Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • ارشد شریف قتل،دو برس بیت گئے، اہلیہ قبر پر پہنچ گئیں

    ارشد شریف قتل،دو برس بیت گئے، اہلیہ قبر پر پہنچ گئیں

    پاکستان کے سینئر صحافی ارشد شریف کے کینیا میں قتل کو دو برس گزر گئے تاہم ملزمان ابھی تک انصاف کے کٹہرے میں نہیں لائے جا سکے

    ارشد شریف کی دوسری برسی کے موقع پر اسلام آباد میں نوجوان صحافیوں کی جانب سے شمعیں روشن کی گئیں،ارشد شریف کی اہلیہ جویریہ قبر پر گئیں اور پھول چڑھائے، شوہر کے لئے دعائے مغفرت کی،

    ارشد شریف کو دو برس قبل کینیا میں گولیاں مار کر قتل کیا گیا تھا، کینیا کی حکومت کے مطابق یہ ایک مبینہ پولیس مقابلہ تھا جس میں ارشد شریف کی موت ہوئی،23 اکتوبر 2022 کو کینیا کے شہر نیروبی میں میگاڈی ہائی وے پر یہ واقعہ پیش آیا تھا جب پولیس نے ایک گاڑی پر گولیاں چلائیں، مرنیوالے کی شناخت ارشد شریف کے طور پر ہوئی،کینیا کی پولیس حکام میں اس کیس میں موقف کے حوالے سے تضاد نظر آیا.پولیس نے ابتدائی بیان میں کہا تھا کہ وہ ایک بچے کی بازیابی کے لئے موجود تھے ،مقامی تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ جس طرح گولیاں چلائی گئیں اس سے یہ نہیں لگتا کہ چلتی گاڑی پر گولیاں چلیں

    واقعے کے وقت ارشد شریف کی کار چلانے والے خرم کے مطابق وہ جائے وقوعہ سےآدھے گھنٹے کی مسافت پر ٹپاسی کے گاؤں تک گاڑی لے گئے تھے،قتل کیس میں ملوث کینیا پولیس کے پانچوں اہلکار بحال ہونے کے بعد ڈیوٹی پر واپس آگئے ہیں،

    پاکستان کی سپریم کورٹ نے ارشد شریف کے قتل پر ازخود نوٹس بھی لیا تھا تاہم کئی سماعتوں کے باوجود کیس کسی فیصلے پر نہ پہنچ سکا،

    صحافی ارشد شریف قتل کیس،پی ایف یوجے نے سپریم کورٹ کو تحقیقات کے لیے خط لکھا تھا،پی ایف یو جے نے چیف جسٹس سے معاملے پر ازخود نوٹس کی اپیل کی تھی،پی ایف یو جے نے سپریم کورٹ کے حاضر سروس جج کی سربراہی میں کمیشن بنانے کی استدعا کی تھی، خط مین کہا گیا کہ ارشد شریف کے قتل سے صحافی برادری گہرے صدمے میں ہیں،پوری قوم ارشد شریف قتل سے جڑے سوالات کے جوابات چاہتی ہے، ارشد شریف کی فیملی اور صحافی برداری کو عدالت عظمیٰ پر اعتماد ہے،سپریم کورٹ صحافی برداری اور ارشد شریف کی فیملی کو انصاف فراہم کرے،

    ارشد شریف کے قتل سے قبل عمران خان کو بڑی کارروائی کا علم تھا،فیصل واوڈا

    ارشد شریف قتل کیس،نوازشریف،مریم کیخلاف سکاٹ لینڈ یارڈ میں کیس بند

    ارشد شریف کیس ،اسلام آباد ہائیکورٹ کاکمیشن بنانے کا عندیہ

    ارشد شریف کیس پر کینیا ہائیکورٹ کا فیصلہ، پی ٹی آئی سازشی تھیوریوں کی موت

    اسلام آباد ہائیکورٹ کاسیکرٹری داخلہ و خارجہ کو ارشد شریف کے اہلخانہ سے رابطے کا حکم

     ارشد شریف کا لیپ ٹاپ ، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے قریبی ساتھی کے پاس ہے

    ارشد شریف قتل کیس، رپورٹ میں ایسا کیا ہے جو سپریم کورٹ میں جمع نہیں کرائی جا رہی؟ سپریم کورٹ

    ارشد شریف قتل کیس،جے آئی ٹی کو تفتیش کے لئے مکمل تیار رہنا ہوگا،سپریم کورٹ

    کینیا کےٹی وی نے صحافی ارشد شریف کے قتل کی تحقیقاتی رپورٹ شائع کردی

    مرحوم صحافی ارشد شریف کی صاحبزادی نےاپنےوالد کی طرح صحافت کا آغاز کردیا

    ارشد شریف قتل کیس،عمران خان،واوڈا،مراد سعید کو شامل تفتیش کیا جائے،والدہ ارشد شریف

    ارشد شریف قتل کیس، کینیا کی عدالت کا ملزمان کیخلاف کاروائی کا حکم

  • وزیراعظم شہباز سے فلسطینی طلبا و طالبات کی ملاقات

    وزیراعظم شہباز سے فلسطینی طلبا و طالبات کی ملاقات

    وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستانی میڈیکل یونیورسٹیز میں زیر تعلیم فلسطینی طلباء و طالبات سے ملاقات کی ہے۔

