Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • ‎غزہ بورڈ آف پیس کا اعلان، پاکستان سمیت کئی ممالک کے دستخط

    ‎غزہ بورڈ آف پیس کا اعلان، پاکستان سمیت کئی ممالک کے دستخط

    
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ بورڈ آف پیس کے قیام کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے، جس کے معاہدے پر وزیراعظم پاکستان شہباز شریف سمیت مختلف ممالک کے رہنماؤں نے دستخط کیے۔

    ‎سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ہونے والی تقریب میں غزہ بورڈ آف پیس کے معاہدے پر دستخط کیے گئے۔ اس موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ بورڈ آف پیس میں شمولیت اختیار کرنے والے تمام ممالک کے شکر گزار ہیں اور اقوام متحدہ سمیت دیگر عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر اس پر کام جاری رکھا جائے گا۔‎صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے اب تک آٹھ جنگیں رکوائیں، جن میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ممکنہ تصادم بھی شامل تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک ایٹمی طاقتیں ہیں اور ان کے درمیان کشیدگی کم کر کے دنیا کو مزید محفوظ بنایا گیا۔

    بورڈ آف پیس میں شمولیت کا مقصد فلسطین میں پائیدار امن کا قیام
    ورلڈ اکنامک فورم: بورڈ آف پیس معاہدے پر دستخط
    پاکستان نے WEF 2026، ڈیووس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دعوت پر بورڈ آف پیس میں شمولیت اختیار کی، جس کا مقصد فلسطین میں پائیدار امن کا قیام ہے۔

    بورڈ آف پیس کا بنیادی ہدف غزہ میں مستقل جنگ بندی، انسانی بحران کا خاتمہ اور فلسطین کی منظم اور جامع تعمیرِ نو ہے، جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق ہوگی۔

    تعمیرِ نو کے منصوبے میں گھروں، اسپتالوں، اسکولوں، پانی اور بجلی کے نظام کی بحالی، معاشی سرگرمیوں کی بحالی اور فلسطینی عوام کو باعزت زندگی کی فراہمی شامل ہے۔

    پاکستان 🇵🇰 نے اس اقدام میں سعودی عرب 🇸🇦، ترکی 🇹🇷، مصر 🇪🇬، اردن 🇯🇴، قطر 🇶🇦، متحدہ عرب امارات 🇦🇪، انڈونیشیا 🇮🇩، بحرین 🇧🇭، مراکش 🇲🇦، ارجنٹائن 🇦🇷، ہنگری 🇭🇺 اور امریکہ 🇺🇸 کے ساتھ شمولیت اختیار کی۔

    مسلم ممالک کی مؤثر موجودگی اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ فلسطینی حقوق، حقِ خود ارادیت اور ریاستی تشخص کو مرکزی حیثیت حاصل رہے۔

    پاکستان کا مؤقف بدستور واضح اور غیر متزلزل ہے: 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر آزاد فلسطینی ریاست، القدس الشریف اس کا دارالحکومت، اور قبضے و اجتماعی سزا کی مخالفت۔

    گزشتہ روز فلسطینی 🇵🇸 وزیرِاعظم محمد مصطفیٰ نے وزیرِاعظم شہباز شریف کو راستے میں چلتے ہوئے روک کر اُن سے مصافحہ کیا، اور غزہ میں امن کے لیے پاکستان کی مسلسل حمایت، نسل کشی کے خاتمے کی کوششوں اور فلسطینی عوام کے حق میں مضبوط مؤقف پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔

    بورڈ آف پیس کی دستخطی تقریب کے موقع پر وزیرِاعظم شہباز شریف اور امریکی صدر کے درمیان خوشگوار تبادلۂ خیال ہوا، جبکہ امریکی صدر نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اُنہیں انگوٹھے کے اشارے سے سراہا۔ یہ پاکستان کی قیادت کی ہم آہنگی کے باعث عالمی سطح پر حاصل ہونے والی پذیرائی کا ثبوت ہے۔

    بورڈ آف پیس میں شمولیت کا مطلب کسی فوجی مشن یا اسٹیبلائزیشن فورس میں خودکار شمولیت نہیں۔ اس حوالے سے پاکستان کا مؤقف پہلے سے واضح اور مستقل ہے۔

    پاکستان عالمی سیاست میں بلاک بندی سے اجتناب کرتے ہوئے توازن، اصول پسندی اور مؤثر سفارت کاری پر یقین رکھتا ہے، اور فلسطین کے معاملے پر خاموشی کے بجائے فعال کردار کو ترجیح دیتا ہے۔

