Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • دہشتگردوں کا حملہ،فرنٹیئر کانسٹیبلری کے 10 جوان وطن پر قربان

    دہشتگردوں کا حملہ،فرنٹیئر کانسٹیبلری کے 10 جوان وطن پر قربان

    فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں نے ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے درازندہ میں زام ایف سی چیک پوسٹ پر رات کی تاریکی میں بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا،

    خوارجی دہشتگردوں کا بہادری سے مقابلہ کرتے ہوئے ایف سی کے 10 جوان شہید۔ 3 زخمی ہوئے، ترجمان کے مطابق شہید جوانوں نے جانیں نچھاور کرکے خوارجی دہشتگردوں کا چیک پوسٹ پر حملہ ناکام بنایا۔شہید ہونے والے ایف سی کے 6 جوانوں کا تعلق جنوبی وزیرستان جبکہ 4 جوانوں کا تعلق ضلع کرک سے تھا۔شہداء میں نائب صوبیدار محمد جان، نائیک عارف، لانس نائیک سعید الرحمان،سپاہی اخونزادہ،سپاہی حضرت اللہ شامل ہیں،سپاہی مشتاق، سپاہی عبدالصمد، سپاہی عمران، سپاہی بصیر اور سپاہی مہتاب نے جام شہادت نوش کیا،زخمی ایف سی اہلکاروں نائیک حمزہ، سپاہی حسن اور سپاہی صابر ایوب کو علاج کے لیے سی ایم ایچ ہسپتال ڈیرہ اسماعیل خان منتقل کر دیا گیا ہے

    ترجمان وزارت داخلہ کے مطابق ایف سی کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ایف سی دہشتگردی کی لعنت کے خاتمے اور قیام امن کیلئے پر عزم ہے۔ شہداء کی عظیم قربانیاں ہمارے غیر متزلزل عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔

    ایف سی کے دس جوانوں کی شہادت، صدر مملکت،وزیراعظم، وزیر داخلہ ودیگر کا اظہار افسوس
    صدر مملکت آصف علی زرداری نے ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشت گردوں کے حملے میں ۱۰ ایف سی کے جوانوں کی شہادت پر اظہارِ افسوس کیا ہے،صدر مملکت نے ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشت گردوں کے حملے کی شدید مذمت کی ہے،صدر مملکت نےواقعے میں شہادت پانے والے جوانوں کو خراج عقیدت پیش کیا ہے،صدر مملکت نے شہید جوانوں کے جذبہ حب الوطنی اور بہادری کو سراہا ،صدر مملکت نے واقعے میں شہید ہونے والے جوانوں کے لواحقین کے ساتھ اظہار تعزیت کی،صدر مملکت نے شہداء کیلئے بلندی درجات ، ورثاء کیلئے صبر جمیل کی دعا کی.

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان اور ضلع بنوں میں دہشتگرد حملوں کی شدید مذمت کی ہے، وزیر اعظم نے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے درازندہ میں خوارجی دہشت گردوں کا بہادری سے مقابلہ کرتے ہوئے جام شہادت نوش کرنے والے فرنٹیئر کانسٹیبلری کے اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کیا ہے، وزیراعظم نے ضلع بنوں میں دہشت گرد حملے میں دو پولیس اہلکاروں کی شہادت پر اظہار افسوس کیا ہے، وزیراعظم نے شہداء کی بلندی ء درجات کی دعاء اور ان کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کی اور کہا کہ دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے پر عزم ہیں ،پوری قوم شہداء کو سلام پیش کرتی ہے

    وفاقی وزیر نجکاری عبدالعلیم خان کا کہنا تھا کہ ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے درازندہ میں ایف سی چیک پوسٹ پر اور بنوں کے علاقے تھانہ جانی خیل میں پولیس موبائل پر بزدلانہ حملہ قابلِ مذمت اور افسوسناک ہے۔ فتنہ الخواج کا مقابلہ کرتے ہوئے فرنٹیئر کانسٹیبلری کے 10 اور پولیس کے 2 جوان شہید ہو گئے۔ سکیورٹی فورسز کی ملک کے امن کے لیے قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گیں۔ اللہ تعالٰی شہداء کے درجات بلند اور اہل خانہ کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ دُکھ کی اس گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہیں۔

    اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے ڈی آئی خان میں سیکیورٹی چیک پوسٹ پر خوارجیوں کے حملے کی شدید مذمت کی ہے،اسپیکر نےحملے میں ایف سی کے دس بہادد جوانوں کے جانی نقصان پر اظہار افسوس کیا،اسپیکر نے تمام شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور کہا کہ شہدا قوم کا فخر ہیں،شہدا کی دفاع وطن کے لیے دی گئی عظیم قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائےگا ، دکھ اور غم کی گھڑی میں شہداء کے اہلخانہ کے غم اور صدمے میں برابر کا شریک ہوں،دہشتگرد عناصر کو کبھی انکے ناپاک عزائم میں کامیاب نہیں ہونے دیں گے،پوری قوم دہشتگردی کے خاتمے کے لیے اپنے سیکیورٹی اداروں کے ساتھ کھڑی ہے،

    قومی وطن پارٹی کے چیئرمین آفتاب شیر پاؤ کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخواہ کے جنوبی اضلاع میں ایک بار پھر دہشتگردی کی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔ تازہ ترین واقعہ میں درازندہ، ڈیرہ اسماعیل خان میں خوارج کے ایف سی کی پکٹ پر حملہ اور 10 جوانوں کی شہادت نہادت تکلیف دہ سانحہ ہے۔وفاقی اور صوبائی حکومتیں سیاست کررہی ہیں اور اس سنگین مسئلہ پر کوئی توجہ نہیں جہاں ہم روزانہ کی بنیاد پر قیمتی جانوں کا ضیاع دیکھ رہے ہیں

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ڈیرہ اسماعیل خان میں ایف سی چیک پوسٹ پر دہشتگردوں کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی، وزیر داخلہ نے بنوں میں ایس ایچ او تھانہ جانی خیل کی گاڑی اور کوہاٹ میں سب انسپکٹر پر فائرنگ کے واقعات کی بھی مذمت کی۔محسن نقوی نے زام چیک پوسٹ پر حملے میں شہید ایف سی کے 10 اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کیا۔

