معاملے کی مکمل اور شفاف تحقیقات انتہائی ضروری ہیں۔

    یہ دیکھنے کی بھی ضرورت ہے کہ تھانہ سول لائن نے کیا قانونی کارروائی کی اور کرائم سین یونٹ کوہسپتال میں بلایا گیا؟ ،اگرکرائم سین یونٹ موقع پر پہنچا ہے توکیاانہوں نے تمام پہلوں کا جائزہ لیا؟بچے کے سر کا پوسٹ مارٹم کرایا اور سی سی ٹی وی کیمروں کے ریکارڈ کو چیک کیا؟۔ شہریوں نے وزیراعلی پنجاب اور اعلی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس افسوسناک واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آزادانہ تحقیقات کو یقینی بنایا جائے تاکہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات کا سدباب ہو سکے۔

  • پی اے ایف اکیڈمی اصغر خان میں ایئر ڈیفنس کورس کی پاسنگ آؤٹ تقریب

    پی اے ایف اکیڈمی اصغر خان میں ایئر ڈیفنس کورس کی پاسنگ آؤٹ تقریب

    پی اے ایف اکیڈمی اصغرخان میں 150ویں جی ڈی (پی)، 96ویں انجینئرنگ اور 106ویں ایئر ڈیفنس کورس کی پاسنگ آؤٹ تقریب کا انعقاد کیا گیا۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق 26ویں اے اینڈ ایس ڈی، 9ویں لاجسٹکس اور 132ویں کامبیٹ سپورٹ کورسز کی گریجویشن تقریب بھی منعقد ہوئی، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا گریجوایشن پریڈ کے مہمان خصوصی تھے،اس موقع پر پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو بھی تقریب میں موجود تھے،مجموعی طور پر 139 ایوی ایشن کیڈٹس، 8 جینٹل مین کیڈٹس اور 2 نیول کیڈٹس پاس آؤٹ ہوئے،چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف ٹرافی ایوی ایشن کیڈٹ اسپورٹس سارجنٹ عمران رضا کے نام رہی، کامبیٹ سپورٹ کورس میں بہترین کارکردگی کی ٹرافی ایوی ایشن کیڈٹ عثمان رشید نے جیتی جبکہ ایئر ڈیفنس کورس میں بہترین کارکردگی کی ٹرافی ایوی ایشن کیڈٹ سارجنٹ حسیب عبد المالک کو ملی، نیول کیڈٹ سارجنٹ حافظ علی اسد کو کالج آف ایرو ناٹیکل انجینئرنگ کی تلوارِ اعزاز سے نوازا گیا، کالج آف فلائنگ ٹریننگ میں بہترین کارکردگی پر ایوی ایشن کیڈٹ عبداللہ سعد علی کو تلوارِ اعزاز دی گئی۔

    چئیرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کی گریجویٹ ہونے والے کیڈٹس اور ان کے اہل خانہ کو مبارکباد دی، پریڈ کے اختتام پر پی اے ایف اکیڈمی کی ایروبیٹکس ٹیم "شیر دل” نے شاندار فضائی کرتب دکھائے،پی اے ایف کے معراج، ایف 16، جے ایف 17 تھنڈرز اور جے-ل 10 سی فائٹر جیٹس نے شاندار فلائنگ فارمیشن کی صورت میں مہارت دکھائی، پریڈ میں اعلیٰ فوجی اور سول حکام اور پاس آؤٹ ہونے والےکیڈٹس کے والدین نے شرکت کی

  • ڈی آئی خان، فورسز کو مطلوب دو دہشت گرد جہنم واصل

    ڈی آئی خان، فورسز کو مطلوب دو دہشت گرد جہنم واصل

    ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے تحصیل درابن کلاچی میں انسداد دہشت گردی ڈپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) اور دہشت گردوں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس کے نتیجے میں دو دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔ سی ٹی ڈی کے اہلکاروں نے ایک کامیاب آپریشن میں دہشت گردوں کا پیچھا کیا اور ان کے ساتھ مقابلہ کیا۔

    ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی شناخت یوسف اور ظاہر خان کے نام سے ہوئی ہے ج یہ دونوں دہشت گرد قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لئے انتہائی مطلوب تھے اور ان پر کئی سنگین وارداتوں میں ملوث ہونے کا الزام تھا۔ ان دہشت گردوں کے خلاف بینکوں کی کرنسی وینوں کی لوٹ مار سمیت دیگر جرائم کی تحقیقات کی جا رہی تھیں۔آپریشن کے دوران دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ اور دیگر سامان بھی برآمد ہوا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ان افراد کا ایک منظم نیٹ ورک تھا اور یہ مختلف غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث تھے۔ سی ٹی ڈی نے اس کامیاب آپریشن پر خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ کارروائی دہشت گردوں کے خلاف جاری جنگ میں ایک اور اہم کامیابی ہے۔