  • وزیراعظم کی آئی ایم ایف کے ایم ڈی کرسٹالینا جارجیوا سے ملاقات

    وزیراعظم کی آئی ایم ایف کے ایم ڈی کرسٹالینا جارجیوا سے ملاقات

    وزیراعظم محمد شہبازشریف نے عالمی اقتصادی فورم کے 56ویں سالانہ اجلاس کے موقع پر آج سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا سے ملاقات کی۔

    وزیراعظم نے منیجنگ ڈائریکٹر کو پاکستان کے میکرو اکنامک اشاریوں میں بہتری، استحکام کی کوششوں اور ادارہ جاتی اصلاحات پر پیش رفت سے آگاہ کیا۔ انہوں نے مالیاتی نظم و ضبط، محصولات کو متحرک کرنے اور پائیدار ترقی کے لیے پاکستان کے عزم پر زور دیا۔ ایم ڈی آئی ایم ایف نے پاکستان کی اصلاحاتی کوششوں کا اعتراف کیا اور ان کوششوں کی تعریف کی ۔ انہوں نے طویل مدتی اقتصادی لچک کو یقینی بنانے کے لیے اصلاحات کی رفتار کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔ دونوں فریقین نے عالمی اقتصادی نقطہ نظر، ابھرتی ہوئی معیشتوں کو درپیش چیلنجز اور اقتصادی استحکام کے تحفظ میں کثیرالجہتی تعاون کی اہمیت پر تبادلہء خیال کیا۔ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار ، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ ، وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب اور وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ بھی موجود تھے۔

    علاوہ ازیں ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر وزیراعظم محمد شہباز شریف سے فلسطین کے وزیراعظم محمد مصطفیٰ کی ملاقات ہوئی ہے،فلسطین کے وزیراعظم محمد مصطفیٰ خود چل کر وزیراعظم محمد شہباز شریف کے پاس آئے اور اپنا تعارف کروایا،فلسطین کے وزیراعظم نے فلسطینی عوام کے لئے پاکستان کی مستقل، اصولی اور غیر متزلزل حمایت پر وزیراعظم شہباز شریف کا دلی شکریہ ادا کیا،محمد مصطفیٰ نے عالمی فورمز پر فلسطین کے موقف کی حمایت اور فلسطین کاز کیلئے پاکستان کے کردار پر شکریہ ادا کیا.

  • بلوچستان میں محفوظ سفر کیلئے جعفر ایکسپریس میں جدید سیکیورٹی انتظامات مکمل

    بلوچستان میں محفوظ سفر کیلئے جعفر ایکسپریس میں جدید سیکیورٹی انتظامات مکمل

    حکومتی کاوشوں سے بلوچستان میں محفوظ سفر کیلئے جعفر ایکسپریس میں جدید سیکیورٹی انتظامات مکمل کر لئے گئے

    بلوچستان میں حکومتی کاوشوں سے ریلوے سفر کو بلوچ عوام کیلئے محفوظ اور پُر اعتماد بنا دیا گیا،وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے کوئٹہ میں جعفر ایکسپریس کی سیکیورٹی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا،وفاقی وزیر ریلوے نے جعفر ایکسپریس میں جدید ٹیکنالوجی سے لیس بی کے سی بوگی کو مؤثر اقدام قرار دیا،حنیف عباسی نے فول پروف سیکیورٹی انتظامات پر پاک فوج اور ایف سی بلوچستان نارتھ کی پیشہ ورانہ کاوشوں کو سراہا،وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی کا کہنا تھا کہ؛ جعفر ایکسپریس کو بلوچستان کے مسافروں کیلئے محفوظ، پُر اعتماد اور تسلی بخش بنا دیا گیا ہے

    وفاقی وزیر ریلوے نے مسافروں کی جان و مال کے تحفظ کو حکومت اور پاک فوج کی اولین ترجیح قرار دیا ،ریلوے ٹریکس کی 24 گھنٹے نگرانی، جدید کیمروں کی تنصیب اور ٹرین میں مناسب سیکیورٹی اسٹاف کی دستیابی بھی یقینی بنائی گئی ہے ،پاک فوج اور ایف سی بلوچستان کی مؤثر سیکیورٹی کی بدولت بلوچستان کے عوام کا ریلوے کے سفر پر اعتماد بحال ہو رہا ہے،سیکیورٹی فورسز کے بلوچستان میں جدید سیکیورٹی اقدامات سے سفری سہولیات کو فروغ مل رہا ہے،حکومت اور سیکیورٹی ادارے بلوچستان میں پائیدار امن کیلئے مشترکہ اقدامات جاری رکھے ہوئے ہیں