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پاکستان میں زیر تعلیم فلسطینی طلباء و طالبات کے اعزاز میں خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں وزیراعظم شہباز شریف شریک ہوئے اور فلسطینی طلبا و طالبات سے ملاقات کی، تقریب میں وفاقی وزیر عطا تارڑ،و دیگر بھی موجود تھے،وزیراعظم شہباز شریف نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان جتنا ہمارا گھر ہے اتنا ہی آپ کا گھر بھی ہے۔پاکستان میں 145 فلسطینی طلباء کی موجودگی شروعات ہے,پاکستان فلسطینیوں کا دوسرا گھر ہے ،تمام طلبا کے اخراجات حکومت پاکستان برداشت کرے گی ،آپ مہمان نہیں ہمارے بھائی ہیں،فلسطین میں اسرائیلی بربریت پر دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے،اسرائیل کی جانب سے بے گناہ فلسطینیوں کی نسل کشی جاری ہے، فلسطین میں شہر کے شہر اور گاؤں کے گاؤں تباہی کا منظر پیش کر رہے ہیں،سلامتی کونسل کی قراردادیں اور عالمی عدالت انصاف بے بس نظر آ رہی ہے،عالمی برادری نے جنگ بندی کیلئے مؤثر کردار ادا نہیں کیا،اسرائیل نے اقوام متحدہ کی قراردادوں اور عالمی برادری کی سفارشات کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا ہے،اسرائیل نے ظلم و بربریت سے 43ہزار سے زائد فلسطینیوں کو شہید کر دیا،پاکستان کے عوام مشکل کی اس گھڑی میں فلسطینی اور لبنانی بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں،فلسطینی طلباء کو تعلیم کیلئے پاکستان میں تمام تر سہولیات فراہم کی جائیں گی،فلسطینی طلباء کو سرکاری اخراجات پر تعلیم کی سہولیات فراہم کی جائیں گی،مزید بھی فلسطینی طلباء کو پاکستان لانے اور انہیں تعلیم دینے کیلئے اقدامات کو یقینی بنایا جائے گا

    اس موقع پر تقریب کے دوران فلسطینی طلبا کا کہنا تھا کہ وہ پاکستانی حکومت اور الخدمت فاؤنڈیشن کے مشکور ہیں، یہاں ہمارا خیال اپنے بچوں کی طرح رکھا گیا ہے۔

    یہ ملاقات اور تقریب فلسطینی طلباء و طالبات کے لئے ایک مثبت پیغام ہے کہ پاکستان ان کے ساتھ کھڑا ہے۔ اس طرح کی تقریبات نہ صرف دو طرفہ تعلقات کو مضبوط کرتی ہیں بلکہ انسانی ہمدردی کے جذبے کو بھی اجاگر کرتی ہیں۔ وزیراعظم کا ان طلباء سے ملنا ان کی محنت اور عزم کی قدر کرنے کا ایک اہم اقدام ہے۔ اس کے ساتھ ہی، یہ بات بھی قابل غور ہے کہ بین الاقوامی طلباء کی مدد اور سہولت فراہم کرنے سے پاکستان کی تعلیم کی عالمی حیثیت میں اضافہ ہوگا۔

    یحییٰ سنوار کی موت کیسے ہوئی؟ پوسٹ مارٹم رپورٹ کی تفصیلات

    یحییٰ سنوار کی شہادت اسرائیل کے لیے تباہی کا پیغام ثابت ہوگی،حماس

    یحییٰ سنوار کی موت پر وہی احساسات جو اسامہ بن لادن کی موت پر تھے،جوبائیڈن

    اذکار کے کتابچے،تسبیح، گھڑی،اسلحہ،شہید یحییٰ سنوار کا کل سامان

    حماس کے نئے سربراہ یحییٰ سنوار شہید،حماس کی تصدیق

    اسماعیل ہنیہ پر حملہ،ایران میں تحقیقات کے دوران گرفتاریاں

    حافظ نعیم الرحمان کی اسماعیل ہنیہ کے بیٹوں سے ملاقات، تعزیت کا اظہار

  • سوشل میڈیا پروپیگنڈہ،افواہیں پھیلانے والوں کے گرد گھیرا تنگ،اہم منظوری

    سوشل میڈیا پروپیگنڈہ،افواہیں پھیلانے والوں کے گرد گھیرا تنگ،اہم منظوری

    وفاقی کابینہ نے نیشنل سائبر کرائمز انوسٹی گیشن ایجنسی رولز کی منظوری دے دی ہے

    سوشل میڈیا پر پروپیگنڈہ، ہراسانی اور افواہیں پھیلانے کرنے والوں کے گرد گھیرا تنگ کر لیا گیا،سائبر کرائم کے خلاف سخت کاروائی اور ڈیجیٹل رائٹس کا تحفظ کا آغاز ہوگیا،ریاستی اداروں اور سرکاری شخصیات کے خلاف پروپیگنڈہ پر بھی سخت کاروائی ہوگی،11 ماہ بعد این سی سی آئی اے پورے اختیارات کے ساتھ فعال ہو گی،وفاقی کابینہ نے نیشنل سائبر کرائمز انوسٹی گیشن ایجنسی رولز کی منظوری دی ہے جس کے بعد سائبر کرائمز میں ملوث افراد کو 5 تا 15سال سزا اور بھاری جرمانہ ہو سکے گا.