  • قاضی فائز عیسیٰ کے اعزاز میں فل کورٹ ریفرنس،کئی ججز شریک نہ ہوئے

    قاضی فائز عیسیٰ کے اعزاز میں فل کورٹ ریفرنس،کئی ججز شریک نہ ہوئے

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے اعزاز میں فل کورٹ ریفرنس کا انعقاد کیا گیا

    فل کورٹ ریفرنس کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا،فل کورٹ ریفرنس میں ایڈہاک ججز سمیت سپریم کورٹ کے ججز شریک ہیں،سینئر پیونی جج جسٹس منصور علی شاہ بیرون ملک ہونے کے باعث شریک نہ ہوئے،جسٹس منیب اختر، جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس اطہر من اللہ بھی فل کورٹ میں شریک نہ ہوئے،جسٹس شہزاد احمد خان بھی فل کورٹ ریفرنس میں شریک نہ ہوئے،فل کورٹ ریفرنس میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی ،نامزد چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سمیت سپریم کورٹ کے دیگر ججز شریک ہیں ،فل کورٹ ریفرنس میں سپریم کورٹ کے وکلاء، عدالتی عملہ اور صحافیوں کی بڑی تعداد شریک ہے،ریفرنس میں جسٹس یحییٰ آفریدی ،جسٹس امین الدین خان ،جسٹس جمال خان مندوخیل شریک ہیں،ریفرنس میں جسٹس محمد علی مظہر ،جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس شاہد وحید شریک ہیں،ریفرنس میں جسٹس مسرت ہلالی ،جسٹس عرفان سعادت خان ،جسٹس نعیم اختر افغان شریک ہیں،الوداعی ریفرنس میں جسٹس شاہد بلال حسن اور جسٹس عقیل عباسی شریک ہیں،الوداعی ریفرنس میں ایڈہاک ججز جسٹس سردار طارق مسعود اور جسٹس مظہر عالم میاں بھی شریک ہیں، الوداعی ریفرنس میں شریعت اپیلیٹ بنچ کے دو عالم ججز بھی شریک ہیں،الوداعی ریفرنس میں 12 مستقل جج صاحبان، 2 ایڈہاک ججز اور 2 عالم ججز شریک ہیں

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے یقینی بنایا کہ انٹیلی جنس ایجنسیز اپنی حدود میں کام کریں، اٹارنی جنرل
    چیف جسٹس پاکستان قاضی عیسیٰ کے لیے الوداعی فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے خود کو بطور قابل وکیل منوایا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بلوچستان بار ایسوسی ایشن کی بھی نمائندگی کی، چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے بلوچستان میں تعلیمی نظام کی روانی یقینی بنائی، انہوں نے بلوچستان میں جنگلی حیات کو بچانے کے لیے کردار اداکیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بطور چیف جسٹس بلوچستان 5 سال خدمات انجام دیں، انہوں نے خواتین کے حقوق کے لیے کردار ادا کیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے یقینی بنایا کہ انٹیلی جنس ایجنسیز اپنی حدود میں کام کریں، سیاسی معاملات میں مداخلت نہ کریں،چیف جسٹس کا عہدہ سنبھالتے ہی قاضی فائیزعیسیٰ نے طویل وقفے تک نہ بلائی گئی فل کورٹ میٹنگ بلائی اور عوامی اہمیت کے مقدمات کو براہ راست نشر کرنے کا فیصلہ کیا، تاکہ شفافیت اور عوامی رسائی کو یقینی بنایا جا سکے۔

    میری زندگی میں ویٹو پاور میری اہلیہ کو حاصل،ہر کریڈٹ میں میری اہلیہ کاہاتھ ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ
    فل کورٹ ریفرنس ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اردومیں تقریر کی اور کہا کہ میں آج اردو میں خطاب کرنا چاہوں گا،آج آئین اور قانون کی باتیں نہیں کروں گا،تقریب میں شریک تمام افراد کامشکور ہوں، اٹارنی جنرل اورفاروق ایچ نائیک کا بھی مشکورہوں ، ان لوگوں کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں جو یہاں موجود نہیں ،افتخار چودھری کاشکریہ جنہوں نے چیف جسٹس بلوچستان بنایا،میرے پیشے اور شادی کو 42 سال ہوگئے،میری اہلیہ نے ہر مشکل وقت میں میرا ساتھ دیا،میری زندگی میں ویٹو پاور میری اہلیہ کو حاصل ہے،ہر کریڈٹ میں میری اہلیہ کاہاتھ ہوتا تھا، مجھے کسی سے سیکھنے کو نہیں ملا، وکیلوں نے مجھے بہت سکھایا، بلوچستان میں ایک غیر فعال عدالت عالیہ کا کام شروع ہوا، بلوچستان میں بہت ساری چیزیں کیں،میرے والد بلوچستان کے پہلے بیرسٹر تھے، میری والدہ نے مجھے نصیحت دی ڈگری کرلو پھر جو مرضی کرلینا، تعلیم کے فوراً بعد میری شادی بھی ہوگئی،مجھے ایک دفعہ کال آئی کہ چیف جسٹس بلا رہے ہیں، میں انگریزی اخبار میں لکھ رہا تھا، مجھے لگا چیف جسٹس نے ڈانٹنے کے لیے بلایا ہے، چیف جسٹس نے کہا بلوچستان میں کوئی جج نہیں، آپ چیف جسٹس بنیں، چیف جسٹس بلوچستان بننے کے بعد زندگی بدل گئی، بلوچستان میں جو کام کیے ان کا لوگوں کو معلوم ہے، بلوچستان میں جو کیا اہلیہ کا کردار تھا لیکن اہلیہ نے کہا نام نہیں لایا جائے گا،بلوچستان کے ہر ڈسٹرکٹ میں اہلیہ کے ساتھ گیا، دو لوگ میرے ساتھ آئے، پروفیسر ڈاکٹر مشتاق بطور پرائیویٹ سیکریٹری اور محمد صادق بلوچستان سے ساتھ آئے، جزیلا اسلم کا بطور رجسٹرار انتخاب کرنا اچھا فیصلہ تھا، کبھی کاز لسٹ بنانے میں دخل نہیں کیا۔