  • پیپلز پارٹی نے خواجہ آصف کے 18 ویں‌آئینی ترمیم بارے بیان پر وضاحت مانگ لی

    پیپلز پارٹی نے خواجہ آصف کے 18 ویں‌آئینی ترمیم بارے بیان پر وضاحت مانگ لی

    پیپلز پارٹی نے وزیر دفاع خواجہ آصف کے 18ویں آئینی ترمیم سے متعلق بیان پر شدید ردِعمل دیتے ہوئے حکومت سے باضابطہ وضاحت طلب کر لی ہے۔ اس معاملے پر قومی اسمبلی میں بھی گرما گرم بحث دیکھنے میں آئی، جہاں پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے حکومتی مؤقف کو واضح کرنے کا مطالبہ کیا۔

    قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران اظہارِ خیال کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما نوید قمر نے کہا کہ گزشتہ روز وزیر دفاع خواجہ آصف نے سانحہ گل پلازہ پر گفتگو کرتے ہوئے اچانک 18ویں ترمیم کا حوالہ دیا، جو ایک نہایت حساس اور آئینی معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ خواجہ آصف مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر بھی ہیں، اس لیے ان کے بیان کو محض ذاتی رائے نہیں بلکہ حکومت کی پالیسی کے طور پر دیکھا جائے گا۔نوید قمر نے مزید کہا کہ پاکستان کے ساتھ ماضی میں کئی تجربات کیے گئے اور ہر تجربے کے نتیجے میں ملک کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض تجربات نے ملک کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا، لہٰذا وفاقی حکومت سے پُرزور مطالبہ ہے کہ اب مزید کسی قسم کے تجربات سے باز رہا جائے اور آئین کے تحت طے شدہ نظام کو کمزور نہ کیا جائے۔انہوں نے زور دیا کہ 18ویں آئینی ترمیم پارلیمنٹ کا متفقہ فیصلہ ہے، جس کے ذریعے صوبوں کو ان کے آئینی حقوق دیے گئے۔ اس ترمیم پر سوال اٹھانا دراصل وفاقی ڈھانچے کو کمزور کرنے کے مترادف ہے، جس کی پیپلز پارٹی کسی صورت اجازت نہیں دے سکتی۔

    دوسری جانب وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے خواجہ آصف کے بیان سے لاتعلقی اختیار کرتے ہوئے اسے ان کی ذاتی رائے قرار دے دیا۔ قومی اسمبلی میں گفتگو کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ہر فرد کو اپنی ذاتی رائے رکھنے کا حق حاصل ہے، تاہم ایسی آرا کو حکومت کی پالیسی نہ سمجھا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے تمام اہم فیصلے پارلیمنٹ کی مشاورت اور رضامندی سے کیے جاتے ہیں۔وفاقی وزیر قانون نے واضح کیا کہ آئینی ترامیم یا اختیارات کی تقسیم جیسے معاملات انفرادی بیانات سے نہیں بلکہ پارلیمانی عمل کے ذریعے طے پاتے ہیں، اور حکومت آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے ہی فیصلے کرے گی۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایک بیان میں کہا تھا کہ 18ویں آئینی ترمیم ایک “ڈھکوسلا” ثابت ہوئی ہے، کیونکہ اس کے نتیجے میں تمام اختیارات صوبائی حکومتوں کو منتقل ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کراچی میں پیش آنے والے مختلف واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ اختیارات کو مزید نچلی سطح، یعنی بلدیاتی اداروں تک منتقل کیا جائے۔

  • کرم، دہشتگردوں کی افغانستان فرار ہونے کی کوشش ناکام،دوہلاک

    کرم، دہشتگردوں کی افغانستان فرار ہونے کی کوشش ناکام،دوہلاک

    لوئر کرم میں سکیورٹی فورسز نے ایک بڑی کارروائی کے دوران دہشتگردوں کی افغانستان فرار ہونے کی کوشش ناکام بنا دی۔