    نگراں حکومت نے دسمبر 2023 میں این سی سی آئی اے قائم کرنےکی منظوری دی تھی، ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ ختم ہو جائیں گے اور متعلقہ افسران ایک سال تک اتھارٹی میں خدمات دیں گے۔

    واضح رہے کہ سوشل میڈیا پر اداروں اور اہم شخصیات کے خلاف پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے اور جھوٹی افواہیں پھیلائی جاتی ہیں جس کے لئے حکومت نے کاروائی کا عندیہ دیا تھا، ایک مخصوص سیاسی جماعت ہمیشہ پروپیگنڈے میں ملوث رہی ہے

    وزیر ماحولیات زرتاج گل اور اسکے شوہر نے دس لاکھ رشوت مانگی، ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کا الزام

    زرتاج گل پر حلقے میں عوام نے برسائے ٹماٹر، لگائے پی ٹی آئی مردہ باد کے نعرے

    ہارنا ہے تو وقار سے ہاریں، زرتاج گل نے کس کو دیا مشورہ؟

    مریم نواز میں یہ کام کرنے کی صلاحیت ہی نہیں، زرتاج گل کا چیلنج

    میرا بھائی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شہید ہوا،یہ کس قربانی کی بات کرتے ہیں،زرتاج گل

  • مفتی مینک نے بھی عمران خان کا "کردار” کیا بے نقاب

    مفتی مینک نے بھی عمران خان کا "کردار” کیا بے نقاب

    عالمی شہرت یافتہ عالم دین اور زمبابوے کے گرینڈ مفتی، مفتی مینک نے بھی پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین، سابق وزیراعظم عمران خان کے بارے میں گفتگو کی ہے

    مفتی مینک کی ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں وہ خطاب کرتے ہوئے عمران خان کی حقیقت بیان کرتےہیں ،مفتی مینک کہتے ہیں کہ ایک ملک میں ایک سیاستدان ہے جو اقتدار میں آیا، لوگ کہتے ہیں کہ وہ بہت اچھا انسان ہے، مجھے نہیں معلوم، میں بھی یہی سمجھتا ہوں کہ وہ ہوگا بہت اچھا انسان لیکن اس میں ایک بہت بڑی خامی تھی،اس سیاستدان کی سب سے بڑی خامی اس کی زبان تھی، کسی نے اس کو نہیں سمجھایا، وہ جب بھی بولتا تو دوسرے سیاستدانوں کی سرِعام تذلیل کرتا ہے،اس لیے آپ جتنے چاہے اچھے کام کرلیں لیکن دوسروں کو موقع نہ دیں کہ وہ آپ کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں اور شدید مخالف بن جائیں، آپ اپنی زبان سے ہی لوگوں کو اکساتے ہیں کہ وہ آپ کو نکال باہر کریں، کیونکہ آپ غیرضروری بول رہے ہوتے ہیں، یہی آپ کا مسئلہ ہے،جب آپ دوسروں کی سرعام تذلیل کریں گے تو جو لوگ بااختیار ہوں گے وہ اگر چاہیں گے تو آپ کو ضرور سیدھا کریں گے، جب بھی انہیں موقع ملے گا تو وہ اٹھ کھڑے ہونگے اور یقینی بنائیں گے کہ آپ کو سدھاریں،اگر آ پ واقعی مسائل کا حل چاہتے ہیں تو اپنی زبان ٹھیک کریں، اچھے الفاظ ادا کریں، آپ یوں کہیں کہ میں آپ سے اتفاق نہیں کرتا لیکن میں آپ کا احترام کرتا ہوں.

    مفتی مینک نے اپنی ویڈیو میں کسی کا نام نہیں لیا تا ہم سوشل میڈیا پر صارفین کا کہنا ہے کہ مفتی مینک نے عمران خان کے بارے میں ہی بات کی ہے کیونکہ ان کی تمام بات چیت عمران خان پر ہی پورا اترتی ہے،

    پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی سے منظور شدہ آئینی ترامیم کا ڈرافٹ سامنے آ گیا

    مولانا کی رہائشگاہ سیاسی سرگرمیوں کامرکز،اپوزیشن جماعتوں کے بعد بلاول پہنچ گئے

    وزیراعظم ،بلاول کی مولانا کے در پر حاضری،مولانا نے کھری کھری سنا دیں

    نمبر گیم پوری،پی ٹی آئی اراکین اغوا،کیا عمران خان رہا ہوں گے؟

    قومی اسمبلی اجلاس، ایوان میں بلاول کی عمر ایوب، بیرسٹر گوہر سے ملاقات

    آئینی ترمیم کیلئے سینیٹرز کو ہراساں،معاملہ سینیٹ پہنچ گیا،خاتون رکن رو پڑی

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پوسٹ کرتےہوئے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ فرحان ورک کا کہنا تھا کہ عالمی شہرت یافتہ عالم دین اور زمبابوے کے گرینڈ مفتی، مفتی مینک نے بھی تحریک انصاف کی منجی ٹھوک دی ،اس وقت عمران خان کی جہاں ساری حمایت مغربی میڈیا میں آپریشن گولڈسمتھ کے تحت کی جا رہی ہے، وہاں اسلامی ممالک میں سب اس کی شیطانی فطرت سے واقف ہیں۔

  • جسٹس  یحییٰ آفریدی کی بطور چیف جسٹس  آف پاکستان کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری

    جسٹس یحییٰ آفریدی کی بطور چیف جسٹس آف پاکستان کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری

    اسلام آباد:وزارت قانون نے یحییٰ آفریدی کی بطور چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : وزارت قانون نے نئے جسٹس یحییٰ آفریدی کا بطور نئے چیف جسٹس آف پاکستان تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، صدر مملکت کی منظوری کے بعد چیف جسٹس کی تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا،وزارت قانون و انصاف کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق جسٹس یحییٰ آفریدی 26اکتوبر کو حلف اٹھائیں گے،جسٹس یحییٰ آفریدی کی تعیناتی 3سال کیلئے کی گئی ہے۔

    صدر مملکت نے تعیناتی آئین کے آرٹیکل 175 اے (3)، 177 اور 179 کے تحت کی، صدر مملکت آصف علی زرداری نے جسٹس یحییٰ آفریدی سے 26 اکتوبر کو چیف جسٹس کے عہدے کا حلف لینے کی بھی منظوری دے دی۔

    اسرائیلی فوج کا حزب اللہ کے قائم مقام سربراہ ہاشم صفی الدین کو بھی …

    واضح رہے کہ چیف جسٹس کی تعیناتی کے لیے قائم خصوصی پارلیمانی کمیٹی نے گزشتہ روز سپریم کورٹ کے جج یحیٰی آفریدی کو اگلے چیف جسٹس آف پاکستان کے طور پر نامزد کیا تھا چیف جسٹس پاکستان کی تقریری کیلئے سنیارٹی کے لحاظ سے جسٹس منصور علی شاہ پہلے، جسٹس منیب اختر دوسرے اور جسٹس یحییٰ آفریدی تیسرے نمبر پر تھےتاہم پارلیمانی خصوصی کمیٹی کے اجلاس میں دوتہائی اکثریت نے یحییٰ آفریدی کے نام کی منظوری دی۔

    کمیٹی میں پیپلز پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام (ف) نے جسٹس منصور علی شاہ کا نام تجویز کیا تھا جبکہ مسلم لیگ (ن) اور دیگر جماعتوں کے ارکان نے یحییٰ آفریدی کے نام پر اصرار کیا جب کہ پی ٹی اراکین نے اجلاس کا بائیکاٹ کیا کمیٹی نے یحییٰ آفریدی کا نام وزیر اعظم کو ارسال تھا اور ان کی ایڈوائس پر اسے صدر مملکت کو بھیجا گیا تھا۔

    بجلی استعمال ہو نہ ہو کپیسٹی پیمنٹ کرنا پڑےگی،نپیرا نے کے الیکٹرک صارفین پر بم …

    صدر مملکت نے جسٹس یحییٰ آفریدی بطور چیف جسٹس آف پاکستان کی منظوری دے دی وہ پاکستان کے 30 ویں چیف جسٹس آف پاکستان ہوں گے جو 26 اکتوبر کو عہدے کا حلف لیں گے صدر مملکت نے جسٹس یحییٰ کی تقرری آئین کے آرٹیکل 175 اے (3)، 177 اور 179 کے تحت 26 اکتوبر سے اگلے تین سال تک کے لئے کی ہےجبکہ موجودہ چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی مدت 25 اکتوبر کو مکمل ہو رہی ہے۔

  • جسٹس یحییٰ آفریدی نئے چیف جسٹس آف پاکستان نامزد: خصوصی پارلیمانی کمیٹی نے دو تہائی اکثریت سے منظوری دے دی

    جسٹس یحییٰ آفریدی نئے چیف جسٹس آف پاکستان نامزد: خصوصی پارلیمانی کمیٹی نے دو تہائی اکثریت سے منظوری دے دی

    خصوصی پارلیمانی کمیٹی نے سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس یحییٰ آفریدی کو دو تہائی اکثریت کے ساتھ نیا چیف جسٹس آف پاکستان نامزد کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد جسٹس یحییٰ آفریدی جلد ہی پاکستان کے 30ویں چیف جسٹس کا عہدہ سنبھالیں گے۔ کمیٹی کا یہ فیصلہ سپریم کورٹ کی تاریخ میں ایک اہم موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کیونکہ اس تقرری کے ساتھ ملکی عدالتی نظام میں نئی قیادت آئے گی۔ذرائع کے مطابق، پارلیمانی کمیٹی میں اکثریتی ارکان نے جسٹس یحییٰ آفریدی کے نام پر اتفاق کیا۔ کمیٹی کے تمام ارکان نے دن بھر جاری رہنے والی مشاورت اور غور و خوض کے بعد جسٹس آفریدی کے نام کی منظوری دی۔ سپریم کورٹ کے تین سینئر ترین ججز میں جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، اور جسٹس یحییٰ آفریدی شامل تھے، لیکن آخر کار کمیٹی نے جسٹس آفریدی کے نام پر اتفاق کیا۔