    چیف جسٹس فائز عیسی کو اشتعال دلایا جائے تو جہنم کی آگ بھی ان کے سامنے کچھ نہیں، نامزد چیف جسٹس یحییٰ آفریدی
    نامزد چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے فل کورٹ ریفرنس سے خطاب میں کہا کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کے جانے پر خوشی بھی ہے اور افسوس بھی، کچھ لوگوں کو شاید عجیب لگے لیکن جسٹس فائز عیسی کو مسکرا کر ملیں تو ایسے ہی جواب ملتا،الوداعی ریفرنس سے نامزد چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کے خطاب پر کمرہ عدالت میں قہقہے گونج اٹھے، جسٹس یحییٰ آفریدی کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نرم مجاز انسان ہیں، اگر آپ قاضی فائز عیسیٰ کو اکسائیں گے تو پھر آپ پر قیامت ٹوٹ پڑے گی ان کے غصے سے بچنا مشکل ہے، میں نے بھی ایک مرتبہ چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز کے غصے کا سامنا کیا،میرا یہ تجزیہ کچھ زیادہ اچھا نہیں رہا، اگر چیف جسٹس فائز عیسی کو اشتعال دلایا جائے تو جہنم کی آگ بھی ان کے سامنے کچھ نہیں، چیف جسٹس فائز عیسی جسٹس یحی آفریدی کی باتیں سن کر ہنسنے لگے،نامزد چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس کے اعزاز میں ظہرانہ سرکاری خرچ پہ نہیں بلکہ ذاتی خرچ پر ہے۔ چیف جسٹس نے اپنے دور میں خواتین اور بچوں کے حقوق کا تحفظ کیا، چیف جسٹس کا موڈ غصے کے آدھے گھنٹے بعد نارمل ہوجاتا تھا،چیف جسٹس کے اعزاز میں آج دیا جانے والا ظہرانہ سرکاری خرچ پر نہیں، چیف جسٹس نے کہا ظہرانے کا خرچ آپ خود اٹھائیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی کمی محسوس کریں گے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اچھا دور گزار کرجارہے ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو بہترین انسان پایا،چیف جسٹس خواتین کے حقوق کے لیے پیش پیش رہے ہیں چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ سے بہت کچھ سیکھا ہے،میں اور ساتھی ججز ساتھی ججز اور متعلقہ ہائی کورٹس کے تعاون سے دعا ہے اللہ ہمیں کامیاب کرے، چیف جسٹس کے اہل خانہ کیلئے نیک تمنائوں کا اظہار کرتا ہوں،قوم کیلئے ضروری ہے کہ اختیارات کی تقسیم اور قانون کی بالادستی یقینی بنائی جائے، فوری طور پر دور دراز علاقوں کی ضلعی عدلیہ پر توجہ دینا ہوگی، میری پہلی ترجیح دوردراز علاقوں کی ضلعی عدلیہ ہوگی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عدلیہ پر بیرونی دباو کو نظر انداز کیا،جسٹس منصور کا خط

    طاقتوروں کا وار کامیاب،یحییٰ آفریدی چیف جسٹس،فیض حمید کا فیصلہ چند دن میں

    بس ایک دن کیلئے برداشت کر لیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    سپریم کورٹ میں 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف ایک اور درخواست

    جسٹس منصور علی شاہ کا چیف جسٹس کو خط،مخصوص بنچ میں بیٹھنے سے معذرت

    رجسٹرار آفس کو آئینی بنچ کے حوالے سے پالیسی دے دی ہے،نامزد چیف جسٹس

    پی ٹی آئی کو جسٹس یحییٰ آفریدی کی تقرری پر نہیں، آئینی ترامیم پر تحفظات ہے: شعیب شاہین

    سپریم کورٹ،برطرف ملازمین بحالی کی درخواست آئینی بینچز کو بھیج دی گئی

    40 فیصد مقدمات آئینی بنچوں کو منتقل کئے جائیں گے

  • عافیہ صدیقی رہائی کیس، حکومت کا وفد امریکا بھیجنے کا فیصلہ

    عافیہ صدیقی رہائی کیس، حکومت کا وفد امریکا بھیجنے کا فیصلہ

    اسلام آباد ہائیکورٹ ،ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو وطن واپس لانے سے متعلق فوزیہ صدیقی کی درخواست پر سماعت ہوئی

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو وطن واپس لانے سے متعلق فوزیہ صدیقی کی درخواست پر سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے کی،ایڈیشنل اٹارنی جنرل، نمائندہ وزارت خارجہ عدالت میں پیش ہوئے،فوزیہ صدیقی کے وکیل عمران شفقت اور عدالتی معاون زینب جنجوعہ بھی عدالت میں پیش ہوئے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ حکومت عافیہ صدیقی کیس میں وفد امریکہ بھیجے گی، وفد میں سابق اور موجودہ ، پارلیمنٹیرینز ،سنییٹرز اور ریٹائرڈ یاحاضر سروس آرمی آفیشلز، ڈاکٹرز اور فوزیہ صدیقی شامل ہونگ،وزارت خارجہ کے نمائندے نے عدالت کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ وزارت خارجہ نے امریکا کے ساتھ پریزنر ٹرانسفر ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کا پرپوزل شئیر کر دیا ہے،

    فوزیہ صدیقی کی وکیل زینب جنجوعہ نے کہاکہ ڈاکٹر فوزیہ کی بھی درخواست ہے میرا بھی یہ خیال ہے عافیہ صدیقی کا میڈیکل چیک اپ کروایا جائے،جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وزارت خارجہ کیا کر سکتا ہے،پی ٹی اے سے متعلق جواب کب تک آ جائے گا،نمائندہ وزارت خارجہ نے کہا کہ امریکا کاعلم نہیں جواب کب آئے گا ممکن ہےکہ جلد جواب آ جائےگا،فوزیہ صدیقی کی وکیل زینب جنجوعہ نے کہاکہ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی اور فیملی کی درخواست ہے عافیہ صدیقی کے لیے ڈاکٹرزپاکستان سے بھیجے جائیں، عدالت نے کیس کی سماعت اگلے ہفتے تک کیلئے ملتوی کر دی۔

    ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کی چابی اسلام آباد میں بیٹھے حکمرانوں کے پاس ہے،مشتاق احمد

    عافیہ کی جان خطرے میں،حکومت واپسی کے اقدامات کرے،ڈاکٹر فوزیہ

    یاد رہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی اس وقت امریکہ کی جیل میں‌ ہیں اور انہیں‌ چھیاسی برس کی سزا سنائی گئی ہے. اہل خانہ کی طرف سے حکومت سے بار بار اپیل کی گئی ہے کہ وہ ان کی رہائی کیلئے کردار ادا کرے مگر ابھی تک کوئی بھی حکومت عافیہ صدیقی کو پاکستان واپس نہیں لا سکی

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملاقات کروائی جائے، اہلخانہ عدالت پہنچ گئے

    نئی حکومت ڈاکٹرعافیہ صدیقی کو رہا کرائے،مولانا عبدالاکبر چترالی کا مطالبہ

     ایک ماہ کے بعد دوسری رپورٹ آئی ہے جو غیر تسلی بخش ہے ،

    عالمی یوم تعلیم امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے نام منسوب

    امریکی جیل میں ڈاکٹرعافیہ صدیقی پرحملہ:پاکستان نے امریکہ سے بڑا مطالبہ کردیا ،

    ڈاکٹرعافیہ کی رہائی کی چابی واشنگٹن نہیں اسلام آباد میں پڑی ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف سے امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کی ملاقات،ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کا مطالبہ

    عافیہ صدیقی کیلئے رحم کی اپیل کرتے ہوئے حکومت اتنا ڈر کیوں رہی ہے؟ عدالت

  • اقوام متحدہ کے امن مشن میں پاکستان کا عظیم کردار

    اقوام متحدہ کے امن مشن میں پاکستان کا عظیم کردار

    دوسری جنگ عظیم کی تباہ کاریوں کے بعد آئندہ نسلوں کو ممکنہ جنگوں سے بچانے اور دنیا بھر میں امن و امان کا قیام یقینی بنانے کےلیے اقوام متحدہ کا قیام 24 اکتوبر 1945 کو عمل میں لایا گیا

    اقوام متحدہ کے امن مشن میں پاکستان کا کردار شروع ہی سے مثالی رہا ہے،پاکستان اپنے قیام کے اگلے ہی ماہ یعنی 30 ستمبر 1947 کو اقوام متحدہ کا رکن بنا اور 1960 میں اقوام متحدہ کے امن مشن کا حصہ بن گیا،اقوام متحدہ کے امن مشن کے تحت پاک فوج نے نمایاں اور مثالی خدمات سرانجام دی ہیں،پاکستان کے قیام سے لے کر اب تک پاکستان نے اقوام متحدہ کے 23 ممالک کے بے شمار امن مشنز میں خدمات فراہم کی ہیں،جب کہ اس وقت بھی پاک فوج و پولیس کے ہزاروں جوان و افسران اقوام متحدہ کے امن مشن میں حصہ لے رہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ اقوام متحدہ کے امن مشن میں پاک فوج کی بے مثال خدمات کا اعتراف اقوام متحدہ سمیت دنیا کے اہم رہنماؤں نے ہمیشہ کیا،اس وقت 3 ہزار کے قریب پیس کیپر اقوام متحدہ کے امن مشن کے تحت خدمات سرانجام دے رہے ہیں،یہ امن دستے ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو، جنوبی سوڈان، وسطی افریقی جمہوریہ، قبرص، مغربی صحارا اور صومالیہ کے امن مشنز میں خدمات سر انجام دے رہے ہیں،1960 سے لے کر اب تک پاکستان نے دنیا کے تقریباَ تمام براعظموں سمیت 29 ممالک میں اقوامِ متحدہ کے 48 امن مشنز میں 2 لاکھ 35 ہزار فوجیوں کو تعینات کیا، ایک رپورٹ کےمطابق اقوام متحدہ کے امن مشنوں کے دوران 27 افسران سمیت 171 پاکستانی فوجیوں نے عالمی امن کی بحالی کے لیے اپنی جانیں قربان کیں،پاکستان وہ واحد ملک ہے جس نے پسماندہ ملکوں میں مشکل حالات سے نمٹنے کے لئے امن کے قیام کے حوالے سے جاری آپریشن میں خواتین کی نمائندگی اور درجہ بندی پر خصوصی توجہ دی ہے

    کٹھن چیلنجز کے باوجود اقوام متحدہ میں شامل افواج پاکستان کے جوان اورافسران ثابت قدمی کے ساتھ ڈٹے ہوئے ہیں اوراقوام متحدہ کے چارٹر ،سلامتی کونسل کے فیصلوں کے مطابق دنیا میں امن کے لیے اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں ،امن فوج کے یہ جوان مذہب، نسل، زبان اور رنگ کے تعصب سے بالا تر ہو کر صرف انسانیت کی مدد کر رہے ہیں

    امن مشن کی 75 ویں سالگرہ،شہداء پاکستان کیلئے اعزازات کا اعلان

    اقوام متحدہ امن مشن میں کتنی پاکستانی خواتین اہلکار ہیں؟ ڈی جی ملٹری آپریشنز نے بتا دیا

    افغانستان میں جنگ بہت ہو چکی، اب امریکا کی کیا خواہش ہے؟ زلمے خلیل زاد بول پڑے

  • آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کی عالمی سطح پر خدمات کی پذیرائی

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کی عالمی سطح پر خدمات کی پذیرائی

    پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہ، آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کی عالمی سطح پر پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور قیادت کا اعتراف کیا جانے لگا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے معروف جریدے "یونی پاتھ” نے اپنے حالیہ شمارے میں انہیں انتہا پسندی کے خلاف ایک مضبوط اور مؤثر آواز قرار دیا ہے۔ یہ مضمون جنرل عاصم منیر کی فوجی قیادت، انسداد دہشتگردی کی کامیاب کارروائیوں اور پاکستان کی معاشی و سماجی ترقی کے لیے کیے گئے اقدامات کا احاطہ کرتا ہے، جو کہ عالمی سطح پر پاکستان کی کامیابیوں کو نمایاں کرنے کا اہم موقع ہے۔

    جنرل عاصم منیر: انتہا پسندوں کے خلاف ایک مضبوط آواز
    یونی پاتھ نے اپنے مضمون میں جنرل سید عاصم منیر کو "انتہا پسندوں کے خلاف ایک مضبوط آواز” قرار دیا ہے۔ یہ تعریف جنرل عاصم منیر کے مؤثر اور مستعد قیادت پر مرکوز ہے، جو انہوں نے نومبر 2022 میں بطور آرمی چیف پاکستان کی فوج کی کمان سنبھالنے کے بعد دکھائی۔ مضمون میں اس بات پر زور دیا گیا کہ جنرل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن کیے، جن میں 22,409 انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیاں شامل تھیں، جن کے نتیجے میں 398 دہشت گردوں کا خاتمہ کیا گیا۔ ان آپریشنز نے نہ صرف ملک کی سلامتی کو مستحکم کیا بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سنجیدگی اور عزم کو بھی اجاگر کیا۔
    unipath
    انسداد دہشت گردی میں کلیدی کردار
    یونی پاتھ نے آرمی چیف کی قیادت میں پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کی بھرپور تعریف کی ہے۔ جنرل عاصم منیر کے دور میں دہشت گردوں کے خلاف جو آپریشنز ہوئے، ان کا مقصد شدت پسند گروہوں کی جڑیں کاٹنا اور ملک میں استحکام کو فروغ دینا تھا۔ مضمون میں اس بات پر زور دیا گیا کہ جنرل سید عاصم منیر نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں واضح پیغام دیا کہ "دہشت گردوں کو ریاست کی رٹ کے سامنے جھکنا ہوگا۔” ان کا یہ عزم واضح کرتا ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کے نیٹ ورکس کو تباہ کرنے اور ملک کے عوام کی حفاظت کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گا۔

    ففتھ جنریشن وارفیئر سے نمٹنے کی تیاری
    جنرل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان کی فوج نے روایتی جنگ کے علاوہ ففتھ جنریشن وارفیئر جیسے نئے چیلنجز کا بھی سامنا کیا۔ یونی پاتھ جریدے نے جنرل عاصم منیر کی اس معاملے میں شعور اور تیاری کی تعریف کی ہے۔ مضمون کے مطابق، آرمی چیف نے ففتھ جنریشن وارفیئر کی پیچیدگیوں کو تسلیم کرتے ہوئے فوج کی جدید تربیت اور تیاری پر زور دیا ہے، تاکہ پاکستان کی خودمختاری اور دفاع کے لیے ہر قسم کے خطرات سے نمٹا جا سکے۔

    ایران کے میزائل حملوں کا جواب اور فوجی کامیابیاں
    یونی پاتھ جریدے نے پاکستان کی فوج کی حالیہ کارروائیوں کو بھی اجاگر کیا، خاص طور پر ایران کی طرف سے میزائل حملوں کے بعد کی گئی جوابی کارروائیوں کا ذکر کیا گیا۔ جنرل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے ایران میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر اپنی دفاعی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ اس کامیابی نے نہ صرف پاکستان کی فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو دنیا کے سامنے پیش کیا بلکہ خطے میں پاکستان کے مضبوط اور موثر دفاعی کردار کو بھی اجاگر کیا۔

    معیشت کی ترقی اور خصوصی اقدامات
    یونی پاتھ نے آرمی چیف کے اقتصادی ترقی کے اقدامات کی بھی تعریف کی ہے۔ جنرل عاصم منیر نے ملک میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل اور گرین پاکستان انیشیٹو جیسے منصوبوں کی حمایت کی ہے۔ ان اقدامات کا مقصد نہ صرف ملک کی معیشت کو مستحکم کرنا ہے بلکہ نئے روزگار کے مواقع پیدا کر کے عوام کی فلاح و بہبود کو بھی یقینی بنانا ہے۔

    اقلیتوں کا تحفظ اور مذہبی ہم آہنگی
    آرمی چیف کی سماجی اصلاحات کی کاوشوں کو بھی یونی پاتھ جریدے میں سراہا گیا۔ جنرل سید عاصم منیر نے پاکستان میں اقلیتوں کے تحفظ اور مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں۔ جریدے کے مطابق، آرمی چیف نے عدم برداشت کی ہر قسم کی کارروائیوں کی سخت مذمت کی ہے اور مذہبی ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ان کے اس مؤقف کو بین الاقوامی سطح پر بھی تسلیم کیا جا رہا ہے اور اس سے پاکستان کا بین الاقوامی امیج بہتر ہوا ہے۔

    عالمی فوجی تعلقات اور ملٹری ڈپلومیسی
    جنرل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان کی فوج نے نہ صرف ملکی سطح پر بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اپنی سفارتی اور فوجی تعلقات کو مضبوط کیا ہے۔ جریدے نے امریکہ سمیت دیگر ممالک کے ساتھ پاکستان کے فوجی تعاون کو سراہا ہے۔ آرمی چیف کے دور میں کئی مشترکہ فوجی مشقیں ہوئیں، جن کا مقصد بین الاقوامی فوجی روابط کو مزید فروغ دینا تھا۔ ان مشقوں میں پاکستان کی فعال شرکت نے ملک کی فوجی صلاحیتوں کو دنیا کے سامنے نمایاں کیا۔