    سکیورٹی ذرائع کے مطابق تیراہ میں جاری آپریشن کے دباؤ کے نتیجے میں دہشتگرد عناصر نے کرم کے راستے سرحد پار فرار ہونے کی کوشش کی، تاہم فورسز کی بروقت اور مؤثر کارروائی نے ان کے عزائم خاک میں ملا دیے،ذرائع کا کہنا ہے کہ قمر میلا پوسٹ کے قریب دہشتگردوں کی ایک بڑی تشکیل کی مشکوک نقل و حرکت کی اطلاع پر سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا۔ اس کارروائی کے دوران 30 سے زائد دہشتگردوں پر مشتمل گروہ کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ افغانستان میں موجود اپنی پناہ گاہوں تک پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے۔

    سکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کی نقل و حرکت کو مؤثر فائرنگ کے ذریعے روکا، جس کے نتیجے میں دہشتگردوں کو شدید جانی نقصان اٹھانا پڑا۔ فائرنگ کے بعد علاقے میں سرچ آپریشن شروع کیا گیا، جس دوران ہلاک دہشتگردوں میں سے دو لاشیں برآمد ہوئیں، جن میں سے ایک لاش مکمل طور پر جھلس چکی تھی۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق باقی دہشتگرد اندھیرے اور دشوار گزار راستوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے، تاہم ان کی تلاش کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ دہشتگردوں کی یہ تشکیل طویل عرصے سے سکیورٹی فورسز کو مطلوب تھی اور ان کے خلاف کارروائی کی منصوبہ بندی پہلے سے کی جا رہی تھی۔ تیراہ آپریشن کے باعث دہشتگرد نیٹ ورک بری طرح دباؤ کا شکار ہے اور مختلف علاقوں میں فرار کے راستے تلاش کر رہا ہے، تاہم فورسز نے سرحدی علاقوں میں نگرانی مزید سخت کر دی ہے۔

    سکیورٹی حکام کے مطابق علاقے میں کلیئرنس اور سرچ آپریشن بدستور جاری ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کا مکمل طور پر خاتمہ کیا جا سکے۔ حکام نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف کارروائیاں منطقی انجام تک پہنچائی جائیں گی اور ملک دشمن عناصر کو کسی صورت محفوظ پناہ گاہیں بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

  • وکلا کی تبدیلی، شور شرابہ،عدالتی چیلنجز اور خود جرح،  ٹرائل کو طول دینے کی حکمتِ عملی

    وکلا کی تبدیلی، شور شرابہ،عدالتی چیلنجز اور خود جرح، ٹرائل کو طول دینے کی حکمتِ عملی

    ایمان مزاری کو جہاں ایک طرف انہیں عبوری ریلیف ملا ہے، وہیں عدالت نے واضح کیا ہے کہ قانونی عمل سے فرار ممکن نہیں ۔ عدالت کا مقصد یہ ہے کہ وہ خود اسلام آباد ہائیکورٹ اور پھر ٹرائل کورٹ میں پیش ہو کر مقدمے کا سامنا کریں، نہ کہ عدالتوں سے مسلسل بہانے تلاش ہوتے رہیں۔

    ایک اہم نکتہ یہ رہا ہے کہ اس عمل میں سستی یا عدالتی احکامات کی عدم تعمیل نے مقدمے کو پیچیدہ بنایا ہے، اور اسی لیے عدالت شاید سختی سے یہ پیغام دیتی ہے کہ آئندہ حاضری یقینی بنائی جائے ورنہ حفاظتی ضمانتیں بھی خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔مختصر یہ کہ اب مزاری کے لیے بہترین حکمت عملی یہ ہے کہ وہ عدالت کے سامنے پیش ہو کر قانونی عمل کو آگے بڑھائیں، کیونکہ عدلیہ ہر صورت قانون کی بالا دستی چاہتی ہے، نہ کہ عدالتی عمل میں بے ترتیبی یا تاخیر۔

    22 اگست سے اب تک اس مقدمے میں جو رعایت، صبر اور التوا ملزمان کو دیا گیا، وہ کسی عام شہری کو پاکستان کی کسی عدالت میں میسر نہیں ہوتا۔PECA کی سنگین دفعات کے باوجود گرفتاری کے بجائے صرف “شاملِ تفتیش” کرنا بذاتِ خود عدالتی نرمی کی مثال ہے، نہ کہ انتقام۔

    بار بار غیر حاضری، وارنٹس کے باوجود فوری منسوخی، اور مچلکوں کی بحالی ظاہر کرتی ہے کہ عدالت نے قانون نہیں بلکہ تحمل کو ترجیح دی۔وکیل کی عدم دستیابی، وکیل کی تبدیلی، عدالت کو چیلنج کرنے کے بہانے’ یہ سب قانونی حق نہیں بلکہ ٹرائل کو سبوتاژ کرنے کی حکمتِ عملی نظر آتی ہے۔