    اس آپریشن میں سی ٹی ڈی کی جانب سے کی گئی پیشہ ورانہ کارروائی نے دہشت گردوں کے نیٹ ورک کے خاتمے کی ایک اور اہم کڑی ثابت کی ہے۔ یہ اس بات کا غماز ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قانون نافذ کرنے والے ادارے بھرپور طریقے سے مصروف ہیں اور ان کی کامیاب کارروائیاں ملک بھر میں دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔یوسف اور ظاہر خان کی ہلاکت نے ایک اور سنگین دہشت گرد گروہ کے خلاف کارروائی میں کامیابی کا نشان ظاہر کیا ہے۔ ان دہشت گردوں کا بینک کرنسی وین لوٹنے جیسی وارداتوں میں ملوث ہونا ایک بڑا مسئلہ ہے، کیوں کہ ان کا تعلق عام عوام کے مالی نقصان سے ہے جو معاشرتی عدم استحکام پیدا کرتا ہے۔ ایسے دہشت گرد صرف تشویش کا سبب ہی نہیں بلکہ عوام کی زندگی کو غیر محفوظ بھی بناتے ہیں۔اس آپریشن سے ظاہر ہوتا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں صرف انفرادی سطح پر نہیں، بلکہ ایک بڑے نیٹ ورک کی مکمل جڑوں کو اکھاڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔دہشت گردوں کے خلاف اس قسم کی کامیاب کارروائیاں امن اور استحکام کے لئے نہایت ضروری ہیں، اور یہ بھی ظاہر کرتی ہیں کہ پاکستان کی فوج، سی ٹی ڈی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی محنت اور لگن سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی حاصل کرنے کے قریب ہیں۔

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس،عمران ،بشریٰ پیش،وکیل صفائی کو ملاجرح کا آخری موقع

    190ملین پاؤنڈز ریفرنس،حتمی فیصلہ دینے سے روکنے کے آرڈر میں توسیع

    190ملین پاؤنڈ کیس زلفی بخاری کی جائیداد ریفرنس سے منسلک کرنے کے احکامات

    190 ملین پاؤنڈ کیس، سپریم کورٹ فیصلے کے بعد عمران نے رعایت مانگ لی

    190 ملین پاؤنڈ کیس،عمران کے گلے کا پھندہ،واضح ثبوت،بچنا ناممکن

    190 ملین پاؤنڈز کیس،اصل الزام ملک ریاض فیملی کی حد تک وہ اشتہاری ہیں ،سلمان اکرم راجہ

    190ملین پاؤنڈز کیس،کتنے گھروں کا چولہا چل سکتا تھالیکن عمران خان نے کیا کیا؟

    190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل،اعظم خان کا عدالت میں دیابیان سامنے آ گیا

  • پاک امریکہ تعلقات میں مزید مضبوطی کے خواہاں ہیں، ترجمان دفترخارجہ

    پاک امریکہ تعلقات میں مزید مضبوطی کے خواہاں ہیں، ترجمان دفترخارجہ

    ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ نے کہا ہے کہ امریکا سے دیرینہ مراسم ہیں، ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت پر مبنی تعلقات کے حامل ہیں،

    ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کی جیت پر صدر مملکت اور وزیر اعظم نے ان کو مبارکباد دی۔ امریکہ کے ساتھ دہائیوں پرانے تعلقات ہیں۔ پاک امریکہ تعلقات میں مزید مضبوطی کے خواہاں ہیں، پاکستان کے امریکا کے ساتھ دیرینہ تعلقات ہیں، پاکستان اور امریکا پرانے دوست اور شراکت دار ہیں، ہم ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت پر مبنی تعلقات کے حامل ہیں۔

    ترجمان دفتر خارجہ نے غزہ جنگ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہیں، پاکستان مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کا حامی ہے، غزہ میں نسل کشی کو فوری بند کرنے کیلئے اقوام عالم اپنا کردار ادا کرے، غزہ میں اسرائیل کی جانب سے نسل کشی کی جنگی جرائم کے تحت تحقیقات ہونی چاہئیے،ہم اقوام متحدہ کی غزہ کی صورتحال سے متعلق رپورٹ کا خیرمقدم کرتے ہیں، ایسے حملوں سے فوری طبی امداد کے طلبگار فلسطینیوں کو امداد کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم محمدشہبازشریف گیارہ نومبر سے سعودی عرب کا دورہ کریں گے ۔وزیر اعظم ریاض میں دوسری مشترکہ عرب اسلامی سربراہی کانفرنس میں شرکت کریں گے۔ کانفرنس میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا ئے گا۔ وزیراعظم اس موقع پرعالمی رہنماؤں سے بھی ملاقاتیں کریں گے پاکستان مسئلہ فلسطین کے دوریاستی حل کاحامی ہے۔۔