    اندرونی چیلنجز سے نمٹنے کا وژن

    یونی پاتھ نے جنرل سید عاصم منیر کے مستقبل کے وژن پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ جریدے کے مطابق، آرمی چیف کا مقصد اندرونی چیلنجز کا سامنا کرنا اور ملک کی مسلح افواج اور عوام کے درمیان پیشہ ورانہ مہارت اور اتحاد کو فروغ دینا ہے۔ اس وژن کے تحت جنرل عاصم منیر ملک میں معاشرتی اور اقتصادی ترقی کو یقینی بنانے کے لیے کوشاں ہیں اور فوج کے کردار کو قومی تعمیر میں مزید فعال بنانے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔

    دفاعی ماہرین کی آراء
    دفاعی ماہرین نے یونی پاتھ جریدے میں شائع ہونے والے مضمون کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق، کسی بھی ملک کے آرمی چیف کے بارے میں لکھا جانے والا یہ مضمون ایک غیر معمولی اعزاز ہے، اور اس میں بیان کردہ حقائق حقیقت پر مبنی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جنرل سید عاصم منیر نے اپنی قائدانہ صلاحیتوں، دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائیوں، اور ملک کی معاشی و سماجی ترقی کے لیے کیے گئے اقدامات کے ذریعے پاکستان کی عالمی سطح پر مثبت تصویر پیش کی ہے۔

    یونی پاتھ: ایک پیشہ ور فوجی جریدہ
    یونی پاتھ جریدہ امریکی سینٹرل کمانڈ کے زیرِ نگرانی شائع کیا جاتا ہے اور اسے مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا میں فوجی اہلکاروں کے لیے ایک اہم فورم کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ جریدے میں شائع ہونے والے مضامین خالصتاً فوجی نوعیت کے ہوتے ہیں اور انہیں عالمی سطح پر انتہائی اہمیت دی جاتی ہے۔
    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کی عالمی سطح پر پیشہ ورانہ خدمات کی پذیرائی پاکستان کے لیے ایک اعزاز ہے۔ یونی پاتھ جیسے اہم جریدے میں ان کی قیادت اور صلاحیتوں کا اعتراف ملک کی فوجی و سماجی کامیابیوں کا عالمی سطح پر اظہار ہے۔ جنرل عاصم منیر نے اپنی قائدانہ صلاحیتوں سے نہ صرف ملکی استحکام اور سلامتی کو یقینی بنایا ہے بلکہ دنیا کے سامنے ایک مضبوط اور محفوظ پاکستان کا تصور بھی پیش کیا ہے۔

  • طاقتوروں کا وار کامیاب،یحییٰ آفریدی چیف جسٹس،فیض حمید کا فیصلہ چند دن میں

    طاقتوروں کا وار کامیاب،یحییٰ آفریدی چیف جسٹس،فیض حمید کا فیصلہ چند دن میں

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ آخر کار وہی ہو گیا جس کی امید کی جا رہی تھی، جسٹس یحییٰ آفریدی اگلے چیف جسٹس پاکستان ہوں گے، پارلیمانی کمیٹی نے منظوری دی تو وزیراعظم نے صدر کو نام بھیجا، صدر نے بھی بھی منظوری دے دی

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اپنے وی لاگ میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ جسٹس یحیی آفریدی بطور جسٹس پاکستان چھبیس اکتوبر سےتین سال کیلئے اس عہدے پر رہیں گے ۔اچھی بات یہ ہے کہ جسٹس یحیی آفریدی کی شہرت نہ بے باک فیصلےکرنےاورنہ ہی ضمیر کے مطابق فیصلے کرنے کی ہے۔ بلکہ قانون کےمطابق فیصلے کرنےکی ہے۔ اورقوموں نےقانون پرعمل کرکے ہی ترقی کی ہےاور آگے بڑھی ہیں ۔ اب ملین ڈالر کا سوال یہ ہے کہ کیا وہ سینئر جج جن کو نظرانداز کیا گیا ہے وہ استعفیٰ دیں گے جیسا کہ مسلح افواج میں روایت ہے یا وہ کسی جونیئر کے ماتحت کام کرتے رہیں گے؟ ان کے لیے روز آنا اور کسی جونیئر سے آرڈر وصول کرنا بہت مشکل ہے۔ میں صرف متجسس ہوں کہ دیکھتے ہیں نتیجہ کیا نکلتا ہے۔مگراس تمام منظر نامے میں جو گزشتہ ایک سال سے چل رہا ہے ۔ شیخ رشید احمد کے بعد سب سے زیادہ پیشن گوئیاں اور اندازے ان یوٹیو برز کے غلط ہوئے ۔ جو اس وقت ماتم کناں ہیں ۔ ان میں عمران ریاض ، اظہر صدیق، صدیق جان سمیت ان تما م کورٹ رپورٹر ز کےاندازے او ر تجزیے بالکل غلط ثابت ہوئے ۔ لیکن یہ سب عمران خان کی وجہ سے ایک سیلیبریٹی ضرور بن چکے ہیں اور خوب ڈالر زکما رہے ہیں ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ میری نظر میں پی ٹی آئی کو یہاں پہنچانے میں ان لارے لپاڑوں کاُکلیدی کردار ہے۔شاید اب عمران خان سمیت تحریک انصاف کو عقل آجائے اور سمجھ آجائےکہ خوشامدیوں سے بہتر تنقید کرنے والےصحافی ہوتے ہیں ۔ وارداتیوں سے بچ کے رہنا چاہیئے ۔ کیونکہ اب یہ چند دنوں کی بات لگتی ہے کہ فیض حمید پر فیصلہ اورسزا سامنےآجائے ۔ اس کے بعد عین ممکن ہے کہ عمران خان کا ملڑی ٹرائل کیا جائے اور اگر یہ ہو گیا تو تحریک انصاف تو تتر بتتر ہوگی ہی ۔ عمران خان کا سیاسی کیرئیربھی ختم شد سمجھیں ۔ جبکہ چھبیسویں آئینی ترمیم کے بعد وزیر اعظم کاعہدہ اتنا مضبوط اور طاقتورہو چکا ہے کہ اب کسی وزیراعظم کو ایک فیصلے دے کر گھر بھیجنا ممکن نہیں ۔پھر عدالتیں اب وزیر اعظم کو اس حکم صادرنہیں کر سکتیں جیسے پہلے کیا کرتی تھیں ۔ اب وزیر اعظم کوگھر بھیجنا ہو ۔تو پارلیمنٹ بھیج سکتی ہے یا پھر الیکشن میں ہرا کر ہی گھر بھیجنا ہوگا۔یوں میری نظر شہباز شریف تاریخ کے پہلے وزیر اعظم ثابت ہونے جا رہےہیں جو پانچ سال پورے کرتےدیکھائی دے رہے ہیں ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اچھا چھبیسویں آئینی ترمیم کو لےکر عجیب عجیب کہانیاں چل رہی تھیں ۔ حامد خان کہہ رہے تھےکہ اس کو ہر فورم پر چیلنج کیاجائےگا۔ وکلاء تحریک شروع کیجائے گی مگرآج جیسےہی صدر پاکستان نےجسٹس یحیی آفریدی کی بطور چیف جسٹس منظوری دی تو سپریم کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور لاہور بار کیطرف سے یحییٰ آفریدی کو چیف جسٹس بننےپر مبارکباد کی خبریں رپورٹ ہوگئیں ۔ مطلب وکلاء تحریک والا بیانیہ تو وڑ گیا ۔ پر حامدخان کہتے ہیں کہ میری امید ہے کہ جسٹس یحیی آفریدی نیا عہدہ قبول نہیں کرےگا ۔ورنہ وکیل معاف نہیں کریں گے قوم بھی معاف نہیں کرے گی پھر ہم تو تحریک چلائیں گے ۔ حالانکہ ماضی یہ ہے کہ حامد خان اس گروپ میں تھے جس نے ایک جرنیل کے کہنے پر سول سوسائٹی کو دھوکہ دیا اور افتخار چوہدری کو چیف جسٹس بنوا کر ملک کی جمہوریت کو گروی رکھ دیا۔