    پی ٹی آئی کا بائیکاٹ اور حکومتی ارکان کی منانے کی کوششیں
    تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ارکان نے اس اہم اجلاس میں شرکت سے انکار کیا تھا۔ پی ٹی آئی کے اس بائیکاٹ کے باوجود اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق اور وفاقی وزیر احسن اقبال نے پی ٹی آئی کے ارکان کو اجلاس میں شرکت کے لیے منانے کی بھرپور کوششیں کیں۔ تاہم، پی ٹی آئی کے بیرسٹر گوہر نے واضح الفاظ میں کہا کہ وہ اور ان کی جماعت کے دیگر ارکان اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔اس سے قبل بھی پی ٹی آئی کے اہم ارکان بشمول بیرسٹر گوہر، بیرسٹر علی ظفر، اور سنی اتحاد کونسل کے صاحبزادہ حامد رضا شام کے اجلاس میں شریک نہیں ہوئے تھے۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بھی کوشش کی تھی کہ پی ٹی آئی کے ارکان کو منایا جائے، لیکن ناکامی کے بعد حکومت نے فیصلہ کیا کہ آئینی طور پر کمیٹی پی ٹی آئی کے بغیر بھی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔

    کمیٹی اجلاس کی تفصیلات
    خصوصی پارلیمانی کمیٹی کا یہ بند کمرہ اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس کے کمیٹی روم 5 میں جاری رہا۔ اگرچہ پی ٹی آئی اور سنی اتحاد کونسل کے بعض ارکان غیر حاضر رہے، لیکن ان کے لیے نشستیں مختص تھیں۔ اجلاس میں موجود تمام 12 ارکان کی نیم پلیٹس لگا دی گئی تھیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تمام ارکان کی شمولیت متوقع تھی۔اجلاس میں شریک نمایاں حکومتی ارکان میں راجہ پرویز اشرف، فاروق ایچ نائیک، کامران مرتضیٰ، رعنا انصار، احسن اقبال، شائشتہ پرویز ملک، اعظم نذیر تارڑ، اور خواجہ آصف شامل تھے۔ یہ اجلاس دوپہر کو شروع ہوا، لیکن کچھ ہی دیر بعد ساڑھے 8 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔

    سیکریٹری قانون کی جانب سے ججز کے نام پیش کیے گئے
    ذرائع کے مطابق، سیکریٹری قانون کی جانب سے کمیٹی کو چیف جسٹس کی تقرری کے لیے سپریم کورٹ کے تین سینئر ترین ججز کے نام پیش کیے گئے۔ ان ججز میں جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، اور جسٹس یحییٰ آفریدی شامل تھے۔ یہ پینل کمیٹی کو سپریم کورٹ میں موجود ججز کی سنیارٹی کے مطابق بھیجا گیا تھا، جس کا مقصد میرٹ کی بنیاد پر نئے چیف جسٹس کی تقرری کرنا تھا۔کمیٹی نے ان ناموں پر تفصیلی غور و خوض کیا، اور ذرائع کا کہنا ہے کہ جسٹس یحییٰ آفریدی کے نام پر اکثریتی ارکان نے اتفاق کر لیا۔ کمیٹی کے اجلاس میں یہ توقع کی جا رہی تھی کہ آج ہی نئے چیف جسٹس کی تقرری کی منظوری دی جائے گی، اور اس سلسلے میں تمام رسمی کارروائیاں مکمل کر لی گئی تھیں۔
    جسٹس یحییٰ آفریدی کا نام سامنے آنا ایک بڑی پیشرفت ہے کیونکہ وہ سپریم کورٹ کے ایک انتہائی تجربہ کار اور باصلاحیت جج ہیں۔ ان کی تعلیمی اور قانونی خدمات قابل تحسین ہیں اور وہ مختلف عدالتی معاملات میں اپنے فیصلوں کے باعث پہچانے جاتے ہیں۔ ان کا عدالتی کیریئر کئی دہائیوں پر محیط ہے اور وہ عدلیہ میں ایک معتدل اور متوازن شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔یہ تقرری پاکستان کی عدلیہ میں اہم تبدیلیوں کی غمازی کرتی ہے، خاص طور پر آئینی ترمیم کے تحت دو تہائی اکثریت کی شرط کے مطابق چیف جسٹس کی تقرری کی گئی ہے۔ آئینی ترمیم کے تحت، اگر تین سینئر ترین ججز میں سے کوئی ایک نامزدگی قبول نہیں کرتا تو حکومت کے پاس باقی دو ججز میں سے کسی ایک کو منتخب کرنے کا اختیار ہوتا ہے۔ اگر دونوں ججز بھی انکار کر دیں تو پھر چوتھے نمبر پر موجود جج کو چیف جسٹس نامزد کیا جا سکتا ہے۔ذرائع کے مطابق، جسٹس یحییٰ آفریدی کو دو تہائی اکثریت کے ساتھ نامزد کیا گیا ہے اور ان کے نام پر کمیٹی میں مکمل اتفاق رائے پایا گیا۔ اجلاس میں شریک ارکان نے کہا کہ اس فیصلے سے عدلیہ میں استحکام آئے گا اور عدالتی نظام کو مزید مضبوط کیا جائے گا۔نئے چیف جسٹس کی تقرری کے بعد عدالتی نظام میں ایک نیا باب کھلنے جا رہا ہے۔ جسٹس یحییٰ آفریدی کی تقرری سے عدلیہ کو ایک تجربہ کار اور مضبوط قیادت میسر آئے گی جو ملک میں انصاف کی فراہمی میں اہم کردار ادا کرے گی۔

  • امریکا نے 26 پاکستانی، چینی اور اماراتی کمپنیوں پر پابندیاں لگا دیں

    امریکا نے 26 پاکستانی، چینی اور اماراتی کمپنیوں پر پابندیاں لگا دیں

    امریکا نے پاکستان اور ایران میں ہتھیاروں اور ڈرونز پروگراموں کی مبینہ حمایت اور یوکرین میں روس کی جنگی کوششوں میں مدد سمیت دیگر معاملات کے پیش نظر 26 اداروں کو تجارتی بلیک لسٹ میں شامل کر لیا۔