    کیس کا بار بار کال ہونا غیر معمولی نہیں، بلکہ اس لیے لازم تھا کیونکہ ملزمان مکمل طور پر عدالت میں پیش ہی نہیں ہوتے تھے۔آٹھ وکالت ناموں کے باوجود ملزم کا خود کراس ایگزیمینیشن کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ مقصد دفاع نہیں، کارروائی کو طول دینا تھا۔

    شور شرابہ، بدتمیزی، عدالت سے فرار، حتیٰ کہ اپنے وکیلوں سے بدسلوکی’ یہ رویہ کسی “سیاسی اختلاف” نہیں بلکہ عدالتی عمل کی صریح تضحیک ہے۔طبیعت کی خرابی کے نام پر بار بار استثنا، بغیر کسی میڈیکل سرٹیفیکیٹ کے، ٹرائل میں دانستہ رکاوٹ ‘ریاستی اداروں کے خلاف جھوٹا مواد پھیلانا’ دہشتگرد تنظیموں اور کالعدم عناصر کے بیانیے کو amplify کرنا، ریاستی اداروں کے خلاف جھوٹا مواد پھیلانا’ یہ رائے نہیں، PECA کے تحت جرم ہے۔

  • بلوچ ماں کے آنسوؤں سے فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کا پردہ چاک

    بلوچ ماں کے آنسوؤں سے فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کا پردہ چاک

    بلوچ ماں کے آنسوؤں سے فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کا پردہ چاک ہو گیا

    بلوچستان میں فتنہ الہندوستان بھارتی پشت پناہی سے نوجوانوں کو گمراہ کرنے کی مذموم کوششوں میں مصروف ہے،کالعدم فتنہ الہندوستان سمیت دیگر دہشت گرد تنظیموں نے بےشمار نوجوانوں کو دہشت گردی کی طرف دھکیل کر انکا مستقبل تاریک کردیا، سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں ہلاک دہشت گرد سخی بخش کی دُکھیاری ماں کے سوالات نے فتنہ الہندوستان کی سفاکیت کا پردہ چاک کر دیا ہے

    آواران میں ہلاک دہشت گرد سخی بخش کی دکھی ماں نے بتایا کہ دہشت گرد سخی بخش کا والد شوگر اور بلڈ پریشر کا مریض ہے، دہشت گرد سخی بخش کو غربت میں پڑھایا لکھایا تاکہ وہ اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کا سہارا بنے، دہشت گرد سخی بخش نے ہمیں اپنے گمراہ کن کاموں سے درد اور تکلیف میں مبتلا کیا

    ماہرین کے مطابق،آواران میں ہلاک دہشت گرد سخی بخش کی والدہ کا بیان بلوچستان میں دہشت گرد تنظیموں کے طریقۂ کار کو بے نقاب کرتا ہے، کالعدم “فتنہ الہندوستان” اور دیگر دہشت گرد تنظیمیں محرومی کا بیانیہ بنا کر نوجوانوں کو گمراہ کرتے اور بندوق اٹھانے پر مجبور کرتے ہیں،فتنہ الہندوستان اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کا مقصد بلوچ ماؤں کی گودیں اجاڑنا اور نوجوانوں کا مستقبل تباہ و برباد کرنا ہے، سیکیورٹی اداروں کے آپریشن کے نتیجے میں بلوچستان میں دہشت گردی میں واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے،

  • سینیٹر راجا ناصر عباس سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر مقرر

    سینیٹر راجا ناصر عباس سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر مقرر

    سینیٹر راجا ناصر عباس کو سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر مقرر کر دیا گیا ہے۔

    چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے باضابطہ طور پر سینیٹر راجا ناصر عباس کو اپوزیشن لیڈر مقرر کرنے کا اعلان کیا۔چیئرمین سینیٹ کے اعلان کے مطابق یہ تقرری اپوزیشن جماعتوں کی مشاورت اور پارلیمانی قواعد و ضوابط کے تحت عمل میں لائی گئی۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے سینیٹر راجا ناصر عباس کو سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کے عہدے کے لیے نامزد کیا گیا تھا، جسے منظور کر لیا گیا۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے طور پر محمود خان اچکزئی کو مقرر کیا جا چکا ہے۔ یوں پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں اپوزیشن قیادت کی تقرری مکمل ہو گئی ہے،

  • پولیس عوام کے تحفظ میں پہلی دفاعی لائن ہے، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر

    پولیس عوام کے تحفظ میں پہلی دفاعی لائن ہے، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر

    چیف آف ڈیفنس فورسز، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد کا دورہ کیا،

    اس موقع پروفاقی وزیر داخلہ اور وزیر مملکت داخلہ بھی دورے کے موقع پر موجود تھے،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو نیشنل پولیس اکیڈمی پہنچنے پر گارڈ آف آنر پیش کیا گیا،انہوں نے پولیس سروس آف پاکستان کے افسران سے ملاقات اور گفتگو کی۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے دورے کے دوران اسلام آباد میں نیشنل پولیس اکیڈمی کا دورہ، شہداء کی یاد گار پر پھول چڑھائے،

    اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کہناتھا کہ پولیس عوام کے تحفظ میں پہلی دفاعی لائن ہے، امن و امان کا قیام پولیس کی ایک مقدس ذمہ داری ہے، مسلح افواج ہمیشہ پاکستان کی بہادر اور باوقار پولیس کے شانہ بشانہ کھڑی رہیں گی،پولیس شہداء کی قربانیاں ملکی امن، قانون کی بالادستی اور عوامی تحفظ کے لیے ناقابل فراموش ہیں۔دہشت گردی اور داخلی سیکیورٹی چیلنجز کے خلاف پولیس کا کردار لائق تحسین ہے۔پاکستان پولیس فورس زندہ باد، مسلح افواج پائندہ باد، پاکستان ہمیشہ زندہ باد،

  • پاک فضائیہ کا دستہ سپیئرز آف وکٹری میں شرکت کے لیے سعودی عرب پہنچ گیا

    پاک فضائیہ کا دستہ سپیئرز آف وکٹری میں شرکت کے لیے سعودی عرب پہنچ گیا

    پاک فضائیہ کا دستہ ایف-16 بلاک-52 جنگی طیاروں پر مشتمل فضائی و زمینی عملے کے ہمراہ کنگ عبدالعزیز ایئر بیس سعودی عرب پہنچ گیا ہے۔

    پی اے ایف کا دستہ ملٹی نیشنل فضائی جنگی مشق اسپیئرز آف وکٹری-2026 میں شرکت کر ے گا،آئی ایس پی آر کے مطابق اس مشق میں سعودی عرب، پاکستان، فرانس، اٹلی، یونان، قطر، بحرین، اردن، برطانیہ اور امریکا کی فضائی افواج حصہ لے رہی ہیں۔ یہ مشق فضائی افواج کے مابین باہمی ہم آہنگی، عملی اشتراک، پیشہ ورانہ بصیرت اور صلاحیت میں اضافے کے لیے ایک مضبوط پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے جو بڑی فضائی قوت کی تعیناتی، رات کے اوقات کئے گئے ایئر آپریشنز، مربوط آئی ایس آر اور جدید الیکٹرانک وارفیئر ماحول میں کارروائیوں کے حوالے سے اہمیت اُجاگر کرتی ہے ،اس ملٹی نیشنل فورم میں شرکت کے ذریعے پاک فضائیہ شراکت دار فضائی افواج کے ساتھ باہمی ہم آہنگی کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی سے بھرپور جنگی ماحول میں اپنی عملی تیاری کی جانچ کر سکے گی۔

    اس بین الاقوامی تعیناتی کے لیے پی اے ایف کے جنگی طیاروں نے پاکستان سے سعودی عرب تک مسلسل پرواز کی جو پاک فضائیہ کی طویل فاصلے تک عملی رسائی اور جنگی صلاحیتوں کا مظہر ہے۔ مشق کے دوران، جدید ایویونکس اور بی وی آر رینج صلاحیتوں سے لیس ایف-16 بلاک-52 طیارے اڑانے والے پاک فضائیہ کے پائلٹس، شریک فضائی افواج کے ہوابازوں کے مدمقابل ہوں گے جو مختلف جدید جنگی طیارے آپریٹ کر رہے ہیں،سپیئرز آف وکٹری-2026 میں پاک فضائیہ کی شرکت نہ صرف علاقائی اور بین الاقوامی عسکری تعاون کے لیے پی اے ایف کے پختہ عزم کی عکاس ہے بلکہ اس کی پیشہ ورانہ مہارت اور مختلف قسم کے آزمائشی ماحول میں صفِ اول کی ہم عصر فضائی افواج کے شانہ بشانہ مؤثر انداز میں کام کرنے کی ثابت شدہ صلاحیت کو بھی اجاگر کرتی ہے۔