    ٹرمپ کی تین شادیاں،26 جنسی ہراسانی کے الزامات،امیر ترین صدر

    ٹرمپ کی جیت،زلفی بخاری کی مبارکباد،ملاقات کی تصویر بھی شیئر کر دی

    ٹرمپ کے دوبارہ صدر منتخب ہونے پر روس،ایران کا ردعمل

    ٹرمپ کو برطانوی،بھارتی وزیراعظم،فرانسیسی،یوکرینی صدر و دیگر کی مبارکباد

    امریکی انتخابات،سیاسی منظر نامے میں اہم تبدیلیاں

    وزیراعظم کی ٹرمپ کو مبارکباد،پاک امریکا تعلقات مزید مضبوط کرنے کا عزم

    اپریل 2022 میں عمران خان سے ملاقات کرنیوالی الہان عمر چوتھی بار کامیاب

    ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں واپسی امریکہ کے لیے ایک نیا آغاز،اسرائیلی وزیراعظم

    ٹرمپ کی فاتحانہ تقریر،ایلون مسک کی تعریفیں”خاص”شخص کا خطاب

    ٹرمپ کا شکریہ،تاریخی کامیابی دیکھی،جے ڈی وینس

    ٹرمپ کو دوبارہ صدر منتخب ہونے پر بلاول کی مبارکباد

  • عمران،بشریٰ نے   ملک ریاض سے غیر قانونی مالی فوائد حاصل کئے

    عمران،بشریٰ نے ملک ریاض سے غیر قانونی مالی فوائد حاصل کئے

    سابق وزیراعظم عمران خان اور بشریٰ بی بی کو ایک نئے کیس میں آنے والے دنوں میں سزا ہونے والی ہے

    بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشری بی بی کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس آخری مرحلے میں داخل ہوگیا ہے،وکلا صفائی نے 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کے 35 گواہوں پر جرح مکمل کرلی. نیب پراسیکیوٹر نے عدالت میں کہا کہ 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں مزید کوئی شواہد پیش نہیں کرنا چاہتے، ، 8 نومبر کو دونوں ملزمان کو 342 کے بیان کے سوالنامے دیے جائیں گے،کیس کا اگلے ہفتے تک فیصلہ متوقع ہو سکتا ہے جس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا سنائی جا سکتی ہے،

    190 ملین پاؤنڈ اسکیںڈل میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے خلاف الزامات کی تفصیل سامنے آئی ہے، برطانیہ میں نیشنل کرائم ایجنسی نے 190 ملین پاؤنڈ کا سراغ لگایا۔190 ملین پاؤنڈ پاکستان منتقل ہونے سے قبل Asset ریکوری یونٹ کے سربراہ شہزاد اکبر نے پراپرٹی ٹائیکون سے خفیہ معاہدہ کیا،بانی پی ٹی آئی رولز آف بزنس 1973 کی خلاف ورزی کے مرتکب پائے گئے۔شہزاد اکبر نے 6 دسمبر 2019 کو نیشنل کرائم ایجنسی کی رازداری ڈیڈ پر دستخط کئے۔بانی پی ٹی آئی نے ملک ریاض کے ساتھ معاہدے کو اپنے اثر و رسوخ سے کابینہ میں منظور کروایا۔بشریٰ بی بی نے بانی پی ٹی آئی کی غیر قانونی سرگرمیوں میں اہم کردار ادا کیا۔بشریٰ بی بی نے 24 مارچ 2021 کو بطور ٹرسٹی القادر یونیورسٹی کی دستاویزات پر دستخط کرکے بانی پی ٹی آئی کی مدد کی۔بانی پی ٹی آئی نے غیر قانونی اور بے ایمانی کرکے 190 ملین پاؤنڈ میں سے 170 ملین پاؤنڈ کی سہولت کاری کی۔خفیہ معاہدے کے ذریعے 190 ملین پاؤنڈ کو حکومت پاکستان کا اثاثہ قرار دیکر رجسٹرار سپریم کورٹ کا اکاؤنٹ استعمال کیا گیا۔شہزاد اکبر اور پراپرٹی ٹائیکون کے مابین ڈیل کے تحت زمین کی خریداری کو معاہدے کے طور پر استعمال کیا گیا۔