    غیر ملکی ایجنسیوں کی رپورٹ کے مطابق امریکی محکمہ تجارت کا کہنا ہے کہ پاکستان، چین اور متحدہ عرب امارات میں واقع ان 26 کمپنیوں پر برآمدی کنٹرول کی خلاف ورزی کی، ’تشویشناک ہتھیاروں کے پروگراموں‘ میں ملوث ہونے یا روس اور ایران پر امریکی پابندیوں اور برآمدی کنٹرول سے بچنے کا الزام عائد ہے۔ان کمپنیوں پر واشنگٹن کی اجازت کے بغیر امریکی اشیا اور ٹیکنالوجی کی خریداری پر بھی پابندی ہوگی۔سیکریٹری آف کامرس برائے صنعت و سلامتی کے تحت ایلن ایسٹیویز نے ایک بیان میں کہا کہ ہم امریکی قومی سلامتی کو برے عناصر سے بچانے کے لیے چوکنا ہیں، مزید کہا کہ آج ہمارے اقدامات سے ان عناصر کو یہ پیغام جاتا ہے کہ اگر انہوں نے ہمارے کنٹرول کی خلاف ورزی کی تو انہیں اس کی قیمت چکانی پڑے گی۔پاکستان سے تعلق رکھنے والی 9 کمپنیوں کو پاکستانی کمپنی کے لیے فرنٹ کمپنیوں اور پروکیورمنٹ ایجنٹ کے طور پر کام کرنے کی وجہ سے شامل کیا گیا ، امریکی محکمہ تجارت کے بیورو آف انڈسٹری اینڈ سیکیورٹی کا کہنا ہے کہ باقی 7 پاکستانی کمپنیوں کو پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام میں شراکت کی وجہ سے شامل کیا گیا۔2010 کے بعد سے اس گروپ نے اپنے صارفین کو گمراہ کرکے امریکی اشیا خریدی ہیں۔اس فہرست میں چین کی 6 کمپنیوں کو بھی شامل کیا گیا ہے جنہوں نے مبینہ طور پر چین کی فوج کو جدید بنانے یا ایران کے ہتھیاروں اور ڈرون پروگراموں کی مدد کے لیے امریکی اشیا خریدی تھیں، متحدہ عرب امارات کی تین اور مصر کی ایک کمپنی نے 2022 میں روس کے یوکرین پر حملے کے بعد عائد پابندیوں سے بچنے کے لیے امریکی اشیا حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔امریکی محکمہ تجارت نے کینیڈین کمپنی سینڈ وائن کو ٹیکنالوجی کے غلط استعمال کو روکنے کے اقدامات کی بنا پر کمپنی کو بلیک لسٹ کی فہرست سے نکال دیا۔کامرس ڈپارٹمنٹ کا کہنا ہے کینیڈین کمپنی کو فروری 2024 میں اس فہرست میں شامل کیا گیا تھا جب اس کی مصنوعات کو بڑے پیمانے پر ویب مانیٹرنگ اور سنسرشپ اور انسانی حقوق کے کارکنوں اور مخالفین کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔

    پی ٹی آئی کا پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ

    بی این پی کے منحرف سینیٹر قاسم رونجھو مستعفی ہو گئے

  • 26 ویں آئینی ترمیم :صدر مملکت کے دستخط کے بعد  گزٹ نوٹیفکیشن جاری

    26 ویں آئینی ترمیم :صدر مملکت کے دستخط کے بعد گزٹ نوٹیفکیشن جاری

    اسلام آباد:صدر مملکت آصف علی زرداری کے دستخط کے بعد 26ویں آئینی ترمیم کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق 26ویں آئینی ترمیم کا گزٹ نوٹیفکیشن قومی اسمبلی کی جانب سے جاری کیا گیا جس کے بعد 26ویں آئینی ترمیم بل 2024 ایکٹ آف پارلیمنٹ بن گیا، گزٹ نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد 26ویں آئینی ترمیم لاگو ہوگئی۔

    26ویں آئینی ترمیم کے بعد سب سے پہلے خصوصی پارلیمانی کمیٹی کا قیام عمل میں لایا جائے گا جو نئے چیف جسٹس آف پاکستان کا تقرر کرے گی آرٹیکل 175اے کی شق 3 کے تحت نئے چیف جسٹس کا تقرر عمل میں لایا جائے گا۔

    چیف جسٹس آف پاکستان آرٹیکل 175اے کی ذیلی شق تین کے تحت تین سینیئر ججز کے نام پارلیمانی کمیٹی کو بھجوائیں گے اور پارلیمانی کمیٹی تین ججز میں سے ایک جج کا تقرر کرے گی، خصوصی پارلیمانی کمیٹی چیف جسٹس آف پاکستان کا تقرر کر کے نام وزیر اعظم کو ارسال کرے گی اور وزیراعظم چیف جسٹس کے تقرر کی ایڈوائس صدر کو بھجوائیں گے۔