    بس ایک دن کیلئے برداشت کر لیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    سپریم کورٹ میں 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف ایک اور درخواست

    جسٹس منصور علی شاہ کا چیف جسٹس کو خط،مخصوص بنچ میں بیٹھنے سے معذرت

    رجسٹرار آفس کو آئینی بنچ کے حوالے سے پالیسی دے دی ہے،نامزد چیف جسٹس

    پی ٹی آئی کو جسٹس یحییٰ آفریدی کی تقرری پر نہیں، آئینی ترامیم پر تحفظات ہے: شعیب شاہین

    سپریم کورٹ،برطرف ملازمین بحالی کی درخواست آئینی بینچز کو بھیج دی گئی

    40 فیصد مقدمات آئینی بنچوں کو منتقل کئے جائیں گے

  • بس ایک دن کیلئے برداشت کر لیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    بس ایک دن کیلئے برداشت کر لیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    سپریم کورٹ ،خیبرپختونخوامیں شیشم کے درخت کاٹنے کیخلاف کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی،دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے 26 ویں آئینی ترمیم کا حوالہ دیا اور کہا کہ اخبار میں تھا نئی ترمیم میں ماحولیات کے تحفظ سے متعلق کوئی شق شامل کی گئی ، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم میں کہا گیا ہر شہری صحت مندانہ ماحول کا حقدار ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئینی ترمیم میں ماحولیات کے تحفظ کی شق شامل کرنا قابل تعریف ہے،پاکستان کے آئین میں بھی ماحولیات کے تحفظ کا ذکر اب موجود ہے، سائنسی طور پر بھی ثابت ہے قوموں کی اچھی صحت اچھے ماحول پر منحصر ہے، اسلام نے بھی صاف ستھرے ماحول کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے،ماحولیاتی آلودگی کے سبب کئی شہروں میں رہنا مشکل ہوتا جا رہا ہے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کوئی اور لا افسر کیوں نہیں آتا؟ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کے پی کے نے جواب دیا کہ اب آگے باقی لا افسران بھی آیا کریں گے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے مسکراتے ہوئے استفسار کیا کہ آپکے اس جملے میں کہیں کوئی مطلب تو نہیں چھپا ہوا؟ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کے پی کے نے چیف جسٹس کو جواب دیا کہ ایسا نہیں ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ معزز جیسے الفاظ آئینی اداروں کیلئے استعمال نہ کیا کریں، آئینی اداروں کیلئے وہی الفاظ استعمال ہونے چاہیئں جو آئین میں لکھے ہوئے ہیں،بس ایک دن کیلئے برداشت کر لیں، ایسا نہیں ہے ہمیں آپ سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا،عدالت نے خیبرپختوامیں جنگلات کے تحفظ سے متعلق کیس نمٹا دیا

    سپریم کورٹ میں 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف ایک اور درخواست

    جسٹس منصور علی شاہ کا چیف جسٹس کو خط،مخصوص بنچ میں بیٹھنے سے معذرت

    رجسٹرار آفس کو آئینی بنچ کے حوالے سے پالیسی دے دی ہے،نامزد چیف جسٹس

    پی ٹی آئی کو جسٹس یحییٰ آفریدی کی تقرری پر نہیں، آئینی ترامیم پر تحفظات ہے: شعیب شاہین

    سپریم کورٹ،برطرف ملازمین بحالی کی درخواست آئینی بینچز کو بھیج دی گئی

    40 فیصد مقدمات آئینی بنچوں کو منتقل کئے جائیں گے

  • آرمی چیف کا پاک فضائیہ کے آپریشنل ایئر بیس کا دورہ،انڈس شیلڈ مشقوں کا معائنہ

    آرمی چیف کا پاک فضائیہ کے آپریشنل ایئر بیس کا دورہ،انڈس شیلڈ مشقوں کا معائنہ

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے انڈس شیلڈ 2024 مشقوں کا معائنہ کیا اور پاک فضائیہ کی جنگی تیاریوں اور اپگریڈیشن پر اطمینان کا اظہار کیا ہے