    بشریٰ بی بی اور بانی پی ٹی آئی نے اپنی کار خاص فرحت شہزادی کے ذریعے موضع مہرہ نور اسلام آباد میں 240 کنال اراضی حاصل کی۔بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کرپٹ پریکٹسز میں ملوث پائے گئے ہیں۔بانی پی ٹی آئی نے وزارت عظمیٰ کے دوران معروف پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض سے غیر قانونی مالی فوائد حاصل کئے۔پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض سے بانی پی ٹی آئی نے ذولفی بخاری کے ذریعے 458 کنال اراضی القادر یونیورسٹی کیلئے بطور عطیہ حاصل کی۔

    نیب نے یکم دسمبر 2023 کو 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس احتساب عدالت میں دائر کیا۔ریفرنس فائل ہونے کے بعد بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی سے اڈیالہ جیل میں تفتیش کی گئی۔عدالت نے 27 فروری کو بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی پر فرد جرم عائد کی تھی۔190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کا جیل ٹرائل قریبا 12 مہینے تک چلا۔نیب نے پہلے ریفرنس کے 59 گواہان کی فہرست عدالت میں جمع کرائی۔نیب نے 59 گواہان میں سے 24 گواہان کو ترک کیا۔190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں کل 35 گواہان کے بیانات قلمبند کئے گئے۔وکلاء صفائی نے تمام 35 گواہان پر جرح مکمل کی۔190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان، سابق وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک، سابق وفاقی وزیر زبیدہ جلال اور القادر یونیورسٹی کے چیف فنانشل افسر اہم گواہان میں شامل تھے۔

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس،عمران ،بشریٰ پیش،وکیل صفائی کو ملاجرح کا آخری موقع

    190ملین پاؤنڈز ریفرنس،حتمی فیصلہ دینے سے روکنے کے آرڈر میں توسیع

    190ملین پاؤنڈ کیس زلفی بخاری کی جائیداد ریفرنس سے منسلک کرنے کے احکامات

    190 ملین پاؤنڈ کیس، سپریم کورٹ فیصلے کے بعد عمران نے رعایت مانگ لی

    190 ملین پاؤنڈ کیس،عمران کے گلے کا پھندہ،واضح ثبوت،بچنا ناممکن

    190 ملین پاؤنڈز کیس،اصل الزام ملک ریاض فیملی کی حد تک وہ اشتہاری ہیں ،سلمان اکرم راجہ

    190ملین پاؤنڈز کیس،کتنے گھروں کا چولہا چل سکتا تھالیکن عمران خان نے کیا کیا؟

    قومی احتساب بیورو (نیب) کے مطابق ملک کے معروف بزنس ٹائیکون نے سابق وزیرِاعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ کو القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کے لیے جہلم میں 458کنال 4 مرلے اور 58 مربع فٹ زمین عطیہ کی جس کے بدلے میں مبینہ طور پر عمران خان نے بزنس ٹائیکون کو 50 ارب روپے کا فائدہ پہنچایا تھا۔

    اکتوبر 2022 میں نیب نے تحقیقات شروع کردی تھی۔ نیب دستاویزات کے مطابق 3 دسمبر 2019ء کو عمران خان کی زیرِ صدارت کابینہ اجلاس میں بزنس ٹائیکون کو برطانیہ سے ملنے والی 50 ارب روپے کی رقم بالواسطہ طور پر واپس منتقل کرنے کا فیصلہ ہوا تھا۔ رقم این سی اے کی جانب سے پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض سے منی لانڈرنگ کے الزامات پر ضبط کی گئی تھی۔عمران خان نے  ریئل اسٹیٹ ڈویلپر کے حوالے سے کابینہ کے فیصلے کے چند ہفتوں کے اندر القادر یونیورسٹی پروجیکٹ کے لیے ٹرسٹ رجسٹر کیا تھا جو بعد میں یونیورسٹی کے لیے ڈونر بن گیا۔ نیب کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق ٹرسٹ کی رجسٹریشن سے صرف 3 ہفتے پہلے عمران خان کی کابینہ نے نیشنل کرائم ایجنسی کے ذریعے پاکستان کو ملنے والی رقم واپس ملک ریاض کو بالواسطہ طور پر واپس کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

    190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل،اعظم خان کا عدالت میں دیابیان سامنے آ گیا