    آرٹیکل 175اے کی ذیلی شق 3اے کے تحت قائم خصوصی پارلیمانی کمیٹی 12ممبران پر مشتمل ہوگی۔ خصوصی پارلیمانی کمیٹی میں 8اراکین قومی اسمبلی اور 4 سینیٹ سے لیے جائیں گے، چیف جسٹس آف پاکستان آرٹیکل 175اے کی ذیلی شق 3سی کے تحت ریٹائرمنٹ سے تین روز قبل 3 سینیئر ججز پر مشتمل پینل پارلیمانی کمیٹی کو بھجوائیں گے، اسپیکر قومی اسمبلی خصوصی پارلیمانی کمیٹی تشکیل دیں گے۔

    قبل ازیں پارلیمان کے دونوں ایوانوں سے منظوری کے بعد 26 ویں آئینی ترمیم کی حتمی منظوری کا مرحلہ شروع ہوگیا وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے 26 ویں آئینی ترمیم کی توثیق کیلئے دستخط کرنے کے بعد اپنی ایڈوائس صدر پاکستان آصف علی زرداری کو بھجوا ئی تھی، جس پر صدر مملکت آصف علی زرداری آج دستخط کریں گے۔

    قبل ازیں ایوان صدر سیکرٹریٹ کے مطابق آئینی ترمیم پر صدر مملکت کے آج دستخط کرنے کی صبح 6 بجے منعقدہ تقریب ملتوی کردی گئی تھی ، تقریب کیلئے صبح 8 بجے کے وقت کا بھی اعلان کیا گیا تھا۔

    وفاقی وزیر خزانہ امریکہ کے دورے پر روانہ، آئی ایم ایف اور ورلڈ …

    واضح رہے کہ سینیٹ کے بعد قومی اسمبلی نے بھی 26 ویں آئینی ترمیم کی منظوری دیدی ہے، حکومت دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت ثابت کرنے میں کامیاب ہو گئی۔

    قومی اسمبلی میں 26 ویں آئینی ترمیم کی شق وار منظوری لی گئی، ایوان سے ترمیم کی منظوری کیلئے 224 ووٹ درکار تھے جبکہ ترمیم کے حق میں 225 ووٹ کاسٹ ہوئے،شق وار منظوری کے بعد 26 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کیلئے ڈویژن کے ذریعے ووٹنگ کی گئی، نوازشریف نے ڈویژن کے ذریعے ووٹنگ کے عمل میں سب سے پہلے ووٹ دیا آئینی ترمیم کیلئے 6 منحرف اراکین نے بھی اپنے ووٹ کاسٹ کیے، 5ارکان کا تعلق پی ٹی آئی سے بتایا جا رہا ہے جبکہ ایک کا تعلق ق لیگ سے تھا۔

    واضح رہے کہ قومی اسمبلی میں آئینی ترمیم کیلئے حکومتی اتحاد کو 224 ووٹ درکار تھے جبکہ حکومتی اتحاد 211 ارکان پر مشتمل ہے۔

    26ویں آئینی ترمیم قومی اسمبلی میں پیش: جمہوری اصلاحات اور عدلیہ میں اہم تبدیلیاں متعارف

    حکومتی بینچز پر قومی اسمبلی میں مسلم لیگ ن 111، پیپلزپارٹی کی 69 نشستیں ہیں، حکومتی بینچز پر ایم کیو ایم 22، ق لیگ 5، آئی پی پی کے 4 اراکین ہیں جبکہ مسلم لیگ ضیا، بلوچستان عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی کے ایک ایک رکن ہیں۔

    حکمران اتحاد کے 3 افراد کے خلاف ریفرنس دائر ہے، اس طرح یہ تعداد 211 ہے اور جے یو آئی کے 8 اراکین کی حمایت کے ساتھ یہ تعداد 219 ہوگی اور اب حکومت کو آئینی ترمیم پاس کروانے کیلئے مزید 5 ارکان کی ضرورت تھی کہ قومی اسمبلی میں جاری اجلاس کے دوران چوہدری الیاس، عثمان علی، مبارک زیب، ظہورقریشی اورنگزیب کھچی سمیت 5 آزاد اراکین ایوان میں پہنچ گئے تھے پانچوں ارکان پی ٹی آئی کی حمایت سےانتخابات میں کامیاب ہوئےتھے۔

    قومی اسمبلی میں بلاول بھٹو زرداری کا آئین اور مولانا فضل الرحمان کے کردار پر …

  • چیف جسٹس پاکستان کی مدت ملازمت تین سال مقرر،سینیٹ نے 26ویں آئینی ترمیم کی منظوری دے دی،

    چیف جسٹس پاکستان کی مدت ملازمت تین سال مقرر،سینیٹ نے 26ویں آئینی ترمیم کی منظوری دے دی،