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے پاک فضائیہ کی آپریشنل بیس کا دورہ کیا ، آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے کثیرالملکی مشق انڈس شیلڈ 2024 کا مشاہدہ کیا، ایئربیس آمد پر ایئر چیف ظہیر احمد بابر نے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا استقبال کیا، نیول چیف ایڈمرل نوید شریف بھی اس موقع پر موجود تھے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق انڈس شیلڈ 2024 خطے کی سب سے بڑی کثیر الملکی مشق ہے، ان مشقوں میں 24 ایئرفورسز شریک ہیں،آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کو موجودہ سیکیورٹی چیلنجوں سے ہم آہنگ رہنے کے لیے پاک فضائیہ کی جدید کاری کی کوششوں کے بارےبریفنگ دی گئی، آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے پاک فضائیہ کی جنگی تیاریوں اور اپ گریڈیشن کے مختلف پروگراموں کے ذریعے ہونے والی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا،ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق اس موقع پر پاک فضائیہ کے لڑاکا طیاروں کی جانب سے دلکش فضائی نمائش کی گئی، آرمی چیف جنرل سید عاصم منیرنے پاک فضائیہ کے نوجوانوں سے بھی بات چیت کی، آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے پاکستان کی فضائی سرحدوں کی حفاظت کے لیے پاک فضائیہ کے اہلکاروں کے عزم کو سراہا،آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے تینوں مسلح افواج کے مابین تعاون کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ یہ آپریشنل کامیابی کے لیے ناگزیر ہے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فضائیہ کے سربراہ نے آرمی چیف کے دورے پر ان کا شکریہ ادا کیا اور تربیت و آپریشنز میں فوج اور فضائیہ کے درمیان تعاون کو بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا،انہوں نے کہا کہ جاری مشق ”انڈس شیلڈ-2024“ شریک ممالک کے درمیان ہم آہنگی کو مزید مضبوط کرے گی اور ان کے فضائی و زمینی عملے کو موجودہ دور کے جنگی چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے تیار کرے گی۔

  • رجسٹرار آفس کو آئینی بنچ کے حوالے سے پالیسی دے دی ہے،نامزد چیف جسٹس

    رجسٹرار آفس کو آئینی بنچ کے حوالے سے پالیسی دے دی ہے،نامزد چیف جسٹس

    سپریم کورٹ، آئینی بنچز کو مقدمات کی منتقلی کا سلسلہ جاری ہے

    عدالت نے اسلام آباد میں شُفہ سے متعلق مقدمہ آئینی بنچ کو بھجوا دیا ،جسٹس شاہد وحید نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس کیس میں تو آئینی شقوں کی تشریح کرنا ہوگی،یہ مقدمہ تو اب آئینی بنچ کو منتقل ہونا چاہیے، وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ میں یہ کہنا نہیں چاہتا تھا لیکن ہونا یہی چاہیے، نامزد چیف جسٹس یحیٰی آفریدی نے کہا کہ رجسٹرار آفس کو آئینی بنچ کے حوالے سے پالیسی دے دی ہے،آفس کو ہدایت کی ہے جن مقدمات میں کوئی قانون چیلنج ہوا ہے انکی الگ کیٹیگری بنائی جائے، جن مقدمات میں آئین کی تشریح کی ضرورت ہوئی وہ ساتھ ساتھ منتقل کرتے رہیں گے،

    نامزد چیف جسٹس یحیٰی آفریدی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی،سپریم کورٹ کے مختلف بنچز نے گزشتہ روز بھی مقدمات آئینی بنچ کو منتقل کیے تھے

    پی ٹی آئی کو جسٹس یحییٰ آفریدی کی تقرری پر نہیں، آئینی ترامیم پر تحفظات ہے: شعیب شاہین

    سپریم کورٹ،برطرف ملازمین بحالی کی درخواست آئینی بینچز کو بھیج دی گئی

    40 فیصد مقدمات آئینی بنچوں کو منتقل کئے جائیں گے

  • باجوڑ میں انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشن،2 خودکش بمباروں سمیت 9 خوارجی ہلاک

    باجوڑ میں انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشن،2 خودکش بمباروں سمیت 9 خوارجی ہلاک

    باجوڑ: خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ میں سیکیورٹی فورسز کا انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشن، 9 خوارجی دہشت گردہلاک ہو گئے ہیں

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے باجوڑ میں انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشن کیا جہاں فورسز کو گزشتہ روز خارجیوں کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی، آپریشن 23 اور 24 اکتوبر کی درمیانی شب خوارج کی موجودگی کی اطلاع پر کیا گیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز نے خوارج کے ٹھکانے کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا، اس دوران سیکیورٹی فورسز اور خوراجی دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے نتیجے میں 9 خوارجی دہشت گرد مارے گئے جبکہ ہلاک خوار جیو ں میں 2 خود کش بمبار اور ایک اہم خوارجی رہنما سعید المعروف قریشی استاد شامل ہے۔

    آزاد جموں و کشمیر کا 77 واں یوم تاسیس ملی جوش و خروش کے …

    آئی ایس پی آر کے مطابق ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ، گولا بارود اور دھماکا خیز مواد برآمد کر لیا گیا ہے،خوارج سیکیورٹی فورسز اور معصوم شہریوں کے خلاف متعدد دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث تھے، علاقے میں پائے جانے والے مزید کسی خارجی کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے، پاکستان کی سیکورٹی فورسز ملک سے دہشت گردی کے ناسور کر ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

    کراچی: منشیات سپلائی کا نیٹ ورک بے نقاب، خاتون سمیت تین ملزم گرفتار

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے ضلع باجوڑ میں خارجیوں کے خلاف کامیاب آپریشن پر سیکیورٹی فورسز کے افسران و جوانوں کی پزیرائی کی ہے، وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی فورسز کے افسران و جوانوں نے پیشہ ورانہ مہارت سے فتنہ الخوارج کے 9 دھشتگردوں بشمول خود کش بمباروں اور دھشتگردوں کے سرغنہ کو جہنم واصل کیا.
    دھشتگردوں کے خلاف جنگ میں پوری قوم اپنی سیکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے. دھشتگردی کے ملک سے مکمل خاتمے تک اس کے خلاف جنگ جاری رکھیں گے.