    نیب راولپنڈی نے اس معاملے میں کرپشن اور کرپٹ پریکٹسز کا نوٹس لیتے ہوئے نیب آرڈیننس 1999 کے تحت پرویز خٹک، فواد چوہدری اور شیخ رشید سمیت 3 دسمبر 2019 کی کابینہ اجلاس میں موجود تمام ارکان کو علیحدہ علیحدہ تاریخوں پر طلب کیا تھا۔2019 میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے بزنس ٹائیکون کے خلاف تحقیقات کیں اور پھر تحقیقات کے نتیجے میں بزنس ٹائیکون نے تصفیے کے تحت 190 ملین پاؤنڈ کی رقم این سی اے کو جمع کروائی۔ اس تصفیے کے نتیجے میں حاصل ہونے والی 190 ملین پاؤنڈز کی رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت ہے جسے پاکستان منتقل کردیا گیا۔

    تاہم پاکستان میں پہنچنے پر کابینہ کے فیصلے کے تحت رقم قومی خزانے کے بجائے سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ تک پہنچی جس میں بزنس ٹائیکون کراچی کے مقدمے میں سپریم کورٹ کو 460 ارب روپے کی تصفیے کے ذریعے قسطوں میں ادائیگی کر رہے ہیں۔ نیب کے مطابق ملزم سے ضبط شدہ رقم واپس اسی کو مل گئی جبکہ یہ رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت تھی مگر اسے ملک ریاض کے ذاتی قرض کو پورا کرنے میں خرچ کیا گیا۔2019 میں عمران خان کی سربراہی میں کابینہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا اور معاملے کو حساس قرار دے کر اس حوالے سے ریکارڈ کو بھی سیل کردیا گیا تھا۔

    القادر ٹرسٹ میں عمران خان اور بشری کا کردار بطور ٹرسٹی ہے،وکلاء

    بطور وزیراعظم اکیلا ذمہ دار نہیں تھا کابینہ کا فیصلہ اجتماعی ہوتا ہے،عمران خان

    امریکہ کے خلاف تحریک چلانے والی پی ٹی آئی اب عمران خان کی رہائی کے لئے امریکہ سے ہی مدد مانگ لی

    ریاستِ پاکستان کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی سازش بے نقاب, اپنے ہی پرنسپل سیکرٹری نے سازشی بیانیہ زمیں بوس کردیا

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

    نشہ آور اشیاء چیئرمین پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں پہلی لڑائی کی وجہ بنی،

    190 ملین پاؤنڈزسکینڈل میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور انکی اہلیہ بشریٰ بی بی نے خود فائدہ اٹھایا

  • وزیراعظم شہباز شریف کی کراچی میں چینی شہریوں پر حملے کی مذمت

    وزیراعظم شہباز شریف کی کراچی میں چینی شہریوں پر حملے کی مذمت

    وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے چینی سفارتخانے کا دورہ کر کے کراچی میں چینی شہریوں پر ہونے والے حملے کی سخت مذمت کی ہے۔ وزیراعظم نے چینی حکام کو یقین دہانی کرائی کہ اس واقعے میں ملوث ملزمان کو جلد گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔وزیراعظم ہاؤس کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں چینی سفیر جیانگ زائیڈونگ سے ملاقات کی۔ یہ ملاقات وزیراعظم کے اس عزم کو ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان میں مقیم چینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے گا۔چینی سفیر سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا، "میں چینی شہریوں پر کراچی میں ہونے والے حملے کی شدید مذمت کرنے اور زخمیوں کی صحت کی معلومات حاصل کرنے کے لیے آپ سے ملنے آیا ہوں۔” وزیراعظم نے کہا کہ حکومت اس حملے میں ملوث افراد کو جلد گرفتار کرے گی اور انہیں سخت سزا دلوائے گی۔

    انہوں نے مزید کہا، "میں خود اس عمل کی نگرانی کر رہا ہوں اور چینی شہریوں کو بہترین طبی سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایات دی ہیں۔” وزیراعظم نے یہ بھی بتایا کہ واقعے میں زخمی ہونے والے چینی شہریوں کی صحت میں بہتری آ رہی ہے، جو کہ ایک خوش آئند بات ہے۔وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ "چین پاکستان کا دیرینہ دوست ہے، اور چینی شہریوں پر حملہ پاک چین برادرانہ تعلقات کو نقصان پہنچانے کی مذموم کوشش ہے۔” انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان میں کام کرنے والے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو اپنی اولین ترجیح سمجھتی ہے۔چینی سفیر نے وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ وزیراعظم واقعے کے ذمہ داران کو جلد گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔وزیراعظم کے ہمراہ اس موقع پر نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، وزیرِ داخلہ محسن رضا نقوی، اور معاون خصوصی طارق فاطمی بھی موجود تھے۔