    اسلام آباد: سینیٹ کے اہم اجلاس میں 26ویں آئینی ترمیم کی تمام 22 شقوں کی منظوری دے دی گئی۔ چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے آئین کے آرٹیکل 175 اے میں ترمیم کا بل پیش کیا۔ اس ترمیم کے تحت چیف جسٹس آف پاکستان کی تقرری کی مدت تین سال مقرر کر دی گئی ہے۔ترمیم کے مطابق چیف جسٹس پاکستان کی ریٹائرمنٹ کی عمر 65 سال ہوگی اور اس عمر کو پہنچنے پر وہ خودبخود ریٹائر ہو جائیں گے۔ چیف جسٹس کی تقرری کے لیے تین سینیئر ترین ججز کے نام پارلیمانی کمیٹی کو پیش کیے جائیں گے، جو دو تہائی اکثریت سے نئے چیف جسٹس کی منظوری دے گی۔
    اجلاس میں آرٹیکل 215 کے تحت چیف الیکشن کمشنر اور کمیشن کے ممبران کی تقرری سے متعلق ترمیم بھی منظور کی گئی۔ اس کے مطابق، نئے چیف الیکشن کمشنر اور ممبران کی تقرری تک موجودہ عہدیداران اپنی ذمہ داریاں نبھاتے رہیں گے۔اجلاس میں پی ٹی آئی کے کچھ اراکین نے واک آؤٹ کیا، لیکن بعد میں واپس آ کر ووٹ دیا۔ جے یو آئی کے پانچ اراکین نے بھی ترمیم کے حق میں ووٹ دیے، جسے حکومت کی کامیابی میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ترمیم کے حق میں 65 ووٹ پڑے، جبکہ مخالفت میں چار ووٹ آئے۔ حکومت کے پاس اس وقت سینیٹ میں 65 ممبران کی اکثریت ہے، جس سے یہ بل آسانی سے منظور ہو گیا۔ اب یہ بل قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا، جہاں سے اس کی منظوری کے بعد یہ آئینی ترمیم نافذ ہو جائے گی۔وفاقی وزیر قانون نے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم عدالتی اور الیکشن کمیشن کے معاملات میں اہم بہتری لائے گی، اور اس سے انصاف کے نظام میں شفافیت پیدا ہوگی۔

  • یونیورسٹی کے چانسلر کے لیے نااہل، ملکی قیادت کے لیے کیسے اہل؟, گلوب بینر

    یونیورسٹی کے چانسلر کے لیے نااہل، ملکی قیادت کے لیے کیسے اہل؟, گلوب بینر

    لندن (باغی ٹی وی) آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے انتخاب سے عمران خان کی نااہلی کو عالمی اور برطانوی میڈیا میں نمایاں کوریج ملی ہے۔ رپورٹس کے مطابق، انتخابی دوڑ سے باہر ہونا عمران خان کی ساکھ کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔

    عالمی میڈیا کے مطابق عمران خان کی نااہلی کے اسباب میں کرپشن کیسز اور ریاستی راز افشا کرنے جیسے سنگین الزامات شامل ہیں۔ برطانوی قانون دانوں کے اعلیٰ درجے کے وکیل ہیو ساؤتھی (کنگز کونسل) کی قانونی رائے نے بھی عمران خان کی امیدواری کو ناقابل قبول بنا دیا۔ ساؤتھی کی رائے کے مطابق عمران خان کی سزا یافتہ حیثیت انہیں چانسلر کے منصب کے لیے اہل نہیں بناتی۔

    آکسفورڈ یونیورسٹی کے انتخابی قوانین کا حوالہ دیتے ہوئے ہیو ساؤتھی نے واضح کیا کہ کسی بھی امیدوار کا ماضی میں سزا یافتہ ہونا چانسلر کے عہدے کے لیے نااہلی کا باعث بنتا ہے۔ ان قوانین کے تحت عمران خان جیسے متنازع سیاستدان کی امیدواری ممکن نہیں تھی اور یونیورسٹی نے ان کے کیس کو نظر انداز کرنا ناممکن سمجھا۔

    برطانوی اور بین الاقوامی میڈیا، جن میں دی گارڈین، ڈیلی میل، دی انڈیپینڈنٹ، بی بی سی اور ٹیلیگراف جیسے ادارے شامل ہیں نے اس خبر کو بڑی شہ سرخیوں کے ساتھ شائع کیا۔ گلوب بینر نے طنزیہ تجزیے میں سوال اٹھایا "جو شخص آکسفورڈ یونیورسٹی کی سربراہی کے لیے نااہل ہے، وہ پاکستان جیسے ملک کی حکومت چلانے کا اہل کیسے ہو سکتا ہے؟”

    رپورٹس میں حیرت کا اظہار کیا گیا کہ چانسلر کی امیدواروں کی فہرست میں ایسے افراد شامل تھے جیسے لاہور کی ایک گمنام وکیل، ایک یونیورسٹی پروفیسر اور ایک ایمیزون کے ویئرہاؤس ورکر لیکن عمران خان نااہل قرار پائے۔

    میڈیا تجزیوں کے مطابق چانسلر الیکشن میں نااہلی عمران خان کے سیاسی مستقبل کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ برطانوی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کی یہ ناکامی نہ صرف ان کی پارٹی قیادت بلکہ ملکی سیاست میں بھی ان کی حیثیت کو متاثر کر سکتی ہے۔

    وزیر قانون نے گلوب بینر سے گفتگو میں کہا کہ عمران خان کا کریمنل کیس میں سزا یافتہ ہونا چانسلر شپ کے لیے نااہلی کا بنیادی سبب تھا۔ انہوں نے مزید کہا: "جو شخص یونیورسٹی کے چانسلر کے لیے نااہل ہو، وہ پوری قوم کی قیادت کے لیے کیسے اہل ہو سکتا ہے؟”

    یہ خبر سب سے پہلے آکسفورڈ میل نے بریک کی، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ عمران خان کی متنازع شخصیت اور ماضی میں ریاستی رازوں کے افشا کے الزامات کے باعث انہیں چانسلر کی دوڑ سے باہر کر دیا گیا۔